Al-Hijr 15:25

Al-Hijr · from ayah 25

15:25

وَاِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ ؕ— اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ ۟۠وَاِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحۡشُرُهُمۡ‌ؕ اِنَّهٗ حَكِيۡمٌ عَلِيۡمٌ

اور تمہارا پروردگار (قیامت کے دن) ان سب کو جمع کرے گا وہ بڑا دانا (اور) خبردار ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And indeed, your Lord will gather them; indeed, He is Wise and Knowing.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:25

یقیناً تمہارا رب ان سب کو اکٹھا کرے گا، وہ حکیم بھی ہے اور علیم بھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تمہارا پروردگار (قیامت کے دن) ان سب کو جمع کرے گا وہ بڑا دانا (اور) خبردار ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کا رب سب لوگوں کو جمع کرے گا یقیناً وه بڑی حکمتوں واﻻ بڑے علم واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار ہی ہے جو ان سب کو حشر میں اکٹھا کرے گا، بیشک اس کی حکمت بھی بڑی ہے، اس کا علم بھی بڑا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک تمہارا رب ہی تمہیں قیامت میں اٹھائے گا بیشک وہی علم و حکمت والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک آپ کا رب ہی تو انہیں (روزِ قیامت) جمع فرمائے گا۔ بیشک وہ بڑی حکمت والا خوب جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بیشک تیرا رب ہی انھیں اکٹھا کرے گا۔ یقینا وہ کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ کا پروردگار ہی ان سب کو جمع کرے گا۔ بلاشبہ وہ حکمت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک تمہارا خداوند ہی ہے جو ان سب کو اکٹھا کرے گا۔ بیشک وہ علیم اور حکیم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ تمہارا رب اکٹھا کر لائے گا ان سب کو (میدان حشر میں) بیشک وہ بڑا ہی حکمت والا، نہایت ہی علم والا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور بیشک آپ کا پروردگار ہی تو انہیں (سب کو) جمع کرے گا بیشک وہ حکمت والا ہے علم والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یقیناً آپ کا رب ہی ہے جو ان سب کو جمع کرے گا۔ یقیناً وہ کمال حکمت والا خوب علم رکھنے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان سب کو جمع کرے گا وہ بڑا دانا اور خبردار ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Indeed your Lord will gather them all together. Surely He is All-Wise, All-Knowing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, your Lord will gather all of them together. Indeed He is All-Wise, All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, your Lord will gather all of them together. Indeed He is All-Wise, All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And verily, your Lord will gather them together. Truly, He is Most Wise, (and) Knowing.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! thy Lord will gather them together. Lo! He is Wise, Aware.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And indeed, your Lord will gather them; indeed, He is Wise and Knowing.

— Saheeh International

Your Lord will resurrect them all; He is All-wise and All-knowing.

— Muhammad Sarwar

And surely your Lord will gather them together; surely He is Wise, Knowing.

— Muhammad Habib Shakir

And veriiy thy Lord! He will gather them, and verily He is Wise. Knowing.

— Abdul Majid Daryabadi

Assuredly it is thy Lord Who will gather them together: for He is perfect in Wisdom and Knowledge.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:25

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 21–25

اللہ تعالیٰ کے خزانے تمام چیزوں کا تنہا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ ہر کام اس پر آسان ہے۔ ہر قسم کی چیزوں کے خزانے اس کے پاس موجود ہیں۔ جتنا، جب اور جہاں چاہتا ہے، نازل فرماتا ہے۔ اپنی حکمتوں کا عالم وہی ہے۔ بندوں کی مصلحتوں سے بھی واقف ہے۔ یہ محض اس کی مہربانی ہے ورنہ کون ہے جو اس پر جبر کرسکے۔ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں ہر سال بارش برابر ہی برستی ہے۔ ہاں تقسم اللہ کے ہاتھ ہے، پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ حکم بن عینیہ سے بھی یہی قول مروی ہے، کہتے ہیں کہ بارش کے ساتھ اس قدر فرشتے اترتے ہیں، جن کی گنتی کل انسانوں اور جنات سے زیادہ ہوتی ہے، ایک ایک قطرے کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ کہاں برسا اور اس سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحِجْر 16 یعنی اس کی حکمت سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ سب کو اکٹھا کرے اور اس کا علم سب پر اس طرح حاوی ہے کہ کوئی متنفس اس سے چھوٹ نہیں سکتا، بلکہ کسی اگلے پچھلے انسان کی خاک کا کوئی ذرہ بھی اس سے گم نہیں ہوسکتا۔ اس لیے جو شخص حیات اخروی کو مستبعد سمجھتا ہے وہ خدا کی صفت حکمت سے بیخبر ہے، اور جو شخص حیران ہو کر پوچھتا ہے کہ جب مرنے کے بعد ہماری خاک کا ذرہ ذرہ منتشر ہوجائے گا تو ہم کیسے دوبارہ پیدا کیے جائیں گے، وہ خدا کی صفت علم کو نہیں جانتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–25

نیک کاموں میں آگے بڑھنے اور پیچھے رہنے میں درجات کا فرق وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِيْنَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِيْنَ میں مستقدمین اور مستاخرین کی چند تفسیریں ائمہ صحابہ وتابعین سے مختلف منقول ہیں مستقدمین وہ لوگ وہ جواب تک پیدا ہوچکے ہیں اور مستاخرین وہ جو ابھی پیدا نہیں ہوئے (قتادہ و عکرمہ) مستقدمین سے مراد اموات ہیں اور مستاخرین سے وہ لوگ جو اب زندہ ہیں (ابن عباس وضحاک) مستقدمین سے مراد امت محمدیہ سے پہلے حضرات ہیں اور مستاخرین سے مراد امت محمدیہ (مجاہد) مستقدمین سے مراد اہل اطاعت وخیر ہیں اور مستاخرین سے اہل معصیت و غفلت (حسن و قتادہ) مستقدمین وہ لوگ ہیں جو نماز…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 24–25

تفسیر آیات 24 تا 25: وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ (24) وَإِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحْشُرُهُمْ إِنَّهُ حَكِيمٌ عَلِيمٌ۔ یعنی کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اتنی بیشمار مخلوقات کا حساب کتاب کس کے لیے بس کی بات ہے۔ فرمایا کہ ہم ہی نے سب کو پیدا کیا اور سب کو روزی دی ہے ہم ان کو بھی جانتے ہیں جو گزر چکے اور ان سے بھی واقف ہیں جو بعد میں آئے یا آئیں گے۔ اللہ ان سب کو اکٹھا کرے گا اور سب کا حساب کرے گا۔ وہ حکیم وعلیم ہے۔ اس کے حکیم ہونے کا تقاضا ہے کہ وہ ایک روز جزا و سزا لائے اور اس کے علیم ہونے کے معنی یہ ہیں کہ نہ کوئی اس سے اوجھل ہوسکتا اور نہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 22–25

22۔ 1 ہواؤں کو بوجھل، اس لئے کہا گیا کہ یہ ان بادلوں کو اٹھاتی ہیں جن میں پانی ہوتا ہے۔ جس طرح حاملہ اونٹنی کو کہا جاتا ہے جو پیٹ میں بچہ اٹھائے ہوتی ہے۔ 22۔ 2 یعنی یہ پانی جو ہم اتارتے ہیں، اسے تم ذخیرہ رکھنے پر بھی قادر نہیں ہو۔ یہ ہماری ہی قدرت و رحمت ہے کہ ہم اس پانی کو چشموں، کنوؤں اور نہروں کے ذریعے سے محفوظ رکھتے ہیں، ورنہ اگر ہم چاہیں تو پانی کی سطح اتنی نیچی کردیں کہ چشموں اور کنوؤں سے پانی لینا تمہارے لئے ممکن نہ رہے، جس طرح بعض علاقوں میں اللہ تعالیٰ بعض دفعہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھاتا ہے الَّھُمَّ اَحفظْنَا مِنْہُ۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 25–26

12: اس سے مراد حضرت آدم ؑ کی تخلیق ہے جس کا مفصل واقعہ سورة بقرہ (30، 34) میں گذر چکا ہے اور وہاں فرشتوں کو سجدے کا حکم دینے سے متعلق ضروری نکات بھی بیان ہوچکے ہیں

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 23–25

آیت نمبر 23 تا 25 یہاں یہ دو دوسرا پیراگراف پہلے پیراگراف سے ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔ پہلے میں یہ کہا گیا تھا۔ وانا لنحن ۔۔۔۔۔ الوارثون (23) ولاد علمنا۔۔۔۔ المستاخرین (24) (15 : 23- 24) “ ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے ، نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے ”۔ جبکہ یہاں یہ فیصلہ دیا جاتا ہے کہ موت وحیات اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ سب کا وارث ہے اور موت کے بعد اس کی طرف لوگ اٹھیں گے۔ اللہ جانتا ہے اور اس نے لکھ رکھا ہے کہ کوئی پہلے مار دیا جائے اور کس کو مہلت عمل دی جائے اور بعد میں وہ اس جہاں سے رخصت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی ایک ایک ذرہ اس کے علم میں ہے۔ جب اس کی حکمت مقتضی ہوگی کہ سب کو بیک وقت انصاف کے لیے اکٹھا کیا جائے تو کچھ دشواری نہ ہوگی۔ قبر کی مٹی، جانوروں کے پیٹ، سمندر کی تہ، ہوائی فضا میں یا جہاں کہیں کسی چیز کا کوئی جز ہوگا، وہ اپنے علم محیط اور قدرت کاملہ سے جمع کردے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 24–25

آیت 24 وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِيْنَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِيْنَ چونکہ یہ نبوت کے بالکل ابتدائی زمانے کی سورت ہے اس لیے فرمایا جا رہا ہے کہ ہم جانتے ہیں ان لوگوں کو جو حق کی اس دعوت پر فوراً لبیک کہیں گے اور آگے بڑھ کر قرآن کو سینوں سے لگائیں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ التوبہ : 100 کے مصداق کون لوگ ہوں گے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ابوبکر قبول حق کے لیے ایک لمحے کی دیر نہیں لگائے گا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ عثمان بھی اس دعوت کو فوراً قبول کرلے گا۔ یہ بھی ہمارے علم میں ہے کہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

6 1 کافر یہ کہتے ہیں کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی بن جائیں گے یا ہماری خاک کا ذرہ ذرہ منتشر ہوجائے گا تو ہم دوبارہ کیسے پیدا کیے جائیں گے۔ یہ اعتراض کرنے والے لوگ نہ تو اللہ کی صفت حکمت کی معرفت رکھتے ہیں اور نہ ہی اس کے لامحدود علم کی وسعت کی۔ اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ سب سے کو دوبارہ پیدا کرے پھر انھیں ان کے اچھے یا برے اعمال کی جزا و سزا دے اور اس کا علم اس قدر وسیع ہے کہ وہ ان کی خاک کے منتشر شدہ ذرات تک کو جانتا ہے اور انھیں اکٹھا کرکے انھیں دوبارہ زندگی بخش کر اپنے پاس حاضر کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

22۔ چناچہ وہ ہر شخص سے واقفیت بھی پوری اور جزئی و تفصیلی رکھتا ہے، اور سب سے معاملہ بھی بہ تقاضائے حکمت، عین انہی کے مناسب حال کرے گا، (آیت) ” ھو یحشرھم “۔ یعنی قیامت کے دن سب کا حشر اللہ ہی کرے گا، یہ نہ ہوگا کہ اس دن فیصلہ کسی دیوتا، کسی اوتار، کسی ابن اللہ کے ہاتھ میں آجائے !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–25

آیت نمبر 16 تا 25 ترجمہ : اور بیشک ہم نے آسمان میں بڑے بڑے بارہ برج بنائے (1) حمل (2) ثور (3) جوزاء (4) سرطان (5) اسد (6) سنبلہ (7) میزان (8) عقرب (9) قوس (10) جدی (11) دلو (12) حوت، یہ سات سیاروں کی بارہ منزلیں ہیں مریخ کیلئے حمل اور عقرب ہیں اور زہرہ کیلئے ثور اور میزان ہیں اور عطارد کیلئے جو ازء اور سنبلہ ہیں اور قمر کیلئے سرطان ہے اور شمس کیلئے اسد ہے، اور مشتری کیلئے قوس اور حوت ہیں اور ہم نے آسمان کو دیکھنے والوں کیلئے تاروں سے سجایا اور آسمانوں کو ہم نے ستاروں کے ذریعہ ہر شیطان مردود سے محفوظ کیا، الایہ کہ کوئی چوری سے سن بھاگے تو اس کے تعاقب میں ایک روشن ستارہ ہوتا ہے، (جو) اس کو جلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان ربک ھو یحشرھم ان حکیم علیم اور بیشک آپ کا رب (قیامت کے دن) ان سب کو محشور کرے گا۔ وہ بلاشبہ بڑی حکمت والا اور علم والا ہے۔ یعنی سب کو جمع کر کے بلاشک و شبہ ہر ایک کو اس کے ہر عمل کا بدلہ دے گا۔ حضرت جابر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص جس چیز پر مرے گا ‘ اللہ اسی چیز پر اس کو اٹھائے گا (رواہ احمد والحاکم والبیہقی) ضمیر ھُوَ کا اضافہ بتارہا ہے کہ اللہ ہی قادر اور سب لوگوں کو اٹھانے کا تنہا ذمہ دار ہے ‘ اس فعل میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ حکیم ہے ‘ یعنی اس کی حکمت نمایاں اور اس کی ہر صفت محکم ہے۔ علیم ہے ‘ یعنی اس کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(25) بیشک آپ کا پروردگار تمام اولین وآخرین کو قیامت کے دن جمع فرمالے گا وہ اس فیصلہ میں حکمت والا ہے اور ان کے حشر اور ثواب و عتاب کو جاننے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحْشُرُهُمْ۔۔ : کفار دوبارہ زندہ ہونے کے منکر تھے، توحید کے دلائل کے بعد نہایت تاکید کے ساتھ قیامت کا یقین دلایا، کیونکہ یہ اللہ کے حکیم وعلیم ہونے کا لازمی نتیجہ ہے اور اس کے بغیر بندہ نہ مومن ہوتا ہے، نہ باز پرس کے یقین کے بغیر کوئی نیکی ہوسکتی ہے اور نہ گناہ سے بچا جاسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 25 قولہ تعالیٰ : وان ربک ھو یحشرھم یعنی حساب اور جزا کے لئے بیشک آپ کا رب ہی انہیں جمع کرے گا۔ انہ حکیم علیم اس کی تفسیر پہلے گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–25

1:۔ امام طیالسی، سعید بن منصور، احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن خزیمہ، ابن حبان، حاکم ابن مردویہ اور بیہقی نے سنن میں ابوالجوزاء کے طریق سے (حاکم نے صحیح بھی کہا) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک عورت جو لوگوں میں زیادہ خوبصورت تھی رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتی تھی بعض لوگ پہلی صف میں آگے چلے جاتے تاکہ اس عورت پر نظر نہ پڑے اور بعض لوگ اس کو دیکھنے کے لئے پچھلی صفوں میں چلجے جاتے جب رکوع کرتے تو اپنی بغلوں کے نیچے سے اسے دیکھتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ” ولقد علمنا المستقدمین منکم ولقد علمنا المستاخرین “ نازل فرمائی۔ 2:۔ عبدالرزاق اور ابن منذر نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَان : اور بیشک ] [ رَبَّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [ هُوَ : وہ ہی ] [ يَحْشُرُهُمْ : جمع کرے گا ان کو ] [انهٗ : یقینا وہ ہی ] [حَكِيْمٌ: حکمت والا ہے ] [عَلِيْمٌ : علم والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَ اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ یَحْشُرُھُمْ اِنَّہٗ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ) (اور بلاشبہ آپ کا رب ان سب کو جمع فرمائے گا بیشک وہ حکیم وعلیم ہے) تمام اولین و آخرین اپنے اپنے اعمال لے کر میدان حشر میں حاضر ہوں گے اللہ تعالیٰ کا یہ علم سب کو محیط ہے ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص دوبارہ زندہ ہونے سے رہ جائے یا بچ کر نکل جائے، حشر میں جو دیر ہے وہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے موافق ہے اور جب حشر ہوگا اس وقت سب اس کے علم میں ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–25

بیان توحید قال اللہ تعالیٰ : ولقد جعلنا فی السماء بروجا .... الیٰ .... انہ حکیم علیم۔ (ربط) گزشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی نبوت پر جو مشرکین کے شبہات تھے ان کا رد فرمایا اب ان آیات میں اپنی الوہیت اور وحدانیت اور قدرت کے دلائل بیان فرماتے ہیں کچھ تو آسمانی چیزوں سے اور کچھ زمینی چیزوں سے ان میں سے پہلی دلیل یہ ہے کہ آسمان کے بارہ برج ہیں۔ یعنی آسمان کے بارہ ٹکڑے مثل خربوزہ کے پھانک کے مختلف شکل کے ستاروں سے پیدا ہوگئے ہیں۔ ہر برج میں جس جانور کے ہم شکل ستارے ہیں وہ برج اسی نام سے عرب میں مشہور ہوگیا۔ حمل، ثور، جوزاء، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو، حوت۔ یہ حق تعالیٰ کی قدرت کی عجیب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 24–27

12:۔ یہ دوسرا دعوی ہے یعنی سب کچھ جاننے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں کیونکہ ” اَلْمُسْتَقْدِمِیْنَ “ اور ” اَلْمُسْتَاخِرِیْنَ “ جمیع ماکان ومایکون سے کنایہ ہے۔ اس میں بھی حصر ہوگا کیونکہ دلیل کے پہلے حصوں میں حصر ہے۔ ” وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ الخ “ یہ بھی دلیل ہی کا حصہ ہے اے انسان ! ذرا اپنی حقیقت کو تو دیکھ کہ تجھے ہم نے ایک متعفن کیچڑ سے پیدا کیا اور تمام ظاہری اور باطنی انعامات کی تجھ پر بارش کردی مگر پھر بھی تو سرکشی کرتا ہے توحید سے منہ موڑتا اور پیغمبروں کا انکار کرتا ہے۔ اور جن شیاطین کے بہکانے سے تو شرک کرتا اور توحید کو نہیں مانتا ان کی پیدائش بھی دیکھ کہ یہ سب…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 22–25

(ربط آیات) سورة کے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر کیا ، اور اس کی حفاظت کا قانون بتلایا ، پھر منکرین قرآن کی مذمت بیان فرمائی پھر اللہ نے اپنی وحدانیت اور قیامت کے دلائل ذکر کیے ، پہلے علوی دلائل بیان کیے یعنی آسمانی برج اور ان کی حفاظت کا ذکر کیا ، پھر سفلی دلائل میں زمین کا پھیلانا ، اس میں پہاڑوں کو پیدا کرنا اور ہر چیز کو موزوں طریقے سے رکھنا بیان ہوا ، اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ ہر چیز کے خزانے اسی کے پاس ہیں ، پانی صحت ، علم اور مادی زندگی کے تمام لوازمات اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں وہ ہر چیز کو معلوم مقدار کے مطابق نازل فرماتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحْشُرُهُمْ ۭ اِنَّهٗ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ 25؀ۧ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 22–25

وارسلنا الریاح لواقح تیسری دلیل ہے کہ باوجودیکہ اپنی بقاء میں کوئی کیسی ہی کوشش کرے مگر ہم مارتے ہیں اور ہم ہی پیدا کرتے ہیں۔ اس میں کسی کو بھی دخل نہیں اور اگلے جو ہوچکے ہیں اور آیندہ جو ہوں گے وہ سب ہم کو معلوم ہے اور پھر ہم سب کو جمع کرلیں گے۔ یہ بھی ہمارا ہی کام ہے کیونکہ ہم حکیم اور علیم ہیں اس میں دارآخرت کا بھی کس عمدگی سے اثبات ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 24–25

وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْکُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاخِرِیْنَ ۔ وَاِنَّ رَبَّکَ ھُوَ یَحْشُرُھُمْ ط اِنَّہٗ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ۔ (سورۃ الحجر : 24۔ 25) (اور یقینا ہم جانتے ہیں ان کو بھی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور ان کو بھی جانتے ہیں جو بعد میں آنے والے ہیں۔ اور بیشک تمہارا پروردگار ہی ہے جو ان سب کو اکٹھا کرے گا۔ اور بیشک وہ بڑا دانا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ ) صفتِ علم کا بیان اپنے کمال قدرت اور نظام ربوبیت کی بعض جہتوں کو بیان کرنے کے بعد اپنے علم کی وسعت کی طرف اشارہ فرمایا کہ جس طرح ہماری قدرت کی کوئی انتہا نہیں، اسی طرح ہمارے علم کی بھی کوئی اتھاہ نہیں۔ یہ مت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 22–25

فہم القرآن ربط کلام : انسان کا رزق اور ہر چیز کی ضروریات اللہ تعالیٰ ہی پوری کرتا ہے۔ رزق کے اسباب میں پانی اور ہوا کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ اس لیے پانی اور ہواکا ذکر ضروری سمجھا۔ انسان اور حیوانات کا رزق، نباتات کی ضروریات اللہ تعالیٰ ہی پوری کرتا ہے۔ اس کے پاس کائنات کا نظام چلانے کے لیے ہر چیز کے لامحدود خزانے موجود ہیں۔ جہاں تک رزق کا معاملہ ہے اس میں زمین کا کردار بنیادی اور مرکزی ہے۔ کیونکہ انسان کی تخلیق میں بنیادی میٹریل مٹی ہے اور اس کی خوراک کا انتظام بھی مٹی یعنی زمین سے ہی کیا گیا ہے۔ اس میں بنیادی عوامل ہوا اور پانی ہیں ان کے ساتھ سورج کی حرارت اور چاند کی روشنی بھی معاون ہے۔ مگر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تمام کو میدان حشر میں جمع کریں گے : 25: وَاِنَّ رَبَّکَ ھُوَ یَحْشُرُھُمْ ( اور بیشک آپ کا رب وہی انکو جمع کرے گا) وہ اکیلا ان کے حشر پر قدرت رکھتا ہے اور ان کے اعداد کا احاطہ کرنے والا ہے۔ اِنَّہٗ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ (بیشک وہ حکمت والا علم والا ہے) غالب حکمت وسیع علم والا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

25۔” وان ربک ھو یحشرھم انہ حکیم علیم “ ان سب کو جمع کر دے گا جو اس کے علم میں ہیں ۔ بعض نے کہا کہ تمام اشیاء کا مالک ہے۔ و ہ اولین و آخرین سب کو جمع کر دے گا ۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص جس چیز پر مرے گا اللہ اسی چیز پر اس کو اٹھائے گا ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

25۔ اس سے اوپر کی آیت میں یہ بات گزر چکی ہے کہ اللہ پاک نے ہر ایک شئی کو پیدا کیا ہے اور پھر وہی ہر شی کو ناپید بھی کرے گا اور جو لوگ مرچکے ہیں ان کو بھی وہ جانتا ہے اور جو لوگ موجود ہیں یا پیدا ہونے والے ہیں ان کی بھی اس کو خبر ہے۔ اس کے جتلانے کے بعد اب یہ فرمایا کہ اس نے اپنی حکمت اور علم کے موافق حشر کا دن قرار دیا ہے وہ لوگوں کو اس روز اکٹھا کرے گا اور نیک عمل کرنے والوں کو نیک جزا دے گا اور برے عمل کرنے والوں کو برائی کی سزا دے گا وہ بڑا حکمت والا ہے سب کام اس کی حکمت سے ہوا کرتے ہیں اس کا علم ایسا ہے کہ کوئی شئی اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ سورت القلم میں آوے گا۔ { افنجعل المسلمین کالمجرمین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 24–44

آیت 26 اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے باپ حضرت آدم پر اپنی نعمت اور اپنے احسان کا ذکر کرت ا ہے، حضرت آدم کا اپنے دشمن ابلیس کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کو بھی بیان کرتا ہے اور اس ضمن میں ہمیں ابلیس کے شر اور فتنہ سے ڈراتا ہے، چناچہ فرمایا : (ولقد خلقنا الانسان) ” ہم نے انسان کو پیدا کیا۔ “ یعنی آدم کو پیدا کیا (من صلصال من حما مسنون) ” کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے “ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہوجاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔ (الحما المسنون) اس گارے کو کہتے ہیں، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں۔ (والجآن) ” اور جنوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 24–32

27۔ اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ وذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ایک برابر اور خوب جانتے ہیں آگے بڑھنے والوں کو بھی اور پیچھے رہنے والوں کو بھی وجود وموت کے اعتبار سے۔ نیز نماز کی صف اول میں اور صف جہاد میں آگے بڑھنے اور پیچھے رہ جانے والوں کو وغیرہ وغیرہ، مختلف اقوال ہیں اور یہ سب ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ ان میں کوئی تعارض نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا علم ان سب ہی مفاہیم ومطالب کو شامل اور عام ہے۔ الفاظ کا عموم بھی ان سب کو شامل ہے اور یہی بات دراصل یہاں بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر لحاظ سے کامل اور اس کی سب ہی مخلوق کو شامل ہے۔ کوئی بھی چیز اس کے علم کے باہر نہیں ہوتی (ابن جریر، ابن…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–25

موت وحیات کا مالک اور مرنے کے بعد زندہ کرنیوالا تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ کی بہترین تخلیقات، انتظامات اور قادرمطلق ہونے کا بیان مثالوں سے واضح کیا گیا ہے اسی طرح ان آیات میں اللہ کے حکیم (حکمت و دانائی والا) اور علیم (جاننے والا) ہونے کا اعلان کیا گیا ہے یہ بہت بڑے راز ہیں جن پر انسان نہ تو قابو پاسکتا ہے اور نہ ہی ان کا کوئی علاج ان کے پاس موجود ہے۔ جیسا کہ موت وحیات انسان کے بس میں نہیں۔ انسان نے انسانی جسم کی بناوٹ کے تمام اجزا معلوم کرلیے ہیں، جوڑ کر بنانے کا دعویٰ بھی کرلیا ہے مگر روح کیونکہ اللہ کا حکم ہے اس لیے انسان اپنے بنائے ہوئے انسان میں جان نہیں ڈال سکتا۔ انسان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 16–25

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف حالانکہ قدرت باری اس قدر ہویدا ہے کہ آسمانوں میں چڑھے بغیر اس کی عظمت پہ دلالت کرتی نظر آتی ہے آخر ہم نے ہی تو آسمانوں میں بہت بڑے بڑے ستارے اور سیارے سجا دیئے اور خلا کو دیکھنے والوں کے لیے بہت خوبصورت بنا دیا جہاں ان میں اور بیشمار حکمتیں ہیں وہاں آسمانوں کی حفاظت کا کام بھی ان سے لیا اور پھر شیطان مردود کو ان کے باعث آسمانوں سے دور کردیا کہ ان میں کی ٹوٹ پھوٹ اور ان کی روشنی و گرمی اور مختلف اثرات فضا اور خلا کی ایک خاص حد سے آگے کسی کو بڑھنے نہیں دیتے حتی کہ شیاطین تک سوائے اس کے کسی شیطان نے خلا میں سے چوری چھپے کوئی بات فرشتوں سے سن لی تو اس کے پیچھے روشن شعلہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 24–26

ف 7 ۔ اس سورة میں آیت : ’ ولقد جعلنا فی السماء برزجا الک “ سے دلائل توحید کا بیان چلا آرہا ہے۔ جب اوپر کی آیت میں حیوانات کی تخلیق کو بطور دلیل ذکر کیا تو اب انسان کے پیدا کئے جانے کو بطور دلیل ذکر کیا جا رہا ہے۔ الغرض دلائل توحید میں یہ ساتویں قسم دلیل کی ہے۔ (کبیر) ۔ عربی زبان میں خشک مٹی کو تراب کہتے ہیں جب اسے بھگو دیا جائے تو وہ سین کہلاتی ہے پھر جب خوب گوندھ دینے کے بعد اس میں سے بو آنے لگے تو اسے ” حماء مسنون “ کہا جاتا ہے۔ پھر تب خشک ہو کر کھن کھن بولنے لگے تو وہ صلصال کہلاتی ہے اور اسے جب آگے میں پکا دیا جائے تو فخار کہتے ہیں۔ آیت میں الفاظ کی ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے ہوئے گار…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:25) یحشرہم۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ وہ ان کو اکٹھا کرے گا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–25

لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 25 بروج (برج) اونچی اور بلند عمارت، قلعے۔ زینا ہم نے زینت دی، خوبصورت بنایا۔ نظرین دیکھنے والے۔ حفظنا ہم نے حفاظت کی رجیم مردود، نکالا گیا ۔ استرق (استراق) جس نے چوری سے کوئی چیز اڑا لی ہو ۔ السمع سننا اتبع پیچھے لگ گیا شھاب انگارا۔ آگ مدد پھیلا دیا۔ القینا ہم نے ڈال دیا۔ رواسی بوجھ۔ پہاڑ ۔ انبتنا ہم نے اگایا موزون اندازہ، مقدار۔ معایش زندگی گذارنے کا سامان۔ لستم تم نہیں ہو۔ خزائن خزانے ، ذخیرہ۔ قدر معلوم اندازے مقرر، متعین الریح (ریح) ہوائیں لواقع (لاقحۃ ) بوجھل بھرپور اسقینا ہم نے سیراب کردیا۔ پلایا ۔ خازنین خزانے والے نحی ہم زندگی دیتے ہیں نمیت ہم موت دیتے ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اس آیت میں فرمایا کہ اپنی حکمت اور علم کے موافق حشر کا دن قرار دیا ہے۔ وہ لوگوں کو اس روز اکٹھا کرے گا اور نیک وبد کی جزا وسزا دے گا۔ اور وہ بڑا حکمت والا ہے اس کا علم ایسا ہے کہ کوئی شے اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–25

[9] یعنی جب تمام انسان فنا ہوجائیں گے تو صرف ہماری ذات بابرکات رہ جائے گی اور ان کا تمام مال و متاع ہمارے قبضے میں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–26

(ف 1) ان آیات میں تذکیر بآیات اللہ کے اصول کے موافق اللہ نے مظاہر مدبرت کی جانب توجہ دلائی ہے اور کہا ہے کہ تم ان فطرت کے کرشموں پر غور کرو ، تمہیں یقین آجائے گا کہ اللہ نے ان چیزوں کو بےفائدہ پیدا نہیں کیا بلکہ ان تمام چیزوں کے پیدا کرنے کا ایک مقصد ہے ، اس سلسلہ میں ایک عجیب چیز یہ بتائی ہے کہ ہوائیں جو پائی برساتی ہیں تو وہ پانی یہیں سے لیتی ہیں ۔ اور حاملہ عورت کی طرح وقت پر قطرات بارش کی ولادت ہوتی ہے ۔ یہ حقیقت اس وقت ظاہر فرمائی ہے جب عرب بارش کی متعلق صرف اس قدر جانتے تھے کہ آسمان پر دریا بہتے ہیں اور وہی سے پانی آتا ہے اور ہوائیں اسی پانی سے بوجھل ہو کر برستی ہیں ، علاوہ ازیں تشبیہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

25 ۔ اور یقینا آپ کا پروردگار ہی ان سب کو قیامت میں اکٹھا کرلے گا اور سب کو جمع کرلے گا بیشک آپ کا پروردگار کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ یعنی جو سب اگلوں پچھلوں سے واقف ہے وہی ان سب کو میدان حشر میں جمع کرلے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–25

ف 3۔ جاننا چاہئے کہ قرآن و حدیث میں یہ دعوی نہیں کہ بدون اس سبب کے شہاب نہیں پیدا ہوتا بلکہ دعوی یہ ہے کہ استراق کے وقت شہاب سے شیاطین کو رجم کیا جاتا ہے، پس ممکن ہے کہ شہاب کبھی محض طبعی طور پر ہوتا ہو، اور کبھی اس غرض کے لئے ہوتا ہو اور شہاب ثاقب دن کو بھی ہوتا ہے لیکن بوجہ ضوء شمس کے نظر نہیں آتا، پس یہ وسوسہ نہ رہا کہ شیاطین رات ہی کو استراق کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سب کا جمع کرنے والا اور حکمت وعلم والا بھی وہی ہے : 25۔ ایسا یقینا ہونے والا ہے کہ تمہارا پروردگار جزائے عمل کیلئے انہیں اپنے حضور جمع کرے کیونکہ تمام باتوں کی طرح اس بات کیلئے بھی اس نے ایک اندازہ ٹھہرادیا ہے وہ حکیم وعلیم ہے اور جب وہ حکیم ہے تو ممکن نہیں کہ اس نے انسان کے اعمال کیلئے کوئی اندازہ نہ ٹھہرا دیا ہو اور جب وہ علیم ہے تو ممکن نہیں کہ انسان کے اعمال اس کی نظر سے پوشیدہ رہ سکیں اور یہ بھی کہ حشر اللہ تعالیٰ ہی کرے گا یہ نہ ہوگا کہ اس دن فیصلہ کسی دیوتا ‘ کسی اوتار ‘ کسی ابن اللہ یا کسی پیرومرشد اور رسول اللہ کے ہاتھ میں آجائے ہرگز نہیں ، وہی ذات ہے جس کو بذات الصدور کہا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–28

Going Ahead and Remaining Behind in Righteous Deeds: The Difference in Degrees Some exegetic interpretations of the words: (al-mustaqdimin) : 'those who go ahead' and: (al-musta'khirin) : 'those who remain behind' appearing in verse 24: الْمُسْتَقْدِمِينَ ~.A11 have been variously reported from Tafsir authorities among the Sahabah ؓ and Tabi` in. These are: 1. 'Al-Mustaqdimin' are those born to date, and 'Al-Musta'khirin' are those not born yet [ Qatadah and ` Ikrimah ]. 2. 'Al-Mustaqdimin' means the dead, and 'Al-Musta'khirin' means those alive till now [ Ibn ` Abbas and Dahhak ] 3.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

16.“He is All-Wise”, therefore His Wisdom demands that He should gather the entire mankind and reward or punish each individual in accordance with his deeds. And“He is All-Knowing”, therefore no individual, whosoever he may be, can escape from Him. As each and every particle of each and every individual is in His knowledge, He is able to bring entire mankind to life in the Hereafter. Thus anyone who denies life in the Hereafter is really ignorant of the Wisdom of Allah; and anyone who considers it impossible that those particles of the human body, which were all scattered about, could again…

Read the full tafseer →