Explained with ayahs 45–50
جنت میں کوئی بغض و کینہ نہ رہے گا
دوزخیوں کا ذکر کر کے اب جنتیوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ باغات، نہروں اور چشموں میں ہوں گے۔ ان کو بشارت سنائی جائے گی کہ اب تم ہر آفت سے بچ گئے ہر ڈر اور گھبراہٹ سے مطمئن ہوگئے نہ نعمتوں کے زوال کا ڈر، نہ یہاں سے نکالے جانے کا خطرہ نہ فنا نہ کمی۔ اہل جنت کے دلوں میں گو دنیوں رنجشیں باقی رہ گئی ہوں مگر جنت میں جاتے ہی ایک دوسرے سے مل کر تمام گلے شکوے ختم ہوجائیں گے۔ حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی سینے بےکینہ ہوجائیں گے۔ چناچہ مرفوع حدیث میں بھی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ مومن جہنم سے نجات پا کر جنت دوزخ کے درمیان کے پل پر روک لئے جائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
سورة الْحِجْر 29
اس کی تشریح اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں حضور ﷺ نے خبر دی ہے کہ " یقال لا ھل الجنۃ ان لکم ان تصحوا ولا تمرضوا ابدًا، و ان لکم ان تعیشوا فلا تمو تو ا ابدا، و ان لکم ان تشبّوا ولا تھرموا ابدًا، و ان لکم ان تقیموا فلا تظعنو ا ابدًا۔ " یعنی ”اہل جنت سے کہہ دیا جائے گا کہ اب تم ہمیشہ تندرست رہو گے، کبھی بیمار نہ پڑو گے۔ اور اب تم ہمیشہ زندہ رہو گے، کبھی موت تم کو نہ آئے گی۔ اور اب تم ہمیشہ جوان رہو گے، کبھی بڑھاپا تم پر نہ آئے گا۔ اور اب تم ہمیشہ مقیم رہو گے، کبھی کوچ کرنے کی تمہیں ضرورت نہ ہوگی“۔ اس کی مزید تشریح ان آیات و احادیث سے ہوتی ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ جنت میں انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
(آیت) لَا يَمَسُّهُمْ فِيْهَا نَصَبٌ وَّمَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ۔ اس آیت سے جنت کی دو خصوصیات معلوم ہوئیں اول یہ کہ کسی کو کبھی تکان اور ضعف محسوس نہ ہوگا بخلاف دنیا کے کہ یہاں محنت ومشقت کے کاموں سے تو ضعف وتکان ہوتا ہی ہے خاص آرام اور تفریح سے بھی کسی نہ کسی وقت آدمی تھک جاتا ہے اور ضعف محسوس کرنے لگتا ہے خواہ وہ کتنا ہی لذیذ کام اور مشغلہ ہو
دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ جو آرام و راحت اور نعمتیں وہاں کسی کو مل جائیں گی پھر وہ دائمی ہوں گی نہ وہ نعمتیں کبھی کم ہوں گی اور نہ ان میں سے اس شخص کو نکالا جائے گا سورة ص میں ارشاد ہے (آیت) اِنَّ ھٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
تفسیر آیات 51 تا 53: وَنَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ (51)إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سَلامًا قَالَ إِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُونَ (52) قَالُوا لا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ عَلِيمٍ (53)
تاریخ کی ایک شہادت : مذکورہ بالا حقیقت کی تائید میں یہ تاریخ کی ایک شہادت پیش کی گئی ہے کہ جو فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس ایک ذی علم فرزند کی بشارت لے کر آئے وہی فرشتے قوم لوط کے لیے صاعقہ عذاب لے کر آئے۔ قَالَ إِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُونَ ، فرشتوں سے حضرت ابراہیم کا یہ ارشاد اس امر کی دلیل ہے کہ وہ اس حقیقت سے باخبر تھے کہ فرشتوں کا یوں علانیہ آنا کسی مہم ہی کے لیے ہوسکتا ہے اس وجہ سے ان کی اس آمد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
47۔ 1 دنیا میں ان کے درمیان جو آپس میں حسد اور بغض و عداوت کے جذبات رہے ہوں گے، وہ ان کے سینوں سے نکال دیئے جائیں گے اور ایک دوسرے کے بارے میں ان کے آئینے کی طرح صاف اور شفاف ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
19: مہمانوں سے مراد وہ فرشتے ہیں جو حضرت ابراہیم ؑ کے پاس بھییجے گئے تھے۔ اوپر یہ بیان کیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی وسیع ہے، اور عذاب بھی بڑا سخت ہے، لہذا ایک انسان کو نہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا چاہیے، اور نہ اس کے عذاب سے بےفکر ہو کر بیٹھنا چاہیے۔ اس مناسبت سے ان مہمانوں کا یہ واقعہ ذکر فرمایا گیا ہے، کیونکہ اس واقعے میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بھی بیان ہے کہ یہ فرشتے حجرت ابراہیم ؑ کے پاس بڑھاپے میں حضرت اسحاق ؑ جیسے بیٹے کی پیدائش کی خبر لے کر آئے، اور اللہ تعالیٰ کے سخت عذاب کا بھی ذکر ہے کہ انہی فرشتوں کے ذریعے حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل کیا گیا۔ یہ واقعہ قدرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
درس نمبر 117 تشریح آیات
49 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 84
آیت نمبر 49 تا 50
گمراہوں کے عذاب اور متبعین کی جزاء کے ذکر کے متصلاً بعد حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اس مضمون کا اعلان کردیں۔ سیاق کلام میں اس کا ربط ظاہر ہے ، یہاں اعلان رحمت اور مغفرت کو مقدم کیا گیا ہے اور اعلان سزا کا تذکرہ بعد میں کیا گیا ہے ، کیونکہ اللہ کی رضا اس میں ہے کہ لوگوں کو اس کی رحمت و مغفرت نصیب ہو ، کیونکہ اللہ نے رحمت و مغفرت کو اپنے اوپر فرض کرلیا ہے ، ہاں کبھی کبھی مضمون اور مقام کے تقاضے کے مطابق صرف عذاب کا تذکرہ ہوتا ہے یا تذکرہ تو دونوں کا ہوتا ہے لیکن سیاق کلام میں کسی مخصوص حکمت کی وجہ سے عذاب الٰہی کا تذکرہ پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
10 " مجرمین " اور " متقین " کا الگ الگ انجام بیان فرما کر یہاں تنبیہ کی ہے کہ ہر ایک صورت میں حق تعالیٰ کی کسی نہ کسی صفت و شان کا ظہور ہے۔ کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ اصل سے اپنی تمام مخلوق پر بخشش اور مہربانی کرنا چاہتا ہے اور حقیقت میں اصل مہربانی اسی کی ہے، تمام دنیا کی مہربانیاں اس کی مہربانی کا پرتو ہیں لیکن جو شخص خود شرارت و بدکاری سے مہربانی کے دروازے اپنے اوپر بند کرلے تو پھر اس کی سزا بھی ایسی سخت ہے جس کے روکنے کی کوئی تدبیر نہیں۔ سعدی نے خوب فرمایا
بتہدید گر برکشد تیغ حکم بمانند کرو بیاں صم و بکم
وگر در دہدیک صلائے کرم عزازیل گوید نصیبے برم
آگے ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں جس میں…
Read the full tafseer →آیت 50 وَاَنَّ عَذَابِيْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِيْمُ
یقینا میں غفور اور رحیم ہوں مگر دوسری طرف میرا عذاب بھی بہت سخت ہوتا ہے۔ لہٰذا کوئی شخص نڈر اور نچنت بھی نہ ہوجائے ‘ بلکہ میرے بندوں کو ہر وقت ”بین الخوف و الرجا“ کی کیفیت میں رہنا چاہیے۔ وہ میری رحمت اور مغفرت کی امید بھی رکھیں اور میرے عذاب سے ڈرتے بھی رہیں۔
Read the full tafseer →27 اللہ تعالیٰ سے امید بھی اور خوف بھی :۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی دو صفات کا اکٹھا ذکر کردیا۔ تاکہ لوگ نہ تو اللہ تعالیٰ کی بخشش پر ہی تکیہ کرکے بےخوف ہوجائیں اور گناہ کے کاموں پر دلیر ہوجائیں اور نہ ہی اللہ سے اتنا زیادہ ڈرنے لگیں کہ اس کی رحمت سے مایوس ہوجائیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے کے بعد بھی اپنے نیک اعمال پر تکیہ کرکے بےخوف نہ ہوجانا چاہیے بلکہ اپنی بعض تقصیرات کی وجہ سے اس سے ڈرتے بھی رہنا چاہیے انہی دو صفات کا اکٹھا ذکر اللہ تعالیٰ نے اور بھی بہت سے مقامات پر فرمایا ہے مثلاً مومنوں کی ایک صفت یہ بیان فرمائی۔ (يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا 16) 32 ۔ السجدة :16) اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
42۔ مومن کی شان جو حدیث میں بتائی گئی ہے کہ اس کا قلب ہمیشہ بیم ورجا، خوف وامید کے درمیان رہتا ہے، اس کی بنیاد انہی صفات الہی پر ہے۔ بندہ جب خدائے آمرزگار کی رحمت بیکراں اور مغفرت بےپایاں پر نظر کرتا ہے تو اسے ہر طرف امید ہی امید نظر آتی ہے۔ لیکن جب نظر اپنی کو تاہیوں، لغزشوں، خطاؤں کی طرف جاتی ہے، تو قلب کا خشیت الہی سے تھراجانا بھی بالکل قدرتی اور صحیح ہے۔ عبادی میں بندوں کی اضافت اللہ کی طرف ان کی انتہائی قدرومنزلت کے لئے ہے۔ اضاف العباد الی نفسہ ھذا تشریف عظیم (کبیر) اس عموم بشارت کے تحت میں مومن متقی کے ساتھ مومن عاصی بھی آجاتا ہے۔ نبی کل من کان معترفا بعبودیتی وھذا کما یدخل فیہ ال مومن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
آیت نمبر 45 تا 60
ترجمہ : (شرک و کفر سے) بچنے والے (متقی) باغوں اور چشموں میں ہوں گے جو باغوں میں جاری ہوں گے، ان سے کہا جائیگا ہر گھبراہٹ سے سلامتی اور امن کے ساتھ اس میں داخل ہوجاؤ، (یعنی) حال یہ کہ تم ہر خطرہ سے سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ، یا سلام کے ساتھ، یعنی سلام کرو اور داخل ہوجاؤ، ان کے دلوں میں جو تھوڑی بہت کھوٹ کپٹ ہوگئی ہم اس کو نکالدیں گے وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر مسہریوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے (اخوانا) ھم ضمیر سے ھال ہے (متقابلین) بھی اخوانا سے حال ہے یعنی کوئی کسی کی گدی (پشت) کو نہ دیکھے گا، اسلئے کہ ان کے تخت دائرہ کی شکل میں ہوں گے، نہ وہاں انھیں کسی مشقت سے پالا پڑے گا…
Read the full tafseer →وا اللہ عذابی ھو العذاب الالیم اور یہ بھی خبر دے دو کہ میرا عذاب بھی بڑا دردناک عذاب ہے۔
ابن مردویہ نے دوسری سند سے کسی صحابی کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ باب بنی شیبہ سے برآمد ہوئے اور فرمایا : کیا میں تم کو ہنسی میں مشغول نہیں پا رہا ہوں (یعنی تم اللہ کے عذاب کی طرف سے غافل ہو اور ہنس رہے ہو) پھر پشت پھیر کر چل دئیے ‘ پھر پچھلے قدم لوٹے اور فرمایا : میں یہاں سے نکل کر حجر (سنگ اسود) تک ہی پہنچا تھا کہ حضرت جبرئیل آگئے انہوں نے کہا : محمد ﷺ ! اللہ فرماتا ہے : میرے بندوں کو تم کیوں ناامید کرتے ہو نَبِّیءْ عِبَادِیْالخ آیت کی رفتار و ترتیب میں وعدۂ مغفرت و رحمت بھی ہے اور ووعید عذاب بھی ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
(49) آپ میرے بندوں کو خبر کردیجیے کہ میں بڑا مغفرت اور رحمت والا بھی ہوں جو کہ توبہ پر مرے اور جو توبہ نہ کرے اور کفر ہی کی حالت میں مرجائے تو اس کے لیے میری سزا بھی بڑی درد ناک ہے۔
شان نزول : (آیت) ”نبیء عبادی انی“۔ (الخ)
امام طبرانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا اپنے اصحاب کی ایک جماعت پر سے گزرہوا وہ ہنس رہے تھے، آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم ہنس رہے ہو حالانکہ تمہارے سامنے جنت دوزخ کا تذکرہ ہوچکا، اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ آپ میرے بندوں کو اطلاع دے دیجیے کہ میں بڑا مغفرت اور رحمت والا بھی ہوں اور یہ کہ میری سزا درد ناک سزا ہے۔
نیز ابن مردویہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
نَبِّئْ عِبَادِيْٓ اَنِّىْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ۔۔ : ”نَبَأٌ“ خاص اور اہمیت والی خبر کو کہتے ہیں۔ ”نَبِّئْ“ باب تفعیل سے امر ہے، یعنی یہ بات اچھی طرح بتادو ، تاکہ وہ امید بھی رکھیں اور خوف بھی، کیونکہ ایمان ان دونوں کے درمیان ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَوْ یَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللّٰہِ مِنَ الْعُقُوْبَۃِ ، مَا طَمِعَ بِجَنَّتِہِ أَحَدٌ، وَلَوْ یَعْلَمُ الْکَافِرُ مَا عِنْدَ اللّٰہِ مِنَ الرَّحْمَۃِ ، مَا قَنِطَ مِنْ جَنَّتِہِ أَحَدٌ) [ مسلم، التوبۃ، باب في سعۃ رحمۃ اللہ تعالٰی۔۔ : 2755 ] ”اگر مومن جان لے کہ اللہ کے پاس کتنی عقوبت ہے تو کوئی اس کی جنت کا طمع نہ رکھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
آیت نمبر 49 تا 50
یہ آیت حضور نبی مکرم ﷺ کے اس ارشاد کی مثل ہے : ” اگر مومن اس سزا اور عذاب کو جان لے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے تو کوئی بھی اس کی جنت کی طمع اور حرص نہ کرے اور اگر کافر اس رحمت کو جان لے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے تو کوئی اس کی رحمت سے مایوس اور ناامید نہ وہ “۔ اسے امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے نقل کیا ہے۔ اور یہ سورة فاتحہ میں گزر چکا ہے۔ اور اسی طرح انسان کو چاہئے کہ وہ اپنا اور دوسرے کا ذکر کرے پس اسے خوف بھی دلائے اور امید بھی دلائے، اور اس پر حالت مرض کے مقابلے میں حالت صحت میں خوف زیادہ اور غالب ہو۔ اور حدیث میں ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ صحابہ کرام کے پاس تشریف لائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
1:۔ ابن جریر اور ابن مردویہ نے عطاء ابن ابی رباح (رح) سے روایت کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ اس دروازے سے تشریف لائے جس سے بنو شیبہ داخل ہوتے تھے آپ نے فرمایا خبردار میں تم کو ہنستا ہوا دیکھ رہا ہوں پھر آپ پیٹھ پھیر کر چل دیئے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ حجر اسود کے پاس تھے آپ الٹے پاوں ہمارے پاس واپس تشریف لائے اور فرمایا جب میں تمہارے پاس سے گیا تو جبرئیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا محمد ﷺ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تو نے میرے بندوں کو کیوں مایوس کیا ؟ (آیت) ” نبئی عبادی انی انا الغفور الرحیم “ (49) وان عذابی ھو العذاب الالیم (50)…
Read the full tafseer →[وَان : اور یہ کہ ] [ عَذَابِيْ : میرا عذاب ] [ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِيْمُ : ہی دردناک عذاب ہے ]
(آیت۔ 50) ھُوَ الْعَذَابُ میں بھی ھُوَ ضمیر فاصل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
اہل دوزخ کے عذاب اور اہل جنت کی نعمتیں بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا (نَبِّئْ عِبَادِیْٓ اَنِّیْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ) (میرے بندوں کو بتا دیجیے کہ بلاشبہ میں غفور ہوں رحیم ہوں)
(وَ اَنَّ عَذَابِیْ ھُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ ) (اور بلاشبہ میرا عذاب وہ درد ناک عذاب ہے) صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ اوپر جنت میں جانے والے جن متقیوں کا ذکر ہے ان سے وہ لوگ مراد نہیں ہیں جو بالکل ہی گناہوں سے پاک صاف ہوں متقیوں سے بھی گناہ ہوجاتے ہیں لہٰذا اس آیت میں یہ بتادیا ہے کہ متقی تو جنت میں ہوں گے ہی مومن گناہ گار بھی جنت میں جائیں گے اگرچہ توبہ کیے بغیر ہی مرگئے ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ غفور ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–77
ذکر نعمائے اہل جنت
قال اللہ تعالیٰ : ان المتقین فی جنت وعیون .... الیٰ .... وان عذابی ھو العذاب الالیم۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں گنہگاروں کا اور ان کے لیے جہنم کی سزا کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں پرہیزگاروں کے ثواب اور ان کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں اور متقی وہ لوگ ہیں کہ جو بتوفیق الٰہی اور بتائید ایزدی شیطان کے اغواء اور تسلط سے محفوظ رہے اور ابلیس لعین کی تسویل و تزئین سے دنیا کی آرائش کے دلدادہ نہ بنے آخرت ہی کی فکر میں لگے رہے چناچہ فرماتے ہیں۔
تحقیق جن لوگوں نے تقویٰ اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کی اور شیطان کے اغوا اور تزئین سے بچتے رہے وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے دودھ اور شراب کے چشمے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
20:َ میرے بندوں کو خبردار کردو کہ وہ مایوس نہ ہوں کیونکہ میں معاف کنندہ اور مہربان ہوں لیکن انہیں یہ بھی بتا دو کہ وہ مایوس نہ ہوں اور مغفرت کے پیش نظر میری نافرمانیوں پر دلیر نہ ہوجائیں کیونکہ میں عذاب بھی دے سکتا ہوں اور میرا عذاب شدید ترین عذاب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
(ربط آیات)
پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کی نعمت کا ذکر کیا اور اس سلسلے میں شیطان کے اغواء اور اس کی طرف سے اللہ کے حکم کی سرتابی کا ذکر کیا اس کے نتیجے میں اللہ نے اسے مردود ٹھہرایا ، پھر اس نے مہلت طلب کی تو اللہ نے قیامت تک کے لیے مہلت بھی دے دی شیطان نے قسم اٹھا کر کہا کہ وہ اللہ کے بندوں کو گمراہ کرتا رہے گا ، البتہ مخلص بندوں پر اس کا وار کارگر نہیں ہوسکے گا ، اللہ نے فرمایا یہ اخلاص ہی میرا سیدھا راستہ ہے ، میرے بندوں پر تیرا غلبہ نہیں ہوگا ، البتہ گمراہ لوگ تیری پیروی کرکے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لیں گے جو ان کے وعدے کی جگہ ہے ، پھر فرمایا جہنم کے ساتھ دروازے ہیں اور ہر دروازے…
Read the full tafseer →وَاَنَّ عَذَابِيْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِيْمُ 50
عذب
والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في
العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21]
واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر،
( ع ذ ب )
العذاب
سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔
لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے
۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–60
ترکیب : بسلام حال ہے فاعل ادخلوا سے۔ ای سالمین اومسلما علیھم۔ اخوانا حال ہے ھم سے علی سرر بھی حال ہے اور متقابلین بھی۔ علٰی ان موضع حال میں ہے ای بشر تمونی کبیرا۔ تبشرون کے نون کو مکسور پڑھا ہے نون وقایہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
نَبِّیْٔ عِبَادِیْ ٓ اَنِّیْ ٓ اَنَا الْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ ۔ وَاَنَّ عَذَابِیْ ھُوَالْعَذَابُ الْاَلِیْمُ ۔
(سورۃ الحجر : 49۔ 50)
(میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت ہی بخشنے والا مہربان ہوں۔ (اور یہ بھی بتادو) کہ بیشک میرا عذاب بھی بڑا ہی دردناک ہے)
اللہ تعالیٰ کی رحیمی سے متعلق غلط فہمی کا ازالہ
قریش کو خصوصاً اور باقی نوع انسانی کو عموماً یہ بتلانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دو صفات ہیں جو برابر برابر چلتی ہیں۔ ایک اس کی صفت رحم اور دوسری صفت سزا دینا اور عذاب نازل کرنا ہے۔ وہ اپنے فرمانبردار بندوں پر ہمیشہ رحم فرماتا ہے اور جن لوگوں کی طرف اللہ تعالیٰ کا کوئی رسول ( علیہ السلام) ہدایت لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے جنتیوں کا انعام اور جہنمیوں کے انجام کا ذکر ہوا ہے۔ اب اسی کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے اپنی دو صفات کا تذکرہ فرمایا۔
متقین اور ان کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے نہایت مشفقانہ انداز میں فرمایا اے نبی ﷺ ! میرے بندوں کو فرما دیجئے کہ میں معاف کرنے والا نہایت مہربان ہوں اور انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جو میری سر کشی و نافرمانی کرے گا تو میرا عذاب بھی شدید ہوا کرتا ہے۔ بخشش اور مہربانی کا ذکر کرنے کے ساتھ شدید عذاب کا اس لیے بیان کیا ہے تاکہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی بخشش اور اس کی رحمت کو پیش نظر رکھ کر جان بوجھ کر سرکشی اور نافرمانی کا راستہ اختیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
اعلانِ بخشش :
49، 50: جب وعدے اور وعید کا مکمل ذکر کردیاتو فرمایا نَبِّیْٔ عِبَادِیْْ اَنِّیْ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ (میرے بندوں کو اطلاع دے دو کہ بیشک میں ہی بہت بڑا بخشنے والا ہوں۔۔ وَاَنَّ عَذَابِیْ ھُوَ الْعَذَابُ الْاَ لِیْمُ (اور میرا عذاب بھی بڑا دردناک ہے) جو ذکر کیا گیا اسکی پختگی دلوں میں اور بٹھانے کیلئے یہ لائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لو یعلم العبد قدر عفو اللّٰہ لما توزع عن حرام ولو یعلم قدر عذابہ لبخع نفسہ فی العبادۃ ولما اقدم علی ذنب۔ اگر بندہ اللہ تعالیٰ کی معافی کی مقدار جان لے تو حرام سے بالکل نہ بچے اور بندہ اس کے عذاب کی مقدار جان لے تو اپنے کو عبادت سے ہلاک کرڈالے…
Read the full tafseer →(50) ” وان عذابی ھو العذاب الالیم “ قتادہ ؓ نے فرمایا کہ ہم آپ ﷺ کو فرمان معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر بندہ اللہ کی مقدار عفو کو جان لیتا تو حرام سے پرہیز نہ کرتا اور اگر اللہ کی مقدار عذاب کو جان لیتا تو خوف کے مارے اس کی جان ہی نکل جاتی۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، اگر مومن بندہ کو اللہ کے عذاب کا علم ہوجاتا تو پھر جنت کی امید ہی کسی کو نہ رہتی اور اگر کافر کو اللہ کی رحمت کی مقدار معلوم ہوجاتی تو جنت سے مایوس نہ ہوتا۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ تخلیق رحمت کے دن اللہ نے سورحمتیں پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
45۔ 50۔ اللہ پاک نے دوزخ والوں کا حال بیان کر کے اہل جنت کا ذکر کیا کہ متقی لوگ جنت کے باغ اور نہروں میں ہوں گے اور صحیح وسالم وہاں رہیں گے کوئی رنج کوئی تکلیف کوئی بیماری وہاں نہیں ہوگی اور دنیا میں جنتی دو شخصوں کے درمیان شکر رنجی ہوگی وہ رنج و کدورت ان کے دلوں سے نکال دی جاوے گی اور جنت میں بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے مسندوں پر بیٹھے ہوں گے 1 ؎۔ بعض مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ یہ دس صحابہ ہیں حضرت ابوبکر ؓ حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، طلحہ، زبیر، عبد الرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، زید، عبد اللہ بن مسعود ؓ ان کے دلوں میں آپس میں جو کچھ دنیا میں ملال تھا وہ جنت میں بالکل نہیں رہے گا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
آیت 45
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں اس کے دشمنوں یعنی ابلیس کیپ یرو کاروں کو کیا سخت عذاب اور سزا دی جائے گی وہاں یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کو کس فضل عظیم اور دائمی نعمتوں سے نوازے گا۔ چناچہ فرمایا : (ان المتقین) ” بیشک پرہیز گار “ جو شیطان کی اطاعت، اس کے وسوسوں، گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے ہیں (فی جنت وعیون) ” باغتا اور چشموں میں ہوں گے “ جن میں درختوں کی تمام اقسام ہوں گی اور اس میں ہر قوت اور ہر قسم کے پکے ہوئے پھل ہوں گے۔ جنت میں داخل ہوتے وقت ان سے کہا جائے گا (ادخلوھا بسلم امنین) ” داخل ہوجاؤ اس میں سلامتی سے ہر نقصان سے محفوظ “ یعنی موت،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
43۔ خوف ورجاء دونوں کی ضرورت : پس تم میری بخشش و رحمت کی امید بھی رکھو اور ہمیشہ رکھو، اور میری پکڑ اور عذاب کا خوف بھی اور ہمیشہ کے لئے کہ ایمان خوف ورجاء ہی کے درمیان ہے۔ پس اس کی رحمت و عنایت اور بخشش پر تکیہ کرکے عمل سے لاپرواہی برتنا بھی غلط ہے اور اس کی گرفت وپکڑ اور اس کے عذاب کا پورا خوف اور ڈر بھی۔ جیسا کہ اسلاف کرام کا اسوہ تھا۔ وباللہ التوفیق۔ بہرکیف ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ سے متعلق تصور کی وضاحت فرما دی گئی کہ وہ بڑا ہی درگزر فرمانے والا انتہائی مہربان بھی ہے اور اس کا عذاب بھی بڑا ہی دردناک عذاب ہے پس نہ تو کسی کو اس کی ڈھیل سے دھوکے میں پڑنا چاہئے اور نہ کبھی اس طرح کے کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
نیکوں کے لیے خوشخبری اور بروں کے لیے ڈراوا
تشریح : ان آیات میں نیک، صالح اور متقی لوگوں کے لیے انعامات کا بیان ہے۔ متقی کی تعریف پیچھے گزر چکی ہے۔ مسلم کا مطلب ہے فرمانبردار، یعنی اسلام کے ہر حکم کی تعمیل دل و جان سے بخوشی کرنا اور یہی عبادت ہے چاہے اس حکم کا تعلق اللہ سے ہو یا بندوں سے ہو۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مکمل اسلامی زندگی گزارنے والے آدمی کا ہر کام عبادت ہے۔ کیونکہ وہ جو بھی کرتا ہے چاہے دنیاوی کام ہوں یا کہ مذہبی کام ہوں۔ مثلاً خریدو فروخت، اٹھنا، بیٹھنا، کھانا پینا، لکھنا پڑھنا، اور لوگوں سے ملنا جلنا سب کچھ عبادت میں شمار ہوتا ہے۔ کتنی مزے کی بات ہے ! عبادات، یعنی نماز، روزہ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
جو لوگ تقوی اختیار کرتے ہیں اور زندگی اطاعت الہی میں بسر کرتے ہیں یقینا باغوں اور چشموں کی بہترین سرزمین میں رہیں گے ایک ایسی جگہ جہاں کا داخلہ ہی ہر طرح کے امن کی ضمانت ہے اور جہاں داخلے پر کہہ دیا جائے گا جاؤ یہاں امن وسلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ نیز اگر دنیا میں کبھی ایک دوسرے کے درمیان رنجش بھی رہی ہوگی تو اس کا طبعی اثر یا خفگی جنت میں داخلے کے وقت دور کردی جائے گی ۔
(مزاج برزخ میں وہی رہتا ہے جو دنیا میں ہو)
گویا انسانی مزاج کو موت تبدیل نہیں کرتی نہ علم کو فنا کرتی ہے لہذا برزخ میں وہی مزاج رہتا ہے جو دنیا میں رہا ہو اور محبت وناراضگی کے اثرات دل میں موجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
ف 3 لہٰذا نہیں چاہیے کہ نہ خدا کی رحمت سے مایوس ہوں اور نہ اتنے دلیر کہ اس کے عذاب کا کوئی ڈرا ان کے دلوں میں نہ ہو۔ یہی رجاء و خوف کا وہ مقام ہے جس کی قرآن و حدیث میں متعدد مواضع پر تلقین کی گی ہے۔ حدیث میں ہے : اگر بندے کو یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کی قدر عفو و درگزر کرنے والا ہے تو وہ کبھی گناہ سے پرہیز نہ کرے اور اگر اسے معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب کس قدر سخت ہے تو (آہ و بکا سے) اپنے آپ کو بلاک کر ڈالے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
(15:49) نبیء امر واحد مذکر حاضر۔ تنبئۃ (تفعیل) سے۔ تو آگاہ کر دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 50
عیون (عین) چشمے۔
ادخلوا تم داخل ہوجاؤ سلام سلامتی، امن و سکون۔ نزعنا ہم نے کھینچ نکالا۔ غل باہمی رنجش، ناراضگی، کینہ۔ سرر (سریر) ، تخت ، بیٹھنے کی اونچی جگہ۔ متقابلین ایک دوسرے کے سامنے۔ نصب بےسکونی، محنت و مشقت، تکلیف۔ نبئی بتا دے، ، خبردار کر دے۔
تشریح : آیت نمبر 45 تا 50
حضرت آدم کی پیدائش، ان کا جنت میں قیام اور شیطان کی نافرمانی کے بعد جب شیطان نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کی مہلت مانگی اور وہ مہلت دیدی گئی اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ جو لوگ تقویٰ اور پرہیزگاری کی زندگی اختیار کریں گے ان کی جنت کی دائمی راحتیں عطا کی جائیں گی۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
دوزخ وجنت کا ذکر
اللہ تعالیٰ نے دوزخ والوں کا حال بیان کر کے اہل جنت کا ذکر کیا کہ متقی لوگ جنت کے باغ اور نہروں میں ہوں گے اور صحیح وسالم رہیں گے۔ کوئی رنج و تکلیف اور کوئی بیماری وہاں نہیں ہوگی اور دنیا میں جتنی دو شخصوں کے درمیان شکر رنجی ہوگی وہ رنج کدورت ان کے دلوں سے نکال دی جاوے گی، اور جنت میں بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے مسندوں پر بیٹھے ہوں گے۔ جنت میں کسی قسم کی مشقست وغیرہ نہ ہوگی اور نہ لوگ وہاں سے نکلیں گے بلکہ آرام کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا کہ میرے بندوں کو یہ خبر دے دو کہ میں رحمت والا بھی ہوں اور میرا عذاب بھی سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–62
[17] دروازوں کی یہ تعداد ممکن ہے کہ استحقاق عذاب کے لحاظ سے سات طبقوں کے اظہار کے لئے ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مقصود دوزخ میں داخل ہونے والوں کی کثرت تعداد کا اظہار ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–54
خدا اصل میں غفور ورحیم ہے !
(ف 1)
ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے نہایت وضاحت سے ارشاد فرمایا ہے کہ صفات میں حقیقتا عفو ومغفرت ہے ، اللہ تعالیٰ چاہتے تو یہی ہیں کہ اس کے بندے ہمیشہ اس کے انعامات سے متمتع رہیں ، اور اس کی رحمتیں ابدا اس کے بندوں پر چھائی ہیں ، مگر جب بندے دائرہ عبودیت سے نکل جائیں ، اور اللہ کے کرم وعفو سے استفادہ نہ کریں تو پھر اس کے غضب میں جوش پیدا ہوتا ہے اور اس کا غصہ نافرمانوں پر بھڑکتا ہے ، یہ غصہ اور غضب بھی درحقیقت غفران ورحمت کا نتیجہ ہے ، جس طرح والدین ناراض ہوتے ہیں اور ان کی ناراضگی میں بھی شفقت کا ایک رنگ ہوتا ہے ، اسی طرح اللہ جو والدین سے زیادہ رحیم ہے ، جب…
Read the full tafseer →50 ۔ اور یہ بھی خبر دے دیجئے کہ میرا عذاب بھی درد ناک ہے ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اگلا قصہ فرمایا کہ ایک بار فرشتے اتارے ایک جا خوشخبری دینے اور ایک پر پتھر برسانے تا کہ معلوم ہوا کہ اس کی صفتیں پوری ہیں بندے نہ دلیر ہوں نہ آس توڑیں ۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
ف 6۔ تاکہ اس سے مطلع ہو کر ایمان اور تقوی کی رغبت اور کفرو معصیت سے رہبت ہو۔
Read the full tafseer →میرے بندوں کو یہ بھی بتا دو کہ بلاشبہ میرا عذاب بھی بڑا دردناک ہے :
50۔ آخرت میں جزاوسزا تمام تر تمثیل ہوگی اور اس تمثیل کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ جیسا عمل ہوگا اس کے مناسب ومشابہ اس کی جزا وسزا ہوگی مثلا قرآن کریم میں ہے کہ جو لوگ زکوۃ ادا نہیں کرتے یعنی اپنے مال کا میل کچیل مستحقین کو کھانے کیلئے نہ دے گا تو اس کو دوزخ میں زخموں کا دھو ون کھانے کو ملے گا اور ” لترتھوہر “ اس کی خوراک ہوگی ، وہ دولت مند جس کی دھوپ کی تپش سے بچنے کیلئے قصر ومحل اور پینے کیلئے ٹھنڈے سے ٹھنڈا پانی اور عزت کی جگہ عنایت کی گئی تھی اگر اس نے دنیا میں ان نعمتوں کے ملنے کا حق اس دنیا میں ادا نہ کیا تو دوسری دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–71
From verse 48: لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَجِينَ (No weariness shall touch them therein nor will they be expelled from there), we learn about two features of Jannah: (1) No one shall ever feel tired or weak. This is contrary to what happens in our mortal world where hard work naturally results in fatigue. In fact, even a state of total rest and fun would sometimes tire a person out, no matter how enjoyable are things one is occupied with. (2) The other feature of Jannah we discover is that the blessings once received there shall be eternal. These blessings shall…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
29. This verse is explained by the following tradition: It will be announced to the dwellers of the Gardens: Now you will remain hale and hearty forever and shall never fall ill, now you will enjoy eternal life and shall never die, now you will remain young forever and never grow old, and now you will remain forever in Paradise and shall never have to move away from it. There are other traditions that further elucidate life in Paradise to this effect: The dwellers shall have no toil to perform for their livelihood and necessities of life. They will get everything without any labor whatsoever.
Read the full tafseer →