Explained with ayahs 39–44
ابلیس کے سیاہ کارنامے
ابلیس کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اللہ کے گمراہ کرنے کی قسم کھا کر کہا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے کہا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں بھی اولاد آدم کے لئے زمین میں تیری نافرمانیوں کو خوب زینت دار کر کے دکھاؤں گا۔ اور انہیں رغبت دلا دلا کر نافرمانیوں میں مبتلا کروں گا، جہاں تک ہو سکے گا کوشش کروں گا کہ سب کو ہی بہکا دوں۔ لیکن ہاں تیرے خالص بندے میرے ہاتھ نہیں آسکتے۔ ایک اور آیت میں بھی ہے کہ گو تو نے اسے مجھ پر برتری دی ہے لیکن اب میں بھی اس کی اولاد کے پیچھے پڑجاؤں گا، چاہے کچھ تھوڑے سے چھوٹ جائیں باقی سب کو ہی لے ڈوبوں گا۔ اس پر جواب ملا کہ تم سب کا لوٹنا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
سورة الْحِجْر 22
یعنی جس طرح تو نے اس حقیر اور کم تر مخلوق کو سجدہ کرنے کا حکم دے کر مجھے مجبور کردیا کہ تیرا حکم نہ مانوں، اسی طرح اب میں ان انسانوں کے لیے دنیا کو ایسا دلفریب بنا دوں گا کہ یہ سب اس سے دھوکا کھا کر تیرے نافرمان بن جائیں گے۔ بالفاظ دیگر ابلیس کا مطلب یہ تھا کہ میں زمین کی زندگی اور اس کی لذتوں اور اس کے عارضی فوائد و منافع کو انسان کے لیے ایسا خوشنما بنا دوں گا کہ وہ خلافت اور اس کی ذمہ داریوں اور آخرت کی باز پرس کو بھول جائیں گے اور خود تجھے بھی یا تو فراموش کردیں گے، یا تجھے یاد رکھنے کے باوجود تیرے احکام کی خلاف ورزیاں کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
حکم سجدہ فرشتوں کو ہوا تھا ابلیس اس میں تبعا شامل قرار دیا گیا
سورة اعراف میں ابلیس کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا ہے مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سجدہ کا حکم فرشتوں کے ساتھ ابلیس کو بھی دیا گیا تھا اسی لئے اس سورت کی جو آیات ابھی آپ نے پڑھی ہیں جن سے بظاہر اس حکم کا فرشتوں کے لئے مخصوص ہونا معلوم ہوتا ہے اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اصالۃً یہ حکم فرشتوں کو دیا گیا مگر ابلیس بھی چونکہ فرشتوں کے اندر موجود تھا اس لئے تبعا وہ بھی اس حکم میں شامل تھا کیونکہ آدم ؑ کی تعظیم و تکریم کے لئے جب اللہ تعالیٰ کی بزرگ ترین مخلوق فرشتوں کو حکم دیا گیا تو دوسری مخلوق کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
تفسیر آیات 39 تا 40: قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لأزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الأرْضِ وَلأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ (39)إِلا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ (40)۔ " اغوا " کے معنی گمراہ کرنے کے ہیں۔ چونکہ ابلیس آدم کو سجدہ نہ کرنے کے معاملے میں اپنے آپ کو بجانب حق خیال کرتا تھا اس وجہ سے اس نے نہایت گستاخانہ انداز میں فعل " اغوا " کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف منسوب کیا۔ مطلب یہ کہ اگر میں اس حکم کی عدم تعمیل کے باعث گمراہ ٹھہرا تو اس میں میرا قصور نہیں ہے بلکہ یہ حکم ہی ایسا تھا کہ میں اس کی تعمیل نہیں کرسکتا تھا اس وجہ سے اگر میں اس کے سبب سے گمراہ ہوا تو اس پر تو ہی نے مجھے مجبور کیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–40
33۔ 1 شیطان نے انکار کی وجہ حضرت آدم ؑ کا خاکی اور بشر ہونا بتلایا، جس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان اور بشر کو اس کی بشریت کی بنا پر حقیر اور کم تر سمجھنا یہ شیطان کا فلسفہ ہے، جو اہل حق انبیاء (علیہم السلام) کی بشریت کے منکر نہیں، اس لئے کہ ان کی بشریت کو خود قرآن کریم نے وضاحت سے بیان کیا ہے۔ علاوہ ازیں بشریت ان کی عظمت اور شان میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
16: اللہ تعالیٰ نے اسی وقت واضح فرمادیا کہ جو لوگ اخلاص اور بندگی کا راستہ اختیار کریں گے وہ سیدھا مجھ تک پہنچے گا اور ایسے لوگوں پر شیطان کے بہکاوے کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
آیت نمبر 39 تا 40
یہاں ابلیس نے اپنا میدان جنگ خود ہی متعین کردیا ہے ، یہ کہ وہ زمین میں انسان کے خلاف جنگ کرے گا۔
لا زینن لھم فی الارض ” مین زمین میں ان کے لئے اپنے دل فریبیاں پیدا کروں گا “۔ اسی طرح اس نے میدان جنگ میں استعمال ہونے والے اپنے ہتھیار کا بھی اعلان کردیا۔ وہ یہ کہ میں غلط اور مضر اعمال کو ان کے لئے خوشنما بناؤں گا۔ برے کو بھلا قرار دوں گا۔ مصنوعی خوبصورتیوں کے ذریعے ان کو دام فریب میں گرفتار کروں گا۔ چناچہ جو شخص بھی شرکا ارتکاب کرتا ہے وہ تب ہی کرتا ہے کہ شیطان اس کے لئے اسے خوشنما بنا دیتا ہے۔ شر کو وہ خیر کا لباس پہناتا ہے اور وہ شر کو ہرگز شر کی صورت میں پیش نہیں کرتا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
8 یعنی دنیا کی بہاریں دکھلا کر خواہشات نفسانی کے جال میں پھنساؤں گا اور تیرے مخصوص و منتخب بندوں کے سوا سب کو راہ حق سے ہٹا کر رہوں گا۔ یہ کلمات لعین نے جوش انتقام میں کہے۔ مطلب یہ تھا کہ آپ کا تو کچھ بگاڑ نہیں سکتا، لیکن جس کی وجہ سے میں دور پھینکا گیا ہوں اپنی قدرت اور بساط کے موافق اس کی نسلوں تک سے بدلہ لے کر چھوڑوں گا۔ سورة " اعراف " میں اس موضوع پر ہم نے جو کچھ لکھا ہے ملاحظہ کیا جائے۔
Read the full tafseer →آیت 40 اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِيْنَ
مخلَصین لام کی زبر کے ساتھ سے مراد وہ بندے ہیں جنہیں اللہ خاص اپنے لیے چن لے یعنی اللہ کے محبوب اور برگزیدہ بندے۔ اللہ کے ایسے بندوں کے بارے میں شیطان کا اعتراف ہے کہ ان پر میرا زور نہیں چلے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
20۔ الف ابلیس نے اپنی گمراہی کا الزام اللہ کے ذمہ لگا دیا اور اس کی جو وجہ بتلائی وہ سورة اعراف کی آیت نمبر 16 کے حاشیہ نمبر 14 میں ملاحظہ فرمایئے۔
21 ابلیس کے انسان کو گمراہ کرنے کے طریقے :۔ ابلیس نے کہا میں دنیا کی زندگی، اس کی لذتوں اور اس کے عارضی فوائد کو انسانوں کے لیے ایسا خوشنما بنا کر پیش کروں گا کہ وہ اس دنیا کی دلچسپیوں میں ایسے محو رہیں گے کہ خلافت اور اس کی ذمہ داریوں اور آخرت کی باز پرس کو بالکل بھول جائیں گے اور تجھے بھی یا تو بالکل فراموش کردیں گے یا تجھے یاد رکھنے کے باوجود تیری نافرمانیاں کرتے رہیں گے اور دوسروں کو تیری خدائی میں شریک بناتے رہیں گے اور میرے اس پھندے سے صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
33۔ (اور تو انہیں میرے اثر سے محفوظ رکھے گا، تو وہ تو بیشک میرے بہکانے میں نہ آئیں گے) آیت سے یہ مراد نہیں کہ شیطان نیک بندوں کو پھانسنے کی کوشش نہ کرے گا۔ جال تو وہ سب ہی پر پھینکتا ہے۔ البتہ مخلص بندوں کے باب میں زیادہ کامیاب نہیں ہوپاتا۔ (آیت) ” لھم “۔ یعنی آدم وحوا (علیہما السلام) اور ان کی نسل کی نظر میں (آیت) ” بما اغویتنی “ اغوا اور اضلال کا یہ انتساب ذات حق کی جانب جس حد تک بھی صحیح ہے، صرف تکوینی حیثیت سے یا علت العلل کے معنی میں ہے، بما میں بائے سببیہ ہے۔ اے بسبب اغوائک ایای (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
آیت نمبر 26 تا 44
ترجمہ : بیشک ہم نے انسان (یعنی) آدم کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا یعنی ایسی خشک مٹی جب اس کو نجایا جائے تو اس کی آواز سنی جائے اور اس سے پہلے (یعنی) تخلیق آدم سے پہلے ہم نے جنات (یعنی) ابو الجن کو کہ وہ ابلیس ہے شعلے سے کہ جس میں دھواں نہ ہو اور وہ مسامات (یعنی بدن کے مسامات) میں نفوذ کر جائے پیدا کیا اور اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں انسان کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناے والی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں تو جب میں اس کو مکمل کر چکوں اور اس میں اپنی روح ڈال چکوں اور وہ زندہ ہوجائے اور روح کی نسبت اللہ کی طرف آدم کیلئے کرامت کے طور پر…
Read the full tafseer →الا عبادک منھم المخلصین مگر ان میں سے تیرے جو چنے ہوئے بندے ہوں گے اور تو نے ان کو تمام کدورتوں سے پاک کردیا ہوگا (ان کو میں نہیں بہکا سکوں گا) جن کو تو نے ہدایت کردی ہوگی ‘ ان پر میری فریب کاری کوئی اثر نہ ڈال سکے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
(39۔ 40) کہنے لگا میرے رب آپ نے مجھ کو بحکم تکوین ہدایت سے گمراہ کیا ہے تو میں دنیا میں آدم ؑ کی اولاد کے سامنے لذات وشہوات کو آراستہ کرکے لاؤں گا اور ان سب کو ہدایت سے گمراہ کروں گا سوائے آپ کے ان بندوں کے جن کو آپ نے میرے اثر سے محفوظ رکھا ہے یا سوائے موحدین کے۔
Read the full tafseer →اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِيْنَ : یعنی تیرے وہ بندے جو خالص تیرے لیے چن لیے گئے اور جنھیں تو نے خاص اپنا بنا لیا میں انھیں گمراہ نہیں کرسکوں گا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 40
اہل مدینہ اور اہل کوفہ نے لام کو فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے ؛ یعنی وہ جنہیں تو نے چن لیا ہے اور تو نے انہیں خاص کرلیا ہے اور باقیوں نے لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے ؛ یعنی وہ جنہوں نے عبادت کو تیرے لئے فساد یا ریاکاری سے خالص (اور پاک) کرلیا ہے ابو ثمامہ نے بیان کیا ہے کہ حواریوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے مخلصین کے بارے پوچھا تو آپ نے فرمایا : (الذی یعمل ولا
یحب أن یحمدہ الناس) ۔ ” یعنی وہ جو عمل کرتا ہے اور یہ پسند نہیں کرتا کہ لوگ اس کی تعریف کریں “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–48
1:۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فانظرنی الی یوم یبعثون “ سے مراد ہے کہ ابلیس نے ارادہ کیا کہ وہ موت کو نہ چکھے گا اسے کہا گیا کہ (آیت ) ” فانک من المنظرین (37) الی یوم الوقت المعلوم (38) پھر فرمایا نفخہ میں ابلیس مرجائے گا اور دونوں نفخہ کے درمیان چالیس سال کا وفقہ ہے فرمایا تو ابلیس چالیس سال تک مرا پڑا رہے گا۔
2:۔ امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قال فانک من المنظرین “ سے مراد ہے کہ اس کی مہلت نہیں ملی اٹھائے جانے کے دن تک لیکن اس کو وقت معلوم تک مہلت دی گئی۔
3:۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا عبادک منہم…
Read the full tafseer →[اِلَّا : سوائے ] [عِبَادَكَ : تیرے بندوں کے ] [ مِنْهُمُ : ان میں سے ] [ الْمُخْلَصِيْنَ : (جو) ملاوٹ پاک کئے ہوئے ہیں ]
Read the full tafseer →مخلصین کے بہکانے سے شیطان کا عاجز ہونا
ابلیس نے کہا کہ میں ان سب کو گمراہ کروں گا لیکن ساتھ ہی یوں بھی کہا (اِلَّا عِبَادَکَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَ ) (مگر آپ کے جو منتخب بندے ہوں گے انہیں گمراہ نہ کرسکوں گا) چونکہ ابلیس نے اللہ تعالیٰ شانہ کا یہ اعلان سن لیا تھا کہ یہ جو نئی مخلوق ہے زمین کی خلافت کے لیے پیدا کی جا رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کی خلافت کا کام وہی بندے انجام دے سکتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے برگزیدہ فرما لیا اور چن لیا ہو اس لیے اس نے سمجھ لیا کہ ایسے بندے ضرور ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ شانہ منتخب فرمالیں گے اور جن پر میرا داؤ نہ چلے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
ذکر پیدائش انس و جن و قصہ پیدائش آدم (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ : ولقد خلقنا الانسان من صلصال .... الیٰ .... لکل باب منھم جزء مقسوم۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں حق جل شانہ نے حیوانات کی پیدائش سے اپنی قدرت اور خالقیت کا ذکر فرمایا اب یہاں جن و انس سے اسی مقصود پر استدلال فرماتے ہیں اور جان سے مراد یہاں جنوں کا باپ ہے جس طرح اوپر کی آیتوں میں انسان سے تمام انسانوں کے باپ مراد ہیں دونوں میں فرق یہ ہے کہ آدمیوں کا باپ، ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ترابی غالب تھا اور جنوں کا باپ ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ناری کا غلبہ تھا۔ ابلیس اسی قسم میں سے تھا اللہ تعالیٰ نے ان دو مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
16:۔ ” بِمَا اَغْوَیْتَنِیْ “ میں مَا مصدریہ ہے۔ ابلیس نے کہا میرے پروردگار ! تو نے مجھے راندہ بارگاہ تو کردیا ہے اب میں بھی تیرے بندوں کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھوں گا اور برے اعمال، ناجائز اور بےحیائی کے کاموں کو نہایت خوبصورت بنا کر ان کے سامنے پیش کروں گا کہ وہ خود بخود ان کی طرف مائل ہوجائیں۔ ” اِلَّا عِبَادَکَ الخ “ البتہ تیرے ان مخلص بندوں کو گمراہ نہیں کرسکوں گا جن کو تو نے اپنی خالص عبادت و اطاعت کے لیے چن لیا ایک قراءت میں ” اَلْمُخْلِصِیْنَ “ بصیغہ اسم فاعل ہے یعنی جو خالص تیری رضا جوئی کے لیے نیک کام کریں گے اور ان کے اعمال جلی اور خفی شرک سے پاک ہوں گے۔ ای الذین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
(ربط آیات)
پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کیا ، ایک معمولی چیز یعنی سڑے ہوئے بدبودار گارے والی مٹی سے انسان کو پیدا کیا اور اسے کمال درجے کی حیثیت اور شان عطا فرمائی ، اس میں روح ڈالی ، فرشتوں سے اس کو سجدہ کرایا ، ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا اور اپنی برتری جتلانے کی کوشش کی کہ میں ناری ہو کر خاکی کے سامنے کیسے سجدہ بجا لاؤں ، اس نے تکبر میں آکر اللہ تعالیٰ کے حکم کی سرتابی کی ، تو اللہ نے اسے مردود ٹھہرا دیا اور فرمایا کہ قیامت تک تجھ پر لعنت ہی برستی رہے گی ،
(مہلت کی درخواست)
اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کے بعد شیطان نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کے لیے مہلت طلب کی ، جس کا ذکر اللہ…
Read the full tafseer →اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِيْنَ 40
عبد
العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] .
( ع ب د ) العبودیۃ
کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–44
جان کی تعریف و تفسیر، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جان سب جنون کے باپ کا نام ہے اور یہی قول اکثر مفسرین کا ہے اور یہی ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے گو بعض نے جان سے مراد ابلیس لیا ہے جان کے معنی لغت میں ساتر یعنی چھپنے (چھپانے) والے کے ہیں کہتے ہیں جن الشیٔ اذاسترہ چونکہ آدم ( علیہ السلام) کے خلاف اس کا غالب مادہ آگ کا لطیف شعلہ ہے اس لیے یہ قوم محسوس نہیں ہوتی ہر ایک کو دکھلائی نہیں دیتی اور اس لیے اس قوم کو جن اور اس کے باپ کو جان کہتے ہیں۔
خدائے تعالیٰ لطیف وخبیر نے اول ملائکہ کو بنایا، ان کے بعد جن کی قوم کو جن کا مادہ ملائکہ سے ذرا قریب تر تھا، پھر انسان کو جس کا مادہ کثیف ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ دیگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
قَالَ رَبِّ بِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَھُمْ فِی الْاَرْضِ وَلَاُغْوِیَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ اَلاَّ عِبَادَکَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 39۔ 40)
(وہ بولا ! اے میرے رب، چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا، میں زمین میں دنیا کو ان کی نگاہوں میں ضرور خوشنما بنا دوں گا اور میں ان سب کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا۔ سوائے تیرے ان بندوں کے جنھیں ان میں سے چن لیا گیا ہے۔ )
ابلیس کی گمراہی کا سبب اور اس کا ہدف
اگر اللہ تعالیٰ کی بندگی کسی شخص میں عاجزی اور فروتنی پیدا نہیں کرتی تو پھر اس کی انا عام بگڑے ہوئے لوگوں سے بھی زیادہ خطرناک ہوجاتی ہے۔ ابلیس نے اللہ تعالیٰ جانے کتنے سالوں تک اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کے حضور ابلیس کی درخواست کہ مجھے مہلت دیں میں ابن آدم کو گمراہ کروں۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہمیشہ ہمیش محروم ہونے کے باوجود ابلیس نے ربِّ کریم کی بارگاہ میں درخواست پیش کی کہ اے میرے رب ! مجھے قیامت تک زندہ رکھ اور مہلت دے کہ میں ابن آدم کو گمراہ کرتا رہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا تجھے اس دن تک مہلت دی جاتی ہے جس کا علم میرے سوا کسی کو نہیں ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ رب کریم کی شفقت و مہربانی کو پیش نظر رکھتے ہوے ابلیس اللہ تعالیٰ سے معافی کا خواستگار ہوتا۔ مگر ابلیس معافی کا خواستگار ہونے کے بجائے مزید سر کشی اور…
Read the full tafseer →40: اِلَّا عِبَادَکَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَ (مگر ان میں سے تیرے چنے ہوے بندے )
قراءت : بصری و مکی و شامی نے مُخْلِصِیْنَ پڑھا۔ لام کے کسرہ کے ساتھ۔ شیطان نے خاص بندوں کو مستثنیٰ کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اسکا فریب ان پر کار گر نہ ہوگا اور نہ وہ قبول کریں گے۔
Read the full tafseer →40۔” الا عبادک منھم المخلصین “ مومنین کی وہ جماعت جو تیری خالص پیروی اطاعت کریں گے۔ لام کے فتحہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ جو شخص توحید کے خالص طور پر اپنائے گا ، اللہ اس کو ہدایت سے سرفرازکرے گا اور اپنے مقرب بندوں میں اس کو شمار کرے گا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
39۔ 40۔ مسند امام احمد بن حنبل اور مستدرک حاکم میں حضرت ابو سعید خدری ؓ کی روایت 1 ؎ میں شیطان کے اس قول کی اور اس قول کے جواب کی جو اللہ تعالیٰ نے شیطان کو دیا ہے پوری تفسیر ہے جس کو اس آیت کی تفسیر کہنا چاہیے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا 2 ؎ ہے۔ حاصل مطلب اس حدیث کا یہ ہے کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے اللہ کی عزت کی قسم کھا کر یہ کہا کہ جب تک ہر انسان میں جان باقی ہے جس طرح اور جہاں تک مجھ سے ہو سکے گا ہر ایک آدمی کو بہکانے میں اور بہکا کر ہر طرح کے برے کام ان سے کرانے میں کوتاہی نہ کروں گا اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے عزت و جلال کی قسم کھا کر شیطان کو جواب دیا کہ میں بھی جب تک مجھ سے وہ تیرے بہکائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–44
آیت 26
اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے باپ حضرت آدم پر اپنی نعمت اور اپنے احسان کا ذکر کرت ا ہے، حضرت آدم کا اپنے دشمن ابلیس کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کو بھی بیان کرتا ہے اور اس ضمن میں ہمیں ابلیس کے شر اور فتنہ سے ڈراتا ہے، چناچہ فرمایا : (ولقد خلقنا الانسان) ” ہم نے انسان کو پیدا کیا۔ “ یعنی آدم کو پیدا کیا (من صلصال من حما مسنون) ” کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے “ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہوجاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔
(الحما المسنون) اس گارے کو کہتے ہیں، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں۔ (والجآن) ” اور جنوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
36۔ اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کے استثناء کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ابلیس نے اپنے چیلنج سے اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کا استثناء کرتے ہوئے کہا، سوائے تیرے ان خاص بندوں کے جن کو تو نے چن لیا ہوگا ‘ کہ ان پر میرا زور نہیں چل سکے۔ یہ ترجمہ ہے " مخلصیں " کا یعنی لام کے زبر کے ساتھ۔ اور دوسری قراءت اس میں " مخلصین " کی بھی ہے۔ یعنی لام کی زیر کے ساتھ، جس کے معنی ہیں خالص کرنے والے۔ یعنی جو اپنے عقائد اور اعمال کو خالص کرنے والے ہوں گے ہر طرح کے شرک اور ریاء ونمود کے شوائب سے۔ اور یہ دونوں مطلب درست اور بنیادی نوعیت کے حامل ہیں۔ سبحان اللہ۔ کیا کہنے نظم قرآن کی جامعیت کے۔ سو صدق و اخلاص کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
انسان کی پیدائش اور ابلیس کی نافرمانی
تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا قصہ اور شیطان کا ملعون ہونا سورة بقرہ رکوع 4، سورة نساء رکوع 18 اور سورة اعراف رکوع 2 میں بڑی وضاحت سے بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں سورة الحجر میں کیونکہ ان آیات سے پہلے تمام کائنات اور ہر چیز کے ناپ تول کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے یہاں انسان کی پیدائش، جسم، نفس، روح اور زندگی کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب بھی اللہ نے بڑے حساب کتاب اور ناپ تول سے بنائے ہیں۔ یہاں وہ تمام راز کھول کر بیان کردیے گئے ہیں جو انسانی سائنسی تحقیقات سے بہت بلند ہیں۔ پچھلی آیات سے جو کچھ معلوم ہوا وہ تو تمام تخلیقات کے بارے میں تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
خود انسان کو بھی تو ہم نے ہی پیدا کیا سڑے ہوئے مٹی گارے سے جو خشک ہوچکا تھا ۔
(جنات کو پہلے پیدا کیا گیا)
قبل ازیں ہم جنات کو آگ کی لو سے پیدا کرچکے تھے یعنی آگ کی وہ تپش جو ایک گرم ہوا کی صورت میں تھی کہ آگ کا نظر آنا اجزائے کثیفہ کی ملاوٹ سے ہوتا ہے ورنہ وہ بہت لطیف ہوتی ہے تو گویا جنات کا وجود اسی سے پیدا ہوا جو نظر نہیں آتا ، اور جنات پہلے سے زمین پر آباد کئے گئے تھے ،۔
پھر وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب آپ کے رب نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میں کھنکتے اور سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر تخلیق کر رہا ہوں جب وہ بن چکے اور میں اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب کے سب اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
ف 7 ۔ یعنی یہی کہ میرے مخلص بندوں کو تو گمراہ نہ کرسکے گا درست بات ہے جیسے بعد میں فرمایا : ان عبادی لیس لک علیھم سلطان۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ھذا سے اخلاص کی طرف اشارہ ہو یعنی یہی اخلاص کی راہ مجھ تک سیدھی پہنچتی ہے۔ (کذافی الروح) ۔
Read the full tafseer →(15:40) المخلصین۔ جو چن لئے گئے ہیں۔ یعنی جنہیں تو نے اپنی عبادت اور اطاعت کے لئے چن لیا۔ اسم مفعول جمع مذکر حاضر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 44
صلصال وہ مٹی جو سوکھ کر سخت ہوجائے اور بجنے لگے ۔ مسنون گوندھی گئی۔ السموم لو۔ نفخت میں نے پھونک دیا۔ پھونک ماردی، حما سڑی ہوئی مٹی، کیچڑ۔ جان جن۔ سویت میں نے برابر کردیا۔ ٹھیک کرلیا۔ روحی میری روح ، قعوا گرپڑو۔ ابی انکار کیا۔ ان یکون یہ کہ وہ ہو۔ مالک تجھے کیا ہوا۔ لم اکن میں نہیں ہوں بشر انسان۔ اخرج نکل جا۔ لعنت لنت، اللہ کی رحمت سے دوری۔ انظرنی تو مجھے مہلت دیدے۔ یبعثون (اٹھائے جائیں گے) ۔ اغویت (اغوائ) تو نے سیدھی راہ سے ہٹا دیا ۔ سلطن قوت، زور الغوین بہکنے والے۔ موعد وعدہ کی جگہ۔ سبعۃ ابواب سات دروازے۔ جزاء حصہ۔ مقسوم تقسیم کیا گیا۔
تشریح : آیت نمبر 26 تا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
اللہ تعالیٰ کا حکم
حاصل مطلب یہ ہے کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے اللہ کی عزت کی قسم کھا کر یہ کہا : جب تک ہر انسان میں جان باقی ہے جس طرح اور جہاں تک مجھ سے ہوسکے گا ہر ایک آدمی کو بہکانے میں اور بہکاکر ہر طرح کے برے کام ان سے کرانے میں کوتاہی نہ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے عزت و جلال کی قسم کھا کر شیطان کو جواب دیا کہ میں بھی جب تک مجھ سے وہ تیرے بہکائے ہوئے گنہگار توبہ و استغفار کریں گے، ان کو بخشے ہی جاؤں گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ شیطان بہکانے سے نہیں تھکتا اور اللہ تعالیٰ بخشنے اور مغفرت اور توبہ کے قبول کرنے سے نہیں بس کرے گا۔ گنہگار بندہ ہی اپنی بدنصیبی سے توبہ و استغفار کرنے سے تھک جاوے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
[15] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة اعراف حاشیہ 5 صفحہ 380۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–48
شیطان کی وجہ تخلیق :
(ف 1) شیطان کو سجدہ نہ کرنے کی یہ سزا ملی کہ ہمیشہ کیلئے معتوب الہی ہوا ، اسے حکم دیا گیا ، کہ تم اب آسمان کی وسعتوں سے نکل جاؤ اور مکرو فریب کے لئے زمین پر رہو ، تمہیں قیامت تک مہلت ہے اپنی شیطنت کو بروئے کار لاؤ ، پوری قوت کے ساتھ اولاد آدم کو گمراہ کرنے کی کوشش کرو ، یاد رکھو وہ لوگ جو پاکباز اور متقی ہیں ، وہ تیری دستبر سے ہمیشہ بالا رہیں گے ، اور نفوس قدسیہ کو گمراہ نہیں کر سکوگے ، سوائے ان چند شریر النفس لوگوں کے جو تیرے ہم خیال ہیں ، اور کوئی تیری دوستی کا دم نہیں بھرے گا اور بالاخر تم سب لوگ جہنم کا ایندھن بنوگے ، شیطان اپنے تمام گروہ کے ساتھ جہنم میں داخل…
Read the full tafseer →40 ۔ مگر ہاں اولاد آدم میں سے تیرے وہ بندے جو مخلص اور منتخب اور چیدہ ہیں وہ میر ی زد سے محفوظ رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
ف 4۔ یعنی جن کو آپ نے میرے اثر سے محفوظ رکھا ہے۔
Read the full tafseer →ہاں ! ان میں جو مخلص بندے ہوں گے وہ میرے بہکانے میں نہیں آئیں گے :
40۔ آیت کا یہ مطلب نہ سمجھا جائے کہ شیطان نیک بندوں کو پھانسنے کی کوشش ہی نہ کرے گا ‘ نہیں ! جال تو وہ سب پر پھینکے گا بلکہ نیک بندوں پر زیادہ کوشش بھی کرے گا البتہ اللہ کے نیک بندوں پر اس کی کوئی چال بھی کامیاب نہیں ہوگی اور ہر حال میں اس کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا اس لئے وہ خود ہی اعتراف کررہا ہے کہ اے اللہ ! تیرے نیک بندوں پر میری کوئی چال بھی کام نہیں کرے گی ، لہذا اس کو اس حق بات کے اعتراف میں ذرا جھجھک محسوس نہیں ہوتی اس لئے ہم اکثر یہ بات کہتے ہیں کہ شیطان کو جھوٹ چلانے کیلئے کچھ نہ کچھ سچ بھی بولنا پڑتا ہے اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
The Command to Prostrate was Given to Angels - Iblis was to Follow Suit
Addressing Iblis in Surah Al-A` raf, it was said: مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ (What stopped you from prostrating when I ordered you? - 7:12). This shows that the command to prostrate was given, along with the angels, to Iblis as well. However, the verses you have gone through a little earlier apparently give the sense that the command was particular to the an-gels. This could mean that the command was originally given to the angels but, as Iblis too was present among the angels, therefore, he too was…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
22. That is, thou hast beguiled me by commanding me to bow down before a creature who is inferior to me: for it is obvious that I could not obey such an order. Therefore, I will now beguile them and disobey Thee. In other words, Iblis meant to say: I will make the worldly life, its enjoyments and its transitory benefits so alluring for man that he will forget the responsibilities of the vicegerent of Allah, and that he shall have to render his account in the Hereafter. They will also forget Thee and will disobey Thee, even though they would profess to remember Thee.
Read the full tafseer →