Al-Hijr 15:39

Al-Hijr · from ayah 39

15:39

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَلَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَ ۟ۙقَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِىۡ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ وَلَاُغۡوِيَـنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ‏

(اس نے) کہا کہ پروردگار جیسا تونے مجھے رستے سے الگ کیا ہے میں بھی زمین میں لوگوں کے لیے (گناہوں) کو آراستہ کر دکھاؤں گا اور سب کو بہکاؤں گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Iblees] said, "My Lord, because You have put me in error, I will surely make [disobedience] attractive to them on earth, and I will mislead them all

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 3 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:39

وہ بولا "میرے رب، جیسا تو نے مجھے بہکایا اُسی طرح اب میں زمین میں اِن کے لیے دل فریبیاں پیدا کر کے اِن سب کو بہکا دوں گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اس نے) کہا کہ پروردگار جیسا تونے مجھے رستے سے الگ کیا ہے میں بھی زمین میں لوگوں کے لیے (گناہوں) کو آراستہ کر دکھاؤں گا اور سب کو بہکاؤں گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

(شیطان نے) کہا کہ اے میرے رب! چونکہ تو نے مجھے گمراه کیا ہے مجھے بھی قسم ہے کہ میں بھی زمین میں ان کے لئے معاصی کو مزین کروں گا اور ان سب کو بہکاؤں گا بھی

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہنے لگا : یا رب ! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، اس لیے اب میں قسم کھاتا ہوں کہ ان انسانوں کے لیے دنیا میں دلکشی پیدا کروں گا۔ اور ان سب کو گمراہ کر کے رہوں گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولا اے رب میرے! قسم اس کی کہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں انہیں زمین میں بھلاوے دوں گا اور ضرور میں ان سب کو بے راہ کروں گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ابلیس نے کہا: اے پروردگار! اس سبب سے جو تو نے مجھے گمراہ کیا میں (بھی) یقیناً ان کے لئے زمین میں (گناہوں اور نافرمانیوں کو) خوب آراستہ و خوش نما بنا دوں گا اور ان سب کو ضرور گمراہ کر کے رہوں گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا اے میرے رب ! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں ضرور ہی ان کے لیے زمین میں مزین کروں گا اور ہر صورت میں ان سب کو گمراہ کردوں گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ بولا : پروردگار ! چونکہ تو نے مجھے (آدم کے ذریعہ) بہکا۔ دیا ہے تو اب میں بھی دنیا میں لوگوں کو (ان کے گناہ) خوشنما کرکے دکھاؤں گا اور ان سب کو بہکا کر چھوڑوں گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بولا، اے رب، چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں زمین میں دنیا کو ان کی نگاہوں میں کھباؤں گا اور سب کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہنے لگا اے میرے رب بوجہ اس کے کہ تو نے مجھے گمراہ کیا، میں ان (کی گمراہی) کے لئے طرح طرح کی دلفریبیوں سے کام لوں گا تیری زمین میں، اور (اس کے نیچے میں) میں ان سب کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا،

— مولانا اسحاق مدنی

وہ بولا اے میرے پروردگار چونکہ تو نے مجھے بہکایا ہے میں بھی یقیناً ان کی نظر میں (معاصی کو) خوش نما بنا کر اور ان سب کو بہکا کر کے رہوں گا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس نے کہا : اے میرے پروردگار ! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے میں یقیناً مزین کر دوں گا ان کے لیے زمین میں (دنیا کو) اور میں ضرور گمراہ کر دوں گا ان سب کو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس نے کہا کہ اے رب ! جیسا تو نے مجھے راستہ سے الگ کیا ہے، میں بھی زمین میں لوگوں کے لیے گناہوں کو آراستہ کرکے دکھائوں گا اور سب کو بہکائوں گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Iblis said: "My Lord! In the manner You led me to error, I will make things on earth seem attractive to them and lead all of them to error,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :My Lord, since You made me go astray, I swear that I shall beautify for them (evils) on the earth, and shall lead all of them astray,

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :My Lord, since You made me go astray, I swear that I shall beautify for them (evils) on the earth, and shall lead all of them astray,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

[Iblis] said: "O my Lord! Because You misled me, I shall indeed adorn the path of error for them (mankind) on the earth, and I shall mislead them all."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: My Lord! Because Thou hast sent me astray, I verily shall adorn the path of error for them in the earth, and shall mislead them every one,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Iblees] said, "My Lord, because You have put me in error, I will surely make [disobedience] attractive to them on earth, and I will mislead them all

— Saheeh International

Iblis said, "Lord, because you have caused me to go astray, I shall make earthly things attractive to (people) and mislead all of them

— Muhammad Sarwar

He said: My Lord! because Thou hast made life evil to me, I will certainly make (evil) fair-seeming to them on earth, and I will certainly cause them all to deviate

— Muhammad Habib Shakir

He said: my Lord! because Thou hast led me to err I will surely make things fairseeming unto them on the earth and will surely seduce them all:

— Abdul Majid Daryabadi

(Iblis) said: "O my Lord! because Thou hast put me in the wrong, I will make (wrong) fair-seeming to them on the earth, and I will put them all in the wrong,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:39

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 39–44

ابلیس کے سیاہ کارنامے ابلیس کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اللہ کے گمراہ کرنے کی قسم کھا کر کہا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے کہا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں بھی اولاد آدم کے لئے زمین میں تیری نافرمانیوں کو خوب زینت دار کر کے دکھاؤں گا۔ اور انہیں رغبت دلا دلا کر نافرمانیوں میں مبتلا کروں گا، جہاں تک ہو سکے گا کوشش کروں گا کہ سب کو ہی بہکا دوں۔ لیکن ہاں تیرے خالص بندے میرے ہاتھ نہیں آسکتے۔ ایک اور آیت میں بھی ہے کہ گو تو نے اسے مجھ پر برتری دی ہے لیکن اب میں بھی اس کی اولاد کے پیچھے پڑجاؤں گا، چاہے کچھ تھوڑے سے چھوٹ جائیں باقی سب کو ہی لے ڈوبوں گا۔ اس پر جواب ملا کہ تم سب کا لوٹنا تو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 39–40

سورة الْحِجْر 22 یعنی جس طرح تو نے اس حقیر اور کم تر مخلوق کو سجدہ کرنے کا حکم دے کر مجھے مجبور کردیا کہ تیرا حکم نہ مانوں، اسی طرح اب میں ان انسانوں کے لیے دنیا کو ایسا دلفریب بنا دوں گا کہ یہ سب اس سے دھوکا کھا کر تیرے نافرمان بن جائیں گے۔ بالفاظ دیگر ابلیس کا مطلب یہ تھا کہ میں زمین کی زندگی اور اس کی لذتوں اور اس کے عارضی فوائد و منافع کو انسان کے لیے ایسا خوشنما بنا دوں گا کہ وہ خلافت اور اس کی ذمہ داریوں اور آخرت کی باز پرس کو بھول جائیں گے اور خود تجھے بھی یا تو فراموش کردیں گے، یا تجھے یاد رکھنے کے باوجود تیرے احکام کی خلاف ورزیاں کریں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–41

حکم سجدہ فرشتوں کو ہوا تھا ابلیس اس میں تبعا شامل قرار دیا گیا سورة اعراف میں ابلیس کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا ہے مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سجدہ کا حکم فرشتوں کے ساتھ ابلیس کو بھی دیا گیا تھا اسی لئے اس سورت کی جو آیات ابھی آپ نے پڑھی ہیں جن سے بظاہر اس حکم کا فرشتوں کے لئے مخصوص ہونا معلوم ہوتا ہے اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اصالۃً یہ حکم فرشتوں کو دیا گیا مگر ابلیس بھی چونکہ فرشتوں کے اندر موجود تھا اس لئے تبعا وہ بھی اس حکم میں شامل تھا کیونکہ آدم ؑ کی تعظیم و تکریم کے لئے جب اللہ تعالیٰ کی بزرگ ترین مخلوق فرشتوں کو حکم دیا گیا تو دوسری مخلوق کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 39–40

تفسیر آیات 39 تا 40: قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لأزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الأرْضِ وَلأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ (39)إِلا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ (40)۔ " اغوا " کے معنی گمراہ کرنے کے ہیں۔ چونکہ ابلیس آدم کو سجدہ نہ کرنے کے معاملے میں اپنے آپ کو بجانب حق خیال کرتا تھا اس وجہ سے اس نے نہایت گستاخانہ انداز میں فعل " اغوا " کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف منسوب کیا۔ مطلب یہ کہ اگر میں اس حکم کی عدم تعمیل کے باعث گمراہ ٹھہرا تو اس میں میرا قصور نہیں ہے بلکہ یہ حکم ہی ایسا تھا کہ میں اس کی تعمیل نہیں کرسکتا تھا اس وجہ سے اگر میں اس کے سبب سے گمراہ ہوا تو اس پر تو ہی نے مجھے مجبور کیا۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 33–40

33۔ 1 شیطان نے انکار کی وجہ حضرت آدم ؑ کا خاکی اور بشر ہونا بتلایا، جس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان اور بشر کو اس کی بشریت کی بنا پر حقیر اور کم تر سمجھنا یہ شیطان کا فلسفہ ہے، جو اہل حق انبیاء (علیہم السلام) کی بشریت کے منکر نہیں، اس لئے کہ ان کی بشریت کو خود قرآن کریم نے وضاحت سے بیان کیا ہے۔ علاوہ ازیں بشریت ان کی عظمت اور شان میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

15: یعنی ایسی دلکشی پیدا کروں گا جو انہیں تیری نافرمانی پر آمادہ کرے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 39–40

آیت نمبر 39 تا 40 یہاں ابلیس نے اپنا میدان جنگ خود ہی متعین کردیا ہے ، یہ کہ وہ زمین میں انسان کے خلاف جنگ کرے گا۔ لا زینن لھم فی الارض ” مین زمین میں ان کے لئے اپنے دل فریبیاں پیدا کروں گا “۔ اسی طرح اس نے میدان جنگ میں استعمال ہونے والے اپنے ہتھیار کا بھی اعلان کردیا۔ وہ یہ کہ میں غلط اور مضر اعمال کو ان کے لئے خوشنما بناؤں گا۔ برے کو بھلا قرار دوں گا۔ مصنوعی خوبصورتیوں کے ذریعے ان کو دام فریب میں گرفتار کروں گا۔ چناچہ جو شخص بھی شرکا ارتکاب کرتا ہے وہ تب ہی کرتا ہے کہ شیطان اس کے لئے اسے خوشنما بنا دیتا ہے۔ شر کو وہ خیر کا لباس پہناتا ہے اور وہ شر کو ہرگز شر کی صورت میں پیش نہیں کرتا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 39–40

8 یعنی دنیا کی بہاریں دکھلا کر خواہشات نفسانی کے جال میں پھنساؤں گا اور تیرے مخصوص و منتخب بندوں کے سوا سب کو راہ حق سے ہٹا کر رہوں گا۔ یہ کلمات لعین نے جوش انتقام میں کہے۔ مطلب یہ تھا کہ آپ کا تو کچھ بگاڑ نہیں سکتا، لیکن جس کی وجہ سے میں دور پھینکا گیا ہوں اپنی قدرت اور بساط کے موافق اس کی نسلوں تک سے بدلہ لے کر چھوڑوں گا۔ سورة " اعراف " میں اس موضوع پر ہم نے جو کچھ لکھا ہے ملاحظہ کیا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 39 قَالَ رَبِّ بِمَآ اَغْوَيْتَنِيْ یہاں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ ابلیس اپنی اس گمراہی کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر رہا ہے۔ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْاَرْضِ وَلَاُغْوِيَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ کہ میں اولاد آدم کے لیے زمین میں دنیا کی رونقوں اور اس کی آرائش و زیبائش کو اس حد تک پرکشش بنا دوں گا کہ وہ اس میں گم ہو کر آپ کو اور آپ کے احکام کو بھول جائیں گے۔ اس طرح میں ان سب کو آپ کے سیدھے راستے سے گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 39–40

20۔ الف ابلیس نے اپنی گمراہی کا الزام اللہ کے ذمہ لگا دیا اور اس کی جو وجہ بتلائی وہ سورة اعراف کی آیت نمبر 16 کے حاشیہ نمبر 14 میں ملاحظہ فرمایئے۔ 21 ابلیس کے انسان کو گمراہ کرنے کے طریقے :۔ ابلیس نے کہا میں دنیا کی زندگی، اس کی لذتوں اور اس کے عارضی فوائد کو انسانوں کے لیے ایسا خوشنما بنا کر پیش کروں گا کہ وہ اس دنیا کی دلچسپیوں میں ایسے محو رہیں گے کہ خلافت اور اس کی ذمہ داریوں اور آخرت کی باز پرس کو بالکل بھول جائیں گے اور تجھے بھی یا تو بالکل فراموش کردیں گے یا تجھے یاد رکھنے کے باوجود تیری نافرمانیاں کرتے رہیں گے اور دوسروں کو تیری خدائی میں شریک بناتے رہیں گے اور میرے اس پھندے سے صرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 39–40

33۔ (اور تو انہیں میرے اثر سے محفوظ رکھے گا، تو وہ تو بیشک میرے بہکانے میں نہ آئیں گے) آیت سے یہ مراد نہیں کہ شیطان نیک بندوں کو پھانسنے کی کوشش نہ کرے گا۔ جال تو وہ سب ہی پر پھینکتا ہے۔ البتہ مخلص بندوں کے باب میں زیادہ کامیاب نہیں ہوپاتا۔ (آیت) ” لھم “۔ یعنی آدم وحوا (علیہما السلام) اور ان کی نسل کی نظر میں (آیت) ” بما اغویتنی “ اغوا اور اضلال کا یہ انتساب ذات حق کی جانب جس حد تک بھی صحیح ہے، صرف تکوینی حیثیت سے یا علت العلل کے معنی میں ہے، بما میں بائے سببیہ ہے۔ اے بسبب اغوائک ایای (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 26–44

آیت نمبر 26 تا 44 ترجمہ : بیشک ہم نے انسان (یعنی) آدم کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا یعنی ایسی خشک مٹی جب اس کو نجایا جائے تو اس کی آواز سنی جائے اور اس سے پہلے (یعنی) تخلیق آدم سے پہلے ہم نے جنات (یعنی) ابو الجن کو کہ وہ ابلیس ہے شعلے سے کہ جس میں دھواں نہ ہو اور وہ مسامات (یعنی بدن کے مسامات) میں نفوذ کر جائے پیدا کیا اور اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں انسان کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناے والی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں تو جب میں اس کو مکمل کر چکوں اور اس میں اپنی روح ڈال چکوں اور وہ زندہ ہوجائے اور روح کی نسبت اللہ کی طرف آدم کیلئے کرامت کے طور پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال رب بما اغویتنی لازینن لھم فی الارض ولاغوینھم اجمعین ابلیس نے کہا : اے میرے رب ! چونکہ تو نے مجھے کج راہ کر ہی دیا ہے ‘ اس لئے میں بھی ضرور ضرور دنیا میں (گناہوں کو) آراستہ کر کے ان کے سامنے لاؤں گا اور سب کو کج راہ بناؤں گا۔ یا بِمَا میں بِ قسمیہ اور مَا مصدری ہے ‘ ترجمہ اس طرح ہوگا : اے رب ! (تو نے مجھے گمراہ کردیا) تیرے اس گمراہ کرنے کی قسم کہ میں ان انسانوں کی نظر میں دنیا کو آراستہ کروں گا (جاذب توجہ کر دوں گا) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 39–40

(39۔ 40) کہنے لگا میرے رب آپ نے مجھ کو بحکم تکوین ہدایت سے گمراہ کیا ہے تو میں دنیا میں آدم ؑ کی اولاد کے سامنے لذات وشہوات کو آراستہ کرکے لاؤں گا اور ان سب کو ہدایت سے گمراہ کروں گا سوائے آپ کے ان بندوں کے جن کو آپ نے میرے اثر سے محفوظ رکھا ہے یا سوائے موحدین کے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمْ : میں ان کے لیے زمین میں مزین کروں گا، کیا چیز، آیت کے سیاق وسباق سے عبارت یہ بنتی ہے کہ میں ان کے لیے زمین میں بھی خواہش نفس اور اللہ کی نافرمانی کو مزین اور خوش نما بنا کر پیش کروں گا، جیسا کہ آسمان میں ان کو ممنوعہ پودے کا کھانا خوش نما بنا کر پیش کیا اور گمراہ کردیا تھا، فرمایا : (وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى) [ طہٰ : 121 ] دوسرا معنی یہ ہے کہ میں انھیں تمام زینت زمین ہی میں دکھاؤں گا کہ جو کچھ ہے یہیں ہے، تاکہ وہ نہ آخرت کی طرف توجہ کریں اور نہ اس کا یقین کریں، سو اس طرح میں ان سب کو گمراہ کر دوں گا، جیسا کہ فرمایا : (وَلٰكِنَّهٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 39 قولہ تعالیٰ : قال رب بما اغویتنی لازینن لھم فی الارض اغواء اور زینۃ کا معنی پہلے سورة الاعراف میں گزر چکا ہے۔ اور یہاں اس کی تزمین (خوشنما بنانا) دو دجیہوں سے ہوسکتی ہے : یا تو گناہوں کے ارتکاب کے ساتھ، اور یا انہیں فعل طاعت سے ہٹا کر دنیوی زینت و آرائش میں مشغول کرنے کے ساتھ اور لاغوینھم اجمعین کے معنی یہ ہیں کہ میں انہیں ہدایت کے راستے سے گمراہ کروں گا۔ اور ابن لہیعہ عبد اللہ نے دراج ابی السمح سے اس نے ابو الہیشم سے اور اس نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت بیان کی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بیشک ابلیس نے کہا : اے میرے رب ! تیری عزت و جلال کی قسم ! میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 36–48

1:۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فانظرنی الی یوم یبعثون “ سے مراد ہے کہ ابلیس نے ارادہ کیا کہ وہ موت کو نہ چکھے گا اسے کہا گیا کہ (آیت ) ” فانک من المنظرین (37) الی یوم الوقت المعلوم (38) پھر فرمایا نفخہ میں ابلیس مرجائے گا اور دونوں نفخہ کے درمیان چالیس سال کا وفقہ ہے فرمایا تو ابلیس چالیس سال تک مرا پڑا رہے گا۔ 2:۔ امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قال فانک من المنظرین “ سے مراد ہے کہ اس کی مہلت نہیں ملی اٹھائے جانے کے دن تک لیکن اس کو وقت معلوم تک مہلت دی گئی۔ 3:۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا عبادک منہم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : (ابلیس نے) کہا ] [ رَبِ : اے میرے رب ] [ بِمَآ : بسبب اس کے جو ] [اَغْوَيْتَنِيْ : تو نے گمراہ کیا مجھ کو ] [لَاُزَيِّنَنَّ : میں لازماً سجائوں گا ] [ لَهُمْ : ان کے لئے ] [فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [وَلَاُغْوِيَنَّهُمْ : اور میں لازماً گمراہ کروں گا ] [اَجْمَعِيْنَ : سب کے سب کو ] نوٹ۔ 1: شیطان نے اپنے نوٹس (آیت۔ 39) سے ان بندوں کو مستثنیٰ کیا جنھیں اللہ اپنے لئے خالص فرما لے (آیت۔ 40) اس سے یہ غلط فہمی مترشح ہو رہی تھی کہ شاید اللہ تعالیٰ بغیر کسی معقول وجہ کے جس کو چاہے گا خالص کرے گا اور وہ شیطان کی دست رست سے بچ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر بات صاف کردی کہ جو خود بہکا ہوا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 36–39

ابلیس کا مہلت مانگنا بنی آدم کو گمراہ کرنے کے لیے تھا کعب احبار کا بیان ہم نے مختصر کرکے لکھا ہے جس کی حیثیت اسرائیلیات سے زیادہ نہیں ہے البتہ قرآن مجید کی یہ تصریح کہ اسے وقت معلوم تک مہلت دی گئی اس سے قطعی طور پر معلوم ہوا کہ ابلیس کے سوال پر اللہ تعالیٰ نے اسے بہت زیادہ عمر دے دی جس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ابلیس کا مہلت مانگنا توبہ اور انابت اور طاعت اور عبادت کے لیے نہیں تھا بلکہ شرارت کے لیے اور اولاد آدم سے بدلہ لینے کے لیے تھا جب اللہ تعالیٰ نے اسے مہلت دے دی تو وہ اب کھلے طور پر کہنے لگا کہ اے رب اس وجہ سے کہ آپ نے مجھے گمراہ کیا ہے میں اس شخص کی اولاد کو تیرے راستہ سے ہٹاؤں گا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–44

ذکر پیدائش انس و جن و قصہ پیدائش آدم (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ : ولقد خلقنا الانسان من صلصال .... الیٰ .... لکل باب منھم جزء مقسوم۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں حق جل شانہ نے حیوانات کی پیدائش سے اپنی قدرت اور خالقیت کا ذکر فرمایا اب یہاں جن و انس سے اسی مقصود پر استدلال فرماتے ہیں اور جان سے مراد یہاں جنوں کا باپ ہے جس طرح اوپر کی آیتوں میں انسان سے تمام انسانوں کے باپ مراد ہیں دونوں میں فرق یہ ہے کہ آدمیوں کا باپ، ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ترابی غالب تھا اور جنوں کا باپ ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ناری کا غلبہ تھا۔ ابلیس اسی قسم میں سے تھا اللہ تعالیٰ نے ان دو مختلف…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 39–40

16:۔ ” بِمَا اَغْوَیْتَنِیْ “ میں مَا مصدریہ ہے۔ ابلیس نے کہا میرے پروردگار ! تو نے مجھے راندہ بارگاہ تو کردیا ہے اب میں بھی تیرے بندوں کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھوں گا اور برے اعمال، ناجائز اور بےحیائی کے کاموں کو نہایت خوبصورت بنا کر ان کے سامنے پیش کروں گا کہ وہ خود بخود ان کی طرف مائل ہوجائیں۔ ” اِلَّا عِبَادَکَ الخ “ البتہ تیرے ان مخلص بندوں کو گمراہ نہیں کرسکوں گا جن کو تو نے اپنی خالص عبادت و اطاعت کے لیے چن لیا ایک قراءت میں ” اَلْمُخْلِصِیْنَ “ بصیغہ اسم فاعل ہے یعنی جو خالص تیری رضا جوئی کے لیے نیک کام کریں گے اور ان کے اعمال جلی اور خفی شرک سے پاک ہوں گے۔ ای الذین…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 36–44

(ربط آیات) پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کیا ، ایک معمولی چیز یعنی سڑے ہوئے بدبودار گارے والی مٹی سے انسان کو پیدا کیا اور اسے کمال درجے کی حیثیت اور شان عطا فرمائی ، اس میں روح ڈالی ، فرشتوں سے اس کو سجدہ کرایا ، ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا اور اپنی برتری جتلانے کی کوشش کی کہ میں ناری ہو کر خاکی کے سامنے کیسے سجدہ بجا لاؤں ، اس نے تکبر میں آکر اللہ تعالیٰ کے حکم کی سرتابی کی ، تو اللہ نے اسے مردود ٹھہرا دیا اور فرمایا کہ قیامت تک تجھ پر لعنت ہی برستی رہے گی ، (مہلت کی درخواست) اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کے بعد شیطان نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کے لیے مہلت طلب کی ، جس کا ذکر اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ رَبِّ بِمَآ اَغْوَيْتَنِيْ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْاَرْضِ وَلَاُغْوِيَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ 39؀ۙ غوی الغَيُّ : جهل من اعتقاد فاسد، وذلک أنّ الجهل قد يكون من کون الإنسان غير معتقد اعتقادا لا صالحا ولا فاسدا، وقد يكون من اعتقاد شيء فاسد، وهذا النّحو الثاني يقال له غَيٌّ. قال تعالی: ما ضَلَّ صاحِبُكُمْ وَما غَوى [ النجم/ 2] ، وَإِخْوانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الغَيِّ [ الأعراف/ 102] . وقوله : فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا[ مریم/ 59] ، أي : عذابا، فسمّاه الغيّ لمّا کان الغيّ هو سببه، وذلک کتسمية الشیء بما هو سببه، کقولهم للنّبات ندی «1» . وقیل معناه : فسوف يلقون أثر الغيّ وثمرته . قال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 27–44

جان کی تعریف و تفسیر، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جان سب جنون کے باپ کا نام ہے اور یہی قول اکثر مفسرین کا ہے اور یہی ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے گو بعض نے جان سے مراد ابلیس لیا ہے جان کے معنی لغت میں ساتر یعنی چھپنے (چھپانے) والے کے ہیں کہتے ہیں جن الشیٔ اذاسترہ چونکہ آدم ( علیہ السلام) کے خلاف اس کا غالب مادہ آگ کا لطیف شعلہ ہے اس لیے یہ قوم محسوس نہیں ہوتی ہر ایک کو دکھلائی نہیں دیتی اور اس لیے اس قوم کو جن اور اس کے باپ کو جان کہتے ہیں۔ خدائے تعالیٰ لطیف وخبیر نے اول ملائکہ کو بنایا، ان کے بعد جن کی قوم کو جن کا مادہ ملائکہ سے ذرا قریب تر تھا، پھر انسان کو جس کا مادہ کثیف ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ دیگر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 39–40

قَالَ رَبِّ بِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَھُمْ فِی الْاَرْضِ وَلَاُغْوِیَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ اَلاَّ عِبَادَکَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 39۔ 40) (وہ بولا ! اے میرے رب، چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا، میں زمین میں دنیا کو ان کی نگاہوں میں ضرور خوشنما بنا دوں گا اور میں ان سب کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا۔ سوائے تیرے ان بندوں کے جنھیں ان میں سے چن لیا گیا ہے۔ ) ابلیس کی گمراہی کا سبب اور اس کا ہدف اگر اللہ تعالیٰ کی بندگی کسی شخص میں عاجزی اور فروتنی پیدا نہیں کرتی تو پھر اس کی انا عام بگڑے ہوئے لوگوں سے بھی زیادہ خطرناک ہوجاتی ہے۔ ابلیس نے اللہ تعالیٰ جانے کتنے سالوں تک اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 36–40

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کے حضور ابلیس کی درخواست کہ مجھے مہلت دیں میں ابن آدم کو گمراہ کروں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہمیشہ ہمیش محروم ہونے کے باوجود ابلیس نے ربِّ کریم کی بارگاہ میں درخواست پیش کی کہ اے میرے رب ! مجھے قیامت تک زندہ رکھ اور مہلت دے کہ میں ابن آدم کو گمراہ کرتا رہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا تجھے اس دن تک مہلت دی جاتی ہے جس کا علم میرے سوا کسی کو نہیں ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ رب کریم کی شفقت و مہربانی کو پیش نظر رکھتے ہوے ابلیس اللہ تعالیٰ سے معافی کا خواستگار ہوتا۔ مگر ابلیس معافی کا خواستگار ہونے کے بجائے مزید سر کشی اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اغرائے انسانی پر قسم : 39: قَالَ رَبِّ بِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ (اس نے کہا اے میرے رب چونکہ تو نے مجھے گمراہ کر ہی دیا ہے) باءؔ قسم کیلئے ہے اور ماؔ مصدریہ ہے اور جواب قسم لَاُزَیِّنَنَّ لَھُمْ ہے۔ لَاُزَیِّنَنَّ لَھُمْ (میں ضرور بضرور ان کے لئے آراستہ کرونگا) مطلب یہ ہے مجھے اغواء کرنے کی قسم میں ضرور بضرور ان کے لئے گناہوں کو مزین کروں گا۔ دوسرے مقام پر اس کے قول کا یہ مطلب ہے بما اغویتنی لازینن لھم اور فبعزتک لاغوینھم ] ص : 82[ اس میں تو دونوں برابر ہیں کہ دونوں قسمیں ہیں مگر فرق یہ ہے کہ ایک قسم صفت ذات کے ساتھ ہے اور دوسری صفت فعل کے ساتھ ہے۔ اور فقہاء نے ان دونوں میں فرق کیا ہے۔ علمائے عراق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

39۔ ’ ’ قال رب بما اغویتنی “ مجھے گمراہ کر ہی دیا ۔ بعض نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی رحمت سے دور کر ہی دیا ۔ ” لا زینین لھم فی الارض “ دنیا کی محبت کو اور گناہوں کو خوب مزین کر کے پیش کر دے گا ۔ ” ولا غوینھم “ ان کو گمراہ کر دے گا ۔” اجمعین “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 39–40

39۔ 40۔ مسند امام احمد بن حنبل اور مستدرک حاکم میں حضرت ابو سعید خدری ؓ کی روایت 1 ؎ میں شیطان کے اس قول کی اور اس قول کے جواب کی جو اللہ تعالیٰ نے شیطان کو دیا ہے پوری تفسیر ہے جس کو اس آیت کی تفسیر کہنا چاہیے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا 2 ؎ ہے۔ حاصل مطلب اس حدیث کا یہ ہے کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے اللہ کی عزت کی قسم کھا کر یہ کہا کہ جب تک ہر انسان میں جان باقی ہے جس طرح اور جہاں تک مجھ سے ہو سکے گا ہر ایک آدمی کو بہکانے میں اور بہکا کر ہر طرح کے برے کام ان سے کرانے میں کوتاہی نہ کروں گا اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے عزت و جلال کی قسم کھا کر شیطان کو جواب دیا کہ میں بھی جب تک مجھ سے وہ تیرے بہکائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 24–44

آیت 26 اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے باپ حضرت آدم پر اپنی نعمت اور اپنے احسان کا ذکر کرت ا ہے، حضرت آدم کا اپنے دشمن ابلیس کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کو بھی بیان کرتا ہے اور اس ضمن میں ہمیں ابلیس کے شر اور فتنہ سے ڈراتا ہے، چناچہ فرمایا : (ولقد خلقنا الانسان) ” ہم نے انسان کو پیدا کیا۔ “ یعنی آدم کو پیدا کیا (من صلصال من حما مسنون) ” کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے “ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہوجاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔ (الحما المسنون) اس گارے کو کہتے ہیں، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں۔ (والجآن) ” اور جنوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

35۔ ابلیس کی طرف سے اولاد آدم کے خلاف کھلم کھلا اعلان جنگ : یہ اس لعین کی طرف سے کھلم کھلا اعلان جنگ تھا اور ہے۔ جو اس بدبخت نے حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کے حضور صاف طور پر کیا اور جس سے وہ " عدومبین " کھلم کھلا دشمن " قرار پایا تھا۔ اور اس نے کسی قسم کے جھوٹ یا تقیہ سے کام لے کر اپنی اس دشمنی پر پردہ ڈالنے کی کوشش نہیں کہ بلکہ اپنی دشمنی کا صاف صاف اور کھلم کھلا اعلان کردیا۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹا اور تقیہ باز انسان شیطان سے بھی بدتر ہے۔ والعیاذ باللہ۔ پھر کیا خیال ہے آپ کا ان لوگوں کے نہ صرف یہ کہ تقیہ کو جائز سمجھتے ہیں بلکہ اس کو کار ثواب قرار دیتے ہیں اور اس کے لئے ہو طرح طرح کے من گھڑت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 26–44

انسان کی پیدائش اور ابلیس کی نافرمانی تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا قصہ اور شیطان کا ملعون ہونا سورة بقرہ رکوع 4، سورة نساء رکوع 18 اور سورة اعراف رکوع 2 میں بڑی وضاحت سے بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں سورة الحجر میں کیونکہ ان آیات سے پہلے تمام کائنات اور ہر چیز کے ناپ تول کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے یہاں انسان کی پیدائش، جسم، نفس، روح اور زندگی کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب بھی اللہ نے بڑے حساب کتاب اور ناپ تول سے بنائے ہیں۔ یہاں وہ تمام راز کھول کر بیان کردیے گئے ہیں جو انسانی سائنسی تحقیقات سے بہت بلند ہیں۔ پچھلی آیات سے جو کچھ معلوم ہوا وہ تو تمام تخلیقات کے بارے میں تھا۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 26–44

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف خود انسان کو بھی تو ہم نے ہی پیدا کیا سڑے ہوئے مٹی گارے سے جو خشک ہوچکا تھا ۔ (جنات کو پہلے پیدا کیا گیا) قبل ازیں ہم جنات کو آگ کی لو سے پیدا کرچکے تھے یعنی آگ کی وہ تپش جو ایک گرم ہوا کی صورت میں تھی کہ آگ کا نظر آنا اجزائے کثیفہ کی ملاوٹ سے ہوتا ہے ورنہ وہ بہت لطیف ہوتی ہے تو گویا جنات کا وجود اسی سے پیدا ہوا جو نظر نہیں آتا ، اور جنات پہلے سے زمین پر آباد کئے گئے تھے ،۔ پھر وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب آپ کے رب نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میں کھنکتے اور سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر تخلیق کر رہا ہوں جب وہ بن چکے اور میں اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب کے سب اس کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 38–39

ف 6 ۔ یا ” بما “ میں با بمعنی قسم ہے اور یہ عزت کی قسم کے منافی نہیں ہے کیونکہ اغوا بھی فی الجملہ عزت و سلطان کے آثار سے ہے گویا شیطان نے دونوں کی قسم کھائی مگر سبیت کے معنی ادنیٰ ہیں۔ (شوکانی) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:39) بما۔ بسبب اس کے۔ بہ بدل اس چیز کے۔ اغویتنی۔ اغویت۔ ماضی واحد مذکر حاضر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم تو نے مجھے گمراہ کیا۔ تو نے مجھے بےراہ کردیا۔ جب اغواء کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک گمراہی پر سزا دینا۔ دوسرے بےراہ کرنا۔ بھٹکانا۔ علامہ قرطبی نے اغواء کے معنی مایوس کرنا اور ہلاک کرنا بھی کئے ہیں۔ کسی کو ایسا حکم دینا جس کی نافرمانی اس کی گمراہی کا باعث بن جائے اس کو بھی اغوا کہا جاتا ہے۔ اس صورت میں بما اغویتنی کا معنی ہوگا۔ بوجہ اس امر کے کہ تو نے مجھے ایسا حکم دیا کہ اس کی نافرمانی میری بےراہ روی کا سبب بن گئی۔ لازینن۔ مضارع بلام تاکید ونون ثقیلہ ۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 26–44

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 44 صلصال وہ مٹی جو سوکھ کر سخت ہوجائے اور بجنے لگے ۔ مسنون گوندھی گئی۔ السموم لو۔ نفخت میں نے پھونک دیا۔ پھونک ماردی، حما سڑی ہوئی مٹی، کیچڑ۔ جان جن۔ سویت میں نے برابر کردیا۔ ٹھیک کرلیا۔ روحی میری روح ، قعوا گرپڑو۔ ابی انکار کیا۔ ان یکون یہ کہ وہ ہو۔ مالک تجھے کیا ہوا۔ لم اکن میں نہیں ہوں بشر انسان۔ اخرج نکل جا۔ لعنت لنت، اللہ کی رحمت سے دوری۔ انظرنی تو مجھے مہلت دیدے۔ یبعثون (اٹھائے جائیں گے) ۔ اغویت (اغوائ) تو نے سیدھی راہ سے ہٹا دیا ۔ سلطن قوت، زور الغوین بہکنے والے۔ موعد وعدہ کی جگہ۔ سبعۃ ابواب سات دروازے۔ جزاء حصہ۔ مقسوم تقسیم کیا گیا۔ تشریح : آیت نمبر 26 تا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 39–41

اللہ تعالیٰ کا حکم حاصل مطلب یہ ہے کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے اللہ کی عزت کی قسم کھا کر یہ کہا : جب تک ہر انسان میں جان باقی ہے جس طرح اور جہاں تک مجھ سے ہوسکے گا ہر ایک آدمی کو بہکانے میں اور بہکاکر ہر طرح کے برے کام ان سے کرانے میں کوتاہی نہ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے عزت و جلال کی قسم کھا کر شیطان کو جواب دیا کہ میں بھی جب تک مجھ سے وہ تیرے بہکائے ہوئے گنہگار توبہ و استغفار کریں گے، ان کو بخشے ہی جاؤں گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ شیطان بہکانے سے نہیں تھکتا اور اللہ تعالیٰ بخشنے اور مغفرت اور توبہ کے قبول کرنے سے نہیں بس کرے گا۔ گنہگار بندہ ہی اپنی بدنصیبی سے توبہ و استغفار کرنے سے تھک جاوے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 37–48

شیطان کی وجہ تخلیق : (ف 1) شیطان کو سجدہ نہ کرنے کی یہ سزا ملی کہ ہمیشہ کیلئے معتوب الہی ہوا ، اسے حکم دیا گیا ، کہ تم اب آسمان کی وسعتوں سے نکل جاؤ اور مکرو فریب کے لئے زمین پر رہو ، تمہیں قیامت تک مہلت ہے اپنی شیطنت کو بروئے کار لاؤ ، پوری قوت کے ساتھ اولاد آدم کو گمراہ کرنے کی کوشش کرو ، یاد رکھو وہ لوگ جو پاکباز اور متقی ہیں ، وہ تیری دستبر سے ہمیشہ بالا رہیں گے ، اور نفوس قدسیہ کو گمراہ نہیں کر سکوگے ، سوائے ان چند شریر النفس لوگوں کے جو تیرے ہم خیال ہیں ، اور کوئی تیری دوستی کا دم نہیں بھرے گا اور بالاخر تم سب لوگ جہنم کا ایندھن بنوگے ، شیطان اپنے تمام گروہ کے ساتھ جہنم میں داخل…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

39 ۔ اس پر ابلیس نے کہا اے میرے پروردگار جیسا تو نے مجھ کو راہ سے بےراہ کیا ہے اور مجھ کو اپنی رحمت سے دور کیا ہے میں بھی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ میں بھی دنیا میں اولاد آدم (علیہ السلام) اور آدم (علیہ السلام) کی نظر میں معاصی اور شہوات کو خوش نما اور مرغوب کر کے دکھائوں گا اور ان سب کو گمراہ کروں گا ۔ یعنی تکوینی حکم کی بنا پر مجھ کو تو نے بےراہ کیا ہی ہے اب میں دنیا میں اس گمراہی کا انتقام آدم اور اولاد آدم سے لوں گا اور گناہوں کو ان کی نظر میں خوش نما کر دوں گا اور ان سب کو راہ سے بےراہ کر دوں گا ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 35–39

ف 3۔ یعنی قیامت تک تو میری رحمت سے بعید رہے گا مقبول و مرحوم و موفق للتوبة نہ ہوگا، اور ظاہر ہے کہ قیامت تک جو محل رحمت نہ ہوگا، پھر قیامت میں تو مرحوم ہونے کا احتمال ہی نہیں، پس جس وقت تک احتمال تھا اسی کی نفی کردی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کہنے لگا اے اللہ ! تو نے مجھے جب گمراہ کردیا تو میں بھی اپنا کام کروں گا : 39۔ کہنے لگا اے اللہ ! جب جہالت کا ٹھپہ مجھ پر لگ ہی گیا ہے تو اب میں بھی ان لوگوں کو زینت دوں گا ہاں ! انہی لوگوں کو جن کو تو نے مجھ پر فوقیت دی ہے ، کتناان جھک اور شرارتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو براہ راست مخاطب فرما کر کتنی بڑی بات کہہ دی کہ اے اللہ ! جب تو نے مجھے گمراہ کر ہی دیا یعنی تیرے قانون کے مطابق مجھ پر فتوی صادر ہوگیا اور تیری مشیت کا جو فیصلہ تھا وہ پورا ہوگیا تو اب میں بھی ان کی دنیا کی زندگی انہیں اچھی کر کے دکھاؤں گا ۔ یہاں تک کہ وہ اس دنیوی زندگی کو ہی اپنا اصل مقصد بنالیں گے ” لاغوینھم “ میں جو لفظ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–41

The Command to Prostrate was Given to Angels - Iblis was to Follow Suit Addressing Iblis in Surah Al-A` raf, it was said: مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْ‌تُكَ (What stopped you from prostrating when I ordered you? - 7:12). This shows that the command to prostrate was given, along with the angels, to Iblis as well. However, the verses you have gone through a little earlier apparently give the sense that the command was particular to the an-gels. This could mean that the command was originally given to the angels but, as Iblis too was present among the angels, therefore, he too was…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 39–40

22. That is, thou hast beguiled me by commanding me to bow down before a creature who is inferior to me: for it is obvious that I could not obey such an order. Therefore, I will now beguile them and disobey Thee. In other words, Iblis meant to say: I will make the worldly life, its enjoyments and its transitory benefits so alluring for man that he will forget the responsibilities of the vicegerent of Allah, and that he shall have to render his account in the Hereafter. They will also forget Thee and will disobey Thee, even though they would profess to remember Thee.

Read the full tafseer →