Explained with ayahs 39–44
ابلیس کے سیاہ کارنامے
ابلیس کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اللہ کے گمراہ کرنے کی قسم کھا کر کہا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے کہا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں بھی اولاد آدم کے لئے زمین میں تیری نافرمانیوں کو خوب زینت دار کر کے دکھاؤں گا۔ اور انہیں رغبت دلا دلا کر نافرمانیوں میں مبتلا کروں گا، جہاں تک ہو سکے گا کوشش کروں گا کہ سب کو ہی بہکا دوں۔ لیکن ہاں تیرے خالص بندے میرے ہاتھ نہیں آسکتے۔ ایک اور آیت میں بھی ہے کہ گو تو نے اسے مجھ پر برتری دی ہے لیکن اب میں بھی اس کی اولاد کے پیچھے پڑجاؤں گا، چاہے کچھ تھوڑے سے چھوٹ جائیں باقی سب کو ہی لے ڈوبوں گا۔ اس پر جواب ملا کہ تم سب کا لوٹنا تو…
Read the full tafseer →سورة الْحِجْر 26
جہنم کے یہ دروازے ان گمراہیوں اور معصیتوں کے لحاظ سے ہیں جن پر چل کر آدمی اپنے لیے دوزخ کی راہ کھولتا ہے۔ مثلاً کوئی دہریت کے راستے سے دوزخ کی طرف جاتا ہے، کوئی شرک کے راستہ سے، کوئی نفاق کے راستہ سے، کوئی نفس پرستی اور فسق و فجور کے راستہ سے، کوئی ظلم و ستم اور خلق آزاری کے راستہ سے، کوئی تبلیغ ضلالت اور اقامت کفر کے راستہ سے، اور کوئی اشاعت فحشاء و منکر کے راستہ سے۔
Read the full tafseer →جہنم کے سات دروازے
(آیت) لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ۔ امام احمد ابن جریر طبری اور بیہقی نے بروایت حضرت علی کرم اللہ وجہہ لکھا ہے کہ جہنم کے سات دروازے اوپر نیچے سات طبقات کے اعتبار سے ہیں اور بعض حضرات نے ان کو عام دروازوں کی طرح قرار دیا ہے ہر دروازہ خاص قسم کے مجرمین کے لئے مخصوص ہوگا (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
تفسیر آیات 43 تا 44: وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِينَ (43) لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَابٍ لِكُلِّ بَابٍ مِنْهُمْ جُزْءٌ مَقْسُومٌ (44)۔ یہ ان لوگوں کا انجام بتایا گیا ہے جو شیطان کی پیروی کریں گے۔ فرمایا کہ ایسے سارے لوگ جو میری صراط مستقیم کو چھوڑ کر ابلیس کی راہ اختیار کریں گے، خواہ وہ جنات میں سے ہوں یا انسانوں میں سے اور خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، ان سب کا ٹھکانا جہنم ہوگی۔ ان کو جس عذاب کی آج خبر دی جا رہی ہے اس سے وہ دوچار ہوں گے۔ لفظ " اجمعین " کے زور کو سمجھنے کے لیے ابلیس کے قول لاغوینہم اجمعین پر نظر رہے۔ ابلیس نے بڑے طنطنہ کے ساتھ دعوی کیا کہ میں سب کو گمراہ…
Read the full tafseer →44۔ 1 یعنی ہر دروازہ مخصوص قسم کے لوگوں کے لئے خاص ہوگا۔ مثلاً ایک دروازہ مشرکوں کے لئے، ایک دروازہ دھریوں کے لئے۔ ایک زندیقوں، ایک زانیوں کے لئے۔ سود خوروں، چوروں اور ڈاکوؤں کے لئے وغیرہ وغیرہ۔ یا سات دروازوں سے مراد سات طبق اور درجے ہیں۔ پہلا طبق یا درجہ جہنم ہے، دوسرا نطی۔ پھر حطمہ، پھر سعیر۔ پھر سقر، پھر حجیم، پھر ہاویہ، سب سے اوپر والا درجہ موحدین کے لئے ہوگا، جنہیں کچھ عرصہ سزا دینے کے بعد یا سفارش پر نکال لیا جائے گا، دوسرے میں یہودی، تیسرے میں عیسائی، چوتھے میں صابی، پانچویں میں مجوسی۔ چھٹے میں مشرکین اور ساتویں میں منافقین ہونگے، سب سے اوپر والے درجے کا نام جہنم ہے اس کے بعد اس ترتیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–47
18: یعنی دنیا میں ان حضرات کے درمیان اگر کوئی رنجش رہی ہو تو جنت میں پہنچنے کے بعد اللہ تعالیٰ وہ ان کے دلوں سے نکال دیں گے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
آیت نمبر 43 تا 44
سات دروازے کا لفظ محض عدد کا اظہار ہے یا واقعی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے دونوں معنوں کے لینے سے حقیقت نفس الامری میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ گمراہوں کی کئی اقسام اور درجات ہیں اور گمراہی کی بھی کئی شکلیں اور رنگ ہیں۔ لہٰذا ہر قسم کے لوگوں کے لئے ایک دروازہ مخصوص ہوگا ان کے مقام اور مرتبے کے لحاظ سے۔
یہ قصہ اب مقام عبرت اور غرض وغایت کے بیان کے مقام تک پہنچ گیا ہے۔ یہ بات وضاحت کے ساتھ بیان کی جا چکی ہے کہ انسان کی ذات میں اس کا مادی پہلو کس طرح انسان کے روحانی پہلو پر غالب آجاتا ہے اور یہ کہ جو لوگ تعلق باللہ کو تازہ اور زندہ رکھتے ہیں ان پر شیطان کو دسترس حاصل نہیں ہوتی۔ چناچہ آخر…
Read the full tafseer →4 بعض سلف نے " سَبَعَۃُ اَبْوَابٍ " سے دوزخ کے سات طبقے اوپر نیچے مراد لیے ہیں، چناچہ ان کے نام ابن عباس نے یہ بتلائے ہیں جہنم 1 ف، سعیر 2 ف، لظیٰ 3 ف، حطمہ 4 ف، سقر 5 ف، جحیم 6 ف، ہاویہ 7 ف۔ اور لفظ " جہنم " ایک خاص طبقہ اور مجموعہ طبقات دونوں پر اطلاق کیا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک سات دروازے مراد ہیں، جن سے الگ الگ دوزخی داخل ہوں گے۔ واللہ اعلم۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جیسے بہشت کے آٹھ دروازے ہیں نیک عمل والوں پر بانٹے ہوئے، ویسے " دوزخ کے ساتھ دروازے ہیں بدعمل والوں پر بانٹے ہوئے۔ شاید بہشت کا ایک دروازہ اس لیے ہے کہ بعضے موحدین نرے فضل سے جنت میں جائیں گے بغیر عمل کے۔ باقی عمل میں دروازے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
آیت 44 لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ ۭ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ
جہنم کے ہر دروازے میں سے داخل ہونے والے جنوں اور انسانوں کو مخصوص کردیا گیا ہے۔ ممکن ہے دروازوں کی یہ تقسیم و تخصیص گناہوں کی نوعیت کے اعتبار سے ہو۔ واللہ اعلم !
اہل جہنم کے ذکر کے بعد اب اہل جنت کا ذکر ہونے جا رہا ہے۔ موازنے اور فوری تقابل simultaneous contrast کا یہ انداز و اسلوب قرآن میں ہمیں جگہ جگہ ملتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
24 جہنم کے دروازے طبقے اور ان کے نام :۔ تقسیم شدہ حصہ سے مراد یہ ہے کہ ایک ہی گناہ کے مجرم الگ کردیئے جائیں گے اور وہ سب ایک ہی دروازہ سے داخل ہوں گے۔ جیسے دہریے ایک دروازے سے، مشرک الگ دروازہ سے، منافق الگ دروازے سے وغیرہ وغیرہ۔ بالفاظ دیگر جہنم کے ہر طبقہ کے لیے الگ الگ دروازہ ہوگا اور یہ طبقات بھی سات ہی ہوں گے۔ ابن عباس ؓ کے نزدیک ان کے نام یہ ہیں۔ جہنم، سعیر، لظیٰ ، حطمہ، سقر جحیم اور ہاویہ اور جہنم کا لفظ ان سب طبقات کے لیے عام بھی ہے اور پہلے طبقہ کا نام بھی ہے۔ اور بعض لوگوں نے ان طبقات کے لیے گنہگاروں کی یوں تقسیم کی ہے۔ پہلے طبقہ جہنم میں گنہگار مسلمان۔ دوسرے طبقہ سعیر میں یہود،…
Read the full tafseer →37۔ (کہ کوئی کسی دروازہ سے جائے گا کوئی کسی سے) دروازوں کی یہ تعداد ممکن ہے کہ استحقاق عذاب کے لحاظ سے سات طبقوں کے اظہار کے لئے ہو۔ لان اھلھا سبع فرق (بیضاوی) اے سبعۃ اطباق (ابن جریر، عن عکرمہ) اے سبع طبقات ینزلونھا بحسب مراتبھم فی الغوایۃ والمتابعۃ (روح) یہ بھی ممکن ہے کہ محض خلود مراد ہو، اور اس سے مقصود دوزخ میں داخل ہونے والوں کی کثرت تعداد کا اظہار ہو، قیل المرادان لھا سبعۃ ابواب یدخلونھا لکثرتھم والاسراع بتعذیبھم (روح) یدخلون منھا لکثرتھم (بیضاوی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
آیت نمبر 26 تا 44
ترجمہ : بیشک ہم نے انسان (یعنی) آدم کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا یعنی ایسی خشک مٹی جب اس کو نجایا جائے تو اس کی آواز سنی جائے اور اس سے پہلے (یعنی) تخلیق آدم سے پہلے ہم نے جنات (یعنی) ابو الجن کو کہ وہ ابلیس ہے شعلے سے کہ جس میں دھواں نہ ہو اور وہ مسامات (یعنی بدن کے مسامات) میں نفوذ کر جائے پیدا کیا اور اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں انسان کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناے والی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں تو جب میں اس کو مکمل کر چکوں اور اس میں اپنی روح ڈال چکوں اور وہ زندہ ہوجائے اور روح کی نسبت اللہ کی طرف آدم کیلئے کرامت کے طور پر…
Read the full tafseer →لھا سبعۃ ابواب اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں۔ ہناد ‘ ابن مبارک اور امام احمد نے الزہد میں اور ابن جریر و ابن ابی الدنیا نے صفت النار (دوزخ کی حالت کا بیان) میں بیان کیا ہے کہ حضرت علی نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کے اوپر اور انگلیوں کو الگ الگ کر کے فرمایا : دوزخ کے دروازے اسی طرح ہوں گے ‘ یعنی ہر دروازہ کے اوپر دروازہ ہوگا (اس طرح دوزخ کی سات منزلیں اور درجات ہوں گے ( اوّل پہلی منزل بھر دی جائے گی ‘ پھر دوسری ‘ پھر تیسری ‘ پھر چوتھی ‘ پھر پانچویں ‘ پھر چھٹی ‘ پھر ساتویں۔
بغوی نے حضرت علی کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ اللہ نے جنت کو پھیلاؤ میں رکھا ہے (یعنی جنت کے اوپر جنت نہیں ہے) اور دوزخ کو ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
(43۔ 44) تیری راہ پر چلنے والے سب لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے جس کے ساتھ دروازے ہیں، بعض بعض سے نیچے ہیں جن میں سے سب سے بلند دوزخ اور سب سے نچلا ھاویہ ہے ہر دروازہ سے جانے کے لیے ان کافروں میں سے الگ الگ حصے متعین ہیں۔
Read the full tafseer →لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ : یہ سات دروازے مختلف قسم کے گناہ گاروں کے لیے ہوں گے، جو جہنمیوں کو جہنم کے مختلف درجوں کی طرف پہنچائیں گے۔ قرآن مجید میں جہنم کے درجوں کو ”درکات“ کہا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ) [ النساء : 145 ] ”بیشک منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔“ ابوطالب کے متعلق صحیح حدیث میں آیا ہے کہ آگ اس کے ٹخنوں تک پہنچ رہی ہوگی۔ سمرہ ؓ سے روایت کہ انھوں نے نبی ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے : (إِنَّ مِنْھُمْ مَنْ تَأْخُذُہُ النَّارُ إِلٰی کَعْبَیْہِ ، وَمِنْھُمْ مَنْ تَأْخُذُہُ إِلٰی حُجْزَتِہِ ، وَمِنْھُمْ مَنْ تَأْخُذُہُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
آیت نمبر 43 تا 44
قولہ تعالیٰ : وان جھنم لموعدھم اجمعین یعنی ابلیس اور اس کی پیروی کرنے والوں کے لئے (جہنم وعدہ کی جگہ ہے) لھا سبعۃ ابواب یعنی اس کے سات طبقات ہیں ہر طبق دوسرے طبق سے اوپر ہے۔ لکل باب یعنی ہر طبقہ کے لئے منھم جزء مقسوم ان میں سے مخصوص اور معلوم حصہ ہے۔
ابن المبارک نے ذکر کیا ہے کہ ہمیں ابراہیم ابو ہاروں الغنوی نے خبر دی انہوں نے کہا : میں نے حطان بن عبد اللہ رقاشی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے حضرت علی ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : کیا تم جانتے ہو جہنم کے دروازے کیسے ہیں ؟ ہم نے کہا : وہ ہمارے دروازوں کی مثل ہوں گے، انہوں نے کہا : نہیں، وہ اس طرح ہیں یعنی ان میں سے بعض بعض سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–48
1:۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فانظرنی الی یوم یبعثون “ سے مراد ہے کہ ابلیس نے ارادہ کیا کہ وہ موت کو نہ چکھے گا اسے کہا گیا کہ (آیت ) ” فانک من المنظرین (37) الی یوم الوقت المعلوم (38) پھر فرمایا نفخہ میں ابلیس مرجائے گا اور دونوں نفخہ کے درمیان چالیس سال کا وفقہ ہے فرمایا تو ابلیس چالیس سال تک مرا پڑا رہے گا۔
2:۔ امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قال فانک من المنظرین “ سے مراد ہے کہ اس کی مہلت نہیں ملی اٹھائے جانے کے دن تک لیکن اس کو وقت معلوم تک مہلت دی گئی۔
3:۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا عبادک منہم…
Read the full tafseer →[لَهَا : اس کے لئے ] [ سَبْعَةُ اَبْوَابٍ : سات دروازے ہیں ] [ لِكُلِ بَابٍ : ہر دروازے کے لئے ] [ مِّنْهُمْ : ان (گمراہوں) میں سے ] [ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ: ایک تقسیم کیا ہوا حصہ ہے ]
Read the full tafseer →دوزخ کے سات دروازے ہیں ہر دروازہ کے لیے حصہ مقسوم ہے
(لَھَا سَبْعَۃُ اَبْوَابٍ ) (دوزخ کے سات دروازے ہیں) بعض حضرات نے سات دروازوں سے سات دروازے ہی مراد لیے ہیں چونکہ دوزخ میں داخل ہونے والے بہت بھاری تعداد میں ہوں گے ان سب کے لیے ایک دروازہ کافی نہ ہوگا اس لیے سات دروازے رکھے گئے ہیں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جہنم کے سات دروازے ہیں ان میں سے ایک دروازہ ان لوگوں کے لیے ہے جو میری امت کو قتل کرنے کے لیے (نیام سے) تلوار نکالے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 306 از ترمذی)
بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ سات دروازوں سے سات طبقات مراد ہیں چونکہ ہر طبقہ کا علیحدہ علیحدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
ذکر پیدائش انس و جن و قصہ پیدائش آدم (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ : ولقد خلقنا الانسان من صلصال .... الیٰ .... لکل باب منھم جزء مقسوم۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں حق جل شانہ نے حیوانات کی پیدائش سے اپنی قدرت اور خالقیت کا ذکر فرمایا اب یہاں جن و انس سے اسی مقصود پر استدلال فرماتے ہیں اور جان سے مراد یہاں جنوں کا باپ ہے جس طرح اوپر کی آیتوں میں انسان سے تمام انسانوں کے باپ مراد ہیں دونوں میں فرق یہ ہے کہ آدمیوں کا باپ، ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ترابی غالب تھا اور جنوں کا باپ ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ناری کا غلبہ تھا۔ ابلیس اسی قسم میں سے تھا اللہ تعالیٰ نے ان دو مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
18:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ ابلیس، اس کی ذریت اور اولاد آدم میں سے جو ان کی پیروی کریں گے ان سب کا جہنم ہی ٹھکانا ہوگا۔ یعنی ابلیس و من اتبعہ (قرطبی ج 10 ص 30) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
(ربط آیات)
پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کیا ، ایک معمولی چیز یعنی سڑے ہوئے بدبودار گارے والی مٹی سے انسان کو پیدا کیا اور اسے کمال درجے کی حیثیت اور شان عطا فرمائی ، اس میں روح ڈالی ، فرشتوں سے اس کو سجدہ کرایا ، ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا اور اپنی برتری جتلانے کی کوشش کی کہ میں ناری ہو کر خاکی کے سامنے کیسے سجدہ بجا لاؤں ، اس نے تکبر میں آکر اللہ تعالیٰ کے حکم کی سرتابی کی ، تو اللہ نے اسے مردود ٹھہرا دیا اور فرمایا کہ قیامت تک تجھ پر لعنت ہی برستی رہے گی ،
(مہلت کی درخواست)
اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کے بعد شیطان نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کے لیے مہلت طلب کی ، جس کا ذکر اللہ…
Read the full tafseer →لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ ۭ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ 44ۧ
سبعۃ ابواب۔ دوزخ کے سات طبقے ہیں۔ ہر ایک طبقہ کا ایک ایک دروازہ ہے۔ ان سات طبقوں کے نام یہ ہیں۔ جہنم ۔ لظیٰ ۔ الحطمۃ السعیر ۔ السقر۔ الجحیم۔ الہاویہ۔
جزء
جُزْءُ الشیء : ما يتقوّم به جملته، كأجزاء السفینة، وأجزاء البیت، وأجزاء الجملة من الحساب قال تعالی: ثُمَّ اجْعَلْ عَلى كُلِّ جَبَلٍ مِنْهُنَّ جُزْءاً [ البقرة/ 260] ، وقال عزّ وجل :
لِكُلِّ بابٍ مِنْهُمْ جُزْءٌ مَقْسُومٌ [ الحجر/ 44] ، أي : نصیب، وذلک جزء من الشیء، وقال تعالی: وَجَعَلُوا لَهُ مِنْ عِبادِهِ جُزْءاً [ الزخرف/ 15] ، وقیل : ذلک عبارة عن الإناث، من قولهم :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–44
جان کی تعریف و تفسیر، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جان سب جنون کے باپ کا نام ہے اور یہی قول اکثر مفسرین کا ہے اور یہی ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے گو بعض نے جان سے مراد ابلیس لیا ہے جان کے معنی لغت میں ساتر یعنی چھپنے (چھپانے) والے کے ہیں کہتے ہیں جن الشیٔ اذاسترہ چونکہ آدم ( علیہ السلام) کے خلاف اس کا غالب مادہ آگ کا لطیف شعلہ ہے اس لیے یہ قوم محسوس نہیں ہوتی ہر ایک کو دکھلائی نہیں دیتی اور اس لیے اس قوم کو جن اور اس کے باپ کو جان کہتے ہیں۔
خدائے تعالیٰ لطیف وخبیر نے اول ملائکہ کو بنایا، ان کے بعد جن کی قوم کو جن کا مادہ ملائکہ سے ذرا قریب تر تھا، پھر انسان کو جس کا مادہ کثیف ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ دیگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
وَاِنَّ جَھَنَّمَ لَمَوْعِدُ ھُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ لَھَا سَبْعَۃُ اَبْوَابٍ ط لِکُلِّ بَابٍ مِّنْہُمْ جُزْئٌ مَّقْسُوْمٌ۔ (سورۃ الحجر : 43۔ 44)
(بیشک جہنم ان سب کے لیے وعدہ کی جگہ ہے۔ اس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک حصہ مخصوص ہے۔ )
جہنم کی وسعت اور اس میں لے جانے والے مہلکات
گزشتہ آیات میں ابلیس نے نہایت جسارت کے ساتھ پروردگار کے حضور میں کہا کہ میں تیرے بندوں کو ہر ممکن طریقے سے گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا۔ پروردگار نے فرمایا کہ میں تمہیں اس کے لیے مہلت دے چکا ہوں، تمہارے جو جی میں آئے کرو، لیکن یہ یاد رکھو میرے مخلص بندوں پر تمہارا بس نہیں چلے گا۔ صرف وہ گمراہ لوگ ہوں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ ابلیس کے جواب میں رب ذوالجلال کا فرمان۔
اخلاص ہی وہ صراط مستقیم ہے جس پر گامزن رہنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور اسی راستے پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ کی منشا اور رضا کو پاسکتا ہے۔ جو لوگ اس راستے کو اپنائیں گے ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ میرے بندے ہیں۔ اے ابلیس ! ان پر تیرا کبھی غلبہ نہ ہو پائے گا۔ ہاں ! تیرا غلبہ ان لوگوں پر ہوگا جو صراط مستقیم سے بھٹک کر تیری اطاعت کریں گے۔ ان سب کے لیے میرا وعدہ ہے کہ میں ضرور انہیں جہنم میں داخل کروں گا۔ جہنم کے سات دروازے ہیں اور ہر دروازے میں مقررہ تقسیم کے مطابق مجرموں کو داخل کیا جائے گا۔ اہل علم نے مقررہ تقسیم…
Read the full tafseer →ذرا تفصیل جہنم :
44: لَھَا سَبْعَۃُ اَبْوَابٍ لِکُلِّ بَابٍ مِّنْھُمْ (اس کے سات دروازے ہیں اور ہر دروازے کیلئے ان میں سے) ھمؔ سے ابلیس کے پیروکار مراد ہیں۔ جُزْئٌ مَّقْسُوْمٌ (ایک جزء تقسیم کیا ہوا ہے) حصہ مقررہ بانٹا ہوا۔ دوسرا قول آگ کے دروازے اس کے طبقات اور درکات ہیں۔ اس کا بالائی حصہ تو ان موحدین کیلئے ہے جو گناہوں کی وجہ سے بقدر گناہ عذاب دیے جائیں گے پھر ان کو نکال لیا جائے گا۔ اور دوسرا یہودکیلئے ہے تیسرا نصاری کیلئے۔ چوتھا صابئین اور پانچواں مجوس اور چھٹا مشرکین اور ساتواں منافقین کیلئے ہوگا۔
Read the full tafseer →44۔” لھا سبعۃ ابواب “ اس کے سات کواڑ ہیں۔
دوزخ کے دروازے اور سات طبقات
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ دوزخ کے دروازے کیسے ہوں گے۔ پھر حضر ت علی ؓ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کے اوپر اور انگلیوں کو الگ کرکے فرمایا، دوزخ کے دروازے اس طرح ہوں گے یعنی ہر دروازے کے اوپر ایک ایک دروازہ ہوگا، اللہ تعالیٰ نے جنت کو عرضاً پھیلایا ہے اور دوزخ کو ایک دوسرے کے اوپر۔
ابن جریج (رح) نے فرمایا کہ آگ کے سات طبقات ہیں۔ پہلا طبقہ جہنم، دوسرا الظی، تیسرا حطمۃ، چوتھا سعیر، پانچواں سقر، چھٹا جحیم ، ساتواں ہاویہ۔ ” لکل باب منھم جز مقسوم “ ہر طبقہ میں ایک قوم سکونت اختیار کرے گی۔
دوزخ کے ان سات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
41۔ 44۔ جب شیطان نے قیامت تک مہلت چاہی اور اس کو مہلت مل گئی اور اس نے بنی آدم کے بہکانے کا اور راہ حق سے پھیرنے کا بیڑا اٹھا لیا اور یہ کہا کہ تیرے خالص بندوں کو نہیں بہکا سکتا ہوں تو اس کا جواب اللہ پاک نے یہ دیا کہ یہی نیت کا خالص ہونا ہی تو سیدھا رستہ ہے جو مجھ تک ان لوگوں کو پہنچائے گا اور جو میرے چنے ہوئے بندے ہیں ان پر تیرا ایسا زور نہیں چلتا جو وہ تیرے بہکانے میں آجائیں گے ہاں جو لوگ ازلی گمراہ ہیں وہ البتہ تیرے بہکانے میں آجائیں گے تو ان کے واسطے میں نے جہنم کو بھی تیار کر رکھا ہے اور جہنم بھی وہ جس کے سات دروازے اور سات طبقے ہیں ہر ایک کے واسطے ان کے عمل کے مطابق یہ ساتوں طبقے جہنم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–44
آیت 26
اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے باپ حضرت آدم پر اپنی نعمت اور اپنے احسان کا ذکر کرت ا ہے، حضرت آدم کا اپنے دشمن ابلیس کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کو بھی بیان کرتا ہے اور اس ضمن میں ہمیں ابلیس کے شر اور فتنہ سے ڈراتا ہے، چناچہ فرمایا : (ولقد خلقنا الانسان) ” ہم نے انسان کو پیدا کیا۔ “ یعنی آدم کو پیدا کیا (من صلصال من حما مسنون) ” کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے “ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہوجاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔
(الحما المسنون) اس گارے کو کہتے ہیں، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں۔ (والجآن) ” اور جنوں…
Read the full tafseer →37۔ جہنم کے ہر دروازے کے لئے ایک حصہ مقرر ہوگا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ابلیس کے پیروکاروں کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا جس کے سات دروازے ہوں گے، ہر دروازے کے لیے ایک حصہ ہوگا طے شدہ ایسے لوگوں کا جنہوں نے اپنے اپنے عمل و کردار کے مطابق اس سے داخل ہونا ہوگا۔ والعیاذ باللہ۔ سو شیطان کے ایسے پیروکاروں نے اس کی پیروی میں ایسے دروازے سے بہرحال داخل ہونا ہوگا۔ اس سے بچنے کی ان کے لیے کوئی سورت ممکن نہ ہوگی۔ (ابن کثیر، المراغی، وغیرہ) اور جہنم کے ان دروازوں سے بعض نے اس کے مختلف طبقات مراد لیے ہیں۔ اور وہ ہیں جہنم پھر لظی پھر حطمہ پھر جحیم پھر ہاویہ۔ ان میں سے سب سے اوپر والاطبقہ گناہ گاراہل ایمان کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
انسان کی پیدائش اور ابلیس کی نافرمانی
تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا قصہ اور شیطان کا ملعون ہونا سورة بقرہ رکوع 4، سورة نساء رکوع 18 اور سورة اعراف رکوع 2 میں بڑی وضاحت سے بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں سورة الحجر میں کیونکہ ان آیات سے پہلے تمام کائنات اور ہر چیز کے ناپ تول کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے یہاں انسان کی پیدائش، جسم، نفس، روح اور زندگی کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب بھی اللہ نے بڑے حساب کتاب اور ناپ تول سے بنائے ہیں۔ یہاں وہ تمام راز کھول کر بیان کردیے گئے ہیں جو انسانی سائنسی تحقیقات سے بہت بلند ہیں۔ پچھلی آیات سے جو کچھ معلوم ہوا وہ تو تمام تخلیقات کے بارے میں تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
خود انسان کو بھی تو ہم نے ہی پیدا کیا سڑے ہوئے مٹی گارے سے جو خشک ہوچکا تھا ۔
(جنات کو پہلے پیدا کیا گیا)
قبل ازیں ہم جنات کو آگ کی لو سے پیدا کرچکے تھے یعنی آگ کی وہ تپش جو ایک گرم ہوا کی صورت میں تھی کہ آگ کا نظر آنا اجزائے کثیفہ کی ملاوٹ سے ہوتا ہے ورنہ وہ بہت لطیف ہوتی ہے تو گویا جنات کا وجود اسی سے پیدا ہوا جو نظر نہیں آتا ، اور جنات پہلے سے زمین پر آباد کئے گئے تھے ،۔
پھر وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب آپ کے رب نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میں کھنکتے اور سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر تخلیق کر رہا ہوں جب وہ بن چکے اور میں اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب کے سب اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
ف 9 ۔ خبر لان او مستانفہ۔ حضرت علی ؓ اور ابن عباس ؓ اور بعض دوسرے مفسرین سے مروی ہے کہ وہ طبقے ایک دوسرے کے اوپر ہوں گے۔ ان طبقات کے نام بھی مروی ہیں جن میں ایک طبقہ کا نام جہنم بھی مذکور ہے مگر کسی صحیح اثر سے یہ ثابت نہیں ہیں۔ بعض دوسرے مفسرین نے ” سبعہ ابواب ‘ سے مراد سات دروازے ہی لئے ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : جہنم کے ساتھ دروازے ہیں۔ ان میں سے ایک دروازہ ان لوگوں کے لئے ہے جو میری امت پر تلوار اٹھائیں۔ (ترمذی) ۔ آگ کی صفت میں بہت سی احادیث اور آثار مروی ہیں۔ (شوکانی) ۔
10 ۔ بٹے ہوئے فرقہ سے مراد بدکاروں کا بٹا ہو افرقہ ہے، یعنی جس طرح ایک خاص عمل والے لوگ جنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
(15:44) لھا۔ ھا ضمیر کا مرجع جہنم ہے۔
سبعۃ ابواب۔ دوزخ کے سات طبقے ہیں۔ ہر ایک طبقہ کا ایک ایک دروازہ ہے۔ ان سات طبقوں کے نام یہ ہیں۔ جہنم ۔ لظیٰ ۔ الحطمۃ السعیر ۔ السقر۔ الجحیم۔ الہاویہ۔
منہم میں ضمیر جمع مذکر غائب خاوین دوزخیوں کی طرف راجع ہے جن کا ذکر آیات بالا ۔ (42:43) میں اوپر آیا ہے اس صورت میں تقدیر کلام یوں ہے لکل باب جزء مقسوم منہم ہر دروازے کے لئے ان میں سے کا ایک مقسوم یعنی مخصوص حصہ یا گراہ ہوگا۔ اکثر مفسرین نے یہی صورت اختیار کی ہے۔ عبداللہ یوسف علی نے ہم کی ضمیر مرجع ابواب لیا ہے اور ترجمہ یوں کیا ہے اس جہنم کے ساتھ دروازے ہیں ان دروازوں میں سے ہر ایک دروازے کے لئے جہنمیوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 44
صلصال وہ مٹی جو سوکھ کر سخت ہوجائے اور بجنے لگے ۔ مسنون گوندھی گئی۔ السموم لو۔ نفخت میں نے پھونک دیا۔ پھونک ماردی، حما سڑی ہوئی مٹی، کیچڑ۔ جان جن۔ سویت میں نے برابر کردیا۔ ٹھیک کرلیا۔ روحی میری روح ، قعوا گرپڑو۔ ابی انکار کیا۔ ان یکون یہ کہ وہ ہو۔ مالک تجھے کیا ہوا۔ لم اکن میں نہیں ہوں بشر انسان۔ اخرج نکل جا۔ لعنت لنت، اللہ کی رحمت سے دوری۔ انظرنی تو مجھے مہلت دیدے۔ یبعثون (اٹھائے جائیں گے) ۔ اغویت (اغوائ) تو نے سیدھی راہ سے ہٹا دیا ۔ سلطن قوت، زور الغوین بہکنے والے۔ موعد وعدہ کی جگہ۔ سبعۃ ابواب سات دروازے۔ جزاء حصہ۔ مقسوم تقسیم کیا گیا۔
تشریح : آیت نمبر 26 تا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو میرے بندے خالص ہیں ان پر تجھ کو زور نہیں ہوگا کہ تتیرے بہکانے میں آجائی گے، ہاں جو لوگ ازلی گمراہ ہیں وہ البتہ تیرے بہکانے میں آجائی گے۔ تو ان کے واسطے میں نے جہنم کو بھی تیار کر رکھا ہے اور جہنم بھی وہ جس کے سات دروازے اور سات طبقے ہیں۔ ہر ایک کے واسطے ان کے عمل کے مطابق یہ ساتوں طبقے جہنم کے ہیں۔ جس میں یہ لوگ داخل کئے جائیں گے اور اپنے کئے کی سزا پاویں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–62
[17] دروازوں کی یہ تعداد ممکن ہے کہ استحقاق عذاب کے لحاظ سے سات طبقوں کے اظہار کے لئے ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مقصود دوزخ میں داخل ہونے والوں کی کثرت تعداد کا اظہار ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–48
شیطان کی وجہ تخلیق :
(ف 1) شیطان کو سجدہ نہ کرنے کی یہ سزا ملی کہ ہمیشہ کیلئے معتوب الہی ہوا ، اسے حکم دیا گیا ، کہ تم اب آسمان کی وسعتوں سے نکل جاؤ اور مکرو فریب کے لئے زمین پر رہو ، تمہیں قیامت تک مہلت ہے اپنی شیطنت کو بروئے کار لاؤ ، پوری قوت کے ساتھ اولاد آدم کو گمراہ کرنے کی کوشش کرو ، یاد رکھو وہ لوگ جو پاکباز اور متقی ہیں ، وہ تیری دستبر سے ہمیشہ بالا رہیں گے ، اور نفوس قدسیہ کو گمراہ نہیں کر سکوگے ، سوائے ان چند شریر النفس لوگوں کے جو تیرے ہم خیال ہیں ، اور کوئی تیری دوستی کا دم نہیں بھرے گا اور بالاخر تم سب لوگ جہنم کا ایندھن بنوگے ، شیطان اپنے تمام گروہ کے ساتھ جہنم میں داخل…
Read the full tafseer →44 ۔ جس کے سات دروازے ہیں ہر ایک دروازے سے داخل ہونے کے لئے شیطان کی پیرو ی کرنے والوں میں سے ایک ایک حصہ تقسیم کردیا گیا ہے۔ یعنی دوزخ کے ساتھ درکات ہیں ۔ جہنم ، لظی ، حطمہ ، سعیر ، مقر ، جحیم ، ہاویہ ، شیطان کی پیروی کرنے والے سات حصوں میں تقسیم کردیئے جائیں گے ، ہر ایک حصہ اور ہر ایک فرقہ ایک ایک در کہ کے دروازے سے داخل کردیا جائے گا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جیسے بہشت کے آٹھ دروازے ہیں نیک عمل والوں پر بانٹے ہوئے ویسے ہی دوزخ کے سات دروازے ہیں بد عمل لوگوں پر بانٹے ہوئے۔
شاید بہشت کا ایک دروازے زیادہ ہے کہ بعض لوگ نرے فضل سے جاویں گے بغیر عمل باقی عمل میں دروازے برابر ہیں۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
ف 4۔ یعنی جن کو آپ نے میرے اثر سے محفوظ رکھا ہے۔
Read the full tafseer →دوزخ کیلئے سات دروازے ہیں اور ہر دروازہ سے خاص گروہ گزرے گا :
44۔ ابواب باب کی جمع ہے ، کسی چیز میں داخل ہونے کا راستہ اور اصل میں مکانوں میں داخل ہونے کا راستہ ہے اور ایک علم کو بھی دوسرے علم کا دروازہ کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعہ سے دوسرے علم تک پہنچا جاتا ہے قرآن کریم میں ہے (آیت) ” فتحنا علیہم ابواب کل شیء “۔ (الانعام 6 : 44) اور ہم نے ان پر ہرچیز کے دروازے کھول دیئے ، مراد اس سے ذرائع ہیں ” ابواب الجنۃ “ اور ” ابواب الجھنم “ مراد وہ باتیں ہیں جن کے ذریعہ سے ان تک پہنچا جائے ۔ (راغب) اور ابواب جہنم سے مراد طبقات جہنم بھی لئے گئے ہیں اور پھر ان سات طبقوں کے نام بھی اس طرح ہیں جھنم ‘ نطی…
Read the full tafseer →The Seven Gates of Jahannam
About the statement: لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَابٍ (It has seven gates - 44), according to a narration of Sayyidna ` Ali ؓ reported by Imam Alhmad, Ibn Jarir Al-Tabari and Al-Baihaqi, the seven gates of Jahannam (Hell) are in terms of seven levels, one upon the other. Some others have taken these as common gates where every gate will be reserved for a special kind of sinners. (Qurtubi)
Read the full tafseer →26. Sinners will be divided into different groups in accordance with their different sins for their entry into Hell from seven different gates specified for each different sin. For instance, the group of atheists shall enter into Hell by one of the seven gates specified for their group. Likewise, mushriks, hypocrites, self-seekers, sensualists, tyrants, propagandists and leaders of disbelief etc. shall each enter into Hell through the gates specified for their group.
Read the full tafseer →