Explained with ayahs 39–44
ابلیس کے سیاہ کارنامے
ابلیس کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اللہ کے گمراہ کرنے کی قسم کھا کر کہا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے کہا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں بھی اولاد آدم کے لئے زمین میں تیری نافرمانیوں کو خوب زینت دار کر کے دکھاؤں گا۔ اور انہیں رغبت دلا دلا کر نافرمانیوں میں مبتلا کروں گا، جہاں تک ہو سکے گا کوشش کروں گا کہ سب کو ہی بہکا دوں۔ لیکن ہاں تیرے خالص بندے میرے ہاتھ نہیں آسکتے۔ ایک اور آیت میں بھی ہے کہ گو تو نے اسے مجھ پر برتری دی ہے لیکن اب میں بھی اس کی اولاد کے پیچھے پڑجاؤں گا، چاہے کچھ تھوڑے سے چھوٹ جائیں باقی سب کو ہی لے ڈوبوں گا۔ اس پر جواب ملا کہ تم سب کا لوٹنا تو…
Read the full tafseer →سورة الْحِجْر 23
" ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ" کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک معنی وہ ہیں جو ہم نے ترجمہ میں بیان کیے ہیں اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ " ھٰذَا طَرِیْقٌ حَقٌّ عَلَیَّ اَنْ اُرَاعِیْہ "، یعنی یہ بات درست ہے، میں بھی اس کا پابند رہوں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
حکم سجدہ فرشتوں کو ہوا تھا ابلیس اس میں تبعا شامل قرار دیا گیا
سورة اعراف میں ابلیس کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا ہے مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سجدہ کا حکم فرشتوں کے ساتھ ابلیس کو بھی دیا گیا تھا اسی لئے اس سورت کی جو آیات ابھی آپ نے پڑھی ہیں جن سے بظاہر اس حکم کا فرشتوں کے لئے مخصوص ہونا معلوم ہوتا ہے اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اصالۃً یہ حکم فرشتوں کو دیا گیا مگر ابلیس بھی چونکہ فرشتوں کے اندر موجود تھا اس لئے تبعا وہ بھی اس حکم میں شامل تھا کیونکہ آدم ؑ کی تعظیم و تکریم کے لئے جب اللہ تعالیٰ کی بزرگ ترین مخلوق فرشتوں کو حکم دیا گیا تو دوسری مخلوق کا…
Read the full tafseer →قَالَ هَذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَقِيمٌ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ توحید کا راستہ، جس سے بنی آدم کو گمراہ کرنے کی تو دھمکی دے رہا ہے، کوئی کج پیچ والا راستہ نہیں ہے بلکہ یہ مجھ تک پہنچا دینے والی نہایت سیدھی اور ہموار راہ ہے۔ میرے جو بندے مجھ تک پہنچا چاہیں گے اگر وہ اس راہ کو اختیار کریں گے تو یہ راہ خود بخود ان کو میرے آستانے پر لا ڈالے گی، اس میں کج روی اور گمراہی کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ صرف شامت زدہ ہی ہوں گے جو اس سیدھی راہ کو چھوڑ کر کوئی کج پیچ والی راہ اختیار کریں گے۔
یہاں صراط کے بعد عَلَيَّ جو آیا ہے۔ یہ عربی زبان کے مخصوص اسلوب کے مطابق ہے۔ عربی زبان میں کسی سیدھے راستہ کی تعریف…
Read the full tafseer →41۔ 1 یعنی تم سب کو بالآخر میرے پاس ہی لوٹ آنا ہے، جنہوں نے میرا اور میرے رسولوں کا اتباع کیا ہوگا، میں انھیں اچھی جزا دوں گا اور جو شیطان کے پیچھے لگ کر گمراہی کے راستے پر چلتا رہا ہوگا اسے سخت سزا دوں گا جو جہنم کی صورت میں تیار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
16: اللہ تعالیٰ نے اسی وقت واضح فرمادیا کہ جو لوگ اخلاص اور بندگی کا راستہ اختیار کریں گے وہ سیدھا مجھ تک پہنچے گا اور ایسے لوگوں پر شیطان کے بہکاوے کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
آیت نمبر 41 تا 42
یہ سیدھی راہ ہے ، یہ ناموس فطرت ہے ، یہ سنت الٰہیہ ہے ، ہدایت و ضلالت میں اللہ نے یہی سنت قرار دی ہے ، یہ کہ اللہ کے مخلص بندوں پر شیطانی چالیں کارگر نہ ہوں گی اور یہی قانون الٰہی ہے ، شیطان ان پر اثرات نہ ڈال سکے گا اور اس دنیا کو وہ ان کے لئے مزین نہ بنا سکے گا۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ اللہ نے شیطان کو یہ کام کرنے سے روک دیا ہے۔ وہ اللہ کی حمایت میں آچکے ہیں ، ان بندوں تک شیطان کا داخلہ بند ہوتا ہے ، اس لیے کہ ان کی نظریں ہر وقت اللہ پر ہوتی ہیں اور یہ بندے ناموس فطرت کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ شیطانی چالیں صرف ان لوگوں پر چلتی ہیں جو گمراہ ہوں اور جو شیطان کی پیروی کرتے ہوں۔ یہ…
Read the full tafseer →1 یعنی بیشک بندگی اور اخلاص کی راہ سیدھی میرے تک پہنچتی ہے اور یہ ہی میرا صاف اور سیدھا راستہ ہے جس میں کوئی ہیر پھیر نہیں کہ جو بندے عبودیت و اخلاص کی راہ اختیار کریں گے وہ ہی شیطان لعین کے تسلط سے مامون رہیں گے۔ بعض مفسرین نے " ہٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ" کو تہدید پر حمل کیا۔ یعنی اوملعون ! لوگوں کو صراط مستقیم سے گمراہ کر کے کہاں بھاگے گا وہ کون سا راستہ ہے جو ہماری طرف نہ جاتا ہو۔ پھر ہماری سزا سے بچ کر کدھر جاسکتا ہے اس وقت کلام ایسا ہوگا جیسے کہتے ہیں " اِفْعَلْ مَاشِئْتَ فَطَرِیْقُکَ عَلَیَّ " اور قرآن میں دوسری جگہ فرمایا (اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ ) 89 ۔ الفجر :14) واللہ…
Read the full tafseer →آیت 41 قَالَ ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَــقِيْمٌ
یعنی میرے اور تمہارے درمیان یہ معاملہ طے ہوگیا تمہیں مہلت دے دی گئی۔ مجھ تک پہنچنے کا راستہ بالکل واضح ہے۔ تم اولاد آدم کو اس راستے سے بہکانے کے لیے اپنا زور آزما لو۔
Read the full tafseer →22 وہ سیدھا راستہ جو اللہ تک پہنچتا ہے یہ ہے کہ انسان خالصتاً اسی کی عبادت کرے اور اسی پر توکل کرے اور ایمان لانے کے بعد کماحقہ اس کے تقاضوں کو پورا کرے اور اپنے ایمان میں مستقل اور ثابت قدم رہے۔ ایسے لوگ جو اس راہ پر چلتے جائیں کبھی شیطان کے پھندے میں نہیں آسکتے۔
Read the full tafseer →34۔ وہ سیدھا راستہ ایمان و اطاعت واعمال صالحہ کا ہے کہ اسی پر چل کر بندہ اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے۔ آیت سے یہ بھی نکلتا ہے کہ جو کوئی راہ ہدایت پر چلنے کا واقعی قصد کرے، اسے وہ راہ مل ضرور جاتی ہے۔ حق علی ان اراعیہ (بیضاوی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
آیت نمبر 26 تا 44
ترجمہ : بیشک ہم نے انسان (یعنی) آدم کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا یعنی ایسی خشک مٹی جب اس کو نجایا جائے تو اس کی آواز سنی جائے اور اس سے پہلے (یعنی) تخلیق آدم سے پہلے ہم نے جنات (یعنی) ابو الجن کو کہ وہ ابلیس ہے شعلے سے کہ جس میں دھواں نہ ہو اور وہ مسامات (یعنی بدن کے مسامات) میں نفوذ کر جائے پیدا کیا اور اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں انسان کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناے والی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں تو جب میں اس کو مکمل کر چکوں اور اس میں اپنی روح ڈال چکوں اور وہ زندہ ہوجائے اور روح کی نسبت اللہ کی طرف آدم کیلئے کرامت کے طور پر…
Read the full tafseer →قال ھذا صراط علی مستقیم اللہ نے فرمایا : یہ (اخلاص ہی) مجھ تک پہنچنے کا سیدھا راستہ ہے ‘ اس میں کوئی کجی نہیں۔ حسن نے کہا : حق کا راستہ سیدھا ہے۔ مجاہد نے کہا : حق کا رجوع اللہ کی طرف ہے۔ راہ حق بھی اللہ تک پہنچتی ہے ‘ کسی اور طرف نہیں مڑتی۔ اخفش نے کہا : سیدھا راستہ بتانا مجھ پر ہے (یعنی میرے ذمہ ہے ‘ اس مطلب پر عَلَیَّ کو اِلٰی کے معنی میں لینے کی ضرورت نہ ہوگی) اس سے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ اپنے منتخب بندوں کو گمراہ نہیں ہونے دے گا۔ منتخب بندوں کو شیطانی اغواء سے بچانے کا ذمہ اللہ کا ہے اور براہ راست ان کو محفوظ رکھنا اللہ کا کام ہے۔ کسائی نے کہا : ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
(41۔ 42) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ یہ ایک سیدھا راستہ ہے جو مجھ تک پہنچتا ہے یہ یہ کہ جو تیری پیروی کرے اور تیرے ساتھ رہے، اس کو بھی چل کر میرے پاس آنا ہے اور یہ ایک پسندیدہ سیدھا اسلام کا مجھ تک پہنچے کا راستہ ہے، میرے ان مذکورہ مومن بندوں پر تیرا ذرا بھی قابو نہیں چلے گا، البتہ جو کافروں میں سے تیری راہ پر چلنے لگیں
Read the full tafseer →قَالَ ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَــقِيْمٌ : یعنی یہی صراط مستقیم اور درست بات ہے جو مجھ پر لازم ہے کہ تو میرے مخلص بندوں کو گمراہ نہ کرسکے گا اور جو میرے لیے خالص ہوگا اس کی حفاظت میں خود کروں گا، جیسے بعد میں فرمایا : (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ) [ الحجر : 42 ] اور ایک معنی یہ بھی ہے کہ ”ھَذَا“ سے اخلاص کی طرف اشارہ ہو، یعنی یہی اخلاص کی راہ مجھ تک سیدھی پہنچتی ہے اور میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی غلبہ نہیں ہوگا۔ (روح المعانی) دوسرا معنی واضح ہے۔ (واللہ اعلم)
Read the full tafseer →آیت نمبر 41
حضرت عمر بن خطاب ؓ نے بیان کیا ہے : اس کا معنی ہے کہ یہ راستہ ہے جو اپنے صاحب (اپنانے والے) کو سیدھا لے آتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کے سبب جنت میں پہنچ جاتا ہے۔ حسن (رح) نے کہا ہے : علی بمعنی الی (میری طرف) ہے حضرت مجاہد اور کسائی نے کہا ہے : یہ وعید اور تہدید (جھڑکنے) کی بناء پر ہے ؛ جیسا کہ جسے تو نے جھڑکنا ہو اس کے لئے تیرا قول : طریقک علی ومصیرک الی (تیرا راستہ میرے خلاف ہے اور تیرا انجام میرے پاس ہے) اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے : ان ربک لبالمرصاد۔ (الفجر) (بےشک آپ کا رب (سرکشوں اور مفسدوں) کی تاک میں ہے) پس کلام کا معنی یہ ہوا : یہ راستہ ہے اس کا رجوع میری طرف ہے پس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–48
1:۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فانظرنی الی یوم یبعثون “ سے مراد ہے کہ ابلیس نے ارادہ کیا کہ وہ موت کو نہ چکھے گا اسے کہا گیا کہ (آیت ) ” فانک من المنظرین (37) الی یوم الوقت المعلوم (38) پھر فرمایا نفخہ میں ابلیس مرجائے گا اور دونوں نفخہ کے درمیان چالیس سال کا وفقہ ہے فرمایا تو ابلیس چالیس سال تک مرا پڑا رہے گا۔
2:۔ امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قال فانک من المنظرین “ سے مراد ہے کہ اس کی مہلت نہیں ملی اٹھائے جانے کے دن تک لیکن اس کو وقت معلوم تک مہلت دی گئی۔
3:۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا عبادک منہم…
Read the full tafseer →[قَالَ : (اللہ نے) کہا ] [ ھٰذَا : یہ ] [ صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَــقِيْمٌ: مجھ پر (یعنی مجھ تک) ایک سیدھا راستہ ہے ]
Read the full tafseer →(قَالَ ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ) (اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ سیدھا راستہ ہے جو مجھ تک پہنچتا ہے) جو اس راہ پر چلے گا وہ مجھ تک پہنچے گا یعنی اس راہ پر چلنے والے کو میری رضا حاصل ہوگی، ھٰذَا کا اشارہ مومن بندوں کے منتخب ہونے اور شیطان کے بہکانے سے بچ جانے اور اللہ تعالیٰ کی ہدایات کو اختیار کرنے کی طرف ہے جو (اِلَّا عِبَادَکَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَ ) سے مفہوم ہو رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
ذکر پیدائش انس و جن و قصہ پیدائش آدم (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ : ولقد خلقنا الانسان من صلصال .... الیٰ .... لکل باب منھم جزء مقسوم۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں حق جل شانہ نے حیوانات کی پیدائش سے اپنی قدرت اور خالقیت کا ذکر فرمایا اب یہاں جن و انس سے اسی مقصود پر استدلال فرماتے ہیں اور جان سے مراد یہاں جنوں کا باپ ہے جس طرح اوپر کی آیتوں میں انسان سے تمام انسانوں کے باپ مراد ہیں دونوں میں فرق یہ ہے کہ آدمیوں کا باپ، ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ترابی غالب تھا اور جنوں کا باپ ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ناری کا غلبہ تھا۔ ابلیس اسی قسم میں سے تھا اللہ تعالیٰ نے ان دو مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
17:۔ ” ھٰذَا “ سے اخلاص کی طرف اشارہ ہے جو المخلصین بصیہ اسم فاعل کے ضمن میں مذکور ہے یعنی عبادت اور عمل میں اخلاص اور شرک و ریاکاری سے تبری ہی وہ سیدھی راہ ہے جو مجھ تک پہنچا سکتی ہے اور جو ابلیس اور اس کی ذریت کے اغواء واضلال سے میرے بندوں کو حفظ و اماں میں رکھ سکتی ہے۔ اس صورت میں علی بمعنی الی ہوگا وقال الحسن معنی علی الی (بحر ج 5 ص 454) قال الحسن معناہ ھذا صراط الی مستقیم (خازن ج 4 ص 67) والمعنی ان الاخلاص طریق ویؤدی الی کر امتی و رضوانی (ایضا) ۔ ہذا سے مضمون مذکور کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ میرا دستور ہے جس کی میں رعایت کروں گا کہ تو میرے مخلص بندوں کو گمراہ نہیں کرسکے گا اور تجھے ان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
(ربط آیات)
پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کیا ، ایک معمولی چیز یعنی سڑے ہوئے بدبودار گارے والی مٹی سے انسان کو پیدا کیا اور اسے کمال درجے کی حیثیت اور شان عطا فرمائی ، اس میں روح ڈالی ، فرشتوں سے اس کو سجدہ کرایا ، ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا اور اپنی برتری جتلانے کی کوشش کی کہ میں ناری ہو کر خاکی کے سامنے کیسے سجدہ بجا لاؤں ، اس نے تکبر میں آکر اللہ تعالیٰ کے حکم کی سرتابی کی ، تو اللہ نے اسے مردود ٹھہرا دیا اور فرمایا کہ قیامت تک تجھ پر لعنت ہی برستی رہے گی ،
(مہلت کی درخواست)
اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کے بعد شیطان نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کے لیے مہلت طلب کی ، جس کا ذکر اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
قَالَ ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَــقِيْمٌ 41
صرط
الصِّرَاطُ : الطّريقُ المستقیمُ. قال تعالی: وَأَنَّ هذا صِراطِي مُسْتَقِيماً [ الأنعام/ 153] ، ويقال له : سِرَاطٌ ، وقد تقدّم .
سرط
السِّرَاطُ : الطّريق المستسهل، أصله من :
سَرَطْتُ الطعامَ وزردته : ابتلعته، فقیل : سِرَاطٌ ، تصوّرا أنه يبتلعه سالکه، أو يبتلع سالکه، ألا تری أنه قيل : قتل أرضا عالمها، وقتلت أرض جاهلها، وعلی النّظرین قال أبو تمام :
231-
رعته الفیافي بعد ما کان حقبة ... رعاها وماء المزن ينهلّ ساكبه
«2» وکذا سمّي الطریق اللّقم، والملتقم، اعتبارا بأنّ سالکه يلتقمه .
( ص ر ط ) الصراط
۔ سیدھی راہ ۔ قرآن میں ہے : وَأَنَّ هذا صِراطِي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–44
جان کی تعریف و تفسیر، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جان سب جنون کے باپ کا نام ہے اور یہی قول اکثر مفسرین کا ہے اور یہی ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے گو بعض نے جان سے مراد ابلیس لیا ہے جان کے معنی لغت میں ساتر یعنی چھپنے (چھپانے) والے کے ہیں کہتے ہیں جن الشیٔ اذاسترہ چونکہ آدم ( علیہ السلام) کے خلاف اس کا غالب مادہ آگ کا لطیف شعلہ ہے اس لیے یہ قوم محسوس نہیں ہوتی ہر ایک کو دکھلائی نہیں دیتی اور اس لیے اس قوم کو جن اور اس کے باپ کو جان کہتے ہیں۔
خدائے تعالیٰ لطیف وخبیر نے اول ملائکہ کو بنایا، ان کے بعد جن کی قوم کو جن کا مادہ ملائکہ سے ذرا قریب تر تھا، پھر انسان کو جس کا مادہ کثیف ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ دیگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
قَالَ ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ۔ اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ اِلاَّ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغٰوِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 41۔ 42)
(اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ سیدھا راستہ ہے جو میری طرف آتا ہے۔ بیشک میرے بندوں پر تیرا کوئی بس نہیں چلتا، مگر وہ جو گمراہوں میں سے تیری پیروی کرتے ہیں۔ )
صراطِ مستقیم سے مراد ؟ اور ابلیس کی مہلت کی حد ؟
پہلی آیت کریمہ میں فرمایا کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے اور سابقہ آیت کے مفہوم پر غور کریں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہاں دراصل یہ فرمایا جارہا ہے کہ میرے ساتھ مکمل اخلاص کے ساتھ بغیر شرک کے اور بغیر ریا کے بندگی کی زندگی گزارنا یہ صراط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ ابلیس کے جواب میں رب ذوالجلال کا فرمان۔
اخلاص ہی وہ صراط مستقیم ہے جس پر گامزن رہنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور اسی راستے پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ کی منشا اور رضا کو پاسکتا ہے۔ جو لوگ اس راستے کو اپنائیں گے ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ میرے بندے ہیں۔ اے ابلیس ! ان پر تیرا کبھی غلبہ نہ ہو پائے گا۔ ہاں ! تیرا غلبہ ان لوگوں پر ہوگا جو صراط مستقیم سے بھٹک کر تیری اطاعت کریں گے۔ ان سب کے لیے میرا وعدہ ہے کہ میں ضرور انہیں جہنم میں داخل کروں گا۔ جہنم کے سات دروازے ہیں اور ہر دروازے میں مقررہ تقسیم کے مطابق مجرموں کو داخل کیا جائے گا۔ اہل علم نے مقررہ تقسیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
شیطانی پیروکاروں کی سزا و جہنم :
41، 42: قَالَ ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ۔ اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغٰوِیْنَ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ مجھ تک پہنچنے کا سیدھا راستہ ہے میرے ان بندوں پر تیرا ذرا بھی بس نہ چلے گا مگر جو گمراہ لوگوں میں سے تیرے راستہ پر چلنے لگے) یعنی اس راستہ کے متعلق میں نے اپنے اوپر لازم کرلیا کہ میں اسکی نگرانی کروں اور وہ یہ ہے کہ میرے بندوں پر تمہیں دسترس نہ ہو البتہ جو گمراہی کی وجہ سے تیری اتباع کو اختیار کرلے۔ نمبر 2۔ عَلَیَّ کا معنی اِلَیَّ ہے
قراءت : یعقوب نے عَلِیٌّ پڑھا ہے۔ اس صورت میں یہ فضیلت اور مرتبہ…
Read the full tafseer →تفسیر 41:۔” قال “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ ” ھذا صراط علی مستقیم ‘ ‘ حسن (رح) کا قول ہے کہ حق کا سیدھا راستہ مراد ہے۔ مجاہد (رح) کا قول ہے حق کا رجوع اللہ تعالیٰ کی طرف راہ حق بھی اللہ کی طرف پہنچتی ہے کسی اور طرف نہیں مڑتی۔
اخفش (رح) کا قول ہے سیدھا راستہ بتانا مجھ پر ہے۔ کسائی کا قول ہے کہ ہذا سے اشارہ ابلیس کے راستے کی طرف ہوگا جو اس نے اپنے لیے اختیار کیا تھا یعنی اغواء اور گمراہ کرنے کا رستہ ، جیسے کوئی شخص اپنے مخالف سے کہتا ہے کہ تیرا راستہ مجھ پر ہے ، یعنی تو میرے ہاتھ سے نہیں بچ سکتا ۔ جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمان ” ان ربک لبا لمرصاد “ بیشک آپ کا رب گھا ت لگائے بیٹھا ہے۔ بعض حضرات نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
41۔ 44۔ جب شیطان نے قیامت تک مہلت چاہی اور اس کو مہلت مل گئی اور اس نے بنی آدم کے بہکانے کا اور راہ حق سے پھیرنے کا بیڑا اٹھا لیا اور یہ کہا کہ تیرے خالص بندوں کو نہیں بہکا سکتا ہوں تو اس کا جواب اللہ پاک نے یہ دیا کہ یہی نیت کا خالص ہونا ہی تو سیدھا رستہ ہے جو مجھ تک ان لوگوں کو پہنچائے گا اور جو میرے چنے ہوئے بندے ہیں ان پر تیرا ایسا زور نہیں چلتا جو وہ تیرے بہکانے میں آجائیں گے ہاں جو لوگ ازلی گمراہ ہیں وہ البتہ تیرے بہکانے میں آجائیں گے تو ان کے واسطے میں نے جہنم کو بھی تیار کر رکھا ہے اور جہنم بھی وہ جس کے سات دروازے اور سات طبقے ہیں ہر ایک کے واسطے ان کے عمل کے مطابق یہ ساتوں طبقے جہنم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–44
آیت 26
اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے باپ حضرت آدم پر اپنی نعمت اور اپنے احسان کا ذکر کرت ا ہے، حضرت آدم کا اپنے دشمن ابلیس کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کو بھی بیان کرتا ہے اور اس ضمن میں ہمیں ابلیس کے شر اور فتنہ سے ڈراتا ہے، چناچہ فرمایا : (ولقد خلقنا الانسان) ” ہم نے انسان کو پیدا کیا۔ “ یعنی آدم کو پیدا کیا (من صلصال من حما مسنون) ” کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے “ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہوجاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔
(الحما المسنون) اس گارے کو کہتے ہیں، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں۔ (والجآن) ” اور جنوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
36۔ اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کے استثناء کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ابلیس نے اپنے چیلنج سے اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کا استثناء کرتے ہوئے کہا، سوائے تیرے ان خاص بندوں کے جن کو تو نے چن لیا ہوگا ‘ کہ ان پر میرا زور نہیں چل سکے۔ یہ ترجمہ ہے " مخلصیں " کا یعنی لام کے زبر کے ساتھ۔ اور دوسری قراءت اس میں " مخلصین " کی بھی ہے۔ یعنی لام کی زیر کے ساتھ، جس کے معنی ہیں خالص کرنے والے۔ یعنی جو اپنے عقائد اور اعمال کو خالص کرنے والے ہوں گے ہر طرح کے شرک اور ریاء ونمود کے شوائب سے۔ اور یہ دونوں مطلب درست اور بنیادی نوعیت کے حامل ہیں۔ سبحان اللہ۔ کیا کہنے نظم قرآن کی جامعیت کے۔ سو صدق و اخلاص کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
انسان کی پیدائش اور ابلیس کی نافرمانی
تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا قصہ اور شیطان کا ملعون ہونا سورة بقرہ رکوع 4، سورة نساء رکوع 18 اور سورة اعراف رکوع 2 میں بڑی وضاحت سے بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں سورة الحجر میں کیونکہ ان آیات سے پہلے تمام کائنات اور ہر چیز کے ناپ تول کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے یہاں انسان کی پیدائش، جسم، نفس، روح اور زندگی کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب بھی اللہ نے بڑے حساب کتاب اور ناپ تول سے بنائے ہیں۔ یہاں وہ تمام راز کھول کر بیان کردیے گئے ہیں جو انسانی سائنسی تحقیقات سے بہت بلند ہیں۔ پچھلی آیات سے جو کچھ معلوم ہوا وہ تو تمام تخلیقات کے بارے میں تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
خود انسان کو بھی تو ہم نے ہی پیدا کیا سڑے ہوئے مٹی گارے سے جو خشک ہوچکا تھا ۔
(جنات کو پہلے پیدا کیا گیا)
قبل ازیں ہم جنات کو آگ کی لو سے پیدا کرچکے تھے یعنی آگ کی وہ تپش جو ایک گرم ہوا کی صورت میں تھی کہ آگ کا نظر آنا اجزائے کثیفہ کی ملاوٹ سے ہوتا ہے ورنہ وہ بہت لطیف ہوتی ہے تو گویا جنات کا وجود اسی سے پیدا ہوا جو نظر نہیں آتا ، اور جنات پہلے سے زمین پر آباد کئے گئے تھے ،۔
پھر وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب آپ کے رب نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میں کھنکتے اور سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر تخلیق کر رہا ہوں جب وہ بن چکے اور میں اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب کے سب اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
ف 7 ۔ یعنی یہی کہ میرے مخلص بندوں کو تو گمراہ نہ کرسکے گا درست بات ہے جیسے بعد میں فرمایا : ان عبادی لیس لک علیھم سلطان۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ھذا سے اخلاص کی طرف اشارہ ہو یعنی یہی اخلاص کی راہ مجھ تک سیدھی پہنچتی ہے۔ (کذافی الروح) ۔
Read the full tafseer →(15:41) ھذا۔ اس کا مشار الیہ اخلاص ہے۔
صراط علی مستقیم۔ صراط مستقیم موصوف صفت۔ علی بمعنی الی۔ ھذا (الاخلاص) صراط علی (ای طریق فی الوصول الی من غیر ضلال، مستقیم لا عوج فیہ اصلا (مظہری۔
یہی اخلاص (ریاء تکلف اور تصنع سے کلیۃً اجتناب) میری طرف پہنچنے کا سیدھا راستہ ہے۔ اس میں کوئی ٹیڑھا پن نہیں ہے۔ (بحوالہ ضیاء القرآن)
تفسیر خازن میں ہے۔ قال الحسن معناہ ھذا صراط الی مستقیم یعنی میری طرف آنے کا سیدھا راستہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 44
صلصال وہ مٹی جو سوکھ کر سخت ہوجائے اور بجنے لگے ۔ مسنون گوندھی گئی۔ السموم لو۔ نفخت میں نے پھونک دیا۔ پھونک ماردی، حما سڑی ہوئی مٹی، کیچڑ۔ جان جن۔ سویت میں نے برابر کردیا۔ ٹھیک کرلیا۔ روحی میری روح ، قعوا گرپڑو۔ ابی انکار کیا۔ ان یکون یہ کہ وہ ہو۔ مالک تجھے کیا ہوا۔ لم اکن میں نہیں ہوں بشر انسان۔ اخرج نکل جا۔ لعنت لنت، اللہ کی رحمت سے دوری۔ انظرنی تو مجھے مہلت دیدے۔ یبعثون (اٹھائے جائیں گے) ۔ اغویت (اغوائ) تو نے سیدھی راہ سے ہٹا دیا ۔ سلطن قوت، زور الغوین بہکنے والے۔ موعد وعدہ کی جگہ۔ سبعۃ ابواب سات دروازے۔ جزاء حصہ۔ مقسوم تقسیم کیا گیا۔
تشریح : آیت نمبر 26 تا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
اللہ تعالیٰ کا حکم
حاصل مطلب یہ ہے کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے اللہ کی عزت کی قسم کھا کر یہ کہا : جب تک ہر انسان میں جان باقی ہے جس طرح اور جہاں تک مجھ سے ہوسکے گا ہر ایک آدمی کو بہکانے میں اور بہکاکر ہر طرح کے برے کام ان سے کرانے میں کوتاہی نہ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے عزت و جلال کی قسم کھا کر شیطان کو جواب دیا کہ میں بھی جب تک مجھ سے وہ تیرے بہکائے ہوئے گنہگار توبہ و استغفار کریں گے، ان کو بخشے ہی جاؤں گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ شیطان بہکانے سے نہیں تھکتا اور اللہ تعالیٰ بخشنے اور مغفرت اور توبہ کے قبول کرنے سے نہیں بس کرے گا۔ گنہگار بندہ ہی اپنی بدنصیبی سے توبہ و استغفار کرنے سے تھک جاوے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
[15] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة اعراف حاشیہ 5 صفحہ 380۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–48
شیطان کی وجہ تخلیق :
(ف 1) شیطان کو سجدہ نہ کرنے کی یہ سزا ملی کہ ہمیشہ کیلئے معتوب الہی ہوا ، اسے حکم دیا گیا ، کہ تم اب آسمان کی وسعتوں سے نکل جاؤ اور مکرو فریب کے لئے زمین پر رہو ، تمہیں قیامت تک مہلت ہے اپنی شیطنت کو بروئے کار لاؤ ، پوری قوت کے ساتھ اولاد آدم کو گمراہ کرنے کی کوشش کرو ، یاد رکھو وہ لوگ جو پاکباز اور متقی ہیں ، وہ تیری دستبر سے ہمیشہ بالا رہیں گے ، اور نفوس قدسیہ کو گمراہ نہیں کر سکوگے ، سوائے ان چند شریر النفس لوگوں کے جو تیرے ہم خیال ہیں ، اور کوئی تیری دوستی کا دم نہیں بھرے گا اور بالاخر تم سب لوگ جہنم کا ایندھن بنوگے ، شیطان اپنے تمام گروہ کے ساتھ جہنم میں داخل…
Read the full tafseer →41 ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ اخلاص اور مخلصانہ عبادت مجھ تک پہنچنے کی سیدھی راہ ہے۔ یعنی کسی کا منتخب ہوجانا اور خلوص کے ساتھ بندگی کرنا یہ ہی سیدھا راستہ ہے جو مجھ تک پہنچتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بندگی اللہ کی سیدھی راہ ہے اور اس پر شیطان قابو نہیں رکھتا۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
ف 4۔ یعنی جن کو آپ نے میرے اثر سے محفوظ رکھا ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے فرمایا بس یہی سیدھی راہ ہے جو مجھ تک پہنچ جاتی ہے ۔
41۔ سیدھا راستہ کیا ہے ؟ فرمایا وہ سیدھا راستہ ایمان و اطاعت واعمال صالحہ کا ہے کہ اس پر چل کر ہی بندہ اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو کوئی راہ ہدایت پر چلنے کا واقعی قصد کرتا ہے اسے وہ راہ ضرور مل جاتی ہے اور قانون الہی بھی یہی ہے کہ ہر وہ شخص جو تلاش کرتا ہے پالیتا ہے ، مفسرین نے کہا ہے کہ ” علی “ بمعنی ” الی “ ہے یعنی مجھ تک پہنچانے والا یہ صراط مستقیم ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ ” ھذا “ کا مشار الیہ اخلاص ہے یعنی جس نے بناوٹ اور ریا ‘ تکلیف اور تصنع سے کلیۃ اجتناب کرتے ہوئے اخلاص کو اپنا شعار بنایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
The Command to Prostrate was Given to Angels - Iblis was to Follow Suit
Addressing Iblis in Surah Al-A` raf, it was said: مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ (What stopped you from prostrating when I ordered you? - 7:12). This shows that the command to prostrate was given, along with the angels, to Iblis as well. However, the verses you have gone through a little earlier apparently give the sense that the command was particular to the an-gels. This could mean that the command was originally given to the angels but, as Iblis too was present among the angels, therefore, he too was…
Read the full tafseer →23. This (verse 41) may have another meaning: This is the right thing: I also will stick to this.
Read the full tafseer →