Explained with ayahs 28–33
ابلیس لعین کا انکار
اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ حضرت آدم ؑ کی پیدائش سے پہلے ان کی پیدائش کا ذکر اس نے فرشتوں میں کیا اور پیدائش کے بعد سجدہ کرایا۔ اس حکم کو سب نے تو مان لیا لیکن ابلیس لعین نے انکار کردیا اور کفر و حسد انکار وتکبر فخر و غرور کیا۔ صاف کہا کہ میں آگ کا بنایا ہوا یہ خاک کا بنایا ہوا۔ میں اس سے بہتر ہوں اس کے سامنے کیوں جھکوں ؟ تو نے اسے مجھ پر بزرگی دی لیکن میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ ابن جریر نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے۔ کہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ان سے فرمایا کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں، تم اسے سجدہ کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
سورة الْحِجْر 19
اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے اندر جو روح پھونکی گئی ہے وہ دراصل صفات الہٰی کا ایک عکس یا پرتو ہے۔ حیات، علم، قدرت، ارادہ، اختیار اور دوسری جتنی صفات انسان میں پائی جاتی ہیں، جن کے مجموعہ کا نام روح ہے، یہ دراصل اللہ تعالیٰ ہی کی صفات کا ایک ہلکا سا پرتو ہے جو اس کا لبد خاکی پر ڈالا گیا ہے، اور اسی پرتو کی وجہ سے انسان زمین پر خدا کا خلیفہ اور ملائکہ سمیت تمام موجودات ارضی کا مسجود قرار پایا ہے۔
یوں تو ہر صفت جو مخلوقات میں پائی جاتی ہے، اس کا مصدر و منبع اللہ تعالیٰ ہی کی کوئی نہ کوئی صفت ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ جَعَلَ اللہْ الرَّحْمَۃَ مِأَ ۃَ جُزْءٍ فَاَمْسَکَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
معارف و مسائل
بدن انسانی میں نفخ روح اور اس کو مسجود ملائکہ بنانے کی مختصر تحقیق
روح کوئی جسم ہے یا جوہر مجرد اس میں علماء وحکماء کا اختلاف قدیم زمانے سے چلا آتا ہے شیخ عبد الرءوف منادی نے فرمایا کہ اس میں حکماء کے اقوال ایک ہزار تک پہنچنے ہیں مگر سب قیاسات اور تخمینے ہی ہیں کسی کو یقینی نہیں کہا جاسکتا امام غزالی، امام رازی اور عموما صوفیہ اور فلاسفہ کا قول یہ ہے کہ وہ جسم نہیں بلکہ جوہر مجرد ہے امام رازی نے اس کے بارہ دلائل پیش کئے ہیں
مگر جمہور علماء امت روح کو ایک جسم لطیف قرار دیتے ہیں نفخ کے معنی پھونک مارنے کے ہیں اگر بقول جمہور روح کو جسم لطیف قرار دیا جائے تو اس کو پھونکنا ظاہر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
تفسیر آیات 28 تا 29: وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ (28) فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ (29)
اب وہ اصل مضمون بیان ہو رہا ہے جس کی تمہید کے طور پر اوپر والی بات بیان ہوئی ہے۔ ہم آدم و ابلیس کے اس ماجرے پر بقرہ آیات 33 تا 38 اور اعراف آیات 11 تا 25 کے تحت پوری وضاحت کے ساتھ بحث کرچکے ہیں۔ یہاں اس کے اعادے میں طوالت ہوگی۔ البتہ ان امور کی طرف ہم یہاں بھی اشارہ کریں گے جو سلسلہ کلام کو سمجھنے کے لیے ضروری ہیں۔
انسانی شرف کی بنیاد : ان آیات سے ایک بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
29۔ 1 سجدے کا یہ حکم بطور تعظیم کے تھا، عبادت کے طور پر نہیں، اور یہ چونکہ اللہ کا حکم تھا، اس لئے اس کے وجوب میں کوئی شک نہیں۔ تاہم شریعت محمدیہ میں بطور تعظیم بھی کسی کے لئے سجدہ کرنا جائز نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–38
14: شیطان نے مہلت تو روز حشر تک کے لئے مانگی تھی ؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے بجائے ایک اور معین وقت تک کے لئے اسے مہلت دی، اکثر مفسرین کے مطابق وہ پہلے صور کے پھونکنے تک ہے جس کے بعد ساری مخلوقات کو موت آئے گی، اس وقت شیطان کو بھی موت آجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا :
آیت نمبر 28 تا 29
چناچہ فرشتوں نے ایسا ہی کیا جس طرح اللہ نے حکم دیا تھا۔ اور اللہ نے چونکہ انسان کی تخلیق کا ارادہ کرلیا تھا اس لیے انسان مطلوبہ ارادہ کرتے ہی تخلیق ہوگیا۔ سوال یہ ہے کہ اللہ کی روح جو اس فانی جسد خاکی میں پھونکی گئی اور جو لافانی چیز ہے وہ کس طرح اس جسد خاکی کے ساتھ آمیختہ ہوگئی ، جو فانی چیز ہے۔ ایک مومن تو ایسے سوالات نہیں کرتا کیونکہ اس موضوع پر یہ مباحثہ و مذاکرہ ایک عبث کوشش ہے۔ بلکہ اس قسم کے مباحث میں جدل وجدال کرنا محض تضیع اوقات ہوتا ہے ۔ ان موضوعات پر کلام کر کے ہم عقل کو ایک ایسے دائرے میں داخل کرتے ہیں جس میں اس کے اسباب ادراک اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
3 یعنی آدم کا پتلا ٹھیک کرکے اس قابل کردوں کہ روح انسانی فائض کی جاسکے پھر اس میں جان ڈال دوں جس سے ایک جماد انسان بن جاتا ہے، اس وقت تم کو حکم دیا جاتا ہے کہ سب سجدہ میں گر پڑو (تنبیہ) " روح " (جان) کی اضافت جو اپنی طرف کی، یہ محض تشریف و تکریم اور روح انسانی کا امتیاز ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ یعنی وہ خاص " جان " جس میں نمونہ ہے میری صفات (علم و تدبیر وغیرہ) کا، اور جو اصل فطرت سے مجھے یاد کرنے والی اور بسبب خصوصی لطافت کے مجھ سے نسبتہً قریبی علاقہ رکھنے والی ہے۔ امام غزالی (رح) نے دوسرے عنوان سے اس اضافت پر روشنی ڈالی ہے فرماتے ہیں اگر آفتاب کو قوت گویائی مل جائے اور وہ کہے کہ میں نے اپنے نور…
Read the full tafseer →آیت 29 فَاِذَا سَوَّيْتُهٗ
کسی بھی تخلیق کے بعد اس کا تسویہ ضروری ہوتا ہے۔ پہلے بنیادی ڈھانچہ بنایا جاتا ہے اور پھر اس کی نوک پلک سنواری جاتی ہے۔ جیسے ایک عمارت کا ڈھانچہ کھڑا کرنے کے بعد اس کی آرائش و زیبائش کی جاتی ہے اور رنگ و روغن کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–37
9 1 فرشتوں کو آدم کو سجدہ کرنے کا حکم :۔ جب انسان کا پتلا تیار ہوگیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میں کھنکھناتی مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے لگا ہوں۔ جب میں اس کی نوک پلک درست کرکے اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں تو تم اسی وقت اس کے سامنے سجدہ میں گرپڑنا روح پھونکنے سے مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا ہلکا سا پر تو انسان میں پیدا ہوجائے اور انسان کو جو دوسری تمام جانداروں سے زیادہ عقل وتمیز، قوت ارادہ و اختیار، مختلف اشیاء کے خواص معلوم کرنے کا علم نیز غور و فکر کے ذریعہ استنباط یا تنائج حاصل کرنے کا علم دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ اسی نفخہ کا نتیجہ ہے اور اسی بنا پر انسان زمین…
Read the full tafseer →26۔ (اس کی تعظیم و تکریم کے لئے) (آیت) ” سویتہ “۔ میں ضمیر مذکر واحد غائب بشر کے اسی خاکی پتلے کی طرف ہے۔ (آیت) ” من روحی “۔ اللہ کا روح انسانی کی اضافت اپنی جانب کرنا، اس کے اظہار قدر ومنزلت کے لئے ہے۔ انما اضاف اللہ سبحانہ روح ادم الی نفسہ تشریفا لہ وتکریما (کبیر) اور اسی نفخ روح کا شاید نتیجہ ہے کہ روح انسانی میں خلافت الہی کی استعداد پیدا ہوگئی ہے۔ (آیت) ” نفخت “۔ مفسر تھانوی (رح) نے کہا ہے کہ روح انسانی اگر جسم لطیف ہو، جیسا کہ عموما متکلمین کا قول ہے، جب تو نفخ کے حقیقی ہی معنی مراد ہوں گے، یعنی جسم کے جن حصوں میں خلا ہو ان میں ہوا بھر نا۔ لیکن اسے غیر مادی جو ہر مجرد تسلیم کیا جائے، تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
آیت نمبر 26 تا 44
ترجمہ : بیشک ہم نے انسان (یعنی) آدم کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا یعنی ایسی خشک مٹی جب اس کو نجایا جائے تو اس کی آواز سنی جائے اور اس سے پہلے (یعنی) تخلیق آدم سے پہلے ہم نے جنات (یعنی) ابو الجن کو کہ وہ ابلیس ہے شعلے سے کہ جس میں دھواں نہ ہو اور وہ مسامات (یعنی بدن کے مسامات) میں نفوذ کر جائے پیدا کیا اور اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں انسان کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناے والی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں تو جب میں اس کو مکمل کر چکوں اور اس میں اپنی روح ڈال چکوں اور وہ زندہ ہوجائے اور روح کی نسبت اللہ کی طرف آدم کیلئے کرامت کے طور پر…
Read the full tafseer →فاذا سویتہ ونفخت فیہ من روحی سب جب میں اس کو پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی طرف سے جان ڈال دوں۔ نفخ کا معنی ہے : کسی کھوکھلی چیز میں ہوا کو گذارنا (منہ سے یا کسی اور طریقہ سے۔ مترجم) روح کی دو قسمیں ہیں : علوی اور سفلی۔ روح علوی ایک خاص مخلوق ہے جو مادہ سے خالی ہے (غیر مادی ہے) نظر کشف سے اس کو دیکھا جاسکتا ہے۔ چونکہ عرش سے بھی زیادہ لطیف ہے ‘ اسلئے اس کا مقام عرش کے اوپر ہے۔ فوقانی و تحتانی مراتب کے لحاظ سے ہم کہتے ہیں کہ ارواح علویہ پانچ ہوتی ہیں : قلب ‘ روح ‘ سر ‘ خفی ‘ اخفیٰ ۔ انہی کو عالم امر کے لطائف (خمسہ) کہا جاتا ہے۔ روح سفلی اس بخار لطیف کو کہتے ہیں جو ان چاروں عناصر سے پیدا ہوتا ہے…
Read the full tafseer →(29) سو جب میں اس کو پورا یعنی اس کے ہاتھوں پیروں، آنکھوں وغیرہ کو بنالوں اور اس میں اپنی طرف سے جان ڈال دوں، سو تم سب اس کو سجدہ تحیہ کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
فَاِذَا سَوَّيْتُهٗ۔۔ : یعنی جب میں اسے برابر کرلوں، مکمل بنا لوں۔ ”مِنْ رُّوْحِيْ“ اور اس میں اپنی روح سے پھونک دوں۔ یہاں ”رُّوْحِيْ“ میں ”رُوْحٌ“ کی ”یاء“ کی طرف اضافت، اضافت تشریفی کہلاتی ہے، یعنی اس کا عزو شرف بڑھانے کے لیے اسے اپنی روح قرار دیا، یہاں ”میری روح“ سے مراد اللہ تعالیٰ کی مخلوق روح ہے، کیونکہ اس کی ذات کی مثل تو کوئی چیز نہیں، وہ ”ۚلَمْ يَلِدْ ڏ وَلَمْ يُوْلَدْ“ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کی ذاتی روح تو کسی صورت مراد نہیں ہوسکتی، صرف آدم ہی نہیں دوسری جگہ ہر انسان کی روح کو اللہ نے اپنی روح قرار دیا ہے، فرمایا : (ثُمَّ سَوّٰىهُ وَنَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ) [ دیکھیے السجدۃ : 7…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
آیت نمبر 28 تا 29
قولہ تعالیٰ : واذ قال ربک للملئکۃ اس کا ذکر سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ انی خالق بشرا من صلصال بیشک میں بجنے والی مٹی سے بشر کو پیدا کرنے والا ہوں فاذا سویتہ پس جب میں اس کی خلقت اور اس کی صورت درست فرما دوں۔ ونفخت فیہ من روحی، النفخ کا معنی کسی شی میں ہوا کو جاری کرنا ہے۔ اور الروح یہ لطیف جسم ہے، اور اللہ تعالیٰ کی عادت جاریہ یہ ہے کہ وہ اس جسم کے ساتھ بدن میں حیاے پیدا فرماتا ہے۔ اور اس کی حقیقت خلق کی نسبت خالق کی طرف کرنا ہے پس روح اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے جس کی اضافت تشریف و تکریم کے لئے اس نے اپنی طرف کی ہے۔ جیسا کہ ان ارشادات میں اضافت تشریف کے لئے ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–35
1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کہ جان جنوں کی مسخ شدہ صورت ہے جیسے بندر اور خنزیر انسانوں کی مسخ شدہ صورت ہے۔
2:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولجآن خلقنہ من قبل “ اور وہ ابلیس ہے جو آدم (علیہ السلام) سے پہلے پیدا کیا گیا۔
3:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابلیس فرشتوں کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے جن کو جن کہا جاتا ہے وہ فرشتوں میں سے ایسی آگ سے پیدا کئے گئے تھے جس میں دھواں نہیں ہے اور وہ جنات جن کا قرآن میں ذکر کیا گیا وہ آگ کے شعلہ سے پیدا کئے گئے تھے۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا…
Read the full tafseer →[فَاِذَا : پھر جب ] [ سَوَّيْتُهٗ : میں نوک پلک درست کرلوں اس کی ] [ وَنَفَخْتُ : اور میں پھونک دوں ] [ فِيْهِ : اس میں ] [ مِنْ رُّوْحِيْ : اپنی روح میں سے ] [ فَقَعُوْا : تو تم لوگ گرپڑنا ] [ لَهٗ : اس کے لئے ] [ سٰجِدِيْنَ : سجدہ کرنے والے ہوتے ہوئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
انسان اور جنات کی تخلیق، ابلیس کو سجدہ کرنے کا حکم اور اس کی نافرمانی اور ملعونیت، بنی آدم کو ورغلانے کے لیے اس کا قسم کھانا اور لمبی عمر کی درخواست کرنا، مخلصین کے بہکانے سے عاجزی کا اقرار، ابلیس کا اتباع کرنے والوں کے لیے داخلہ دوزخ کا اعلان
ان آیات میں انسان اور جنات کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا اور یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک بشر کو پیدا فرمانے والا ہوں جب میں اسے پوری طرح بنا دوں اور اس میں روح پھونک دوں تو تم سب اس کے لیے سجدہ میں گرپڑنا، چناچہ جب اس بشر کی تخلیق ہوگئی اور روح پھونک دی گئی جس کے پیدا فرمانے کا پہلے سے اعلان فرمایا تھا تو تمام فرشتے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
ذکر پیدائش انس و جن و قصہ پیدائش آدم (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ : ولقد خلقنا الانسان من صلصال .... الیٰ .... لکل باب منھم جزء مقسوم۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں حق جل شانہ نے حیوانات کی پیدائش سے اپنی قدرت اور خالقیت کا ذکر فرمایا اب یہاں جن و انس سے اسی مقصود پر استدلال فرماتے ہیں اور جان سے مراد یہاں جنوں کا باپ ہے جس طرح اوپر کی آیتوں میں انسان سے تمام انسانوں کے باپ مراد ہیں دونوں میں فرق یہ ہے کہ آدمیوں کا باپ، ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ترابی غالب تھا اور جنوں کا باپ ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ناری کا غلبہ تھا۔ ابلیس اسی قسم میں سے تھا اللہ تعالیٰ نے ان دو مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
13:۔ اس قصہ سے آدم اور اولاد آدم (علیہ السلام) سے ابلیس اور اس کی ذریت کی پرانی دشمنی کو بیان کرنا مقصود ہے تاکہ اولاد آدم ان کو اپنا دشمن سمجھیں اور ان کے بہکانے اور ورغلانے میں نہ آسکیں یہ قصہ آگے بھی جہاں کہیں مذکور ہوگا اس سے یہی مقصود ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا میں آدم کو مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں جب میں اس کے جسمانی نقوش اور اس کے اعضاء کو مکمل کرلوں اور اس میں جان ڈال دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجانا۔ روح اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے جو بدن کی حیات کا سبب عادی ہے، روح کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف اظہار شرف کے لیے ہے۔ والروح جسم لطیف اجری اللہ العادۃ بان یخلق الحیوۃ فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کے دلائل بیان ہوئے ، پہلے بیرونی دلائل کا ذکر ہوا جن میں آسمانوں کی تخلیق ، اس میں ستاروں اور سیاروں کو چلانا ، پھر زمین کو پھیلانا اور اس میں طرح طرح کی چیزیں پیدا کرنا ، پھر زمین وآسمان کے درمیان فضاؤں میں ہواؤں کو چلانا ، بادلوں کو اٹھانا ، باران رحمت کا نزول ، انسانوں ، جانوروں اور نباتات کے لیے پانی کی بہم رسانی اور اس کے نتیجے میں خوراک کا مہیا کرنا وغیرہ بیرونی دلائل تھے ، اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے قیامت کا ذکر بھی فرمایا (آیت) ” ان ربک ھو یحشرھم “۔ تیرا پروردگار ان سب کو اس دن اکٹھا کریگا وہ انسان کو دوبارہ زندہ کرنے پر…
Read the full tafseer →فَاِذَا سَوَّيْتُهٗ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِيْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِيْنَ 29
سوا
الْمُسَاوَاةُ : المعادلة المعتبرة بالذّرع والوزن، والکيل،
وتَسْوِيَةُ الشیء : جعله سواء، إمّا في الرّفعة، أو في الضّعة، وقوله : الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ [ الانفطار/ 7] ، أي : جعل خلقتک علی ما اقتضت الحکمة، وقوله :
وَنَفْسٍ وَما سَوَّاها [ الشمس/ 7] ، فإشارة إلى القوی التي جعلها مقوّمة للنّفس، فنسب الفعل إليها، وکذا قوله : فَإِذا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي [ الحجر/ 29] ،
( س و ی ) المسا واۃ
کے معنی وزن کیل یا مسا حت کے لحاظ سے دو چیزوں کے ایک دوسرے کے برابر ہونے کے ہیں
التسویۃ کے معنی کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–44
جان کی تعریف و تفسیر، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جان سب جنون کے باپ کا نام ہے اور یہی قول اکثر مفسرین کا ہے اور یہی ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے گو بعض نے جان سے مراد ابلیس لیا ہے جان کے معنی لغت میں ساتر یعنی چھپنے (چھپانے) والے کے ہیں کہتے ہیں جن الشیٔ اذاسترہ چونکہ آدم ( علیہ السلام) کے خلاف اس کا غالب مادہ آگ کا لطیف شعلہ ہے اس لیے یہ قوم محسوس نہیں ہوتی ہر ایک کو دکھلائی نہیں دیتی اور اس لیے اس قوم کو جن اور اس کے باپ کو جان کہتے ہیں۔
خدائے تعالیٰ لطیف وخبیر نے اول ملائکہ کو بنایا، ان کے بعد جن کی قوم کو جن کا مادہ ملائکہ سے ذرا قریب تر تھا، پھر انسان کو جس کا مادہ کثیف ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ دیگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
وَاِذْقَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ خَالِقٌ م بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّن حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ۔ فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہٗ سٰجِدِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 28۔ 29)
(اور اس وقت کو یاد کرو جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں سڑے ہوئے گارے کی کھنکناتی ہوئی مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں۔ تو جب میں اس کو مکمل کرلوں اور اس میں اپنی روح میں سے پھونک لوں تو تم اس کے لیے سجدے میں گرپڑنا۔ )
فرشتوں سے سجدہ کرانے کا مقصد اور سجدہ کا مفہوم
ملائکہ یعنی فرشتے چونکہ کائنات کا نظام چلا رہے ہیں اور پروردگار نے مختلف ذمہ داریوں پر انھیں فائز کر رکھا ہے۔ وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
فہم القرآن
ربط کلام : تخلیق آدم کے بارے میں مختصر اشارہ کرنے کے بعد اس کے اعزاز کا تذکرہ۔
قرآن مجید کا یہ بھی اسلوب ہے کہ وہ کسی واقعہ کو کہانی اور زیب داستان کے لیے بیان نہیں کرتا۔ بلکہ ہر بات کو موقع محل کے مطابق اور مؤثر نصیحت کے طور پر بیان کرتا ہے۔ اثر آفرینی کے لیے کسی بات کا دوبارہ ذکر کرنا مقصود ہو تو اس کا انداز اور الفاظ پہلے بیان سے مختلف ہوتے ہیں۔ تاکہ پڑھنے والے کو نئے انداز کے ساتھ اس کی راہنمائی کے لیے نئی دلیل پیش کی جائے۔ اسی اصول کے پیش نظر حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کا یوں بیان فرمایا ہے کہ اے انسان ! جب تیرے رب نے ملائکہ کو حکم دیا کہ یقیناً میں بدبودار اور کھنکھناتی…
Read the full tafseer →29: فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ (پس جب میں اس کو پورا بنادوں) اسکی خلقت کو پورا کر دوں اور ہیئت کو صحیح کردوں تاکہ اس میں روح پھونکی جائے۔ ونَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ (اور اس میں اپنی طرف سے روح ڈال دوں) اس میں روح ڈال کر زندہ کردوں۔ اس جگہ نفخ نہیں بلکہ تمثیل ہے اور اضافت اضافت ِتخصیص ہے۔ فَقَعُوْالَہٗ سٰجِدِیْنَ (تم اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجانا) یہ وقع یقع سے امر ہے ای اسقطوا علی الارض یعنی اسجدوالہ اس کو سجدہ کرو اور فاء کو جواب اذا ہونے کی وجہ سے داخل کیا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امر کا فعل کے وقت سے پہلے ہونا جائز ہے۔
Read the full tafseer →29۔” فاذا سویتہ “ جب میں اس کو پورا بنا لوں اور جان ڈال لوں ۔ ” فنفخت فیہ من روحی “ تو وہ زندہ انسان بن جائے ، روح وہ جسم لطیف ہے جس سے انسان زندہ ہوتا ہے ، روح کی اضافت اپنی تشریف کے لیے کی ۔ ” فقعوالہ سجدین “ اس سے مراد تحیہ والا سجدہ مراد ہے، عبادت والا سجدہ مراد نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
28۔ 33۔ اللہ پاک نے انسان کی پیدائش کا ذکر کرنے کے بعد جو جو باتیں اس کے پیدا کرنے کے وقت پیش آئی تھیں ان کا ذکر فرمایا کہ بھلے فرشتوں کو جمع کر کے اللہ تعالیٰ نے یہ بات کہی کہ میرا ارادہ ہے کہ مٹی سے انسان کو پیدا کروں اور جب آدم کا پتلہ بنالوں اور اس کے بدن میں روح پھونک دوں تو تم سب کے سب اسے سجدہ کرنا اس حکم کو سن کر فرشتوں نے جو جواب دیا اس کا قصہ سورت بقرہ میں مفصل گزر چکا ہے غرض کہ کل فرشتوں نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا مگر ابلیس جو جنات کی قوم میں سے تھا اور خدا کی عبادت کثرت کے ساتھ کرنے سے فرشتوں کے زمرہ میں داخل کرلیا گیا تھا اس نے آدم کے پتلے کو تعظیمی سجدہ کرنے سے انکار کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–44
آیت 26
اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے باپ حضرت آدم پر اپنی نعمت اور اپنے احسان کا ذکر کرت ا ہے، حضرت آدم کا اپنے دشمن ابلیس کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کو بھی بیان کرتا ہے اور اس ضمن میں ہمیں ابلیس کے شر اور فتنہ سے ڈراتا ہے، چناچہ فرمایا : (ولقد خلقنا الانسان) ” ہم نے انسان کو پیدا کیا۔ “ یعنی آدم کو پیدا کیا (من صلصال من حما مسنون) ” کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے “ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہوجاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔
(الحما المسنون) اس گارے کو کہتے ہیں، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں۔ (والجآن) ” اور جنوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–32
27۔ اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ وذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ایک برابر اور خوب جانتے ہیں آگے بڑھنے والوں کو بھی اور پیچھے رہنے والوں کو بھی وجود وموت کے اعتبار سے۔ نیز نماز کی صف اول میں اور صف جہاد میں آگے بڑھنے اور پیچھے رہ جانے والوں کو وغیرہ وغیرہ، مختلف اقوال ہیں اور یہ سب ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ ان میں کوئی تعارض نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا علم ان سب ہی مفاہیم ومطالب کو شامل اور عام ہے۔ الفاظ کا عموم بھی ان سب کو شامل ہے اور یہی بات دراصل یہاں بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر لحاظ سے کامل اور اس کی سب ہی مخلوق کو شامل ہے۔ کوئی بھی چیز اس کے علم کے باہر نہیں ہوتی (ابن جریر، ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
انسان کی پیدائش اور ابلیس کی نافرمانی
تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا قصہ اور شیطان کا ملعون ہونا سورة بقرہ رکوع 4، سورة نساء رکوع 18 اور سورة اعراف رکوع 2 میں بڑی وضاحت سے بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں سورة الحجر میں کیونکہ ان آیات سے پہلے تمام کائنات اور ہر چیز کے ناپ تول کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے یہاں انسان کی پیدائش، جسم، نفس، روح اور زندگی کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب بھی اللہ نے بڑے حساب کتاب اور ناپ تول سے بنائے ہیں۔ یہاں وہ تمام راز کھول کر بیان کردیے گئے ہیں جو انسانی سائنسی تحقیقات سے بہت بلند ہیں۔ پچھلی آیات سے جو کچھ معلوم ہوا وہ تو تمام تخلیقات کے بارے میں تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
خود انسان کو بھی تو ہم نے ہی پیدا کیا سڑے ہوئے مٹی گارے سے جو خشک ہوچکا تھا ۔
(جنات کو پہلے پیدا کیا گیا)
قبل ازیں ہم جنات کو آگ کی لو سے پیدا کرچکے تھے یعنی آگ کی وہ تپش جو ایک گرم ہوا کی صورت میں تھی کہ آگ کا نظر آنا اجزائے کثیفہ کی ملاوٹ سے ہوتا ہے ورنہ وہ بہت لطیف ہوتی ہے تو گویا جنات کا وجود اسی سے پیدا ہوا جو نظر نہیں آتا ، اور جنات پہلے سے زمین پر آباد کئے گئے تھے ،۔
پھر وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب آپ کے رب نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میں کھنکتے اور سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر تخلیق کر رہا ہوں جب وہ بن چکے اور میں اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب کے سب اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
ف 1 ۔ اولا ً انسان کی تخلیق کو بطور دلیل ذکر فرمایا۔ اب اس کے بعد اس کا قصہ ذکر فرمادیا۔ (رازی) یہاں آدم میں جو روح پھونکی گئی اس کی ” روحی “ فرما کر اپنی طرف نسبت کیا ہے تو یہ نسبت صرف تشریف و تکریم اور انسانی روح کا امتیاز ظاہر کرنے کے لئے ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح حضرت صالح کیا انٹنی کو ” ناقہ اللہ “ اور خانہ کعبہ کو ” بیت اللہ “ کہا گیا۔ (کذافی الشوکانی) ۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : ” اپنی جان “ یعنی خاص جس میں نمونہ ہے اللہ تعالیٰ کی صفات کا، علم اور تدبیر اور یاد حق کی اور لگائو اللہ سے۔ (از موضح) ۔
Read the full tafseer →(15:29) سویتہ۔ سویت۔ ماضی واحد متکلم ۔ تسویۃ (تفعیل) سے ہُ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ میں نے اس کو پورا پورا بنادیا۔ میں اس کو پورا پورا بنا دوں (ماضی بمعنی مستقبل) سوی مادہ۔
نفخت۔ ماضی واحد متکلم نفخ سے (باب نصر) جب میں پھونک دوں۔ ماضی بمعنی مستقبل ۔
قعوا۔ امر جمع مذکر حاصر وقوع مصدر (دقع ثلاثی مجرد مثال وادی) باب فتح۔ وقع یقع سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر قع ہوگا۔ قاعدہ : اگر علامت مضارع کا مابعد متحرک ہے تو آخر کو جزم دے دیں گے جیسے وھب یھب سے ھب۔ ربنا ھب لنا من الدنک رحمۃ) قع امرو احد مذکر حاضر سے جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہوا قعوا گرپڑو۔ یعنی تم بلاتاخیر سجدے میں گر پڑو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 44
صلصال وہ مٹی جو سوکھ کر سخت ہوجائے اور بجنے لگے ۔ مسنون گوندھی گئی۔ السموم لو۔ نفخت میں نے پھونک دیا۔ پھونک ماردی، حما سڑی ہوئی مٹی، کیچڑ۔ جان جن۔ سویت میں نے برابر کردیا۔ ٹھیک کرلیا۔ روحی میری روح ، قعوا گرپڑو۔ ابی انکار کیا۔ ان یکون یہ کہ وہ ہو۔ مالک تجھے کیا ہوا۔ لم اکن میں نہیں ہوں بشر انسان۔ اخرج نکل جا۔ لعنت لنت، اللہ کی رحمت سے دوری۔ انظرنی تو مجھے مہلت دیدے۔ یبعثون (اٹھائے جائیں گے) ۔ اغویت (اغوائ) تو نے سیدھی راہ سے ہٹا دیا ۔ سلطن قوت، زور الغوین بہکنے والے۔ موعد وعدہ کی جگہ۔ سبعۃ ابواب سات دروازے۔ جزاء حصہ۔ مقسوم تقسیم کیا گیا۔
تشریح : آیت نمبر 26 تا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
ملائکہ کو سجدہ کا حکم
ارشاد ہوتا ہے کہ اس وقت کا تصور کرو جب ہم نے ملائکہ کو خبر دی کہ ہم ایک بشر کو مٹی سے خمیر دے کر پیدا کرنے والے ہیں، پس جب میں اسے بناچکوں اور روح بھی اس میں ڈال دوں تو تم سب کے سب تعظیم کے لئے اس کے آگے جھک جانا۔ فرشتوں نے تو ایسا ہی کیا یعنی سب نے مل کر سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہیں کیا اور سجدہ کرنے سے انکار کیا اور مادہ خاکی پر لحاظ کر کے آدم (علیہ السلام) کو حقیر سمجھا۔ یہاں سے یہ بات معلوم ہوئی کہ غرور کی ابتداء اسی لعین سے ہوئی اس سے پہلے نہیں تھی۔ پس جو غرور کرتا ہے وہ شیطان کا تابع ہے خواہ کسی بات کا غرور ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے جو تو نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–38
[14] انسان کے اندر جو روح پھونکی گئی ہے وہ دراصل صفات الٰہی کا ایک عکس یا پرتو ہے اور اس پرتو کی وجہ سے انسان زمین پر اللہ کا خلیفہ قرار پایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
جنوں کا وجود :
(ف 2)
جنوں کی پیدائش آدم سے پہلے ہے انکی فطرت اجزائے ناریہ سے ہے اسلئے یہ انسان سے زیادہ لطیف اور سبک ہوتے ہیں گویہ نظر نہیں آتے ، مگر ان کے وجود سے انکار نہیں کیا جاسکتا ؟
آج نئے تجربوں نے ہی ثابت کردیا ہے کہ کچھ لطیف اجسام ایسے ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتے مگر ہو ہماری طرح ایک خاص قسم کے زندگی رکھتے ہیں ، ان کے اجسام ہیں ، ان کی خاص شکلیں ہیں ان کے اپنے مخصوص مشاغل ہیں ۔
یورپ میں بعض ایسی علمی مجلسیں ہیں جنہوں نے برسوں کی تحقیقات کے بعد یہ ثابت کیا ہے جنات کا انکار واقعات کا انکار کرنا ہے ، آج سے نصف صدی پیشتر ان کا انکار روشن خیالی میں داخل تھا کہ آج مفتی کہہ رہا ہے جنوں کا وجود…
Read the full tafseer →29 ۔ پھر جب میں اس کو درست کر دوں اور اس کے اعضاء جسمانیہ کو ایک تناسب کے ساتھ پورا کر دوں اور اس پتلے میں اپنی طرف سے روح پھونک دوں اور اس پر روح کا فیضان کر دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گرپڑنا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اپنی جان یعنی خاص جس میں نمونہ ہے اللہ کی صفات کا علم اور تدبیر اور راہ حق کی اور اللہ سے لگائو۔ 12
خلاصہ ! یہ کہ جب اس کو ہم تسویہ اعضاء اور نفح روح سے مکمل کردیں تب اس کے روبرو سجدے میں دفع ہوجانا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
ف 5۔ یعنی آدم (علیہ السلام) کے قبل۔
Read the full tafseer →جب میں اس کو درست کر دوں تو تم اس کیلئے سربسجود ہوجانا :
29۔ تخلیق انسانی کے متعلق بہت کچھ بیان کیا گیا ہے ہم نے اس کے متعلق پوری تفصیل سورة البقرہ میں بیان کردی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں ، روح کیا ہے ؟ قرآن کریم نے اس کے متعلق دوسری جگہ وضاحت فرما دی کہ یہ احاطہ عقل انسانی سے ماوراء چیز ہے اس لئے اس کا آسان اور جامع جواب یہی ہے کہ وہ امر الہی ہے ، اللہ کا روح انسانی کی اضافت اپنی جانب کرنا اس کے اظہار قدرومنزلت کے لئے ہے اور اس نفخ روح کا نتیجہ ہے کہ روح انسانی میں خلافت الہی کی استعداد پیدا ہوگئی ہے ، اس کی کیفیت وماہیت پر مفسرین نے بڑے عجیب عجیب مناظر پیش کئے ہیں ممکن ہے کہ ان کو کوئی الہام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
Commentary
Blowing of Spirit into the Human Body and Making Angels
Prostrate to him: A Brief Review
Is the spirit (Ruh) a physical entity, or pure essence? On this subject, there has been a difference of opinion among the learned since a long time. According to Ash-Shaykh ` Abd Al-Rauf Al-Munawi, there are upto a thousand positions taken by them. But, they are all based on conjectures. None of them can be called certain. Imam Al-Ghazali, Imam Razi and mystic scholars and thinkers maintain that it is no physical entity. It is pure essence. Imam Razi has advanced twelve arguments in support of…
Read the full tafseer →19.“And have breathed into him of My Spirit”means when I have cast a reflection of My divine characteristics on him. This shows that the soul of man implies life, knowledge, power, will, discretion and other human characteristics in the aggregate. These are in reality a slight reflection of divine characteristics that has been cast on the human body, which was originally created from dried clay. And it is this divine reflection on the human body which has raised him to the position of the vicegerent of Allah and made him that worthy being before whom angels and every earthly thing should bow…
Read the full tafseer →