Al-Hijr 15:48

Al-Hijr · from ayah 48

15:48

لَا یَمَسُّهُمْ فِیْهَا نَصَبٌ وَّمَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ ۟لَا يَمَسُّهُمۡ فِيۡهَا نَـصَبٌ وَّمَا هُمۡ مِّنۡهَا بِمُخۡرَجِيۡنَ‏

نہ ان کو وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

No fatigue will touch them therein, nor from it will they [ever] be removed.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:48

اُنہیں نہ وہاں کسی مشقت سے پالا پڑے گا اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

نہ ان کو وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

نہ تو وہاں انہیں کوئی تکلیف چھو سکتی ہے اور نہ وه وہاں سے کبھی نکالے جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہاں نہ کوئی تھکن ان کے پاس آئے گی، اور نہ ان کو وہاں سے نکالا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

نہ انہیں اس میں کچھ تکلیف پہنچے نہ وہ اس میں سے نکالے جائیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

انہیں وہاں کوئی تکلیف نہ پہنچے گی اور نہ ہی وہ وہاں سے نکالے جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس میں انھیں نہ کوئی تھکاوٹ چھوئے گی اور نہ وہ اس سے کبھی نکالے جانے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نہ انھیں وہاں کوئی مشقت اٹھانا پڑے گی اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس میں نہ تو ان کو کوئی تکان لاحق ہوگی اور نہ وہ اس سے نکالے ہی جائیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

انھیں نہ تو وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ہی انھیں وہاں سے کبھی نکالا جائے گا،

— مولانا اسحاق مدنی

(سب) بھائی بھائی کی طرح رہیں گے آمنے سامنے تختوں پر۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

نہیں پہنچے گی انہیں اس میں کوئی تھکان اور نہ ہی وہ اس میں سے نکالے جائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

نہ ان کو وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They shall face no fatigue in it, nor shall they ever be driven out of it.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

No weariness shall touch them nor will they be expelled from there.

— Muhammad Taqi Usmani

No weariness shall touch them nor will they be expelled from there.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

No sense of fatigue shall touch them, nor shall they be asked to leave it.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Toil cometh not unto them there, nor will they be expelled from thence.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

No fatigue will touch them therein, nor from it will they [ever] be removed.

— Saheeh International

No fatigue will touch them nor will they be expelled therefrom."

— Muhammad Sarwar

Toil shall not afflict them in it, nor shall they be ever ejected from it.

— Muhammad Habib Shakir

There shall touch them no toil therein, nor therefrom they shall ever be driven out.

— Abdul Majid Daryabadi

There no sense of fatigue shall touch them, nor shall they (ever) be asked to leave.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:48

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 45–50

جنت میں کوئی بغض و کینہ نہ رہے گا دوزخیوں کا ذکر کر کے اب جنتیوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ باغات، نہروں اور چشموں میں ہوں گے۔ ان کو بشارت سنائی جائے گی کہ اب تم ہر آفت سے بچ گئے ہر ڈر اور گھبراہٹ سے مطمئن ہوگئے نہ نعمتوں کے زوال کا ڈر، نہ یہاں سے نکالے جانے کا خطرہ نہ فنا نہ کمی۔ اہل جنت کے دلوں میں گو دنیوں رنجشیں باقی رہ گئی ہوں مگر جنت میں جاتے ہی ایک دوسرے سے مل کر تمام گلے شکوے ختم ہوجائیں گے۔ حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی سینے بےکینہ ہوجائیں گے۔ چناچہ مرفوع حدیث میں بھی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ مومن جہنم سے نجات پا کر جنت دوزخ کے درمیان کے پل پر روک لئے جائیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 48–50

سورة الْحِجْر 29 اس کی تشریح اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں حضور ﷺ نے خبر دی ہے کہ " یقال لا ھل الجنۃ ان لکم ان تصحوا ولا تمرضوا ابدًا، و ان لکم ان تعیشوا فلا تمو تو ا ابدا، و ان لکم ان تشبّوا ولا تھرموا ابدًا، و ان لکم ان تقیموا فلا تظعنو ا ابدًا۔ " یعنی ”اہل جنت سے کہہ دیا جائے گا کہ اب تم ہمیشہ تندرست رہو گے، کبھی بیمار نہ پڑو گے۔ اور اب تم ہمیشہ زندہ رہو گے، کبھی موت تم کو نہ آئے گی۔ اور اب تم ہمیشہ جوان رہو گے، کبھی بڑھاپا تم پر نہ آئے گا۔ اور اب تم ہمیشہ مقیم رہو گے، کبھی کوچ کرنے کی تمہیں ضرورت نہ ہوگی“۔ اس کی مزید تشریح ان آیات و احادیث سے ہوتی ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ جنت میں انسان کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–50

(آیت) لَا يَمَسُّهُمْ فِيْهَا نَصَبٌ وَّمَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ۔ اس آیت سے جنت کی دو خصوصیات معلوم ہوئیں اول یہ کہ کسی کو کبھی تکان اور ضعف محسوس نہ ہوگا بخلاف دنیا کے کہ یہاں محنت ومشقت کے کاموں سے تو ضعف وتکان ہوتا ہی ہے خاص آرام اور تفریح سے بھی کسی نہ کسی وقت آدمی تھک جاتا ہے اور ضعف محسوس کرنے لگتا ہے خواہ وہ کتنا ہی لذیذ کام اور مشغلہ ہو دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ جو آرام و راحت اور نعمتیں وہاں کسی کو مل جائیں گی پھر وہ دائمی ہوں گی نہ وہ نعمتیں کبھی کم ہوں گی اور نہ ان میں سے اس شخص کو نکالا جائے گا سورة ص میں ارشاد ہے (آیت) اِنَّ ھٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍ یعنی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 45–48

تفسیر آیت 45 تا 48:۔ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (45) ادْخُلُوهَا بِسَلامٍ آمِنِينَ (46) وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ (47) لا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ (48) خدا ترسوں کا انجام نیک : اہل دوزخ کا انجام بیان کرنے کے بعد اب یہ ان لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے جو خدا سے ڈرنے والے اور اس کے احکام پر عمل کرنے والے ہیں۔ فرمایا کہ وہ باغوں اور چشموں کے درمیاں ابدی زندگی کے عیش و آرام میں ہوں گے۔ ان کے لیے خدا کی طرف سے یہ بشارت ہوگی کہ ادْخُلُوهَا بِسَلامٍ آمِنِينَ اب ہر قسم کے فکر و اندیشہ سے بالکل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 47–51

47۔ 1 دنیا میں ان کے درمیان جو آپس میں حسد اور بغض و عداوت کے جذبات رہے ہوں گے، وہ ان کے سینوں سے نکال دیئے جائیں گے اور ایک دوسرے کے بارے میں ان کے آئینے کی طرح صاف اور شفاف ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 48–51

19: مہمانوں سے مراد وہ فرشتے ہیں جو حضرت ابراہیم ؑ کے پاس بھییجے گئے تھے۔ اوپر یہ بیان کیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی وسیع ہے، اور عذاب بھی بڑا سخت ہے، لہذا ایک انسان کو نہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا چاہیے، اور نہ اس کے عذاب سے بےفکر ہو کر بیٹھنا چاہیے۔ اس مناسبت سے ان مہمانوں کا یہ واقعہ ذکر فرمایا گیا ہے، کیونکہ اس واقعے میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بھی بیان ہے کہ یہ فرشتے حجرت ابراہیم ؑ کے پاس بڑھاپے میں حضرت اسحاق ؑ جیسے بیٹے کی پیدائش کی خبر لے کر آئے، اور اللہ تعالیٰ کے سخت عذاب کا بھی ذکر ہے کہ انہی فرشتوں کے ذریعے حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل کیا گیا۔ یہ واقعہ قدرے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 45–48

آیت نمبر 45 تا 48 متقی کون ہیں ؟ وہ جو خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان اسباب سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں جو عذاب الٰہی کا باعث بنتے ہیں۔ جتنوں میں جن چشموں کا ذکر ہے وہ سات ابواب کے بالمقابل ہے۔ یہ لوگ جنتوں میں نہایت ہی امن و اطمینان سے اتریں گے اور وہ اس طرح خوفزدہ نہ ہوں گے جس طرح اہل جہنم تھے۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کدورت ہوگی وہ بھی ہم نکال دیں گے ۔ جبکہ ابلیس کے دل میں جو حسد اور کینہ ہوگا وہ اہل جہنم کے ساتھ ہمیشہ رہے گا اور وہ ایک دوسرے کو ملامت کرتے رہیں گے۔ جبکہ اہل جنت کے لئے کوئی مشقت نہ ہوگی اور نہ ان کے لئے وہاں سے نکلنے کا کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی عزت و کرامت کے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھ کر باتیں کریں گے، ملاقات وغیرہ کے وقت ایسی نشست نہ ہوگی جس میں کوئی آگے کوئی پیچھے ہو۔ 9 حدیث میں ہے کہ جنتیوں سے کہا جائے گا، اے اہل جنت ! اب تمہارے لیے یہ ہے کہ ہمیشہ تندرست رہو، کبھی بیماری نہ ستائے، ہمیشہ زندہ رہو کبھی موت نہ آئے۔ ہمیشہ آرام سے مقیم رہو، کبھی سفر کی تکلیف نہ اٹھانی نہ پڑے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 48–49

آیت 48 لَا يَمَسُّهُمْ فِيْهَا نَصَبٌ وَّمَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ اہل جنت کو جنت میں داخل ہونے کے بعد وہاں سے نکالے جانے کا کھٹکا نہیں ہوگا اور نہ ہی اس میں انہیں کسی قسم کی کوئی تکلیف یا پریشانی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 48–49

26 یعنی دنیوی زندگی کی طرح اپنا پیٹ پالنے کے لیے وہاں کچھ محنت و مشقت نہیں کرنی پڑے گی۔ ہر مطلوبہ چیز طلب کرنے پر فوراً حاضر کردی جائے گی۔ انھیں ان چیزوں کے حصول کے لیے نقل مکانی کی بھی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ اور ان کے لیے یہ سب نعمتیں دائمی ہوں گی اور ان کی زندگی بھی دائمی زندگی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–60

آیت نمبر 45 تا 60 ترجمہ : (شرک و کفر سے) بچنے والے (متقی) باغوں اور چشموں میں ہوں گے جو باغوں میں جاری ہوں گے، ان سے کہا جائیگا ہر گھبراہٹ سے سلامتی اور امن کے ساتھ اس میں داخل ہوجاؤ، (یعنی) حال یہ کہ تم ہر خطرہ سے سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ، یا سلام کے ساتھ، یعنی سلام کرو اور داخل ہوجاؤ، ان کے دلوں میں جو تھوڑی بہت کھوٹ کپٹ ہوگئی ہم اس کو نکالدیں گے وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر مسہریوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے (اخوانا) ھم ضمیر سے ھال ہے (متقابلین) بھی اخوانا سے حال ہے یعنی کوئی کسی کی گدی (پشت) کو نہ دیکھے گا، اسلئے کہ ان کے تخت دائرہ کی شکل میں ہوں گے، نہ وہاں انھیں کسی مشقت سے پالا پڑے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا یمسھم فیھا نصب وما ھم منھا بمخرجین جنت کے اندر اہل جنت کو تھکان چھوئے گی بھی نہیں اور نہ جنت سے کبھی ان کو نکالا جائے گا۔ دوام نعمت ہی تکمیل نعمت ہے۔ طبرانی نے حضرت عبد اللہ بن زبیر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ چند صحابی باہم ہنس رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کا ادھر سے گذر ہوا تو صحابہ کو ہنستے دیکھ کر فرمایا : دوزخ تم لوگوں کے سامنے ہے ‘ پھر بھی ہنس رہے ہو ؟ فوراً حضرت جبرئیل نازل ہوگئے اور کہا : محمد ﷺ ! آپ کا رب فرماتا ہے : تم کیوں میرے بندوں کو میری رحمت سے ناامید کرتے ہو۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 47–48

(47۔ 48) اور دنیا میں آپس کا جو کینہ وغیرہ تھا ہم ان کو ان کے دلوں سے دور کردیں گے، آخرت میں سب بھائی بھائی کی طرح رہیں گے ایک دوسرے کی زیارت کے لیے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھا کریں گے جنت میں ان کو ذرا بھی تکلیف اور مشقت نہیں پہنچے گی اور نہ وہ جنت سے نکالے جائیں گے۔ شان نزول : (آیت) ”ونزعنا مافی صدورھم“۔ (الخ) ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے علی بن حسین سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت کریمہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ان سے دریافت کیا گیا کہ کس قسم کا کینہ ان کے دلوں سے دور کیا جائے گا فرمایا جاہلیت کا کینہ وہ یہ کہ بنی تمیم، بنی عدی اور بنی ہاشم میں زمانہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَا يَمَسُّهُمْ فِيْهَا نَصَبٌ : دنیا میں کوئی شخص دکھ، مصیبت، مشقت اور تھکن سے خالی نہیں، بلکہ یہ ساری زندگی ہی محنت اور مشقت کی ہے، یہاں زیادہ سے زیادہ خوشی اور لذت کے ساتھ بھی کوئی نہ کوئی مشقت، محنت، تھکن یا غم ضرور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة بلد کے شروع میں کئی قسمیں کھا کر فرمایا : (لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْ كَبَدٍ) [ البلد : 4 ] ”بلاشبہ یقیناً ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں پیدا کیا ہے“ اور سورة انشقاق میں فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِيْهِ) [ الانشقاق : 6 ] ”اے انسان ! بیشک تو مشقت کرتے کرتے اپنے رب کی طرف جانے والا ہے، سخت مشقت،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 47–48

آیت نمبر 47 تا 48 حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : سب سے پہلے جو اہل جنت جنت میں داخل ہوں گے تو ان کو دو چشمے پیش کئے جائیں گے، پس وہ ان میں سے ایک چشمے سے پئیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں جو کینہ تھا اسے نکال دے گا، ختم کر دے گا، پھر وہ دوسرے چشمے پر داخل ہوں گے اور ان میں غسل کریں گے تو ان کے رنگ روشن ہوجائیں گے اور ان کے چہرے صاف اور چمکنے لگیں گے، اور ان پر نعمتوں کی تازگی اور رونق نمایاں ہوجائے گی ؛ اور اسی طرح حضرت علی ؓ سے روایت ہے۔ اور حضرت علی بن حسین ؓ نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت علی اور صحابہ کرام ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، مراد وہ کینہ وغیرہ ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 36–48

1:۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فانظرنی الی یوم یبعثون “ سے مراد ہے کہ ابلیس نے ارادہ کیا کہ وہ موت کو نہ چکھے گا اسے کہا گیا کہ (آیت ) ” فانک من المنظرین (37) الی یوم الوقت المعلوم (38) پھر فرمایا نفخہ میں ابلیس مرجائے گا اور دونوں نفخہ کے درمیان چالیس سال کا وفقہ ہے فرمایا تو ابلیس چالیس سال تک مرا پڑا رہے گا۔ 2:۔ امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قال فانک من المنظرین “ سے مراد ہے کہ اس کی مہلت نہیں ملی اٹھائے جانے کے دن تک لیکن اس کو وقت معلوم تک مہلت دی گئی۔ 3:۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا عبادک منہم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لَا يَمَسُّهُمْ : نہیں چھوئے گی ان کو ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ نَصَبٌ: کوئی مشقت ] [ وَّمَا هُمْ : اور وہ نہیں ہونگے ] [ مِّنْهَا : اس سے ] [ بِمُخْرَجِيْنَ : نکالے جانے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 47–48

اہل جنت تکیہ لگائے آنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے (عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ ) جو فرمایا ہے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی نے حضرت مجاہد سے نقل کیا ہے کہ وہ جنت میں اس طرح رہیں گے کہ ایک دوسرے کی پشت نہ دیکھیں گے ان کے تخت گھومنے والے ہوں گے وہ جن حالات میں بھی ہوں گے آپس میں آمنے سامنے ہی ہوں گے اور ان کے تخت ان کو لے کر اس طرح گھوم رہے ہوں گے کہ جب بھی مجتمع ہوں گے متقابل ہی رہیں گے یعنی آمنا سامنا ہی رہے گا۔ جنت میں کوئی تکلیف نہ ہوگی نہ وہاں سے نکالے جائیں گے سورة واقعہ میں فرمایا (عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَۃٍ مُتَّکِءِیْنَ عَلَیْہَا مُتَقَابِلِیْنَ ) ایسے تختوں پر ہوں گے جو سونے کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–77

ذکر نعمائے اہل جنت قال اللہ تعالیٰ : ان المتقین فی جنت وعیون .... الیٰ .... وان عذابی ھو العذاب الالیم۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں گنہگاروں کا اور ان کے لیے جہنم کی سزا کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں پرہیزگاروں کے ثواب اور ان کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں اور متقی وہ لوگ ہیں کہ جو بتوفیق الٰہی اور بتائید ایزدی شیطان کے اغواء اور تسلط سے محفوظ رہے اور ابلیس لعین کی تسویل و تزئین سے دنیا کی آرائش کے دلدادہ نہ بنے آخرت ہی کی فکر میں لگے رہے چناچہ فرماتے ہیں۔ تحقیق جن لوگوں نے تقویٰ اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کی اور شیطان کے اغوا اور تزئین سے بچتے رہے وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے دودھ اور شراب کے چشمے ان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 45–48

19:۔ یہ شرک اور فواحش سے بچنے والوں کے لیے خوشخبری ہے۔ ” اُدْخُلُوْھَا الخ “ اس سے پہلے ” یقال لھم “ محذوف ہے یعنی ان سے کہا جائے گا کہ جنات میں سلامتی اور امن کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ ” وَ نَزَعْنَا الخ “ مومنین کے درمیان دنیا میں جو لڑائی جھگڑے ہوئے اور ان کی وجہ سے ان کے دلوں میں ایک دوسرے سے بغض اور ناراضی کے جو جذبات پیدا ہوگئے جنت میں ان کے دلوں کو ایسے تمام جذبات بغض و عداوت سے پاک و صاف کردیا جائے گا اور وہ بھائیوں کی طرح آمنے سامنے بیٹھ کر پیار اور محبت سے باتیں کریں گے۔ ” لَایَمَسُّھُمْ الخ “ دنیا مومن کے لیے محنت و مشقت اور امتحان و آزمائش کی جگہ ہے لیکن اس کیلئے جنت سراسر آرام و آسائش…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 45–60

(ربط آیات) پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کی نعمت کا ذکر کیا اور اس سلسلے میں شیطان کے اغواء اور اس کی طرف سے اللہ کے حکم کی سرتابی کا ذکر کیا اس کے نتیجے میں اللہ نے اسے مردود ٹھہرایا ، پھر اس نے مہلت طلب کی تو اللہ نے قیامت تک کے لیے مہلت بھی دے دی شیطان نے قسم اٹھا کر کہا کہ وہ اللہ کے بندوں کو گمراہ کرتا رہے گا ، البتہ مخلص بندوں پر اس کا وار کارگر نہیں ہوسکے گا ، اللہ نے فرمایا یہ اخلاص ہی میرا سیدھا راستہ ہے ، میرے بندوں پر تیرا غلبہ نہیں ہوگا ، البتہ گمراہ لوگ تیری پیروی کرکے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لیں گے جو ان کے وعدے کی جگہ ہے ، پھر فرمایا جہنم کے ساتھ دروازے ہیں اور ہر دروازے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَا يَمَسُّهُمْ فِيْهَا نَصَبٌ وَّمَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ 48؀ مسس المسّ کاللّمس لکن اللّمس قد يقال لطلب الشیء وإن لم يوجد والمسّ يقال في كلّ ما ينال الإنسان من أذى. نحو قوله : وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] ، ( م س س ) المس کے معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہیں لیکن گاہے لمس کیس چیز کی تلاش کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل جل بھی جائے ۔ اور مس کا لفظ ہر اس تکلیف کے لئے بول دیا جاتا ہے جو انسان تو پہنچے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] اور کہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 46–60

ترکیب : بسلام حال ہے فاعل ادخلوا سے۔ ای سالمین اومسلما علیھم۔ اخوانا حال ہے ھم سے علی سرر بھی حال ہے اور متقابلین بھی۔ علٰی ان موضع حال میں ہے ای بشر تمونی کبیرا۔ تبشرون کے نون کو مکسور پڑھا ہے نون وقایہ ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 45–48

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ۔ اُدْخُلُوْھَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ ۔ وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ ۔ لاَیَمَسُّہُمْ فِیْھَا نَصَبٌ وَّمَا ھُمْ مِّنْھَا بِمُخْرَجِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 45۔ 46۔ 47۔ 48) (بیشک اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ (انھیں کہا جائے گا) تم داخل ہوجاؤ ان جنتوں میں سلامتی کے ساتھ بےخوف ہوکر۔ ان کے سینوں کی کدورتیں ہم نکال دیں گے وہ آمنے سامنے بھائی بھائی کی طرح تختوں پر براجمان ہوں گے اس میں نہ تو کوئی ان کو تکان لاحق ہوگی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ ) متقین کا انجام ابلیس اور اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 45–48

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میرے مخلص بندوں پر شیطان کا تسلط نہیں ہوسکتا۔ اب مخلص بندوں کے اجرو ثواب کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ مخلص بندوں کی پہلی اور بنیادی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس کی نافرمانیوں سے بچتے ہیں۔ ان کے اجرو ثواب کا یوں تذکرہ فرمایا کہ یہ ایسی جنت میں داخل کئے جائیں گے جس میں چشمے اور آبشاریں جاری ہوں گی۔ وہ اس میں امن و سلامتی کے ساتھ داخل ہوں گے۔ جس میں انہیں نہ کوئی مشقت اٹھانا پڑے گی اور نہ ہی انہیں جنت سے نکالے جانے کا خطرہ ہوگا۔ دنیا میں رہتے ہوئے انسان ہونے کے ناطے سے اگر ان کی باہمی رنجش ہوگی تو اللہ ان کے دلوں سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

48: لَایَمَسُّہُمْ فِیْھَا نَصَبٌ (نہیں چھوئے گی ان کو تھکاوٹ) یعنی جنت میں نصب کا معنی تھکاوٹ ہے وَّمَا ھُمْ مِّنْھَا بِمُخْرَجِیْنَ (اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے) تکمیل ِنعمت ہمیشہ رہنے سے ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(48)” لا یمسھم “ نہیں پہنچے گی ان کو ” فیھا نصب “ کوئی تھکاوٹ۔ ” وما ھم منھا بمخرجین “ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جنتی ہمیشہ جنت میں رہیں گے، اس سے نکلیں گے نہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 45–50

45۔ 50۔ اللہ پاک نے دوزخ والوں کا حال بیان کر کے اہل جنت کا ذکر کیا کہ متقی لوگ جنت کے باغ اور نہروں میں ہوں گے اور صحیح وسالم وہاں رہیں گے کوئی رنج کوئی تکلیف کوئی بیماری وہاں نہیں ہوگی اور دنیا میں جنتی دو شخصوں کے درمیان شکر رنجی ہوگی وہ رنج و کدورت ان کے دلوں سے نکال دی جاوے گی اور جنت میں بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے مسندوں پر بیٹھے ہوں گے 1 ؎۔ بعض مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ یہ دس صحابہ ہیں حضرت ابوبکر ؓ حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، طلحہ، زبیر، عبد الرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، زید، عبد اللہ بن مسعود ؓ ان کے دلوں میں آپس میں جو کچھ دنیا میں ملال تھا وہ جنت میں بالکل نہیں رہے گا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 45–50

آیت 45 اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں اس کے دشمنوں یعنی ابلیس کیپ یرو کاروں کو کیا سخت عذاب اور سزا دی جائے گی وہاں یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کو کس فضل عظیم اور دائمی نعمتوں سے نوازے گا۔ چناچہ فرمایا : (ان المتقین) ” بیشک پرہیز گار “ جو شیطان کی اطاعت، اس کے وسوسوں، گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے ہیں (فی جنت وعیون) ” باغتا اور چشموں میں ہوں گے “ جن میں درختوں کی تمام اقسام ہوں گی اور اس میں ہر قوت اور ہر قسم کے پکے ہوئے پھل ہوں گے۔ جنت میں داخل ہوتے وقت ان سے کہا جائے گا (ادخلوھا بسلم امنین) ” داخل ہوجاؤ اس میں سلامتی سے ہر نقصان سے محفوظ “ یعنی موت،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 48–49

42۔ اہل جنت کے لئے دائمی سکون وقرار کی بشارت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو وہاں پر نہ کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ہی ان کو کبھی وہاں سے نکالا جائیگا۔ کہ وہاں اس کی نعمتیں دائمی اور وہاں کا قیام ابدی ہوگا۔ اور یہ سب لطف وکرم اور انعام واحسان ہوگا اس اکرم الاکرامین کی طرف سے جس کے کرم کی نہ کوئی حد ہوگی نہ انتہاء۔ سبحانہ وتعالیٰ اس لئے وہ اپنے ان خوش نصیب بندوں کو جنت کی ان سدابہار نعمتوں سے نوازنے کے بعد کبھی محروم نہیں کرے گا۔ اور یہ خوش نصیب خلود ودوام کی اس نعمت اور اس کی لذت آفرینی کو ہمیشہ محسوس کریں گے۔ سو ان کے لیے وہاں خلود ہوگا بلازوال۔ اور کمال ہوگا بلانقصان اور فوز و فلاح ہوگی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 45–50

نیکوں کے لیے خوشخبری اور بروں کے لیے ڈراوا تشریح : ان آیات میں نیک، صالح اور متقی لوگوں کے لیے انعامات کا بیان ہے۔ متقی کی تعریف پیچھے گزر چکی ہے۔ مسلم کا مطلب ہے فرمانبردار، یعنی اسلام کے ہر حکم کی تعمیل دل و جان سے بخوشی کرنا اور یہی عبادت ہے چاہے اس حکم کا تعلق اللہ سے ہو یا بندوں سے ہو۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مکمل اسلامی زندگی گزارنے والے آدمی کا ہر کام عبادت ہے۔ کیونکہ وہ جو بھی کرتا ہے چاہے دنیاوی کام ہوں یا کہ مذہبی کام ہوں۔ مثلاً خریدو فروخت، اٹھنا، بیٹھنا، کھانا پینا، لکھنا پڑھنا، اور لوگوں سے ملنا جلنا سب کچھ عبادت میں شمار ہوتا ہے۔ کتنی مزے کی بات ہے ! عبادات، یعنی نماز، روزہ،…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–60

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف جو لوگ تقوی اختیار کرتے ہیں اور زندگی اطاعت الہی میں بسر کرتے ہیں یقینا باغوں اور چشموں کی بہترین سرزمین میں رہیں گے ایک ایسی جگہ جہاں کا داخلہ ہی ہر طرح کے امن کی ضمانت ہے اور جہاں داخلے پر کہہ دیا جائے گا جاؤ یہاں امن وسلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ نیز اگر دنیا میں کبھی ایک دوسرے کے درمیان رنجش بھی رہی ہوگی تو اس کا طبعی اثر یا خفگی جنت میں داخلے کے وقت دور کردی جائے گی ۔ (مزاج برزخ میں وہی رہتا ہے جو دنیا میں ہو) گویا انسانی مزاج کو موت تبدیل نہیں کرتی نہ علم کو فنا کرتی ہے لہذا برزخ میں وہی مزاج رہتا ہے جو دنیا میں رہا ہو اور محبت وناراضگی کے اثرات دل میں موجود…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 جیسا کہ حدیث میں ہے کہ اہل جنت سے کہہ دیا جائے گا کہ اب تم ہمیشہ تندرست رہو گے، کبھی بیمار نہ پڑو گے اور تم ہمیشہ زندہ ہو گے تمہیں کبھی موت نہ آئے گی اور تم ہمیشہ جو ان رہوں گے اور تم پر کبھی بڑھاپا نہ آئے گا اور ہمیشہ قیام پذیر رہو گے کبھی اس سے کوچ کی ضرورت نہ ہوگی۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:48) لا یمسہم مضارع منفی واحد مذکر غائب ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ نہیں پہنچے گا۔ نہیں چھوئے گا ان کو۔ نصب۔ کوفت ۔ تھکن۔ مشقت۔ تکلیف۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–50

لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 50 عیون (عین) چشمے۔ ادخلوا تم داخل ہوجاؤ سلام سلامتی، امن و سکون۔ نزعنا ہم نے کھینچ نکالا۔ غل باہمی رنجش، ناراضگی، کینہ۔ سرر (سریر) ، تخت ، بیٹھنے کی اونچی جگہ۔ متقابلین ایک دوسرے کے سامنے۔ نصب بےسکونی، محنت و مشقت، تکلیف۔ نبئی بتا دے، ، خبردار کر دے۔ تشریح : آیت نمبر 45 تا 50 حضرت آدم کی پیدائش، ان کا جنت میں قیام اور شیطان کی نافرمانی کے بعد جب شیطان نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کی مہلت مانگی اور وہ مہلت دیدی گئی اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ جو لوگ تقویٰ اور پرہیزگاری کی زندگی اختیار کریں گے ان کی جنت کی دائمی راحتیں عطا کی جائیں گی۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 45–50

دوزخ وجنت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے دوزخ والوں کا حال بیان کر کے اہل جنت کا ذکر کیا کہ متقی لوگ جنت کے باغ اور نہروں میں ہوں گے اور صحیح وسالم رہیں گے۔ کوئی رنج و تکلیف اور کوئی بیماری وہاں نہیں ہوگی اور دنیا میں جتنی دو شخصوں کے درمیان شکر رنجی ہوگی وہ رنج کدورت ان کے دلوں سے نکال دی جاوے گی، اور جنت میں بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے مسندوں پر بیٹھے ہوں گے۔ جنت میں کسی قسم کی مشقست وغیرہ نہ ہوگی اور نہ لوگ وہاں سے نکلیں گے بلکہ آرام کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا کہ میرے بندوں کو یہ خبر دے دو کہ میں رحمت والا بھی ہوں اور میرا عذاب بھی سخت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 44–62

[17] دروازوں کی یہ تعداد ممکن ہے کہ استحقاق عذاب کے لحاظ سے سات طبقوں کے اظہار کے لئے ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مقصود دوزخ میں داخل ہونے والوں کی کثرت تعداد کا اظہار ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 37–48

شیطان کی وجہ تخلیق : (ف 1) شیطان کو سجدہ نہ کرنے کی یہ سزا ملی کہ ہمیشہ کیلئے معتوب الہی ہوا ، اسے حکم دیا گیا ، کہ تم اب آسمان کی وسعتوں سے نکل جاؤ اور مکرو فریب کے لئے زمین پر رہو ، تمہیں قیامت تک مہلت ہے اپنی شیطنت کو بروئے کار لاؤ ، پوری قوت کے ساتھ اولاد آدم کو گمراہ کرنے کی کوشش کرو ، یاد رکھو وہ لوگ جو پاکباز اور متقی ہیں ، وہ تیری دستبر سے ہمیشہ بالا رہیں گے ، اور نفوس قدسیہ کو گمراہ نہیں کر سکوگے ، سوائے ان چند شریر النفس لوگوں کے جو تیرے ہم خیال ہیں ، اور کوئی تیری دوستی کا دم نہیں بھرے گا اور بالاخر تم سب لوگ جہنم کا ایندھن بنوگے ، شیطان اپنے تمام گروہ کے ساتھ جہنم میں داخل…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

48 ۔ ان اہل تقویٰ کو جنت میں نہ کسی قسم کی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔ یعنی یہ آرام اور عیش دائمی ہوگا ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 46–49

ف 5۔ یعنی اس وقت بھی ہر مکروہ سے سلامتی ہے اور آئندہ بھی کسی شر کا اندیشہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

48۔ کسی صاحب دل نے جنت کی یہ تعریف خوب کی ہے کہ ۔ بہشت آنجا کہ آزارے نباشد۔ دنیا میں کوئی بڑی سے بڑی مسرور زندگی بھی ایسی نہیں مل سکتی جس کے پہلو میں مسرت کے پھول کے ساتھ غم کا کوئی کانٹا نہ چبھ رہا ہو یا تو موجودہ مسرت کے آئندہ ختم ہوجانے کا خوف ہے اور یا پھر گزشتہ ناکامی کا افسوس ہے ۔ اس بناء پر یہاں کی کوئی خوشی بھی کامل نہیں ، مگر جنت وہ مقام ہوگا جہاں نہ ماضی وحال کا غم ہوگا اور نہ مستقبل کا خوف ہوگا ، چناچہ اہل جنت کے متعلق بار بار ارشاد ہوا کہ (آیت) ” لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون “۔ ” نہ ان کو خوف ہوگا اور نہ وہ غم گین ہوں گے ۔ “ اور یہی بہشت کی سب سے بڑی نعمت ہوگی اور اس میں جسمانی اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–71

From verse 48: لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَ‌جِينَ (No weariness shall touch them therein nor will they be expelled from there), we learn about two features of Jannah: (1) No one shall ever feel tired or weak. This is contrary to what happens in our mortal world where hard work naturally results in fatigue. In fact, even a state of total rest and fun would sometimes tire a person out, no matter how enjoyable are things one is occupied with. (2) The other feature of Jannah we discover is that the blessings once received there shall be eternal. These blessings shall…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–50

29. This verse is explained by the following tradition: It will be announced to the dwellers of the Gardens: Now you will remain hale and hearty forever and shall never fall ill, now you will enjoy eternal life and shall never die, now you will remain young forever and never grow old, and now you will remain forever in Paradise and shall never have to move away from it. There are other traditions that further elucidate life in Paradise to this effect: The dwellers shall have no toil to perform for their livelihood and necessities of life. They will get everything without any labor whatsoever.

Read the full tafseer →