Al-Hijr 15:26

Al-Hijr · from ayah 26

15:26

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ۟ۚوَلَـقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ‌ۚ

اور ہم نے انسان کو کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We did certainly create man out of clay from an altered black mud.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 3 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:26

ہم نے انسان کو سٹری ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے بنایا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے انسان کو کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً ہم نے انسان کو کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے، پیدا فرمایا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہم نے انسان کو سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے آدمی کو بجتی ہوئی مٹی سے بنایا جو اصل میں ایک سیاہ بودار گارا تھی، ف۳۳)

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم نے انسان کی (کیمیائی) تخلیق ایسے خشک بجنے والے گارے سے کی جو (پہلے) سِن رسیدہ (اور دھوپ اور دیگر طبیعیاتی اور کیمیائی اثرات کے باعث تغیر پذیر ہو کر) سیاہ بو دار ہو چکا تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ہم نے انسان کو ایک بجنے والی مٹی سے پیدا کیا، جو بدبودار، سیاہ کیچڑ سے تھی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے انسان کو گلے سڑے گارے سے خشک شدہ ٹن سے بجنے والی مٹی سے پیدا کیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور بیشک ہم ہی نے انسان کو سڑے ہوئے گارے کی کھکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ ہم ہی نے پیدا کیا انسان کو سڑے ہوئے گارے کی (ٹھیکرے کی طرح) بجتی مٹی سے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور بالیقین ہم نے انسان کو لس دار گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یقیناً ہم نے بنایا ہے انسان کو سنے ہوئے گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے انسان کو کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely We brought man into being out of dry ringing clay which was wrought from black mud,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Indeed We created man from a ringing clay made of decayed mud.

— Muhammad Taqi Usmani

Indeed We created man from a ringing clay made of decayed mud.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed, We created man from dried (sounding) clay of altered mud.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Verily We created man of potter's clay of black mud altered,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We did certainly create man out of clay from an altered black mud.

— Saheeh International

We have created the human being out of pure mud-moulded clay

— Muhammad Sarwar

And certainly We created man of clay that gives forth sound, of black mud fashioned in shape.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We have created human being from ringing clay of loam moulded.

— Abdul Majid Daryabadi

We created man from sounding clay, from mud moulded into shape;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:26

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–27

خشک مٹی صلصال سے مراد خشک مٹی ہے۔ اسی جیسی آیت (خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ 14 ۙ) 55۔ الرحمن :14) ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ بو دار مٹی کو حما کہتے ہیں۔ چکنی مٹی کو مسنون کہتے ہیں۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں تر مٹی۔ اوروں سے مروی ہے بو دار مٹی اور گندھی ہوئی مٹی۔ انسان سے پہلے ہم نے جنات کو جلا دینے والی آگ سے بنایا ہے۔ سموم کہتے ہیں آگ کی گرمی کو اور حرور کہتے ہیں دن کی گرمی کو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس گرمی کی لوئیں اس گرمی کا سترہواں حصہ ہیں۔ جس سے جن پیدا کئے گئے ہیں۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ جن آگ کے شعلے سے بنائے گئے ہیں یعنی آگ سے بہت بہتر۔ عمرو کہتے ہیں سورج کی آگ سے۔ صحیح میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحِجْر 17 یہاں قرآن اس امر کی صاف تصریح کرتا ہے کہ انسان حیوانی منازل سے ترقی کرتا ہوا بشریت کے حدود میں نہیں آیا ہے، جیسا کہ نئے دور کے ڈارونییت سے متاثر مفسرین قرآن ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، بلکہ اس کی تخلیق کی ابتداء براہ راست ارضی مادوں سے ہوئی ہے کی کیفیت کو اللہ تعالیٰ نے صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَأِ ٍ مَّسْنُوْنٍ کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ حَمأ عربی زبان میں ایسی سیاہ کیچڑ کو کہتے ہیں جس کے اندر بو پیدا ہوچکی ہو، یا بالفاظ دیگر خمیر اٹھ آیا ہو۔ مسنون کے دو معنی ہیں۔ ایک معنی ہیں متغیر، منتن اور املس، یعنی ایسی سڑی ہوئی جس میں سڑنے کی وجہ سے چکنائی پیدا ہوگئی ہو۔ دوسرے معنی میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–28

خلاصہ تفسیر اور ہم نے انسان کو (یعنی اس نوع کی اصل اول آدم ؑ کو) بجتی ہوئی مٹی سے جو کہ سڑے ہوئے گارے کی بنی ہوئی تھی پیدا کیا (یعنی اول گاڑے کو خوب خمیر کیا کہ اس میں بو آنے لگی پھر وہ خشک ہوگیا کہ وہ خشک ہونے سے کھن کھن بولنے لگا جیسا مٹی کے برتن چٹکی مارنے سے بجا کرتے ہیں پھر اس خشک گارے سے آدم کا پتلا بنایا جو بڑی قدرت کی علامت ہے) اور جن کو (یعنی اس نوع کی اصل ابو الجان کو) اس کے قبل (یعنی آدم ؑ کے قبل) آگ سے کہ وہ (غایت لطافت کی وجہ سے) ایک گرم ہوا تھی پیدا کرچکے تھے مطلب یہ کہ چونکہ اس آگ میں اجزائے دخانیہ نہ تھے اس لئے وہ مثل ہوا کے نظر نہ آتی تھی کیونکہ آگ کا نظر آنا اجزائے کثیفہ کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون۔ آیات 26 تا 48: آدم و ابلیس کے ماجرے کا حوالہ : آگے کی آیات میں آدم اور ابلیس کے ابتدائی ماجرے کا حوالہ دیا ہے۔ مقصود اس حوالہ سے اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ آج جو لوگ ایمان نہیں لا رہے ہیں اور نہایت غرور وتکبر کے ساتھ خدا کے رسول کی تکذیب کررہے ہیں ان کے کفر اور تکبر کا اصل سبب یہ نہیں ہے کہ رسولوں کی باتوں کی صداقت ثابت کرنے کے لیے دلیلیں موجود نہیں ہیں یا ان کی طلب کے مطابق ان کو معجزے نہیں دکھائے جا رہے ہیں بلکہ یہ ذریات ابلیس کے اس فریب میں آئے ہوئے لوگ ہیں جس کی دھمکی ابلیس نے اس وقت دی تھی جب اس کو آدم کے سجدہ کا حکم ہوا تھا۔ اس وقت اس نے سجدہ سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

26۔ 1 مٹی کی مختلف حالتوں کے اعتبار سے اس کے مختلف نام ہیں، خشک مٹی، بھیگی ہوئی، گوندھی ہوئی بدبودار خشک ہو کر کھن کھن بولنے لگے تو اور جب آگ سے پکا لیا جائے تو (ٹھیکری) کہلاتی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا جس طرح تذکرہ فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم خاکی کا پتلا مٹی سے بنایا گیا، جب وہ سوکھ کر کھن کھن کرنے لگا (صلصال) ہوگیا۔ تو اس میں روح پھونکی گئی، اسی طرح صلصالِ کو قرآن میں دوسری جگہ (فخار کی ماند کہا گیا ہے (خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ) 55۔ الرحمن :14) ' پیدا کیا انسان کو کھنکھناتی مٹی سے جیسے ٹھیکرا '

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 25–26

12: اس سے مراد حضرت آدم ؑ کی تخلیق ہے جس کا مفصل واقعہ سورة بقرہ (30، 34) میں گذر چکا ہے اور وہاں فرشتوں کو سجدے کا حکم دینے سے متعلق ضروری نکات بھی بیان ہوچکے ہیں

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 26–27

ذرا اب اس قصے کے مناظر کو یہاں ہم تفصیل سے لیتے ہیں۔ آیت نمبر 26 تا 27 قصے کے آغاز ہی میں یہ کہا جاتا ہے کہ انسان اور جنات یا شیطانوں کی فطرتوں میں یوم تخلیق کائنات سے ہی فرق امتیاز ہے۔ انسان کو بجنے والی خشک مٹی سے پیدا کیا گیا جو سڑی ہوئی خمیری مٹی یعنی کیچڑ سے لی گئی تھی یعنی اس مٹی کو ٹھوکا جائے تو بجتی ہے اور شیطان کو نار سموم یا آگ کی لپیٹ یا شعلے سے بنایا گیا ہے۔ بعد میں معلوم ہوگا کہ انسان کے مزاج میں ایک جدید عنصر بھی داخل ہوا ہے یعنی انسان کے اندر اللہ نے اپنی روح پھونکی ہے۔ رہا شیطان تو وہ نار سموم ہی کی طبیعت پر قائم ہے۔ واذ قال ربک ۔۔۔۔۔ حما مسنون (28) فاذا سویتہ ۔۔۔۔ سجدین (29)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 آیات آفاقیہ کے بعد بعض آیات انفسیہ کو بیان فرماتے ہیں جس کے ضمن میں شاید یہ تنبیہ بھی مقصود ہے کہ جس ذات منبع الکمالات نے تم کو ایسے انوکھے طریقہ سے اول پیدا کیا، دوبارہ پیدا کر کے ایک میدان میں جمع کردینا اس کے لیے کیا مشکل ہے۔ (تنبیہ) آدمی کی پیدائش کے متعلق یہاں دو لفظ فرمائے " صَلْصَال " (بجنے والی کھنکھناتی مٹی جو آگ میں پکنے سے اس حالت کو پہنچتی ہے اسی کو دوسری جگہ " کالفخار " فرمایا) اور " حَمَاٍمَّسْنُوْنٍ " (سڑا ہوا گارا جس سے بو آتی ہو) خیال یہ ہوتا ہے کہ اول سنے ہوئے گارے سے آدم کا پتلا تیار کیا، پھر جب خشک ہو کر اور پک کر کھن کھن بجنے لگا، تب مختلف تصورات کے بعد اس درجہ پر پہنچا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 26 وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ حَمَاٍ مَسْنُون سے سنا ہوا گارا مراد ہے ‘ جس سے بدبو بھی اٹھ رہی ہو۔ اس رکوع میں یہ ثقیل اصطلاح تین مرتبہ استعمال ہوئی ہے۔ انسان کے مادۂ تخلیق کے حوالے سے قرآن میں جو مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں ‘ ان پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے مرحلے پر تراب یعنی مٹی کا ذکر ہے ‘ چناچہ فرمایا : وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ الروم : 20۔ مٹی میں پانی مل کر گارا بن جائے تو اس گارے کو عربی میں ”طِین“ کہتے ہیں۔ لہٰذا انسان کی تخلیق کے سلسلے میں طین کا ذکر بھی قرآن میں متعدد بار ہوا ہے۔ سورة الاعراف میں ہم…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 1 آدم کی پیدائش مٹی سے ہوئی :۔ مٹی کے لیے عربی زبان میں عام لفظ تراب ہے جو ہر طرح کی مٹی پر بولا جاسکتا ہے۔ جیسے سیدنا آدم کے متعلق ایک مقام پر فرمایا : (خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ 59؀) 3 ۔ آل عمران :59) تاہم تراب کا لفظ عموماً خشک مٹی کے لیے بولا جاتا ہے اور انسان کے پتلے کی ساخت میں مٹی کی جن اقسام کا ذکر قرآن میں آیا ہے وہ یہ ہیں۔ طین یعنی گیلی مٹی یا وہ خشک مٹی جس میں پانی ملایا گیا ہو طین لازب چپک دار گیلی مٹی ( چکنی مٹی) اس کے بعد اسی مٹی کو حَمَاٍمَّسْنُوْنٍ کی شکل دی گئی یعنی ایسی مٹی یا گارا جو گل سڑ کر سیاہ رنگ کی ہوگئی ہو خمیر اٹھ رہا ہو اور بو پیدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

23۔ یعنی انسان اول کا پتلا اسی خشک مٹی سے بنایا، جو چٹکی مارنے سے کھن کھن آواز دیتی ہے اور پھر اسی ابوالبشر سے ساری نسل انسانی نکالی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 26–44

آیت نمبر 26 تا 44 ترجمہ : بیشک ہم نے انسان (یعنی) آدم کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا یعنی ایسی خشک مٹی جب اس کو نجایا جائے تو اس کی آواز سنی جائے اور اس سے پہلے (یعنی) تخلیق آدم سے پہلے ہم نے جنات (یعنی) ابو الجن کو کہ وہ ابلیس ہے شعلے سے کہ جس میں دھواں نہ ہو اور وہ مسامات (یعنی بدن کے مسامات) میں نفوذ کر جائے پیدا کیا اور اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں انسان کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناے والی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں تو جب میں اس کو مکمل کر چکوں اور اس میں اپنی روح ڈال چکوں اور وہ زندہ ہوجائے اور روح کی نسبت اللہ کی طرف آدم کیلئے کرامت کے طور پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد خلقنا الانسان من صلصال من حما مسنون اور بلاشبہ ہم نے انسان کو پیدا کیا بجتی ہوئی مٹی سے جو سڑے ہوئے گارے سے تیار کی ہوئی تھی۔ الْاِنْسَان (میں الف لام جنسی ہے ‘ اس) سے مراد ہے : جنس بشر ‘ یعنی حضرت آدم کو پیدا کیا۔ انسان کی وجوہ تسمیہ متعدد ہیں۔ اِنس کا معنی ہے : ظہور ‘ انسان ظاہر ہے آنکھ سے دکھائی دیتا ہے۔ اُنس کا معنی دل بستگی اور پریم بھی ہے ‘ انسان باہم مانوس ہوتے ہیں۔ یا نسیان سے مشتق ہے۔ حضرت آدم کو ایک حکم دیا گیا تھا مگر وہ اس کو بھول گئے۔ نسیان کا معنی ہے : بھولنا۔ صَلْصَال خشک مٹی جو آگ میں نہ پکائی گئی ہو اور کھن کھن بولتی ہو (یعنی بجانے سے کھنکھناتی ہو) حضرت ابن عباس نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 26–27

(26۔ 27) اور ہم نے آدم ؑ کو بجتی ہوئی مٹی سے جو کہ سڑے ہوئے گارے کی تھی پیدا کیا اور ابو الجن کو آدم ؑ سے پہلے ایسی آگ سے جس میں دھواں نہیں تھا پیدا کرچکے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ۔۔ : اس سورت میں آیت (16) (وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا) سے دلائلِ توحید کا بیان چلا آ رہا ہے، جب اوپر کی آیات میں مختلف چیزوں کی تخلیق کو بطور دلیل ذکر کیا تو اب انسان کے پیدا کیے جانے کو بطور دلیل ذکر کیا جا رہا ہے، الغرض یہ دلائلِ توحید میں ساتویں قسم ہے۔ (کبیر) مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ : عربی زبان میں خشک مٹی کو ”تُرَابٌ“ کہتے ہیں، جب اسے بھگو دیا جائے تو وہ ”طِیْنٌ“ کہلاتی ہے، پھر جب مدت تک پڑی رہنے سے وہ سیاہ ہوجائے تو اسے ”حَمَاٍ“ کہتے ہیں، بدبو بھی آنے لگے تو ”حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ“ (بدبو دار کیچڑ) کہتے ہیں، پھر جب وہ خشک ہو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 26 قولہ تعالیٰ : ولقد خلقنا الانسان یعنی بلاشبہ ہم نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا۔ من صلصال یعنی خشک کھنکتی مٹی سے ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے منقول ہے۔ اور الصلصال : ایسی مٹی (گارا) جس میں ریت نہ ملی ہوئی ہو جب وہ ریت کے ساتھ مل جائے اور جب خشک ہوجائے، بجنے لگے، پھر جب اسے آگ پر پکا لیا جائے تو وہ فخار کہلاتی ہے ؛ یہ ابو عبیدہ سے مروی ہے۔ اور یہی اکثر مفسرین کا قول ہے۔ اور اہل لغت نے بیان کیا ہے : کعدو المصلصل الجوال اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : اس سے مراد بدبودار گارا ہے اور کسائی نے اسے اختیار کیا ہے۔ فرمایا : یہ عربوں کے اس قول سے ہے : صل اللحم وأصل جب گوشت بدبودار ہوجائے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابوالشیخ نے العظمہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو تین قسم کی مٹی سے پیدا فرمایا بجتی ہوئی مٹی سے، سڑے ہوئے گارے سے، ا ورمٹی چپکنے والی، عمدہ چپکنے والی، نرم بجنے والی مٹی جس سے ٹھیکری بنائی جاتی ہے اور سڑا ہوا گارا وہ مٹی جس میں سڑندہو۔ انسان کی پاکیزہ مٹی سے تخلیق ہوئی۔ 2:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” من صلصال “ یعنی صلصال سے وہ مٹی مراد ہے کہ جب پاکیزہ زمین پر پانی واقع ہو پھر وہ اس مٹی میں جذب ہوجائے اس کے بعد مٹی خشک ہوجائے پھر وہ ٹھیکری کی طرح بجنے لگے۔ 3:۔ ابن جریر، ابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَقَدْ خَلَقْنَا : اور یقینا ہم نے پیدا کیا ہے ] [ الْانسَان : انسان کو ] [مِنْ صَلْصَالٍ : ایسی کھنکتی مٹی سے جو ] [مِّنْ حَمَا مَّسْنُوْنٍ : گیلے گارے سے تھی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 26–30

انسان اور جنات کی تخلیق، ابلیس کو سجدہ کرنے کا حکم اور اس کی نافرمانی اور ملعونیت، بنی آدم کو ورغلانے کے لیے اس کا قسم کھانا اور لمبی عمر کی درخواست کرنا، مخلصین کے بہکانے سے عاجزی کا اقرار، ابلیس کا اتباع کرنے والوں کے لیے داخلہ دوزخ کا اعلان ان آیات میں انسان اور جنات کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا اور یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک بشر کو پیدا فرمانے والا ہوں جب میں اسے پوری طرح بنا دوں اور اس میں روح پھونک دوں تو تم سب اس کے لیے سجدہ میں گرپڑنا، چناچہ جب اس بشر کی تخلیق ہوگئی اور روح پھونک دی گئی جس کے پیدا فرمانے کا پہلے سے اعلان فرمایا تھا تو تمام فرشتے اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–44

ذکر پیدائش انس و جن و قصہ پیدائش آدم (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ : ولقد خلقنا الانسان من صلصال .... الیٰ .... لکل باب منھم جزء مقسوم۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں حق جل شانہ نے حیوانات کی پیدائش سے اپنی قدرت اور خالقیت کا ذکر فرمایا اب یہاں جن و انس سے اسی مقصود پر استدلال فرماتے ہیں اور جان سے مراد یہاں جنوں کا باپ ہے جس طرح اوپر کی آیتوں میں انسان سے تمام انسانوں کے باپ مراد ہیں دونوں میں فرق یہ ہے کہ آدمیوں کا باپ، ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ترابی غالب تھا اور جنوں کا باپ ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ناری کا غلبہ تھا۔ ابلیس اسی قسم میں سے تھا اللہ تعالیٰ نے ان دو مختلف…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 24–27

12:۔ یہ دوسرا دعوی ہے یعنی سب کچھ جاننے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں کیونکہ ” اَلْمُسْتَقْدِمِیْنَ “ اور ” اَلْمُسْتَاخِرِیْنَ “ جمیع ماکان ومایکون سے کنایہ ہے۔ اس میں بھی حصر ہوگا کیونکہ دلیل کے پہلے حصوں میں حصر ہے۔ ” وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ الخ “ یہ بھی دلیل ہی کا حصہ ہے اے انسان ! ذرا اپنی حقیقت کو تو دیکھ کہ تجھے ہم نے ایک متعفن کیچڑ سے پیدا کیا اور تمام ظاہری اور باطنی انعامات کی تجھ پر بارش کردی مگر پھر بھی تو سرکشی کرتا ہے توحید سے منہ موڑتا اور پیغمبروں کا انکار کرتا ہے۔ اور جن شیاطین کے بہکانے سے تو شرک کرتا اور توحید کو نہیں مانتا ان کی پیدائش بھی دیکھ کہ یہ سب…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 26–35

(ربط آیات) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کے دلائل بیان ہوئے ، پہلے بیرونی دلائل کا ذکر ہوا جن میں آسمانوں کی تخلیق ، اس میں ستاروں اور سیاروں کو چلانا ، پھر زمین کو پھیلانا اور اس میں طرح طرح کی چیزیں پیدا کرنا ، پھر زمین وآسمان کے درمیان فضاؤں میں ہواؤں کو چلانا ، بادلوں کو اٹھانا ، باران رحمت کا نزول ، انسانوں ، جانوروں اور نباتات کے لیے پانی کی بہم رسانی اور اس کے نتیجے میں خوراک کا مہیا کرنا وغیرہ بیرونی دلائل تھے ، اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے قیامت کا ذکر بھی فرمایا (آیت) ” ان ربک ھو یحشرھم “۔ تیرا پروردگار ان سب کو اس دن اکٹھا کریگا وہ انسان کو دوبارہ زندہ کرنے پر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ 26؀ۚ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے صلل أصل الصَّلْصَالِ : تردُّدُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : من حما موضع جر میں صفت ہے صلصال کی باعادۃ الجار۔ والجان منصوب ہے، علی شریطۃ التفسیر انی الخ جملہ مقولہ ہے قال کا فاذا شرط و نفخت عطف ہے سویتہ پر۔ فقعوا جواب شرط میں اور قعوا امر ہے وقع یقع سے۔ تمام جملہ خبر میں ہے قال کے۔ الا ابلیس اگر منقطع کہا جاوے تو ابی ان الخ کے ساتھ متصل ہوگا اے ولکن۔ اور اگر متصل مانا جاوے گا تو جدا کلام ہوگا سائل کا جواب۔ الحماء الطین الاسودقال ابوعبیدۃ الحماء بسکون المیم والتحریک والجمع الحما مثل تمرۃ و تمرو الحماء مصدر مثل الہلع و الجزع۔ والمسنون قال الفراء ھو المتغیر وصلہ من سنئت المحجر علی الحجر اذاحککتہ و ما یخرج منہما یقال لاسنانۃ۔ وقیل اصلہ من اسن الماء…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَأٍ مَّسْنُوْنٍ ۔ (سورۃ الحجر : 26) (بیشک ہم نے انسان کو پیدا کیا سڑے ہوئے بدبودار گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے۔ ) مشکل الفاظ کی تشریح اس آیت کریمہ میں کچھ مشکل الفاظ آئے ہیں، پہلے ان کے معنی سمجھ لیجئے۔ صَلْصَالٍ : اس خشک شدہ کیچڑ کو کہتے ہیں جو خشک ہونے کے بعد بجنے لگے۔ حَمَأٍ: اس سیاہ کیچڑ کو کہتے ہیں جس کے اندر خمیر اٹھ جائے۔ مَّسْنُوْنٍ : بدبودار کیچڑجس میں چکنائی پیدا ہوگئی ہو۔ اس کے علاوہ اس کا اطلاق اس قالب پر بھی ہوتا ہے جسے ایک خاص صورت میں ڈھالا گیا ہو۔ اہلِ لغت کے نزدیک مختلف حالتوں میں مٹی کے مختلف نام ہیں۔ پانی میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 26–27

فہم القرآن ربط کلام : زمین و آسمانوں اور پہاڑوں کی تخلیق کے ذکر کے بعد انسان کی تخلیق کا بیان۔ یہاں بڑے لطیف انداز میں لوگوں کو موت کے بعد جی اٹھنے پھر حشر کے میدان میں اکٹھا ہونے کی دلیل دی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اے لوگو ! ذرا غور کرو جس نے تمہیں بدبودار گارے اور کھڑکھڑانے والی مٹی سے پیدا کیا ہے اور تم سے پہلے جنات کو آگ کی لو سے پیدا کیا۔ کیا وہ قیامت کے دن تمہیں دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا ؟ کیوں نہیں، یقیناً وہ پیدا ہی نہیں بلکہ سب کو اپنے حضور جمع کر کے تمہارے اعمال پر تمہیں جزا یا سزا بھی دے گا۔ قرآن مجید نے اس بات کو باربار بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تخلیق آدم۔ : 26: وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ (تحقیق ہم نے انسان کو پیدا کیا) یعنی آدم (علیہ السلام) مِنْ صَلْصَالٍ (بجنے والی مٹی سے) خشک مٹی جس کو آگ نہ پہنچی ہو مِّنْ حَمَأٍ (سیاہ گارے سے) یہ صلصال کی صفت ہے ای خلقہ من صلصال کائن من حمأ ای طین اسود متغیر اس کو پیدا کیا گارے سے جو بننے والی تھی سیاہ رنگ متغیر مٹی سے مَّسْنُوْنٍ (پتلا جس میں نقوش بنا دیے جائیں) جسمیں تصویر بنادی جائے۔ شروع میں تراب تھی جب اس کو پانی سے گوندھ دیا گیا تو طین بن گئی تو پھر پڑی رہی تو سیاہ کیچڑ بن کر حماء کہلائی جب اس کا نچوڑ نکالا تو سلالہ ہوگئی اس میں صورت بنائی تو مسنون کہلائی جب سخت ہوئی تو صلصال کہلائی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

26۔” ولقد خلقنا الانسان “ اس سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں ۔ یہاں انسان سے اس لیے تعبیر کیا اس کا معنی ہے ظہور اور انسان ظاہر ہے ، آنکھ سے دکھائی دیتا ہے اور بعض نے کہا کہ انسان نسیان سے مشتق ہے کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو ایک حکم دیا گیا تھا مگر وہ اس کو بھول گئے۔ ” من صلصال “ وہ خشک مٹی جو آگ میں نہ پکائی گئی ہو اور کھن کھن بولتی ہو۔ صلصال کی تشریح ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ وہ عمدہ پاکیزہ کیچڑ ہے جس میں پانی سوکھ جانے کی وجہ سے شگاپیدا ہوجاتے ہیں اور جب اس کو ہلایا جاتا ہے تو کھڑکھڑ کی آواز دیتی ہے۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ بدبو دار کیچڑ کو ” صلصال “ کہتے ہیں ۔ کسائی نے اسی کو اختیار…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 26–27

26۔ 27۔ فرمایا کہ انسان کھنکھناتی ہوئی مٹی سے بنایا اور جن کو آگ کی لو سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ و مجاہد و قتادہ کا قول ہے کہ صلصال خشک مٹی کو کہتے ہیں اور حما مسنون گوندھی ہوئی کیچڑ کو کہتے ہیں اللہ پاک نے جب آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو پاک و صاف سوکھی مٹی کو پانی میں گوندھ کر خمیر بنایا اور اس سے آدم (علیہ السلام) کا پتلا بنا کر اس میں روح کو پھونک دیا ترمذی اور ابوداؤد وغیرہ کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا آدم (علیہ السلام) کا پتلہ بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمام زمین کی مٹی لی ہے۔ اسی واسطے اولاد آدم کی حالت مختلف ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 24–44

آیت 26 اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے باپ حضرت آدم پر اپنی نعمت اور اپنے احسان کا ذکر کرت ا ہے، حضرت آدم کا اپنے دشمن ابلیس کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کو بھی بیان کرتا ہے اور اس ضمن میں ہمیں ابلیس کے شر اور فتنہ سے ڈراتا ہے، چناچہ فرمایا : (ولقد خلقنا الانسان) ” ہم نے انسان کو پیدا کیا۔ “ یعنی آدم کو پیدا کیا (من صلصال من حما مسنون) ” کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے “ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہوجاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔ (الحما المسنون) اس گارے کو کہتے ہیں، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں۔ (والجآن) ” اور جنوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 24–32

27۔ اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ وذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ایک برابر اور خوب جانتے ہیں آگے بڑھنے والوں کو بھی اور پیچھے رہنے والوں کو بھی وجود وموت کے اعتبار سے۔ نیز نماز کی صف اول میں اور صف جہاد میں آگے بڑھنے اور پیچھے رہ جانے والوں کو وغیرہ وغیرہ، مختلف اقوال ہیں اور یہ سب ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ ان میں کوئی تعارض نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا علم ان سب ہی مفاہیم ومطالب کو شامل اور عام ہے۔ الفاظ کا عموم بھی ان سب کو شامل ہے اور یہی بات دراصل یہاں بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر لحاظ سے کامل اور اس کی سب ہی مخلوق کو شامل ہے۔ کوئی بھی چیز اس کے علم کے باہر نہیں ہوتی (ابن جریر، ابن…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 26–44

انسان کی پیدائش اور ابلیس کی نافرمانی تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا قصہ اور شیطان کا ملعون ہونا سورة بقرہ رکوع 4، سورة نساء رکوع 18 اور سورة اعراف رکوع 2 میں بڑی وضاحت سے بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں سورة الحجر میں کیونکہ ان آیات سے پہلے تمام کائنات اور ہر چیز کے ناپ تول کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے یہاں انسان کی پیدائش، جسم، نفس، روح اور زندگی کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب بھی اللہ نے بڑے حساب کتاب اور ناپ تول سے بنائے ہیں۔ یہاں وہ تمام راز کھول کر بیان کردیے گئے ہیں جو انسانی سائنسی تحقیقات سے بہت بلند ہیں۔ پچھلی آیات سے جو کچھ معلوم ہوا وہ تو تمام تخلیقات کے بارے میں تھا۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 26–44

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف خود انسان کو بھی تو ہم نے ہی پیدا کیا سڑے ہوئے مٹی گارے سے جو خشک ہوچکا تھا ۔ (جنات کو پہلے پیدا کیا گیا) قبل ازیں ہم جنات کو آگ کی لو سے پیدا کرچکے تھے یعنی آگ کی وہ تپش جو ایک گرم ہوا کی صورت میں تھی کہ آگ کا نظر آنا اجزائے کثیفہ کی ملاوٹ سے ہوتا ہے ورنہ وہ بہت لطیف ہوتی ہے تو گویا جنات کا وجود اسی سے پیدا ہوا جو نظر نہیں آتا ، اور جنات پہلے سے زمین پر آباد کئے گئے تھے ،۔ پھر وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب آپ کے رب نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میں کھنکتے اور سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر تخلیق کر رہا ہوں جب وہ بن چکے اور میں اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب کے سب اس کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 24–26

ف 7 ۔ اس سورة میں آیت : ’ ولقد جعلنا فی السماء برزجا الک “ سے دلائل توحید کا بیان چلا آرہا ہے۔ جب اوپر کی آیت میں حیوانات کی تخلیق کو بطور دلیل ذکر کیا تو اب انسان کے پیدا کئے جانے کو بطور دلیل ذکر کیا جا رہا ہے۔ الغرض دلائل توحید میں یہ ساتویں قسم دلیل کی ہے۔ (کبیر) ۔ عربی زبان میں خشک مٹی کو تراب کہتے ہیں جب اسے بھگو دیا جائے تو وہ سین کہلاتی ہے پھر جب خوب گوندھ دینے کے بعد اس میں سے بو آنے لگے تو اسے ” حماء مسنون “ کہا جاتا ہے۔ پھر تب خشک ہو کر کھن کھن بولنے لگے تو وہ صلصال کہلاتی ہے اور اسے جب آگے میں پکا دیا جائے تو فخار کہتے ہیں۔ آیت میں الفاظ کی ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے ہوئے گار…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:26) صلصال۔ صلصال (مادّہ ص ل ل) کے اصل معنی کسی خشک چیز سے آواز آنے کے ہیں۔ جیسے صل المسمار۔ جس کے معنی میخ کو کسی چیز میں ٹھونکنے سے آواز پیدا ہونے کے ہیں اور کھنکنے والی خشک مٹی کو بھی صلصال کہتے ہیں۔ صلصال کے معنی سڑی ہوئی مٹی کے بھی ہیں اور یہ صل اللحم سے مشتق ہے جس کے معنی گوشت کے بدبودار ہوجانے کے ہیں۔ صلصال۔ اصل میں صلال ہے۔ ایک لام کو ص سے بدل دیا گیا ہے۔ اور آیت کریمہ أ اذا ضللنا فی الارض۔ (32:10) کیا جب ہم زمین میں ملیامیٹ ہوجائیں گے۔ میں ایک قرأت صللنا بھی ہے یعنی جب ہم گل سڑ گئے۔ حما۔ گارا۔ کیچڑ۔ الحمی سے حماء مادہ۔ الحمأ سیاہ بدبودار مٹی۔ احما تھا۔ میں نے اسے کیچڑ سے بھر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 26–44

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 44 صلصال وہ مٹی جو سوکھ کر سخت ہوجائے اور بجنے لگے ۔ مسنون گوندھی گئی۔ السموم لو۔ نفخت میں نے پھونک دیا۔ پھونک ماردی، حما سڑی ہوئی مٹی، کیچڑ۔ جان جن۔ سویت میں نے برابر کردیا۔ ٹھیک کرلیا۔ روحی میری روح ، قعوا گرپڑو۔ ابی انکار کیا۔ ان یکون یہ کہ وہ ہو۔ مالک تجھے کیا ہوا۔ لم اکن میں نہیں ہوں بشر انسان۔ اخرج نکل جا۔ لعنت لنت، اللہ کی رحمت سے دوری۔ انظرنی تو مجھے مہلت دیدے۔ یبعثون (اٹھائے جائیں گے) ۔ اغویت (اغوائ) تو نے سیدھی راہ سے ہٹا دیا ۔ سلطن قوت، زور الغوین بہکنے والے۔ موعد وعدہ کی جگہ۔ سبعۃ ابواب سات دروازے۔ جزاء حصہ۔ مقسوم تقسیم کیا گیا۔ تشریح : آیت نمبر 26 تا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 26–27

حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش ارشاد ہوتا ہے کہ جب آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو سوکھی مٹی کو پانی میں گوندگ کر خمیر بنایا۔ اس سے آدم (علیہ السلام) کا پتلا بنا کر اس میں روح پھونک دیا اور وہ انسان ہوگیا۔ پھر اس کے بعد اولاد آدم کی پیدائش کا سلسلہ منی سے جو قرار پایا ہے، اس کا ذکر قرآن شریف میں جدا آیا ہے۔ پھر فرمایا کہ ہم نے صرف آدم ہی کو اپنی قدرت کاملہ سے نہیں پیدا کیا بلکہ اس سے ہزاروں برس پہلے جنات کا سلسلہ جس کا نام جان ہے، آگ سے پیدا کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جان سب جنوں کے باپ کا نام ہے اول ملائکہ کو بنایا ان کے بعد جن کی قوم کو۔ جن کا مادہ ملائکہ سے ذرا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–28

[10] یعنی انسان اول آدم (علیہ السلام) ۔ [11] اصل الفاظ ہیں حماً مسنون۔ حماً عربی زبان میں اس سیاہ کیچڑ یا گارے کو کہتے ہیں جس میں بو پیدا ہوگئی ہو اور خمیر اٹھ آیا ہو۔ مسنون کے دو معنی ہیں : (1) ایسی سڑی ہوئی مٹی جس میں لیس پیدا ہوگیا ہو۔ (2) قالب میں ڈھلی ہوئی مٹی۔ [12] اصل لفظ صلصال استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں بجنے والی خشک مٹی۔ [13] آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان اول کا پتلا سڑی ہوئی لیس دار مٹی سے بنایا جو بننے کے بعد خشک ہوا اور پھر اسی خشک بجنے والی مٹی کے پتلے میں روح پھونکی گئی جیسا کہ اگلی آیت میں مذکور ہے۔ بالفاظ دیگر انسان اول کی براہ راست تخلیق (Direct Creation) کی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–26

(ف 1) ان آیات میں تذکیر بآیات اللہ کے اصول کے موافق اللہ نے مظاہر مدبرت کی جانب توجہ دلائی ہے اور کہا ہے کہ تم ان فطرت کے کرشموں پر غور کرو ، تمہیں یقین آجائے گا کہ اللہ نے ان چیزوں کو بےفائدہ پیدا نہیں کیا بلکہ ان تمام چیزوں کے پیدا کرنے کا ایک مقصد ہے ، اس سلسلہ میں ایک عجیب چیز یہ بتائی ہے کہ ہوائیں جو پائی برساتی ہیں تو وہ پانی یہیں سے لیتی ہیں ۔ اور حاملہ عورت کی طرح وقت پر قطرات بارش کی ولادت ہوتی ہے ۔ یہ حقیقت اس وقت ظاہر فرمائی ہے جب عرب بارش کی متعلق صرف اس قدر جانتے تھے کہ آسمان پر دریا بہتے ہیں اور وہی سے پانی آتا ہے اور ہوائیں اسی پانی سے بوجھل ہو کر برستی ہیں ، علاوہ ازیں تشبیہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

26 ۔ اور بلا شبہ ہم نے انسان کو مٹی کے ایک ایسے سڑے ہوئے بدبو دار گارے سے پیدا کیا جو خشک ہونے کے بعد کھنکھناتی اور کھن کھن کی آواز دیتی تھی ۔ یعنی مٹی جب پک جاتی ہے تو چٹکی مارنے سے کھن کھن کی آواز دیتی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے پہلے گارے سے انسان کا پتلا بنایا پھر وہ پتلا خشک ہوگیا تو اس کو درجہ بدرجہ زنی دی یہاں تک کہ اس میں روح ڈالی گئی۔ انسان سے مراد یہاں ابو البشر حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا ہے جو سوکھ کر بجنے لگتی ہے : 26۔ فرمایا : ذرا اس حقیقت کی طرف آؤ کہ قدرت الہی نے کس طرح ایک حقیر سی چیز جو ہمیشہ تمہارے قدموں سے پامال ہوتی رہتی ہے سے تمہاری ہستی پیدا کی اور اسے اس درجہ تک بلند کیا کہ ملائکہ کے سجدہ کی علامت بنا دی گئی اور دنیا کی تمام قوتیں اس کے اعتبار و تصرف میں دے دی گئیں البتہ ایک قوت تمہارے آگے نہیں جھکی اور اس نے تم کو بطور علامت تسلیم کرنے سے عملی طور پر انکار کردیا وہ قوت کیا تھی ؟ فرمایا وہ ابلیس تھا جو ایک ایسی قوت ہے جو سراسر شر ہی شر ہے یہ تمہارے سامنے نہیں جھکی اور نہ ہی جھکے گی بلکہ تمہیں اپنے سامنے جھکانا چاہتی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–28

Going Ahead and Remaining Behind in Righteous Deeds: The Difference in Degrees Some exegetic interpretations of the words: (al-mustaqdimin) : 'those who go ahead' and: (al-musta'khirin) : 'those who remain behind' appearing in verse 24: الْمُسْتَقْدِمِينَ ~.A11 have been variously reported from Tafsir authorities among the Sahabah ؓ and Tabi` in. These are: 1. 'Al-Mustaqdimin' are those born to date, and 'Al-Musta'khirin' are those not born yet [ Qatadah and ` Ikrimah ]. 2. 'Al-Mustaqdimin' means the dead, and 'Al-Musta'khirin' means those alive till now [ Ibn ` Abbas and Dahhak ] 3.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

17. The Arabic word salsal means the dried clay which produces a sound like pottery. Hams is the black mud which has become so rotten as to be in a fermented state. Masnun has a double meaning: (a) rotten clay which has become greasy, (b) clay which has been molded into a shape. It is clear from the wording of the text that at first the image of man was made of clay from rotten earth and when it dried up, soul was breathed into it. Thus the Quran positively refutes the Darwinian theory of evolution that man came into existence after passing through continuous genetic adaptations. It will,…

Read the full tafseer →