Al-Hijr 15:49

Al-Hijr · from ayah 49

15:49

نَبِّئْ عِبَادِیْۤ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ۟ۙنَبِّئۡ عِبَادِىۡۤ اَنِّىۡۤ اَنَا الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُۙ

(اے پیغمبر) میرے بندوں کو بتادو کہ میں بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

[O Muhammad], inform My servants that it is I who am the Forgiving, the Merciful.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:49

اے نبیؐ، میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت درگزر کرنے والا اور رحیم ہوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے پیغمبر) میرے بندوں کو بتادو کہ میں بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت ہی بخشنے واﻻ اور بڑا ہی مہربان ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

میرے بندوں کو بتادو کہ میں ہی بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

خبردو (۵۴) میرے بندوں کو کہ بیشک میں ہی ہوں بخشے والا مہربان،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے حبیب!) آپ میرے بندوں کو بتا دیجئے کہ میں ہی بیشک بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

میرے بندوں کو خبر دے دے کہ بیشک میں ہی بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اے نبی) ! میرے بندوں کو خبر دے دیجئے کہ میں معاف کردینے والا اور رحم کرنے والا ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

میرے بندوں کو آگاہ کردو کہ بیشک میں بڑا ہی بخشنے والا مہربان ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

خبر کردو (اے پیغمبر !) میرے بندوں کو، کہ بیشک میں بڑا ہی درگزر کرنے والا، انتہائی مہربان ہوں،

— مولانا اسحاق مدنی

اس کے اندر ان کو کوئی تکلیف چھوئے گی ہی نہیں اور نہ وہ اس میں سے (کبھی) نکالے جائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی !) میرے بندوں کو بتا دیجئے کہ میں یقیناً بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہوں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(اے پیغمبر ﷺ !) میرے بندوں کو بتا دو کہ میں بڑا بخشنے والا اور مہربان ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Prophet), declare to My servants that I am indeed Ever Forgiving, Most Merciful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Tell My servants that I am the Most-Forgiving, the Very-Merciful

— Muhammad Taqi Usmani

Tell My servants that I am the Most-Forgiving, the Very-Merciful

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Declare to My servants that I am truly the Forgiving, the Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Announce, (O Muhammad) unto My slaves that verily I am the Forgiving, the Merciful,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[O Muhammad], inform My servants that it is I who am the Forgiving, the Merciful.

— Saheeh International

(Muhammad), tell My servants that I am All-forgiving and All-merciful

— Muhammad Sarwar

Inform My servants that I am the Forgiving, the Merciful,

— Muhammad Habib Shakir

Declare thou unto My bondmen: verily I! I am the Forgiver, the Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

Tell My servants that I am indeed the Oft-forgiving, Most Merciful;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:49

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 45–50

جنت میں کوئی بغض و کینہ نہ رہے گا دوزخیوں کا ذکر کر کے اب جنتیوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ باغات، نہروں اور چشموں میں ہوں گے۔ ان کو بشارت سنائی جائے گی کہ اب تم ہر آفت سے بچ گئے ہر ڈر اور گھبراہٹ سے مطمئن ہوگئے نہ نعمتوں کے زوال کا ڈر، نہ یہاں سے نکالے جانے کا خطرہ نہ فنا نہ کمی۔ اہل جنت کے دلوں میں گو دنیوں رنجشیں باقی رہ گئی ہوں مگر جنت میں جاتے ہی ایک دوسرے سے مل کر تمام گلے شکوے ختم ہوجائیں گے۔ حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی سینے بےکینہ ہوجائیں گے۔ چناچہ مرفوع حدیث میں بھی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ مومن جہنم سے نجات پا کر جنت دوزخ کے درمیان کے پل پر روک لئے جائیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 48–50

سورة الْحِجْر 29 اس کی تشریح اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں حضور ﷺ نے خبر دی ہے کہ " یقال لا ھل الجنۃ ان لکم ان تصحوا ولا تمرضوا ابدًا، و ان لکم ان تعیشوا فلا تمو تو ا ابدا، و ان لکم ان تشبّوا ولا تھرموا ابدًا، و ان لکم ان تقیموا فلا تظعنو ا ابدًا۔ " یعنی ”اہل جنت سے کہہ دیا جائے گا کہ اب تم ہمیشہ تندرست رہو گے، کبھی بیمار نہ پڑو گے۔ اور اب تم ہمیشہ زندہ رہو گے، کبھی موت تم کو نہ آئے گی۔ اور اب تم ہمیشہ جوان رہو گے، کبھی بڑھاپا تم پر نہ آئے گا۔ اور اب تم ہمیشہ مقیم رہو گے، کبھی کوچ کرنے کی تمہیں ضرورت نہ ہوگی“۔ اس کی مزید تشریح ان آیات و احادیث سے ہوتی ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ جنت میں انسان کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–50

(آیت) لَا يَمَسُّهُمْ فِيْهَا نَصَبٌ وَّمَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ۔ اس آیت سے جنت کی دو خصوصیات معلوم ہوئیں اول یہ کہ کسی کو کبھی تکان اور ضعف محسوس نہ ہوگا بخلاف دنیا کے کہ یہاں محنت ومشقت کے کاموں سے تو ضعف وتکان ہوتا ہی ہے خاص آرام اور تفریح سے بھی کسی نہ کسی وقت آدمی تھک جاتا ہے اور ضعف محسوس کرنے لگتا ہے خواہ وہ کتنا ہی لذیذ کام اور مشغلہ ہو دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ جو آرام و راحت اور نعمتیں وہاں کسی کو مل جائیں گی پھر وہ دائمی ہوں گی نہ وہ نعمتیں کبھی کم ہوں گی اور نہ ان میں سے اس شخص کو نکالا جائے گا سورة ص میں ارشاد ہے (آیت) اِنَّ ھٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍ یعنی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون۔ آیات 49 تا 79: قریش کے مغروروں کو تنبیہ : آگے پہلے تو ایک مختصر تمہید ہے جس میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ خدا کی ڈھیل سے کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے۔ وہ بڑا غفور و رحیم بھی ہے اور بڑا منتقم وقہار بھی۔ پھر قریش کے ان مغروروں کو جو پیغمبر ﷺ فرشتوں کو دکھانے کا مطالبہ کررہے تھے۔ متنبہ کیا گیا ہے کہ فرشتوں کا آنا کوئی آسان بازی نہیں ہے۔ وہ جب آتے ہیں تو کسی مہم ہی پر آتے ہیں۔ اس حقیقت کو تاریخ کی روشنی میں واضح کرنے کے لیے قوم لوط کی سرگزشت سنائی گئی ہے جن کی بستیوں پر سے قریش کو اپنے تجارتی سفروں میں آئے دن گزرنے کے مواقع ملتے تھے اس سرگزشت کو سنانے سے مقصود قریش کو آگاہ کرنا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 47–51

47۔ 1 دنیا میں ان کے درمیان جو آپس میں حسد اور بغض و عداوت کے جذبات رہے ہوں گے، وہ ان کے سینوں سے نکال دیئے جائیں گے اور ایک دوسرے کے بارے میں ان کے آئینے کی طرح صاف اور شفاف ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 48–51

19: مہمانوں سے مراد وہ فرشتے ہیں جو حضرت ابراہیم ؑ کے پاس بھییجے گئے تھے۔ اوپر یہ بیان کیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی وسیع ہے، اور عذاب بھی بڑا سخت ہے، لہذا ایک انسان کو نہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا چاہیے، اور نہ اس کے عذاب سے بےفکر ہو کر بیٹھنا چاہیے۔ اس مناسبت سے ان مہمانوں کا یہ واقعہ ذکر فرمایا گیا ہے، کیونکہ اس واقعے میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بھی بیان ہے کہ یہ فرشتے حجرت ابراہیم ؑ کے پاس بڑھاپے میں حضرت اسحاق ؑ جیسے بیٹے کی پیدائش کی خبر لے کر آئے، اور اللہ تعالیٰ کے سخت عذاب کا بھی ذکر ہے کہ انہی فرشتوں کے ذریعے حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل کیا گیا۔ یہ واقعہ قدرے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 49–50

درس نمبر 117 تشریح آیات 49 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 84 آیت نمبر 49 تا 50 گمراہوں کے عذاب اور متبعین کی جزاء کے ذکر کے متصلاً بعد حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اس مضمون کا اعلان کردیں۔ سیاق کلام میں اس کا ربط ظاہر ہے ، یہاں اعلان رحمت اور مغفرت کو مقدم کیا گیا ہے اور اعلان سزا کا تذکرہ بعد میں کیا گیا ہے ، کیونکہ اللہ کی رضا اس میں ہے کہ لوگوں کو اس کی رحمت و مغفرت نصیب ہو ، کیونکہ اللہ نے رحمت و مغفرت کو اپنے اوپر فرض کرلیا ہے ، ہاں کبھی کبھی مضمون اور مقام کے تقاضے کے مطابق صرف عذاب کا تذکرہ ہوتا ہے یا تذکرہ تو دونوں کا ہوتا ہے لیکن سیاق کلام میں کسی مخصوص حکمت کی وجہ سے عذاب الٰہی کا تذکرہ پہلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 49–50

10 " مجرمین " اور " متقین " کا الگ الگ انجام بیان فرما کر یہاں تنبیہ کی ہے کہ ہر ایک صورت میں حق تعالیٰ کی کسی نہ کسی صفت و شان کا ظہور ہے۔ کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ اصل سے اپنی تمام مخلوق پر بخشش اور مہربانی کرنا چاہتا ہے اور حقیقت میں اصل مہربانی اسی کی ہے، تمام دنیا کی مہربانیاں اس کی مہربانی کا پرتو ہیں لیکن جو شخص خود شرارت و بدکاری سے مہربانی کے دروازے اپنے اوپر بند کرلے تو پھر اس کی سزا بھی ایسی سخت ہے جس کے روکنے کی کوئی تدبیر نہیں۔ سعدی نے خوب فرمایا بتہدید گر برکشد تیغ حکم بمانند کرو بیاں صم و بکم وگر در دہدیک صلائے کرم عزازیل گوید نصیبے برم آگے ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں جس میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 48–49

آیت 48 لَا يَمَسُّهُمْ فِيْهَا نَصَبٌ وَّمَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ اہل جنت کو جنت میں داخل ہونے کے بعد وہاں سے نکالے جانے کا کھٹکا نہیں ہوگا اور نہ ہی اس میں انہیں کسی قسم کی کوئی تکلیف یا پریشانی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 48–49

26 یعنی دنیوی زندگی کی طرح اپنا پیٹ پالنے کے لیے وہاں کچھ محنت و مشقت نہیں کرنی پڑے گی۔ ہر مطلوبہ چیز طلب کرنے پر فوراً حاضر کردی جائے گی۔ انھیں ان چیزوں کے حصول کے لیے نقل مکانی کی بھی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ اور ان کے لیے یہ سب نعمتیں دائمی ہوں گی اور ان کی زندگی بھی دائمی زندگی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

41۔ اس میں یہ بتایا کہ جنت کی نعمتیں صرف کامل واکمل ہی نہ ہوں گی بلکہ دائم وقائم بھی۔ اس عالم ناسوت میں مداومت عیش کا ایک ضمیمہ تعب یا خستگی بھی ہے۔ عیش جنت کے لئے تصریح سے بتا دیا گیا کہ وہاں دوام کے باوجود تکان مطلق نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–60

آیت نمبر 45 تا 60 ترجمہ : (شرک و کفر سے) بچنے والے (متقی) باغوں اور چشموں میں ہوں گے جو باغوں میں جاری ہوں گے، ان سے کہا جائیگا ہر گھبراہٹ سے سلامتی اور امن کے ساتھ اس میں داخل ہوجاؤ، (یعنی) حال یہ کہ تم ہر خطرہ سے سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ، یا سلام کے ساتھ، یعنی سلام کرو اور داخل ہوجاؤ، ان کے دلوں میں جو تھوڑی بہت کھوٹ کپٹ ہوگئی ہم اس کو نکالدیں گے وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر مسہریوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے (اخوانا) ھم ضمیر سے ھال ہے (متقابلین) بھی اخوانا سے حال ہے یعنی کوئی کسی کی گدی (پشت) کو نہ دیکھے گا، اسلئے کہ ان کے تخت دائرہ کی شکل میں ہوں گے، نہ وہاں انھیں کسی مشقت سے پالا پڑے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

نبیء عبادی انی انا الغفور الرحیم : (اے نبی ! ) میرے بندوں کو اطلاع دے دو کہ بلاشبہ میں ہی بہت بڑا بخشنے والا ‘ مہربان ہوں

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 49–50

(49) آپ میرے بندوں کو خبر کردیجیے کہ میں بڑا مغفرت اور رحمت والا بھی ہوں جو کہ توبہ پر مرے اور جو توبہ نہ کرے اور کفر ہی کی حالت میں مرجائے تو اس کے لیے میری سزا بھی بڑی درد ناک ہے۔ شان نزول : (آیت) ”نبیء عبادی انی“۔ (الخ) امام طبرانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا اپنے اصحاب کی ایک جماعت پر سے گزرہوا وہ ہنس رہے تھے، آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم ہنس رہے ہو حالانکہ تمہارے سامنے جنت دوزخ کا تذکرہ ہوچکا، اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ آپ میرے بندوں کو اطلاع دے دیجیے کہ میں بڑا مغفرت اور رحمت والا بھی ہوں اور یہ کہ میری سزا درد ناک سزا ہے۔ نیز ابن مردویہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 49–50

نَبِّئْ عِبَادِيْٓ اَنِّىْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ۔۔ : ”نَبَأٌ“ خاص اور اہمیت والی خبر کو کہتے ہیں۔ ”نَبِّئْ“ باب تفعیل سے امر ہے، یعنی یہ بات اچھی طرح بتادو ، تاکہ وہ امید بھی رکھیں اور خوف بھی، کیونکہ ایمان ان دونوں کے درمیان ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَوْ یَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللّٰہِ مِنَ الْعُقُوْبَۃِ ، مَا طَمِعَ بِجَنَّتِہِ أَحَدٌ، وَلَوْ یَعْلَمُ الْکَافِرُ مَا عِنْدَ اللّٰہِ مِنَ الرَّحْمَۃِ ، مَا قَنِطَ مِنْ جَنَّتِہِ أَحَدٌ) [ مسلم، التوبۃ، باب في سعۃ رحمۃ اللہ تعالٰی۔۔ : 2755 ] ”اگر مومن جان لے کہ اللہ کے پاس کتنی عقوبت ہے تو کوئی اس کی جنت کا طمع نہ رکھے اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 49–50

آیت نمبر 49 تا 50 یہ آیت حضور نبی مکرم ﷺ کے اس ارشاد کی مثل ہے : ” اگر مومن اس سزا اور عذاب کو جان لے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے تو کوئی بھی اس کی جنت کی طمع اور حرص نہ کرے اور اگر کافر اس رحمت کو جان لے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے تو کوئی اس کی رحمت سے مایوس اور ناامید نہ وہ “۔ اسے امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے نقل کیا ہے۔ اور یہ سورة فاتحہ میں گزر چکا ہے۔ اور اسی طرح انسان کو چاہئے کہ وہ اپنا اور دوسرے کا ذکر کرے پس اسے خوف بھی دلائے اور امید بھی دلائے، اور اس پر حالت مرض کے مقابلے میں حالت صحت میں خوف زیادہ اور غالب ہو۔ اور حدیث میں ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ صحابہ کرام کے پاس تشریف لائے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 49–50

1:۔ ابن جریر اور ابن مردویہ نے عطاء ابن ابی رباح (رح) سے روایت کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ اس دروازے سے تشریف لائے جس سے بنو شیبہ داخل ہوتے تھے آپ نے فرمایا خبردار میں تم کو ہنستا ہوا دیکھ رہا ہوں پھر آپ پیٹھ پھیر کر چل دیئے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ حجر اسود کے پاس تھے آپ الٹے پاوں ہمارے پاس واپس تشریف لائے اور فرمایا جب میں تمہارے پاس سے گیا تو جبرئیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا محمد ﷺ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تو نے میرے بندوں کو کیوں مایوس کیا ؟ (آیت) ” نبئی عبادی انی انا الغفور الرحیم “ (49) وان عذابی ھو العذاب الالیم (50)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[نَبِئْ : آپ ﷺ خبر دیں ] [ عِبَادِيْٓ: میرے بندوں کو ] [ انىٓ: کہ میں ] [ انا الْغَفُوْرُ : ہی بےانتہا بخشنے والا ہوں ] [ الرَّحِيْمُ : ہر حال میں رحم کرنے والا ہوں ] (آیت۔ 49) اَنَا الْغَفُوْرُ میں اَنَا ضمیر فاصل ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 49–50

اہل دوزخ کے عذاب اور اہل جنت کی نعمتیں بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا (نَبِّئْ عِبَادِیْٓ اَنِّیْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ) (میرے بندوں کو بتا دیجیے کہ بلاشبہ میں غفور ہوں رحیم ہوں) (وَ اَنَّ عَذَابِیْ ھُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ ) (اور بلاشبہ میرا عذاب وہ درد ناک عذاب ہے) صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ اوپر جنت میں جانے والے جن متقیوں کا ذکر ہے ان سے وہ لوگ مراد نہیں ہیں جو بالکل ہی گناہوں سے پاک صاف ہوں متقیوں سے بھی گناہ ہوجاتے ہیں لہٰذا اس آیت میں یہ بتادیا ہے کہ متقی تو جنت میں ہوں گے ہی مومن گناہ گار بھی جنت میں جائیں گے اگرچہ توبہ کیے بغیر ہی مرگئے ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ غفور ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–77

ذکر نعمائے اہل جنت قال اللہ تعالیٰ : ان المتقین فی جنت وعیون .... الیٰ .... وان عذابی ھو العذاب الالیم۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں گنہگاروں کا اور ان کے لیے جہنم کی سزا کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں پرہیزگاروں کے ثواب اور ان کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں اور متقی وہ لوگ ہیں کہ جو بتوفیق الٰہی اور بتائید ایزدی شیطان کے اغواء اور تسلط سے محفوظ رہے اور ابلیس لعین کی تسویل و تزئین سے دنیا کی آرائش کے دلدادہ نہ بنے آخرت ہی کی فکر میں لگے رہے چناچہ فرماتے ہیں۔ تحقیق جن لوگوں نے تقویٰ اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کی اور شیطان کے اغوا اور تزئین سے بچتے رہے وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے دودھ اور شراب کے چشمے ان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 49–50

20:َ میرے بندوں کو خبردار کردو کہ وہ مایوس نہ ہوں کیونکہ میں معاف کنندہ اور مہربان ہوں لیکن انہیں یہ بھی بتا دو کہ وہ مایوس نہ ہوں اور مغفرت کے پیش نظر میری نافرمانیوں پر دلیر نہ ہوجائیں کیونکہ میں عذاب بھی دے سکتا ہوں اور میرا عذاب شدید ترین عذاب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 45–60

(ربط آیات) پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کی نعمت کا ذکر کیا اور اس سلسلے میں شیطان کے اغواء اور اس کی طرف سے اللہ کے حکم کی سرتابی کا ذکر کیا اس کے نتیجے میں اللہ نے اسے مردود ٹھہرایا ، پھر اس نے مہلت طلب کی تو اللہ نے قیامت تک کے لیے مہلت بھی دے دی شیطان نے قسم اٹھا کر کہا کہ وہ اللہ کے بندوں کو گمراہ کرتا رہے گا ، البتہ مخلص بندوں پر اس کا وار کارگر نہیں ہوسکے گا ، اللہ نے فرمایا یہ اخلاص ہی میرا سیدھا راستہ ہے ، میرے بندوں پر تیرا غلبہ نہیں ہوگا ، البتہ گمراہ لوگ تیری پیروی کرکے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لیں گے جو ان کے وعدے کی جگہ ہے ، پھر فرمایا جہنم کے ساتھ دروازے ہیں اور ہر دروازے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

نَبِّئْ عِبَادِيْٓ اَنِّىْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ 49؀ۙ نبأ خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ، ( ن ب ء ) النبا ء کے معنی خیر مفید کے ہیں جو علم یا غلبہ ظن کا فائدہ دے اور حقیقی منعی کے لحاظ سے کسی خبر تک اس میں تین چیزیں موجود نہ ہوں ۔ یعنی نہایت مفید ہونا اور اس سے علم یا غلبہ ظن کا حاصل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 46–60

ترکیب : بسلام حال ہے فاعل ادخلوا سے۔ ای سالمین اومسلما علیھم۔ اخوانا حال ہے ھم سے علی سرر بھی حال ہے اور متقابلین بھی۔ علٰی ان موضع حال میں ہے ای بشر تمونی کبیرا۔ تبشرون کے نون کو مکسور پڑھا ہے نون وقایہ ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 49–50

نَبِّیْٔ عِبَادِیْ ٓ اَنِّیْ ٓ اَنَا الْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ ۔ وَاَنَّ عَذَابِیْ ھُوَالْعَذَابُ الْاَلِیْمُ ۔ (سورۃ الحجر : 49۔ 50) (میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت ہی بخشنے والا مہربان ہوں۔ (اور یہ بھی بتادو) کہ بیشک میرا عذاب بھی بڑا ہی دردناک ہے) اللہ تعالیٰ کی رحیمی سے متعلق غلط فہمی کا ازالہ قریش کو خصوصاً اور باقی نوع انسانی کو عموماً یہ بتلانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دو صفات ہیں جو برابر برابر چلتی ہیں۔ ایک اس کی صفت رحم اور دوسری صفت سزا دینا اور عذاب نازل کرنا ہے۔ وہ اپنے فرمانبردار بندوں پر ہمیشہ رحم فرماتا ہے اور جن لوگوں کی طرف اللہ تعالیٰ کا کوئی رسول ( علیہ السلام) ہدایت لے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 49–50

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے جنتیوں کا انعام اور جہنمیوں کے انجام کا ذکر ہوا ہے۔ اب اسی کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے اپنی دو صفات کا تذکرہ فرمایا۔ متقین اور ان کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے نہایت مشفقانہ انداز میں فرمایا اے نبی ﷺ ! میرے بندوں کو فرما دیجئے کہ میں معاف کرنے والا نہایت مہربان ہوں اور انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جو میری سر کشی و نافرمانی کرے گا تو میرا عذاب بھی شدید ہوا کرتا ہے۔ بخشش اور مہربانی کا ذکر کرنے کے ساتھ شدید عذاب کا اس لیے بیان کیا ہے تاکہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی بخشش اور اس کی رحمت کو پیش نظر رکھ کر جان بوجھ کر سرکشی اور نافرمانی کا راستہ اختیار…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 49–50

اعلانِ بخشش : 49، 50: جب وعدے اور وعید کا مکمل ذکر کردیاتو فرمایا نَبِّیْٔ عِبَادِیْْ اَنِّیْ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ (میرے بندوں کو اطلاع دے دو کہ بیشک میں ہی بہت بڑا بخشنے والا ہوں۔۔ وَاَنَّ عَذَابِیْ ھُوَ الْعَذَابُ الْاَ لِیْمُ (اور میرا عذاب بھی بڑا دردناک ہے) جو ذکر کیا گیا اسکی پختگی دلوں میں اور بٹھانے کیلئے یہ لائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لو یعلم العبد قدر عفو اللّٰہ لما توزع عن حرام ولو یعلم قدر عذابہ لبخع نفسہ فی العبادۃ ولما اقدم علی ذنب۔ اگر بندہ اللہ تعالیٰ کی معافی کی مقدار جان لے تو حرام سے بالکل نہ بچے اور بندہ اس کے عذاب کی مقدار جان لے تو اپنے کو عبادت سے ہلاک کرڈالے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

آیت نبی عبادی کا شان نزول (49) نبی عبادی انی انا الغفور الرحیم “ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ توبہ کریں گے۔ روایت میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ ایک دن صحابہ کرام ؓ کی جماعت کے پاس تشریف لائے۔ صحابہ کرام ؓ کو ہنستے دیکھ کر ارشاد فرمایا، دوزخ تم لوگوں کے سامنے ہے، پھر بھی ہنس رہے ہو، فوراً حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نازل ہوگئے اور فرمایا محمد (ﷺ) آپ کا رب فرماتا ہے کہ تم کیوں میرے بندوں کو میری رحمت سے نا امید کرتے ہو، اس پر آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 45–50

45۔ 50۔ اللہ پاک نے دوزخ والوں کا حال بیان کر کے اہل جنت کا ذکر کیا کہ متقی لوگ جنت کے باغ اور نہروں میں ہوں گے اور صحیح وسالم وہاں رہیں گے کوئی رنج کوئی تکلیف کوئی بیماری وہاں نہیں ہوگی اور دنیا میں جنتی دو شخصوں کے درمیان شکر رنجی ہوگی وہ رنج و کدورت ان کے دلوں سے نکال دی جاوے گی اور جنت میں بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے مسندوں پر بیٹھے ہوں گے 1 ؎۔ بعض مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ یہ دس صحابہ ہیں حضرت ابوبکر ؓ حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، طلحہ، زبیر، عبد الرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، زید، عبد اللہ بن مسعود ؓ ان کے دلوں میں آپس میں جو کچھ دنیا میں ملال تھا وہ جنت میں بالکل نہیں رہے گا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 45–50

آیت 45 اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں اس کے دشمنوں یعنی ابلیس کیپ یرو کاروں کو کیا سخت عذاب اور سزا دی جائے گی وہاں یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کو کس فضل عظیم اور دائمی نعمتوں سے نوازے گا۔ چناچہ فرمایا : (ان المتقین) ” بیشک پرہیز گار “ جو شیطان کی اطاعت، اس کے وسوسوں، گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے ہیں (فی جنت وعیون) ” باغتا اور چشموں میں ہوں گے “ جن میں درختوں کی تمام اقسام ہوں گی اور اس میں ہر قوت اور ہر قسم کے پکے ہوئے پھل ہوں گے۔ جنت میں داخل ہوتے وقت ان سے کہا جائے گا (ادخلوھا بسلم امنین) ” داخل ہوجاؤ اس میں سلامتی سے ہر نقصان سے محفوظ “ یعنی موت،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 48–49

42۔ اہل جنت کے لئے دائمی سکون وقرار کی بشارت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو وہاں پر نہ کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ہی ان کو کبھی وہاں سے نکالا جائیگا۔ کہ وہاں اس کی نعمتیں دائمی اور وہاں کا قیام ابدی ہوگا۔ اور یہ سب لطف وکرم اور انعام واحسان ہوگا اس اکرم الاکرامین کی طرف سے جس کے کرم کی نہ کوئی حد ہوگی نہ انتہاء۔ سبحانہ وتعالیٰ اس لئے وہ اپنے ان خوش نصیب بندوں کو جنت کی ان سدابہار نعمتوں سے نوازنے کے بعد کبھی محروم نہیں کرے گا۔ اور یہ خوش نصیب خلود ودوام کی اس نعمت اور اس کی لذت آفرینی کو ہمیشہ محسوس کریں گے۔ سو ان کے لیے وہاں خلود ہوگا بلازوال۔ اور کمال ہوگا بلانقصان اور فوز و فلاح ہوگی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 45–50

نیکوں کے لیے خوشخبری اور بروں کے لیے ڈراوا تشریح : ان آیات میں نیک، صالح اور متقی لوگوں کے لیے انعامات کا بیان ہے۔ متقی کی تعریف پیچھے گزر چکی ہے۔ مسلم کا مطلب ہے فرمانبردار، یعنی اسلام کے ہر حکم کی تعمیل دل و جان سے بخوشی کرنا اور یہی عبادت ہے چاہے اس حکم کا تعلق اللہ سے ہو یا بندوں سے ہو۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مکمل اسلامی زندگی گزارنے والے آدمی کا ہر کام عبادت ہے۔ کیونکہ وہ جو بھی کرتا ہے چاہے دنیاوی کام ہوں یا کہ مذہبی کام ہوں۔ مثلاً خریدو فروخت، اٹھنا، بیٹھنا، کھانا پینا، لکھنا پڑھنا، اور لوگوں سے ملنا جلنا سب کچھ عبادت میں شمار ہوتا ہے۔ کتنی مزے کی بات ہے ! عبادات، یعنی نماز، روزہ،…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–60

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف جو لوگ تقوی اختیار کرتے ہیں اور زندگی اطاعت الہی میں بسر کرتے ہیں یقینا باغوں اور چشموں کی بہترین سرزمین میں رہیں گے ایک ایسی جگہ جہاں کا داخلہ ہی ہر طرح کے امن کی ضمانت ہے اور جہاں داخلے پر کہہ دیا جائے گا جاؤ یہاں امن وسلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ نیز اگر دنیا میں کبھی ایک دوسرے کے درمیان رنجش بھی رہی ہوگی تو اس کا طبعی اثر یا خفگی جنت میں داخلے کے وقت دور کردی جائے گی ۔ (مزاج برزخ میں وہی رہتا ہے جو دنیا میں ہو) گویا انسانی مزاج کو موت تبدیل نہیں کرتی نہ علم کو فنا کرتی ہے لہذا برزخ میں وہی مزاج رہتا ہے جو دنیا میں رہا ہو اور محبت وناراضگی کے اثرات دل میں موجود…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 49–50

ف 3 لہٰذا نہیں چاہیے کہ نہ خدا کی رحمت سے مایوس ہوں اور نہ اتنے دلیر کہ اس کے عذاب کا کوئی ڈرا ان کے دلوں میں نہ ہو۔ یہی رجاء و خوف کا وہ مقام ہے جس کی قرآن و حدیث میں متعدد مواضع پر تلقین کی گی ہے۔ حدیث میں ہے : اگر بندے کو یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کی قدر عفو و درگزر کرنے والا ہے تو وہ کبھی گناہ سے پرہیز نہ کرے اور اگر اسے معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب کس قدر سخت ہے تو (آہ و بکا سے) اپنے آپ کو بلاک کر ڈالے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 49–51

(15:49) نبیء امر واحد مذکر حاضر۔ تنبئۃ (تفعیل) سے۔ تو آگاہ کر دے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–50

لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 50 عیون (عین) چشمے۔ ادخلوا تم داخل ہوجاؤ سلام سلامتی، امن و سکون۔ نزعنا ہم نے کھینچ نکالا۔ غل باہمی رنجش، ناراضگی، کینہ۔ سرر (سریر) ، تخت ، بیٹھنے کی اونچی جگہ۔ متقابلین ایک دوسرے کے سامنے۔ نصب بےسکونی، محنت و مشقت، تکلیف۔ نبئی بتا دے، ، خبردار کر دے۔ تشریح : آیت نمبر 45 تا 50 حضرت آدم کی پیدائش، ان کا جنت میں قیام اور شیطان کی نافرمانی کے بعد جب شیطان نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کی مہلت مانگی اور وہ مہلت دیدی گئی اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ جو لوگ تقویٰ اور پرہیزگاری کی زندگی اختیار کریں گے ان کی جنت کی دائمی راحتیں عطا کی جائیں گی۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 45–50

دوزخ وجنت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے دوزخ والوں کا حال بیان کر کے اہل جنت کا ذکر کیا کہ متقی لوگ جنت کے باغ اور نہروں میں ہوں گے اور صحیح وسالم رہیں گے۔ کوئی رنج و تکلیف اور کوئی بیماری وہاں نہیں ہوگی اور دنیا میں جتنی دو شخصوں کے درمیان شکر رنجی ہوگی وہ رنج کدورت ان کے دلوں سے نکال دی جاوے گی، اور جنت میں بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے مسندوں پر بیٹھے ہوں گے۔ جنت میں کسی قسم کی مشقست وغیرہ نہ ہوگی اور نہ لوگ وہاں سے نکلیں گے بلکہ آرام کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا کہ میرے بندوں کو یہ خبر دے دو کہ میں رحمت والا بھی ہوں اور میرا عذاب بھی سخت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 44–62

[17] دروازوں کی یہ تعداد ممکن ہے کہ استحقاق عذاب کے لحاظ سے سات طبقوں کے اظہار کے لئے ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مقصود دوزخ میں داخل ہونے والوں کی کثرت تعداد کا اظہار ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 49–54

خدا اصل میں غفور ورحیم ہے ! (ف 1) ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے نہایت وضاحت سے ارشاد فرمایا ہے کہ صفات میں حقیقتا عفو ومغفرت ہے ، اللہ تعالیٰ چاہتے تو یہی ہیں کہ اس کے بندے ہمیشہ اس کے انعامات سے متمتع رہیں ، اور اس کی رحمتیں ابدا اس کے بندوں پر چھائی ہیں ، مگر جب بندے دائرہ عبودیت سے نکل جائیں ، اور اللہ کے کرم وعفو سے استفادہ نہ کریں تو پھر اس کے غضب میں جوش پیدا ہوتا ہے اور اس کا غصہ نافرمانوں پر بھڑکتا ہے ، یہ غصہ اور غضب بھی درحقیقت غفران ورحمت کا نتیجہ ہے ، جس طرح والدین ناراض ہوتے ہیں اور ان کی ناراضگی میں بھی شفقت کا ایک رنگ ہوتا ہے ، اسی طرح اللہ جو والدین سے زیادہ رحیم ہے ، جب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

49 ۔ اے پیغمبر میرے بندوں کو خبر دیدیجئے اور آگاہ کر دیجئے کہ میں بڑی بخشش اور بڑی مہربانی کرنے والا ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 46–49

ف 5۔ یعنی اس وقت بھی ہر مکروہ سے سلامتی ہے اور آئندہ بھی کسی شر کا اندیشہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس بات کا اعلان کہ اللہ ہی اصل میں بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے : 49۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کب نہیں اور کہاں نہیں ؟ مگر دنیا کے فطری قانون کے بموجب اس دنیا میں ایسے واقعات اور حادثے بھی پیش آجاتے ہیں جن کو ہم رحمت کے بجائے قہر الہی سے تعبیر کرتے ہیں ‘ پھر یہ بھی واقعہ ہے کہ خود ہم کو ہمارے اعمال کی بدولت خداوند تعالیٰ کے قہر وغضب میں مبتلا ہونا پڑتا ہے ‘ لیکن ایک عالم وہ ہے جہاں اس کی رحمت کے سوا اس کے قہر وغضب کا نام ونشان بھی نہ ہوگا وہاں ہر طرف اس کی رحمت اور فیض وکرم کی بارش ہوگی اور اس کی رحمت کے سوا وہاں کوئی اور منظر کہیں اور کبھی دکھائی نہ دے گا ، چناچہ ارشاد الہی ہے کہ (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–71

From verse 48: لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَ‌جِينَ (No weariness shall touch them therein nor will they be expelled from there), we learn about two features of Jannah: (1) No one shall ever feel tired or weak. This is contrary to what happens in our mortal world where hard work naturally results in fatigue. In fact, even a state of total rest and fun would sometimes tire a person out, no matter how enjoyable are things one is occupied with. (2) The other feature of Jannah we discover is that the blessings once received there shall be eternal. These blessings shall…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–50

29. This verse is explained by the following tradition: It will be announced to the dwellers of the Gardens: Now you will remain hale and hearty forever and shall never fall ill, now you will enjoy eternal life and shall never die, now you will remain young forever and never grow old, and now you will remain forever in Paradise and shall never have to move away from it. There are other traditions that further elucidate life in Paradise to this effect: The dwellers shall have no toil to perform for their livelihood and necessities of life. They will get everything without any labor whatsoever.

Read the full tafseer →