Al-Hijr 15:28

Al-Hijr · from ayah 28

15:28

وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ۟وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰۤئِكَةِ اِنِّىۡ خَالـِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ‏

اور جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر بنانے والا ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [mention, O Muhammad], when your Lord said to the angels, "I will create a human being out of clay from an altered black mud.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 3 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:28

پھر یاد کرو اُس موقع کو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ "میں سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے ایک بشر پیدا کر رہا ہوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر بنانے والا ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک انسان کو کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کرنے واﻻ ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ وقت یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا تھا کہ : میں گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے ایک بشر کو پیدا کرنے والا ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں آدمی کو بنانے والا ہوں بجتی مٹی سے جو بدبودار سیاہ گارے سے ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (وہ واقعہ یاد کیجئے) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں سِن رسیدہ (اور) سیاہ بودار، بجنے والے گارے سے ایک بشری پیکر پیدا کرنے والا ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا بیشک میں ایک بشر ایک بجنے والی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں، جو بدبودار، سیاہ کیچڑ سے ہوگی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور (وہ وقت یاد کرو) جب آپ کے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں گلے سڑے گارے کی کھنکھناتی مٹی سے ایک انسان پیدا کرنے لگا ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یاد کرو جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں سڑے ہوئے گارے کی کھکھناتی ہوئی مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (وہ بھی یاد کرو کہ) جب تمہارے رب نے فرمایا فرشتوں سے کہ بیشک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان کو سڑے ہوئے گارے کی (ٹھیکرے کی طرح) بجتی مٹی سے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور (یاد کرو وہ وقت) جب آپ کے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں پیدا کرنے والا ہوں بشر لس دار گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یاد کرو جب کہا تھا آپ کے رب نے فرشتوں سے کہ میں بنانے والا ہوں ایک بشر کو سنے ہوئے گارے کی کھنکھناتی مٹی سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ ”میں سڑے ہوئے کھنکھناتے گارے سے ایک بشر بنانے والا ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Recall when your Lord said to the angels: "I will indeed bring into being a human being out of dry ringing clay wrought from black mud.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Recall when your Lord said to the angels, :I am going to create a human being from a ringing clay made of decayed mud.

— Muhammad Taqi Usmani

Recall when your Lord said to the angels, :I am going to create a human being from a ringing clay made of decayed mud.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And (remember) when your Lord said to the angels: "I am going to create a man (Adam) from dried (sounding) clay of altered mud. "

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And (remember) when thy Lord said unto the angels: Lo! I am creating a mortal out of potter's clay of black mud altered,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [mention, O Muhammad], when your Lord said to the angels, "I will create a human being out of clay from an altered black mud.

— Saheeh International

When your Lord said to the angels, "I will create the human being out of pure mud-moulded clay.

— Muhammad Sarwar

And when your Lord said to the angels: Surely I am going to create a mortal of the essence of black mud fashioned in shape.

— Muhammad Habib Shakir

And recall what time thy Lord said unto the angels: verily I am about to createa man from ringing clay of loam moulded.

— Abdul Majid Daryabadi

Behold! thy Lord said to the angels: "I am about to create man, from sounding clay from mud moulded into shape;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 28–33

ابلیس لعین کا انکار اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ حضرت آدم ؑ کی پیدائش سے پہلے ان کی پیدائش کا ذکر اس نے فرشتوں میں کیا اور پیدائش کے بعد سجدہ کرایا۔ اس حکم کو سب نے تو مان لیا لیکن ابلیس لعین نے انکار کردیا اور کفر و حسد انکار وتکبر فخر و غرور کیا۔ صاف کہا کہ میں آگ کا بنایا ہوا یہ خاک کا بنایا ہوا۔ میں اس سے بہتر ہوں اس کے سامنے کیوں جھکوں ؟ تو نے اسے مجھ پر بزرگی دی لیکن میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ ابن جریر نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے۔ کہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ان سے فرمایا کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں، تم اسے سجدہ کرنا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 27–28

سورة الْحِجْر 18 سموم گرم ہوا کو کہتے ہیں، اور نار کو سموم کی طرف نسبت دینے کی صورت میں اس کے معنی آگ کے بجائے تیز حرارت کے ہوجاتے ہیں۔ اس سے ان مقامات کی تشریح ہوجاتی ہے جہاں قرآن مجید میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جن آگ سے پیدا کیے گئے ہیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو، الرحمٰن، حواشی 14 تا 16)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–28

خلاصہ تفسیر اور ہم نے انسان کو (یعنی اس نوع کی اصل اول آدم ؑ کو) بجتی ہوئی مٹی سے جو کہ سڑے ہوئے گارے کی بنی ہوئی تھی پیدا کیا (یعنی اول گاڑے کو خوب خمیر کیا کہ اس میں بو آنے لگی پھر وہ خشک ہوگیا کہ وہ خشک ہونے سے کھن کھن بولنے لگا جیسا مٹی کے برتن چٹکی مارنے سے بجا کرتے ہیں پھر اس خشک گارے سے آدم کا پتلا بنایا جو بڑی قدرت کی علامت ہے) اور جن کو (یعنی اس نوع کی اصل ابو الجان کو) اس کے قبل (یعنی آدم ؑ کے قبل) آگ سے کہ وہ (غایت لطافت کی وجہ سے) ایک گرم ہوا تھی پیدا کرچکے تھے مطلب یہ کہ چونکہ اس آگ میں اجزائے دخانیہ نہ تھے اس لئے وہ مثل ہوا کے نظر نہ آتی تھی کیونکہ آگ کا نظر آنا اجزائے کثیفہ کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 28–29

تفسیر آیات 28 تا 29: وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ (28) فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ (29) اب وہ اصل مضمون بیان ہو رہا ہے جس کی تمہید کے طور پر اوپر والی بات بیان ہوئی ہے۔ ہم آدم و ابلیس کے اس ماجرے پر بقرہ آیات 33 تا 38 اور اعراف آیات 11 تا 25 کے تحت پوری وضاحت کے ساتھ بحث کرچکے ہیں۔ یہاں اس کے اعادے میں طوالت ہوگی۔ البتہ ان امور کی طرف ہم یہاں بھی اشارہ کریں گے جو سلسلہ کلام کو سمجھنے کے لیے ضروری ہیں۔ انسانی شرف کی بنیاد : ان آیات سے ایک بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 27–28

27۔ 1 جِنّ کو جن اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔ سورة رحمٰن میں جنات کی تخلیق (مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ) 55۔ الرحمن :15) سے بتلائی گئی ہے اور صحیح مسلم کی ایک حدیث میں یہ کہا گیا اس اعتبار سے لو والی آگ یا آگ کے شعلے کا ایک ہی مطلب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–38

14: شیطان نے مہلت تو روز حشر تک کے لئے مانگی تھی ؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے بجائے ایک اور معین وقت تک کے لئے اسے مہلت دی، اکثر مفسرین کے مطابق وہ پہلے صور کے پھونکنے تک ہے جس کے بعد ساری مخلوقات کو موت آئے گی، اس وقت شیطان کو بھی موت آجائے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 28–29

اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا : آیت نمبر 28 تا 29 چناچہ فرشتوں نے ایسا ہی کیا جس طرح اللہ نے حکم دیا تھا۔ اور اللہ نے چونکہ انسان کی تخلیق کا ارادہ کرلیا تھا اس لیے انسان مطلوبہ ارادہ کرتے ہی تخلیق ہوگیا۔ سوال یہ ہے کہ اللہ کی روح جو اس فانی جسد خاکی میں پھونکی گئی اور جو لافانی چیز ہے وہ کس طرح اس جسد خاکی کے ساتھ آمیختہ ہوگئی ، جو فانی چیز ہے۔ ایک مومن تو ایسے سوالات نہیں کرتا کیونکہ اس موضوع پر یہ مباحثہ و مذاکرہ ایک عبث کوشش ہے۔ بلکہ اس قسم کے مباحث میں جدل وجدال کرنا محض تضیع اوقات ہوتا ہے ۔ ان موضوعات پر کلام کر کے ہم عقل کو ایک ایسے دائرے میں داخل کرتے ہیں جس میں اس کے اسباب ادراک اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 28–29

3 یعنی آدم کا پتلا ٹھیک کرکے اس قابل کردوں کہ روح انسانی فائض کی جاسکے پھر اس میں جان ڈال دوں جس سے ایک جماد انسان بن جاتا ہے، اس وقت تم کو حکم دیا جاتا ہے کہ سب سجدہ میں گر پڑو (تنبیہ) " روح " (جان) کی اضافت جو اپنی طرف کی، یہ محض تشریف و تکریم اور روح انسانی کا امتیاز ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ یعنی وہ خاص " جان " جس میں نمونہ ہے میری صفات (علم و تدبیر وغیرہ) کا، اور جو اصل فطرت سے مجھے یاد کرنے والی اور بسبب خصوصی لطافت کے مجھ سے نسبتہً قریبی علاقہ رکھنے والی ہے۔ امام غزالی (رح) نے دوسرے عنوان سے اس اضافت پر روشنی ڈالی ہے فرماتے ہیں اگر آفتاب کو قوت گویائی مل جائے اور وہ کہے کہ میں نے اپنے نور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 28 وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنِّىْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ یہاں پھر وہی ثقیل اصطلاح صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ استعمال ہوئی ہے۔ انسانی تخلیق کی ابتدا کے بارے میں ایک نکتہ یہ بھی لائقِ توجہ ہے کہ قرآن میں جہاں بھی تخلیق کے ان ابتدائی مراحل کا ذکر آیا ہے ‘ وہاں لفظ آدم استعمال نہیں ہوا ‘ بلکہ بشر اور انسان کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ پورے قرآن میں صرف سورة آل عمران کی آیت 59 ایسی ہے جہاں اس ابتدائی تخلیق کے ضمن میں آدم کا ذکر اس طرح آیا ہے : اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ ۭخَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 27–28

8 1 جنوں کی پیدائش آگ سے ہوئی :۔ جنوں کو ایسی آگ سے پیدا کیا گیا جس میں ہوا ملی ہوئی تھی۔ سموم بمعنی سخت گرم ہوا۔ یعنی اتنی گرم ہوا سے جو آگ جیسی گرم ہو اور ہر چیز کو جھلس کر رکھ دے۔ جس سے معلوم ہوا کہ جنوں کی پیدائش میں غالب عنصر آگ تھا۔ ابلیس اصل میں جنوں کی جنس سے تعلق رکھتا تھا۔ مگر اپنی ہمہ وقت عبادت گزاری کی وجہ سے فرشتوں کی صفوں میں شامل ہوگیا تھا۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے سورة بقرہ کا حاشیہ نمبر 53) جانّ اور جن کا لغوی مفہوم اور مراد :۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جس طرح آدمیوں یا انسانوں کے جد امجد کا نام آدم (علیہ السلام) ہے۔ اسی طرح جنوں کے جد امجد جانّ ہے۔ اور جن کا لغوی معنی کسی چیز کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

25۔ یہ خطاب جب ملائکہ نوری سے ہوا، جو اعلی مخلوق تھے، تو اس کے مخاطب جنات آتشیں تو بدرجہ اولی ہوئے، جو پست تر مخلوق تھے۔ سورة بقرہ رکوع 4 کے حاشیے ملاحظہ کرلئے جائیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 26–44

آیت نمبر 26 تا 44 ترجمہ : بیشک ہم نے انسان (یعنی) آدم کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا یعنی ایسی خشک مٹی جب اس کو نجایا جائے تو اس کی آواز سنی جائے اور اس سے پہلے (یعنی) تخلیق آدم سے پہلے ہم نے جنات (یعنی) ابو الجن کو کہ وہ ابلیس ہے شعلے سے کہ جس میں دھواں نہ ہو اور وہ مسامات (یعنی بدن کے مسامات) میں نفوذ کر جائے پیدا کیا اور اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں انسان کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناے والی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں تو جب میں اس کو مکمل کر چکوں اور اس میں اپنی روح ڈال چکوں اور وہ زندہ ہوجائے اور روح کی نسبت اللہ کی طرف آدم کیلئے کرامت کے طور پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذ قال ریک للملئکۃ انی خالق بشرا من صلصال من حما مسنون : اور جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں آئندہ ایک بشر کو بجتی ہوئی مٹی سے جو سڑے ہوئے گارے سے بنی ہوگی ‘ پیدا کرنے والا ہوں ‘

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(28) اور وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں سے کہا جو کہ زمین پر تھے اور تقریبا وہ دس ہزار تھے کہ میں ایک بشر کو بجتی ہوئی مٹی سے جو کہ سڑے ہوئے گاڑے کی بنی ہوگی پیدا کرنے والا ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنِّىْ خَالِقٌ۔۔ : اولاً انسان کی تخلیق کو بطور دلیل ذکر فرمایا، اب اس کے بعد اس کا قصہ ذکر فرمایا۔ (رازی) ”وَاِذْ قَالَ“ سے پہلے ”اُذْکُرْ“ مقدر مانتے ہیں کہ اے مخاطب عاقل ! وہ وقت یاد کر جب۔۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 28–29

آیت نمبر 28 تا 29 قولہ تعالیٰ : واذ قال ربک للملئکۃ اس کا ذکر سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ انی خالق بشرا من صلصال بیشک میں بجنے والی مٹی سے بشر کو پیدا کرنے والا ہوں فاذا سویتہ پس جب میں اس کی خلقت اور اس کی صورت درست فرما دوں۔ ونفخت فیہ من روحی، النفخ کا معنی کسی شی میں ہوا کو جاری کرنا ہے۔ اور الروح یہ لطیف جسم ہے، اور اللہ تعالیٰ کی عادت جاریہ یہ ہے کہ وہ اس جسم کے ساتھ بدن میں حیاے پیدا فرماتا ہے۔ اور اس کی حقیقت خلق کی نسبت خالق کی طرف کرنا ہے پس روح اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے جس کی اضافت تشریف و تکریم کے لئے اس نے اپنی طرف کی ہے۔ جیسا کہ ان ارشادات میں اضافت تشریف کے لئے ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 27–35

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کہ جان جنوں کی مسخ شدہ صورت ہے جیسے بندر اور خنزیر انسانوں کی مسخ شدہ صورت ہے۔ 2:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولجآن خلقنہ من قبل “ اور وہ ابلیس ہے جو آدم (علیہ السلام) سے پہلے پیدا کیا گیا۔ 3:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابلیس فرشتوں کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے جن کو جن کہا جاتا ہے وہ فرشتوں میں سے ایسی آگ سے پیدا کئے گئے تھے جس میں دھواں نہیں ہے اور وہ جنات جن کا قرآن میں ذکر کیا گیا وہ آگ کے شعلہ سے پیدا کئے گئے تھے۔ 4:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاِذْ : اور جب ] [قَالَ : کہا ] [ رَبُّكَ : آپ ﷺ کے رب نے ] [ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ : فرشتوں سے ] [انى: کہ میں ] [خَالِقٌۢ: تخلیق کرنے والا ہوں ] [ بَشَرًا : ایک بشر ] [مِّنْ صَلْصَالٍ : ایسی کھنکتی مٹی سے جو ] [ مِّنْ حَمَا مَّسْنُوْنٍ : گیلے گارے سے ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 26–30

انسان اور جنات کی تخلیق، ابلیس کو سجدہ کرنے کا حکم اور اس کی نافرمانی اور ملعونیت، بنی آدم کو ورغلانے کے لیے اس کا قسم کھانا اور لمبی عمر کی درخواست کرنا، مخلصین کے بہکانے سے عاجزی کا اقرار، ابلیس کا اتباع کرنے والوں کے لیے داخلہ دوزخ کا اعلان ان آیات میں انسان اور جنات کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا اور یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک بشر کو پیدا فرمانے والا ہوں جب میں اسے پوری طرح بنا دوں اور اس میں روح پھونک دوں تو تم سب اس کے لیے سجدہ میں گرپڑنا، چناچہ جب اس بشر کی تخلیق ہوگئی اور روح پھونک دی گئی جس کے پیدا فرمانے کا پہلے سے اعلان فرمایا تھا تو تمام فرشتے اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–44

ذکر پیدائش انس و جن و قصہ پیدائش آدم (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ : ولقد خلقنا الانسان من صلصال .... الیٰ .... لکل باب منھم جزء مقسوم۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں حق جل شانہ نے حیوانات کی پیدائش سے اپنی قدرت اور خالقیت کا ذکر فرمایا اب یہاں جن و انس سے اسی مقصود پر استدلال فرماتے ہیں اور جان سے مراد یہاں جنوں کا باپ ہے جس طرح اوپر کی آیتوں میں انسان سے تمام انسانوں کے باپ مراد ہیں دونوں میں فرق یہ ہے کہ آدمیوں کا باپ، ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ترابی غالب تھا اور جنوں کا باپ ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ناری کا غلبہ تھا۔ ابلیس اسی قسم میں سے تھا اللہ تعالیٰ نے ان دو مختلف…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 28–29

13:۔ اس قصہ سے آدم اور اولاد آدم (علیہ السلام) سے ابلیس اور اس کی ذریت کی پرانی دشمنی کو بیان کرنا مقصود ہے تاکہ اولاد آدم ان کو اپنا دشمن سمجھیں اور ان کے بہکانے اور ورغلانے میں نہ آسکیں یہ قصہ آگے بھی جہاں کہیں مذکور ہوگا اس سے یہی مقصود ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا میں آدم کو مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں جب میں اس کے جسمانی نقوش اور اس کے اعضاء کو مکمل کرلوں اور اس میں جان ڈال دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجانا۔ روح اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے جو بدن کی حیات کا سبب عادی ہے، روح کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف اظہار شرف کے لیے ہے۔ والروح جسم لطیف اجری اللہ العادۃ بان یخلق الحیوۃ فی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 26–35

(ربط آیات) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کے دلائل بیان ہوئے ، پہلے بیرونی دلائل کا ذکر ہوا جن میں آسمانوں کی تخلیق ، اس میں ستاروں اور سیاروں کو چلانا ، پھر زمین کو پھیلانا اور اس میں طرح طرح کی چیزیں پیدا کرنا ، پھر زمین وآسمان کے درمیان فضاؤں میں ہواؤں کو چلانا ، بادلوں کو اٹھانا ، باران رحمت کا نزول ، انسانوں ، جانوروں اور نباتات کے لیے پانی کی بہم رسانی اور اس کے نتیجے میں خوراک کا مہیا کرنا وغیرہ بیرونی دلائل تھے ، اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے قیامت کا ذکر بھی فرمایا (آیت) ” ان ربک ھو یحشرھم “۔ تیرا پروردگار ان سب کو اس دن اکٹھا کریگا وہ انسان کو دوبارہ زندہ کرنے پر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنِّىْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ 28؀ ملك ( فرشته) وأما المَلَكُ فالنحویون جعلوه من لفظ الملائكة، وجعل المیم فيه زائدة . وقال بعض المحقّقين : هو من المِلك، قال : والمتولّي من الملائكة شيئا من السّياسات يقال له : ملک بالفتح، ومن البشر يقال له : ملک بالکسر، فكلّ مَلَكٍ ملائكة ولیس کلّ ملائكة ملکاقال : وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] ، عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] ( م ل ک ) الملک الملک علمائے نحو اس لفظ کو ملا ئکۃ سے ماخوذ مانتے ہیں اور اس کی میم کو زائد بناتے ہیں لیکن بعض محقیقن نے اسے ملک سے مشتق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 27–44

جان کی تعریف و تفسیر، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جان سب جنون کے باپ کا نام ہے اور یہی قول اکثر مفسرین کا ہے اور یہی ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے گو بعض نے جان سے مراد ابلیس لیا ہے جان کے معنی لغت میں ساتر یعنی چھپنے (چھپانے) والے کے ہیں کہتے ہیں جن الشیٔ اذاسترہ چونکہ آدم ( علیہ السلام) کے خلاف اس کا غالب مادہ آگ کا لطیف شعلہ ہے اس لیے یہ قوم محسوس نہیں ہوتی ہر ایک کو دکھلائی نہیں دیتی اور اس لیے اس قوم کو جن اور اس کے باپ کو جان کہتے ہیں۔ خدائے تعالیٰ لطیف وخبیر نے اول ملائکہ کو بنایا، ان کے بعد جن کی قوم کو جن کا مادہ ملائکہ سے ذرا قریب تر تھا، پھر انسان کو جس کا مادہ کثیف ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ دیگر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 28–29

وَاِذْقَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ خَالِقٌ م بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّن حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ۔ فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہٗ سٰجِدِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 28۔ 29) (اور اس وقت کو یاد کرو جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں سڑے ہوئے گارے کی کھنکناتی ہوئی مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں۔ تو جب میں اس کو مکمل کرلوں اور اس میں اپنی روح میں سے پھونک لوں تو تم اس کے لیے سجدے میں گرپڑنا۔ ) فرشتوں سے سجدہ کرانے کا مقصد اور سجدہ کا مفہوم ملائکہ یعنی فرشتے چونکہ کائنات کا نظام چلا رہے ہیں اور پروردگار نے مختلف ذمہ داریوں پر انھیں فائز کر رکھا ہے۔ وہی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 28–33

فہم القرآن ربط کلام : تخلیق آدم کے بارے میں مختصر اشارہ کرنے کے بعد اس کے اعزاز کا تذکرہ۔ قرآن مجید کا یہ بھی اسلوب ہے کہ وہ کسی واقعہ کو کہانی اور زیب داستان کے لیے بیان نہیں کرتا۔ بلکہ ہر بات کو موقع محل کے مطابق اور مؤثر نصیحت کے طور پر بیان کرتا ہے۔ اثر آفرینی کے لیے کسی بات کا دوبارہ ذکر کرنا مقصود ہو تو اس کا انداز اور الفاظ پہلے بیان سے مختلف ہوتے ہیں۔ تاکہ پڑھنے والے کو نئے انداز کے ساتھ اس کی راہنمائی کے لیے نئی دلیل پیش کی جائے۔ اسی اصول کے پیش نظر حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کا یوں بیان فرمایا ہے کہ اے انسان ! جب تیرے رب نے ملائکہ کو حکم دیا کہ یقیناً میں بدبودار اور کھنکھناتی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

فرشتوں کو حکم سجدہ : 28: وَاِذْقَالَ رَبُّکَ (اور جب کہا تیرے رب نے) اس وقت کو یاد کرو جب یہ بات کہی گئی لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ خَالِقٌ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَأٍ مَّسْنُوْنٍ (فرشتوں کو بیشک میں ایک بشر بنانے والا ہوں بجتی ہوئی مٹی کے سیاہ گارے سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

28۔” واذ قال ربک للملائکۃ انی خالق بشرا “ کہ میں عنقریب ایک بشرکو پیدا کرنے والا ہوں ۔ ” من صلصال من حما مسنون “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 28–33

28۔ 33۔ اللہ پاک نے انسان کی پیدائش کا ذکر کرنے کے بعد جو جو باتیں اس کے پیدا کرنے کے وقت پیش آئی تھیں ان کا ذکر فرمایا کہ بھلے فرشتوں کو جمع کر کے اللہ تعالیٰ نے یہ بات کہی کہ میرا ارادہ ہے کہ مٹی سے انسان کو پیدا کروں اور جب آدم کا پتلہ بنالوں اور اس کے بدن میں روح پھونک دوں تو تم سب کے سب اسے سجدہ کرنا اس حکم کو سن کر فرشتوں نے جو جواب دیا اس کا قصہ سورت بقرہ میں مفصل گزر چکا ہے غرض کہ کل فرشتوں نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا مگر ابلیس جو جنات کی قوم میں سے تھا اور خدا کی عبادت کثرت کے ساتھ کرنے سے فرشتوں کے زمرہ میں داخل کرلیا گیا تھا اس نے آدم کے پتلے کو تعظیمی سجدہ کرنے سے انکار کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 24–44

آیت 26 اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے باپ حضرت آدم پر اپنی نعمت اور اپنے احسان کا ذکر کرت ا ہے، حضرت آدم کا اپنے دشمن ابلیس کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کو بھی بیان کرتا ہے اور اس ضمن میں ہمیں ابلیس کے شر اور فتنہ سے ڈراتا ہے، چناچہ فرمایا : (ولقد خلقنا الانسان) ” ہم نے انسان کو پیدا کیا۔ “ یعنی آدم کو پیدا کیا (من صلصال من حما مسنون) ” کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے “ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہوجاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔ (الحما المسنون) اس گارے کو کہتے ہیں، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں۔ (والجآن) ” اور جنوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 24–32

27۔ اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ وذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ایک برابر اور خوب جانتے ہیں آگے بڑھنے والوں کو بھی اور پیچھے رہنے والوں کو بھی وجود وموت کے اعتبار سے۔ نیز نماز کی صف اول میں اور صف جہاد میں آگے بڑھنے اور پیچھے رہ جانے والوں کو وغیرہ وغیرہ، مختلف اقوال ہیں اور یہ سب ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ ان میں کوئی تعارض نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا علم ان سب ہی مفاہیم ومطالب کو شامل اور عام ہے۔ الفاظ کا عموم بھی ان سب کو شامل ہے اور یہی بات دراصل یہاں بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر لحاظ سے کامل اور اس کی سب ہی مخلوق کو شامل ہے۔ کوئی بھی چیز اس کے علم کے باہر نہیں ہوتی (ابن جریر، ابن…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 26–44

انسان کی پیدائش اور ابلیس کی نافرمانی تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا قصہ اور شیطان کا ملعون ہونا سورة بقرہ رکوع 4، سورة نساء رکوع 18 اور سورة اعراف رکوع 2 میں بڑی وضاحت سے بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں سورة الحجر میں کیونکہ ان آیات سے پہلے تمام کائنات اور ہر چیز کے ناپ تول کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے یہاں انسان کی پیدائش، جسم، نفس، روح اور زندگی کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب بھی اللہ نے بڑے حساب کتاب اور ناپ تول سے بنائے ہیں۔ یہاں وہ تمام راز کھول کر بیان کردیے گئے ہیں جو انسانی سائنسی تحقیقات سے بہت بلند ہیں۔ پچھلی آیات سے جو کچھ معلوم ہوا وہ تو تمام تخلیقات کے بارے میں تھا۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 26–44

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف خود انسان کو بھی تو ہم نے ہی پیدا کیا سڑے ہوئے مٹی گارے سے جو خشک ہوچکا تھا ۔ (جنات کو پہلے پیدا کیا گیا) قبل ازیں ہم جنات کو آگ کی لو سے پیدا کرچکے تھے یعنی آگ کی وہ تپش جو ایک گرم ہوا کی صورت میں تھی کہ آگ کا نظر آنا اجزائے کثیفہ کی ملاوٹ سے ہوتا ہے ورنہ وہ بہت لطیف ہوتی ہے تو گویا جنات کا وجود اسی سے پیدا ہوا جو نظر نہیں آتا ، اور جنات پہلے سے زمین پر آباد کئے گئے تھے ،۔ پھر وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب آپ کے رب نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میں کھنکتے اور سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر تخلیق کر رہا ہوں جب وہ بن چکے اور میں اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب کے سب اس کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 28–29

ف 1 ۔ اولا ً انسان کی تخلیق کو بطور دلیل ذکر فرمایا۔ اب اس کے بعد اس کا قصہ ذکر فرمادیا۔ (رازی) یہاں آدم میں جو روح پھونکی گئی اس کی ” روحی “ فرما کر اپنی طرف نسبت کیا ہے تو یہ نسبت صرف تشریف و تکریم اور انسانی روح کا امتیاز ظاہر کرنے کے لئے ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح حضرت صالح کیا انٹنی کو ” ناقہ اللہ “ اور خانہ کعبہ کو ” بیت اللہ “ کہا گیا۔ (کذافی الشوکانی) ۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : ” اپنی جان “ یعنی خاص جس میں نمونہ ہے اللہ تعالیٰ کی صفات کا، علم اور تدبیر اور یاد حق کی اور لگائو اللہ سے۔ (از موضح) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 27–28

(15:27) الجان۔ الجن (باب نصر) کے اصل معنی کسی چیز کو حواس سے پوشیدہ کرنے کے ہیں۔ جیسے فلما جن علیہ اللیل (6:76) جب رات نے اس کو (پردہ تاریکی) سے چھپا دیا ۔ اسی معنی میں الجنان دل۔ کیونکہ وہ حواس سے مستور رہتا ہے۔ یا المجن المجنۃ الجنۃ ۔ ڈھال کیونکہ اس سے انسان اپنے آپ کو بچاتا اور چھپاتا ہے۔ اور الجنۃ باغ۔ ایسا باغ جس کی زمین درختوں کی وجہ سے نظر نہ آئے۔ ولو لا اذ دخلت جنتک (18:39) اور جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو کیوں نہ۔۔ اور جنین (فعیل بمعنی مفعول) وہ بچہ جو ابھی ماں کے پیٹ میں ہے۔ کہ وہ حواس انسانی سے مستور ہے یا الجنین قبر (فعیل بمعنی فاعل) چھپانے والے۔ تو گویا جن ایک ایسی مخلوق ہے جو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 26–44

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 44 صلصال وہ مٹی جو سوکھ کر سخت ہوجائے اور بجنے لگے ۔ مسنون گوندھی گئی۔ السموم لو۔ نفخت میں نے پھونک دیا۔ پھونک ماردی، حما سڑی ہوئی مٹی، کیچڑ۔ جان جن۔ سویت میں نے برابر کردیا۔ ٹھیک کرلیا۔ روحی میری روح ، قعوا گرپڑو۔ ابی انکار کیا۔ ان یکون یہ کہ وہ ہو۔ مالک تجھے کیا ہوا۔ لم اکن میں نہیں ہوں بشر انسان۔ اخرج نکل جا۔ لعنت لنت، اللہ کی رحمت سے دوری۔ انظرنی تو مجھے مہلت دیدے۔ یبعثون (اٹھائے جائیں گے) ۔ اغویت (اغوائ) تو نے سیدھی راہ سے ہٹا دیا ۔ سلطن قوت، زور الغوین بہکنے والے۔ موعد وعدہ کی جگہ۔ سبعۃ ابواب سات دروازے۔ جزاء حصہ۔ مقسوم تقسیم کیا گیا۔ تشریح : آیت نمبر 26 تا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 28–33

ملائکہ کو سجدہ کا حکم ارشاد ہوتا ہے کہ اس وقت کا تصور کرو جب ہم نے ملائکہ کو خبر دی کہ ہم ایک بشر کو مٹی سے خمیر دے کر پیدا کرنے والے ہیں، پس جب میں اسے بناچکوں اور روح بھی اس میں ڈال دوں تو تم سب کے سب تعظیم کے لئے اس کے آگے جھک جانا۔ فرشتوں نے تو ایسا ہی کیا یعنی سب نے مل کر سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہیں کیا اور سجدہ کرنے سے انکار کیا اور مادہ خاکی پر لحاظ کر کے آدم (علیہ السلام) کو حقیر سمجھا۔ یہاں سے یہ بات معلوم ہوئی کہ غرور کی ابتداء اسی لعین سے ہوئی اس سے پہلے نہیں تھی۔ پس جو غرور کرتا ہے وہ شیطان کا تابع ہے خواہ کسی بات کا غرور ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے جو تو نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–28

[10] یعنی انسان اول آدم (علیہ السلام) ۔ [11] اصل الفاظ ہیں حماً مسنون۔ حماً عربی زبان میں اس سیاہ کیچڑ یا گارے کو کہتے ہیں جس میں بو پیدا ہوگئی ہو اور خمیر اٹھ آیا ہو۔ مسنون کے دو معنی ہیں : (1) ایسی سڑی ہوئی مٹی جس میں لیس پیدا ہوگیا ہو۔ (2) قالب میں ڈھلی ہوئی مٹی۔ [12] اصل لفظ صلصال استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں بجنے والی خشک مٹی۔ [13] آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان اول کا پتلا سڑی ہوئی لیس دار مٹی سے بنایا جو بننے کے بعد خشک ہوا اور پھر اسی خشک بجنے والی مٹی کے پتلے میں روح پھونکی گئی جیسا کہ اگلی آیت میں مذکور ہے۔ بالفاظ دیگر انسان اول کی براہ راست تخلیق (Direct Creation) کی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 27–30

جنوں کا وجود : (ف 2) جنوں کی پیدائش آدم سے پہلے ہے انکی فطرت اجزائے ناریہ سے ہے اسلئے یہ انسان سے زیادہ لطیف اور سبک ہوتے ہیں گویہ نظر نہیں آتے ، مگر ان کے وجود سے انکار نہیں کیا جاسکتا ؟ آج نئے تجربوں نے ہی ثابت کردیا ہے کہ کچھ لطیف اجسام ایسے ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتے مگر ہو ہماری طرح ایک خاص قسم کے زندگی رکھتے ہیں ، ان کے اجسام ہیں ، ان کی خاص شکلیں ہیں ان کے اپنے مخصوص مشاغل ہیں ۔ یورپ میں بعض ایسی علمی مجلسیں ہیں جنہوں نے برسوں کی تحقیقات کے بعد یہ ثابت کیا ہے جنات کا انکار واقعات کا انکار کرنا ہے ، آج سے نصف صدی پیشتر ان کا انکار روشن خیالی میں داخل تھا کہ آج مفتی کہہ رہا ہے جنوں کا وجود…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

28 ۔ اور اے پیغمبر وہ وقت قابل ذکر ہے جب آپ کے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا میں سڑے ہوئے گارے کی بدبو دار مٹی سے جو خشک ہو کر کھن کھن بجتی ہوگی ایک بشر کو پیدا کرنے والا ہوں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بشر وہ کہ جو جان رکھے کہ ہاتھ سے پکڑ ا جائے اور روح رکھے ہوشیار اگلی مخلوقات یا حیوان تھے جن کو ہوش نہیں یا فرشتے یا جن تھے جن کا بدن نہ پکڑا جائے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرشتوں سے کہا گیا کہ میں اس سوکھ کر بجنے والی مٹی سے انسان کو پیدا کرنے والا ہوں : 28۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا خیر کی الگ طاقت کا نام انسان نہیں ہے اور اس طرح شرک کی الگ طاقت کا نام بھی انسان نہیں تھا ۔ اب جب دونوں قسم کے قوی کو جمع کردیا تو اس کرشمہ سازی سے جو مجسمہ تیار ہو کر کھڑا ہوگیا بس اس کا نام انسان تھا ‘ ہے اور رہے گا ۔ اب اس طاقت کو جو سراسر خیر ہی خیر ہے اور سراسر شر ہی شر ہے حکم دیا گیا کہ اس مجسمہ خیر وشر کی فوقیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس علت کی بنا پر سجدہ ریز ہوجا جب کہ میں اس کو ایک مجسمہ کی صورت بنا کر صحیح اور درست کر دوں ، گویا یہ ایک وعدہ تھا جو تخلیق آدم سے پہلے ان دونوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–28

Going Ahead and Remaining Behind in Righteous Deeds: The Difference in Degrees Some exegetic interpretations of the words: (al-mustaqdimin) : 'those who go ahead' and: (al-musta'khirin) : 'those who remain behind' appearing in verse 24: الْمُسْتَقْدِمِينَ ~.A11 have been variously reported from Tafsir authorities among the Sahabah ؓ and Tabi` in. These are: 1. 'Al-Mustaqdimin' are those born to date, and 'Al-Musta'khirin' are those not born yet [ Qatadah and ` Ikrimah ]. 2. 'Al-Mustaqdimin' means the dead, and 'Al-Musta'khirin' means those alive till now [ Ibn ` Abbas and Dahhak ] 3.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 27–28

18. As samum is not wind, nar-i-samum will mean flame of intense heat and not of fire. This is the explanation of those passages in which it has been stated that jinns have been created from fire.

Read the full tafseer →