Al-Hijr 15:51

Al-Hijr · from ayah 51

15:51

وَنَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ ۟ۘوَنَبِّئۡهُمۡ عَنۡ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ‌ۘ

اور ان کو ابراہیم کے مہمانوں کا احوال سنادو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And inform them about the guests of Abraham,

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:51

اور انہیں ذرا ابراہیمؑ کے مہمانوں کا قصہ سناؤ

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان کو ابراہیم کے مہمانوں کا احوال سنادو

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہیں ابراہیم کے مہمانوں کا (بھی) حال سنا دو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور انہیں ابراہیم کے مہمانوں کا حال سنا دو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور انہیں احوال سناؤ ابراہیم کے مہمانوں کا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور انہیں ابراہیم ؑ کے مہمانوں کی خبر (بھی) سنائیے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھیں ابراہیم کے مہمانوں کے بارے میں خبر دے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز آپ انھیں ابراہیم کے مہمانوں کا حال بتائیے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان کو ابراہیم کے مہمانوں سے متعلق بھی آگاہ کردو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور انھیں ذرا ابراہیم کے مہمانوں کا قصہ بھی سنا دو

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ کہ میرا عذاب بھی بڑا دردناک عذاب ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور انہیں ذرا بتایئے ابراہیم کے مہمانوں کے بارے میں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان کو ابراہیم کے مہمانوں کا حال سنا دو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And tell them about Abraham's guests.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and tell them about the guests of Ibrahim.

— Muhammad Taqi Usmani

and tell them about the guests of Ibrahim.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And tell them about the guests (i.e., the angels) of Ibrahim.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And inform them about the guests of Abraham,

— Saheeh International

Tell them about the guests of Abraham

— Muhammad Sarwar

And inform them of the guests of Ibrahim:

— Muhammad Habib Shakir

And declare thou unto them of Ibrahim's guests.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 15:51

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–56

فرشتے بصورت انسان لفظ ضعیف واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے زور اور سفر۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے حضرت خلیل اللہ ؑ کے پاس آئے تھے۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا۔ فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، پھر حضرت اسحاق ؑ کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی۔ جیسے کہ سورة ھود میں ہے۔ تو آپ نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لئے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہوگا ؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحِجْر 30 یہاں حضرت ابراہیم اور ان کے بعد متصلا قوم لوط کا قصہ جس غرض کے لیے سنایا جا رہا ہے اس کو سمجھنے کے لیے اس سورة کی ابتدائی آیات کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے۔ آیات 7 -8 میں کفار مکہ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ وہ نبی ﷺ سے کہتے تھے کہ ”اگر تم سچے نبی ہو تو ہمارے سامنے فرشتوں کے لے کیوں نہیں آتے ؟“ اس کا مختصر جواب وہاں صرف اس قدر دے کر چھوڑ دیا گیا تھا کہ ”فرشتوں کو ہم یوں ہی نہیں اتار دیا کرتے، انہیں تو ہم جب بھیجتے ہیں حق کے ساتھ ہی بھیجتے ہیں“۔ اب اس کا مفصل جواب یہاں ان دونوں قصوں کے پیرائے میں دیا جا رہا ہے۔ یہاں انہیں بتایا جا رہا ہے کہ ایک ”حق“ تو وہ ہے جسے لے کر فرشتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–71

خلاصہ تفسیر اور (اے محمد ﷺ آپ ان (لوگوں) کو ابراہم ؑ کے مہمانوں (کے قصہ) کی بھی اطلاع دیجئے (وہ قصہ اس وقت واقع ہوا تھا) جب کہ وہ (مہمان جو کہ واقع میں فرشتے تھے اور بشکل انسانی ہونے کی وجہ سے حضرت ابراہیم ؑ نے ان کو مہمان سمجھا) ان کے (یعنی ابراہیم ؑ کے) پاس آئے پھر (آ کر) انہوں نے السلام علیکم کہا (ابراہیم ؑ ان کو مہمان سمجھ کر فورا ان کے لئے کھانا تیار کر کے لائے مگر چونکہ وہ فرشتے تھے انہوں نے کھایا نہیں تب) ابراہیم (علیہ السلام دل میں ڈرے کہ یہ لوگ کھانا کیوں نہیں کھاتے کیونکہ وہ فرشتے بشکل بشر تھے ان کو بشر ہی سمجھا اور کھانا نہ کھانے سے شبہ ہوا کہ یہ لوگ کہیں مخالف نہ ہوں اور) کہنے لگے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 50–53

تفسیر آیات 51 تا 53: وَنَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ (51)إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سَلامًا قَالَ إِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُونَ (52) قَالُوا لا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ عَلِيمٍ (53) تاریخ کی ایک شہادت : مذکورہ بالا حقیقت کی تائید میں یہ تاریخ کی ایک شہادت پیش کی گئی ہے کہ جو فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس ایک ذی علم فرزند کی بشارت لے کر آئے وہی فرشتے قوم لوط کے لیے صاعقہ عذاب لے کر آئے۔ قَالَ إِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُونَ ، فرشتوں سے حضرت ابراہیم کا یہ ارشاد اس امر کی دلیل ہے کہ وہ اس حقیقت سے باخبر تھے کہ فرشتوں کا یوں علانیہ آنا کسی مہم ہی کے لیے ہوسکتا ہے اس وجہ سے ان کی اس آمد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 47–51

47۔ 1 دنیا میں ان کے درمیان جو آپس میں حسد اور بغض و عداوت کے جذبات رہے ہوں گے، وہ ان کے سینوں سے نکال دیئے جائیں گے اور ایک دوسرے کے بارے میں ان کے آئینے کی طرح صاف اور شفاف ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 48–51

19: مہمانوں سے مراد وہ فرشتے ہیں جو حضرت ابراہیم ؑ کے پاس بھییجے گئے تھے۔ اوپر یہ بیان کیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی وسیع ہے، اور عذاب بھی بڑا سخت ہے، لہذا ایک انسان کو نہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا چاہیے، اور نہ اس کے عذاب سے بےفکر ہو کر بیٹھنا چاہیے۔ اس مناسبت سے ان مہمانوں کا یہ واقعہ ذکر فرمایا گیا ہے، کیونکہ اس واقعے میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بھی بیان ہے کہ یہ فرشتے حجرت ابراہیم ؑ کے پاس بڑھاپے میں حضرت اسحاق ؑ جیسے بیٹے کی پیدائش کی خبر لے کر آئے، اور اللہ تعالیٰ کے سخت عذاب کا بھی ذکر ہے کہ انہی فرشتوں کے ذریعے حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل کیا گیا۔ یہ واقعہ قدرے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 51–56

آیت نمبر 51 تا 56 جب فرشتے آئے تو انہوں نے کہا تم پر سلامتی ہو ، اس کے جواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے۔ یہاں آپ نے خوف کی کوئی وجہ نہیں بتائی اور یہ تذکرہ بھی نہیں ہے کہ آپ بھنا ہوا بچھڑا لائے اور انہوں نے ہاتھ نہ بڑھایا جیسا کہ سورة ہود میں بیان یوں ہے : فلما رای ایدیھم لا تصل الیہ نکرھم واوجس منھم خیفۃ ” مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے ، پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہوگیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا “۔ یہاں یہ تفصیلات اس لیے نہیں دی گئیں کہ وہاں مقصود قصہ یہ ہے کہ اللہ جب اپنے رسول کے ذریعے کسی قوم سے رحمتوں کا وعدہ کرتا ہے تو وہ رحمت آکر رہتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 " مہمان " اس لیے کہا کہ ابراہیم ابتداء انھیں مہمان ہی سمجھے، بعد میں کھلا کہ فرشتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 51 وَنَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَ یہ واقعہ تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ہم سورة ہود کے ساتویں رکوع میں بھی پڑھ چکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 51–54

28 سیدنا ابراہیم کے مہمان فرشتے :۔ یہ مہمان فرشتے تھے جو اصل میں تو لوط (علیہ السلام) کی قوم کی طرف بھیجے جارہے تھے کہ ان کی بستی کو تباہ کر ڈالیں۔ پہلے وہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف آئے اور انھیں مہمان اس لیے کہا گیا کہ وہ اجنبی صورت میں آئے تھے وہ انھیں ایک بیٹے یعنی سیدنا اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت دینے آئے تھے۔ یہ واقعہ پہلے سورة ہود کی آیت نمبر 69 تا 74 میں بھی گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 50–51

42۔ مومن کی شان جو حدیث میں بتائی گئی ہے کہ اس کا قلب ہمیشہ بیم ورجا، خوف وامید کے درمیان رہتا ہے، اس کی بنیاد انہی صفات الہی پر ہے۔ بندہ جب خدائے آمرزگار کی رحمت بیکراں اور مغفرت بےپایاں پر نظر کرتا ہے تو اسے ہر طرف امید ہی امید نظر آتی ہے۔ لیکن جب نظر اپنی کو تاہیوں، لغزشوں، خطاؤں کی طرف جاتی ہے، تو قلب کا خشیت الہی سے تھراجانا بھی بالکل قدرتی اور صحیح ہے۔ عبادی میں بندوں کی اضافت اللہ کی طرف ان کی انتہائی قدرومنزلت کے لئے ہے۔ اضاف العباد الی نفسہ ھذا تشریف عظیم (کبیر) اس عموم بشارت کے تحت میں مومن متقی کے ساتھ مومن عاصی بھی آجاتا ہے۔ نبی کل من کان معترفا بعبودیتی وھذا کما یدخل فیہ ال مومن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–60

آیت نمبر 45 تا 60 ترجمہ : (شرک و کفر سے) بچنے والے (متقی) باغوں اور چشموں میں ہوں گے جو باغوں میں جاری ہوں گے، ان سے کہا جائیگا ہر گھبراہٹ سے سلامتی اور امن کے ساتھ اس میں داخل ہوجاؤ، (یعنی) حال یہ کہ تم ہر خطرہ سے سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ، یا سلام کے ساتھ، یعنی سلام کرو اور داخل ہوجاؤ، ان کے دلوں میں جو تھوڑی بہت کھوٹ کپٹ ہوگئی ہم اس کو نکالدیں گے وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر مسہریوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے (اخوانا) ھم ضمیر سے ھال ہے (متقابلین) بھی اخوانا سے حال ہے یعنی کوئی کسی کی گدی (پشت) کو نہ دیکھے گا، اسلئے کہ ان کے تخت دائرہ کی شکل میں ہوں گے، نہ وہاں انھیں کسی مشقت سے پالا پڑے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ونبءھم عن ضیف ابراھیم اور ان کو ابراہیم کے مہمانوں کے واقعہ کی اطلاع دے دو ۔ اس جملہ کا عطف امرسابق نَبِّیءْ عِبَادِیْ پر ہے۔ یہ تائید ہے اس امر کی کہ اللہ کا وعدۂ رحمت اور وعید عذاب آخرت کی طرح دنیا میں بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ (دیکھو ! ) ابراہیم پر اللہ نے رحمت کی (پیرانہ سالی کے باوجود ان کو اولاد عطا کی اور قوم لوط کو ہلاک کردیا) ضَیْفِ کا اطلاق واحد اور جمع دونوں پر ہوتا ہے۔ یہاں ضَیْفِ سے مراد ملائکہ ہیں جو حضرت ابراہیم کو اولاد کی بشارت دینے اور قوم لوط کو ہلاک کرنے کیلئے بھیجے گئے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 51–52

(51۔ 52) آپ ان کو حضرت ابراہیم ؑ کے مہمانوں کی یعنی حضرت جبریل ؑ اور ان کے ساتھ جو بارہ فرشتے اور آئے تھے ان کی اطلاع دیجیے انہوں نے حضرت ابراہیم ؑ کے پاس آکر انکو سلام کیا جب انہوں نے حضرت ابرہیم ؑ کے ہاں کھانا نہیں کھایا تو حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا ہم تم سے خوف زدہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَنَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَ : ”ضَيْفِ“ یہ ”ضَافَ یَضِیْفُ“ کا مصدر ہے، جو مائل ہونے کے معنی میں آتا ہے، مہمان چونکہ کسی کی طرف مائل ہو کر ہی آتا ہے، اس لیے اسے ”ضَیْفٌ“ کہتے ہیں، یہ واحد، تثنیہ اور جمع سبھی کے لیے ”ضَیْفٌ“ واحد ہی آتا ہے، جیسا کہ اس آیت میں جمع کے لیے آیا ہے بعض لوگ اس کی جمع ”اَضْیَافٌ“ یا ”ضُیُوْفٌ“ بھی استعمال کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 51–54

آیت نمبر 51 تا 54 قولہ تعالیٰ : ونبئھم عن ضیف ابراھیم ضیف ابراہیم سے مراد وہ ملائکہ ہیں جنہوں نے آپ کو بچے کے ہونے اور قوم لوط کی ہلاکت کی بشارت دی۔ ان کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کنیت ابو الضیفان تھی، اور آپ کے محل کے چار دروازے تھے تاکہ کوئی بھی (اس میں داخل ہونے سے) رہ نہ جائے۔ اور ضیف کو ضیف کا نام آپ کی طرف اس کی اضافت اور آپ کے پاس اس کے اترنے کی وجہ سے دیا جاتا ہے۔ اور ضیف کا حکم سورة ہود میں گزر چکا ہے جو کافی ہے۔ والحمدللہ۔ اذ دخلوا علیہ خبر جمع لائی گئی ہے کیونکہ لفظ لاضیف واحد، تثنیہ، جمع اور مذکر و مونث کی مصدر کی طرح صلاحیت رکھتا ہے۔ ضافہ اور اضافہ،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–77

1:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قالوا لاتوجل “ یعنی مت ڈر۔ 2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فبم تبشرون “ سے مراد ہے کہ انہوں نے تعجب کیا اپنے بڑھاپے سے اور اپنی بیوی کے بڑھاپے سے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے نقل کیا کہ سدی (رح) سے فرمایا (آیت ) ” من القنطین “ یعنی مایوس ہونے والوں میں سے۔ 4:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے اعمش کے طریق سے یحی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” فلا تکن من القنطین “ بغیر الف کے اور اس طرح پڑھا (آیت ) ” ومن یقنط من رحمۃ ربہ “ نون کے فتحہ کے ساتھ۔ 5:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان بن عیینہ (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَنَبِئْهُمْ : اور آپ ﷺ خبر دیں ان کو ] [ عَنْ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کے بارے میں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–56

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا تذکرہ، ان سے خوفزدہ ہونا اور ان کو بیٹے کی بشارت دینا ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا ذکر ہے، یہ مہمان اللہ جل شانہٗ کے بھیجے ہوئے فرشتے تھے جو اس لیے بھیجے گئے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی بشارت دیں اور اس پر بھی مامور تھے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کردیں، اس کا مفصل تذکرہ سورة ھود (ع 7) میں گزر چکا ہے اور سورة ذاریات میں بھی مذکور ہے، اور سورة عنکبوت رکوع 4 میں بھی ہے جب یہ فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور اندر داخل ہوگئے تو انہوں نے سلام کیا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سلام کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–77

ذکر نعمائے اہل جنت قال اللہ تعالیٰ : ان المتقین فی جنت وعیون .... الیٰ .... وان عذابی ھو العذاب الالیم۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں گنہگاروں کا اور ان کے لیے جہنم کی سزا کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں پرہیزگاروں کے ثواب اور ان کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں اور متقی وہ لوگ ہیں کہ جو بتوفیق الٰہی اور بتائید ایزدی شیطان کے اغواء اور تسلط سے محفوظ رہے اور ابلیس لعین کی تسویل و تزئین سے دنیا کی آرائش کے دلدادہ نہ بنے آخرت ہی کی فکر میں لگے رہے چناچہ فرماتے ہیں۔ تحقیق جن لوگوں نے تقویٰ اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کی اور شیطان کے اغوا اور تزئین سے بچتے رہے وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے دودھ اور شراب کے چشمے ان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 51–56

21:۔ یہ ابتداء سورت کے ساتھ متعلق ہے۔ ابتداء سورت میں فرمایا مسئلہ مان لو ورنہ میرا عذاب آجائے گا اور معاندین امم سابقہ کی طرح پچھتاؤ گے اب یہاں سے تخویف دنیوی کے پانچ نمونے بیان کیے جا رہے ہیں تین امم سابقہ سے اور دو مشرکین مکہ سے۔ یہ نمونہ اول کی تمہید ہے۔ ” قَالَ اِنَّا مِنْکُمْ وَجِلُوْنَ “ سے پہلے ادماج ہے یعنی فرشتوں نے آکر سلام کہا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سلام کا جواب دیا اور فوراً اٹھ کر اندر چلے گئے اور مہمانوں کے لیے بچھڑا ذبح کر کے اور تل کرلے آئے جب دیکھا کہ کھانے کے لیے وہ ہاتھ نہیں بڑھا رہے تو فرمایا ہم تو تم سے ڈر رہے ہیں الخ جیسا کہ مسلسل قصہ سورة اور ذاریات وگیرہ میں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 45–60

(ربط آیات) پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کی نعمت کا ذکر کیا اور اس سلسلے میں شیطان کے اغواء اور اس کی طرف سے اللہ کے حکم کی سرتابی کا ذکر کیا اس کے نتیجے میں اللہ نے اسے مردود ٹھہرایا ، پھر اس نے مہلت طلب کی تو اللہ نے قیامت تک کے لیے مہلت بھی دے دی شیطان نے قسم اٹھا کر کہا کہ وہ اللہ کے بندوں کو گمراہ کرتا رہے گا ، البتہ مخلص بندوں پر اس کا وار کارگر نہیں ہوسکے گا ، اللہ نے فرمایا یہ اخلاص ہی میرا سیدھا راستہ ہے ، میرے بندوں پر تیرا غلبہ نہیں ہوگا ، البتہ گمراہ لوگ تیری پیروی کرکے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لیں گے جو ان کے وعدے کی جگہ ہے ، پھر فرمایا جہنم کے ساتھ دروازے ہیں اور ہر دروازے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَنَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَ 51۝ۘ ضيف والضَّيْفُ : من مال إليك نازلا بك، وصارت الضِّيَافَةُ متعارفة في القری، وأصل الضَّيْفِ مصدرٌ ، ولذلک استوی فيه الواحد والجمع في عامّة کلامهم، وقد يجمع فيقال : أَضْيَافٌ ، وضُيُوفٌ ، وضِيفَانٌ. قال تعالی: ضَيْفِ إِبْراهِيمَ [ الحجر/ 51] ( ض ی) الضیف الضیف ۔ اصل میں اسے کہتے ہیں کو تمہارے پاس ٹھہرنے کے لئے تمہاری طرف مائل ہو مگر عرف مین ضیافت مہمان نوازی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اصل میں چونکہ یہ مصدر ہے اس لئے عام طور پر واحد جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے مگر کبھی اس کی جمع اضیاف وضیوف وضیفاف بھی آجاتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ ضَيْفِ إِبْراهِيمَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 46–60

ترکیب : بسلام حال ہے فاعل ادخلوا سے۔ ای سالمین اومسلما علیھم۔ اخوانا حال ہے ھم سے علی سرر بھی حال ہے اور متقابلین بھی۔ علٰی ان موضع حال میں ہے ای بشر تمونی کبیرا۔ تبشرون کے نون کو مکسور پڑھا ہے نون وقایہ ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 51–53

وَنَبِّئْھُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰھِیْمَ ۔ اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْہِ فَقَالُوْا سَلٰمًا ط قَالَ اِنَّا مِنْکُمْ وَجِلُوْنَ ۔ قَالُوْا لاَ تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ ۔ (سورۃ الحجر : 51۔ 52۔ 53) (اور انھیں ابراہیم کے مہمانوں سے متعلق بھی آگاہ کردو۔ جب وہ آپ کے پاس آئے تو انھوں نے کہا آپ پر سلام ہو۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ہم تو آپ لوگوں سے اندیشہ ناک ہیں۔ مہمانوں نے کہا آپ کوئی اندیشہ نہ کریں، ہم آپ کو مژدہ سنانے آئے ہیں، ایک ذی علم بچے کی پیدائش کا۔ ) تاریخ کی شہادت سابقہ دو آیتوں میں ہم نے پڑھا کہ اللہ تعالیٰ بہت مہربان ہے اور ساتھ ہی یہ بات بھی کہ اس کا عذاب، عذاب الیم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 51–56

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ آیت میں رحمت کا بیان ہوا۔ اب اللہ کی رحمت کا عملی نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانان گرامی کے ذکر سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور عذاب کا ذکر کیا۔ یہاں رحمت کا عملی نمونہ پیش کیا جاتا ہے جس کا پس منظر یہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری دینے والے ملائکہ حاضر ہوئے۔ انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں سلام پیش کیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے معمولی توقف کے بعد ان کی خدمت میں بھنا ہوا بچھڑا پیش کیا۔ جب مہمانوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھائے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پریشان ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ابراہیم ( علیہ السلام) اور ان کے مہمانانِ گرامی : 51: وَنَبِّئْھُمْ (اور ان کو اطلاع دو ) اپنی امت کو خبردو۔ اس کا عطف نبیٔ عبادی پر ہے تاکہ قوم پر جو عذاب آیا اس سے عبرت حاصل کریں مجرمین اللہ تعالیٰ کے انتقام اور ناراضگی سے عبرت پکڑیں اور ان کو یقین ہوجائے اس کا عذاب انتہائی دردناک ہے۔ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰھِیْمَ (ابراہیم کے مہمانوں کے متعلق) مہمان فرشتے جبرئیل (علیہ السلام) اور گیارہ فرشتے ان کے ساتھ تھے۔ ضیف کا لفظ واحد وجمع آتا ہے۔ کیونکہ یہ ضافہ کا مصدر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (51)” ونبھم عن ضیف ابراہیم “ ان کے مہمانوں کی اطلاع دے دو ۔ (ضیف) کا اطلاق واحد، جمع، تثنیہ، مذکر، مونث سب پر ہوتا ہے۔ اس سے مراد وہ ملائکہ ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کی بشارت دینے اور قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجے گئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 51–56

51۔ 56۔ ان آیتوں میں فرمایا کہ اے رسول ان لوگوں کو خبر دے دو ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کی کہ ان مہمانوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آکر سلام کیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ مجھے تم لوگوں سے ڈر لگتا ہے یہ قصہ سورت ہود میں مفصل گزر چکا ہے کہ جب خدا کے فرشتے وہاں آئے اور سلام کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی ان کے سلام کا جواب دیا اور گھر سے ایک فربہ بچھڑا تل کر ان کی ضیافت کے واسطے لائے ان کے ہاتھ اس کھانے کی طرف جب نہیں بڑھے تو ابراہیم (علیہ السلام) خوف زدہ ہوئے مہمانوں نے کہا کہ ہم خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے قوم لوط پر عذاب لے کر چلے ہیں اور تمہیں اولاد کی خوشی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–56

آیت 51 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (ونبءھم عن ضیف ابراہیم) ” ان کو ابراہیم کے مہمانوں کی بابت خبر دیں “ یعنی اس عجیب قصے کے بارے میں ان کو آگاہ کیجیے، کیونکہ آپ کے ان کے سامنے انبیاء کرام کے قصے اور ان کے حالات بیان کرنے سے، ان کو عبرت حاصل ہوگی اور وہ ان کی پیروی کریں گے۔۔۔ خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے خلیل ابراہیم کا قصہ، جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان کی ملت کی پیروی کریں۔ حضرت ابراہیم کے مہمانوں سے مراد وہ مکرم فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا مہمان بنا کر ان کو اعزاز بخشا۔ (اد دخلوا علیہ فقالوا سلماً ) ” جب وہ آئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 50–51

43۔ خوف ورجاء دونوں کی ضرورت : پس تم میری بخشش و رحمت کی امید بھی رکھو اور ہمیشہ رکھو، اور میری پکڑ اور عذاب کا خوف بھی اور ہمیشہ کے لئے کہ ایمان خوف ورجاء ہی کے درمیان ہے۔ پس اس کی رحمت و عنایت اور بخشش پر تکیہ کرکے عمل سے لاپرواہی برتنا بھی غلط ہے اور اس کی گرفت وپکڑ اور اس کے عذاب کا پورا خوف اور ڈر بھی۔ جیسا کہ اسلاف کرام کا اسوہ تھا۔ وباللہ التوفیق۔ بہرکیف ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ سے متعلق تصور کی وضاحت فرما دی گئی کہ وہ بڑا ہی درگزر فرمانے والا انتہائی مہربان بھی ہے اور اس کا عذاب بھی بڑا ہی دردناک عذاب ہے پس نہ تو کسی کو اس کی ڈھیل سے دھوکے میں پڑنا چاہئے اور نہ کبھی اس طرح کے کسی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–84

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری، قوم لوط کا ذکر بد، ثمودیوں پر عذاب تشریح : ان تمام آیات کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی عنایت کی گئی صفات کو اعتدال، راست بازی اور خلوص و ایمان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں کام میں لانا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں بلکہ انسان کی زندگی کا عظیم مقصد ہے۔ اخلاقی فضائل کو ہم چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا حکمت، دوسرا شجاعت، تیسرا عفت چوتھا عدالت۔ جو قومیں اللہ کی دی ہوئی ان تمام قوتوں کو صحیح اور مناسب طریقہ سے استعمال میں لاتی ہیں وہی کامیاب و کامران اور اللہ کے مزید انعامات اور رضا کی حق دار ہوتی ہیں۔ اس میں چاہے ایک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–60

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف جو لوگ تقوی اختیار کرتے ہیں اور زندگی اطاعت الہی میں بسر کرتے ہیں یقینا باغوں اور چشموں کی بہترین سرزمین میں رہیں گے ایک ایسی جگہ جہاں کا داخلہ ہی ہر طرح کے امن کی ضمانت ہے اور جہاں داخلے پر کہہ دیا جائے گا جاؤ یہاں امن وسلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ نیز اگر دنیا میں کبھی ایک دوسرے کے درمیان رنجش بھی رہی ہوگی تو اس کا طبعی اثر یا خفگی جنت میں داخلے کے وقت دور کردی جائے گی ۔ (مزاج برزخ میں وہی رہتا ہے جو دنیا میں ہو) گویا انسانی مزاج کو موت تبدیل نہیں کرتی نہ علم کو فنا کرتی ہے لہذا برزخ میں وہی مزاج رہتا ہے جو دنیا میں رہا ہو اور محبت وناراضگی کے اثرات دل میں موجود…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 اس قصہ میں اس بات کی شہادت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب درد ناک ہے۔ سورة ہود میں گزر چکا ہے کہ یہ فرشتے تھے جو مہمان بن کر حضرت ابراہیم کے پاس پہنچے اور پھر قوم لوط کو بلاک کرنے کے لئے سدوم میں پہنچ گئے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 49–51

(15:49) نبیء امر واحد مذکر حاضر۔ تنبئۃ (تفعیل) سے۔ تو آگاہ کر دے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–60

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 ضعیف مہمان۔ وجلون (وجل) ۔ ڈرنے والے لاتوجل تو خوف نہ کر۔ تو نہ ڈر۔ نبشرک ہم خوش خبری دیتے ہیں تم کو۔ غلام علیم علم رکھنے والا لڑکا۔ الکبر بڑھاپا۔ القانطین مایوس ہونے والے۔ الضالون بہکنے والے، گمراہ ۔ ماخطب کیا اصل کام ہے ؟ المرسلون بھیجے ہوئے ۔ منجوھم ہم ان کو بچا لیں گے قدرنا ہم نے فیصلہ کرلیا۔ اندازہ کرلیا۔ الغبرین پیچھے رہ جانے والے ۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 اللہ تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ ہزاروں گناہوں اور مسلسل خطاؤں کے باوجود وہ کسی کو ہر خطا پر نہیں پکڑتا لیکن جب کوئی بندہ یا کوئی قوم گناہ پر گناہ اور اللہ کی نافرمانیوں کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–56

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ : ان آیتوں میں فرمایا کہ اے رسول اللہ کے ! ان لوگوں کو خبر دے دو ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کی کہ ان مہمانوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آکر سلام کیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ مجھے تم لوگوں سے ڈر لگتا ہے۔ یہ قصہ سورة ہود میں مفصل گزر چکا ہے کہ جب خدا کے فرشتے وہاں آئے اور سلام کیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی ان کے سلام کا جواب دیا اور گھر سے ایک فربہ بچھڑا تل کر ان کی ضیافت کے واسطے لائے ان کے ہاتھ جب اس کھانے کی طرف نہیں بڑھے تو ابراہیم (علیہ السلام) خوف زدہ ہوئے۔ مہمانوں نے کہا کہ ہم خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے قو لوط…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 44–62

[17] دروازوں کی یہ تعداد ممکن ہے کہ استحقاق عذاب کے لحاظ سے سات طبقوں کے اظہار کے لئے ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مقصود دوزخ میں داخل ہونے والوں کی کثرت تعداد کا اظہار ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 49–54

خدا اصل میں غفور ورحیم ہے ! (ف 1) ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے نہایت وضاحت سے ارشاد فرمایا ہے کہ صفات میں حقیقتا عفو ومغفرت ہے ، اللہ تعالیٰ چاہتے تو یہی ہیں کہ اس کے بندے ہمیشہ اس کے انعامات سے متمتع رہیں ، اور اس کی رحمتیں ابدا اس کے بندوں پر چھائی ہیں ، مگر جب بندے دائرہ عبودیت سے نکل جائیں ، اور اللہ کے کرم وعفو سے استفادہ نہ کریں تو پھر اس کے غضب میں جوش پیدا ہوتا ہے اور اس کا غصہ نافرمانوں پر بھڑکتا ہے ، یہ غصہ اور غضب بھی درحقیقت غفران ورحمت کا نتیجہ ہے ، جس طرح والدین ناراض ہوتے ہیں اور ان کی ناراضگی میں بھی شفقت کا ایک رنگ ہوتا ہے ، اسی طرح اللہ جو والدین سے زیادہ رحیم ہے ، جب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

51 ۔ اور اے پیغمبر آپ ان کو ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا حال بھی سنادیجئے اور ان کے واقعہ کی خبر بھی ان کو دے دیجئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 50–51

ف 6۔ تاکہ اس سے مطلع ہو کر ایمان اور تقوی کی رغبت اور کفرو معصیت سے رہبت ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا ذکر کیا جارہا ہے جنہوں نے بیٹے کی خوشخبری سنائی تھی : 51۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا وہی قصہ ہے جس میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو آنے والوں نے علیک سلیک کی تو آپ اٹھے اور انکی میزبانی کیلئے بچھڑا بھون کر لائے لیکن انہوں نے اس کی طرف ہاتھ ہی نہ بڑھایا ‘ آپ کو خوف ہوا کہ مہمانوں نے ایسا کیوں کیا ؟ مہمان بھی بات کو سمجھ گئے تو انہوں نے کہا کہ ہم تو آپ (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری دینے کیلئے آئے ہیں چناچہ انہوں نے آپ (علیہ السلام) کو یا آپ (علیہ السلام) کی اہلیہ کو بیٹے کی خوشخبری سنائی اور آپ (علیہ السلام) کے یہ بیٹے ہیں جن کا نام اسحاق رکھا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–71

From verse 48: لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَ‌جِينَ (No weariness shall touch them therein nor will they be expelled from there), we learn about two features of Jannah: (1) No one shall ever feel tired or weak. This is contrary to what happens in our mortal world where hard work naturally results in fatigue. In fact, even a state of total rest and fun would sometimes tire a person out, no matter how enjoyable are things one is occupied with. (2) The other feature of Jannah we discover is that the blessings once received there shall be eternal. These blessings shall…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

30. The story of Prophets Abraham and Lot (peace be upon them) has been related to tell the disbelievers of Makkah how angels come down with truth. This was in response to their demand: Why do you not bring angels before us, if what you say is true? (Ayat 7). Then, only this brief answer was given: We do not send down angels in this way. When they come down, they come down with truth (Ayat 8). Now these two events are cited as two concrete forms of truth with which the angels came, as if to ask the disbelievers: Now decide for yourselves which of these two forms of truth would you want angels…

Read the full tafseer →