Explained with ayahs 26–27
خشک مٹی
صلصال سے مراد خشک مٹی ہے۔ اسی جیسی آیت (خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ 14 ۙ) 55۔ الرحمن :14) ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ بو دار مٹی کو حما کہتے ہیں۔ چکنی مٹی کو مسنون کہتے ہیں۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں تر مٹی۔ اوروں سے مروی ہے بو دار مٹی اور گندھی ہوئی مٹی۔ انسان سے پہلے ہم نے جنات کو جلا دینے والی آگ سے بنایا ہے۔ سموم کہتے ہیں آگ کی گرمی کو اور حرور کہتے ہیں دن کی گرمی کو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس گرمی کی لوئیں اس گرمی کا سترہواں حصہ ہیں۔ جس سے جن پیدا کئے گئے ہیں۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ جن آگ کے شعلے سے بنائے گئے ہیں یعنی آگ سے بہت بہتر۔ عمرو کہتے ہیں سورج کی آگ سے۔ صحیح میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
سورة الْحِجْر 18
سموم گرم ہوا کو کہتے ہیں، اور نار کو سموم کی طرف نسبت دینے کی صورت میں اس کے معنی آگ کے بجائے تیز حرارت کے ہوجاتے ہیں۔ اس سے ان مقامات کی تشریح ہوجاتی ہے جہاں قرآن مجید میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جن آگ سے پیدا کیے گئے ہیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو، الرحمٰن، حواشی 14 تا 16)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے انسان کو (یعنی اس نوع کی اصل اول آدم ؑ کو) بجتی ہوئی مٹی سے جو کہ سڑے ہوئے گارے کی بنی ہوئی تھی پیدا کیا (یعنی اول گاڑے کو خوب خمیر کیا کہ اس میں بو آنے لگی پھر وہ خشک ہوگیا کہ وہ خشک ہونے سے کھن کھن بولنے لگا جیسا مٹی کے برتن چٹکی مارنے سے بجا کرتے ہیں پھر اس خشک گارے سے آدم کا پتلا بنایا جو بڑی قدرت کی علامت ہے) اور جن کو (یعنی اس نوع کی اصل ابو الجان کو) اس کے قبل (یعنی آدم ؑ کے قبل) آگ سے کہ وہ (غایت لطافت کی وجہ سے) ایک گرم ہوا تھی پیدا کرچکے تھے مطلب یہ کہ چونکہ اس آگ میں اجزائے دخانیہ نہ تھے اس لئے وہ مثل ہوا کے نظر نہ آتی تھی کیونکہ آگ کا نظر آنا اجزائے کثیفہ کے…
Read the full tafseer →وَالْجَانَّ خَلَقْنَاهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَارِ السَّمُومِ۔ " سموم " لو کی لپٹ اور ہوائے گرم کو کہتے ہیں۔
انسانوں کی خلقت کے بعد یہ جنوں کی خلقت کا پتہ دیا کہ انسانوں سے پہلے اللہ نے جنوں کو پیدا کیا اور ان کی خلقت آگ کے عنصر لطیف یعنی ہوائے گرم سے ہوئی۔ یہ امری یہاں پیش ظر رہے کہ انسان اور جنات کی خلقت کے بیان کرنے قرآن کا مقصود اصلی یہاں ان کے عناصر خلقت کا سراغ دینا نہیں ہے بلکہ اصل مقصود انسان اور ابلیس کی اس بنائے مخاصمت کو واضح کرنا ہے جس کا ذکر آگے کی آیات میں آرہا ہے۔ ابلیس نے جو جنوں میں سے تھا، اسی خلقت کو اپنی برتری کی دلیل ٹھہرا کر آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا جس کے سبب سے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
27۔ 1 جِنّ کو جن اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔ سورة رحمٰن میں جنات کی تخلیق (مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ) 55۔ الرحمن :15) سے بتلائی گئی ہے اور صحیح مسلم کی ایک حدیث میں یہ کہا گیا اس اعتبار سے لو والی آگ یا آگ کے شعلے کا ایک ہی مطلب ہوگا۔
Read the full tafseer →13: جس طرح انسان کے جد امجد حضرت آدم ؑ ہیں اسی طرح جنات میں سب سے پہلے جس جن کو پیدا کیا گیا اس کا نام جان تھا اور اسے آگ سے پیدا کیا گیا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
ذرا اب اس قصے کے مناظر کو یہاں ہم تفصیل سے لیتے ہیں۔
آیت نمبر 26 تا 27
قصے کے آغاز ہی میں یہ کہا جاتا ہے کہ انسان اور جنات یا شیطانوں کی فطرتوں میں یوم تخلیق کائنات سے ہی فرق امتیاز ہے۔ انسان کو بجنے والی خشک مٹی سے پیدا کیا گیا جو سڑی ہوئی خمیری مٹی یعنی کیچڑ سے لی گئی تھی یعنی اس مٹی کو ٹھوکا جائے تو بجتی ہے اور شیطان کو نار سموم یا آگ کی لپیٹ یا شعلے سے بنایا گیا ہے۔ بعد میں معلوم ہوگا کہ انسان کے مزاج میں ایک جدید عنصر بھی داخل ہوا ہے یعنی انسان کے اندر اللہ نے اپنی روح پھونکی ہے۔ رہا شیطان تو وہ نار سموم ہی کی طبیعت پر قائم ہے۔
واذ قال ربک ۔۔۔۔۔ حما مسنون (28) فاذا سویتہ ۔۔۔۔ سجدین (29)…
Read the full tafseer →2 یعنی لطیف آگ ہوا ملی ہوئی۔ کما قال (وَخَلَقَ الْجَاۗنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ ) 55 ۔ الرحمن :15) یا یوں کہو تیز ہوا جو آگ کی طرح جلانے والی ہو، جسے ہمارے یہاں " لُو " کہتے ہیں۔ بہرحال آدمیوں کا باپ ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ترابی غالب تھا اور جنوں کا باپ اس مادہ سے پیدا ہوا جس میں ناری عنصر کا غلبہ تھا، ابلیس بھی اسی قسم میں تھا۔
Read the full tafseer →آیت 27 وَالْجَاۗنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّار السَّمُوْمِ
یہ لفظ ”سموم“ اردو میں بھی معروف ہے۔ موسم گرما میں صحرا میں چلنے والی تیز گرم ہوا کو باد سموم کہتے ہیں۔ آگ کے شعلے کا وہ حصہ جو بظاہر نظر آتا ہے اس کے گرد ہالے کی شکل میں اس کا وہ حصہ ہوتا ہے جو عام طور پر نظر نہیں آتا۔ شعلے کے اس نظر نہ آنے والے حصے کا درجہ حرارت نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ یہاں ”نار سموم“ سے مراد آگ کی وہی لپٹ یا لو مراد ہے جو شدید گرم ہوتی ہے اور اسی سے جنات کو پیدا کیا گیا ہے۔ یہاں ایک نکتہ یہ بھی مد نظر رہنا چاہیے کہ جنات کو اگرچہ آگ سے پیدا کیا گیا ہے مگر وہ آگ نہیں ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ہمیں مٹی سے پیدا کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
8 1 جنوں کی پیدائش آگ سے ہوئی :۔ جنوں کو ایسی آگ سے پیدا کیا گیا جس میں ہوا ملی ہوئی تھی۔ سموم بمعنی سخت گرم ہوا۔ یعنی اتنی گرم ہوا سے جو آگ جیسی گرم ہو اور ہر چیز کو جھلس کر رکھ دے۔ جس سے معلوم ہوا کہ جنوں کی پیدائش میں غالب عنصر آگ تھا۔ ابلیس اصل میں جنوں کی جنس سے تعلق رکھتا تھا۔ مگر اپنی ہمہ وقت عبادت گزاری کی وجہ سے فرشتوں کی صفوں میں شامل ہوگیا تھا۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے سورة بقرہ کا حاشیہ نمبر 53)
جانّ اور جن کا لغوی مفہوم اور مراد :۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جس طرح آدمیوں یا انسانوں کے جد امجد کا نام آدم (علیہ السلام) ہے۔ اسی طرح جنوں کے جد امجد جانّ ہے۔ اور جن کا لغوی معنی کسی چیز کو…
Read the full tafseer →24۔ یعنی اسی آگ سے جو اجزا دخانیہ وکثیفہ سے خالی ہیں اور اس لئے غایت لطافت سے مثل ہوا کے غیرمرئی تھے۔ (آیت) ” الجآن “۔ جنات بھی بالکل انسانوں جیسے بےبس مخلوق ہیں، کوئی وصف ذرہ بھر بھی ان میں معبودیت کا موجود نہیں، فرق صرف مادہ کا ہے۔ انسان کی ترکیب مٹی سے ہوئی اور ان کی آگ یا ہوائی آگ سے۔ ان کی مخلوقیت اور عجز کو دکھانے ہی کے لئے قرآن مجید نے ان کا ذکر تخلیق انسانی کے ساتھ ساتھ کیا ہے۔ توریت میں اس موقع پر زمین پر ” خدا کے بیٹوں “ کے موجودہ ہونے کا ذکر ہے، نیز ایک اور مخلوق کا، جس کے لئے انگریزی ترجموں میں لفظ (GIANTS) کا آیا ہے۔ اردو میں اس کا ترجمہ ” جبار “ سے کیا گیا ہے۔ (پیدائش 6: 2، 4)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
آیت نمبر 26 تا 44
ترجمہ : بیشک ہم نے انسان (یعنی) آدم کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا یعنی ایسی خشک مٹی جب اس کو نجایا جائے تو اس کی آواز سنی جائے اور اس سے پہلے (یعنی) تخلیق آدم سے پہلے ہم نے جنات (یعنی) ابو الجن کو کہ وہ ابلیس ہے شعلے سے کہ جس میں دھواں نہ ہو اور وہ مسامات (یعنی بدن کے مسامات) میں نفوذ کر جائے پیدا کیا اور اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں انسان کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناے والی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں تو جب میں اس کو مکمل کر چکوں اور اس میں اپنی روح ڈال چکوں اور وہ زندہ ہوجائے اور روح کی نسبت اللہ کی طرف آدم کیلئے کرامت کے طور پر…
Read the full tafseer →والجآن خلقنہ من قبل من نار السموم اور جن کو ہم نے پیدا کیا اس سے پہلے آگ سے جو ایک گرم ہوا سے بنی تھی۔
الْجَان (میں لام جنسی ہے) الْاِنْسَان کی طرح جنس ہے۔ جب ایک شخص سے نکلے ہوئے مختلف افراد اسی جنس کے ہوں اور اس شخص کو کسی خاص مادہ سے بنایا گیا ہو تو تمام افراد کا قوام اسی اصلی مادہ سے مانا جائے گا (پس ابو الحسن کو جب آگ کے مادہ سے بنایا گیا تو اس کی ساری نسل کو بھی اسی اصلی مادہ سے بنا ہوا کہا جائے گا۔ اگرچہ اولاد کا سلسلہ تناسلی ہوگا ‘ براہ راست آگ سے ان کو نہیں بنایا گیا ہوگا) ۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : الْجَان سے مراد ہے : تمام جنات کا باپ ‘ جیسے حضرت آدم تمام انسانوں کے باپ تھے۔ قتادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
(26۔ 27) اور ہم نے آدم ؑ کو بجتی ہوئی مٹی سے جو کہ سڑے ہوئے گارے کی تھی پیدا کیا اور ابو الجن کو آدم ؑ سے پہلے ایسی آگ سے جس میں دھواں نہیں تھا پیدا کرچکے تھے۔
Read the full tafseer →وَالْجَاۗنَّ خَلَقْنٰهُ : یہاں ”وَالْجَاۗنَّ“ سے مراد اکثر مفسرین نے جنوں کا باپ لیا ہے، بعض جنوں کی جنس مراد لیتے ہیں، بعض نے ابلیس مراد لیا ہے۔ اسے ”وَالْجَاۗنَّ“ یا جن (جَنَّ یَجُنُّ ، بمعنی ڈھانپنا، چھپانا) انسان کی آنکھوں سے چھپنے کی وجہ سے کہتے ہیں، جیسا کہ جنین اور جنون وغیرہ سب میں ڈھانپنے کا مفہوم شامل ہے۔ جنوں کے بارے میں فرمایا : (اِنَّهٗ يَرٰىكُمْ هُوَ وَقَبِيْلُهٗ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ) [ الأعراف : 27 ] ”بیشک وہ اور اس کا قبیلہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انھیں نہیں دیکھتے۔“
مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّار السَّمُوْمِ : ”السَّمُوْمِ“ دراصل سخت گرم ہوا (لوُ) کو کہتے ہیں، ایک…
Read the full tafseer →آیت نمبر 27
قولہ تعالیٰ : والجآن خلقنہ من قبل یعنی آدم (علیہ السلام) کی تخلیق سے پہلے ہم نے جن کو پیدا فرمایا۔ اور حسن نے کہا ہے : مراد ابلیس ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے حضرت آدم (علیہ السلام) سے پہلے پیدا فرمایا۔ اور اسے آنکھوں سے چھپا رہنے کی وجہ سے جآن کا نام دیا گیا ہے۔ اور صحیح مسلم میں حضرت ثابت کی حدیث ہے کہ وہ حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی تصویر جنت میں بنائی اور اسے چھوڑ دیا جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ اسے چھوڑے رکھے تو ابلیس اس کے اردگرد گھومتا رہا اور غور سے دیکھتا رہا یہ کیا ہے پس جب اس نے اس کے درمیان (پیٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–35
1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کہ جان جنوں کی مسخ شدہ صورت ہے جیسے بندر اور خنزیر انسانوں کی مسخ شدہ صورت ہے۔
2:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولجآن خلقنہ من قبل “ اور وہ ابلیس ہے جو آدم (علیہ السلام) سے پہلے پیدا کیا گیا۔
3:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابلیس فرشتوں کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے جن کو جن کہا جاتا ہے وہ فرشتوں میں سے ایسی آگ سے پیدا کئے گئے تھے جس میں دھواں نہیں ہے اور وہ جنات جن کا قرآن میں ذکر کیا گیا وہ آگ کے شعلہ سے پیدا کئے گئے تھے۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا…
Read the full tafseer →[وَالْجَاۗنَّ : اور جن کو !] [ خَلَقْنٰهُ : ہم نے پیدا کیا اس کو ] [مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [مِنْ نَارِ السَّمُوْمِ : لُو کی آگ سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
انسان اور جنات کی تخلیق، ابلیس کو سجدہ کرنے کا حکم اور اس کی نافرمانی اور ملعونیت، بنی آدم کو ورغلانے کے لیے اس کا قسم کھانا اور لمبی عمر کی درخواست کرنا، مخلصین کے بہکانے سے عاجزی کا اقرار، ابلیس کا اتباع کرنے والوں کے لیے داخلہ دوزخ کا اعلان
ان آیات میں انسان اور جنات کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا اور یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک بشر کو پیدا فرمانے والا ہوں جب میں اسے پوری طرح بنا دوں اور اس میں روح پھونک دوں تو تم سب اس کے لیے سجدہ میں گرپڑنا، چناچہ جب اس بشر کی تخلیق ہوگئی اور روح پھونک دی گئی جس کے پیدا فرمانے کا پہلے سے اعلان فرمایا تھا تو تمام فرشتے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
ذکر پیدائش انس و جن و قصہ پیدائش آدم (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ : ولقد خلقنا الانسان من صلصال .... الیٰ .... لکل باب منھم جزء مقسوم۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں حق جل شانہ نے حیوانات کی پیدائش سے اپنی قدرت اور خالقیت کا ذکر فرمایا اب یہاں جن و انس سے اسی مقصود پر استدلال فرماتے ہیں اور جان سے مراد یہاں جنوں کا باپ ہے جس طرح اوپر کی آیتوں میں انسان سے تمام انسانوں کے باپ مراد ہیں دونوں میں فرق یہ ہے کہ آدمیوں کا باپ، ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ترابی غالب تھا اور جنوں کا باپ ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ناری کا غلبہ تھا۔ ابلیس اسی قسم میں سے تھا اللہ تعالیٰ نے ان دو مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
12:۔ یہ دوسرا دعوی ہے یعنی سب کچھ جاننے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں کیونکہ ” اَلْمُسْتَقْدِمِیْنَ “ اور ” اَلْمُسْتَاخِرِیْنَ “ جمیع ماکان ومایکون سے کنایہ ہے۔ اس میں بھی حصر ہوگا کیونکہ دلیل کے پہلے حصوں میں حصر ہے۔ ” وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ الخ “ یہ بھی دلیل ہی کا حصہ ہے اے انسان ! ذرا اپنی حقیقت کو تو دیکھ کہ تجھے ہم نے ایک متعفن کیچڑ سے پیدا کیا اور تمام ظاہری اور باطنی انعامات کی تجھ پر بارش کردی مگر پھر بھی تو سرکشی کرتا ہے توحید سے منہ موڑتا اور پیغمبروں کا انکار کرتا ہے۔ اور جن شیاطین کے بہکانے سے تو شرک کرتا اور توحید کو نہیں مانتا ان کی پیدائش بھی دیکھ کہ یہ سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کے دلائل بیان ہوئے ، پہلے بیرونی دلائل کا ذکر ہوا جن میں آسمانوں کی تخلیق ، اس میں ستاروں اور سیاروں کو چلانا ، پھر زمین کو پھیلانا اور اس میں طرح طرح کی چیزیں پیدا کرنا ، پھر زمین وآسمان کے درمیان فضاؤں میں ہواؤں کو چلانا ، بادلوں کو اٹھانا ، باران رحمت کا نزول ، انسانوں ، جانوروں اور نباتات کے لیے پانی کی بہم رسانی اور اس کے نتیجے میں خوراک کا مہیا کرنا وغیرہ بیرونی دلائل تھے ، اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے قیامت کا ذکر بھی فرمایا (آیت) ” ان ربک ھو یحشرھم “۔ تیرا پروردگار ان سب کو اس دن اکٹھا کریگا وہ انسان کو دوبارہ زندہ کرنے پر…
Read the full tafseer →وَالْجَاۗنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ 27
كثر عشبها حتی صارت كأنها مجنونة، وقوله تعالی: وَالْجَانَّ خَلَقْناهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نارِ السَّمُومِ
[ الحجر/ 27] فنوع من الجنّ ، وقوله تعالی: كَأَنَّها جَانٌّ [ النمل/ 10] ، قيل :
ضرب من الحيّات .
اور آیت کریمہ ؛۔ وَالْجَانَّ خَلَقْناهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نارِ السَّمُومِ [ الحجر/ 27] اور جان کو اس سے بھی پہلے بےہوئیں کی آگ سے پیدا کیا تھا ۔ میں جان سے بھی جنوں کی ایک قسم مراد ہے ۔ لیکن آیت کریمۃ ؛ كَأ نَّها جَانٌّ [ النمل/ 10] میں جان سے ایک قسم سانپ مراد ہے ۔
نار
والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–44
جان کی تعریف و تفسیر، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جان سب جنون کے باپ کا نام ہے اور یہی قول اکثر مفسرین کا ہے اور یہی ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے گو بعض نے جان سے مراد ابلیس لیا ہے جان کے معنی لغت میں ساتر یعنی چھپنے (چھپانے) والے کے ہیں کہتے ہیں جن الشیٔ اذاسترہ چونکہ آدم ( علیہ السلام) کے خلاف اس کا غالب مادہ آگ کا لطیف شعلہ ہے اس لیے یہ قوم محسوس نہیں ہوتی ہر ایک کو دکھلائی نہیں دیتی اور اس لیے اس قوم کو جن اور اس کے باپ کو جان کہتے ہیں۔
خدائے تعالیٰ لطیف وخبیر نے اول ملائکہ کو بنایا، ان کے بعد جن کی قوم کو جن کا مادہ ملائکہ سے ذرا قریب تر تھا، پھر انسان کو جس کا مادہ کثیف ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ دیگر…
Read the full tafseer →وَالْجَآنَّ خَلَقْنٰـہُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ ۔ (سورۃ الحجر : 27)
(اور جان کو ہم نے پیدا فرمایا اس سے پہلے آگ کی لپٹ سے۔ )
جنات کی خلقت کا آغاز
” السَّمُوْمِ “ گرم ہوا کو کہتے ہیں جس میں دھواں نہیں ہوتا۔ اس کی نسبت چونکہ نار کی طرف کی گئی ہے اس لیے اس کا ترجمہ آگ کی لپٹ کیا گیا ہے۔ یعنی یہ نار سموم ہے یعنی آگ کی لپٹ۔
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں کو اللہ تعالیٰ نے آگ کی لپٹ یا لو کی لپٹ یا ہَوائے گرم سے پیدا کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنات کو براہ راست آگ سے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کے عنصر لطیف یعنی گرم ہوا سے پیدا کیا گیا۔ اس سے پہلے کی آیت میں انسان کے مادہ تخلیق کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
فہم القرآن
ربط کلام : زمین و آسمانوں اور پہاڑوں کی تخلیق کے ذکر کے بعد انسان کی تخلیق کا بیان۔
یہاں بڑے لطیف انداز میں لوگوں کو موت کے بعد جی اٹھنے پھر حشر کے میدان میں اکٹھا ہونے کی دلیل دی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اے لوگو ! ذرا غور کرو جس نے تمہیں بدبودار گارے اور کھڑکھڑانے والی مٹی سے پیدا کیا ہے اور تم سے پہلے جنات کو آگ کی لو سے پیدا کیا۔ کیا وہ قیامت کے دن تمہیں دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا ؟ کیوں نہیں، یقیناً وہ پیدا ہی نہیں بلکہ سب کو اپنے حضور جمع کر کے تمہارے اعمال پر تمہیں جزا یا سزا بھی دے گا۔ قرآن مجید نے اس بات کو باربار بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا…
Read the full tafseer →جنات کے باپ کی پیدائش :
27: وَالْجَآنَّ (اور ابوالجن کو) جنات کے باپ کو جیسا کہ انسانوں کیلئے ان کے باپ آدم کو نمبر 2۔ ابلیس مراد ہے۔ یہ خَلَقْنٰہٗ مِنْ قَبْلُ کے فعل سے منصوب ہے۔ من قبل ؔ سے من قبل آدم آدم (علیہ السلام) سے پہلے مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ (گرم ہوا سے) مسام میں گھس جانے والی سخت گرم ہوا۔ کہا گیا ہے کہ یہ گرم لو نار کی سترھویں جزء میں سے ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے جنات کے باپ کو پیدا کیا۔
Read the full tafseer →الجان خلقناہ کی تفسیر
27۔” والجان خلقناہ من قبل “ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ ” الجان “ سے مراد ہے تمام جنات کا باب ، جیسے حضرت آدم (علیہ السلام) تمام انسانوں کے باپ ہیں اور قتادہ (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد ابلیس ہے جس کو آدم (علیہ السلام) سے پہلے پیدا کیا اور کہا گیا کہ الجان جنات کا باپ ہے اور ابلیس شیطان کا باپ ہے جنات میں کچھ مسلمان ہیں اور کچھ کافر ، زندہ بھی ہوتے ہیں اور مرتے بھی ہیں اور شیطانوں میں کوئی بھی مسلمان نہیں ، نہ کسی کو موت آتی ہے ، جب ابلیس مرے گا تو اس کے ساتھ سب مریں گے۔
وہب کا قول ہے کہ کچھ جنات تو آدمیوں کی طرح ہیں ان کے بچے پیدا ہوتے ہیں ، کھاتے ہیں ، پیتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
26۔ 27۔ فرمایا کہ انسان کھنکھناتی ہوئی مٹی سے بنایا اور جن کو آگ کی لو سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ و مجاہد و قتادہ کا قول ہے کہ صلصال خشک مٹی کو کہتے ہیں اور حما مسنون گوندھی ہوئی کیچڑ کو کہتے ہیں اللہ پاک نے جب آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو پاک و صاف سوکھی مٹی کو پانی میں گوندھ کر خمیر بنایا اور اس سے آدم (علیہ السلام) کا پتلا بنا کر اس میں روح کو پھونک دیا ترمذی اور ابوداؤد وغیرہ کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا آدم (علیہ السلام) کا پتلہ بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمام زمین کی مٹی لی ہے۔ اسی واسطے اولاد آدم کی حالت مختلف ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–44
آیت 26
اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے باپ حضرت آدم پر اپنی نعمت اور اپنے احسان کا ذکر کرت ا ہے، حضرت آدم کا اپنے دشمن ابلیس کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کو بھی بیان کرتا ہے اور اس ضمن میں ہمیں ابلیس کے شر اور فتنہ سے ڈراتا ہے، چناچہ فرمایا : (ولقد خلقنا الانسان) ” ہم نے انسان کو پیدا کیا۔ “ یعنی آدم کو پیدا کیا (من صلصال من حما مسنون) ” کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے “ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہوجاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔
(الحما المسنون) اس گارے کو کہتے ہیں، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں۔ (والجآن) ” اور جنوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–32
27۔ اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ وذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ایک برابر اور خوب جانتے ہیں آگے بڑھنے والوں کو بھی اور پیچھے رہنے والوں کو بھی وجود وموت کے اعتبار سے۔ نیز نماز کی صف اول میں اور صف جہاد میں آگے بڑھنے اور پیچھے رہ جانے والوں کو وغیرہ وغیرہ، مختلف اقوال ہیں اور یہ سب ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ ان میں کوئی تعارض نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا علم ان سب ہی مفاہیم ومطالب کو شامل اور عام ہے۔ الفاظ کا عموم بھی ان سب کو شامل ہے اور یہی بات دراصل یہاں بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر لحاظ سے کامل اور اس کی سب ہی مخلوق کو شامل ہے۔ کوئی بھی چیز اس کے علم کے باہر نہیں ہوتی (ابن جریر، ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
انسان کی پیدائش اور ابلیس کی نافرمانی
تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا قصہ اور شیطان کا ملعون ہونا سورة بقرہ رکوع 4، سورة نساء رکوع 18 اور سورة اعراف رکوع 2 میں بڑی وضاحت سے بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں سورة الحجر میں کیونکہ ان آیات سے پہلے تمام کائنات اور ہر چیز کے ناپ تول کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے یہاں انسان کی پیدائش، جسم، نفس، روح اور زندگی کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب بھی اللہ نے بڑے حساب کتاب اور ناپ تول سے بنائے ہیں۔ یہاں وہ تمام راز کھول کر بیان کردیے گئے ہیں جو انسانی سائنسی تحقیقات سے بہت بلند ہیں۔ پچھلی آیات سے جو کچھ معلوم ہوا وہ تو تمام تخلیقات کے بارے میں تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
خود انسان کو بھی تو ہم نے ہی پیدا کیا سڑے ہوئے مٹی گارے سے جو خشک ہوچکا تھا ۔
(جنات کو پہلے پیدا کیا گیا)
قبل ازیں ہم جنات کو آگ کی لو سے پیدا کرچکے تھے یعنی آگ کی وہ تپش جو ایک گرم ہوا کی صورت میں تھی کہ آگ کا نظر آنا اجزائے کثیفہ کی ملاوٹ سے ہوتا ہے ورنہ وہ بہت لطیف ہوتی ہے تو گویا جنات کا وجود اسی سے پیدا ہوا جو نظر نہیں آتا ، اور جنات پہلے سے زمین پر آباد کئے گئے تھے ،۔
پھر وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب آپ کے رب نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میں کھنکتے اور سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر تخلیق کر رہا ہوں جب وہ بن چکے اور میں اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب کے سب اس کے…
Read the full tafseer →ف 8 ۔ مگر جمہور مفسرین کے نزدیک یہاں ” الجان “ سے مراد ابو الجن (جنوں کا باپ) ہی ہے۔
9 ۔ ” سموم “ دراصل گرم ہوا (لو) کو کہتے ہیں۔ پس ” نار السموم “ کا ترجمہ بعض مفسرین (رح) نے ” ہوا طی ہوئی لطیف آگے “ یا تیز حرارت “ بھی کیا ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں جس سموم سے اللہ تعالیٰ نے ” الجان “ کو پیدا کیا یہ باد سموم اس کا سترواں حصہ ہے۔ (رزی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
(15:27) الجان۔ الجن (باب نصر) کے اصل معنی کسی چیز کو حواس سے پوشیدہ کرنے کے ہیں۔ جیسے فلما جن علیہ اللیل (6:76) جب رات نے اس کو (پردہ تاریکی) سے چھپا دیا ۔ اسی معنی میں الجنان دل۔ کیونکہ وہ حواس سے مستور رہتا ہے۔ یا المجن المجنۃ الجنۃ ۔ ڈھال کیونکہ اس سے انسان اپنے آپ کو بچاتا اور چھپاتا ہے۔ اور الجنۃ باغ۔ ایسا باغ جس کی زمین درختوں کی وجہ سے نظر نہ آئے۔ ولو لا اذ دخلت جنتک (18:39) اور جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو کیوں نہ۔۔ اور جنین (فعیل بمعنی مفعول) وہ بچہ جو ابھی ماں کے پیٹ میں ہے۔ کہ وہ حواس انسانی سے مستور ہے یا الجنین قبر (فعیل بمعنی فاعل) چھپانے والے۔
تو گویا جن ایک ایسی مخلوق ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 44
صلصال وہ مٹی جو سوکھ کر سخت ہوجائے اور بجنے لگے ۔ مسنون گوندھی گئی۔ السموم لو۔ نفخت میں نے پھونک دیا۔ پھونک ماردی، حما سڑی ہوئی مٹی، کیچڑ۔ جان جن۔ سویت میں نے برابر کردیا۔ ٹھیک کرلیا۔ روحی میری روح ، قعوا گرپڑو۔ ابی انکار کیا۔ ان یکون یہ کہ وہ ہو۔ مالک تجھے کیا ہوا۔ لم اکن میں نہیں ہوں بشر انسان۔ اخرج نکل جا۔ لعنت لنت، اللہ کی رحمت سے دوری۔ انظرنی تو مجھے مہلت دیدے۔ یبعثون (اٹھائے جائیں گے) ۔ اغویت (اغوائ) تو نے سیدھی راہ سے ہٹا دیا ۔ سلطن قوت، زور الغوین بہکنے والے۔ موعد وعدہ کی جگہ۔ سبعۃ ابواب سات دروازے۔ جزاء حصہ۔ مقسوم تقسیم کیا گیا۔
تشریح : آیت نمبر 26 تا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش
ارشاد ہوتا ہے کہ جب آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو سوکھی مٹی کو پانی میں گوندگ کر خمیر بنایا۔ اس سے آدم (علیہ السلام) کا پتلا بنا کر اس میں روح پھونک دیا اور وہ انسان ہوگیا۔ پھر اس کے بعد اولاد آدم کی پیدائش کا سلسلہ منی سے جو قرار پایا ہے، اس کا ذکر قرآن شریف میں جدا آیا ہے۔ پھر فرمایا کہ ہم نے صرف آدم ہی کو اپنی قدرت کاملہ سے نہیں پیدا کیا بلکہ اس سے ہزاروں برس پہلے جنات کا سلسلہ جس کا نام جان ہے، آگ سے پیدا کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جان سب جنوں کے باپ کا نام ہے اول ملائکہ کو بنایا ان کے بعد جن کی قوم کو۔ جن کا مادہ ملائکہ سے ذرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
[10] یعنی انسان اول آدم (علیہ السلام) ۔
[11] اصل الفاظ ہیں حماً مسنون۔ حماً عربی زبان میں اس سیاہ کیچڑ یا گارے کو کہتے ہیں جس میں بو پیدا ہوگئی ہو اور خمیر اٹھ آیا ہو۔ مسنون کے دو معنی ہیں : (1) ایسی سڑی ہوئی مٹی جس میں لیس پیدا ہوگیا ہو۔ (2) قالب میں ڈھلی ہوئی مٹی۔
[12] اصل لفظ صلصال استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں بجنے والی خشک مٹی۔
[13] آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان اول کا پتلا سڑی ہوئی لیس دار مٹی سے بنایا جو بننے کے بعد خشک ہوا اور پھر اسی خشک بجنے والی مٹی کے پتلے میں روح پھونکی گئی جیسا کہ اگلی آیت میں مذکور ہے۔ بالفاظ دیگر انسان اول کی براہ راست تخلیق (Direct Creation) کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
جنوں کا وجود :
(ف 2)
جنوں کی پیدائش آدم سے پہلے ہے انکی فطرت اجزائے ناریہ سے ہے اسلئے یہ انسان سے زیادہ لطیف اور سبک ہوتے ہیں گویہ نظر نہیں آتے ، مگر ان کے وجود سے انکار نہیں کیا جاسکتا ؟
آج نئے تجربوں نے ہی ثابت کردیا ہے کہ کچھ لطیف اجسام ایسے ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتے مگر ہو ہماری طرح ایک خاص قسم کے زندگی رکھتے ہیں ، ان کے اجسام ہیں ، ان کی خاص شکلیں ہیں ان کے اپنے مخصوص مشاغل ہیں ۔
یورپ میں بعض ایسی علمی مجلسیں ہیں جنہوں نے برسوں کی تحقیقات کے بعد یہ ثابت کیا ہے جنات کا انکار واقعات کا انکار کرنا ہے ، آج سے نصف صدی پیشتر ان کا انکار روشن خیالی میں داخل تھا کہ آج مفتی کہہ رہا ہے جنوں کا وجود…
Read the full tafseer →27 ۔ اور جان یعنی ابو الجنات کو ہم نے انسان کی پیدائش سے پہلے گرم ہوا کی آگ سے پیدا کیا ، حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مٹی کو پانی میں تر کیا اور خمیر اٹھایا کہ کھن کھن بولنے لگی وہ بدن ہوا انسان کا اس کی خاصیتیں اس میں رہ گئیں سختی اور بوجھ اسی طرح گرم باد کی خاصیت رہی جن کی پیدائش میں ۔ 12
یعنی جس طرح انسان کو مٹی سے بنایا اسی طرح جنات کو آگ سے بنایا وہ آگ خالص ہونے کی وجہ سے گرم ہوا کی مانند تھی جو نظر نہ آتی تھی ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی لطیف آگ ہوا سے ملی ہوئی ابلیس بھی اسی قسم میں ہے۔ 12
خلاصہ۔ یہ کہ جس طرح حضرت آدم (علیہ السلام) میں مٹی کے اجزا غالب تھے اسی طرح جنات میں آگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
ف 5۔ یعنی آدم (علیہ السلام) کے قبل۔
Read the full tafseer →تفسیر :
27۔ جن ‘ فرشتہ اور انسان کے متعلق مختصر الفاظ میں ذہن نشین رکھنے کی بات یہ ہے کہ کبھی تو جن اور فرشتہ دو مخالف قوتوں کے نام کے طور پر قرآن کریم میں مذکور ہیں اور کبھی جن اور انسان دو متقابل شخصیتوں کے طور پر بیان ہوئے ہیں ، اس لئے ان کو سمجھنے میں اکثر غلطی ہوئی ہے ، وہ جن جو فرشتہ کے مخالف قوت کے طور پر اس نام سے معروف ہے بلاشبہ اس میں تولد وتناسل نہیں اور وہ مکلف بھی نہیں بلکہ ملائکہ کے مقابلہ کی ایک طاقت کا نام ہے تاکہ دونوں میں امتیاز قائم کیا جاسکے ایک ان میں سے نیکی وخیر کی طاقت ہے یعنی ملک یا فرشتہ اور دوسری برائی اور شر کی طاقت ہے یعنی ابلیس یا شیطان اور وہ مخلوق جو ابو البشر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
Going Ahead and Remaining Behind in Righteous Deeds: The Difference in Degrees
Some exegetic interpretations of the words: (al-mustaqdimin) : 'those who go ahead' and: (al-musta'khirin) : 'those who remain behind' appearing in verse 24: الْمُسْتَقْدِمِينَ ~.A11 have been variously reported from Tafsir authorities among the Sahabah ؓ and Tabi` in. These are:
1. 'Al-Mustaqdimin' are those born to date, and 'Al-Musta'khirin' are those not born yet [ Qatadah and ` Ikrimah ].
2. 'Al-Mustaqdimin' means the dead, and 'Al-Musta'khirin' means those alive till now [ Ibn ` Abbas and Dahhak ]
3.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
18. As samum is not wind, nar-i-samum will mean flame of intense heat and not of fire. This is the explanation of those passages in which it has been stated that jinns have been created from fire.
Read the full tafseer →