Explained with ayahs 39–44
ابلیس کے سیاہ کارنامے
ابلیس کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اللہ کے گمراہ کرنے کی قسم کھا کر کہا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے کہا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں بھی اولاد آدم کے لئے زمین میں تیری نافرمانیوں کو خوب زینت دار کر کے دکھاؤں گا۔ اور انہیں رغبت دلا دلا کر نافرمانیوں میں مبتلا کروں گا، جہاں تک ہو سکے گا کوشش کروں گا کہ سب کو ہی بہکا دوں۔ لیکن ہاں تیرے خالص بندے میرے ہاتھ نہیں آسکتے۔ ایک اور آیت میں بھی ہے کہ گو تو نے اسے مجھ پر برتری دی ہے لیکن اب میں بھی اس کی اولاد کے پیچھے پڑجاؤں گا، چاہے کچھ تھوڑے سے چھوٹ جائیں باقی سب کو ہی لے ڈوبوں گا۔ اس پر جواب ملا کہ تم سب کا لوٹنا تو…
Read the full tafseer →سورة الْحِجْر 25
“ اس جگہ یہ قصہ جس غرض کے لیے بیان کیا گیا ہے اسے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سیاق وسباق کو واضح طور پر ذہن میں رکھا جائے۔ پہلے اور دوسرے رکوع کے مضمون پر غور کرنے سے یہ بات صاف سمجھ میں آجاتی ہے کہ اس سلسلہ بیان میں آدم و ابلیس کا یہ قصہ بیان کرنے سے مقصود کفار کو اس حقیقت پر متنبہ کرتا ہے کہ تم اپنے ازلی دشمن شیطان کے پھندے میں پھنس گئے ہو اور اس پستی میں گرے چلے جا رہے ہو جس میں وہ اپنے حسد کی بنا پر تمہیں گرانا چاہتا ہے۔ اس کے برعکس یہ نبی تمہیں اس کے پھندے سے نکال کر اس بلندی کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہا ہے جو دراصل انسان ہونے کی حیثیت سے تمہارا فطری مقام ہے۔ لیکن تم عجیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
اللہ تعالیٰ کے مخصوص بندوں پر شیطان کا تسلط نہ ہونے کے معنی
(آیت) اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مخصوص اور منتخب بندوں پر شیطانی فریب کا اثر نہیں ہوتا مگر اسی واقعہ آدم میں یہ بھی مذکور ہے کہ آدم وحوا پر اس کا فریب چل گیا اسی طرح صحابہ کرام ؓ اجمعین کے بارے میں قرآن کریم کا ارشاد ہے (آیت) اِنَّمَا اسْتَزَلَّھُمُ الشَّـيْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا (آل عمران) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ پر بھی شیطان کا کید اس موقع میں چل گیا۔
اس لئے آیت مذکورہ میں اللہ کے مخصوص بندوں پر شیطان کا تسلط نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے قلوب وعقول پر شیطان کا ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
تفسیر آیات 43 تا 44: وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِينَ (43) لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَابٍ لِكُلِّ بَابٍ مِنْهُمْ جُزْءٌ مَقْسُومٌ (44)۔ یہ ان لوگوں کا انجام بتایا گیا ہے جو شیطان کی پیروی کریں گے۔ فرمایا کہ ایسے سارے لوگ جو میری صراط مستقیم کو چھوڑ کر ابلیس کی راہ اختیار کریں گے، خواہ وہ جنات میں سے ہوں یا انسانوں میں سے اور خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، ان سب کا ٹھکانا جہنم ہوگی۔ ان کو جس عذاب کی آج خبر دی جا رہی ہے اس سے وہ دوچار ہوں گے۔ لفظ " اجمعین " کے زور کو سمجھنے کے لیے ابلیس کے قول لاغوینہم اجمعین پر نظر رہے۔ ابلیس نے بڑے طنطنہ کے ساتھ دعوی کیا کہ میں سب کو گمراہ…
Read the full tafseer →43۔ 1 یعنی جتنے بھی تیرے پیروکار ہوں گے، سب جہنم کا ایندھن بنیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–47
18: یعنی دنیا میں ان حضرات کے درمیان اگر کوئی رنجش رہی ہو تو جنت میں پہنچنے کے بعد اللہ تعالیٰ وہ ان کے دلوں سے نکال دیں گے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
آیت نمبر 43 تا 44
سات دروازے کا لفظ محض عدد کا اظہار ہے یا واقعی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے دونوں معنوں کے لینے سے حقیقت نفس الامری میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ گمراہوں کی کئی اقسام اور درجات ہیں اور گمراہی کی بھی کئی شکلیں اور رنگ ہیں۔ لہٰذا ہر قسم کے لوگوں کے لئے ایک دروازہ مخصوص ہوگا ان کے مقام اور مرتبے کے لحاظ سے۔
یہ قصہ اب مقام عبرت اور غرض وغایت کے بیان کے مقام تک پہنچ گیا ہے۔ یہ بات وضاحت کے ساتھ بیان کی جا چکی ہے کہ انسان کی ذات میں اس کا مادی پہلو کس طرح انسان کے روحانی پہلو پر غالب آجاتا ہے اور یہ کہ جو لوگ تعلق باللہ کو تازہ اور زندہ رکھتے ہیں ان پر شیطان کو دسترس حاصل نہیں ہوتی۔ چناچہ آخر…
Read the full tafseer →3 یعنی تیرے اور تیرے ساتھیوں کے لیے دوزخ کا جیل خانہ تیار ہے تم سب اسی گھاٹ اتارے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →آیت 43 وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِيْنَ
جو لوگ بھی تیری پیروی کریں گے ان سب کے لیے جہنم کا وعدہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
23 شیطان کو کس حد تک اختیار دیا گیا ہے ؟:۔ شیطان کو صرف اتنا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ دھوکے سے، فریب سے، جھوٹ بول کر، وسوسے ڈال کر، دنیا کے فوائد میں الجھا کر، غلط قسم کی توقعات اور وعدے دے کر انسان کو گمراہ کرسکتا ہے تو کرے مگر اسے یہ اختیار قطعاً نہیں دیا گیا کہ وہ کسی کو زبردستی کھینچ کر اللہ کی راہ سے ہٹا کر اپنی راہ پر ڈال دے۔ جیسا کہ پہلے سورة ابراہیم کی آیت نمبر 22 میں گزر چکا ہے کہ شیطان خود اہل دوزخ کے سامنے اس بات کا اعتراف کرے گا کہ میں نے تم سے جھوٹا وعدہ کیا اور تمہیں اپنی طرف بلایا جس کی میرے پاس کوئی دلیل نہ تھی پھر بھی تم نے میری دعوت کو تسلیم کرلیا۔ حالانکہ میرا تم پر کچھ زور…
Read the full tafseer →36۔ یعنی خود شیطان، اس کی ذریات اور اس کے پیروؤں کی وعدہ گاہ، قال ابن عباس یرید ابلیس واشیاعہ ومن اتبعہ من الغاوین (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
آیت نمبر 26 تا 44
ترجمہ : بیشک ہم نے انسان (یعنی) آدم کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا یعنی ایسی خشک مٹی جب اس کو نجایا جائے تو اس کی آواز سنی جائے اور اس سے پہلے (یعنی) تخلیق آدم سے پہلے ہم نے جنات (یعنی) ابو الجن کو کہ وہ ابلیس ہے شعلے سے کہ جس میں دھواں نہ ہو اور وہ مسامات (یعنی بدن کے مسامات) میں نفوذ کر جائے پیدا کیا اور اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں انسان کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناے والی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں تو جب میں اس کو مکمل کر چکوں اور اس میں اپنی روح ڈال چکوں اور وہ زندہ ہوجائے اور روح کی نسبت اللہ کی طرف آدم کیلئے کرامت کے طور پر…
Read the full tafseer →وان جھنم لموعدھم اجمعین اور جو لوگ تیری راہ پر چلیں گے ‘ ان سب سے جہنم کا وعدہ ہے۔ اَجْمَعِیْنَ ھُمْ کی تاکید ہے ‘ یا حال ہے۔ مَوْعِد مصدر ہے اور اَجْمَعِیْن میں عامل ہے۔ مَوْعِد اسم مکان ہے بھی ہے (وعدۂ مقرر کی جگہ) اس وقت مَوْعِد عامل نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
(43۔ 44) تیری راہ پر چلنے والے سب لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے جس کے ساتھ دروازے ہیں، بعض بعض سے نیچے ہیں جن میں سے سب سے بلند دوزخ اور سب سے نچلا ھاویہ ہے ہر دروازہ سے جانے کے لیے ان کافروں میں سے الگ الگ حصے متعین ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ۔۔ : یہ پچھلی بات ہی کی وضاحت ہے اور مستثنیٰ منقطع ہے اور اگر ”عِبَادٌ“ سے مراد عام ہو تو مستثنیٰ متصل ہوگا، مطلب یہ کہ جو خود ہی بھٹکے ہوں اور جہالت کی بنا پر خود ہی تیری پیروی کرنا چاہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
آیت نمبر 43 تا 44
قولہ تعالیٰ : وان جھنم لموعدھم اجمعین یعنی ابلیس اور اس کی پیروی کرنے والوں کے لئے (جہنم وعدہ کی جگہ ہے) لھا سبعۃ ابواب یعنی اس کے سات طبقات ہیں ہر طبق دوسرے طبق سے اوپر ہے۔ لکل باب یعنی ہر طبقہ کے لئے منھم جزء مقسوم ان میں سے مخصوص اور معلوم حصہ ہے۔
ابن المبارک نے ذکر کیا ہے کہ ہمیں ابراہیم ابو ہاروں الغنوی نے خبر دی انہوں نے کہا : میں نے حطان بن عبد اللہ رقاشی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے حضرت علی ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : کیا تم جانتے ہو جہنم کے دروازے کیسے ہیں ؟ ہم نے کہا : وہ ہمارے دروازوں کی مثل ہوں گے، انہوں نے کہا : نہیں، وہ اس طرح ہیں یعنی ان میں سے بعض بعض سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–48
1:۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فانظرنی الی یوم یبعثون “ سے مراد ہے کہ ابلیس نے ارادہ کیا کہ وہ موت کو نہ چکھے گا اسے کہا گیا کہ (آیت ) ” فانک من المنظرین (37) الی یوم الوقت المعلوم (38) پھر فرمایا نفخہ میں ابلیس مرجائے گا اور دونوں نفخہ کے درمیان چالیس سال کا وفقہ ہے فرمایا تو ابلیس چالیس سال تک مرا پڑا رہے گا۔
2:۔ امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قال فانک من المنظرین “ سے مراد ہے کہ اس کی مہلت نہیں ملی اٹھائے جانے کے دن تک لیکن اس کو وقت معلوم تک مہلت دی گئی۔
3:۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا عبادک منہم…
Read the full tafseer →[وَان : اور بیشک ] [جَهَنَّمَ : جہنم ] [لَمَوْعِدُهُمْ : یقینا ان کے وعدے کی جگہ ہے ] [اَجْمَعِيْنَ : سب کے سب کی ]
Read the full tafseer →شیطان اور اس کا اتباع کرنے والے دوزخ میں ہوں گے
آخر میں فرمایا (وَ اِنَّ جَھَنَّمَ لَمَوْعِدُھُمْ اَجْمَعِیْنَ ) (اور بلاشبہ ان سب سے جہنم کا وعدہ ہے) یعنی جو لوگ تیرا اتباع کریں گے وہ سب دوزخ میں داخل ہوں گے، سورة ص میں ہے کہ جب ابلیس نے کہا کہ میں ان سب کو گمراہ کروں گا تو اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا (لَاَمْلَءَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکَ وَمِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ اَجْمَعِیْنَ ) (میں تجھ سے اور جو لوگ تیرا اتباع کریں گے ان سب سے دوزخ کو بھر دوں گا) ابلیس تو اپنے تکبر کی وجہ سے جہنم میں جانے کو تیار ہی ہے لیکن بنی آدم پر افسوس ہے کہ وہ اپنے اس دشمن کی باتوں پر چلتے ہیں جس نے انہیں گمراہ کرنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
ذکر پیدائش انس و جن و قصہ پیدائش آدم (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ : ولقد خلقنا الانسان من صلصال .... الیٰ .... لکل باب منھم جزء مقسوم۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں حق جل شانہ نے حیوانات کی پیدائش سے اپنی قدرت اور خالقیت کا ذکر فرمایا اب یہاں جن و انس سے اسی مقصود پر استدلال فرماتے ہیں اور جان سے مراد یہاں جنوں کا باپ ہے جس طرح اوپر کی آیتوں میں انسان سے تمام انسانوں کے باپ مراد ہیں دونوں میں فرق یہ ہے کہ آدمیوں کا باپ، ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ترابی غالب تھا اور جنوں کا باپ ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ناری کا غلبہ تھا۔ ابلیس اسی قسم میں سے تھا اللہ تعالیٰ نے ان دو مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
18:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ ابلیس، اس کی ذریت اور اولاد آدم میں سے جو ان کی پیروی کریں گے ان سب کا جہنم ہی ٹھکانا ہوگا۔ یعنی ابلیس و من اتبعہ (قرطبی ج 10 ص 30) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
(ربط آیات)
پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کیا ، ایک معمولی چیز یعنی سڑے ہوئے بدبودار گارے والی مٹی سے انسان کو پیدا کیا اور اسے کمال درجے کی حیثیت اور شان عطا فرمائی ، اس میں روح ڈالی ، فرشتوں سے اس کو سجدہ کرایا ، ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا اور اپنی برتری جتلانے کی کوشش کی کہ میں ناری ہو کر خاکی کے سامنے کیسے سجدہ بجا لاؤں ، اس نے تکبر میں آکر اللہ تعالیٰ کے حکم کی سرتابی کی ، تو اللہ نے اسے مردود ٹھہرا دیا اور فرمایا کہ قیامت تک تجھ پر لعنت ہی برستی رہے گی ،
(مہلت کی درخواست)
اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کے بعد شیطان نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کے لیے مہلت طلب کی ، جس کا ذکر اللہ…
Read the full tafseer →وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِيْنَ 43ڐ
جهنم
جَهَنَّم اسم لنار اللہ الموقدة، قيل : وأصلها فارسيّ
معرّب جهنام «1» ، وقال أبو مسلم : كهنّام «2» ، والله أعلم .
( ج ھ ن م ) جھنم
۔ دوزخ کا نام ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اصل فارسی لفظ جنام سے معرب ہی واللہ علم ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–44
جان کی تعریف و تفسیر، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جان سب جنون کے باپ کا نام ہے اور یہی قول اکثر مفسرین کا ہے اور یہی ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے گو بعض نے جان سے مراد ابلیس لیا ہے جان کے معنی لغت میں ساتر یعنی چھپنے (چھپانے) والے کے ہیں کہتے ہیں جن الشیٔ اذاسترہ چونکہ آدم ( علیہ السلام) کے خلاف اس کا غالب مادہ آگ کا لطیف شعلہ ہے اس لیے یہ قوم محسوس نہیں ہوتی ہر ایک کو دکھلائی نہیں دیتی اور اس لیے اس قوم کو جن اور اس کے باپ کو جان کہتے ہیں۔
خدائے تعالیٰ لطیف وخبیر نے اول ملائکہ کو بنایا، ان کے بعد جن کی قوم کو جن کا مادہ ملائکہ سے ذرا قریب تر تھا، پھر انسان کو جس کا مادہ کثیف ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ دیگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
وَاِنَّ جَھَنَّمَ لَمَوْعِدُ ھُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ لَھَا سَبْعَۃُ اَبْوَابٍ ط لِکُلِّ بَابٍ مِّنْہُمْ جُزْئٌ مَّقْسُوْمٌ۔ (سورۃ الحجر : 43۔ 44)
(بیشک جہنم ان سب کے لیے وعدہ کی جگہ ہے۔ اس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک حصہ مخصوص ہے۔ )
جہنم کی وسعت اور اس میں لے جانے والے مہلکات
گزشتہ آیات میں ابلیس نے نہایت جسارت کے ساتھ پروردگار کے حضور میں کہا کہ میں تیرے بندوں کو ہر ممکن طریقے سے گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا۔ پروردگار نے فرمایا کہ میں تمہیں اس کے لیے مہلت دے چکا ہوں، تمہارے جو جی میں آئے کرو، لیکن یہ یاد رکھو میرے مخلص بندوں پر تمہارا بس نہیں چلے گا۔ صرف وہ گمراہ لوگ ہوں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ ابلیس کے جواب میں رب ذوالجلال کا فرمان۔
اخلاص ہی وہ صراط مستقیم ہے جس پر گامزن رہنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور اسی راستے پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ کی منشا اور رضا کو پاسکتا ہے۔ جو لوگ اس راستے کو اپنائیں گے ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ میرے بندے ہیں۔ اے ابلیس ! ان پر تیرا کبھی غلبہ نہ ہو پائے گا۔ ہاں ! تیرا غلبہ ان لوگوں پر ہوگا جو صراط مستقیم سے بھٹک کر تیری اطاعت کریں گے۔ ان سب کے لیے میرا وعدہ ہے کہ میں ضرور انہیں جہنم میں داخل کروں گا۔ جہنم کے سات دروازے ہیں اور ہر دروازے میں مقررہ تقسیم کے مطابق مجرموں کو داخل کیا جائے گا۔ اہل علم نے مقررہ تقسیم…
Read the full tafseer →43: وَاِنَّ جَھَنَّمَ لَمَوْعِدُ ھُمْ اَجْمَعِیْنَ (اور بیشک جہنم کا ان سب سے وعدہ ہے) اسمیں ضمیر ھمؔ غاوین کی طرف راجع ہے۔
Read the full tafseer →43۔” وان جھنم لمو عدھم اجمعین “ ابلیس اور اس کی تابعداری کرنے والوں کے ساتھ جہنم کا وعدہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
41۔ 44۔ جب شیطان نے قیامت تک مہلت چاہی اور اس کو مہلت مل گئی اور اس نے بنی آدم کے بہکانے کا اور راہ حق سے پھیرنے کا بیڑا اٹھا لیا اور یہ کہا کہ تیرے خالص بندوں کو نہیں بہکا سکتا ہوں تو اس کا جواب اللہ پاک نے یہ دیا کہ یہی نیت کا خالص ہونا ہی تو سیدھا رستہ ہے جو مجھ تک ان لوگوں کو پہنچائے گا اور جو میرے چنے ہوئے بندے ہیں ان پر تیرا ایسا زور نہیں چلتا جو وہ تیرے بہکانے میں آجائیں گے ہاں جو لوگ ازلی گمراہ ہیں وہ البتہ تیرے بہکانے میں آجائیں گے تو ان کے واسطے میں نے جہنم کو بھی تیار کر رکھا ہے اور جہنم بھی وہ جس کے سات دروازے اور سات طبقے ہیں ہر ایک کے واسطے ان کے عمل کے مطابق یہ ساتوں طبقے جہنم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–44
آیت 26
اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے باپ حضرت آدم پر اپنی نعمت اور اپنے احسان کا ذکر کرت ا ہے، حضرت آدم کا اپنے دشمن ابلیس کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کو بھی بیان کرتا ہے اور اس ضمن میں ہمیں ابلیس کے شر اور فتنہ سے ڈراتا ہے، چناچہ فرمایا : (ولقد خلقنا الانسان) ” ہم نے انسان کو پیدا کیا۔ “ یعنی آدم کو پیدا کیا (من صلصال من حما مسنون) ” کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے “ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہوجاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔
(الحما المسنون) اس گارے کو کہتے ہیں، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں۔ (والجآن) ” اور جنوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
36۔ اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کے استثناء کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ابلیس نے اپنے چیلنج سے اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کا استثناء کرتے ہوئے کہا، سوائے تیرے ان خاص بندوں کے جن کو تو نے چن لیا ہوگا ‘ کہ ان پر میرا زور نہیں چل سکے۔ یہ ترجمہ ہے " مخلصیں " کا یعنی لام کے زبر کے ساتھ۔ اور دوسری قراءت اس میں " مخلصین " کی بھی ہے۔ یعنی لام کی زیر کے ساتھ، جس کے معنی ہیں خالص کرنے والے۔ یعنی جو اپنے عقائد اور اعمال کو خالص کرنے والے ہوں گے ہر طرح کے شرک اور ریاء ونمود کے شوائب سے۔ اور یہ دونوں مطلب درست اور بنیادی نوعیت کے حامل ہیں۔ سبحان اللہ۔ کیا کہنے نظم قرآن کی جامعیت کے۔ سو صدق و اخلاص کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
انسان کی پیدائش اور ابلیس کی نافرمانی
تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا قصہ اور شیطان کا ملعون ہونا سورة بقرہ رکوع 4، سورة نساء رکوع 18 اور سورة اعراف رکوع 2 میں بڑی وضاحت سے بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں سورة الحجر میں کیونکہ ان آیات سے پہلے تمام کائنات اور ہر چیز کے ناپ تول کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے یہاں انسان کی پیدائش، جسم، نفس، روح اور زندگی کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب بھی اللہ نے بڑے حساب کتاب اور ناپ تول سے بنائے ہیں۔ یہاں وہ تمام راز کھول کر بیان کردیے گئے ہیں جو انسانی سائنسی تحقیقات سے بہت بلند ہیں۔ پچھلی آیات سے جو کچھ معلوم ہوا وہ تو تمام تخلیقات کے بارے میں تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
خود انسان کو بھی تو ہم نے ہی پیدا کیا سڑے ہوئے مٹی گارے سے جو خشک ہوچکا تھا ۔
(جنات کو پہلے پیدا کیا گیا)
قبل ازیں ہم جنات کو آگ کی لو سے پیدا کرچکے تھے یعنی آگ کی وہ تپش جو ایک گرم ہوا کی صورت میں تھی کہ آگ کا نظر آنا اجزائے کثیفہ کی ملاوٹ سے ہوتا ہے ورنہ وہ بہت لطیف ہوتی ہے تو گویا جنات کا وجود اسی سے پیدا ہوا جو نظر نہیں آتا ، اور جنات پہلے سے زمین پر آباد کئے گئے تھے ،۔
پھر وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب آپ کے رب نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میں کھنکتے اور سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر تخلیق کر رہا ہوں جب وہ بن چکے اور میں اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب کے سب اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
ف 9 ۔ خبر لان او مستانفہ۔ حضرت علی ؓ اور ابن عباس ؓ اور بعض دوسرے مفسرین سے مروی ہے کہ وہ طبقے ایک دوسرے کے اوپر ہوں گے۔ ان طبقات کے نام بھی مروی ہیں جن میں ایک طبقہ کا نام جہنم بھی مذکور ہے مگر کسی صحیح اثر سے یہ ثابت نہیں ہیں۔ بعض دوسرے مفسرین نے ” سبعہ ابواب ‘ سے مراد سات دروازے ہی لئے ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : جہنم کے ساتھ دروازے ہیں۔ ان میں سے ایک دروازہ ان لوگوں کے لئے ہے جو میری امت پر تلوار اٹھائیں۔ (ترمذی) ۔ آگ کی صفت میں بہت سی احادیث اور آثار مروی ہیں۔ (شوکانی) ۔
10 ۔ بٹے ہوئے فرقہ سے مراد بدکاروں کا بٹا ہو افرقہ ہے، یعنی جس طرح ایک خاص عمل والے لوگ جنت…
Read the full tafseer →(15:43) موعدہم۔ مضاف مضاف الیہ موعد اسم ظرف زمان ومکان۔ ان کے وعدہ کی جگہ۔ یا وقت۔ یہاں اسم ظرف مکان ہے (جہنم) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 44
صلصال وہ مٹی جو سوکھ کر سخت ہوجائے اور بجنے لگے ۔ مسنون گوندھی گئی۔ السموم لو۔ نفخت میں نے پھونک دیا۔ پھونک ماردی، حما سڑی ہوئی مٹی، کیچڑ۔ جان جن۔ سویت میں نے برابر کردیا۔ ٹھیک کرلیا۔ روحی میری روح ، قعوا گرپڑو۔ ابی انکار کیا۔ ان یکون یہ کہ وہ ہو۔ مالک تجھے کیا ہوا۔ لم اکن میں نہیں ہوں بشر انسان۔ اخرج نکل جا۔ لعنت لنت، اللہ کی رحمت سے دوری۔ انظرنی تو مجھے مہلت دیدے۔ یبعثون (اٹھائے جائیں گے) ۔ اغویت (اغوائ) تو نے سیدھی راہ سے ہٹا دیا ۔ سلطن قوت، زور الغوین بہکنے والے۔ موعد وعدہ کی جگہ۔ سبعۃ ابواب سات دروازے۔ جزاء حصہ۔ مقسوم تقسیم کیا گیا۔
تشریح : آیت نمبر 26 تا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو میرے بندے خالص ہیں ان پر تجھ کو زور نہیں ہوگا کہ تتیرے بہکانے میں آجائی گے، ہاں جو لوگ ازلی گمراہ ہیں وہ البتہ تیرے بہکانے میں آجائی گے۔ تو ان کے واسطے میں نے جہنم کو بھی تیار کر رکھا ہے اور جہنم بھی وہ جس کے سات دروازے اور سات طبقے ہیں۔ ہر ایک کے واسطے ان کے عمل کے مطابق یہ ساتوں طبقے جہنم کے ہیں۔ جس میں یہ لوگ داخل کئے جائیں گے اور اپنے کئے کی سزا پاویں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
[16] شیطان نے جو دعویٰ کیا تھا کہ میں لوگوں کو سبز باغ دکھا کر گمراہ کروں گا تو اس سے یہ گمان پیدا ہوسکتا تھا کہ شیطان کو بھی قوت و اقتدار حاصل ہے۔ یہاں اسی غلط عقیدے کی تردید کی گئی ہے اور اعلان ہے کہ شیطان کا زور کسی انسان پر نہیں ہاں البتہ جو آدمی خود ہی بہکا ہوا ہو اور شیطان کی راہ پر چلنا چاہے تو اسے اختیار ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے اس راہ سے باز رکھنے کی کوشش نہ کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–48
شیطان کی وجہ تخلیق :
(ف 1) شیطان کو سجدہ نہ کرنے کی یہ سزا ملی کہ ہمیشہ کیلئے معتوب الہی ہوا ، اسے حکم دیا گیا ، کہ تم اب آسمان کی وسعتوں سے نکل جاؤ اور مکرو فریب کے لئے زمین پر رہو ، تمہیں قیامت تک مہلت ہے اپنی شیطنت کو بروئے کار لاؤ ، پوری قوت کے ساتھ اولاد آدم کو گمراہ کرنے کی کوشش کرو ، یاد رکھو وہ لوگ جو پاکباز اور متقی ہیں ، وہ تیری دستبر سے ہمیشہ بالا رہیں گے ، اور نفوس قدسیہ کو گمراہ نہیں کر سکوگے ، سوائے ان چند شریر النفس لوگوں کے جو تیرے ہم خیال ہیں ، اور کوئی تیری دوستی کا دم نہیں بھرے گا اور بالاخر تم سب لوگ جہنم کا ایندھن بنوگے ، شیطان اپنے تمام گروہ کے ساتھ جہنم میں داخل…
Read the full tafseer →43 ۔ اور بلاشبہ تیری پیروی کرنے والے سب لوگوں کے لئے اس جہنم کا وعدہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
ف 4۔ یعنی جن کو آپ نے میرے اثر سے محفوظ رکھا ہے۔
Read the full tafseer →جو شیطان کے بندے ہیں ان کیلئے جہنم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک وعدہ ہے :
43۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کا اعلان کیا جارہا ہے کہ جو لوگ شیطان کے جال میں پھنس گئے ہماری طرف سے ان کیلئے دوزخ کا اعلان کیا جاتا ہے کہ شیطان وابلیس کے دام فریب میں آنے والوں کیلئے دوزخ کا وعدہ کیا جارہا ہے بلا امتیاز کہ وہ کون ہوں گے اور کیسے ہوں گے اور تفصیل انسب کی ہم نے سورة الاعراف میں بیان کردی ہے الاعرف کی آیات 10 تا 27 میں ان ساری باتوں کا مفصل ذکر آچکا ہے وہاں سے ملاحظہ فرمائیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
The Meaning of Shaitan Having No Power over Special Servants of Allah
From the verse: إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ (My servants are such that you have no power over them - 42), we learn that there are special and chosen servants of Allah Ta’ ala who are not affected by Shaitanic deception. But, within this event relating to Sayyidna 'Adam ill, it has also been said that the deception of Shaitan worked in the case of Sayyidna 'Adam and Hawwa' (علیہما السلام) . Similarly, about the noble Companions, the Qur’ an has said: إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا…
Read the full tafseer →25. In order to comprehend the purpose for which the story of Prophet Adam and Satan has been related here, we should keep in mind the context in which this has occurred. In the preceding (verses 1-25), it has been stated that the disbelievers were following the ways of deviation that would lead them to perdition. This story has been related to warn them that the ways they were following were the ways of Satan, their eternal enemy, so as to say: You should realize the consequences of following Satan, who has enticed you in this snare, and is leading you to the lowest depths of degradation…
Read the full tafseer →