Al-Hijr 15:38

Al-Hijr · from ayah 38

15:38

اِلٰی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ ۟اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ‏

وقت مقرر (یعنی قیامت) کے دن تک

— Fateh Muhammad Jalandhari

Until the Day of the time well-known."

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 3 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:38

اُس دن تک جس کا وقت ہمیں معلوم ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وقت مقرر (یعنی قیامت) کے دن تک

— مولانا فتح محمد جالندہری

روز مقرر کے وقت تک کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

(مگر) ایک ایسی میعاد کے دن تک جو ہمیں معلوم ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وقت کے دن تک مہلت ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وقتِ مقررہ کے دن (قیامت) تک،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ایسے وقت کے دن تک جو معلوم ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس دن تک جس کا وقت معلوم ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس مقررہ وقت کی تاریخ تک،

— مولانا اسحاق مدنی

وقت مقرر یعنی قیامت کے دن تک۔

— محترمہ رفعت اعجاز

until the day of a known time."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

till the day of the Appointed Time.

— Muhammad Taqi Usmani

till the day of the Appointed Time.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Until the Day of the time appointed."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Until the Day of the time well-known."

— Saheeh International

for an appointed time."

— Muhammad Sarwar

Till the period of the time made known.

— Muhammad Habib Shakir

Till the Day of the Time known.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 15:38

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 34–38

ابدی لعنت پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکومت کا ارادہ کیا جو نہ ٹلے، نہ ٹالا جاسکے کہ تو اس بہترین اور اعلی جماعت سے دور ہوجا تو پھٹکارا ہوا ہے۔ قسامت تک تجھ پر ابدی اور دوامی لعنت برسا کرے گی۔ کہتے ہیں کہ اسی وقت اس کی صورت بد گئی اور اس نے نوحہ خوانی شروع کی، دنیا میں تمام نوحے اسی ابتدا سے ہیں۔ مردود و مطرود ہو کر پھر آتش حسد سے جلتا ہوا آرزو کرتا ہے کہ قیامت تک کی اسے ڈھیل دی جائے اسی کو یوم البعث کہا گیا ہے۔ پس اسکی یہ درخواست منظور کی گئی اور مہلت مل گئی۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 35–38

سورة الْحِجْر 21 یعنی قیامت تک تو ملعون رہے گا، اسکے بعد جب روز جزا قائم ہوگا تو پھر تجھے تیری نافرمانیوں کی سزا دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–41

حکم سجدہ فرشتوں کو ہوا تھا ابلیس اس میں تبعا شامل قرار دیا گیا سورة اعراف میں ابلیس کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا ہے مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سجدہ کا حکم فرشتوں کے ساتھ ابلیس کو بھی دیا گیا تھا اسی لئے اس سورت کی جو آیات ابھی آپ نے پڑھی ہیں جن سے بظاہر اس حکم کا فرشتوں کے لئے مخصوص ہونا معلوم ہوتا ہے اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اصالۃً یہ حکم فرشتوں کو دیا گیا مگر ابلیس بھی چونکہ فرشتوں کے اندر موجود تھا اس لئے تبعا وہ بھی اس حکم میں شامل تھا کیونکہ آدم ؑ کی تعظیم و تکریم کے لئے جب اللہ تعالیٰ کی بزرگ ترین مخلوق فرشتوں کو حکم دیا گیا تو دوسری مخلوق کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 36–38

تفسیر آیات 36 تا 38: قَالَ رَبِّ فَأَنْظِرْنِي إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ (36) قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ (37)إِلَى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ (38)۔ ابلیس اس حکم اخراج اور اس لعنت سے متاثر یا مرعوب ہونے کے بجائے اور زیادہ اکڑ گیا۔ اس نے روز قیامت تک کے لیے مہلت مانگی کہ اس کو موقع دیا جائے کہ وہ آدم اور ان کی ذریات کو اپنے فتنوں میں مبتلا کرکے یہ ثابت کرسکے کہ یہ اس شرف کے اہل نہیں ہیں جو ان کو بخشا گیا ہے اور ان کو سجدہ نہ کرنے کے معاملے میں وہ بالکل بجانبِ حق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی یہ درخواست قبول فرما لی اور قیامت کے روز موعود تک کے لیے اس کو یہ مہلت دے دی گئی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 33–40

33۔ 1 شیطان نے انکار کی وجہ حضرت آدم ؑ کا خاکی اور بشر ہونا بتلایا، جس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان اور بشر کو اس کی بشریت کی بنا پر حقیر اور کم تر سمجھنا یہ شیطان کا فلسفہ ہے، جو اہل حق انبیاء (علیہم السلام) کی بشریت کے منکر نہیں، اس لئے کہ ان کی بشریت کو خود قرآن کریم نے وضاحت سے بیان کیا ہے۔ علاوہ ازیں بشریت ان کی عظمت اور شان میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–38

14: شیطان نے مہلت تو روز حشر تک کے لئے مانگی تھی ؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے بجائے ایک اور معین وقت تک کے لئے اسے مہلت دی، اکثر مفسرین کے مطابق وہ پہلے صور کے پھونکنے تک ہے جس کے بعد ساری مخلوقات کو موت آئے گی، اس وقت شیطان کو بھی موت آجائے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 36–38

آیت نمبر 36 تا 38 یہ دربار الٰہی ہے اور یہ حضرت ندامت اور معافی مانگنے کے بجائے مہلت مانگ رہے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ رجوع الی اللہ کریں ، توبہ و استغفار کی کوئی سبیل نکالیں اور گناہ معاف کرا لیں بلکہ وہ آدم اور آدم کی تمام نسل سے انتقام لینے کا اعلان کرتا ہے۔ اگرچہ وہ آدم کے حوالے سے خود اپنے کئے کی وجہ سے مردود ہوا مگر اپنی کوتاہی کو آدم کی طرف منسوب کرتا ہے اور اسے یہ نظر نہیں آتا کہ نافرمانی کا ارتکاب تو کود اس نے کیا ہے اور اپنے غرور استکبار کی وجہ سے کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 36–38

7 یعنی اس وقت تک تجھے ڈھیل دی جاتی ہے جی کھول کر ارمان نکال لے۔ اس واقعہ کی تفصیل " بقرہ " اور " اعراف " میں گزر چکی ہے۔ ہم نے " اعراف " کے دوسرے رکوع میں اس کے اجزاء پر جو کچھ کلام کیا ہے اسے ملاحظہ کرلیا جائے۔ اعادہ کی ضرورت نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 38 اِلٰى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ یعنی روز قیامت تک تم زندہ رہو گے۔ ویسے تو جنوں کی عمریں انسانوں سے کافی زیادہ ہوتی ہوں گی مگر ایسا کوئی جن بھی نہیں ہے جو اس ابتدائی تخلیق کے وقت سے لے کر آج تک زندہ ہو ‘ ماسوائے اس ایک جن کے جس کا نام عزازیل ہے۔ باقی اس کی اولاد اور ذریت اپنی جگہ ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

20 سجدہ سے ابلیس کا انکار :۔ ابلیس کے سجدہ سے انکار کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اور ابلیس میں جو مکالمہ ہوا اس کا بیان پہلے سورة اعراف کے دوسرے رکوع کی آیت نمبر 13 حاشیہ نمبر 12 میں گزر چکا ہے۔ وہی حواشی ملاحظہ فرما لیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 37–38

32۔ یعنی جب تک اس عالم ناسوت کی عمر قائم ہے، تجھ پر گرفت نہ ہوگی، ابلیس کی ہستی یا قوت اگر باقی نہ رہے تو اس عالم ابتلاء کی مصلحتیں ہی فوت ہوجائیں۔ لیکن یہ بھی خوب واضح رہے کہ ابلیس کے ہاتھ میں کوئی قوت جبراستیلاء کی نہیں، صرف بہلانے، پھسلانے، سبز باغ دکھانے کی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 26–44

آیت نمبر 26 تا 44 ترجمہ : بیشک ہم نے انسان (یعنی) آدم کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا یعنی ایسی خشک مٹی جب اس کو نجایا جائے تو اس کی آواز سنی جائے اور اس سے پہلے (یعنی) تخلیق آدم سے پہلے ہم نے جنات (یعنی) ابو الجن کو کہ وہ ابلیس ہے شعلے سے کہ جس میں دھواں نہ ہو اور وہ مسامات (یعنی بدن کے مسامات) میں نفوذ کر جائے پیدا کیا اور اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں انسان کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناے والی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں تو جب میں اس کو مکمل کر چکوں اور اس میں اپنی روح ڈال چکوں اور وہ زندہ ہوجائے اور روح کی نسبت اللہ کی طرف آدم کیلئے کرامت کے طور پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الی یوم الوقت المعلوم (لیکن یہ مہلت زندگی) معلوم وقت کے دن تک (ہو گی) یعنی اس وقت تک مہلت زندگی ہوگی جو اللہ کو معلوم ہے۔ مراد یہ ہے کہ پہلی مرتبہ صور پھونکنے تک جس سے سب مخلوق مرجائے گی ‘ تجھے مہلت ہے (دوسری مرتبہ صور پھونکنے کے وقت تک جس سے لوگ اٹھائے جائیں گے ‘ مہلت نہیں دی جاسکتی) بعض لوگوں نے کہا کہ دونوں مرتبہ صور پھونکے جانے کی درمیانی مدت چالیس سال ہوگی ‘ اسی مدت میں ابلیس کی موت ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 35–38

(35۔ 36۔ 37۔ 38) اور قیامت تک تجھ پر میری اور تمام فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت رہے گی، ابلیس نے کہا تو پھر قیامت تک مجھ کو مہلت دیجیے، اس مردود نے چاہا کہ موت کا مزہ بھی نہ چکھے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، جا تجھ کو ایک وقت تک مہلت دی گئی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 35–38

اس آیت سے آیت (39) تک کی مفصل تفسیر کے لیے سورة اعراف (11 تا 18) اور سورة بقرہ (30 تا 34) تک کے فوائد ملاحظہ فرمائیں۔ وَّاِنَّ عَلَيْكَ اللَّعْنَةَ : اس کا ترجمہ ”خاص لعنت“ الف لام کی و جہ سے کیا گیا ہے اور اس کی وضاحت سورة ص (78) میں آئی ہے، فرمایا : (وَّاِنَّ عَلَيْكَ لَعْنَتِی) یعنی تجھ پر میری لعنت ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 36–38

آیت نمبر 36 تا 38 قولہ تعالیٰ : قال رب فانظرنی الی یوم یبعثون یہ ابلیس کی طرف سے سوال اور درخواست ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے مقام و مرتبہ کے اعتماد اور ثقاہت کی وجہ سے نہیں ہے، اور یہ کہ وہ اس اہل ہے کہ اس کی دعا اور درخواست کو قبول کیا جائے ؛ بلکہ اس نے اپنے عذاب کو موخر کرنے اور اپنی آزمائش اور امتحان میں اضافہ اور زیادتی کرنے کے لئے یہ سوال کیا ؛ جیسا کہ سلامتی سے مایوس اور ناامید کا فعل ہوتا ہے۔ اور اس نے اپنے سوال میں مردوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کے دن تک مہلت دینے سے ارادہ یہ کیا کہ وہ نہ مرے، کیونکہ قبروں سے اٹھائے جانے کے دن میں کوئی موت نہیں اور نہ اس کے بعد کوئی موت ہے۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 36–48

1:۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فانظرنی الی یوم یبعثون “ سے مراد ہے کہ ابلیس نے ارادہ کیا کہ وہ موت کو نہ چکھے گا اسے کہا گیا کہ (آیت ) ” فانک من المنظرین (37) الی یوم الوقت المعلوم (38) پھر فرمایا نفخہ میں ابلیس مرجائے گا اور دونوں نفخہ کے درمیان چالیس سال کا وفقہ ہے فرمایا تو ابلیس چالیس سال تک مرا پڑا رہے گا۔ 2:۔ امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قال فانک من المنظرین “ سے مراد ہے کہ اس کی مہلت نہیں ملی اٹھائے جانے کے دن تک لیکن اس کو وقت معلوم تک مہلت دی گئی۔ 3:۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا عبادک منہم…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 36–39

ابلیس کا مہلت مانگنا بنی آدم کو گمراہ کرنے کے لیے تھا کعب احبار کا بیان ہم نے مختصر کرکے لکھا ہے جس کی حیثیت اسرائیلیات سے زیادہ نہیں ہے البتہ قرآن مجید کی یہ تصریح کہ اسے وقت معلوم تک مہلت دی گئی اس سے قطعی طور پر معلوم ہوا کہ ابلیس کے سوال پر اللہ تعالیٰ نے اسے بہت زیادہ عمر دے دی جس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ابلیس کا مہلت مانگنا توبہ اور انابت اور طاعت اور عبادت کے لیے نہیں تھا بلکہ شرارت کے لیے اور اولاد آدم سے بدلہ لینے کے لیے تھا جب اللہ تعالیٰ نے اسے مہلت دے دی تو وہ اب کھلے طور پر کہنے لگا کہ اے رب اس وجہ سے کہ آپ نے مجھے گمراہ کیا ہے میں اس شخص کی اولاد کو تیرے راستہ سے ہٹاؤں گا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–44

ذکر پیدائش انس و جن و قصہ پیدائش آدم (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ : ولقد خلقنا الانسان من صلصال .... الیٰ .... لکل باب منھم جزء مقسوم۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں حق جل شانہ نے حیوانات کی پیدائش سے اپنی قدرت اور خالقیت کا ذکر فرمایا اب یہاں جن و انس سے اسی مقصود پر استدلال فرماتے ہیں اور جان سے مراد یہاں جنوں کا باپ ہے جس طرح اوپر کی آیتوں میں انسان سے تمام انسانوں کے باپ مراد ہیں دونوں میں فرق یہ ہے کہ آدمیوں کا باپ، ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ترابی غالب تھا اور جنوں کا باپ ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ناری کا غلبہ تھا۔ ابلیس اسی قسم میں سے تھا اللہ تعالیٰ نے ان دو مختلف…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 33–38

15:۔ ابلیس نے جواب دیا کہ جس بشر کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے اسے سجدہ کرنا میرے شایانِ شان نہیں تھا کیونکہ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم کو مٹی سے اور آگ بہرحال مٹی سے افضل و اعلیٰ ہے۔ اراد ابلیس انہ افضل من ادم لان ادم طینی الاصل وابلیس ناری الاصل والنار افضل من الطین (خازن ج 4 ص 66) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ابلیس سب سے پہلا شخص ہے جس نے بشر کو حقارت کی نظر سے دیکھا اس کے بعد ہر زمانہ میں اس نے مشرکین کو بہکایا اور بشر کے حقیر ہونے کا خیال ان کے دلوں میں ڈالا۔ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو نافرمانی اور تحقیر بشر کی یہ سزا دی کہ اس کا نام فرشتوں کی فہرست سے خارج کر کے تاقیامت اس کو ملعون و مغضوب…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 36–44

(ربط آیات) پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کیا ، ایک معمولی چیز یعنی سڑے ہوئے بدبودار گارے والی مٹی سے انسان کو پیدا کیا اور اسے کمال درجے کی حیثیت اور شان عطا فرمائی ، اس میں روح ڈالی ، فرشتوں سے اس کو سجدہ کرایا ، ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا اور اپنی برتری جتلانے کی کوشش کی کہ میں ناری ہو کر خاکی کے سامنے کیسے سجدہ بجا لاؤں ، اس نے تکبر میں آکر اللہ تعالیٰ کے حکم کی سرتابی کی ، تو اللہ نے اسے مردود ٹھہرا دیا اور فرمایا کہ قیامت تک تجھ پر لعنت ہی برستی رہے گی ، (مہلت کی درخواست) اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کے بعد شیطان نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کے لیے مہلت طلب کی ، جس کا ذکر اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِلٰى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ 38؀ وقت الوَقْتُ : نهاية الزمان المفروض للعمل، ولهذا لا يكاد يقال إلّا مقدّرا نحو قولهم : وَقَّتُّ كذا : جعلت له وَقْتاً. قال تعالی: إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] . وقوله : وَإِذَا الرُّسُلُ أُقِّتَتْ [ المرسلات/ 11] . والمِيقَاتُ : الوقتُ المضروبُ للشیء، والوعد الذي جعل له وَقْتٌ. قال عزّ وجلّ : إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقاتُهُمْ [ الدخان/ 40] ، إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كانَ مِيقاتاً [ النبأ/ 17] ، إِلى مِيقاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ [ الواقعة/ 50] ، ( و ق ت ) الوقت ۔ کسی کام کے لئے مقرر زمانہ کی آخری حد کو کہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 27–44

جان کی تعریف و تفسیر، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جان سب جنون کے باپ کا نام ہے اور یہی قول اکثر مفسرین کا ہے اور یہی ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے گو بعض نے جان سے مراد ابلیس لیا ہے جان کے معنی لغت میں ساتر یعنی چھپنے (چھپانے) والے کے ہیں کہتے ہیں جن الشیٔ اذاسترہ چونکہ آدم ( علیہ السلام) کے خلاف اس کا غالب مادہ آگ کا لطیف شعلہ ہے اس لیے یہ قوم محسوس نہیں ہوتی ہر ایک کو دکھلائی نہیں دیتی اور اس لیے اس قوم کو جن اور اس کے باپ کو جان کہتے ہیں۔ خدائے تعالیٰ لطیف وخبیر نے اول ملائکہ کو بنایا، ان کے بعد جن کی قوم کو جن کا مادہ ملائکہ سے ذرا قریب تر تھا، پھر انسان کو جس کا مادہ کثیف ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ دیگر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 30–38

فَسَجَدَالْمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّھُمْ اَجْمَعُوْنَ ۔ اِلاَّ ٓاِبْلِیْسَ ط اَبٰٓی اَنْ یَّکُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ ۔ قَالَ یٰٓاِبْلِیْسَ مَالَکَ اَلاَّ تَکُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ ۔ قَالَ لَمْ اَکُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ۔ قَالَ فَاخْرُجْ مِنْھَا فَاِنَّکَ رَجِیْمٌ۔ وَّاِنَّ عَلَیْکَ اللَّعْنَۃَ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ ۔ قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْ ٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ۔ قَالَ فَاِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ ۔ اِلٰی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ ۔ (سورۃ الحجر : 30 تا 38) (تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔ سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کردیا کہ وہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 36–40

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کے حضور ابلیس کی درخواست کہ مجھے مہلت دیں میں ابن آدم کو گمراہ کروں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہمیشہ ہمیش محروم ہونے کے باوجود ابلیس نے ربِّ کریم کی بارگاہ میں درخواست پیش کی کہ اے میرے رب ! مجھے قیامت تک زندہ رکھ اور مہلت دے کہ میں ابن آدم کو گمراہ کرتا رہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا تجھے اس دن تک مہلت دی جاتی ہے جس کا علم میرے سوا کسی کو نہیں ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ رب کریم کی شفقت و مہربانی کو پیش نظر رکھتے ہوے ابلیس اللہ تعالیٰ سے معافی کا خواستگار ہوتا۔ مگر ابلیس معافی کا خواستگار ہونے کے بجائے مزید سر کشی اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

38: اِلٰی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ (ایک معلوم وقت کے دن تک) مراد یوم الدین ہے اصل یوم الدین اور یوم یبعثون اور یوم الوقت المعلوم ایک ہی معنی میں ہیں لیکن بلاغت کے طرز پر مختلف عبارات لائی گئیں۔ ایک قول یہ ہے اس نے اس دن تک مہلت مانگی جسمیں مخلوق کو اٹھایا جائے گا تاکہ اس پر موت نہ آئے کیونکہ بعث کے دن کسی پر موت نہ آئے گی مگر اس کی یہ بات قبول نہ کی گئی اور ایام تکلیف کے آخری دن تک اس کو مہلت دی گئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

38۔” الی یوم الوقت المعلوم “ اس سے مراد جب تمام مخلوق مرجائے گی اور وہ نفخہ اولیٰ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ابلیس کی موت کا وقت چالیس سال ہے جو دونوں نفخوں کے درمیان میں ہوگی اور بعض نے کہا کہ ابلیس نے اللہ تعالیٰ سے موت سے بالکل محفوظ رہنے کی دعا کی اور اغواء کرنے کی بھی دعا کی ۔ اللہ نے اغواء کرنے کی دعا قبول کرلی لیکن موت سے محفوظ رہنے کی دعا قبول نہیں کی ۔ اس کی ایک دعا کی قبولیت اس کی عزت افزائی کے لیے نہیں بلکہ بدبختی اور مصیبت میں اضافہ کرنے کیلئے فرمائی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 34–38

34۔ 38۔ جب شیطان نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور تکبر کی راہ سے اپنے کو آدم سے افضل سمجھا تو اللہ پاک کا یہ حکم اس کے حق میں صادر ہوا کہ تو فرشتوں کے زمرہ سے نکل جا اور اگر کبھی ادھر کا قصد کرے تو تجھ پر انگارے برسیں گے اور قیامت تک تجھ پر پھٹکار ہوتی رہے گی یہاں مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ قیامت تک پھٹکار ہونے سے یہ مطلب نہیں ہے کہ قیامت کے بعد پھر اس پر لعنت نہ ہوگی بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس وقت تک صرف لعنت ہی لعنت ہے اور بعد قیامت کے لعنت سے بڑھ کر اس پر عذاب بھی ہوگا۔ اس عذاب کے سامنے وہ اس پھٹکار کو بھول جائے گا بہر حال جب اس کو یہ معلوم ہوگیا کہ خدا نے قیامت تک عذاب کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 24–44

آیت 26 اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے باپ حضرت آدم پر اپنی نعمت اور اپنے احسان کا ذکر کرت ا ہے، حضرت آدم کا اپنے دشمن ابلیس کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کو بھی بیان کرتا ہے اور اس ضمن میں ہمیں ابلیس کے شر اور فتنہ سے ڈراتا ہے، چناچہ فرمایا : (ولقد خلقنا الانسان) ” ہم نے انسان کو پیدا کیا۔ “ یعنی آدم کو پیدا کیا (من صلصال من حما مسنون) ” کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے “ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہوجاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔ (الحما المسنون) اس گارے کو کہتے ہیں، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں۔ (والجآن) ” اور جنوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

34۔ ابلیس کی مہلت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ابلیس کے مہلت مانگنے کے جواب میں حق تعالیٰ نے اس سے فرمایا کہ جاتجھے مہلت ہے مقرر وقت کی تاریخ تک یعنی اس دن تک، جس پر سب نے مر کر فنا ہوجانا ہے اور تو بھی انہیں کے ساتھ مر کر فنا ہوجائے گا۔ پس مراد اس وقت سے نفخئہ اولی ہے کہ اس تک اس کو مہلت ملے گی۔ اس نے تو کہا تھا کہ یوم البعث یعنی دوبارہ اٹھنے کے وقت تک اس کو مہلت مل جائے تاکہ وہ موت سے بچ جائے۔ مگر ایسے نہ ہوا اور اس کی یہ دعا قبول نہ ہوئی۔ البتہ نفخئہ اولی تک اس کو لمبی مدت کی مہلت مل گئی تاکہ بنی آدم کے خلاف جو کچھ وہ کرنا چاہے کرلے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ومشیت اور بنی آدم کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 26–44

انسان کی پیدائش اور ابلیس کی نافرمانی تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا قصہ اور شیطان کا ملعون ہونا سورة بقرہ رکوع 4، سورة نساء رکوع 18 اور سورة اعراف رکوع 2 میں بڑی وضاحت سے بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں سورة الحجر میں کیونکہ ان آیات سے پہلے تمام کائنات اور ہر چیز کے ناپ تول کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے یہاں انسان کی پیدائش، جسم، نفس، روح اور زندگی کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب بھی اللہ نے بڑے حساب کتاب اور ناپ تول سے بنائے ہیں۔ یہاں وہ تمام راز کھول کر بیان کردیے گئے ہیں جو انسانی سائنسی تحقیقات سے بہت بلند ہیں۔ پچھلی آیات سے جو کچھ معلوم ہوا وہ تو تمام تخلیقات کے بارے میں تھا۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 26–44

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف خود انسان کو بھی تو ہم نے ہی پیدا کیا سڑے ہوئے مٹی گارے سے جو خشک ہوچکا تھا ۔ (جنات کو پہلے پیدا کیا گیا) قبل ازیں ہم جنات کو آگ کی لو سے پیدا کرچکے تھے یعنی آگ کی وہ تپش جو ایک گرم ہوا کی صورت میں تھی کہ آگ کا نظر آنا اجزائے کثیفہ کی ملاوٹ سے ہوتا ہے ورنہ وہ بہت لطیف ہوتی ہے تو گویا جنات کا وجود اسی سے پیدا ہوا جو نظر نہیں آتا ، اور جنات پہلے سے زمین پر آباد کئے گئے تھے ،۔ پھر وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب آپ کے رب نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میں کھنکتے اور سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر تخلیق کر رہا ہوں جب وہ بن چکے اور میں اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب کے سب اس کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 38–39

ف 6 ۔ یا ” بما “ میں با بمعنی قسم ہے اور یہ عزت کی قسم کے منافی نہیں ہے کیونکہ اغوا بھی فی الجملہ عزت و سلطان کے آثار سے ہے گویا شیطان نے دونوں کی قسم کھائی مگر سبیت کے معنی ادنیٰ ہیں۔ (شوکانی) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 37–38

(15:37) المنظرین۔ اسم مفعول جمع مذکر المنظر۔ واحد ۔ مہلت یافتہ۔ مہلت دئیے گئے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 26–44

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 44 صلصال وہ مٹی جو سوکھ کر سخت ہوجائے اور بجنے لگے ۔ مسنون گوندھی گئی۔ السموم لو۔ نفخت میں نے پھونک دیا۔ پھونک ماردی، حما سڑی ہوئی مٹی، کیچڑ۔ جان جن۔ سویت میں نے برابر کردیا۔ ٹھیک کرلیا۔ روحی میری روح ، قعوا گرپڑو۔ ابی انکار کیا۔ ان یکون یہ کہ وہ ہو۔ مالک تجھے کیا ہوا۔ لم اکن میں نہیں ہوں بشر انسان۔ اخرج نکل جا۔ لعنت لنت، اللہ کی رحمت سے دوری۔ انظرنی تو مجھے مہلت دیدے۔ یبعثون (اٹھائے جائیں گے) ۔ اغویت (اغوائ) تو نے سیدھی راہ سے ہٹا دیا ۔ سلطن قوت، زور الغوین بہکنے والے۔ موعد وعدہ کی جگہ۔ سبعۃ ابواب سات دروازے۔ جزاء حصہ۔ مقسوم تقسیم کیا گیا۔ تشریح : آیت نمبر 26 تا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 34–38

شیطان کو آسمان سے نکال دینے اور اس کے قسم کھانے کا ذکر جب شیطان نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے نکار کردیا اور تکبر کی راہ سے اپنے کو آدم (علیہ السلام) سے افضل سمجھا تو اللہ تعالیٰ کا یہ حکم اس کے حق میں صادر ہوا کہ فرشتوں کے زمرہ سے نکل جا اور اگر کبھی ادھر کا قصد کرے گا تو تجھ پر انگارے برسیں گے اور قیامت تک تجھ پر پھٹکار ہوتی رہے گی اور بعد قیامت کے لعنت سے بڑھ کر عذاب ہوگا۔ اس عذاب کے سامنے وہ اس پھٹکار کو بھول جائے گا۔ بہرحال جب اس کو یہ معلوم ہوگیا کہ خدا نے قیامت تک عذاب کو اس کے حق میں موقوف رکھا ہے تو اس نے خدا سے یہ سوال کیا کہ مجھے اس وقت مقررہ تک ڈھیل دی جائے اور میں اس روز…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 29–38

[14] انسان کے اندر جو روح پھونکی گئی ہے وہ دراصل صفات الٰہی کا ایک عکس یا پرتو ہے اور اس پرتو کی وجہ سے انسان زمین پر اللہ کا خلیفہ قرار پایا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 37–48

شیطان کی وجہ تخلیق : (ف 1) شیطان کو سجدہ نہ کرنے کی یہ سزا ملی کہ ہمیشہ کیلئے معتوب الہی ہوا ، اسے حکم دیا گیا ، کہ تم اب آسمان کی وسعتوں سے نکل جاؤ اور مکرو فریب کے لئے زمین پر رہو ، تمہیں قیامت تک مہلت ہے اپنی شیطنت کو بروئے کار لاؤ ، پوری قوت کے ساتھ اولاد آدم کو گمراہ کرنے کی کوشش کرو ، یاد رکھو وہ لوگ جو پاکباز اور متقی ہیں ، وہ تیری دستبر سے ہمیشہ بالا رہیں گے ، اور نفوس قدسیہ کو گمراہ نہیں کر سکوگے ، سوائے ان چند شریر النفس لوگوں کے جو تیرے ہم خیال ہیں ، اور کوئی تیری دوستی کا دم نہیں بھرے گا اور بالاخر تم سب لوگ جہنم کا ایندھن بنوگے ، شیطان اپنے تمام گروہ کے ساتھ جہنم میں داخل…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 35–39

ف 3۔ یعنی قیامت تک تو میری رحمت سے بعید رہے گا مقبول و مرحوم و موفق للتوبة نہ ہوگا، اور ظاہر ہے کہ قیامت تک جو محل رحمت نہ ہوگا، پھر قیامت میں تو مرحوم ہونے کا احتمال ہی نہیں، پس جس وقت تک احتمال تھا اسی کی نفی کردی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 37–38

اللہ تعالیٰ نے فرمایا مقررہ وقت کے دن تک تجھے مہلت دی گئی ہے ۔ 38۔ فرمایا جب تک اس عالم ناسور کی عمر قائم ہے اسے ابلیس تجھ پر گرفت نہ ہوگی ، کیوں ؟ اس لئے کہ تجھ کو محض پیدا ہی انسان کی آزمائش کے لئے کیا گیا ہے ۔ اگر تو نہ ہوتا تو اللہ کے بندوں کی نشانی کیا ہوتی تو مجسمہ نافرمانی کیوں بنایا گیا ؟ اس میں حکمت ہی یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کی آزمائش ہوجائے ، ابلیس کی قوت یا ہستی اگر باقی نہ رہے تو اس عالم ابتلاء کی مصلحتیں ہی فوت ہوجائیں لیکن یہ بھی خوب واضح رہے کہ ابلیس کے ہاتھ میں کوئی قوت خیر استبداء کی نہیں صرف بہلانے پھسلانے اور سبز باغ دکھانے کی ہے ، گویا وہ بزور کسی کو برائی پر نہیں لگا سکتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–41

The Command to Prostrate was Given to Angels - Iblis was to Follow Suit Addressing Iblis in Surah Al-A` raf, it was said: مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْ‌تُكَ (What stopped you from prostrating when I ordered you? - 7:12). This shows that the command to prostrate was given, along with the angels, to Iblis as well. However, the verses you have gone through a little earlier apparently give the sense that the command was particular to the an-gels. This could mean that the command was originally given to the angels but, as Iblis too was present among the angels, therefore, he too was…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 35–38

21. That is, you shall remain accursed up to the Resurrection. Then you shall be punished for your disobedience on the Day of Judgment.

Read the full tafseer →