Explained with ayahs 21–25
اللہ تعالیٰ کے خزانے
تمام چیزوں کا تنہا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ ہر کام اس پر آسان ہے۔ ہر قسم کی چیزوں کے خزانے اس کے پاس موجود ہیں۔ جتنا، جب اور جہاں چاہتا ہے، نازل فرماتا ہے۔ اپنی حکمتوں کا عالم وہی ہے۔ بندوں کی مصلحتوں سے بھی واقف ہے۔ یہ محض اس کی مہربانی ہے ورنہ کون ہے جو اس پر جبر کرسکے۔ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں ہر سال بارش برابر ہی برستی ہے۔ ہاں تقسم اللہ کے ہاتھ ہے، پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ حکم بن عینیہ سے بھی یہی قول مروی ہے، کہتے ہیں کہ بارش کے ساتھ اس قدر فرشتے اترتے ہیں، جن کی گنتی کل انسانوں اور جنات سے زیادہ ہوتی ہے، ایک ایک قطرے کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ کہاں برسا اور اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
سورة الْحِجْر 15
یعنی تمہارے بعد ہم ہی باقی رہنے والے ہیں۔ تمہیں جو کچھ بھی ملا ہوا ہے محض عارضی استعمال کے لیے ملا ہوا ہے۔ آخر کار ہماری دی ہوئی ہر چیز کو یونہی چھوڑ کر تم خالی ہاتھ رخصت ہوجاؤ گے اور یہ سب چیزیں جوں کی توں ہمارے خزانے میں رہ جائیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
نیک کاموں میں آگے بڑھنے اور پیچھے رہنے میں درجات کا فرق
وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِيْنَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِيْنَ میں مستقدمین اور مستاخرین کی چند تفسیریں ائمہ صحابہ وتابعین سے مختلف منقول ہیں مستقدمین وہ لوگ وہ جواب تک پیدا ہوچکے ہیں اور مستاخرین وہ جو ابھی پیدا نہیں ہوئے (قتادہ و عکرمہ) مستقدمین سے مراد اموات ہیں اور مستاخرین سے وہ لوگ جو اب زندہ ہیں (ابن عباس وضحاک) مستقدمین سے مراد امت محمدیہ سے پہلے حضرات ہیں اور مستاخرین سے مراد امت محمدیہ (مجاہد) مستقدمین سے مراد اہل اطاعت وخیر ہیں اور مستاخرین سے اہل معصیت و غفلت (حسن و قتادہ) مستقدمین وہ لوگ ہیں جو نماز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
تفسیر آیات 24 تا 25: وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ (24) وَإِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحْشُرُهُمْ إِنَّهُ حَكِيمٌ عَلِيمٌ۔ یعنی کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اتنی بیشمار مخلوقات کا حساب کتاب کس کے لیے بس کی بات ہے۔ فرمایا کہ ہم ہی نے سب کو پیدا کیا اور سب کو روزی دی ہے ہم ان کو بھی جانتے ہیں جو گزر چکے اور ان سے بھی واقف ہیں جو بعد میں آئے یا آئیں گے۔ اللہ ان سب کو اکٹھا کرے گا اور سب کا حساب کرے گا۔ وہ حکیم وعلیم ہے۔ اس کے حکیم ہونے کا تقاضا ہے کہ وہ ایک روز جزا و سزا لائے اور اس کے علیم ہونے کے معنی یہ ہیں کہ نہ کوئی اس سے اوجھل ہوسکتا اور نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
22۔ 1 ہواؤں کو بوجھل، اس لئے کہا گیا کہ یہ ان بادلوں کو اٹھاتی ہیں جن میں پانی ہوتا ہے۔ جس طرح حاملہ اونٹنی کو کہا جاتا ہے جو پیٹ میں بچہ اٹھائے ہوتی ہے۔
22۔ 2 یعنی یہ پانی جو ہم اتارتے ہیں، اسے تم ذخیرہ رکھنے پر بھی قادر نہیں ہو۔ یہ ہماری ہی قدرت و رحمت ہے کہ ہم اس پانی کو چشموں، کنوؤں اور نہروں کے ذریعے سے محفوظ رکھتے ہیں، ورنہ اگر ہم چاہیں تو پانی کی سطح اتنی نیچی کردیں کہ چشموں اور کنوؤں سے پانی لینا تمہارے لئے ممکن نہ رہے، جس طرح بعض علاقوں میں اللہ تعالیٰ بعض دفعہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھاتا ہے الَّھُمَّ اَحفظْنَا مِنْہُ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
11: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو قومیں تم سے پہلے گذر چکی ہیں ان کے حالات سے بھی ہم واقف ہیں، اور جو قومیں آگے آنے والی ہیں، ان کے حالات سے بھی اور یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ تم میں سے جو لوگ نیک کاموں میں دوروں سے آگے بڑھ گئے ہیں ان کو بھی ہم جانتے ہیں اور جو پیچھے رہ گئے ہیں۔ ان کو بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
آیت نمبر 23 تا 25
یہاں یہ دو دوسرا پیراگراف پہلے پیراگراف سے ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔ پہلے میں یہ کہا گیا تھا۔
وانا لنحن ۔۔۔۔۔ الوارثون (23) ولاد علمنا۔۔۔۔ المستاخرین (24) (15 : 23- 24) “ ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے ، نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے ”۔ جبکہ یہاں یہ فیصلہ دیا جاتا ہے کہ موت وحیات اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ سب کا وارث ہے اور موت کے بعد اس کی طرف لوگ اٹھیں گے۔ اللہ جانتا ہے اور اس نے لکھ رکھا ہے کہ کوئی پہلے مار دیا جائے اور کس کو مہلت عمل دی جائے اور بعد میں وہ اس جہاں سے رخصت…
Read the full tafseer →10 یعنی اگلا پچھلا کوئی شخص یا اس کے اعمال ہمارے احاطہ علمی سے باہر نہیں، حق تعالیٰ کو ازل سے ہر چیز کا تفصیلی علم ہے، اسی کے مطابق دنیا میں پیش آتا ہے اور اسی کے موافق آخرت میں تمام مخلوق کا انصاف کیا جائے گا۔ (تنبیہ) آگے بڑھنا اور پیچھے رہنا عام ہے۔ ولادت میں ہو یا موت میں، یا اسلام میں، یا نیک کاموں میں، صفوف صلوٰۃ میں آگے پیچھے رہنا بھی نیک کام کے ذیل میں آگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
آیت 24 وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِيْنَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِيْنَ
چونکہ یہ نبوت کے بالکل ابتدائی زمانے کی سورت ہے اس لیے فرمایا جا رہا ہے کہ ہم جانتے ہیں ان لوگوں کو جو حق کی اس دعوت پر فوراً لبیک کہیں گے اور آگے بڑھ کر قرآن کو سینوں سے لگائیں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ التوبہ : 100 کے مصداق کون لوگ ہوں گے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ابوبکر قبول حق کے لیے ایک لمحے کی دیر نہیں لگائے گا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ عثمان بھی اس دعوت کو فوراً قبول کرلے گا۔ یہ بھی ہمارے علم میں ہے کہ…
Read the full tafseer →5 1 الفاظ میں عمومیت ہے اور ان سے مراد وہ لوگ بھی ہوسکتے ہیں جو پہلے گزر چکے ہیں اور جو بعد میں آنے والے ہیں اور یہ بھی کہ جو اسلام لانے میں آگے نکل جانے والے ہیں یا پیچھے رہنے والے ہیں۔ یا کسی بھی نیک کام میں یا برے کام میں آگے نکل جانے اور پیچھے والے۔ اللہ ان سب پوری طرح باخبر ہے۔
Read the full tafseer →21۔ یعنی ہمارے عمل کامل و محیط میں کسی غلطی، نقص، خطاکا امکان ہی نہیں، نہ ماضی میں نہ مستقبل میں پہلے صفت قدرت کاملہ کا اثبات ہوچکا، اب صفت علم کامل کا اثبات ہورہا ہے، مشرک اور جاہلی قوموں کو صفات باری میں ٹھوکریں سب سے زیادہ انہی دو صفات کے باب میں لگی ہیں۔ (آیت) ” المستقدمین “۔ سے مرا دوہ نسلیں ہیں جو گزر چکیں اور (آیت) ” المستاخرین “ سے مراد بعد کو آنے والی نسلیں ہیں، اے من مات ومن بقی (ابن جریر عن عکرمہ ومجاہد) اے من استقدم ولا دۃ وموتا ومن تاخر من الاولین والاخرین (کشاف) بعض نے مستقدمین سے مراد نیکیوں میں سبقت کرنے والے اور مستاخرین سے مراد نیکیوں میں پیچھے رہ جانے والے لیے ہیں۔ من تقدم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
آیت نمبر 16 تا 25
ترجمہ : اور بیشک ہم نے آسمان میں بڑے بڑے بارہ برج بنائے (1) حمل (2) ثور (3) جوزاء (4) سرطان (5) اسد (6) سنبلہ (7) میزان (8) عقرب (9) قوس (10) جدی (11) دلو (12) حوت، یہ سات سیاروں کی بارہ منزلیں ہیں مریخ کیلئے حمل اور عقرب ہیں اور زہرہ کیلئے ثور اور میزان ہیں اور عطارد کیلئے جو ازء اور سنبلہ ہیں اور قمر کیلئے سرطان ہے اور شمس کیلئے اسد ہے، اور مشتری کیلئے قوس اور حوت ہیں اور ہم نے آسمان کو دیکھنے والوں کیلئے تاروں سے سجایا اور آسمانوں کو ہم نے ستاروں کے ذریعہ ہر شیطان مردود سے محفوظ کیا، الایہ کہ کوئی چوری سے سن بھاگے تو اس کے تعاقب میں ایک روشن ستارہ ہوتا ہے، (جو) اس کو جلا…
Read the full tafseer →ولقد علمنا المستقدمین منکم ولقد علمنا المستاخرین اور ہم تمہارے اگلوں کو بھی جانتے ہیں اور ہم تمہارے پچھلوں سے بھی واقف ہیں۔ یعنی ہم سے تمہاری کوئی حالت پوشیدہ نہیں۔ سابق آیت میں اپنی قدرت کاملہ کی دلیل بیان کی تھی ‘ اس آیت میں اپنے علم کی ہمہ گیری کا اظہار فرمایا جو قدرت کی دلیل ہے ‘ اسی سے قدرت کا ثبوت ہوجاتا ہے (قدرت بغیر علم کے ناممکن ہے) ۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : مستقدمین سے مردے اور مستاخرین سے زندے مراد ہیں۔ شعبی نے کہا : اگلے پچھلے لوگ مراد ہیں۔ عکرمہ کا قول ہے : مستقدمین سے مراد وہ لوگ ہیں جو پیدا ہوچکے ہیں اور اپنے آباء کی پشت سے برآمد ہوگئے ہیں اور مستاخرین سے…
Read the full tafseer →(24) اور تمہارے آباء و اجداد میں سے جو مرچکے ہیں یا یہ کہ تم میں سے جو صف اول میں ہوں گے اور اس طرح تمہارے بیٹے، پوتے، وغیرہ جو زندہ ہیں یا یہ کہ تم میں سے جو پچھلی صف میں ہوں گے، ہم سب کو جانتے ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”ولقد علمنا المستقدمین“۔ (الخ)
امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ، نسائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور حاکم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ تمام لوگوں میں ایک سب سے زیادہ خوبصورت عورت حسناء رسول اکرم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی تو کچھ لوگ آگے بڑے کر پہلی صف میں کھڑے ہوا کرتے تھے تاکہ اس عورت پر نظر نہ پڑے اور کچھ لوگ پیچھے ہٹ کر پچھلی صف میں کھڑے ہوا…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِيْنَ۔۔ : اس میں بہت سی چیزیں آجاتی ہیں : 1 وہ لوگ جو ہم سے پہلے گزر چکے اور جو ہمارے بعد آنے والے ہیں اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے۔ اس کا علم ازلی اور ابدی ہے۔ 2 وہ لوگ جو اذان کا پہلا لفظ ”اللہ اکبر“ سنتے ہی اللہ تعالیٰ کو سب سے بڑا سمجھتے ہوئے سب سے پہلے نماز کے لیے چل پڑتے ہیں اور جو پیچھے رہ جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے۔ 3 مستقدمین و مستاخرین، یعنی جہاد اور دوسری نیکیوں میں آگے بڑھنے والے اور پیچھے رہنے والے سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 24
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : ولقد علمنا المستقمین منکم ولقد علمنا المستاخرین اس میں آٹھ تاویلات ہیں : (1) المستقدمین یعنی جو آج دن تک پیدا ہونے میں آگے بڑھنے والے ہیں اور المستاخرین وہ جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے، یہ حضرت قتادہ اور عکرمہ وغیرہما نے کہا ہے۔ (2) المستقدمین سے مراد اموات (مرنے والے) ہیں اور المستاخرین سے مراد احیاء (زندہ) ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک نے کہا ہے۔ (3) المستقدمین سے مراد وہ ہیں جو حضور نبی مکرم ﷺ کی امت میں سے پہلے گزر چکے ہیں اور المستاخرین وہ ہیں جو حضور نبی مکرم ﷺ کی امت میں سے پیچھے آنے والے ہیں ؛ یہ حضرت مجاہد (رح) کا قول ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
1:۔ امام طیالسی، سعید بن منصور، احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن خزیمہ، ابن حبان، حاکم ابن مردویہ اور بیہقی نے سنن میں ابوالجوزاء کے طریق سے (حاکم نے صحیح بھی کہا) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک عورت جو لوگوں میں زیادہ خوبصورت تھی رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتی تھی بعض لوگ پہلی صف میں آگے چلے جاتے تاکہ اس عورت پر نظر نہ پڑے اور بعض لوگ اس کو دیکھنے کے لئے پچھلی صفوں میں چلجے جاتے جب رکوع کرتے تو اپنی بغلوں کے نیچے سے اسے دیکھتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ” ولقد علمنا المستقدمین منکم ولقد علمنا المستاخرین “ نازل فرمائی۔
2:۔ عبدالرزاق اور ابن منذر نے…
Read the full tafseer →[وَلَقَدْ عَلِمْنَا : اور یقینا ہم جان چکے ہیں ] [الْمُسْتَقْدِمِيْنَ : آگے بڑھنے والوں کو ] [مِنْكُمْ : تم میں سے ] [وَلَقَدْ عَلِمْنَا : اور یقینا ہم جان چکے ہیں ] [ الْمُسْتَاْخِرِيْنَ : پیچھے رہنے والوں کو ]
نوٹ۔ 1: آیت نمبر 24 میں مستقدمین اور مستاخرین سے کون لوگ مراد ہیں، اس کے متعلق مفسرین کی آراء مختلف ہیں۔ اکثریت کی رائے یہ ہے کہ مستقدمین وہ لوگ ہیں جو نماز کی صفوں میں، جہاد کی صفوں میں اور دوسرے نیک کاموں میں آگے رہنے والے ہیں اور مستاخرین وہ لوگ ہیں جو ان چیزوں میں پچھلی صفوں میں رہنے والے اور دیر کرنے والے ہیں۔ قرطبی نے اپنی تفسیر میں فرمایا کہ اسی آیت سے نماز میں صف اوّل اور…
Read the full tafseer →مستقدمین اور مستاخرین کی تفسیر
پھر فرمایا (وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْکُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ ) (اور بلاشبہ ہمیں وہ معلوم ہیں جو تم میں سے پہلے تھے اور بلاشبہ ہمیں وہ لوگ معلوم ہیں جو تمہارے بعد آنے والے ہیں) اس آیت میں لفظ (الْمُسْتَقْدِمِیْنَ ) اور (الْمُسْتَاْخِرِیْنَ ) وارد ہوا ہے صاحب معالم التنزیل ص 48 ج 3 نے اس کی تفسیر میں بہت سے اقوال نقل کیے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ مستقدمین سے اموات اور مستاخرین سے احیاء یعنی زندہ لوگ مراد ہیں، حضرت مجاہد نے فرمایا کہ مستقدمین سے قرون اولیٰ اور مستاخرین سے امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
بیان توحید
قال اللہ تعالیٰ : ولقد جعلنا فی السماء بروجا .... الیٰ .... انہ حکیم علیم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی نبوت پر جو مشرکین کے شبہات تھے ان کا رد فرمایا اب ان آیات میں اپنی الوہیت اور وحدانیت اور قدرت کے دلائل بیان فرماتے ہیں کچھ تو آسمانی چیزوں سے اور کچھ زمینی چیزوں سے ان میں سے پہلی دلیل یہ ہے کہ آسمان کے بارہ برج ہیں۔ یعنی آسمان کے بارہ ٹکڑے مثل خربوزہ کے پھانک کے مختلف شکل کے ستاروں سے پیدا ہوگئے ہیں۔ ہر برج میں جس جانور کے ہم شکل ستارے ہیں وہ برج اسی نام سے عرب میں مشہور ہوگیا۔ حمل، ثور، جوزاء، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو، حوت۔ یہ حق تعالیٰ کی قدرت کی عجیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
12:۔ یہ دوسرا دعوی ہے یعنی سب کچھ جاننے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں کیونکہ ” اَلْمُسْتَقْدِمِیْنَ “ اور ” اَلْمُسْتَاخِرِیْنَ “ جمیع ماکان ومایکون سے کنایہ ہے۔ اس میں بھی حصر ہوگا کیونکہ دلیل کے پہلے حصوں میں حصر ہے۔ ” وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ الخ “ یہ بھی دلیل ہی کا حصہ ہے اے انسان ! ذرا اپنی حقیقت کو تو دیکھ کہ تجھے ہم نے ایک متعفن کیچڑ سے پیدا کیا اور تمام ظاہری اور باطنی انعامات کی تجھ پر بارش کردی مگر پھر بھی تو سرکشی کرتا ہے توحید سے منہ موڑتا اور پیغمبروں کا انکار کرتا ہے۔ اور جن شیاطین کے بہکانے سے تو شرک کرتا اور توحید کو نہیں مانتا ان کی پیدائش بھی دیکھ کہ یہ سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
(ربط آیات)
سورة کے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر کیا ، اور اس کی حفاظت کا قانون بتلایا ، پھر منکرین قرآن کی مذمت بیان فرمائی پھر اللہ نے اپنی وحدانیت اور قیامت کے دلائل ذکر کیے ، پہلے علوی دلائل بیان کیے یعنی آسمانی برج اور ان کی حفاظت کا ذکر کیا ، پھر سفلی دلائل میں زمین کا پھیلانا ، اس میں پہاڑوں کو پیدا کرنا اور ہر چیز کو موزوں طریقے سے رکھنا بیان ہوا ، اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ ہر چیز کے خزانے اسی کے پاس ہیں ، پانی صحت ، علم اور مادی زندگی کے تمام لوازمات اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں وہ ہر چیز کو معلوم مقدار کے مطابق نازل فرماتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِيْنَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِيْنَ 24
علم
العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، وذلک ضربان :
أحدهما : إدراک ذات الشیء .
والثاني : الحکم علی الشیء بوجود شيء هو موجود له،
أو نفي شيء هو منفيّ عنه .
فالأوّل : هو المتعدّي إلى مفعول واحد نحو :
لا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ [ الأنفال/ 60] .
والثاني : المتعدّي إلى مفعولین، نحو قوله :
فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِناتٍ [ الممتحنة/ 10] ، وقوله : يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ إلى قوله :
لا عِلْمَ لَنا «3» فإشارة إلى أنّ عقولهم طاشت .
والعِلْمُ من وجه ضربان : نظريّ وعمليّ.
فالنّظريّ : ما إذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
وارسلنا الریاح لواقح تیسری دلیل ہے کہ باوجودیکہ اپنی بقاء میں کوئی کیسی ہی کوشش کرے مگر ہم مارتے ہیں اور ہم ہی پیدا کرتے ہیں۔ اس میں کسی کو بھی دخل نہیں اور اگلے جو ہوچکے ہیں اور آیندہ جو ہوں گے وہ سب ہم کو معلوم ہے اور پھر ہم سب کو جمع کرلیں گے۔ یہ بھی ہمارا ہی کام ہے کیونکہ ہم حکیم اور علیم ہیں اس میں دارآخرت کا بھی کس عمدگی سے اثبات ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْکُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاخِرِیْنَ ۔ وَاِنَّ رَبَّکَ ھُوَ یَحْشُرُھُمْ ط اِنَّہٗ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ۔ (سورۃ الحجر : 24۔ 25)
(اور یقینا ہم جانتے ہیں ان کو بھی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور ان کو بھی جانتے ہیں جو بعد میں آنے والے ہیں۔ اور بیشک تمہارا پروردگار ہی ہے جو ان سب کو اکٹھا کرے گا۔ اور بیشک وہ بڑا دانا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ )
صفتِ علم کا بیان
اپنے کمال قدرت اور نظام ربوبیت کی بعض جہتوں کو بیان کرنے کے بعد اپنے علم کی وسعت کی طرف اشارہ فرمایا کہ جس طرح ہماری قدرت کی کوئی انتہا نہیں، اسی طرح ہمارے علم کی بھی کوئی اتھاہ نہیں۔ یہ مت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
فہم القرآن
ربط کلام : انسان کا رزق اور ہر چیز کی ضروریات اللہ تعالیٰ ہی پوری کرتا ہے۔ رزق کے اسباب میں پانی اور ہوا کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ اس لیے پانی اور ہواکا ذکر ضروری سمجھا۔
انسان اور حیوانات کا رزق، نباتات کی ضروریات اللہ تعالیٰ ہی پوری کرتا ہے۔ اس کے پاس کائنات کا نظام چلانے کے لیے ہر چیز کے لامحدود خزانے موجود ہیں۔ جہاں تک رزق کا معاملہ ہے اس میں زمین کا کردار بنیادی اور مرکزی ہے۔ کیونکہ انسان کی تخلیق میں بنیادی میٹریل مٹی ہے اور اس کی خوراک کا انتظام بھی مٹی یعنی زمین سے ہی کیا گیا ہے۔ اس میں بنیادی عوامل ہوا اور پانی ہیں ان کے ساتھ سورج کی حرارت اور چاند کی روشنی بھی معاون ہے۔ مگر…
Read the full tafseer →24: وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِ مِیْنَ مِنْکُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ (ہم تمہارے پہلوں کو بھی جانتے ہیں اور پچھلوں کو بھی ہم ہی جانتے ہیں) جو موت اور ولادت کے لحاظ سے متقدم و متأخر ہیں۔ نمبر 2۔ جو اپنے آباء کی اصلاب سے پیدا ہوچکے اور جو ابھی تک نہیں نکلے نمبر 4۔ اسلام میں مقدم یا طاعت میں آگے بڑھنے والے۔ نمبر 5۔ صف جماعت میں آگے بڑھنے والے۔ نمبر 6۔ صف کار زار میں آگے بڑھنے والے اور پیچھے ہٹنے والے۔
Read the full tafseer →مستقد مین اور مستاخرین کی مختلف تفاسیر
24۔” ولقد علمنا المستقدمین منکم ولقد علمنا المستاخرین “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ مستقدمین سے مراد مردے اور مستاخرین سے مراد زندے ہیں۔
شعبی (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد اولین و آخرین ہیں ۔ عکرمہ (رح) کا قول ہے کہ مستقدمین سے مراد وہ لوگ ہیں جو پیدا ہوچکے ہیں اور اپنے آباء کی پشت سے برآمد ہوگئے اور مستاخرین سے مراد وہ لوگ ہیں جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے اور نہ اپنے باپوں کی پشت سے باہر آئے۔
مجاہد (رح) کا قول ہے کہ ” مستقدمین “ سے مراد گزشتہ اقوام کے لوگ ہیں اور مستاخرین سے مراد امت محمدیہ ہیں ۔ حسن (رح) کا قول ہے کہ مستقدمین سے مراد اطلاعات میں آگے بڑھنے والے…
Read the full tafseer →24۔ ترمذی، نسائی، حاکم، ابن ماجہ وغیرہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے وقت میں عورتیں اور مرد جماعت میں آن کر بعضی بد رویہ عورتیں اگلی صف میں اور بد رویہ مرد اس صف کی پچھلی صف میں کھڑے ہو کر وہ مرد عورتوں کو گھورتے رہتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ہے لیکن اس شان نزول میں تردد ہے کہ اس شان نزول کی روایت صحیح طور پر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ تک نہیں پہنچے کس لئے کہ ترمذی میں عمرو بن مالک سے نوح بن قیس اور جعفر بن سلیمان ان دونوں شخصوں نے اس شان نزول کو مختلف طور پر روایت کیا ہے جس میں نوح بن قیس نے تو روایت کو حضرت عبد اللہ بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–44
آیت 26
اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے باپ حضرت آدم پر اپنی نعمت اور اپنے احسان کا ذکر کرت ا ہے، حضرت آدم کا اپنے دشمن ابلیس کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کو بھی بیان کرتا ہے اور اس ضمن میں ہمیں ابلیس کے شر اور فتنہ سے ڈراتا ہے، چناچہ فرمایا : (ولقد خلقنا الانسان) ” ہم نے انسان کو پیدا کیا۔ “ یعنی آدم کو پیدا کیا (من صلصال من حما مسنون) ” کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے “ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہوجاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔
(الحما المسنون) اس گارے کو کہتے ہیں، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں۔ (والجآن) ” اور جنوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–32
27۔ اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ وذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ایک برابر اور خوب جانتے ہیں آگے بڑھنے والوں کو بھی اور پیچھے رہنے والوں کو بھی وجود وموت کے اعتبار سے۔ نیز نماز کی صف اول میں اور صف جہاد میں آگے بڑھنے اور پیچھے رہ جانے والوں کو وغیرہ وغیرہ، مختلف اقوال ہیں اور یہ سب ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ ان میں کوئی تعارض نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا علم ان سب ہی مفاہیم ومطالب کو شامل اور عام ہے۔ الفاظ کا عموم بھی ان سب کو شامل ہے اور یہی بات دراصل یہاں بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر لحاظ سے کامل اور اس کی سب ہی مخلوق کو شامل ہے۔ کوئی بھی چیز اس کے علم کے باہر نہیں ہوتی (ابن جریر، ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
موت وحیات کا مالک اور مرنے کے بعد زندہ کرنیوالا
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ کی بہترین تخلیقات، انتظامات اور قادرمطلق ہونے کا بیان مثالوں سے واضح کیا گیا ہے اسی طرح ان آیات میں اللہ کے حکیم (حکمت و دانائی والا) اور علیم (جاننے والا) ہونے کا اعلان کیا گیا ہے یہ بہت بڑے راز ہیں جن پر انسان نہ تو قابو پاسکتا ہے اور نہ ہی ان کا کوئی علاج ان کے پاس موجود ہے۔ جیسا کہ موت وحیات انسان کے بس میں نہیں۔ انسان نے انسانی جسم کی بناوٹ کے تمام اجزا معلوم کرلیے ہیں، جوڑ کر بنانے کا دعویٰ بھی کرلیا ہے مگر روح کیونکہ اللہ کا حکم ہے اس لیے انسان اپنے بنائے ہوئے انسان میں جان نہیں ڈال سکتا۔ انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
حالانکہ قدرت باری اس قدر ہویدا ہے کہ آسمانوں میں چڑھے بغیر اس کی عظمت پہ دلالت کرتی نظر آتی ہے آخر ہم نے ہی تو آسمانوں میں بہت بڑے بڑے ستارے اور سیارے سجا دیئے اور خلا کو دیکھنے والوں کے لیے بہت خوبصورت بنا دیا جہاں ان میں اور بیشمار حکمتیں ہیں وہاں آسمانوں کی حفاظت کا کام بھی ان سے لیا اور پھر شیطان مردود کو ان کے باعث آسمانوں سے دور کردیا کہ ان میں کی ٹوٹ پھوٹ اور ان کی روشنی و گرمی اور مختلف اثرات فضا اور خلا کی ایک خاص حد سے آگے کسی کو بڑھنے نہیں دیتے حتی کہ شیاطین تک سوائے اس کے کسی شیطان نے خلا میں سے چوری چھپے کوئی بات فرشتوں سے سن لی تو اس کے پیچھے روشن شعلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ف 7 ۔ اس سورة میں آیت : ’ ولقد جعلنا فی السماء برزجا الک “ سے دلائل توحید کا بیان چلا آرہا ہے۔ جب اوپر کی آیت میں حیوانات کی تخلیق کو بطور دلیل ذکر کیا تو اب انسان کے پیدا کئے جانے کو بطور دلیل ذکر کیا جا رہا ہے۔ الغرض دلائل توحید میں یہ ساتویں قسم دلیل کی ہے۔ (کبیر) ۔ عربی زبان میں خشک مٹی کو تراب کہتے ہیں جب اسے بھگو دیا جائے تو وہ سین کہلاتی ہے پھر جب خوب گوندھ دینے کے بعد اس میں سے بو آنے لگے تو اسے ” حماء مسنون “ کہا جاتا ہے۔ پھر تب خشک ہو کر کھن کھن بولنے لگے تو وہ صلصال کہلاتی ہے اور اسے جب آگے میں پکا دیا جائے تو فخار کہتے ہیں۔ آیت میں الفاظ کی ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے ہوئے گار…
Read the full tafseer →(15:24) المستقدمین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ استقدام (استفعال) مصدر۔ پہلے زمانہ میں گذرے ہوئے لوگ۔ اگلے لوگ۔ یا نیکیوں میں سبقت کرنے والے۔ یا اسلام لانے میں اولیت حاصل کرنے والے۔
مستاخرین۔ پیچھے آنے والے۔ بعد میں آنے والے ۔ نیکیوں میں پیچھے رہ جانے والے۔ اسلام لانے میں تاخیر کرنے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 25
بروج (برج) اونچی اور بلند عمارت، قلعے۔ زینا ہم نے زینت دی، خوبصورت بنایا۔ نظرین دیکھنے والے۔ حفظنا ہم نے حفاظت کی رجیم مردود، نکالا گیا ۔ استرق (استراق) جس نے چوری سے کوئی چیز اڑا لی ہو ۔ السمع سننا اتبع پیچھے لگ گیا شھاب انگارا۔ آگ مدد پھیلا دیا۔ القینا ہم نے ڈال دیا۔ رواسی بوجھ۔ پہاڑ ۔ انبتنا ہم نے اگایا موزون اندازہ، مقدار۔ معایش زندگی گذارنے کا سامان۔ لستم تم نہیں ہو۔ خزائن خزانے ، ذخیرہ۔ قدر معلوم اندازے مقرر، متعین الریح (ریح) ہوائیں لواقع (لاقحۃ ) بوجھل بھرپور اسقینا ہم نے سیراب کردیا۔ پلایا ۔ خازنین خزانے والے نحی ہم زندگی دیتے ہیں نمیت ہم موت دیتے ہیں ۔…
Read the full tafseer →ثواب نیتوں پر
شان نزول : حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جماعت نماز کی صف اول کے فضائل بیان فرمائے تو صحابہ صف اول حاصل کرنے میں نہایت کوشاں ہوئے اور ان کا اثدہام ہونے لگا۔ اور جن حضرات کے مکان مسجد شریف سے دور تھے وہ اپنے مکان بیچ کر قریب مکان خریدنے پر آمادہ ہوگئے تاکہ صف اول میں جگہ ملنے سے محروم نہ ہوں۔ اس پر یہ آیت نازل فرمائی اور انہیں تسلی دی گئی کہ ثواب نیتوں پر ہے اور اللہ اگلوں کو بھی جانتا ہے اور جو عذر سے پیچھے رہ گئے ہیں ان کو بھی جانتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
[9] یعنی جب تمام انسان فنا ہوجائیں گے تو صرف ہماری ذات بابرکات رہ جائے گی اور ان کا تمام مال و متاع ہمارے قبضے میں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
(ف 1) ان آیات میں تذکیر بآیات اللہ کے اصول کے موافق اللہ نے مظاہر مدبرت کی جانب توجہ دلائی ہے اور کہا ہے کہ تم ان فطرت کے کرشموں پر غور کرو ، تمہیں یقین آجائے گا کہ اللہ نے ان چیزوں کو بےفائدہ پیدا نہیں کیا بلکہ ان تمام چیزوں کے پیدا کرنے کا ایک مقصد ہے ،
اس سلسلہ میں ایک عجیب چیز یہ بتائی ہے کہ ہوائیں جو پائی برساتی ہیں تو وہ پانی یہیں سے لیتی ہیں ۔ اور حاملہ عورت کی طرح وقت پر قطرات بارش کی ولادت ہوتی ہے ۔
یہ حقیقت اس وقت ظاہر فرمائی ہے جب عرب بارش کی متعلق صرف اس قدر جانتے تھے کہ آسمان پر دریا بہتے ہیں اور وہی سے پانی آتا ہے اور ہوائیں اسی پانی سے بوجھل ہو کر برستی ہیں ، علاوہ ازیں تشبیہ…
Read the full tafseer →24 ۔ اور یقینا ہم تم میں آگے بڑھنے والوں کو بھی جانتے ہیں اور پیچھے رہنے والوں کو بھی جانتے ہیں ۔ یعنی خواہ عمر میں یا نیک اعمال میں یا جہاد اور اسلام میں با جماعت کی صفوں میں غرض اگلوں اور پچھلوں سب سے با خبر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
ف 3۔ جاننا چاہئے کہ قرآن و حدیث میں یہ دعوی نہیں کہ بدون اس سبب کے شہاب نہیں پیدا ہوتا بلکہ دعوی یہ ہے کہ استراق کے وقت شہاب سے شیاطین کو رجم کیا جاتا ہے، پس ممکن ہے کہ شہاب کبھی محض طبعی طور پر ہوتا ہو، اور کبھی اس غرض کے لئے ہوتا ہو اور شہاب ثاقب دن کو بھی ہوتا ہے لیکن بوجہ ضوء شمس کے نظر نہیں آتا، پس یہ وسوسہ نہ رہا کہ شیاطین رات ہی کو استراق کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →بلاشبہ ہم ان کو بھی جانتے ہیں جو پہلے تھے اور ان کو بھی جو پیچھے آنے والیے ہیں و :
24۔ ہمارے علم کامل و محیط میں کسی غلطی ‘ نقص ‘ خطا کا امکان ہی نہیں نہ ماضی میں ‘ نہ مستقبل میں بلکہ ہمارے ہاں ماضی ومستقبل ہیں ہی کہاں ہمارے ہاں تو سب حال ہی حال ہے پہلے اللہ تعالیٰ کی صفت قدرت کاملہ کا اثبات بیان ہوا اب صفت علم کامل کا اثبات ہورہا ہے مشرک اور جاہل قوموں کو صفات باری میں ٹھوکریں سب سے زیادہ انہیں دو صفات کے باب میں لگی ہیں ۔ (آیت) ” المتقدمین “۔ سے مراد وہ نسلیں ہیں جو گزر چکی ہیں اور (آیت) ” المستاخرین “ سے مراد بعد کو آنے والی نسلیں ہیں اور بعض نے اس سے مراد نیکیوں میں سبقت کرنے والے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
Going Ahead and Remaining Behind in Righteous Deeds: The Difference in Degrees
Some exegetic interpretations of the words: (al-mustaqdimin) : 'those who go ahead' and: (al-musta'khirin) : 'those who remain behind' appearing in verse 24: الْمُسْتَقْدِمِينَ ~.A11 have been variously reported from Tafsir authorities among the Sahabah ؓ and Tabi` in. These are:
1. 'Al-Mustaqdimin' are those born to date, and 'Al-Musta'khirin' are those not born yet [ Qatadah and ` Ikrimah ].
2. 'Al-Mustaqdimin' means the dead, and 'Al-Musta'khirin' means those alive till now [ Ibn ` Abbas and Dahhak ]
3.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
15. It is to impress this: Your worldly life and all you possess are transitory and temporary, and Allah alone is Eternal. Your end shall come sooner or later, and you shall leave everything behind in this world, which will again become a part of Our treasure.
Read the full tafseer →