Explained with ayahs 28–33
ابلیس لعین کا انکار
اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ حضرت آدم ؑ کی پیدائش سے پہلے ان کی پیدائش کا ذکر اس نے فرشتوں میں کیا اور پیدائش کے بعد سجدہ کرایا۔ اس حکم کو سب نے تو مان لیا لیکن ابلیس لعین نے انکار کردیا اور کفر و حسد انکار وتکبر فخر و غرور کیا۔ صاف کہا کہ میں آگ کا بنایا ہوا یہ خاک کا بنایا ہوا۔ میں اس سے بہتر ہوں اس کے سامنے کیوں جھکوں ؟ تو نے اسے مجھ پر بزرگی دی لیکن میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ ابن جریر نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے۔ کہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ان سے فرمایا کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں، تم اسے سجدہ کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
سورة الْحِجْر 19
اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے اندر جو روح پھونکی گئی ہے وہ دراصل صفات الہٰی کا ایک عکس یا پرتو ہے۔ حیات، علم، قدرت، ارادہ، اختیار اور دوسری جتنی صفات انسان میں پائی جاتی ہیں، جن کے مجموعہ کا نام روح ہے، یہ دراصل اللہ تعالیٰ ہی کی صفات کا ایک ہلکا سا پرتو ہے جو اس کا لبد خاکی پر ڈالا گیا ہے، اور اسی پرتو کی وجہ سے انسان زمین پر خدا کا خلیفہ اور ملائکہ سمیت تمام موجودات ارضی کا مسجود قرار پایا ہے۔
یوں تو ہر صفت جو مخلوقات میں پائی جاتی ہے، اس کا مصدر و منبع اللہ تعالیٰ ہی کی کوئی نہ کوئی صفت ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ جَعَلَ اللہْ الرَّحْمَۃَ مِأَ ۃَ جُزْءٍ فَاَمْسَکَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
معارف و مسائل
بدن انسانی میں نفخ روح اور اس کو مسجود ملائکہ بنانے کی مختصر تحقیق
روح کوئی جسم ہے یا جوہر مجرد اس میں علماء وحکماء کا اختلاف قدیم زمانے سے چلا آتا ہے شیخ عبد الرءوف منادی نے فرمایا کہ اس میں حکماء کے اقوال ایک ہزار تک پہنچنے ہیں مگر سب قیاسات اور تخمینے ہی ہیں کسی کو یقینی نہیں کہا جاسکتا امام غزالی، امام رازی اور عموما صوفیہ اور فلاسفہ کا قول یہ ہے کہ وہ جسم نہیں بلکہ جوہر مجرد ہے امام رازی نے اس کے بارہ دلائل پیش کئے ہیں
مگر جمہور علماء امت روح کو ایک جسم لطیف قرار دیتے ہیں نفخ کے معنی پھونک مارنے کے ہیں اگر بقول جمہور روح کو جسم لطیف قرار دیا جائے تو اس کو پھونکنا ظاہر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
تفسیر آیات 30 تا 31 فَسَجَدَ الْمَلائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ۔إِلا۔ إِبْلِيسَ أَبَى أَنْ يَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ۔ تمام فرشتوں اور ان کے حکم میں داخل تمام مخلوقات نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل میں آدم کو سجدہ کیا لیکن ابلیس نے جو جنات میں سے تھا، اس حکم کی تعمیل سے انکار کیا اور اس انکار کی وجہ، جیسا کہ آگے تفصیل آرہی ہے، اس نے صرف یہ بتائی کہ وہ آگے سے پیدا ہونے کے سبب سے ایک برتر مخلوق ہے تو ایک بشر کو کس طرح سجدہ کرسکتا ہے جو مٹی سے پیدا ہوا اور اس سے فروتر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
29۔ 1 سجدے کا یہ حکم بطور تعظیم کے تھا، عبادت کے طور پر نہیں، اور یہ چونکہ اللہ کا حکم تھا، اس لئے اس کے وجوب میں کوئی شک نہیں۔ تاہم شریعت محمدیہ میں بطور تعظیم بھی کسی کے لئے سجدہ کرنا جائز نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–38
14: شیطان نے مہلت تو روز حشر تک کے لئے مانگی تھی ؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے بجائے ایک اور معین وقت تک کے لئے اسے مہلت دی، اکثر مفسرین کے مطابق وہ پہلے صور کے پھونکنے تک ہے جس کے بعد ساری مخلوقات کو موت آئے گی، اس وقت شیطان کو بھی موت آجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
آیت نمبر 30 تا 31
فرشتوں نے تو یہ سجدہ اس لیے کیا کہ ان کی فطرت ہی عبادت الٰہی اور تعمیل حکم ہے۔ بغیر چون و چرا کے اور ابلیس نے انکار اس لیے کیا کہ وہ ملائکہ میں سے نہ تھا۔ ملائکہ نوری مخلوق ہیں اور شیطان ناری۔ فرشتے ایسے ہیں کہ ان کو اللہ کی طرف سے جو حکم بھی ملے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے ، انہیں جو حکم ملے وہ کر گزرتے ہیں اور ابلیس نے یہ حکم ملتے ہی انکار کیا اور استکبار کیا۔ اس لیے یقیناً وہ فرشتوں میں سے نہ تھا۔ یہاں استثناء متصل نہیں ہے ، یہ اس طرح ہے جس طرح کہتے ہیں کہ فلاں کی اولاد تو سب آگئے مگر احمد نہیں آیا۔ جبکہ احمد فلاں کے بیٹوں میں سے نہیں ہوتا۔ صرف یہ کہ وہ ان کے ساتھ ہی رہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
4 یعنی جنت سے یا آسمان سے یا اس مقام عالی سے نکل جہاں اب تک پہنچا ہوا تھا۔
5 یعنی مردود و مطرود ہے یا " رجیم " سے اشارہ اسی طرف ہے جو پہلے گزرا کہ شہاب سے شیاطین کا رجم کیا جاتا ہے۔ گویا اس لفظ میں اس کے شبہ کا جواب دیا گیا کہ تیرا سجود سے انکار کرنا شرف عنصری کی بناء پر نہیں۔ فضل و شرف تو اسی کے لیے ہے جسے خدا تعالیٰ سرفراز فرمائے۔ ہاں تیرے اباء و استکبار کا منشاء وہ شقاوت و بدبختی ہے جو تیری سوء استعداد کی وجہ سے مقدر ہوچکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
آیت 30 فَسَجَدَ الْمَلٰۗىِٕكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَ
کُلُّہُمْ اَجْمَعُوْنَ میں بہت تاکید پائی جاتی ہے کہ سب کے سب نے اکٹھے ہو کر سجدہ کیا ‘ اور ان میں سے کوئی بھی مستثنیٰ نہ رہا۔ جبرائیل ‘ میکائیل ‘ اسرافیل ‘ عزرائیل سمیت سب جھک گئے ‘ کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ فرشتوں کے ساتھ ذکر آنے کی وجہ سے گمان ہوتا ہے کہ جیسے ابلیس بھی فرشتہ تھا ‘ مگر وہ فرشتہ نہیں تھا ‘ جیسا کہ سورة الکہف کی آیت 50 میں ”کَانَ مِنَ الْجِنِّ“ فرما کر واضح کردیا گیا کہ وہ جنات میں سے تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–37
9 1 فرشتوں کو آدم کو سجدہ کرنے کا حکم :۔ جب انسان کا پتلا تیار ہوگیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میں کھنکھناتی مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے لگا ہوں۔ جب میں اس کی نوک پلک درست کرکے اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں تو تم اسی وقت اس کے سامنے سجدہ میں گرپڑنا روح پھونکنے سے مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا ہلکا سا پر تو انسان میں پیدا ہوجائے اور انسان کو جو دوسری تمام جانداروں سے زیادہ عقل وتمیز، قوت ارادہ و اختیار، مختلف اشیاء کے خواص معلوم کرنے کا علم نیز غور و فکر کے ذریعہ استنباط یا تنائج حاصل کرنے کا علم دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ اسی نفخہ کا نتیجہ ہے اور اسی بنا پر انسان زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
27۔ یہ ابلیس جو بعد کو شیطان کے لقب سے مشہور ہوگیا، فرشتہ نوری نہیں، جن ناری تھا، جیسا کہ سورة کہف میں نص موجود ہے۔ (آیت) ” وکان من الجن “۔ باقی عام قصہ آدم (علیہ السلام) وابلیس پر مفصل حاشیے سورة بقرہ رکوع 4 میں گزر چکے :۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
آیت نمبر 26 تا 44
ترجمہ : بیشک ہم نے انسان (یعنی) آدم کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا یعنی ایسی خشک مٹی جب اس کو نجایا جائے تو اس کی آواز سنی جائے اور اس سے پہلے (یعنی) تخلیق آدم سے پہلے ہم نے جنات (یعنی) ابو الجن کو کہ وہ ابلیس ہے شعلے سے کہ جس میں دھواں نہ ہو اور وہ مسامات (یعنی بدن کے مسامات) میں نفوذ کر جائے پیدا کیا اور اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں انسان کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناے والی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں تو جب میں اس کو مکمل کر چکوں اور اس میں اپنی روح ڈال چکوں اور وہ زندہ ہوجائے اور روح کی نسبت اللہ کی طرف آدم کیلئے کرامت کے طور پر…
Read the full tafseer →فسجدوا لملئکۃ پس (آدم کی طرف رخ کر کے) فرشتوں نے سجدہ کیا۔ اس کی وجہ یا تو یہ تھی کی فرشتوں نے آدم کے اندر معیت کا ادراک کرلیا ‘ یا محض تعمیل حکم غرض تھی ( استحقاق سجود کی وجہ ان کو معلوم نہ ہوئی) ۔
کلھم اجمعون سب کے سب نے۔ تاکید مزید محض مبالغۂ عموم کیلئے ہے ‘ یعنی کوئی بھی سجدہ سے الگ نہیں رہا ‘ سب ہی نے سجدہ کیا۔ مبرد کا قول ہے کہ کُلُّھُم کے لفظ سے تو عموم کی تاکید ہوگئی ‘ یعنی سب نے سجدہ کیا اور اَجْمَعُوْن کے لفظ سے یہ بات ظاہر کرنی مقصود ہے کہ یکدم اجتماعی حالت میں سب نے سجدہ کیا۔ مگر یہ توجیہ غلط ہے۔ اگر لفظ اَجْمَعُوْن سے اجتماعی حالت ظاہر کرنی مقصود ہوتی تو اجمعین (نصب کے ساتھ) کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
(30۔ 31) چناچہ سب فرشتوں نے آدم ؑ کو سجدہ کیا مگر ابلیس نے اس بات کو پسند نہ کیا یعنی وہ آدم ؑ کو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
فَاِذَا سَوَّيْتُهٗ۔۔ : یعنی جب میں اسے برابر کرلوں، مکمل بنا لوں۔ ”مِنْ رُّوْحِيْ“ اور اس میں اپنی روح سے پھونک دوں۔ یہاں ”رُّوْحِيْ“ میں ”رُوْحٌ“ کی ”یاء“ کی طرف اضافت، اضافت تشریفی کہلاتی ہے، یعنی اس کا عزو شرف بڑھانے کے لیے اسے اپنی روح قرار دیا، یہاں ”میری روح“ سے مراد اللہ تعالیٰ کی مخلوق روح ہے، کیونکہ اس کی ذات کی مثل تو کوئی چیز نہیں، وہ ”ۚلَمْ يَلِدْ ڏ وَلَمْ يُوْلَدْ“ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کی ذاتی روح تو کسی صورت مراد نہیں ہوسکتی، صرف آدم ہی نہیں دوسری جگہ ہر انسان کی روح کو اللہ نے اپنی روح قرار دیا ہے، فرمایا : (ثُمَّ سَوّٰىهُ وَنَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ) [ دیکھیے السجدۃ : 7…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
آیت نمبر 30 تا 31
قولہ تعالیٰ : سجد الملئکۃ کلھم اجمعون۔ الا ابلیس اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اس میں کوئی شک نہیں کہ ابلیس کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا ؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ما منعک الا تسجد اذا مرتک (الاعراف :12) (کس چیز نے روکا تجھے اس سے کہ تو سجدہ کرے جب میں نے حکم دیا تجھے) بیشک اسے اس سے تکبر کرنے اور اپنے آپ کو بڑا سمجھنے نے روکا تھا ؛ جیسا کہ اس کا بیان سورة البقرہ میں گزر چکا ہے، پھر کہا گیا ہے : وہ ملائکہ میں سے تھا۔ اور یہ استثنا اپنی جنس سے ہی ہے۔ اور ایک قوم نے کہا ہے : وہ ملائکہ میں سے نہ تھا ؛ لہٰذا یہ استثنا منقطع ہے۔ یہ مکمل بحث سورة البقرہ میں گزر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–35
1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کہ جان جنوں کی مسخ شدہ صورت ہے جیسے بندر اور خنزیر انسانوں کی مسخ شدہ صورت ہے۔
2:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولجآن خلقنہ من قبل “ اور وہ ابلیس ہے جو آدم (علیہ السلام) سے پہلے پیدا کیا گیا۔
3:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابلیس فرشتوں کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے جن کو جن کہا جاتا ہے وہ فرشتوں میں سے ایسی آگ سے پیدا کئے گئے تھے جس میں دھواں نہیں ہے اور وہ جنات جن کا قرآن میں ذکر کیا گیا وہ آگ کے شعلہ سے پیدا کئے گئے تھے۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا…
Read the full tafseer →[فَسَجَدَ : پھر سجدہ کیا ] [ الْمَلٰۗىِٕكَةُ : فرشتوں نے ] [ كُلُّهُمْ : ان کے ہر ایک نے ] [ اَجْمَعُوْنَ : سب کے سب نے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
انسان اور جنات کی تخلیق، ابلیس کو سجدہ کرنے کا حکم اور اس کی نافرمانی اور ملعونیت، بنی آدم کو ورغلانے کے لیے اس کا قسم کھانا اور لمبی عمر کی درخواست کرنا، مخلصین کے بہکانے سے عاجزی کا اقرار، ابلیس کا اتباع کرنے والوں کے لیے داخلہ دوزخ کا اعلان
ان آیات میں انسان اور جنات کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا اور یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک بشر کو پیدا فرمانے والا ہوں جب میں اسے پوری طرح بنا دوں اور اس میں روح پھونک دوں تو تم سب اس کے لیے سجدہ میں گرپڑنا، چناچہ جب اس بشر کی تخلیق ہوگئی اور روح پھونک دی گئی جس کے پیدا فرمانے کا پہلے سے اعلان فرمایا تھا تو تمام فرشتے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
ذکر پیدائش انس و جن و قصہ پیدائش آدم (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ : ولقد خلقنا الانسان من صلصال .... الیٰ .... لکل باب منھم جزء مقسوم۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں حق جل شانہ نے حیوانات کی پیدائش سے اپنی قدرت اور خالقیت کا ذکر فرمایا اب یہاں جن و انس سے اسی مقصود پر استدلال فرماتے ہیں اور جان سے مراد یہاں جنوں کا باپ ہے جس طرح اوپر کی آیتوں میں انسان سے تمام انسانوں کے باپ مراد ہیں دونوں میں فرق یہ ہے کہ آدمیوں کا باپ، ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ترابی غالب تھا اور جنوں کا باپ ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ناری کا غلبہ تھا۔ ابلیس اسی قسم میں سے تھا اللہ تعالیٰ نے ان دو مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
14:۔ تمام فرشتوں نے آدم کو سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا اس لیے آدم کے ساتھ اس کی دشمنی ظاہر ہے۔ ” اِلَّا اِبْلِیْسَ “ مستثنیٰ منقطع ہے کیونکہ ابلیس فرشتہ نہیں تھا بلکہ جن تھا جیسا کہ سورة کہف رکوع 7 میں ہے ” کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ “ اس پر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اگر ابلیس فرشتہ نہیں تھا تو سجدہ نہ کرنے سے نافرمان کیوں ٹھہرا کیونکہ سجدہ کا حکم تو فرشتوں کو دیا گیا تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ ابلیس چونکہ فرشتوں میں رہتا تھا اور زہد و عبادت کی وجہ سے مرتبہ میں فرشتوں سے بھی بلند تھا اس لیے تغلیباً اسے بھی فرشتوں میں شمار کیا گیا اس طرح فرشتوں کے ساتھ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کے دلائل بیان ہوئے ، پہلے بیرونی دلائل کا ذکر ہوا جن میں آسمانوں کی تخلیق ، اس میں ستاروں اور سیاروں کو چلانا ، پھر زمین کو پھیلانا اور اس میں طرح طرح کی چیزیں پیدا کرنا ، پھر زمین وآسمان کے درمیان فضاؤں میں ہواؤں کو چلانا ، بادلوں کو اٹھانا ، باران رحمت کا نزول ، انسانوں ، جانوروں اور نباتات کے لیے پانی کی بہم رسانی اور اس کے نتیجے میں خوراک کا مہیا کرنا وغیرہ بیرونی دلائل تھے ، اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے قیامت کا ذکر بھی فرمایا (آیت) ” ان ربک ھو یحشرھم “۔ تیرا پروردگار ان سب کو اس دن اکٹھا کریگا وہ انسان کو دوبارہ زندہ کرنے پر…
Read the full tafseer →فَسَجَدَ الْمَلٰۗىِٕكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَ 30ۙ
ملك ( فرشته)
وأما المَلَكُ فالنحویون جعلوه من لفظ الملائكة، وجعل المیم فيه زائدة . وقال بعض المحقّقين : هو من المِلك، قال : والمتولّي من الملائكة شيئا من السّياسات يقال له : ملک بالفتح، ومن البشر يقال له : ملک بالکسر، فكلّ مَلَكٍ ملائكة ولیس کلّ ملائكة ملکاقال : وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] ، عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102]
( م ل ک ) الملک
الملک علمائے نحو اس لفظ کو ملا ئکۃ سے ماخوذ مانتے ہیں اور اس کی میم کو زائد بناتے ہیں لیکن بعض محقیقن نے اسے ملک سے مشتق مانا ہے اور کہا ہے کہ جو فرشتہ کائنات کا انتظام کرتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–44
جان کی تعریف و تفسیر، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جان سب جنون کے باپ کا نام ہے اور یہی قول اکثر مفسرین کا ہے اور یہی ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے گو بعض نے جان سے مراد ابلیس لیا ہے جان کے معنی لغت میں ساتر یعنی چھپنے (چھپانے) والے کے ہیں کہتے ہیں جن الشیٔ اذاسترہ چونکہ آدم ( علیہ السلام) کے خلاف اس کا غالب مادہ آگ کا لطیف شعلہ ہے اس لیے یہ قوم محسوس نہیں ہوتی ہر ایک کو دکھلائی نہیں دیتی اور اس لیے اس قوم کو جن اور اس کے باپ کو جان کہتے ہیں۔
خدائے تعالیٰ لطیف وخبیر نے اول ملائکہ کو بنایا، ان کے بعد جن کی قوم کو جن کا مادہ ملائکہ سے ذرا قریب تر تھا، پھر انسان کو جس کا مادہ کثیف ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ دیگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–38
فَسَجَدَالْمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّھُمْ اَجْمَعُوْنَ ۔ اِلاَّ ٓاِبْلِیْسَ ط اَبٰٓی اَنْ یَّکُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ ۔ قَالَ یٰٓاِبْلِیْسَ مَالَکَ اَلاَّ تَکُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ ۔ قَالَ لَمْ اَکُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ۔ قَالَ فَاخْرُجْ مِنْھَا فَاِنَّکَ رَجِیْمٌ۔ وَّاِنَّ عَلَیْکَ اللَّعْنَۃَ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ ۔ قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْ ٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ۔ قَالَ فَاِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ ۔ اِلٰی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ ۔ (سورۃ الحجر : 30 تا 38)
(تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔ سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کردیا کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
فہم القرآن
ربط کلام : تخلیق آدم کے بارے میں مختصر اشارہ کرنے کے بعد اس کے اعزاز کا تذکرہ۔
قرآن مجید کا یہ بھی اسلوب ہے کہ وہ کسی واقعہ کو کہانی اور زیب داستان کے لیے بیان نہیں کرتا۔ بلکہ ہر بات کو موقع محل کے مطابق اور مؤثر نصیحت کے طور پر بیان کرتا ہے۔ اثر آفرینی کے لیے کسی بات کا دوبارہ ذکر کرنا مقصود ہو تو اس کا انداز اور الفاظ پہلے بیان سے مختلف ہوتے ہیں۔ تاکہ پڑھنے والے کو نئے انداز کے ساتھ اس کی راہنمائی کے لیے نئی دلیل پیش کی جائے۔ اسی اصول کے پیش نظر حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کا یوں بیان فرمایا ہے کہ اے انسان ! جب تیرے رب نے ملائکہ کو حکم دیا کہ یقیناً میں بدبودار اور کھنکھناتی…
Read the full tafseer →ملائکہ کا سجود :
30: فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّھُمْ اَجْمَعُوْنَ (پس تمام کے تمام فرشتوں نے سجدہ کیا) ملائکہ جمع عام ہے اس میں تخصیص کا احتمال ہے تخصیص کو کلہم سے ختم کردیا اور کل کا لفظ تفرق کی تاویل کا احتمال رکھتا ہے۔ اس کو اجمعون سے ختم کردیا۔
Read the full tafseer →30۔” فسجد الملائکۃ “ جنہوں نے سجدہ کا حکم دیا۔ ” کلھم اجمعون “
سوال : ” کلھم اجمعون “ کیوں کہا حالانکہ اس کا مقصود ” فسجد الملائکۃ “ سے پورا ہوجاتا ہے ؟
جواب : خلیل اور سیبویہ کے نزدیک اس کو تاکیدا ً ذکر کیا ہے اور مبرد کا قول ہے کہ ” فسجد الملائکۃ “ میں یہ احتمال تھا کہ بعض فرشتوں نے سجدہ کیا ۔ ” لہٰذا ” کلھم “ ذکر کے اس احتمال کو دور کردیا ۔ پھر بھی احتمال تھا کہ کیا سب نے ایک وقت میں سجدہ کیا یا مختلف اوقات میں سجدہ کیا اس احتمال کو ” اجمعون “ نے دور کردیا ۔
عکرمہ (رح) نے ابن عباس ؓ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اللہ عزوجل نے فرشتوں کی ایک جماعت سے کہا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو، انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
28۔ 33۔ اللہ پاک نے انسان کی پیدائش کا ذکر کرنے کے بعد جو جو باتیں اس کے پیدا کرنے کے وقت پیش آئی تھیں ان کا ذکر فرمایا کہ بھلے فرشتوں کو جمع کر کے اللہ تعالیٰ نے یہ بات کہی کہ میرا ارادہ ہے کہ مٹی سے انسان کو پیدا کروں اور جب آدم کا پتلہ بنالوں اور اس کے بدن میں روح پھونک دوں تو تم سب کے سب اسے سجدہ کرنا اس حکم کو سن کر فرشتوں نے جو جواب دیا اس کا قصہ سورت بقرہ میں مفصل گزر چکا ہے غرض کہ کل فرشتوں نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا مگر ابلیس جو جنات کی قوم میں سے تھا اور خدا کی عبادت کثرت کے ساتھ کرنے سے فرشتوں کے زمرہ میں داخل کرلیا گیا تھا اس نے آدم کے پتلے کو تعظیمی سجدہ کرنے سے انکار کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–44
آیت 26
اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے باپ حضرت آدم پر اپنی نعمت اور اپنے احسان کا ذکر کرت ا ہے، حضرت آدم کا اپنے دشمن ابلیس کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کو بھی بیان کرتا ہے اور اس ضمن میں ہمیں ابلیس کے شر اور فتنہ سے ڈراتا ہے، چناچہ فرمایا : (ولقد خلقنا الانسان) ” ہم نے انسان کو پیدا کیا۔ “ یعنی آدم کو پیدا کیا (من صلصال من حما مسنون) ” کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے “ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہوجاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔
(الحما المسنون) اس گارے کو کہتے ہیں، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں۔ (والجآن) ” اور جنوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–32
27۔ اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ وذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ایک برابر اور خوب جانتے ہیں آگے بڑھنے والوں کو بھی اور پیچھے رہنے والوں کو بھی وجود وموت کے اعتبار سے۔ نیز نماز کی صف اول میں اور صف جہاد میں آگے بڑھنے اور پیچھے رہ جانے والوں کو وغیرہ وغیرہ، مختلف اقوال ہیں اور یہ سب ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ ان میں کوئی تعارض نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا علم ان سب ہی مفاہیم ومطالب کو شامل اور عام ہے۔ الفاظ کا عموم بھی ان سب کو شامل ہے اور یہی بات دراصل یہاں بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر لحاظ سے کامل اور اس کی سب ہی مخلوق کو شامل ہے۔ کوئی بھی چیز اس کے علم کے باہر نہیں ہوتی (ابن جریر، ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
انسان کی پیدائش اور ابلیس کی نافرمانی
تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا قصہ اور شیطان کا ملعون ہونا سورة بقرہ رکوع 4، سورة نساء رکوع 18 اور سورة اعراف رکوع 2 میں بڑی وضاحت سے بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں سورة الحجر میں کیونکہ ان آیات سے پہلے تمام کائنات اور ہر چیز کے ناپ تول کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے یہاں انسان کی پیدائش، جسم، نفس، روح اور زندگی کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب بھی اللہ نے بڑے حساب کتاب اور ناپ تول سے بنائے ہیں۔ یہاں وہ تمام راز کھول کر بیان کردیے گئے ہیں جو انسانی سائنسی تحقیقات سے بہت بلند ہیں۔ پچھلی آیات سے جو کچھ معلوم ہوا وہ تو تمام تخلیقات کے بارے میں تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
خود انسان کو بھی تو ہم نے ہی پیدا کیا سڑے ہوئے مٹی گارے سے جو خشک ہوچکا تھا ۔
(جنات کو پہلے پیدا کیا گیا)
قبل ازیں ہم جنات کو آگ کی لو سے پیدا کرچکے تھے یعنی آگ کی وہ تپش جو ایک گرم ہوا کی صورت میں تھی کہ آگ کا نظر آنا اجزائے کثیفہ کی ملاوٹ سے ہوتا ہے ورنہ وہ بہت لطیف ہوتی ہے تو گویا جنات کا وجود اسی سے پیدا ہوا جو نظر نہیں آتا ، اور جنات پہلے سے زمین پر آباد کئے گئے تھے ،۔
پھر وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب آپ کے رب نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میں کھنکتے اور سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر تخلیق کر رہا ہوں جب وہ بن چکے اور میں اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب کے سب اس کے…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ سجدہ کے معنی کسی کے سامنے عاجزی کرنے اور جھکنے کے ہیں چاہے وہ زمین پر سر رکھ کر ہو یا سر اور کمر جھکا کر۔ اور وہ دو طرح ہوتا ہے ایک بطور عبادت اور دوسرا بطور سلام و تعظیم۔ فرشتوں کا حضرت آدم کو سجدہ کرنا بطور۔ سلام و تعظیم تھا نہ کو بطور عبادت۔ جیسا کہ حضرت یوسف کو ان کے والدین اور بھائیوں نے سجدہ کیا تھا کیونکہ فرشتوں کی صفت میں مذکور ہے۔ ولہ یسجدون۔ (اعراف آیت 602) ” کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کو سجدہ کرتے ہیں “ یہ تعظیمی سجدہ پہلی امتوں میں جائز تھا مگر ہماری شریعت میں حرام کردیا گیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا :” اگر میں کسی بشر کو دوسرے بشرے کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ…
Read the full tafseer →(15:30) اجمعون۔ سب کے سب۔ تاکید کے لئے آیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 44
صلصال وہ مٹی جو سوکھ کر سخت ہوجائے اور بجنے لگے ۔ مسنون گوندھی گئی۔ السموم لو۔ نفخت میں نے پھونک دیا۔ پھونک ماردی، حما سڑی ہوئی مٹی، کیچڑ۔ جان جن۔ سویت میں نے برابر کردیا۔ ٹھیک کرلیا۔ روحی میری روح ، قعوا گرپڑو۔ ابی انکار کیا۔ ان یکون یہ کہ وہ ہو۔ مالک تجھے کیا ہوا۔ لم اکن میں نہیں ہوں بشر انسان۔ اخرج نکل جا۔ لعنت لنت، اللہ کی رحمت سے دوری۔ انظرنی تو مجھے مہلت دیدے۔ یبعثون (اٹھائے جائیں گے) ۔ اغویت (اغوائ) تو نے سیدھی راہ سے ہٹا دیا ۔ سلطن قوت، زور الغوین بہکنے والے۔ موعد وعدہ کی جگہ۔ سبعۃ ابواب سات دروازے۔ جزاء حصہ۔ مقسوم تقسیم کیا گیا۔
تشریح : آیت نمبر 26 تا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
ملائکہ کو سجدہ کا حکم
ارشاد ہوتا ہے کہ اس وقت کا تصور کرو جب ہم نے ملائکہ کو خبر دی کہ ہم ایک بشر کو مٹی سے خمیر دے کر پیدا کرنے والے ہیں، پس جب میں اسے بناچکوں اور روح بھی اس میں ڈال دوں تو تم سب کے سب تعظیم کے لئے اس کے آگے جھک جانا۔ فرشتوں نے تو ایسا ہی کیا یعنی سب نے مل کر سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہیں کیا اور سجدہ کرنے سے انکار کیا اور مادہ خاکی پر لحاظ کر کے آدم (علیہ السلام) کو حقیر سمجھا۔ یہاں سے یہ بات معلوم ہوئی کہ غرور کی ابتداء اسی لعین سے ہوئی اس سے پہلے نہیں تھی۔ پس جو غرور کرتا ہے وہ شیطان کا تابع ہے خواہ کسی بات کا غرور ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے جو تو نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–38
[14] انسان کے اندر جو روح پھونکی گئی ہے وہ دراصل صفات الٰہی کا ایک عکس یا پرتو ہے اور اس پرتو کی وجہ سے انسان زمین پر اللہ کا خلیفہ قرار پایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
جنوں کا وجود :
(ف 2)
جنوں کی پیدائش آدم سے پہلے ہے انکی فطرت اجزائے ناریہ سے ہے اسلئے یہ انسان سے زیادہ لطیف اور سبک ہوتے ہیں گویہ نظر نہیں آتے ، مگر ان کے وجود سے انکار نہیں کیا جاسکتا ؟
آج نئے تجربوں نے ہی ثابت کردیا ہے کہ کچھ لطیف اجسام ایسے ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتے مگر ہو ہماری طرح ایک خاص قسم کے زندگی رکھتے ہیں ، ان کے اجسام ہیں ، ان کی خاص شکلیں ہیں ان کے اپنے مخصوص مشاغل ہیں ۔
یورپ میں بعض ایسی علمی مجلسیں ہیں جنہوں نے برسوں کی تحقیقات کے بعد یہ ثابت کیا ہے جنات کا انکار واقعات کا انکار کرنا ہے ، آج سے نصف صدی پیشتر ان کا انکار روشن خیالی میں داخل تھا کہ آج مفتی کہہ رہا ہے جنوں کا وجود…
Read the full tafseer →30 ۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے اس کو بنایا تو سب کے سب تمام فرشتوں نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کیا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
ف 5۔ یعنی آدم (علیہ السلام) کے قبل۔
Read the full tafseer →تفسیر :
فرشتے اللہ کے حکم کے مطابق فورا سربسجود ہوگئے اور سجدہ شکر ادا کیا :
30۔ فرشتوں کو چونکہ انسان کو درست کرنے بھی بہت پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ بات فرما دی تھی اور فرشتوں کو بتانا کیا تھا کہ ان کے مقابلہ کی دوسری طاقت بھی ویسی ہی مخاطب تھی جیسا کہ فرشتے مخاطب کئے گئے تھے لیکن چونکہ وہ مجسمہ برائی تھا اور علم الہی میں موجود تھا کہ شر کی طاقت کبھی سجدہ ریز نہیں ہو سکتی اس لئے اس کا نام نہیں لیا گیا بلکہ نام صرف فرشتوں ہی کا لیا گیا اگرچہ ان کے مقابلہ کی قوتیں اور طاقتیں بھی ان میں شامل تھی جن کی وجہ سے ملائکہ ملائکہ کہلا سکے اگر وہ شر کی طاقتیں اور قوتیں نہ ہوتیں تو ملائکہ کا وجود بذات خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
Commentary
Blowing of Spirit into the Human Body and Making Angels
Prostrate to him: A Brief Review
Is the spirit (Ruh) a physical entity, or pure essence? On this subject, there has been a difference of opinion among the learned since a long time. According to Ash-Shaykh ` Abd Al-Rauf Al-Munawi, there are upto a thousand positions taken by them. But, they are all based on conjectures. None of them can be called certain. Imam Al-Ghazali, Imam Razi and mystic scholars and thinkers maintain that it is no physical entity. It is pure essence. Imam Razi has advanced twelve arguments in support of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
20. Please compare this passage (Ayats 30-43) with (Surah Al-Baqarah, Ayats 30-39); (Surah An-Nisa, Ayats 117-120); and (Surah Al-Aaraf, Ayats 11-25) and also refer to E.Ns appended to these Ayats.
Read the full tafseer →