Explained with ayahs 65–66
لوط ؑ کو ہدایا ت
حضرت لوط ؑ سے فرشتے کہہ رہے ہیں کہ رات کا کچھ حصہ گزر تے ہی آپ اپنے والوں کو کر یہاں سے چلے جائیں۔ خود آپ ان سب کے پیچھے رہیں تاکہ ان کی اچھی طرح نگرانی کر چکیں۔ یہی سنت رسول اللہ ﷺ کی تھی کہ آپ لشکر کے آخر میں چلا کرتے تھے تاکہ کمزور اور گرے پڑے لوگوں کا خیال رہے۔ پھر فرما دیا کہ جب قوم پر عذاب آئے اور ان کا شور و غل سنائی دے تو ہرگز ان کی طرف نظریں نہ اٹھانا، انہیں اسی عذاب و سزا میں چھوڑ کر تمہیں جانے کا حکم ہے، چلے جاؤ گویا ان کے ساتھ کوئی تھا جو انہیں راستہ دکھاتا جائے۔ ہم نے پہلے ہی سے لوط ؑ سے فرما دیا تھا کہ صبح کے وقت یہ لوگ مٹا دئیے جائیں گے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
سورة الْحِجْر 37
یعنی اس غرض سے اپنے گھر والوں کے پیچھے چلو کہ ان میں سے کوئی ٹھیرنے نہ پائے۔
سورة الْحِجْر 38
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پلٹ کر دیکھتے ہی تم پتھر کے ہوجاؤ گے، جیسا کہ بائیبل میں بیان ہوا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیچھے کی آوازیں اور شور و غل سن کر تماشا دیکھنے کے لیے نہ ٹھیر جانا۔ یہ نہ تماشا دیکھنے کا وقت ہے، اور نہ مجرم قوم کی ہلاکت پر آنسو بہانے کا۔ ایک لمحہ بھی اگر تم نے معذب قوم کے علاقے میں دم لے لیا تو بعید نہیں کہ تمہیں بھی اس ہلاکت کی بارش سے کچھ گزند پہنچ جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–71
خلاصہ تفسیر
اور (اے محمد ﷺ آپ ان (لوگوں) کو ابراہم ؑ کے مہمانوں (کے قصہ) کی بھی اطلاع دیجئے (وہ قصہ اس وقت واقع ہوا تھا) جب کہ وہ (مہمان جو کہ واقع میں فرشتے تھے اور بشکل انسانی ہونے کی وجہ سے حضرت ابراہیم ؑ نے ان کو مہمان سمجھا) ان کے (یعنی ابراہیم ؑ کے) پاس آئے پھر (آ کر) انہوں نے السلام علیکم کہا (ابراہیم ؑ ان کو مہمان سمجھ کر فورا ان کے لئے کھانا تیار کر کے لائے مگر چونکہ وہ فرشتے تھے انہوں نے کھایا نہیں تب) ابراہیم (علیہ السلام دل میں ڈرے کہ یہ لوگ کھانا کیوں نہیں کھاتے کیونکہ وہ فرشتے بشکل بشر تھے ان کو بشر ہی سمجھا اور کھانا نہ کھانے سے شبہ ہوا کہ یہ لوگ کہیں مخالف نہ ہوں اور) کہنے لگے…
Read the full tafseer →فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِنَ اللَّيْلِ وَاتَّبِعْ أَدْبَارَهُمْ وَلا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ أَحَدٌ وَامْضُوا حَيْثُ تُؤْمَرُونَ (65)۔ یہ وہ ہدایات ہیں جو فرشتوں نے حضرت لوط ؑ کو اس موقع پر دیں۔ پہلی ہدایت یہ تھی کہ راتوں رات یہاں سے اپنے اہل و عیال سمیت نکل کر وہاں سے چلے جائیے جہاں کے لیے آپ کو حکم دیا جا رہا ہے۔ اس ہدایت کی وجہ، جیسا کہ آگے تصریح آرہی ہے، یہ تھی کہ صبح کو اس بستی پر عذاب الٰہی آ دھمکنے والا تھا۔ دوسری ہدایت یہ تھی کہ آپ ان سب کے پیچھے پیچھے چلیے جس طرح راعی اپنے گلے کے پیچھے چلتا ہے کہ کوئی بھیڑ ریوڑ سے الگ رہ کر بھیڑیے کا شکار نہ ہوجائے۔ تیسری ہدایت یہ تھی کہ بستی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
64۔ 1 اس صریح حق سے عذاب مراد ہے جس کے لئے وہ بھیجے گئے تھے، اس لئے انہوں نے کہا ہم ہیں بھی بالکل سچے۔ یعنی عذاب کی جو بات ہم کر رہے ہیں۔ اس میں سچے ہیں۔ اب اس قوم کی تباہی کا وقت بالکل قریب آپہنچا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
22: حضرت لوط ؑ کو پیچھے چلنے کا حکم اس لیے دیا گیا تاکہ آپ اپنے تمام ساتھیوں کی نگرانی کرسکیں، خاص طور پر ان سب کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھیں۔ حضرت لوط ؑ کے پیچھے ہونے کی وجہ سے کسی کو یہ جرأت نہیں ہوسکتی تھی کہ وہ اس حکم کی خلاف ورزی کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
آیت نمبر 61 تا 66
یہ فرشتے جلدی سے لوط (علیہ السلام) کو بتا دیتے ہیں کہ وہ فرشتے ہیں ، وہ اس کام کے لئے آگئے ہیں جس میں ان کی قوم شک میں مبتلا تھی ، یعنی یہ کہ بد اعمالیاں کر رہے ہیں اس پر ان کا کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔ وہ اللہ کے عذاب کو بروئے کار لانے کے لئے آئے ہیں اور جب فرشتے آجاتے ہیں تو پھر اللہ کے عذاب کے نزول میں دیر نہیں ہوتی۔ وہ فوراً آتا ہے اس لیے یہاں بھی بات جلد ختم کی جا رہی ہے۔
قال انکم قوم منکرون (15 : 62) ” آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں “۔ یہ بات حضرت لوط (علیہ السلام) نے اس لیے کہی کہ ان کو ان مہمانوں کے بارے میں پریشانی لاحق ہوگئی تھی ، وہ اپنی قوم کو اچھی طرح جانتے تھے ۔ ان کو…
Read the full tafseer →7 یعنی جب تھوڑی رات رہے اپنی گھر والوں کو بستی سے لے کر نکل جائیے اور آپ سب کے پیچھے رہیے تاکہ پورا اطمینان رہے کہ کوئی رہ تو نہیں گیا یا راستہ سے واپس تو نہیں ہوا۔ اس صورت میں آپ کا قلب مطمئن رہے گا اور دل جمعی سے خدا کے ذکر و شکر میں مشغول رہتے ہوئے رفقاء کی دیکھ بھال رکھیں گے۔ دوسری طرف آپ کے بقیہ پیچھے ہونے کی وجہ سے آگے چلنے والوں کو آپ کا رعب مانع ہوگا کہ پیچھے مڑ کر دیکھیں۔ اس طرح (وَلَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ) 15 ۔ الحجر :65) کا پورا امتثال ہوسکے گا اور وہ لوگ خطرہ کے مقام سے بعید رہیں گے اور آپ کو اپنا ظاہری پشتیباں سمجھیں گے۔
8 یعنی ملک شام میں یا اور کہیں امن کی جگہ جو خدا نے…
Read the full tafseer →آیت 65 فَاَسْرِ بِاَہْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَاتَّبِعْ اَدْبَارَہُمْ وَلاَ یَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَدٌ ”
یعنی آپ لوگ صبح ہونے سے پہلے پہلے یہاں سے نکل جائیں۔ پیچھے رہ جانے والوں کے لیے اب دوستی اور ہمدردی جیسے جذبات کا اظہار کسی بھی شکل میں نہیں ہونا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
33 آپ کی تبلیغ کا مرکز سدوم کا شہر تھا۔ اور یہ عذاب اسی شہر اور اس کے مضافات پر آیا تھا۔ ان کا علاقہ عراق اور فلسطین کے درمیان واقع تھا جہاں آج کل شرق اردن ہے۔ یہاں سے آپ کو شام کی طرف ہجرت کرجانے کا حکم دیا گیا تھا۔
یہاں اس بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ سورة ہود میں واقعہ کی ترتیب یہ ہے کہ جب فرشتے سیدنا لوط (علیہ السلام) کے ہاں آئے تو قوم کے بدمعاش اور غنڈے فوراً سیدنا لوط کے گھر پہنچ گئے۔ اور آپ کو اپنے ان مہمانوں کو ان غنڈوں سے بچانے کی فکر لاحق ہوگئی۔ تاآنکہ آپ نے یہ فرمایا کہ کاش ! مجھ میں ان کی مدافعت کی طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط سہارے کی طرف پناہ لے سکتا تو اس وقت فرشتوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
54۔ یعنی ملک شام ہی کے کسی دوسرے شہر کی طرف، توریت میں اس شہر کانما ضغر بتایا گیا ہے (پیدائش 19: 22) موجودہ جغرافیہ میں تو کوئی شہر اس نام کا نہیں ملتا۔ لیکن بابل کے علماء کا خیال ہے کہ یہ شہر بحر مردہ کے جنوبی ساحل پر واقع تھا (آیت) ” فاسر باھلک “۔ یعنی اپنے گھر والوں کو راتی راتا نکال لے جائیے، ایسا کہ کوئی رہ نہ جائے۔ (آیت) ” واتبع ادبارھم “۔ یعنی بس سیدھے ان کا پیچھا لئے رہیے۔ یہ نہ ہو کہ کوئی راستہ سے پلٹ آئے۔ (آیت) ” ولا یلتفت منکم۔ یعنی یہ بھی نہ ہو کہ آپ لوگوں میں سے کوئی پیچھے پھر پھر کر دیکھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–79
آیت نمبر 61 تا 79
ترجمہ : پھر جب یہ فرستادے آل لوط یعنی لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا تم لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہو، میں تم کو نہیں پہچانتا، فرشتوں نے جواب دیا، نہیں، بلکہ ہم تمہارے پاس وہی چیز لے کر آئے ہیں جس (کے آنے) میں تمہاری قوم شک کر رہی تھی اور وہ عذاب ہے، اور ہم تمہارے پاس صریح حق لے کر آئے ہیں اور ہم اپنی بات میں بالکل سچے ہیں، اب تم رات کے کسی حصہ میں اپنے اہل کو لے کر نکل جانا، اور تم ان کے پیچھے رہنا، یعنی ان کے پیچھے (پیچھے) چلنا، اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے تاکہ اس عظیم ہولناک (عذاب) کو نہ دیکھے جو ان پر نازل ہو رہا ہو، اور جہاں جانے…
Read the full tafseer →فاسر باھلک بقطع من الیل واتبع ادبارھم ولا یلتفت منکم احد سو آپ رات کے کسی حصے میں (یہاں سے) چلے جانا اور آپ ان سب کے پیچھے پیچھے رہنا اور نہ دیکھے پیچھے مڑ کر تم میں سے کوئی۔
قِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ پارۂ شب۔ بعض نے کہا : آخر شب۔ سب کے پیچھے چلنے سے یہ مراد ہے کہ تم ان کو اپنے آگے آگے تیزی سے نکال لے جاؤ اور ان کے احوال پر مطلع رہو۔ پیچھے پھر کر دیکھنے کی ممانعت اسلئے کی کہ ہولناک عذاب کا منظر ان سے دیکھا نہ جائے گا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ قوم کو عذاب میں مبتلا دیکھ کر ان کے دلوں میں نرمی اور رقت پیدا ہوجائے اور اس قلبی ہمدردی کی پاداش میں ان پر بھی وہی عذاب آجائے۔
یا لاَ یَلْتَفِتْ کا مطلب یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
(65۔ 66) سو آپ رات کے کسی حصہ میں یعنی سحر کے وقت اپنے گھر والوں کو لے کر یہاں سے چلے جائیے اور آپ سب کے پیچھے ہو لیجیے اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھے اور صعر (شام) کی طرف سب چلے جانا اور ہم نے لوط ؑ کو صعر جانے کا حکم دیا یا اور ہم نے لوط ؑ کو اس بات سے مطلع کیا کہ صبح ہوتے ہی آپ کی قوم کی جڑ کٹ جائے گی (اور فرشتوں کی آمد کی خبر سن کر جو کہ شکل سے آدمی تھے) شہر کے لوگ حضرت لوط ؑ کے مکان پر اپنے ناپاک مقصد کے تحت خوب خوشیاں کرتے ہوئے آئے۔
Read the full tafseer →وَاتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ : لوط ؑ کو ان کے پیچھے چلنے کا حکم اس لیے دیا کہ وہ ان کی اچھی طرح حفاظت کرسکیں، کوئی پیچھے نہ رہ جائے، سب مسلسل چلتے رہیں اور ٹھہر کر آنے والوں کا انتظار نہ کرنا پڑے۔ ہماری نبی کریم ﷺ کا طریقہ بھی یہی تھا، چناچہ جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں پیچھے رہتے، کمزوروں کو آگے چلاتے اور سواری پر اپنے پیچھے بٹھاتے اور ان کے لیے دعا فرماتے۔ [ أبوداوٗد، الجہاد، باب لزوم الساقۃ : 2639 ]
وَلَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ : کیونکہ مڑ کر دیکھنے میں وہ تیزی باقی نہیں رہے گی جو اللہ کے عذاب کی جگہ سے بھاگنے میں ہونی چاہیے اور وطن چھوڑتے وقت حسرت سے اسے بار بار دیکھنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
آیت نمبر 61 تا 65
قولہ تعالیٰ : فلما جآء ال لوط المرسلون۔ قال انکم قوم منکرون یعنی میں تمہیں نہیں پہچانتا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ جواب تھے اور آپ نے جب حسن و جمال دیکھا تو ان کے بارے میں اپنی قوم کے فتنے کا آپ کو خوف لاحق ہوا، پس یہی وہ انکار اور اجنبیت ہے۔ قالوا بل جئنک بما کانوا فیہ یمترون (فرشتوں نے کہا : (ہم اجنبی نہیں) بلکہ ہم تمہارے پاس وہ چیز لے آئیں گے جس میں وہ شک کیا کرتے تھے کہ وہ ان پر نازل ہوگی۔ اور وہ عذاب ہے واتینک بالحق اور ہم آپ کے پاس لے آئیں ہیں حق یعنی سچ۔ اور بعض نے کہا ہے : عذاب۔ وانا لصدقون اور بلاشبہ ہم ان کی ہلاکت کے بارے میں سچ کہہ رہے ہیں۔ فاسر باھلک بقطع من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
1:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قالوا لاتوجل “ یعنی مت ڈر۔
2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فبم تبشرون “ سے مراد ہے کہ انہوں نے تعجب کیا اپنے بڑھاپے سے اور اپنی بیوی کے بڑھاپے سے۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے نقل کیا کہ سدی (رح) سے فرمایا (آیت ) ” من القنطین “ یعنی مایوس ہونے والوں میں سے۔
4:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے اعمش کے طریق سے یحی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” فلا تکن من القنطین “ بغیر الف کے اور اس طرح پڑھا (آیت ) ” ومن یقنط من رحمۃ ربہ “ نون کے فتحہ کے ساتھ۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان بن عیینہ (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →[فَاَسْرِ : تو آپ (علیہ السلام) لے کر نکلیں ] [ بِاَهْلِكَ : اپنے گھر والوں کو ] [ بِقِطْعٍ : ایک حصہ میں ] [ مِّنَ الَّيْلِ : رات میں سے ] [ وَاتَّبِعْ : اور آپ (علیہ السلام) پیچھے چلیں ] [ اَدْبَارَهُمْ : ان کی پیٹھوں کے ] [ وَلَا يَلْتَفِتْ : اور چاہیے کہ مڑ کر نہ دیکھے ] [ مِنْكُمْ : تم میں سے ] [ اَحَدٌ: کوئی ایک بھی ] [ وَّامْضُوْا : اور تم لوگ گزر جائو ] [ حَيْثُ : جہاں سے ] [ تُؤْمَرُوْنَ : تمہیں حکم دیا جاتا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–71
یہ مہمان فرشتے تھے جو حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خوشخبری دے کر فرشتوں کا حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آنا
یہ فرشتے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لے کر آئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے سپرد یہ کام بھی کیا تھا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کردیں ان کی ہلاکت کا قصہ سورة اعراف اور سورة ھود میں گزر چکا ہے ان لوگوں کو یہ عادت بد پڑی ہوئی تھی کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی شہوت پوری کرتے تھے سورة عنکبوت میں ہے کہ جب ان کو عذاب آنے کی وعید سنائی جاتی تھی تو اس پر یقین نہیں کرتے تھے اور نصیحت کا الٹا اثر لیتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–77
ذکر نعمائے اہل جنت
قال اللہ تعالیٰ : ان المتقین فی جنت وعیون .... الیٰ .... وان عذابی ھو العذاب الالیم۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں گنہگاروں کا اور ان کے لیے جہنم کی سزا کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں پرہیزگاروں کے ثواب اور ان کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں اور متقی وہ لوگ ہیں کہ جو بتوفیق الٰہی اور بتائید ایزدی شیطان کے اغواء اور تسلط سے محفوظ رہے اور ابلیس لعین کی تسویل و تزئین سے دنیا کی آرائش کے دلدادہ نہ بنے آخرت ہی کی فکر میں لگے رہے چناچہ فرماتے ہیں۔
تحقیق جن لوگوں نے تقویٰ اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کی اور شیطان کے اغوا اور تزئین سے بچتے رہے وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے دودھ اور شراب کے چشمے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–66
22:۔ ” قَالَ فَمَا خَطْبُکُمْ “ تا ” اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ “ رکوع 5) ۔ یہ تخویف دنیوی کا پہلا نمونہ ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ اپنی واقعی ترتیب کے ساتھ سورة ہود میں مذکور ہے یہاں قصہ کی مختلف کڑیوں میں تقدیم و تاخیر ہے ” فَلَمَّا جَاءَ اٰلَ لُوْطِ نِ الْمُرْسَلُوْنَ “ یہ قصہ کا ابتدائی حصہ ہے۔ ” قَالُوْا بَلْ جِئْنٰکَ الخ “ سے پہلے حذف ہے ای ماجئنٰک لضرک۔ یعنی ہم تیرے پاس تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچانے نہیں آئے بلکہ ہم تیری سرکش قوم کے لیے وہ عذاب لے کر آئے ہیں جس سے تم ان کو ڈراتے رہے ہو اور جس کی آمد میں وہ شک کرتے رہے ہیں۔” فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ “ لہذا تم اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
(ربط آیات)
پہلے اللہ نے شیطان کا اتباع کرنے والوں کا انجام بیان فرمایا اور پھر متقی لوگوں کے انعامات کا ذکر کیا ، پھر اللہ کی دونوں شانوں یعنی رحمت اور غضب کی بات ہوئی ، ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کے واقعہ میں یہ دونوں چیزیں پائی جاتی ہیں ، ایک طرف ابراہیم (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول ہو رہا ہے انہیں نئی نسل کے قیام کے لیے ایک عظیم بیٹے کی بشارت دی جا رہی ہے اور دوسری طرف ایک پوری قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بات ہو رہی ہے ۔
کل کے درس میں اللہ کے فرشتوں کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آکر بیٹے کی خوشخبری سنانے کا ذکر تھا اور ساتھ انہوں نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ…
Read the full tafseer →فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّيْلِ وَاتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ وَّامْضُوْا حَيْثُ تُؤْمَرُوْنَ 65
سری
السُّرَى: سير اللّيل، يقال : سَرَى وأَسْرَى. قال تعالی: فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ [هود/ 81] ، وقال تعالی: سُبْحانَ الَّذِي أَسْرى بِعَبْدِهِ لَيْلًا [ الإسراء/ 1]
( س ر ی و ) السریٰ
کے معنی رات کو سفر کرنے کے ہیں اور اس معنی میں سریٰ ( ض ) واسریٰ ( افعال ) دونوں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے :
فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ [هود/ 81] تو کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو ۔ سُبْحانَ الَّذِي أَسْرى بِعَبْدِهِ لَيْلًا [ الإسراء/ 1] ( وہ ذات ) پاک ) ہے جو ایک رات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–69
تفسیر : پھر جب فرشتے لوط کے گھر پہنچے تو لوط نے ان کو نوجوانی کے عالم میں دیکھ کر اور اپنی قوم کی بدعادت پر خیال کر کے ان کو آنا مکروہ سمجھا چونکہ مہمان تھے گھر لے آئے، فرشتوں نے لوط سے بیان کردیا کہ ہم اس قوم ناپاک کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں، صبح ہوتے ہوتے یہ غارت ہو چکیں گے۔ تم اپنے خاندان کو لے کر بڑے سویرے چل دو اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ ان کی خبر بستی میں پہنچی۔ پھر کیا تھا ‘ بدمعاش شہوت پرستوں نے آ کر لوط (علیہ السلام) کا گھر گھیر لیا ‘ اس ارادے سے کہ ان لوگوں سے بدفعلی کریں۔ لوط (علیہ السلام) نے کہا یہ میرے مہمان ہیں ان کی بےعزتی میری بےعزتی ہے خدا سے ڈرو، مجھے رسوا نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَاتَّبِعْ اَدْبَارَھُمْ وَلاَیَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَدٌوَّامْضُوْا حَیْثُ تُؤْمِرُوْنَ ۔ وَقَضَیْنَآ اِلَیْہِ ذٰلِکَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَھٰٓؤْلَآئِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ ۔
(سورۃ الحجر : 65۔ 66)
(تو چلے جائیے اپنے اہل خانہ کے ساتھ رات کے کسی حصے میں، اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلیے اور کوئی تم میں سے پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ اور چلے جائیے جہاں جانے کا تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ اور ہم نے اپنے اس فیصلے سے حضرت لوط (علیہ السلام) کو آگاہ کردیا ہے کہ صبح ہوتے ہی ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔ )
حضرت لوط (علیہ السلام) کو ہدایات
عذاب کے آنے سے پہلے فرشتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کے غضب کی زندہ مثال۔
ملائکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے الوداع ہونے کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح ملائکہ کو پہچان نہ سکے۔ فرمانے لگے آپ لوگ تو بالکل اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔ ملائکہ عرض کرتے ہیں کہ ہم آپ کے پاس اس کام کے لیے آئے ہیں۔ جس کام کی آمد کے بارے میں آپ کی قوم بےیقینی کا شکار ہے۔ جس کام کے لیے ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں وہ حقیقت اور ہو کر رہے گا۔ یقین جانیے کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں وہ سو فیصد سچ ہے۔ بس آپ جتنا جلدی ہو سکے رات کے آخری پہر اپنے اہل…
Read the full tafseer →رات کو یہاں سے نکل چلو :
65: فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّیْلِ (آپ رات کے کسی حصہ میں اپنے اہل کے ساتھ یہاں سے چلے جائو) رات کے آخری حصہ میں۔ نمبر 2۔ رات کا جب کافی حصہ گزر جائے۔ وَاتَّبِعْ اَدْبَارَھُمْ ( اور تم ان کے پیچھے پیچھے چلو) ان کے پیچھے چلو۔ تاکہ تمہیں ان کی اور ان کے احوال کی اطلاع ہو۔ وَلَا یَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَدٌ (اور تم میں سے کوئی مڑکر نہ دیکھے) تاکہ ان کی قوم پر جو عذاب اترے اس کو وہ نہ دیکھیں اور ان کے متعلق ان کے دلوں میں نرمی پیدا ہو۔ نمبر 2۔ نہی عن الالتفات یہ مسلسل چلنے سے کنایہ ہے اور سستی کی ممانعت ہے اور ٹھہرنے کی اجازت نہیں۔ کیونکہ جو متوجہ ہوتا ہے وہ…
Read the full tafseer →(65)” فاسر باھلک بقطع من اللیل واتبع ادبارھم “ ان کے پیچھے۔” ولا یلتفت منکم احدً “ یہاں تک کہ ان میں سے کوئی بھی عذاب سے بچ کر نہ نکلے۔ بعض نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے علامت بیان کی ہے جو آل لوط میں سے جو نجات یافتہ ہوں گے ۔” وامضو احیث تومرون “ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ شام کو چلے جائو۔ مقاتل (رح) کے نزدیک زغر مراد ہے۔ بعض نے کہا کہ اردن مراد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
65۔ 66۔ اللہ پاک یہ کلام فرشتوں کی زبان سے فرماتا ہے کہ انہوں نے لوط (علیہ السلام) سے یہ بات کہی کہ تم اپنے بال بچوں کو لے کر راتوں رات یہاں سے نکل جاؤ گھر والوں کو آگے رکھو اور آپ ان کے پیچھے ہو لو تاکہ تمہیں اطمینان رہے کہ کوئی عزیز پیچھے تو نہیں رہ گیا اور فرشتوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ دیکھنا کبھی تم میں سے کوئی پیچھے پھر کر نہ دیکھے کہ قوم پر کیا عذاب ہو رہا ہے نہیں تو رستہ طے کرنے میں دیر ہوجائے گی اور طبیعت قوم کے عذاب کی طرف مشغول رہے گی پھر فرمایا کہ جہاں تم کو حکم ہوا ہے وہاں چلے جاؤ دیر نہ کرو جس کا مطلب یہ ہے کہ ملک شام کو چلے جاؤ پھر فرمایا کہ اللہ نے یہ بات ٹھہرا دی ہے کہ صبح ہوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–78
آیت 57
(قال) خلیل نے فرشتوں سے پوچھا : (فما خطبکم ایھا المرسلون) ” پس کیا تمہاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ ؟ “ یعنی تمہارا کیا معاملہ ہے اور تمہیں کس کام کے لئے بھیجا گیا ہے ؟ (قالوا انا ارسلنا الی قوم مجرمین) ” انہوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں “ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہوگیا ہے، اس لئے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ (الا ال لوط انا لمنجوھم اجمعین) ” سوائے لوط اور انکے گھر والوں کے، ان سب کو ہم بچا لیں گے۔ “ (آیت) ’ دسوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ “ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں…
Read the full tafseer →53۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو فرشتوں کی ہدایت : کہ اب چونکہ اس بدبخت قوم پر عذاب آیا چاہتا ہے۔ لہذا آپ اپنے متعلقین سمیت رات کے پچھلے حصے میں یہاں سے نکل جائیں۔ تاکہ آپ سب اس عذاب سے محفوظ رہیں اور یہ لوگ اپنے کئے کا پھل پائیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے پیاروں کا کسی قوم اور علاقے کے اندر موجود ہونا وہاں کے لوگوں کے لیے امن و سلامتی کا سبب ہوتا ہے۔ اور ان کا وہاں سے نکل جانا ان کے لیے نکال ووبال کا پیش خیمہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ خاص کر حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام۔ کہ ان کا وجود سراپا رحمت ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ سبحانہ وتعالیٰ جب کسی قوم کو مبتلائے عذاب کرنا چاہتے ہیں۔ تو اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–84
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری، قوم لوط کا ذکر بد، ثمودیوں پر عذاب
تشریح : ان تمام آیات کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی عنایت کی گئی صفات کو اعتدال، راست بازی اور خلوص و ایمان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں کام میں لانا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں بلکہ انسان کی زندگی کا عظیم مقصد ہے۔ اخلاقی فضائل کو ہم چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا حکمت، دوسرا شجاعت، تیسرا عفت چوتھا عدالت۔ جو قومیں اللہ کی دی ہوئی ان تمام قوتوں کو صحیح اور مناسب طریقہ سے استعمال میں لاتی ہیں وہی کامیاب و کامران اور اللہ کے مزید انعامات اور رضا کی حق دار ہوتی ہیں۔ اس میں چاہے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–79
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
جب وہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کے لوگ بڑے پریشان ہوئے کہ وہ خوبصورت لڑکوں کی شکل پر تھے اور قوم لوط بچوں سے غیر فطری فعل ہی جیسے گناہ فاسد میں مبتلا تھی لہذا ان کا گھبرانا ایک قدرتی امر تھا کہ یہ کیسے خوبصورت اور شریف بچے ہیں مگر اہل شہر کو خبر ہوگی تو وہ چڑھ دوڑیں گے جس میں جہاں ان کی رسوائی ہوگی وہاں عزت بھی نہ رہے گی اور اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور گستاخی کا یہ فعل اللہ جل جلالہ نہ کرے کہ ہمارے گھر سے شروع ہو چناچہ وہ بہت گھبرائے اور وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا شہر کے لوگ چڑھ دوڑے کہ یہ خوبصورت لڑکے ہیں انہیں ہمارے سپرد کیا جائے اس کا تذکرہ یہاں…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی ملک شام کی طرف یا کسی امن کی جگہ جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مقرر فرمائی ہوگئی۔ بعض نے ” اردن “ بھی لکھا ہے (روح)
Read the full tafseer →(15:65) فاسر۔ امر واحد مذکر حاضر۔ اسرب تو رات کو لے کر چل۔ سری یسری (ضرب) اور اسری یسری (افعال) سریۃ وسریۃ وسرایۃ رات کو سفر کرنا۔ اور سری ب واسری ب۔ رات کو لے کر چلنا۔ فاسر باھلک سو رات کو اپنے گھروالوں کو لے چل دیں۔
بقطع من اللیل۔ رات کے کسی حصہ میں۔ رات کا آخری حصہ۔ رات کا سب سے تاریک حصہ ۔
اتبع۔ تو پیروی کر۔ تو پیچھے پیچھے چل۔ تو اتباع کر۔ امر واحد مذکر حاضر۔
ادبارہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کے ادبار۔ ادبار ربر کی جمع ہے۔ ادبارہم ان کی پیٹھیں۔ ان کے پیچھے۔
لا یلتفت۔ فعل نہی واحد مذکر غائب۔ التفات (افتعال) سے لفت مادہ۔ پھیرنا۔ موڑنا۔ لا یلتفت احد کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ ثلاثی مجرد سے باب ضرب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–79
لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 79
منکرون (منکر) ، اجنبی، نا آشنا ۔ یمترون (مترائ) ، وہ شک و شبہ کرتے ہیں۔ اسر تو چل دے، تو چل پڑ قطع ٹکڑا، حصہ ادبار صدبر) ، پیٹھ پیچھے۔ لایلتفت مڑ کر مت دیکھ۔ متوجہ نہ ہو۔ امضوا چلتے رہو، چلے جاؤ۔ حیث جیسے۔ تو مرون تمہیں حکم دیا گیا ہے ۔ قضینا ہم نے فیصلہ کردیا۔ دابر جڑ۔ ھولاء یہ سب ۔ مقطوع کاٹ دی گئی۔ مصبحین صبح ہوتے ہوئے۔ صبح صبح اھل المدینۃ شہر والے۔ یستبشرون خوش ہوتے ہیں۔ لاتفضحون تم مجھے رسوا نہ کرو۔ لاتخزون تم مجھے رنجیدہ نہ کرو ۔ ننھی ہم منع کرتے ہیں بنتی میری بیٹیاں (بڑوں کے لئے سب کی بیٹیاں اپنی بیٹیاں کہی جاتی ہیں) فعلین کرنے والے۔ لعمرک البتہ تیری جان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
مطلب یہ ہے کہ اللہ کے حکم سے فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) سے کہا کہ تم اپنے باپ بچوں کو لے کر راتوں رات یہاں سے نکل جاؤ۔ گھر والوں کو آگے رکھو اور آپ ان کے پیچھے رہو تاکہ تمہیں اطمینان رہے کہ کوئی عزیز پیچھے تو نہیں رہ گیا اور دیکھنا تم میں سے کوئی پیچھے پھر کر نہ دیکھے کہ قوم پر کیا عذاب ہورہا ہے ورنہ رست طے کرنے میں دیر ہوجائے گی۔ پھر فرمایا کہ جہاں تم کو حکم ہوا ہے وہاں چلے جاؤ دیر نہ کرو، یعنی ملک شام کو چلے جاؤ۔ پھر فرمایا کہ اللہ نے کہ بات ٹھہرادی کہ صبح ہوتے ہی اس قوم کی جڑ بنیاد بالکل نیست اور نابود ہوجاوے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
[18] یعنی عذاب و ہلاکت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–65
(ف 1) قرآن حکیم کا یہ مخصوص شیوہ بیان ہے کہ احکام کا ذکر کرتے ہوئے عبروبصائر کا انبار لگا دیتا ہے ، اور درمیان میں قوام وملل کے قصص بھی بیان کرتا جاتا ہے کہ حالات کا موازنہ ہوتا رہے ۔ اس سے قبل دعوت رسالت کا ذکر تھا ، پھر مکہ والوں کے تعصب کو بیان کیا ، پھر نوع انسانی کو اپنے ابتدائی حالات کی جانب توجہ دلائی ، تاکہ وہ اپنے اصلی مقام کو پہچانیں ، اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ اور قوم لوط (علیہ السلام) کے حالات ہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ میں (آیت) ” انی انا الغفور الرحیم “۔ کی تشریح ہے ، اور قوم لوط (علیہ السلام) کی داستان میں (آیت) ” وان عذابی وھو ال عذاب الالیم “۔ کی ۔
بات یہ…
Read the full tafseer →65 ۔ پس اے لوط (علیہ السلام) اب تو اپنے متعلقین کو رات کے کسی حصہ میں لے کر نکل جا اور تو خود ان سب کے پیچھے پیچھے چلیو اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر اور پلٹ کر نہ دیکھے اور جہاں جانے کا تم کو حکم دیا گیا ہے وہاں چلے جانا یعنی اپنے گھر والوں کو لے ک رات ہی رات میں کسی وقت نکل جائو اور خود پیچھے رہو تا کہ سب کی دیکھ بھال کرتے رہو کوئی پیچھے پلٹ کر نہ دیکھے اور جہاں کا حکم ہوا ہے وہاں سب ایمان والوں کو لے کر چلے جائو وہ جگہ شام ہو یا ملک اردن ہو یا کوئی اور جگہ ہو جو جبرئیل (علیہ السلام) بتائیں۔
Read the full tafseer →ف 9۔ تاکہ کوئی رہ نہ جاوے لوٹ نہ جاوے، اور آپ کی ہیبت سے کوئی التفات نہ کرے۔
10۔ یعنی ملک شام۔
Read the full tafseer →لوط (علیہ السلام) اپنے گھر کے لوگوں کو لے کر کچھ ہی رات گئے گھر سے نکل جاؤ :
65۔ لوط (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ بس کچھ ہی رات گئے آپ (علیہ السلام) گھر سے نکل جائیں اور اپنے لوگوں کو بھی ساتھ لے جائیں ، لوط (علیہ السلام) کہاں گئے یہ بات مکمل طور پر واضح نہیں اور ضرورت بھی نہیں ۔ تورات کے بیان کے مطابق اس شہر کا نام ” ضغر “ بتایا گیا ہے ۔ (پیدائش : 19 : 22) تورات کے بیان کے مطابق دھوپ نکل چکی تھی کہ لوط اپنے لوگوں کو لے کر ” ضغر “ پہنچ گئے ، مورخین کے کہنے کے مطابق اس نام کا شہر کوئی وہاں موجود نہیں لیکن علماء بابل کا خیال ہے کہ یہ شہر بحر مردہ کے جنوبی ساحل میں واقع تھا ، بہرحال قرآن کریم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–71
From verse 48: لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَجِينَ (No weariness shall touch them therein nor will they be expelled from there), we learn about two features of Jannah: (1) No one shall ever feel tired or weak. This is contrary to what happens in our mortal world where hard work naturally results in fatigue. In fact, even a state of total rest and fun would sometimes tire a person out, no matter how enjoyable are things one is occupied with. (2) The other feature of Jannah we discover is that the blessings once received there shall be eternal. These blessings shall…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
37. That is, you should walk behind your people lest anyone of them should stay behind.
38. It did not mean:“look not behind thee, lest thou be consumed,”as stated in the Bible. But it merely meant to warn them: None of you should turn round to see what was happening behind them lest you should stop to see when you heard the cries of the smitten people. For it is neither the time nor the place viewing the destruction nor shedding tears of regret. If you stop even for a minute in the territory of the smitten people you also might get hurt from the rain of stones.
Read the full tafseer →