Explained with ayahs 51–56
فرشتے بصورت انسان
لفظ ضعیف واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے زور اور سفر۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے حضرت خلیل اللہ ؑ کے پاس آئے تھے۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا۔ فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، پھر حضرت اسحاق ؑ کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی۔ جیسے کہ سورة ھود میں ہے۔ تو آپ نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لئے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہوگا ؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں…
Read the full tafseer →سورة الْحِجْر 31
تقابل کے لیے ملاحظہ ہو سورة ہود، رکوع 7 مع حواشی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–71
خلاصہ تفسیر
اور (اے محمد ﷺ آپ ان (لوگوں) کو ابراہم ؑ کے مہمانوں (کے قصہ) کی بھی اطلاع دیجئے (وہ قصہ اس وقت واقع ہوا تھا) جب کہ وہ (مہمان جو کہ واقع میں فرشتے تھے اور بشکل انسانی ہونے کی وجہ سے حضرت ابراہیم ؑ نے ان کو مہمان سمجھا) ان کے (یعنی ابراہیم ؑ کے) پاس آئے پھر (آ کر) انہوں نے السلام علیکم کہا (ابراہیم ؑ ان کو مہمان سمجھ کر فورا ان کے لئے کھانا تیار کر کے لائے مگر چونکہ وہ فرشتے تھے انہوں نے کھایا نہیں تب) ابراہیم (علیہ السلام دل میں ڈرے کہ یہ لوگ کھانا کیوں نہیں کھاتے کیونکہ وہ فرشتے بشکل بشر تھے ان کو بشر ہی سمجھا اور کھانا نہ کھانے سے شبہ ہوا کہ یہ لوگ کہیں مخالف نہ ہوں اور) کہنے لگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
تفسیر آیات 51 تا 53: وَنَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ (51)إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سَلامًا قَالَ إِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُونَ (52) قَالُوا لا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ عَلِيمٍ (53)
تاریخ کی ایک شہادت : مذکورہ بالا حقیقت کی تائید میں یہ تاریخ کی ایک شہادت پیش کی گئی ہے کہ جو فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس ایک ذی علم فرزند کی بشارت لے کر آئے وہی فرشتے قوم لوط کے لیے صاعقہ عذاب لے کر آئے۔ قَالَ إِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُونَ ، فرشتوں سے حضرت ابراہیم کا یہ ارشاد اس امر کی دلیل ہے کہ وہ اس حقیقت سے باخبر تھے کہ فرشتوں کا یوں علانیہ آنا کسی مہم ہی کے لیے ہوسکتا ہے اس وجہ سے ان کی اس آمد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
52۔ 1 حضرت ابراہیم ؑ کو ان فرشتوں سے ڈر اس لئے محسوس ہوا کہ انہوں نے حضرت ابراہیم ؑ کا تیار کردہ بھنا ہوا بچھڑا نہیں کھایا، جیسا کہ سورة ہود میں تفصیل گزری۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر کو بھی غیب کا علم نہیں ہوتا، اگر پیغمبر عالم الغیب ہوتے تو حضرت ابراہیم ؑ سمجھ جاتے کہ آنے والے مہمان فرشتے ہیں اور ان کے لئے کھانا تیار کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ فرشتے انسانوں کی طرح کھانے پینے کے محتاج نہیں۔
Read the full tafseer →20: سورة ہود میں گزرچکا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ ان کو انسان سمجھ کر انکی مہمانی کے لئے بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے کر آئے تھے، لیکن انہوں نے کھانے سے پرہیز کیا جو اس علاقے کے رواج کے مطابق اس بات کی علامت تھی کہ یہ کوئی دشمن ہیں اور کسی برے ارادے سے آئے ہیں اس لئے انہیں خوف محسوس ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
آیت نمبر 51 تا 56
جب فرشتے آئے تو انہوں نے کہا تم پر سلامتی ہو ، اس کے جواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے۔ یہاں آپ نے خوف کی کوئی وجہ نہیں بتائی اور یہ تذکرہ بھی نہیں ہے کہ آپ بھنا ہوا بچھڑا لائے اور انہوں نے ہاتھ نہ بڑھایا جیسا کہ سورة ہود میں بیان یوں ہے :
فلما رای ایدیھم لا تصل الیہ نکرھم واوجس منھم خیفۃ ” مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے ، پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہوگیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا “۔ یہاں یہ تفصیلات اس لیے نہیں دی گئیں کہ وہاں مقصود قصہ یہ ہے کہ اللہ جب اپنے رسول کے ذریعے کسی قوم سے رحمتوں کا وعدہ کرتا ہے تو وہ رحمت آکر رہتی…
Read the full tafseer →12 دوسری جگہ آیا ہے " وَاَوْجَسَ مِنْہُمْ خِیْفَۃً " یعنی خوف کو دل میں چھپایا تو کہا جائے گا کہ ابتداء میں چھپانے کی کوشش کی۔ آخر ضبط نہ کرسکے، زبان سے ظاہر کردیا۔ یا یہ مطلب ہو کہ باوجود چھپانے کے خوف کے آثار چہرہ وغیرہ پر اس قدر عیاں تھے گویا کہہ رہے تھے کہ ہم کو تم سے ڈر معلوم ہوتا ہے۔ یہ ڈر کس بات کا تھا ؟ اس کی تفصیل سورة ہود میں گزر چکی وہاں ملاحظہ کی جائے۔ اور اس واقعہ کے دوسرے اجزاء پر بھی جو کلام کیا گیا ہے ضرورت ہے کہ ایک مرتبہ مراجعت کرلی جائے۔
Read the full tafseer →آیت 52 اِذْ دَخَلُوْا عَلَيْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا ۭ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُوْنَ
آپ کے اجنبی ہونے کی وجہ سے ہمیں آپ سے خدشہ ہے۔ لہٰذا بہتر ہوگا اگر آپ لوگ اپنی شناخت کروادیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
28 سیدنا ابراہیم کے مہمان فرشتے :۔ یہ مہمان فرشتے تھے جو اصل میں تو لوط (علیہ السلام) کی قوم کی طرف بھیجے جارہے تھے کہ ان کی بستی کو تباہ کر ڈالیں۔ پہلے وہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف آئے اور انھیں مہمان اس لیے کہا گیا کہ وہ اجنبی صورت میں آئے تھے وہ انھیں ایک بیٹے یعنی سیدنا اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت دینے آئے تھے۔ یہ واقعہ پہلے سورة ہود کی آیت نمبر 69 تا 74 میں بھی گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →43۔ سورة ہود (پ 12) میں اس قصہ پر حاشیے گزر چکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
آیت نمبر 45 تا 60
ترجمہ : (شرک و کفر سے) بچنے والے (متقی) باغوں اور چشموں میں ہوں گے جو باغوں میں جاری ہوں گے، ان سے کہا جائیگا ہر گھبراہٹ سے سلامتی اور امن کے ساتھ اس میں داخل ہوجاؤ، (یعنی) حال یہ کہ تم ہر خطرہ سے سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ، یا سلام کے ساتھ، یعنی سلام کرو اور داخل ہوجاؤ، ان کے دلوں میں جو تھوڑی بہت کھوٹ کپٹ ہوگئی ہم اس کو نکالدیں گے وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر مسہریوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے (اخوانا) ھم ضمیر سے ھال ہے (متقابلین) بھی اخوانا سے حال ہے یعنی کوئی کسی کی گدی (پشت) کو نہ دیکھے گا، اسلئے کہ ان کے تخت دائرہ کی شکل میں ہوں گے، نہ وہاں انھیں کسی مشقت سے پالا پڑے گا…
Read the full tafseer →اذ دخلوا علیہ فقالوا سلما قال انا منکم وجلون جب مہمان ابراہیم کے پاس آئے اور انہوں نے کہا : سلام (یعنی ہم سلام کرتے ہیں۔ سلاماً فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے) ابراہیم نے کہا : ہم تم سے خوف زدہ ہیں۔ یعنی تم بغیر اجازت کے یا بےوقت آئے ہوئے ‘ اسلئے ہم تمہاری طرف سے ڈر رہے ہیں۔ یا خوف کی وجہ یہ تھی کہ حضرت ابراہیم کی طرف سے پیش کیا ہوا طعام مہمانی مہمانوں نے کھانے سے انکار کردیا تھا (جس سے حضرت ابراہیم کو اندیشہ ہوا کہ شاید یہ دشمن ہیں) وَجِل کا معنی ہے : کسی مصیبت کے آنے کے خوف سے دل کا بےچین ہوجانا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
(51۔ 52) آپ ان کو حضرت ابراہیم ؑ کے مہمانوں کی یعنی حضرت جبریل ؑ اور ان کے ساتھ جو بارہ فرشتے اور آئے تھے ان کی اطلاع دیجیے انہوں نے حضرت ابراہیم ؑ کے پاس آکر انکو سلام کیا جب انہوں نے حضرت ابرہیم ؑ کے ہاں کھانا نہیں کھایا تو حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا ہم تم سے خوف زدہ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
اِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُوْنَ : ”وَجِلُوْنَ“ ”وَجِلَ یَوْجَلُ (س) سے ”وَجِلٌ“ (صفت مشبہ) کی جمع ہے، بمعنی ڈرنے والے۔ ڈرنے کی وجہ، مکمل واقعہ اور اس کے فوائد کے لیے دیکھیے سورة ہود (69) سے واقعہ کے آخر تک۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
آیت نمبر 51 تا 54
قولہ تعالیٰ : ونبئھم عن ضیف ابراھیم ضیف ابراہیم سے مراد وہ ملائکہ ہیں جنہوں نے آپ کو بچے کے ہونے اور قوم لوط کی ہلاکت کی بشارت دی۔ ان کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کنیت ابو الضیفان تھی، اور آپ کے محل کے چار دروازے تھے تاکہ کوئی بھی (اس میں داخل ہونے سے) رہ نہ جائے۔ اور ضیف کو ضیف کا نام آپ کی طرف اس کی اضافت اور آپ کے پاس اس کے اترنے کی وجہ سے دیا جاتا ہے۔ اور ضیف کا حکم سورة ہود میں گزر چکا ہے جو کافی ہے۔ والحمدللہ۔ اذ دخلوا علیہ خبر جمع لائی گئی ہے کیونکہ لفظ لاضیف واحد، تثنیہ، جمع اور مذکر و مونث کی مصدر کی طرح صلاحیت رکھتا ہے۔ ضافہ اور اضافہ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
1:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قالوا لاتوجل “ یعنی مت ڈر۔
2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فبم تبشرون “ سے مراد ہے کہ انہوں نے تعجب کیا اپنے بڑھاپے سے اور اپنی بیوی کے بڑھاپے سے۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے نقل کیا کہ سدی (رح) سے فرمایا (آیت ) ” من القنطین “ یعنی مایوس ہونے والوں میں سے۔
4:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے اعمش کے طریق سے یحی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” فلا تکن من القنطین “ بغیر الف کے اور اس طرح پڑھا (آیت ) ” ومن یقنط من رحمۃ ربہ “ نون کے فتحہ کے ساتھ۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان بن عیینہ (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →[اِذْ : جب ] [ دَخَلُوْا : وہ داخل ہوئے ] [ عَلَيْهِ : ان (علیہ السلام) پر ] [ فَقَالُوْا : پھر انھوں نے کہا ] [ سَلٰمًا ۭ: سلام ] [ قَالَ : (ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا ] [ انا : کہ ہم ] [ مِنْكُمْ : تم لوگوں سے ] [ وَجِلُوْنَ : خوف زدہ ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا تذکرہ، ان سے خوفزدہ ہونا اور ان کو بیٹے کی بشارت دینا
ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا ذکر ہے، یہ مہمان اللہ جل شانہٗ کے بھیجے ہوئے فرشتے تھے جو اس لیے بھیجے گئے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی بشارت دیں اور اس پر بھی مامور تھے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کردیں، اس کا مفصل تذکرہ سورة ھود (ع 7) میں گزر چکا ہے اور سورة ذاریات میں بھی مذکور ہے، اور سورة عنکبوت رکوع 4 میں بھی ہے جب یہ فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور اندر داخل ہوگئے تو انہوں نے سلام کیا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سلام کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–77
ذکر نعمائے اہل جنت
قال اللہ تعالیٰ : ان المتقین فی جنت وعیون .... الیٰ .... وان عذابی ھو العذاب الالیم۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں گنہگاروں کا اور ان کے لیے جہنم کی سزا کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں پرہیزگاروں کے ثواب اور ان کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں اور متقی وہ لوگ ہیں کہ جو بتوفیق الٰہی اور بتائید ایزدی شیطان کے اغواء اور تسلط سے محفوظ رہے اور ابلیس لعین کی تسویل و تزئین سے دنیا کی آرائش کے دلدادہ نہ بنے آخرت ہی کی فکر میں لگے رہے چناچہ فرماتے ہیں۔
تحقیق جن لوگوں نے تقویٰ اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کی اور شیطان کے اغوا اور تزئین سے بچتے رہے وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے دودھ اور شراب کے چشمے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
21:۔ یہ ابتداء سورت کے ساتھ متعلق ہے۔ ابتداء سورت میں فرمایا مسئلہ مان لو ورنہ میرا عذاب آجائے گا اور معاندین امم سابقہ کی طرح پچھتاؤ گے اب یہاں سے تخویف دنیوی کے پانچ نمونے بیان کیے جا رہے ہیں تین امم سابقہ سے اور دو مشرکین مکہ سے۔ یہ نمونہ اول کی تمہید ہے۔ ” قَالَ اِنَّا مِنْکُمْ وَجِلُوْنَ “ سے پہلے ادماج ہے یعنی فرشتوں نے آکر سلام کہا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سلام کا جواب دیا اور فوراً اٹھ کر اندر چلے گئے اور مہمانوں کے لیے بچھڑا ذبح کر کے اور تل کرلے آئے جب دیکھا کہ کھانے کے لیے وہ ہاتھ نہیں بڑھا رہے تو فرمایا ہم تو تم سے ڈر رہے ہیں الخ جیسا کہ مسلسل قصہ سورة اور ذاریات وگیرہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
(ربط آیات)
پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کی نعمت کا ذکر کیا اور اس سلسلے میں شیطان کے اغواء اور اس کی طرف سے اللہ کے حکم کی سرتابی کا ذکر کیا اس کے نتیجے میں اللہ نے اسے مردود ٹھہرایا ، پھر اس نے مہلت طلب کی تو اللہ نے قیامت تک کے لیے مہلت بھی دے دی شیطان نے قسم اٹھا کر کہا کہ وہ اللہ کے بندوں کو گمراہ کرتا رہے گا ، البتہ مخلص بندوں پر اس کا وار کارگر نہیں ہوسکے گا ، اللہ نے فرمایا یہ اخلاص ہی میرا سیدھا راستہ ہے ، میرے بندوں پر تیرا غلبہ نہیں ہوگا ، البتہ گمراہ لوگ تیری پیروی کرکے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لیں گے جو ان کے وعدے کی جگہ ہے ، پھر فرمایا جہنم کے ساتھ دروازے ہیں اور ہر دروازے…
Read the full tafseer →اِذْ دَخَلُوْا عَلَيْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا ۭ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُوْنَ 52
وجل
الوَجَل : استشعار الخوف . يقال : وَجِلَ يَوْجَلُ وَجَلًا، فهو وَجِلٌ. قال تعالی: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ [ الأنفال/ 2] ، إِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُونَ قالُوا لا تَوْجَلْ [ الحجر/ 52- 53] ، وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ [ المؤمنون/ 60] .
( و ج ل )
الوجل کے معنی دل ہی دل میں خوف محسوس کرنے کے ہیں اور یہ باب وجل یوجل کا مصدر ہے جس کے معیج ڈر نے یا گھبرا نے کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ [ الأنفال/ 2]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–60
ترکیب : بسلام حال ہے فاعل ادخلوا سے۔ ای سالمین اومسلما علیھم۔ اخوانا حال ہے ھم سے علی سرر بھی حال ہے اور متقابلین بھی۔ علٰی ان موضع حال میں ہے ای بشر تمونی کبیرا۔ تبشرون کے نون کو مکسور پڑھا ہے نون وقایہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
وَنَبِّئْھُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰھِیْمَ ۔ اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْہِ فَقَالُوْا سَلٰمًا ط قَالَ اِنَّا مِنْکُمْ وَجِلُوْنَ ۔ قَالُوْا لاَ تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ ۔ (سورۃ الحجر : 51۔ 52۔ 53)
(اور انھیں ابراہیم کے مہمانوں سے متعلق بھی آگاہ کردو۔ جب وہ آپ کے پاس آئے تو انھوں نے کہا آپ پر سلام ہو۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ہم تو آپ لوگوں سے اندیشہ ناک ہیں۔ مہمانوں نے کہا آپ کوئی اندیشہ نہ کریں، ہم آپ کو مژدہ سنانے آئے ہیں، ایک ذی علم بچے کی پیدائش کا۔ )
تاریخ کی شہادت
سابقہ دو آیتوں میں ہم نے پڑھا کہ اللہ تعالیٰ بہت مہربان ہے اور ساتھ ہی یہ بات بھی کہ اس کا عذاب، عذاب الیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ آیت میں رحمت کا بیان ہوا۔ اب اللہ کی رحمت کا عملی نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانان گرامی کے ذکر سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور عذاب کا ذکر کیا۔ یہاں رحمت کا عملی نمونہ پیش کیا جاتا ہے جس کا پس منظر یہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری دینے والے ملائکہ حاضر ہوئے۔ انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں سلام پیش کیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے معمولی توقف کے بعد ان کی خدمت میں بھنا ہوا بچھڑا پیش کیا۔ جب مہمانوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھائے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پریشان ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →52: اِذْدَخَلُوْا عَلَیْہِ فَقَالُوْا سَلٰمًا (جب کہ وہ ان کے پاس داخل ہوئے اور انہوں نے سلام کہا) یعنی ہم آپ کو سلام کہتے ہیں۔ نمبر 2۔ ہم سلام کرتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا قَالَ اِنَّا مِنْکُمْ وَجِلُوْنَ (بلاشبہ ہم تم سے ڈرتے ہیں) خوف زدہ ہیں کھانا نہ کھانے کی وجہ سے نمبر 2۔ کیونکہ وہ بلا اذن اور بےوقت داخل ہوئے۔
Read the full tafseer →(52) اذ دخلوا علیہ فقالو ا سلاما قال “ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا ” انا منکم وجلون “ ہم تم سے خوف زدہ ہیں کیونکہ ہماری طرف سے پیش کیا گیا کھانے سے تم نے انکار کردیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
51۔ 56۔ ان آیتوں میں فرمایا کہ اے رسول ان لوگوں کو خبر دے دو ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کی کہ ان مہمانوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آکر سلام کیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ مجھے تم لوگوں سے ڈر لگتا ہے یہ قصہ سورت ہود میں مفصل گزر چکا ہے کہ جب خدا کے فرشتے وہاں آئے اور سلام کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی ان کے سلام کا جواب دیا اور گھر سے ایک فربہ بچھڑا تل کر ان کی ضیافت کے واسطے لائے ان کے ہاتھ اس کھانے کی طرف جب نہیں بڑھے تو ابراہیم (علیہ السلام) خوف زدہ ہوئے مہمانوں نے کہا کہ ہم خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے قوم لوط پر عذاب لے کر چلے ہیں اور تمہیں اولاد کی خوشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
آیت 51
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (ونبءھم عن ضیف ابراہیم) ” ان کو ابراہیم کے مہمانوں کی بابت خبر دیں “ یعنی اس عجیب قصے کے بارے میں ان کو آگاہ کیجیے، کیونکہ آپ کے ان کے سامنے انبیاء کرام کے قصے اور ان کے حالات بیان کرنے سے، ان کو عبرت حاصل ہوگی اور وہ ان کی پیروی کریں گے۔۔۔ خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے خلیل ابراہیم کا قصہ، جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان کی ملت کی پیروی کریں۔ حضرت ابراہیم کے مہمانوں سے مراد وہ مکرم فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا مہمان بنا کر ان کو اعزاز بخشا۔ (اد دخلوا علیہ فقالوا سلماً ) ” جب وہ آئے…
Read the full tafseer →45۔ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں نہ مختار کل : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمان جب ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا، مگر ابراہیم (علیہ السلام) ان سے ڈر گئے، سو ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگ رہا ہے کہ آپ لوگ بھی اوپرے چوپرے ہیں۔ اور آئے بھی ہیں بےوقت اور بن پوچھے۔ اور پھر کھانا بھی نہیں کھاتے۔ پتہ نہیں کون ہیں کس لئے اور کس نیت سے آئے ہیں ؟ سو اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتا ہے نہ مختارکل۔ جیسا کہ اہل بدعت کا عقیدہ ہے۔ ورنہ ابوالانبیاء حضرت براہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کو نہ تو ان فرشتوں سے گھبرانے کی کوئی ضرورت تھی اور نہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–84
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری، قوم لوط کا ذکر بد، ثمودیوں پر عذاب
تشریح : ان تمام آیات کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی عنایت کی گئی صفات کو اعتدال، راست بازی اور خلوص و ایمان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں کام میں لانا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں بلکہ انسان کی زندگی کا عظیم مقصد ہے۔ اخلاقی فضائل کو ہم چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا حکمت، دوسرا شجاعت، تیسرا عفت چوتھا عدالت۔ جو قومیں اللہ کی دی ہوئی ان تمام قوتوں کو صحیح اور مناسب طریقہ سے استعمال میں لاتی ہیں وہی کامیاب و کامران اور اللہ کے مزید انعامات اور رضا کی حق دار ہوتی ہیں۔ اس میں چاہے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
جو لوگ تقوی اختیار کرتے ہیں اور زندگی اطاعت الہی میں بسر کرتے ہیں یقینا باغوں اور چشموں کی بہترین سرزمین میں رہیں گے ایک ایسی جگہ جہاں کا داخلہ ہی ہر طرح کے امن کی ضمانت ہے اور جہاں داخلے پر کہہ دیا جائے گا جاؤ یہاں امن وسلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ نیز اگر دنیا میں کبھی ایک دوسرے کے درمیان رنجش بھی رہی ہوگی تو اس کا طبعی اثر یا خفگی جنت میں داخلے کے وقت دور کردی جائے گی ۔
(مزاج برزخ میں وہی رہتا ہے جو دنیا میں ہو)
گویا انسانی مزاج کو موت تبدیل نہیں کرتی نہ علم کو فنا کرتی ہے لہذا برزخ میں وہی مزاج رہتا ہے جو دنیا میں رہا ہو اور محبت وناراضگی کے اثرات دل میں موجود…
Read the full tafseer →ف 5 پہلے حضرت ابراہیم نے سلام کا جواب دیا پھر مہمانداری کے لئے بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔ لیکن جب دیکھ دکھانے کیلئے ہاتھ نہیں بڑھاتے تو گھبرا کر یہ کہا جیسا کہ سورة ہود میں گزر چکا ہے۔ (قرطبی)
6 معلوم نہیں تم کون لوگ ہو اور کس نیت سے آئے ہوئے۔ دیکھئے سورة ہود۔
Read the full tafseer →(15:52) وجلون۔ صفت مشبہ۔ جمع مذکر۔ وجل واحد وجل مصدر۔ (باب سمع) خوف زدہ۔ ڈرنے والا۔ الوجل کے معنی دل ہی دل میں خوف محسوس کرنے کے ہیں۔ موجل نشیبی گڑھا۔ خوف کی جگہ۔
یہاں انا (بیشک ہم) اور وجلون جمع کے صیغے آئے ہیں۔ شاید حضرات ابراہیم (علیہ السلام) یہ خوف کی کیفیت اپنی اور اپنے اہل خانہ کی سے بتا رہے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60
ضعیف مہمان۔ وجلون (وجل) ۔ ڈرنے والے لاتوجل تو خوف نہ کر۔ تو نہ ڈر۔ نبشرک ہم خوش خبری دیتے ہیں تم کو۔ غلام علیم علم رکھنے والا لڑکا۔ الکبر بڑھاپا۔ القانطین مایوس ہونے والے۔ الضالون بہکنے والے، گمراہ ۔ ماخطب کیا اصل کام ہے ؟ المرسلون بھیجے ہوئے ۔ منجوھم ہم ان کو بچا لیں گے قدرنا ہم نے فیصلہ کرلیا۔ اندازہ کرلیا۔ الغبرین پیچھے رہ جانے والے ۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 60
اللہ تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ ہزاروں گناہوں اور مسلسل خطاؤں کے باوجود وہ کسی کو ہر خطا پر نہیں پکڑتا لیکن جب کوئی بندہ یا کوئی قوم گناہ پر گناہ اور اللہ کی نافرمانیوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ : ان آیتوں میں فرمایا کہ اے رسول اللہ کے ! ان لوگوں کو خبر دے دو ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کی کہ ان مہمانوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آکر سلام کیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ مجھے تم لوگوں سے ڈر لگتا ہے۔ یہ قصہ سورة ہود میں مفصل گزر چکا ہے کہ جب خدا کے فرشتے وہاں آئے اور سلام کیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی ان کے سلام کا جواب دیا اور گھر سے ایک فربہ بچھڑا تل کر ان کی ضیافت کے واسطے لائے ان کے ہاتھ جب اس کھانے کی طرف نہیں بڑھے تو ابراہیم (علیہ السلام) خوف زدہ ہوئے۔ مہمانوں نے کہا کہ ہم خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے قو لوط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–62
[17] دروازوں کی یہ تعداد ممکن ہے کہ استحقاق عذاب کے لحاظ سے سات طبقوں کے اظہار کے لئے ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مقصود دوزخ میں داخل ہونے والوں کی کثرت تعداد کا اظہار ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–54
خدا اصل میں غفور ورحیم ہے !
(ف 1)
ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے نہایت وضاحت سے ارشاد فرمایا ہے کہ صفات میں حقیقتا عفو ومغفرت ہے ، اللہ تعالیٰ چاہتے تو یہی ہیں کہ اس کے بندے ہمیشہ اس کے انعامات سے متمتع رہیں ، اور اس کی رحمتیں ابدا اس کے بندوں پر چھائی ہیں ، مگر جب بندے دائرہ عبودیت سے نکل جائیں ، اور اللہ کے کرم وعفو سے استفادہ نہ کریں تو پھر اس کے غضب میں جوش پیدا ہوتا ہے اور اس کا غصہ نافرمانوں پر بھڑکتا ہے ، یہ غصہ اور غضب بھی درحقیقت غفران ورحمت کا نتیجہ ہے ، جس طرح والدین ناراض ہوتے ہیں اور ان کی ناراضگی میں بھی شفقت کا ایک رنگ ہوتا ہے ، اسی طرح اللہ جو والدین سے زیادہ رحیم ہے ، جب…
Read the full tafseer →52 ۔ جس وقت وہ مہمان یعنی فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے اور ان کے گھر میں داخل ہوئے تو انہوں نے السلام علیکم کہا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو دیکھ کر فرمایا ہم کو تم سے ڈر لگتا ہے اور خوف معلوم ہوتا ہے۔ یعنی ملاقات اور کھانے وغیرہ کا انتظام کرنے اور ان کے نہ کھانے کے بعد فرمایا ہوگا ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ظاہر کچھ سبب نہ تھا پر ڈر کا ان کے پاس حکم تھا عذاب کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ولی پر اس کا اثر پڑا دل کی صفائی سے یہ ہوتا ہے۔ 12
Read the full tafseer →ف 7۔ ابراہیم (علیہ السلام) ان کو مہمان سمجھ کر فوران ان کے لئے کھانا تیار کر کے لائے، مگر چونکہ وہ فرشتے تھے انہوں نے کھانا نہیں کھایا، تب ابراہیم (علیہ السلام) دل میں ڈرے کہ یہ لوگ کھانا کیوں نہیں کھاتے، چونکہ وہ فرشتے بشکل بشر تھے اس لئے ان کو بشرہی سمجھا اور ان کے کھانا نہ کھانے سے شبہ ہوا کہ یہ لوگ کہیں مخالف نہ ہوں۔
Read the full tafseer →مہمانوں نے آپ (علیہ السلام) کو السلام عیکمل کہا لیکن آپ (علیہ السلام) ان سے ڈر گئے :
52۔ چونکہ علیک سلیک کے بعد آپ بغیر کچھ پوچھے ہی وہاں سے تشریف لے گئے اور ان کی میزبانی کیلئے کھانا تیار کرا لائے اور جب مہمانوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھایا تو اس وقت وہ مہمانوں سے ڈرے کہ یہ کی ماجرا ہے کہ وہ کھانا کیوں نہیں کھا رہے ؟ اس جگہ اختصار ہے اس لئے ان مہمان کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ ” وجلون “ جمع ہے ” وجل “ کی اور وجل اس ڈر یا خوف کو کہتے ہیں جس کا اثر دل میں محسوس ہو جس کو ہماری زبان میں کہتے ہیں کہ ” دل کانپ گیا “ یہ وہ صورت ہوتی ہے جب انسان ” ہکا بکا “ رہ جاتا ہے اور اس کے چہرہ سے اس کے اثرات ظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–71
From verse 48: لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَجِينَ (No weariness shall touch them therein nor will they be expelled from there), we learn about two features of Jannah: (1) No one shall ever feel tired or weak. This is contrary to what happens in our mortal world where hard work naturally results in fatigue. In fact, even a state of total rest and fun would sometimes tire a person out, no matter how enjoyable are things one is occupied with. (2) The other feature of Jannah we discover is that the blessings once received there shall be eternal. These blessings shall…
Read the full tafseer →31. Please compare this story of Prophet Abraham (peace be upon him) with that contained in (Surah Houd, Ayats 69- 76).
Read the full tafseer →