Explained with ayahs 39–44
ابلیس کے سیاہ کارنامے
ابلیس کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اللہ کے گمراہ کرنے کی قسم کھا کر کہا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے کہا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں بھی اولاد آدم کے لئے زمین میں تیری نافرمانیوں کو خوب زینت دار کر کے دکھاؤں گا۔ اور انہیں رغبت دلا دلا کر نافرمانیوں میں مبتلا کروں گا، جہاں تک ہو سکے گا کوشش کروں گا کہ سب کو ہی بہکا دوں۔ لیکن ہاں تیرے خالص بندے میرے ہاتھ نہیں آسکتے۔ ایک اور آیت میں بھی ہے کہ گو تو نے اسے مجھ پر برتری دی ہے لیکن اب میں بھی اس کی اولاد کے پیچھے پڑجاؤں گا، چاہے کچھ تھوڑے سے چھوٹ جائیں باقی سب کو ہی لے ڈوبوں گا۔ اس پر جواب ملا کہ تم سب کا لوٹنا تو…
Read the full tafseer →سورة الْحِجْر 24
”اس فقرے کے بھی دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک وہ جو ترجمے میں اختیار کیا گیا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ کہ میرے بندوں (یعنی عام انسانوں) پر تجھے کوئی اقتدار حاصل نہ ہوگا کہ تو انہیں زبردستی نافرمان بنا دے، البتہ جو خود ہی بہکے ہوئے ہوں اور آپ ہی تیری پیروی کرنا چاہیں انہیں تیری راہ پر جانے کے لیے چھوڑ دیا جائے گا، انہیں ہم زبردستی اس سے باز رکھنے کی کوشش نہ کریں گے۔
پہلے معنی کے لحاظ سے مضمون کا خلاصہ یہ ہوگا کہ بندگی کا طریقہ اللہ تک پہنچنے کا سیدھا راستہ ہے، جو لوگ اس راستے کو اختیار کرلیں گے ان پر شیطان کا بس نہ چلے گا، انہیں اللہ اپنے لیے خالص فرما لے گا اور شیطان خود بھی اقراری ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
اللہ تعالیٰ کے مخصوص بندوں پر شیطان کا تسلط نہ ہونے کے معنی
(آیت) اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مخصوص اور منتخب بندوں پر شیطانی فریب کا اثر نہیں ہوتا مگر اسی واقعہ آدم میں یہ بھی مذکور ہے کہ آدم وحوا پر اس کا فریب چل گیا اسی طرح صحابہ کرام ؓ اجمعین کے بارے میں قرآن کریم کا ارشاد ہے (آیت) اِنَّمَا اسْتَزَلَّھُمُ الشَّـيْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا (آل عمران) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ پر بھی شیطان کا کید اس موقع میں چل گیا۔
اس لئے آیت مذکورہ میں اللہ کے مخصوص بندوں پر شیطان کا تسلط نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے قلوب وعقول پر شیطان کا ایسا…
Read the full tafseer →إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ إِلا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغَاوِينَ۔
ابلیس کی مہلت کی حد : " سلطان " کے معنی اختیار و اقتدار کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ابلیس پر یہ بھی واضح فرما دیا کہ تجھے مہلت جو کچھ مل رہی ہے وہ صرف اس بات کی مل رہی ہے کہ تو لوگوں کو اپنی راہ پر چلنے کی ترغیب دے سکے اور ان کو بہکانے اور ورغلانے کی کوشش کرے۔ اس مہلت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ تجھے یہ اختیار مل گیا ہے کہ تو جس کو چاہے گمراہی کے راستہ پر ڈال ہی دے۔ تیرا زور بس انہی پر چلے گا جو تیری پیروی کرنا چاہیں گے اور گمراہی کو پسند کریں گے۔ میرے ان بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا جو تیرے فتنوں سے محفوظ اور…
Read the full tafseer →42۔ 1 یعنی میرے نیک بندوں پر تیرا داؤ نہیں چلے گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان سے کوئی گناہ ہی سرزد نہیں ہوگا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان کے ساتھ ایسا گناہ نہیں ہوگا کہ جس کے بعد نادم اور تائب نہ ہو کیونکہ وہی گناہ انسان کی ہلاکت کا باعث ہے کہ جس کے بعد انسان کے اندر ندامت کا احساس اور توبہ وانابت الی اللہ کا داعیہ پیدا نہ ہو۔ ایسے گناہ کے بعد ہی انسان گناہ پر گناہ کرتا چلا جاتا ہے۔ اور بالآخر دائمی تباہی و ہلاکت اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ اور اہل ایمان کی صفت یہ ہے کہ گناہ پر اصرار نہیں کرتے بلکہ فوراً توبہ کر کے آئندہ کے لئے اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →17: میرے بندوں سے مراد وہ بندے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم پر چلنے کا پختہ عزم رکھتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہوں، ایسے لوگوں پر شیطان کا زور نہ چلنے کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ شیطان انہیں بھی گمراہ کرنے کی کوشش تو کرے گا لیکن وہ اپنے اخلاص اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے دھوکے میں نہیں آئیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
آیت نمبر 41 تا 42
یہ سیدھی راہ ہے ، یہ ناموس فطرت ہے ، یہ سنت الٰہیہ ہے ، ہدایت و ضلالت میں اللہ نے یہی سنت قرار دی ہے ، یہ کہ اللہ کے مخلص بندوں پر شیطانی چالیں کارگر نہ ہوں گی اور یہی قانون الٰہی ہے ، شیطان ان پر اثرات نہ ڈال سکے گا اور اس دنیا کو وہ ان کے لئے مزین نہ بنا سکے گا۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ اللہ نے شیطان کو یہ کام کرنے سے روک دیا ہے۔ وہ اللہ کی حمایت میں آچکے ہیں ، ان بندوں تک شیطان کا داخلہ بند ہوتا ہے ، اس لیے کہ ان کی نظریں ہر وقت اللہ پر ہوتی ہیں اور یہ بندے ناموس فطرت کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ شیطانی چالیں صرف ان لوگوں پر چلتی ہیں جو گمراہ ہوں اور جو شیطان کی پیروی کرتے ہوں۔ یہ…
Read the full tafseer →2 یعنی بیشک چنے ہوئے بندوں پر جن کا ذکر اوپر ہوا تیرا کچھ زور نہ چلے گا یا یہ مطلب ہو کہ کسی بندے پر بھی تیری زبردستی نہیں چل سکتی۔ ہاں جو خود ہی بہک کر اپنی جہالت و حماقت سے تیرے پیچھے ہو لیا وہ اپنے اختیار سے خراب و برباد ہوا۔ جیسے پہلے خود شیطان کا مقولہ گزر چکا ( وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِيْ ) 14 ۔ ابراہیم :22)
Read the full tafseer →آیت 42 اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ
یعنی صرف ”مُخلَصین“ ہی کی تخصیص نہیں ہے بلکہ کسی انسان پر بھی تجھے اختیار نہیں ہوگا۔
اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ
جو لوگ ”غاوین“ میں سے ہوں گے ‘ خود ان کے اندر سرکشی ہوگی ‘ وہ خود اپنی نفس پرستی کی طرف مائل ہو کر تیری پیروی کریں گے ‘ ان کو لے جا کر تو گمراہی کے جس گڑھے میں چاہے پھینک دے اور جہنم کی جس وادی میں چاہے ان کو گرا دے ‘ مجھے ان سے کوئی دلچسپی نہیں۔ لیکن میرے کسی فرمانبردار بندے پر تجھے کوئی اختیار حاصل نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
23 شیطان کو کس حد تک اختیار دیا گیا ہے ؟:۔ شیطان کو صرف اتنا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ دھوکے سے، فریب سے، جھوٹ بول کر، وسوسے ڈال کر، دنیا کے فوائد میں الجھا کر، غلط قسم کی توقعات اور وعدے دے کر انسان کو گمراہ کرسکتا ہے تو کرے مگر اسے یہ اختیار قطعاً نہیں دیا گیا کہ وہ کسی کو زبردستی کھینچ کر اللہ کی راہ سے ہٹا کر اپنی راہ پر ڈال دے۔ جیسا کہ پہلے سورة ابراہیم کی آیت نمبر 22 میں گزر چکا ہے کہ شیطان خود اہل دوزخ کے سامنے اس بات کا اعتراف کرے گا کہ میں نے تم سے جھوٹا وعدہ کیا اور تمہیں اپنی طرف بلایا جس کی میرے پاس کوئی دلیل نہ تھی پھر بھی تم نے میری دعوت کو تسلیم کرلیا۔ حالانکہ میرا تم پر کچھ زور…
Read the full tafseer →35۔ سو کوئی شخص گناہ پر مجبور ومضطر ہرگز نہیں۔ توفیق الہی ساتھ جب ہی چھوڑتی ہے، جب انسان خود شیطان کی جانب میل قوی رکھنے لگتا ہے۔ شیطان کا منتہائے قوت بس یہ ہے کہ دم دلاسا خوب دلا لیتا ہے، انسان کو فوری لذتوں کی چاٹ خوب دلا دیتا ہے، بس اس کے آگے کچھ بھی نہیں۔ فان منتھی تزیینہ التحریض والتدلیس (بیضاوی) ابلیس کے قول میں ابھی گزرا تھا کہ (آیت) ” الا عبادک منھم المخلصین “۔ حق تعالیٰ کے قول میں اب ارشاد ہورہا ہے (آیت) ” الا من اتبعک من الغوین “۔ مفسرین نے کلام کی اس ترتیب سے یہ نکتہ خوب نکالا ہے کہ جس کو جس چیز کا اہتمام ہوتا ہے وہ اسی کو مقدم رکھتا ہے چناچہ ابلیس نے اغواء کو مقدم رکھا اور حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
آیت نمبر 26 تا 44
ترجمہ : بیشک ہم نے انسان (یعنی) آدم کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا یعنی ایسی خشک مٹی جب اس کو نجایا جائے تو اس کی آواز سنی جائے اور اس سے پہلے (یعنی) تخلیق آدم سے پہلے ہم نے جنات (یعنی) ابو الجن کو کہ وہ ابلیس ہے شعلے سے کہ جس میں دھواں نہ ہو اور وہ مسامات (یعنی بدن کے مسامات) میں نفوذ کر جائے پیدا کیا اور اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں انسان کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناے والی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں تو جب میں اس کو مکمل کر چکوں اور اس میں اپنی روح ڈال چکوں اور وہ زندہ ہوجائے اور روح کی نسبت اللہ کی طرف آدم کیلئے کرامت کے طور پر…
Read the full tafseer →ان عبادی لیس لک علیھم سلطن الا من اتبعک من الغوین بیشک میرے ان بندوں پر تیرا ذرا بھی بس نہ چلے گا ‘ ہاں مگر جو گمراہ لوگوں میں تیرے راہ پر چلنے لگے۔
عِبَادِی سے مراد عام بندے ہیں ‘ مؤمن ہوں یا کافر۔ عباد کی اضافت یاء متکلم کی طرف استغراقی ہے۔ اگر عِبَادِی کو صرف ایمان کے ساتھ مخصوص کیا جائے گا تو مَنِ اتَّبَعَکَ کا استثناء صحیح نہ ہوگا (گمراہوں کو لفظ عباد میں داخل ہونا چاہئے ‘ اس کے بعد استثناء کر کے نکالنا چاہئے) مقصد آیت یہ ہے کہ اللہ نے صرف گمراہوں پر تجھے تسلط عطا کیا ہے ‘ تو ان پر غلبہ پاسکتا ہے ‘ مؤمنوں تک تیری دسترس نہ ہوگی۔ ابلیس نے بھی مخلص بندوں کا استثناء اپنے قول میں کردیا تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
(41۔ 42) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ یہ ایک سیدھا راستہ ہے جو مجھ تک پہنچتا ہے یہ یہ کہ جو تیری پیروی کرے اور تیرے ساتھ رہے، اس کو بھی چل کر میرے پاس آنا ہے اور یہ ایک پسندیدہ سیدھا اسلام کا مجھ تک پہنچے کا راستہ ہے، میرے ان مذکورہ مومن بندوں پر تیرا ذرا بھی قابو نہیں چلے گا، البتہ جو کافروں میں سے تیری راہ پر چلنے لگیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ۔۔ : یہ پچھلی بات ہی کی وضاحت ہے اور مستثنیٰ منقطع ہے اور اگر ”عِبَادٌ“ سے مراد عام ہو تو مستثنیٰ متصل ہوگا، مطلب یہ کہ جو خود ہی بھٹکے ہوں اور جہالت کی بنا پر خود ہی تیری پیروی کرنا چاہیں۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 42
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : ان عبادی لیس لک علیھم سلطن علماء نے کہا ہے : یعنی میرے بندوں کے دلوں پر تیرا کوئی بس نہیں چلتا۔ اور ابن عینیہ نے کہا ہے : یعنی اس بارے میں کہ وہ انہیں گناہ میں ڈال دے جو انہیں میری عفو سے روک دے اور اسے ان پر تنگ کر دے (ان پر کوئی بس نہیں چلتا) اور وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت عطا فرمائی ہے اور انہیں چن لیا ہے، اور انہیں پسند فرما لیا ہے اور انہیں منتخب فرما لیا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : شاید کہنے والا کہہ رہا ہے، تحقیق اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور حضرت حوا (علیہما السلام) کے بارے اپنے اس ارشاد کے ساتھ خبر دی ہے : فازلھما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–48
1:۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فانظرنی الی یوم یبعثون “ سے مراد ہے کہ ابلیس نے ارادہ کیا کہ وہ موت کو نہ چکھے گا اسے کہا گیا کہ (آیت ) ” فانک من المنظرین (37) الی یوم الوقت المعلوم (38) پھر فرمایا نفخہ میں ابلیس مرجائے گا اور دونوں نفخہ کے درمیان چالیس سال کا وفقہ ہے فرمایا تو ابلیس چالیس سال تک مرا پڑا رہے گا۔
2:۔ امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قال فانک من المنظرین “ سے مراد ہے کہ اس کی مہلت نہیں ملی اٹھائے جانے کے دن تک لیکن اس کو وقت معلوم تک مہلت دی گئی۔
3:۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا عبادک منہم…
Read the full tafseer →[ان : بیشک ] [عِبَادِيْ : (یہ) میرے بندے ہیں ] [لَيْسَ : نہیں ہے ] [ لَكَ : تیرے لئے ] [ عَلَيْهِمْ : ان پر ] [ سُلْطٰنٌ: کوئی اختیار ] [ اِلَّا : سوائے ] [ مَنِ : اس کے جس نے ] [ اتَّبَعَكَ : پیروی کی تیری ] [مِنَ الْغٰوِيْنَ : گمراہ ہونے والوں میں سے ]
Read the full tafseer →گمراہ لوگوں پر شیطان کا بس چلتا ہے
(اِنَّ عَبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغٰوِیْنَ ) (بلاشبہ میرے بندوں پر تیرا بس نہ چلے گا مگر جو گمراہ لوگ تیری راہ پر چلیں گے) یعنی گمراہ لوگوں پر تیرا بس چل سکے گا جو تیرا اتباع کریں گے گمراہ ہوں گے شیطان کوشش تو کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سارے ہی بندے اس کا اتباع کرنے لگیں لیکن منتخب بندے اس کے قابو میں نہیں آتے وہ اس کے حملوں کو اور اس کے بہکانے کے طریقوں کو سمجھتے ہیں، وہ جو معاصی کو مزین کرتا ہے اس سے متاثر نہیں ہوتے، ہاں جو لوگ بہکنے کا مزاج رکھتے ہیں ہدایت کو پسند نہیں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور کتابوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
ذکر پیدائش انس و جن و قصہ پیدائش آدم (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ : ولقد خلقنا الانسان من صلصال .... الیٰ .... لکل باب منھم جزء مقسوم۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں حق جل شانہ نے حیوانات کی پیدائش سے اپنی قدرت اور خالقیت کا ذکر فرمایا اب یہاں جن و انس سے اسی مقصود پر استدلال فرماتے ہیں اور جان سے مراد یہاں جنوں کا باپ ہے جس طرح اوپر کی آیتوں میں انسان سے تمام انسانوں کے باپ مراد ہیں دونوں میں فرق یہ ہے کہ آدمیوں کا باپ، ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ترابی غالب تھا اور جنوں کا باپ ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ناری کا غلبہ تھا۔ ابلیس اسی قسم میں سے تھا اللہ تعالیٰ نے ان دو مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
17:۔ ” ھٰذَا “ سے اخلاص کی طرف اشارہ ہے جو المخلصین بصیہ اسم فاعل کے ضمن میں مذکور ہے یعنی عبادت اور عمل میں اخلاص اور شرک و ریاکاری سے تبری ہی وہ سیدھی راہ ہے جو مجھ تک پہنچا سکتی ہے اور جو ابلیس اور اس کی ذریت کے اغواء واضلال سے میرے بندوں کو حفظ و اماں میں رکھ سکتی ہے۔ اس صورت میں علی بمعنی الی ہوگا وقال الحسن معنی علی الی (بحر ج 5 ص 454) قال الحسن معناہ ھذا صراط الی مستقیم (خازن ج 4 ص 67) والمعنی ان الاخلاص طریق ویؤدی الی کر امتی و رضوانی (ایضا) ۔ ہذا سے مضمون مذکور کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ میرا دستور ہے جس کی میں رعایت کروں گا کہ تو میرے مخلص بندوں کو گمراہ نہیں کرسکے گا اور تجھے ان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
(ربط آیات)
پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کیا ، ایک معمولی چیز یعنی سڑے ہوئے بدبودار گارے والی مٹی سے انسان کو پیدا کیا اور اسے کمال درجے کی حیثیت اور شان عطا فرمائی ، اس میں روح ڈالی ، فرشتوں سے اس کو سجدہ کرایا ، ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا اور اپنی برتری جتلانے کی کوشش کی کہ میں ناری ہو کر خاکی کے سامنے کیسے سجدہ بجا لاؤں ، اس نے تکبر میں آکر اللہ تعالیٰ کے حکم کی سرتابی کی ، تو اللہ نے اسے مردود ٹھہرا دیا اور فرمایا کہ قیامت تک تجھ پر لعنت ہی برستی رہے گی ،
(مہلت کی درخواست)
اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کے بعد شیطان نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کے لیے مہلت طلب کی ، جس کا ذکر اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
قَالَ ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَــقِيْمٌ 41
صرط
الصِّرَاطُ : الطّريقُ المستقیمُ. قال تعالی: وَأَنَّ هذا صِراطِي مُسْتَقِيماً [ الأنعام/ 153] ، ويقال له : سِرَاطٌ ، وقد تقدّم .
سرط
السِّرَاطُ : الطّريق المستسهل، أصله من :
سَرَطْتُ الطعامَ وزردته : ابتلعته، فقیل : سِرَاطٌ ، تصوّرا أنه يبتلعه سالکه، أو يبتلع سالکه، ألا تری أنه قيل : قتل أرضا عالمها، وقتلت أرض جاهلها، وعلی النّظرین قال أبو تمام :
231-
رعته الفیافي بعد ما کان حقبة ... رعاها وماء المزن ينهلّ ساكبه
«2» وکذا سمّي الطریق اللّقم، والملتقم، اعتبارا بأنّ سالکه يلتقمه .
( ص ر ط ) الصراط
۔ سیدھی راہ ۔ قرآن میں ہے : وَأَنَّ هذا صِراطِي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–44
جان کی تعریف و تفسیر، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جان سب جنون کے باپ کا نام ہے اور یہی قول اکثر مفسرین کا ہے اور یہی ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے گو بعض نے جان سے مراد ابلیس لیا ہے جان کے معنی لغت میں ساتر یعنی چھپنے (چھپانے) والے کے ہیں کہتے ہیں جن الشیٔ اذاسترہ چونکہ آدم ( علیہ السلام) کے خلاف اس کا غالب مادہ آگ کا لطیف شعلہ ہے اس لیے یہ قوم محسوس نہیں ہوتی ہر ایک کو دکھلائی نہیں دیتی اور اس لیے اس قوم کو جن اور اس کے باپ کو جان کہتے ہیں۔
خدائے تعالیٰ لطیف وخبیر نے اول ملائکہ کو بنایا، ان کے بعد جن کی قوم کو جن کا مادہ ملائکہ سے ذرا قریب تر تھا، پھر انسان کو جس کا مادہ کثیف ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ دیگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
قَالَ ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ۔ اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ اِلاَّ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغٰوِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 41۔ 42)
(اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ سیدھا راستہ ہے جو میری طرف آتا ہے۔ بیشک میرے بندوں پر تیرا کوئی بس نہیں چلتا، مگر وہ جو گمراہوں میں سے تیری پیروی کرتے ہیں۔ )
صراطِ مستقیم سے مراد ؟ اور ابلیس کی مہلت کی حد ؟
پہلی آیت کریمہ میں فرمایا کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے اور سابقہ آیت کے مفہوم پر غور کریں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہاں دراصل یہ فرمایا جارہا ہے کہ میرے ساتھ مکمل اخلاص کے ساتھ بغیر شرک کے اور بغیر ریا کے بندگی کی زندگی گزارنا یہ صراط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ ابلیس کے جواب میں رب ذوالجلال کا فرمان۔
اخلاص ہی وہ صراط مستقیم ہے جس پر گامزن رہنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور اسی راستے پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ کی منشا اور رضا کو پاسکتا ہے۔ جو لوگ اس راستے کو اپنائیں گے ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ میرے بندے ہیں۔ اے ابلیس ! ان پر تیرا کبھی غلبہ نہ ہو پائے گا۔ ہاں ! تیرا غلبہ ان لوگوں پر ہوگا جو صراط مستقیم سے بھٹک کر تیری اطاعت کریں گے۔ ان سب کے لیے میرا وعدہ ہے کہ میں ضرور انہیں جہنم میں داخل کروں گا۔ جہنم کے سات دروازے ہیں اور ہر دروازے میں مقررہ تقسیم کے مطابق مجرموں کو داخل کیا جائے گا۔ اہل علم نے مقررہ تقسیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
شیطانی پیروکاروں کی سزا و جہنم :
41، 42: قَالَ ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ۔ اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغٰوِیْنَ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ مجھ تک پہنچنے کا سیدھا راستہ ہے میرے ان بندوں پر تیرا ذرا بھی بس نہ چلے گا مگر جو گمراہ لوگوں میں سے تیرے راستہ پر چلنے لگے) یعنی اس راستہ کے متعلق میں نے اپنے اوپر لازم کرلیا کہ میں اسکی نگرانی کروں اور وہ یہ ہے کہ میرے بندوں پر تمہیں دسترس نہ ہو البتہ جو گمراہی کی وجہ سے تیری اتباع کو اختیار کرلے۔ نمبر 2۔ عَلَیَّ کا معنی اِلَیَّ ہے
قراءت : یعقوب نے عَلِیٌّ پڑھا ہے۔ اس صورت میں یہ فضیلت اور مرتبہ…
Read the full tafseer →تفسیر 42۔” ان عبادی لیس لک علیھم سلطان “ اس سے مراد قوۃ ہے ۔ اہل معانی نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ یعنی ان کے دلوں پر تمہارا کوئی بھی بس نہ چلے۔ سفیان بن عینیہ سے اس آیت کے متعلق پوچھا تو کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ تمہارے نزدیک کوئی بس کہ تو ان کو گناہوں میں مبتلا کرے تو میں ان کو معاف کر دوں ، اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی تعریف کی ہے جو ہدایت یافتہ ہوگا اور اپنے آپ کو تجھ سے محفوظ رکھے گا ۔ ” الا من اتبعک من الغاوین “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
41۔ 44۔ جب شیطان نے قیامت تک مہلت چاہی اور اس کو مہلت مل گئی اور اس نے بنی آدم کے بہکانے کا اور راہ حق سے پھیرنے کا بیڑا اٹھا لیا اور یہ کہا کہ تیرے خالص بندوں کو نہیں بہکا سکتا ہوں تو اس کا جواب اللہ پاک نے یہ دیا کہ یہی نیت کا خالص ہونا ہی تو سیدھا رستہ ہے جو مجھ تک ان لوگوں کو پہنچائے گا اور جو میرے چنے ہوئے بندے ہیں ان پر تیرا ایسا زور نہیں چلتا جو وہ تیرے بہکانے میں آجائیں گے ہاں جو لوگ ازلی گمراہ ہیں وہ البتہ تیرے بہکانے میں آجائیں گے تو ان کے واسطے میں نے جہنم کو بھی تیار کر رکھا ہے اور جہنم بھی وہ جس کے سات دروازے اور سات طبقے ہیں ہر ایک کے واسطے ان کے عمل کے مطابق یہ ساتوں طبقے جہنم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–44
آیت 26
اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے باپ حضرت آدم پر اپنی نعمت اور اپنے احسان کا ذکر کرت ا ہے، حضرت آدم کا اپنے دشمن ابلیس کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کو بھی بیان کرتا ہے اور اس ضمن میں ہمیں ابلیس کے شر اور فتنہ سے ڈراتا ہے، چناچہ فرمایا : (ولقد خلقنا الانسان) ” ہم نے انسان کو پیدا کیا۔ “ یعنی آدم کو پیدا کیا (من صلصال من حما مسنون) ” کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے “ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہوجاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔
(الحما المسنون) اس گارے کو کہتے ہیں، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں۔ (والجآن) ” اور جنوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
36۔ اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کے استثناء کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ابلیس نے اپنے چیلنج سے اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کا استثناء کرتے ہوئے کہا، سوائے تیرے ان خاص بندوں کے جن کو تو نے چن لیا ہوگا ‘ کہ ان پر میرا زور نہیں چل سکے۔ یہ ترجمہ ہے " مخلصیں " کا یعنی لام کے زبر کے ساتھ۔ اور دوسری قراءت اس میں " مخلصین " کی بھی ہے۔ یعنی لام کی زیر کے ساتھ، جس کے معنی ہیں خالص کرنے والے۔ یعنی جو اپنے عقائد اور اعمال کو خالص کرنے والے ہوں گے ہر طرح کے شرک اور ریاء ونمود کے شوائب سے۔ اور یہ دونوں مطلب درست اور بنیادی نوعیت کے حامل ہیں۔ سبحان اللہ۔ کیا کہنے نظم قرآن کی جامعیت کے۔ سو صدق و اخلاص کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
انسان کی پیدائش اور ابلیس کی نافرمانی
تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا قصہ اور شیطان کا ملعون ہونا سورة بقرہ رکوع 4، سورة نساء رکوع 18 اور سورة اعراف رکوع 2 میں بڑی وضاحت سے بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں سورة الحجر میں کیونکہ ان آیات سے پہلے تمام کائنات اور ہر چیز کے ناپ تول کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے یہاں انسان کی پیدائش، جسم، نفس، روح اور زندگی کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب بھی اللہ نے بڑے حساب کتاب اور ناپ تول سے بنائے ہیں۔ یہاں وہ تمام راز کھول کر بیان کردیے گئے ہیں جو انسانی سائنسی تحقیقات سے بہت بلند ہیں۔ پچھلی آیات سے جو کچھ معلوم ہوا وہ تو تمام تخلیقات کے بارے میں تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
خود انسان کو بھی تو ہم نے ہی پیدا کیا سڑے ہوئے مٹی گارے سے جو خشک ہوچکا تھا ۔
(جنات کو پہلے پیدا کیا گیا)
قبل ازیں ہم جنات کو آگ کی لو سے پیدا کرچکے تھے یعنی آگ کی وہ تپش جو ایک گرم ہوا کی صورت میں تھی کہ آگ کا نظر آنا اجزائے کثیفہ کی ملاوٹ سے ہوتا ہے ورنہ وہ بہت لطیف ہوتی ہے تو گویا جنات کا وجود اسی سے پیدا ہوا جو نظر نہیں آتا ، اور جنات پہلے سے زمین پر آباد کئے گئے تھے ،۔
پھر وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب آپ کے رب نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میں کھنکتے اور سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر تخلیق کر رہا ہوں جب وہ بن چکے اور میں اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب کے سب اس کے…
Read the full tafseer →ف 8 ۔ گویا یہ پہلے کلام کی تقریر ہی ہے اور مستثنیٰ منقطع ہے اور اگر ” عباد “ سے مراد عام ہو تو مستثنیٰ متصل ہوگا۔ مطلب یہ کہ جو خود ہی بھٹکے ہوں اور جہالت کی بنا پر خود ہی تیری پیروی کرنا چاہیں۔ (روح) ۔
Read the full tafseer →(15:42) الغوین۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر ۔ غوی واحد۔ گمراہ ۔ کج رو۔ بھٹک جانے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 44
صلصال وہ مٹی جو سوکھ کر سخت ہوجائے اور بجنے لگے ۔ مسنون گوندھی گئی۔ السموم لو۔ نفخت میں نے پھونک دیا۔ پھونک ماردی، حما سڑی ہوئی مٹی، کیچڑ۔ جان جن۔ سویت میں نے برابر کردیا۔ ٹھیک کرلیا۔ روحی میری روح ، قعوا گرپڑو۔ ابی انکار کیا۔ ان یکون یہ کہ وہ ہو۔ مالک تجھے کیا ہوا۔ لم اکن میں نہیں ہوں بشر انسان۔ اخرج نکل جا۔ لعنت لنت، اللہ کی رحمت سے دوری۔ انظرنی تو مجھے مہلت دیدے۔ یبعثون (اٹھائے جائیں گے) ۔ اغویت (اغوائ) تو نے سیدھی راہ سے ہٹا دیا ۔ سلطن قوت، زور الغوین بہکنے والے۔ موعد وعدہ کی جگہ۔ سبعۃ ابواب سات دروازے۔ جزاء حصہ۔ مقسوم تقسیم کیا گیا۔
تشریح : آیت نمبر 26 تا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو میرے بندے خالص ہیں ان پر تجھ کو زور نہیں ہوگا کہ تتیرے بہکانے میں آجائی گے، ہاں جو لوگ ازلی گمراہ ہیں وہ البتہ تیرے بہکانے میں آجائی گے۔ تو ان کے واسطے میں نے جہنم کو بھی تیار کر رکھا ہے اور جہنم بھی وہ جس کے سات دروازے اور سات طبقے ہیں۔ ہر ایک کے واسطے ان کے عمل کے مطابق یہ ساتوں طبقے جہنم کے ہیں۔ جس میں یہ لوگ داخل کئے جائیں گے اور اپنے کئے کی سزا پاویں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
[16] شیطان نے جو دعویٰ کیا تھا کہ میں لوگوں کو سبز باغ دکھا کر گمراہ کروں گا تو اس سے یہ گمان پیدا ہوسکتا تھا کہ شیطان کو بھی قوت و اقتدار حاصل ہے۔ یہاں اسی غلط عقیدے کی تردید کی گئی ہے اور اعلان ہے کہ شیطان کا زور کسی انسان پر نہیں ہاں البتہ جو آدمی خود ہی بہکا ہوا ہو اور شیطان کی راہ پر چلنا چاہے تو اسے اختیار ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے اس راہ سے باز رکھنے کی کوشش نہ کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–48
شیطان کی وجہ تخلیق :
(ف 1) شیطان کو سجدہ نہ کرنے کی یہ سزا ملی کہ ہمیشہ کیلئے معتوب الہی ہوا ، اسے حکم دیا گیا ، کہ تم اب آسمان کی وسعتوں سے نکل جاؤ اور مکرو فریب کے لئے زمین پر رہو ، تمہیں قیامت تک مہلت ہے اپنی شیطنت کو بروئے کار لاؤ ، پوری قوت کے ساتھ اولاد آدم کو گمراہ کرنے کی کوشش کرو ، یاد رکھو وہ لوگ جو پاکباز اور متقی ہیں ، وہ تیری دستبر سے ہمیشہ بالا رہیں گے ، اور نفوس قدسیہ کو گمراہ نہیں کر سکوگے ، سوائے ان چند شریر النفس لوگوں کے جو تیرے ہم خیال ہیں ، اور کوئی تیری دوستی کا دم نہیں بھرے گا اور بالاخر تم سب لوگ جہنم کا ایندھن بنوگے ، شیطان اپنے تمام گروہ کے ساتھ جہنم میں داخل…
Read the full tafseer →42 ۔ واقعی جو میرے مخصوص بندے ہیں ان پر تیرا کوئی بس نہیں چلے گا مگر یہ کہ گم کردہ راہ لوگوں میں سے اور گمراہوں میں سے جو تیری پیروی اختیار کرلے اور تیرا پیرو ہوجائے۔ یعنی برگزیدہ بندوں پر واقعی تیرا قابو نہیں چلے گا البتہ گمراہوں میں سے جو تیری پیروی کرلے تو کرلے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
ف 4۔ یعنی جن کو آپ نے میرے اثر سے محفوظ رکھا ہے۔
Read the full tafseer →بلاشبہ اللہ کے بندوں پر تیرا کچھ بھی زور نہیں چلے گا مگر ہاں ! جو راہ سے بھٹک گئے :
42۔ آیت 40 میں خود ابلیس نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ تیرے بندوں میں میری غوایت اثر نہیں کرے گی اور میرے گمراہ کرنے بھی گمراہ نہیں ہوں گے ، زیر نظر آیت میں اب اللہ تعالیٰ خود ارشاد فرما رہا ہے کہ بلاشبہ میرے بندوں پر تیرا کوئی بس نہیں چلتا ، اس آیت سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ کوئی شخص گناہ پر مجبور ومضطر ہرگز نہیں اور توفیق الہی ساتھ ہی تب چھوڑتی ہے جب انسان خود شیطان کی جانب میل قوی رکھنے لگتا ہے ، شیطان کا منتہائے قوت بس یہ ہے کہ دم دلاسا خوب دلا دیتا ہے ، انسان کو فوری لذتوں کی چاٹ خوب دلادیتا ہے بس اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
The Meaning of Shaitan Having No Power over Special Servants of Allah
From the verse: إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ (My servants are such that you have no power over them - 42), we learn that there are special and chosen servants of Allah Ta’ ala who are not affected by Shaitanic deception. But, within this event relating to Sayyidna 'Adam ill, it has also been said that the deception of Shaitan worked in the case of Sayyidna 'Adam and Hawwa' (علیہما السلام) . Similarly, about the noble Companions, the Qur’ an has said: إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا…
Read the full tafseer →24. This (verse 42) also may have another meaning: You will have no power over My servants (common people) to force them to disobey Me. However, We will give freedom of action to those who will willingly or deliberately follow you, and we will not forcibly prevent them from your way, if they intended to follow you.
According to the first rendering, these verses will mean this: The way followed by My sincere servants is the only straight way to reach Me. Satan will have no power over those people who follow it, for I will choose them to be My own servants. Satan himself admitted that he will…
Read the full tafseer →