Explained with ayahs 45–50
جنت میں کوئی بغض و کینہ نہ رہے گا
دوزخیوں کا ذکر کر کے اب جنتیوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ باغات، نہروں اور چشموں میں ہوں گے۔ ان کو بشارت سنائی جائے گی کہ اب تم ہر آفت سے بچ گئے ہر ڈر اور گھبراہٹ سے مطمئن ہوگئے نہ نعمتوں کے زوال کا ڈر، نہ یہاں سے نکالے جانے کا خطرہ نہ فنا نہ کمی۔ اہل جنت کے دلوں میں گو دنیوں رنجشیں باقی رہ گئی ہوں مگر جنت میں جاتے ہی ایک دوسرے سے مل کر تمام گلے شکوے ختم ہوجائیں گے۔ حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی سینے بےکینہ ہوجائیں گے۔ چناچہ مرفوع حدیث میں بھی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ مومن جہنم سے نجات پا کر جنت دوزخ کے درمیان کے پل پر روک لئے جائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
سورة الْحِجْر 27
یعنی وہ لوگ جو شیطان کی پیروی سے بچے رہے ہوں اور جنہوں نے اللہ سے ڈرتے ہوئے عبدیت کی زندگی بسر کی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
خلاصہ تفسیر
بے شک خدا سے ڈرنے والے (یعنی اہل ایمان) باغوں اور چشموں میں (بستے) ہوں گے (خواہ اول ہی سے اگر معصیت نہ ہو یا معاف ہوگئی ہو اور خواہ سزائے معصیت بھگتنے کے بعد ان سے کہا جائے گا کہ) تم ان (جنات و عیون) میں سلامتی اور امن کے ساتھ داخل ہو (یعنی اس وقت بھی ہر ناپسند چیز سے سلامتی ہے اور آئندہ بھی کسی شر کا اندیشہ نہیں) اور (دنیا میں طبعی تقاضے سے) ان کے دلوں میں جو کینہ تھا ہم وہ سب (ان کے دلوں سے جنت میں داخل ہونے کے قبل ہی) دور کردیں گے کہ سب بھائی بھائی کی طرح (الفت و محبت سے) رہیں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھا کریں گے وہاں ان کو ذرا بھی تکلیف نہ پہنچے گی اور نہ وہ وہاں سے نکالے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
تفسیر آیت 45 تا 48:۔ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (45) ادْخُلُوهَا بِسَلامٍ آمِنِينَ (46) وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ (47) لا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ (48)
خدا ترسوں کا انجام نیک : اہل دوزخ کا انجام بیان کرنے کے بعد اب یہ ان لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے جو خدا سے ڈرنے والے اور اس کے احکام پر عمل کرنے والے ہیں۔ فرمایا کہ وہ باغوں اور چشموں کے درمیاں ابدی زندگی کے عیش و آرام میں ہوں گے۔ ان کے لیے خدا کی طرف سے یہ بشارت ہوگی کہ ادْخُلُوهَا بِسَلامٍ آمِنِينَ اب ہر قسم کے فکر و اندیشہ سے بالکل…
Read the full tafseer →45۔ 1 جہنم اور اہل جہنم کے بعد جنت اور اہل جنت کا تذکرہ کیا جا رہا ہے تاکہ جنت میں جانے کی ترغیب ہو۔ متقین سے مراد شرک سے بچنے والے موحدین ہیں اور بعض کے نزدیک وہ اہل ایمان جو معاصی سے بچتے رہے۔ جَنَّاتٍ سے مراد باغات اور عُیُونِ سے نہریں مراد ہیں۔ یہ باغات اور نہریں یا تو متقین کے لئے مشترکہ ہونگی، یا ہر ایک کے لئے الگ الگ باغات اور نہریں یا ایک ایک باغ اور نہر ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–47
18: یعنی دنیا میں ان حضرات کے درمیان اگر کوئی رنجش رہی ہو تو جنت میں پہنچنے کے بعد اللہ تعالیٰ وہ ان کے دلوں سے نکال دیں گے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
آیت نمبر 45 تا 48
متقی کون ہیں ؟ وہ جو خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان اسباب سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں جو عذاب الٰہی کا باعث بنتے ہیں۔ جتنوں میں جن چشموں کا ذکر ہے وہ سات ابواب کے بالمقابل ہے۔ یہ لوگ جنتوں میں نہایت ہی امن و اطمینان سے اتریں گے اور وہ اس طرح خوفزدہ نہ ہوں گے جس طرح اہل جہنم تھے۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کدورت ہوگی وہ بھی ہم نکال دیں گے ۔ جبکہ ابلیس کے دل میں جو حسد اور کینہ ہوگا وہ اہل جہنم کے ساتھ ہمیشہ رہے گا اور وہ ایک دوسرے کو ملامت کرتے رہیں گے۔ جبکہ اہل جنت کے لئے کوئی مشقت نہ ہوگی اور نہ ان کے لئے وہاں سے نکلنے کا کوئی…
Read the full tafseer →5 جو لوگ کفر و شرک اور معاصی وذنوب سے پرہیز کرتے ہیں، وہ حسب مراتب جنت کے باغوں میں رہیں گے جہاں بڑے قرینہ سے چشمے اور نہریں بہتی ہوں گی شیطان کے متبعین کے بعد یہ عباد مخلصین کا انجام بیان فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
آیت 44 لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ ۭ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ
جہنم کے ہر دروازے میں سے داخل ہونے والے جنوں اور انسانوں کو مخصوص کردیا گیا ہے۔ ممکن ہے دروازوں کی یہ تقسیم و تخصیص گناہوں کی نوعیت کے اعتبار سے ہو۔ واللہ اعلم !
اہل جہنم کے ذکر کے بعد اب اہل جنت کا ذکر ہونے جا رہا ہے۔ موازنے اور فوری تقابل simultaneous contrast کا یہ انداز و اسلوب قرآن میں ہمیں جگہ جگہ ملتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
24 جہنم کے دروازے طبقے اور ان کے نام :۔ تقسیم شدہ حصہ سے مراد یہ ہے کہ ایک ہی گناہ کے مجرم الگ کردیئے جائیں گے اور وہ سب ایک ہی دروازہ سے داخل ہوں گے۔ جیسے دہریے ایک دروازے سے، مشرک الگ دروازہ سے، منافق الگ دروازے سے وغیرہ وغیرہ۔ بالفاظ دیگر جہنم کے ہر طبقہ کے لیے الگ الگ دروازہ ہوگا اور یہ طبقات بھی سات ہی ہوں گے۔ ابن عباس ؓ کے نزدیک ان کے نام یہ ہیں۔ جہنم، سعیر، لظیٰ ، حطمہ، سقر جحیم اور ہاویہ اور جہنم کا لفظ ان سب طبقات کے لیے عام بھی ہے اور پہلے طبقہ کا نام بھی ہے۔ اور بعض لوگوں نے ان طبقات کے لیے گنہگاروں کی یوں تقسیم کی ہے۔ پہلے طبقہ جہنم میں گنہگار مسلمان۔ دوسرے طبقہ سعیر میں یہود،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
38۔ یعنی اہل ایمان سے ارشاد ہوگا کہ تمہیں اس وقت بھی ہر مکروہ سے سلامتی ہے اور آئندہ بھی کسی شرکا اندیشہ نہیں۔ متقین “۔ متقی سے یہاں مراد وہ لوگ نہیں جو جمیع معاصی صغیر وکبیر سے بچے رہے ہوں (جیسا کہ معتزلہ نے سمجھا ہے) بلکہ صرف شرک وکفر سے بچنے والے مقصود ہیں۔ وھو قول جمھور الصحابۃ والتابعین وھو المنقول عن ابن عباس ان المراد الذین اتقوا الشرک باللہ تعالیٰ والکفر بہ واقول ھذا القول ھو الحق الصحیح (کبیر) یتناول جمیع القائلین بلاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ قولا واعتقادا سواء کانوا من اھل الطاعۃ اومن اھل المعصیۃ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
آیت نمبر 45 تا 60
ترجمہ : (شرک و کفر سے) بچنے والے (متقی) باغوں اور چشموں میں ہوں گے جو باغوں میں جاری ہوں گے، ان سے کہا جائیگا ہر گھبراہٹ سے سلامتی اور امن کے ساتھ اس میں داخل ہوجاؤ، (یعنی) حال یہ کہ تم ہر خطرہ سے سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ، یا سلام کے ساتھ، یعنی سلام کرو اور داخل ہوجاؤ، ان کے دلوں میں جو تھوڑی بہت کھوٹ کپٹ ہوگئی ہم اس کو نکالدیں گے وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر مسہریوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے (اخوانا) ھم ضمیر سے ھال ہے (متقابلین) بھی اخوانا سے حال ہے یعنی کوئی کسی کی گدی (پشت) کو نہ دیکھے گا، اسلئے کہ ان کے تخت دائرہ کی شکل میں ہوں گے، نہ وہاں انھیں کسی مشقت سے پالا پڑے گا…
Read the full tafseer →ان المتقین فی جنت وعیون : بیشک پرہیزگار لوگ (جنہوں نے شیطان کے اغواء میں آکر شرک نہیں کیا ہوگا ‘ شرک سے پرہیز رکھا ہوگا) جنتوں اور (جنتی) چشموں میں ہوں گے (ہر شخص کی ایک جنت اور ایک چشمہ ‘ یا ہر ایک کی متعدد جنتیں اور متعدد چشمے ہوں گے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
(45۔ 46) کفر وشرک اور برائیوں سے بچنے والے یعنی حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ اور ان کے ساتھی باغوں اور پاکیزہ پانی کے چشموں میں بستے ہوں گے اللہ تعالیٰ ان سے قیامت کے دن فرمائیں گے جنت میں سلام اور تحیت اور موت اور زوال سے امن وسلامتی کے ساتھ داخل ہو۔
شان نزول : (آیت) ”ان المتقین“۔ (الخ)
ابوثعلبی نے سلمان فارسی ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے جس وقت یہ آیت کریمہ سنی۔ (آیت) ”وان جھنم“۔ (الخ) (اور ان سب سے جہنم کا وعدہ ہے) تو کئی دن تک خوف سے بھاگے پھرے کسی چیز کا ہوش نہ رہا۔
پھر ان کو رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ پر یہ آیت نازل ہوئی (کہ ان…
Read the full tafseer →”نَّ الْمُتَّقِيْنَ“ ”اِتَّقٰی“ باب افتعال سے اسم فاعل ”مُتَّقِیْ“ کی جمع ہے۔ مجرد ”وَقٰی یَقِيْ وَقَایَۃً“ ہے، بمعنی بچانا اور نقصان دہ چیزوں سے محفوظ رکھنا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (2)۔
فِيْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ : گمراہ لوگوں کے برے انجام کے ساتھ ہی متقی لوگوں کے بہترین انجام کا ذکر ہے اور یہ قرآن مجید کا عام انداز ہے کہ وہ دونوں پہلوؤں کا ساتھ ساتھ ذکر کرتا ہے۔ ”جَنّٰتٍ“ ”جَنَّۃٌ“ کی جمع ہے، گھنے درختوں کا باغ جو زمین کو چھپائے ہوئے ہو۔ ”جَنَّ یَجُنُّ“ کا معنی ہے چھپانا۔ ”وَّعُيُوْنٍ“ کا معنی ہے چشمے، مراد وہ چشمے ہیں جن سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں، یا الگ چشمے، کیونکہ چشموں کا حسن ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
آیت نمبر 45 تا 46
قولہ تعالیٰ : ان المتقین فی جنت وعیون یعنی وہ لوگ جو فواحش اور شرک سے بچتے رہے۔ فی جنت یعنی وہ باغات میں وعیون (اور چشموں میں (آباد) ہوں گے) اور یہ چار نہریں ہیں : پانی، شراب، دودھ اور شہد کی نہریں۔ اور رہے وہ چشمے جن کا ذکر سورة الانسان میں کیا گیا ہے یعنی کافور، زنجیل اور سلسبیل، اور سورة المطففین میں : تسنیم ہے ان کا ذکر اور ان کے باسیوں کا ذکر آگے آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اور عیون میں اصل کی بنا پر عین کو ضمہ، اور یا کی رعایت کرتے ہوئے اسے کسرہ بھی دیا گیا ہے۔ اور ان دونوں کے ساتھ اسے پڑھا گیا ہے۔ ادخلوھا بسلم امنین عام قرأت ادخلوھا میں ہمزہ وصل اور خا کے ضمہ کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–48
1:۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فانظرنی الی یوم یبعثون “ سے مراد ہے کہ ابلیس نے ارادہ کیا کہ وہ موت کو نہ چکھے گا اسے کہا گیا کہ (آیت ) ” فانک من المنظرین (37) الی یوم الوقت المعلوم (38) پھر فرمایا نفخہ میں ابلیس مرجائے گا اور دونوں نفخہ کے درمیان چالیس سال کا وفقہ ہے فرمایا تو ابلیس چالیس سال تک مرا پڑا رہے گا۔
2:۔ امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قال فانک من المنظرین “ سے مراد ہے کہ اس کی مہلت نہیں ملی اٹھائے جانے کے دن تک لیکن اس کو وقت معلوم تک مہلت دی گئی۔
3:۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا عبادک منہم…
Read the full tafseer →[ان : یقینا ] [ الْمُتَّقِيْنَ : تقوٰی کرنے والے ] [ فِيْ جَنّٰتٍ : باغوں میں ] [ وَّ عُيُوْنٍ : اور چشموں میں ہونگے ]
ترکیب : ان آیات میں قیامت کے واقعات کا ذکر ہے اس لئے جملہ اسمیہ یعنی حال اور فعل ماضی کا ترجمہ مستقبل میں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
متقی باغوں اور چشموں میں ہوں گے، سلامتی کے ساتھ رہیں گے آپس میں کوئی کینہ نہ ہوگا
گزشتہ آیت میں دوزخ کا اور اس کے دروازوں کا ذکر تھا اور یہ فرمایا تھا کہ دوزخ میں ابلیس کا اتباع کرنے والے داخل ہوں گے، اب یہاں ان آیات میں اہل جنت اور ان کی بعض نعمتوں کا ذکر ہے، جنت والے کون ہیں ؟ یہ متقی حضرت ہیں تقویٰ کے بہت سے درجات ہیں کفر شرک سے بچنا سب سے بڑا تقویٰ ہے، کبیرہ گناہوں سے بچنا بھی تقویٰ ہے صغیر گناہوں سے بچنا بھی تقویٰ میں شامل ہے مکروہات سے بچنا اور متشابہات سے بچنا یہ بھی تقویٰ ہے جنت میں کوئی کافر و مشرک تو جا ہی نہیں سکتا مسلمان اپنے اپنے تقویٰ کے اعتبار سے جنت کے درجات میں داخل ہوں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–77
ذکر نعمائے اہل جنت
قال اللہ تعالیٰ : ان المتقین فی جنت وعیون .... الیٰ .... وان عذابی ھو العذاب الالیم۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں گنہگاروں کا اور ان کے لیے جہنم کی سزا کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں پرہیزگاروں کے ثواب اور ان کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں اور متقی وہ لوگ ہیں کہ جو بتوفیق الٰہی اور بتائید ایزدی شیطان کے اغواء اور تسلط سے محفوظ رہے اور ابلیس لعین کی تسویل و تزئین سے دنیا کی آرائش کے دلدادہ نہ بنے آخرت ہی کی فکر میں لگے رہے چناچہ فرماتے ہیں۔
تحقیق جن لوگوں نے تقویٰ اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کی اور شیطان کے اغوا اور تزئین سے بچتے رہے وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے دودھ اور شراب کے چشمے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
19:۔ یہ شرک اور فواحش سے بچنے والوں کے لیے خوشخبری ہے۔ ” اُدْخُلُوْھَا الخ “ اس سے پہلے ” یقال لھم “ محذوف ہے یعنی ان سے کہا جائے گا کہ جنات میں سلامتی اور امن کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ ” وَ نَزَعْنَا الخ “ مومنین کے درمیان دنیا میں جو لڑائی جھگڑے ہوئے اور ان کی وجہ سے ان کے دلوں میں ایک دوسرے سے بغض اور ناراضی کے جو جذبات پیدا ہوگئے جنت میں ان کے دلوں کو ایسے تمام جذبات بغض و عداوت سے پاک و صاف کردیا جائے گا اور وہ بھائیوں کی طرح آمنے سامنے بیٹھ کر پیار اور محبت سے باتیں کریں گے۔ ” لَایَمَسُّھُمْ الخ “ دنیا مومن کے لیے محنت و مشقت اور امتحان و آزمائش کی جگہ ہے لیکن اس کیلئے جنت سراسر آرام و آسائش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
(ربط آیات)
پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کی نعمت کا ذکر کیا اور اس سلسلے میں شیطان کے اغواء اور اس کی طرف سے اللہ کے حکم کی سرتابی کا ذکر کیا اس کے نتیجے میں اللہ نے اسے مردود ٹھہرایا ، پھر اس نے مہلت طلب کی تو اللہ نے قیامت تک کے لیے مہلت بھی دے دی شیطان نے قسم اٹھا کر کہا کہ وہ اللہ کے بندوں کو گمراہ کرتا رہے گا ، البتہ مخلص بندوں پر اس کا وار کارگر نہیں ہوسکے گا ، اللہ نے فرمایا یہ اخلاص ہی میرا سیدھا راستہ ہے ، میرے بندوں پر تیرا غلبہ نہیں ہوگا ، البتہ گمراہ لوگ تیری پیروی کرکے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لیں گے جو ان کے وعدے کی جگہ ہے ، پھر فرمایا جہنم کے ساتھ دروازے ہیں اور ہر دروازے…
Read the full tafseer →اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ 45ۭ
وقی
الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35]
( و ق ی ) وقی ( ض )
وقایتہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] تو خدا ان کو بچا لیگا ۔
التقویٰ
اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس…
Read the full tafseer →تفسیر : توحید ثابت کرتے کرتے اس کے ضمن میں دارآخرت کا ذکر آگیا اور وہاں گنہگاروں کے لیے جہنم میں جانا بھی مذکور ہوا تو اس کے بعد نیک لوگوں کا حال اور انجام بیان کرنا گویا بیان کو تمام کردینا ہے۔ فرماتا ہے کہ متقین یعنی شرک و کفر سے بچنے والے یا کبائر سے بھی حتی المقدور باز رہنے والوں کو باغ اور ان میں نہر رواں ملیں گے اور فرشتے ان سے استقبال کر کے کہیں گے ان باغوں اور چشموں میں سلامتی اور امن سے داخل ہوجاؤ یا سلام علیکم کہیں گے اور بہشتیوں کے دلوں میں باہمی کدورت اور رنج نہ ہوگا، دنیاوی رنجشیں دل سے نکال دی جاویں گی، بھائی بھائی بنے ہوئے سونے کے تختوں پر آمنے سامنے تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ۔ اُدْخُلُوْھَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ ۔ وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ ۔ لاَیَمَسُّہُمْ فِیْھَا نَصَبٌ وَّمَا ھُمْ مِّنْھَا بِمُخْرَجِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 45۔ 46۔ 47۔ 48)
(بیشک اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ (انھیں کہا جائے گا) تم داخل ہوجاؤ ان جنتوں میں سلامتی کے ساتھ بےخوف ہوکر۔ ان کے سینوں کی کدورتیں ہم نکال دیں گے وہ آمنے سامنے بھائی بھائی کی طرح تختوں پر براجمان ہوں گے اس میں نہ تو کوئی ان کو تکان لاحق ہوگی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ )
متقین کا انجام
ابلیس اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میرے مخلص بندوں پر شیطان کا تسلط نہیں ہوسکتا۔ اب مخلص بندوں کے اجرو ثواب کا اعلان کیا جا رہا ہے۔
مخلص بندوں کی پہلی اور بنیادی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس کی نافرمانیوں سے بچتے ہیں۔ ان کے اجرو ثواب کا یوں تذکرہ فرمایا کہ یہ ایسی جنت میں داخل کئے جائیں گے جس میں چشمے اور آبشاریں جاری ہوں گی۔ وہ اس میں امن و سلامتی کے ساتھ داخل ہوں گے۔ جس میں انہیں نہ کوئی مشقت اٹھانا پڑے گی اور نہ ہی انہیں جنت سے نکالے جانے کا خطرہ ہوگا۔ دنیا میں رہتے ہوئے انسان ہونے کے ناطے سے اگر ان کی باہمی رنجش ہوگی تو اللہ ان کے دلوں سے…
Read the full tafseer →جنت اور اس کے انعامات کا تذکرہ :
45: اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍ (بیشک متقی لوگ باغات اور چشموں میں ہونگے) قراءت مدنی، حفص و بصری نے عیون میں عین کا ضمہ پڑھا ہے ابن کثیر، حمزہ و کسائی نے عِیُون عین کے کسرہ سے پڑھا ہے۔
المتقیؔ سے یہاں مطلق مراد ہے۔ یعنی جو منہیات سے بچتا ہے۔ کتاب الشرح میں ہے اگر اہل کبائر کو ] لھا سبعۃ ابواب لکل باب منہم جزء مقسوم[ میں شامل مان لیں پھر متقین سے مراد وہ لوگ ہونگے جو کبائر سے بچتے ہیں۔ ورنہ متقین سے مراد شرک سے بچنے والے ہونگے۔
Read the full tafseer →(45) ” ان المتقین فی جنت و عیون “ وہ باغات اور چشموں میں رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
45۔ 50۔ اللہ پاک نے دوزخ والوں کا حال بیان کر کے اہل جنت کا ذکر کیا کہ متقی لوگ جنت کے باغ اور نہروں میں ہوں گے اور صحیح وسالم وہاں رہیں گے کوئی رنج کوئی تکلیف کوئی بیماری وہاں نہیں ہوگی اور دنیا میں جنتی دو شخصوں کے درمیان شکر رنجی ہوگی وہ رنج و کدورت ان کے دلوں سے نکال دی جاوے گی اور جنت میں بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے مسندوں پر بیٹھے ہوں گے 1 ؎۔ بعض مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ یہ دس صحابہ ہیں حضرت ابوبکر ؓ حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، طلحہ، زبیر، عبد الرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، زید، عبد اللہ بن مسعود ؓ ان کے دلوں میں آپس میں جو کچھ دنیا میں ملال تھا وہ جنت میں بالکل نہیں رہے گا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
آیت 45
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں اس کے دشمنوں یعنی ابلیس کیپ یرو کاروں کو کیا سخت عذاب اور سزا دی جائے گی وہاں یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کو کس فضل عظیم اور دائمی نعمتوں سے نوازے گا۔ چناچہ فرمایا : (ان المتقین) ” بیشک پرہیز گار “ جو شیطان کی اطاعت، اس کے وسوسوں، گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے ہیں (فی جنت وعیون) ” باغتا اور چشموں میں ہوں گے “ جن میں درختوں کی تمام اقسام ہوں گی اور اس میں ہر قوت اور ہر قسم کے پکے ہوئے پھل ہوں گے۔ جنت میں داخل ہوتے وقت ان سے کہا جائے گا (ادخلوھا بسلم امنین) ” داخل ہوجاؤ اس میں سلامتی سے ہر نقصان سے محفوظ “ یعنی موت،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
38۔ پرہیزگاروں کے حسن انجام کا ذکر وبیان : سودوزخیوں کا انجام بیان کرنے کے بعد اب یہاں سے پرہیزگاروں کا انجام بیان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پرہیزگار لوگ یقینی طور پر عظیم الشان جنتوں میں ہوں گے، یعنی وہ خوش نصیب جنہوں نے کفر و شرک اور معصیت وغیرہ ہراس چیز سے پرہیز کیا ہوگا جو خدا وندقدوس کی ناراضگی کا باعث بنتی ہے۔ وباللہ التوفیق۔ اور جن عظیم الشان جنتوں اور چشموں سے ان کو نوازا جائے گا وہ ایسے عظیم الشان ہوں گے کہ اس دنیا میں اس کا تصور کرنا بھی کسی کے لئے ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل وکرم سے ان سے سرفراز فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
39۔ اہل جنت کے لئے دائمی امن و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
نیکوں کے لیے خوشخبری اور بروں کے لیے ڈراوا
تشریح : ان آیات میں نیک، صالح اور متقی لوگوں کے لیے انعامات کا بیان ہے۔ متقی کی تعریف پیچھے گزر چکی ہے۔ مسلم کا مطلب ہے فرمانبردار، یعنی اسلام کے ہر حکم کی تعمیل دل و جان سے بخوشی کرنا اور یہی عبادت ہے چاہے اس حکم کا تعلق اللہ سے ہو یا بندوں سے ہو۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مکمل اسلامی زندگی گزارنے والے آدمی کا ہر کام عبادت ہے۔ کیونکہ وہ جو بھی کرتا ہے چاہے دنیاوی کام ہوں یا کہ مذہبی کام ہوں۔ مثلاً خریدو فروخت، اٹھنا، بیٹھنا، کھانا پینا، لکھنا پڑھنا، اور لوگوں سے ملنا جلنا سب کچھ عبادت میں شمار ہوتا ہے۔ کتنی مزے کی بات ہے ! عبادات، یعنی نماز، روزہ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
جو لوگ تقوی اختیار کرتے ہیں اور زندگی اطاعت الہی میں بسر کرتے ہیں یقینا باغوں اور چشموں کی بہترین سرزمین میں رہیں گے ایک ایسی جگہ جہاں کا داخلہ ہی ہر طرح کے امن کی ضمانت ہے اور جہاں داخلے پر کہہ دیا جائے گا جاؤ یہاں امن وسلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ نیز اگر دنیا میں کبھی ایک دوسرے کے درمیان رنجش بھی رہی ہوگی تو اس کا طبعی اثر یا خفگی جنت میں داخلے کے وقت دور کردی جائے گی ۔
(مزاج برزخ میں وہی رہتا ہے جو دنیا میں ہو)
گویا انسانی مزاج کو موت تبدیل نہیں کرتی نہ علم کو فنا کرتی ہے لہذا برزخ میں وہی مزاج رہتا ہے جو دنیا میں رہا ہو اور محبت وناراضگی کے اثرات دل میں موجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
ف 1 حضرت ابوسعید خدری سے صحیح روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : مومنوں کو جہنم سے نکال کر جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا تاکہ کے درمیان آپس کی زیادتیوں کی بنا پر جو کدورتیں پیدا ہوگئی تھیں وہ ان کے دلوں سے نکال دی جائیں۔ چناچہ جب وہ ان کدرتوں سے پاک صاف ہوجائیں گے انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دے دی جائے گی۔ حضرت علی فرماتے ہیں ” مجھے امید ہے کہ میں طلحہ اور زبیر ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
(15:44) لھا۔ ھا ضمیر کا مرجع جہنم ہے۔
سبعۃ ابواب۔ دوزخ کے سات طبقے ہیں۔ ہر ایک طبقہ کا ایک ایک دروازہ ہے۔ ان سات طبقوں کے نام یہ ہیں۔ جہنم ۔ لظیٰ ۔ الحطمۃ السعیر ۔ السقر۔ الجحیم۔ الہاویہ۔
منہم میں ضمیر جمع مذکر غائب خاوین دوزخیوں کی طرف راجع ہے جن کا ذکر آیات بالا ۔ (42:43) میں اوپر آیا ہے اس صورت میں تقدیر کلام یوں ہے لکل باب جزء مقسوم منہم ہر دروازے کے لئے ان میں سے کا ایک مقسوم یعنی مخصوص حصہ یا گراہ ہوگا۔ اکثر مفسرین نے یہی صورت اختیار کی ہے۔ عبداللہ یوسف علی نے ہم کی ضمیر مرجع ابواب لیا ہے اور ترجمہ یوں کیا ہے اس جہنم کے ساتھ دروازے ہیں ان دروازوں میں سے ہر ایک دروازے کے لئے جہنمیوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 50
عیون (عین) چشمے۔
ادخلوا تم داخل ہوجاؤ سلام سلامتی، امن و سکون۔ نزعنا ہم نے کھینچ نکالا۔ غل باہمی رنجش، ناراضگی، کینہ۔ سرر (سریر) ، تخت ، بیٹھنے کی اونچی جگہ۔ متقابلین ایک دوسرے کے سامنے۔ نصب بےسکونی، محنت و مشقت، تکلیف۔ نبئی بتا دے، ، خبردار کر دے۔
تشریح : آیت نمبر 45 تا 50
حضرت آدم کی پیدائش، ان کا جنت میں قیام اور شیطان کی نافرمانی کے بعد جب شیطان نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کی مہلت مانگی اور وہ مہلت دیدی گئی اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ جو لوگ تقویٰ اور پرہیزگاری کی زندگی اختیار کریں گے ان کی جنت کی دائمی راحتیں عطا کی جائیں گی۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
دوزخ وجنت کا ذکر
اللہ تعالیٰ نے دوزخ والوں کا حال بیان کر کے اہل جنت کا ذکر کیا کہ متقی لوگ جنت کے باغ اور نہروں میں ہوں گے اور صحیح وسالم رہیں گے۔ کوئی رنج و تکلیف اور کوئی بیماری وہاں نہیں ہوگی اور دنیا میں جتنی دو شخصوں کے درمیان شکر رنجی ہوگی وہ رنج کدورت ان کے دلوں سے نکال دی جاوے گی، اور جنت میں بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے مسندوں پر بیٹھے ہوں گے۔ جنت میں کسی قسم کی مشقست وغیرہ نہ ہوگی اور نہ لوگ وہاں سے نکلیں گے بلکہ آرام کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا کہ میرے بندوں کو یہ خبر دے دو کہ میں رحمت والا بھی ہوں اور میرا عذاب بھی سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–62
[17] دروازوں کی یہ تعداد ممکن ہے کہ استحقاق عذاب کے لحاظ سے سات طبقوں کے اظہار کے لئے ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مقصود دوزخ میں داخل ہونے والوں کی کثرت تعداد کا اظہار ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–48
شیطان کی وجہ تخلیق :
(ف 1) شیطان کو سجدہ نہ کرنے کی یہ سزا ملی کہ ہمیشہ کیلئے معتوب الہی ہوا ، اسے حکم دیا گیا ، کہ تم اب آسمان کی وسعتوں سے نکل جاؤ اور مکرو فریب کے لئے زمین پر رہو ، تمہیں قیامت تک مہلت ہے اپنی شیطنت کو بروئے کار لاؤ ، پوری قوت کے ساتھ اولاد آدم کو گمراہ کرنے کی کوشش کرو ، یاد رکھو وہ لوگ جو پاکباز اور متقی ہیں ، وہ تیری دستبر سے ہمیشہ بالا رہیں گے ، اور نفوس قدسیہ کو گمراہ نہیں کر سکوگے ، سوائے ان چند شریر النفس لوگوں کے جو تیرے ہم خیال ہیں ، اور کوئی تیری دوستی کا دم نہیں بھرے گا اور بالاخر تم سب لوگ جہنم کا ایندھن بنوگے ، شیطان اپنے تمام گروہ کے ساتھ جہنم میں داخل…
Read the full tafseer →45 ۔ بیشک پرہیز گار اور متقی حضرات باغوں میں اور چشموں میں ہوں گے یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈر نے والے اہل ایمان باغوں میں اور چشموں میں ہونگے اور ان نعمتوں میں آرام سے رہتے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
ف 4۔ یعنی جن کو آپ نے میرے اثر سے محفوظ رکھا ہے۔
Read the full tafseer →پرہیزگار لوگ چشموں اور باغوں میں ہوں گے :
45۔ بدبختوں کے ذکر کے بعد نیک بختوں کا ذکر شروع کردیا گیا ، زیر نظر آیت سے نیک بخت اور نیک سیرت ونیک کردار لوگوں کا ذکر ہے کہ یہ لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے ، آخرت کے خانہ عیش و راحت کیلئے قرآن کریم نے عموما جنت اور بعض جگہ روضہ کا لفظ استعمال کیا ہے ‘ نادان اس کی وجہ یہ قرار دیتے ہیں کہ عرب کے شور وبے حاصل صحرا کے بسنے والوں کی انتہا کی آرزو چونکہ سرسبز و شاداب باغوں ہی کی ہو سکتی ہے اس لئے ان کیلئے یہ لفظ اس مقام پر آخرت کیلئے قرآن کریم نے استعمال کیا ہے مگر یہ سمجھنا چاہئے کہ قرآن کریم کا مخاطب صرف عرب ہی نہیں بلکہ دنیا کا گوشہ گوشہ ہے اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
Commentary
According to Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ ، when the people of Jannah will enter Jannah, first of all two streams of water will be presented before them. They will drink water from the first stream and all mutual grudges they had from their life in the mortal world - the effect of which naturally survived right through the end - will be totally washed away. In its place, they all will feel love for each other in their hearts because mutual bickering too is virtually a pain and punishment as such, and Jannah is free of all pain.
As for the report appearing in Sahih Hadith:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
27. The righteous people are those who did not follow Satan but feared Allah and lived lives of obedience to Him.
Read the full tafseer →