Explained with ayahs 21–25
اللہ تعالیٰ کے خزانے
تمام چیزوں کا تنہا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ ہر کام اس پر آسان ہے۔ ہر قسم کی چیزوں کے خزانے اس کے پاس موجود ہیں۔ جتنا، جب اور جہاں چاہتا ہے، نازل فرماتا ہے۔ اپنی حکمتوں کا عالم وہی ہے۔ بندوں کی مصلحتوں سے بھی واقف ہے۔ یہ محض اس کی مہربانی ہے ورنہ کون ہے جو اس پر جبر کرسکے۔ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں ہر سال بارش برابر ہی برستی ہے۔ ہاں تقسم اللہ کے ہاتھ ہے، پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ حکم بن عینیہ سے بھی یہی قول مروی ہے، کہتے ہیں کہ بارش کے ساتھ اس قدر فرشتے اترتے ہیں، جن کی گنتی کل انسانوں اور جنات سے زیادہ ہوتی ہے، ایک ایک قطرے کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ کہاں برسا اور اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
سورة الْحِجْر 15
یعنی تمہارے بعد ہم ہی باقی رہنے والے ہیں۔ تمہیں جو کچھ بھی ملا ہوا ہے محض عارضی استعمال کے لیے ملا ہوا ہے۔ آخر کار ہماری دی ہوئی ہر چیز کو یونہی چھوڑ کر تم خالی ہاتھ رخصت ہوجاؤ گے اور یہ سب چیزیں جوں کی توں ہمارے خزانے میں رہ جائیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
تمام مخلوق کے لئے آب رسانی اور آب پاشی کا عجیب و غریب نظام الہی
(آیت) وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ سے وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ تک قدرت الہیہ کے اس حکیمانہ نظام کی طرف اشارہ ہے جس کے ذریعہ روئے زمین پر بسنے والے تمام انسان اور جانور، چرندوں، پرندوں، درندوں کے لئے ضرورت کے مطابق پینے، نہانے، دھونے اور کھیتوں درختوں کو سیراب کرنے کے لئے پانی بلا کسی قیمت کے مل جاتا ہے اور جو کچھ کسی کنواں بنانے یا پائپ لگانے پر خرچ کرنا پڑتا ہے وہ اپنی سہولتیں حاصل کرنے کی قیمت ہے پانی کے ایک قطرہ کی قیمت بھی کوئی ادا نہیں کرسکتا نہ کسی سے مانگی جاتی ہے۔
اس آیت میں پہلے تو اس کا ذکر کیا گیا کہ کس طرح قدرت…
Read the full tafseer →وَإِنَّا لَنَحْنُ نُحْيِي وَنُمِيتُ وَنَحْنُ الْوَارِثُونَ۔ اوپر جو باتیں ارشاد ہوئی ہیں یہ ان کا لازمی تقاضا واضح فرمایا گیا ہے کہ ہم ہی زندگی بھی بخشتے ہیں اور ہم ہی موت بھی دیتے ہیں اور ہم ہی ہر چیز کے وارث بھی ہیں جس طرح زندگی اور موت میں کسی کو دخل نہیں ہے اسی طرح زمین اور اہل زمین کی وراثت میں بھی کسی کا کوئی حصہ نہیں۔ سب کا مرجع و مولی اللہ ہی ہے۔ اگر کسی کسی اور سے کوئی امید باندھ رکھی ہے تو یہ محض وہم ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
22۔ 1 ہواؤں کو بوجھل، اس لئے کہا گیا کہ یہ ان بادلوں کو اٹھاتی ہیں جن میں پانی ہوتا ہے۔ جس طرح حاملہ اونٹنی کو کہا جاتا ہے جو پیٹ میں بچہ اٹھائے ہوتی ہے۔
22۔ 2 یعنی یہ پانی جو ہم اتارتے ہیں، اسے تم ذخیرہ رکھنے پر بھی قادر نہیں ہو۔ یہ ہماری ہی قدرت و رحمت ہے کہ ہم اس پانی کو چشموں، کنوؤں اور نہروں کے ذریعے سے محفوظ رکھتے ہیں، ورنہ اگر ہم چاہیں تو پانی کی سطح اتنی نیچی کردیں کہ چشموں اور کنوؤں سے پانی لینا تمہارے لئے ممکن نہ رہے، جس طرح بعض علاقوں میں اللہ تعالیٰ بعض دفعہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھاتا ہے الَّھُمَّ اَحفظْنَا مِنْہُ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
11: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو قومیں تم سے پہلے گذر چکی ہیں ان کے حالات سے بھی ہم واقف ہیں، اور جو قومیں آگے آنے والی ہیں، ان کے حالات سے بھی اور یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ تم میں سے جو لوگ نیک کاموں میں دوروں سے آگے بڑھ گئے ہیں ان کو بھی ہم جانتے ہیں اور جو پیچھے رہ گئے ہیں۔ ان کو بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
آیت نمبر 23 تا 25
یہاں یہ دو دوسرا پیراگراف پہلے پیراگراف سے ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔ پہلے میں یہ کہا گیا تھا۔
وانا لنحن ۔۔۔۔۔ الوارثون (23) ولاد علمنا۔۔۔۔ المستاخرین (24) (15 : 23- 24) “ ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے ، نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے ”۔ جبکہ یہاں یہ فیصلہ دیا جاتا ہے کہ موت وحیات اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ سب کا وارث ہے اور موت کے بعد اس کی طرف لوگ اٹھیں گے۔ اللہ جانتا ہے اور اس نے لکھ رکھا ہے کہ کوئی پہلے مار دیا جائے اور کس کو مہلت عمل دی جائے اور بعد میں وہ اس جہاں سے رخصت…
Read the full tafseer →9 یعنی دنیا فنا ہوجائے گی، ایک خدا اپنی کامل صفات کے ساتھ باقی رہے گا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " ہر کوئی مرجاتا ہے اور اس کی کمائی اللہ کے ہاتھ میں رہتی ہے۔ "
Read the full tafseer →آیت 23 وَاِنَّا لَنَحْنُ نُـحْيٖ وَنُمِيْتُ وَنَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ
یہ کائنات اور اس کی ہرچیز اللہ ہی کی ملکیت ہے۔ ایک وقت آئے گا جب ظاہری ملکیت کا بھی کوئی دعویدار باقی نہیں رہے گا۔
Read the full tafseer →4 1 ہر چیز کا مالک اور وارث اللہ تعالیٰ ہے :۔ پیدائش اور موت دونوں ایسی چیزیں ہیں جن پر انسان کا ذرہ بھر بھی اختیار نہیں۔ نہ اپنی مرضی سے پیدا ہوتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے مرتا ہے۔ پھر اس کے ہاں جو اولاد ہوتی ہے وہ بھی اس کی مرضی سے نہیں ہوتی۔ پھر اس اولاد کی زندگی اور موت بھی اللہ ہی کے قبضہ ئقدرت میں ہوتی ہے۔ اور یہ سلسلہ یونہی آگے چلتا جاتا ہے۔ پھر جو کچھ انسان اپنی زندگی میں کماتا ہے۔ اس کا بھی عارضی طور پر ہی مالک ہوتا ہے۔ اس کی موت کے بعد اس کی کمائی اس کے وارثوں کے قبضہ میں چلی جاتی ہے اور یہ انتقال زر اور جائیداد بھی اضطراری ہوتا ہے جس میں انسان کا اپنا کچھ اختیار نہیں ہوتا۔ پھر یہ…
Read the full tafseer →20۔ (سب کے فنا ہوجانے کے بعد) یہ نہیں کہ مخلوقات کی فنا کے ساتھ ہم بھی فنا ہوجائیں گے، بلکہ اور سب فنا ہوجائیں گے، اور صرف ہماری ذات بابرکات باقی رہ جائے گی، (آیت) ” انا لنحن نحی ونمیت “۔ یہاں یہ تاکید کے ساتھ تصریح کی ہے کہ ہوا، بارش وغیرہ کے انتظامات کے علاوہ زندگی اور موت بھی تمامتر ہمارے ہی ہاتھ میں ہے، نہ کوئی وشنوجی ہیں، زندگی بخشنے والے اور قائم رکھنے والے، اور نہ کوئی شیوجی ہیں، ہلاک کرنے اور عمل فنا طاری کرنے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
آیت نمبر 16 تا 25
ترجمہ : اور بیشک ہم نے آسمان میں بڑے بڑے بارہ برج بنائے (1) حمل (2) ثور (3) جوزاء (4) سرطان (5) اسد (6) سنبلہ (7) میزان (8) عقرب (9) قوس (10) جدی (11) دلو (12) حوت، یہ سات سیاروں کی بارہ منزلیں ہیں مریخ کیلئے حمل اور عقرب ہیں اور زہرہ کیلئے ثور اور میزان ہیں اور عطارد کیلئے جو ازء اور سنبلہ ہیں اور قمر کیلئے سرطان ہے اور شمس کیلئے اسد ہے، اور مشتری کیلئے قوس اور حوت ہیں اور ہم نے آسمان کو دیکھنے والوں کیلئے تاروں سے سجایا اور آسمانوں کو ہم نے ستاروں کے ذریعہ ہر شیطان مردود سے محفوظ کیا، الایہ کہ کوئی چوری سے سن بھاگے تو اس کے تعاقب میں ایک روشن ستارہ ہوتا ہے، (جو) اس کو جلا…
Read the full tafseer →وانا نحن نحی ونمیت اور بلاشک و شبہ ہم ہی زندہ کرتے اور موت دیتے ہیں۔ یعنی دلوں کو معرفت سے اور اجسام کو نفس حیوانی و نباتی کا تعلق پیدا کر کے زندہ کرتے ہیں اور ان سے تعلق کاٹ کر مردہ کردیتے ہیں۔
ونحن الوارثون اور ہم ہی باقی رہنے والے ہیں ‘ ہمارے سوا کوئی زندہ باقی نہیں رہے گا۔ مردہ کے بعد زندہ باقی رہتا اور اس کا وارث ہوتا ہے۔ بطور استعارہ فنائے مخلوق کے بعد خالق کے باقی رہنے کو وراثت سے تعبیر کیا۔
Read the full tafseer →(23) اور ہم ہی حشر کے دن زندہ کریں گے اور ہم ہی دنیا میں مارتے ہیں اور تمام فخلوقات کے مرنے سے پہلے اور مرنے کے بعد آسمان و زمین کی تمام چیزوں کے ہم مالک ہیں۔
Read the full tafseer →وَاِنَّا لَنَحْنُ نُـحْيٖ وَنُمِيْتُ۔۔ : اس آیت میں زندگی اور موت اور وراثت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہونے کی تاکید ”اِنَّ“ ، لام تاکید، ”نَا“ ضمیر متکلم، ”نَحْنُ“ ضمیرمتکلم، ”نُـحْيٖ“ اور ”نُمِيْتُ“ میں ضمیر متکلم کے ساتھ کی ہے اور آخر میں پھر ”نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ“ میں ”نَحْنُ“ کے ساتھ اور ”الْوٰرِثُوْنَ“ خبر کو الف لام برائے حصر کے ساتھ لا کر تاکید کی انتہا کردی ہے کہ زندگی اور موت کا مالک صرف اللہ ہے اور صرف وہی وارث ہے۔ عربی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں اتنی تاکید کا سامان ہی موجود نہیں اور اتنی تاکید کی ضرورت اس لیے ہے کہ کفار کا طرز عمل بتاتا ہے کہ وہ یہ تینوں باتیں نہیں مانتے، ورنہ وہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 23
یعنی بیشک ہم ہی زمین کو اور اس پر بسنے والوں کو زندہ کرتے ہیں، اور ہمارے سوا کوئی شے باقی نہ رہے گی۔ اس کی نظیر یہ آیت ہے انا نحن نرث الارض ومن علیھا والینا یرجعون۔ (مریم) (یقیناً ہم ہی وارث ہوں گے زمین کے اور جو کچھ اس کے اوپر ہے ہماری طرف ہی سب لوٹائے جائیں گے) پس ہر شے اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، لیکن اس نے اپنے بندوں کو املاک کا مالک بنایا ہے پس وہ مرجائیں گے تو ان کے دعوے ختم ہوجائیں گے، پس اس وجہ سے اللہ تعالیٰ وارث ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں احیاء (زندہ کرنے) سے مراد رحموں میں نطفہ کو زندہ کرنا ہے۔ اور رہا بعث بعد الموت تو اس کا ذکر اس کے بعد کیا اس ارشاد میں :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–23
1:۔ امام ابن شیبہ، ابن ابی جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں ستارے۔
2:۔ امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابوقتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں ستارے۔
3:۔ امام ابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں بڑے ستارے۔
4:۔ امام ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہے آسمانوں میں محلات اور جس میں چوکیدار رہتے ہیں۔
5:۔ امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ”…
Read the full tafseer →[وَانا لَنَحْنُ : اور بیشک یقینا ہم ہی ] [ نُـحْيٖ : زندگی دیتے ہیں ] [ وَنُمِيْتُ : اور ہم ہی موت دیتے ہیں ] [ وَنَحْنُ : اور ہم ہی ] [ الْوٰرِثُوْنَ : حقیقی وارث ہیں ]
Read the full tafseer →اللہ ہی وارث ہے
پھر فرمایا (وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ ) (اور بلاشبہ ہم زندہ کرتے ہیں اور موت دیتے ہیں) (وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ ) (اور ہم باقی رہنے والے ہیں) ساری مخلوق ختم ہوجائے گی، سب مرجائیں گے، اللہ تعالیٰ ہی کی ذات باقی رہے گی۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ وارث کا جو ترجمہ باقی کیا گیا یہ حضرت سفیان وغیرہ سے مروی ہے اور دعا میں یہ جو (وَاجْعَلْہُ الْوَارِثُ مِنَّا) وارد ہوا ہے اس میں بھی وارث باقی کے معنی میں ہے سورة مریم میں فرمایا (اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْھَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ ) (بلاشبہ زمین اور جو کچھ زمین پر ہے ہم اس کے وارث ہوں گے اور سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
بیان توحید
قال اللہ تعالیٰ : ولقد جعلنا فی السماء بروجا .... الیٰ .... انہ حکیم علیم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی نبوت پر جو مشرکین کے شبہات تھے ان کا رد فرمایا اب ان آیات میں اپنی الوہیت اور وحدانیت اور قدرت کے دلائل بیان فرماتے ہیں کچھ تو آسمانی چیزوں سے اور کچھ زمینی چیزوں سے ان میں سے پہلی دلیل یہ ہے کہ آسمان کے بارہ برج ہیں۔ یعنی آسمان کے بارہ ٹکڑے مثل خربوزہ کے پھانک کے مختلف شکل کے ستاروں سے پیدا ہوگئے ہیں۔ ہر برج میں جس جانور کے ہم شکل ستارے ہیں وہ برج اسی نام سے عرب میں مشہور ہوگیا۔ حمل، ثور، جوزاء، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو، حوت۔ یہ حق تعالیٰ کی قدرت کی عجیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
11:۔ حرف نفی اور حرف استثناء مفید حسر ہے۔ یعنی ہر چیز کے خزانے اور ذخیرے ہمارے ہی علم میں اور ہمارے ہی اختیار و تصرف میں ہیں، بارش، رزق، تندرستی، دولت، اولاد، آرام و راحت غرضیکہ ہر چیز ہمارے تصرف میں ہے اور ان خزانوں میں سے ہم اپنی حکمت بالغہ کے مطابق جتنا چاہتے اور جس پر چاہتے ہیں نازل کرتے ہیں اس میں کسی اور کا کوئی دخل نہیں۔ ” وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ الخ “ ہم ہوائیں بھیجتے ہیں جو اپنے جوف میں پانی سے لبریز بادل اٹھائے ہوتی ہیں ان سے بارش برسا کر ہم تمہیں، تمہارے چوپایوں اور تمہاری زمینوں کو سیراب کرتے ہیں۔ و ارسلنا الریح حوامل بالسحاب لانھا تتحمل السحاب فی جو فھا (مدارک ج 2 ص 209) ۔ ” وَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
(ربط آیات)
سورة کے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر کیا ، اور اس کی حفاظت کا قانون بتلایا ، پھر منکرین قرآن کی مذمت بیان فرمائی پھر اللہ نے اپنی وحدانیت اور قیامت کے دلائل ذکر کیے ، پہلے علوی دلائل بیان کیے یعنی آسمانی برج اور ان کی حفاظت کا ذکر کیا ، پھر سفلی دلائل میں زمین کا پھیلانا ، اس میں پہاڑوں کو پیدا کرنا اور ہر چیز کو موزوں طریقے سے رکھنا بیان ہوا ، اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ ہر چیز کے خزانے اسی کے پاس ہیں ، پانی صحت ، علم اور مادی زندگی کے تمام لوازمات اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں وہ ہر چیز کو معلوم مقدار کے مطابق نازل فرماتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →وَاِنَّا لَنَحْنُ نُـحْيٖ وَنُمِيْتُ وَنَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ 23
حيى
الحیاة تستعمل علی أوجه :
الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ،
الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا،
قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ،
الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی:
أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122]
والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ،
وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
وارسلنا الریاح لواقح تیسری دلیل ہے کہ باوجودیکہ اپنی بقاء میں کوئی کیسی ہی کوشش کرے مگر ہم مارتے ہیں اور ہم ہی پیدا کرتے ہیں۔ اس میں کسی کو بھی دخل نہیں اور اگلے جو ہوچکے ہیں اور آیندہ جو ہوں گے وہ سب ہم کو معلوم ہے اور پھر ہم سب کو جمع کرلیں گے۔ یہ بھی ہمارا ہی کام ہے کیونکہ ہم حکیم اور علیم ہیں اس میں دارآخرت کا بھی کس عمدگی سے اثبات ہے۔
Read the full tafseer →وَاِنَّا لَنَحْنُ تُحْیٖ وَنُمِیْتُ وَنَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 23)
(اور بیشک ہم ہی زندہ کرتے اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہم ہی ان سب کے وارث ہیں۔ )
مذکورہ حقائق کا لازمی تقاضا
گزشتہ آیات میں نظام ربوبیت کی جن جن باتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے ان کو لپیٹ کر اس آیت میں فرمایا جارہا ہے کہ یہ سب کچھ ہم نے اس لیے عطا فرمایا ہے کیونکہ زندگی اور موت کے ہم ہی مالک ہیں۔ زندگی بھی ہم دیتے ہیں اور موت بھی ہم ہی دیتے ہیں۔ اور جب کسی قوم کو دنیا میں ختم کردیا جاتا ہے تو اس کے وارث بھی ہم ہی ہیں۔ اسی طرح جب قیامت کا صور پھونکا جائے گا اور ہر چیز ختم کردی جائے گی تب بھی اس کائنات کے وارث ہم ہی ہوں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
فہم القرآن
ربط کلام : انسان کا رزق اور ہر چیز کی ضروریات اللہ تعالیٰ ہی پوری کرتا ہے۔ رزق کے اسباب میں پانی اور ہوا کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ اس لیے پانی اور ہواکا ذکر ضروری سمجھا۔
انسان اور حیوانات کا رزق، نباتات کی ضروریات اللہ تعالیٰ ہی پوری کرتا ہے۔ اس کے پاس کائنات کا نظام چلانے کے لیے ہر چیز کے لامحدود خزانے موجود ہیں۔ جہاں تک رزق کا معاملہ ہے اس میں زمین کا کردار بنیادی اور مرکزی ہے۔ کیونکہ انسان کی تخلیق میں بنیادی میٹریل مٹی ہے اور اس کی خوراک کا انتظام بھی مٹی یعنی زمین سے ہی کیا گیا ہے۔ اس میں بنیادی عوامل ہوا اور پانی ہیں ان کے ساتھ سورج کی حرارت اور چاند کی روشنی بھی معاون ہے۔ مگر…
Read the full tafseer →ہم اگلے پچھلے سب کو جانتے ہیں :
23: وَاِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَنُمِیْتُ (اور بلاشبہ ہم ہی زندہ کرتے اور موت دیتے ہیں) نمبر 1۔ وجود دے کر زندہ کرتے اور فناء کے گھاٹ پر اتار کر موت دیتے ہیں۔ نمبر 2۔ وقت مقررہ کے پورے ہونے پر موت دیتے ہیں۔ اور جزائے اعمال کے لئے زندہ کریں گے۔ اس صورت میں تقدیم و تاخیر مانی جائے گی اس لئے کہ وائو مطلق جمع کیلئے ہے۔ وَنَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ (اور ہم ہی باقی رہنے والے ہیں) تمام مخلوق کی ہلاکت کے بعد باقی رہنے والے ہیں۔ اور باقی کو وارث کہا جاتا ہے وارث یہ وارث المیت سے بطور استعارہ استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ وہ اس کے بعد باقی رہنے والا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر 23۔” وانا لنحن نحی و نمیت و نحن الوارثون “ تمام مخلوقات کو ہم موت دیں گے اللہ کے سوا کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا ۔ وارث سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں ۔ بعض نے کہا کہ مخلوقات کے فنا کے بعد باقی رہنے والی ذاتی اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ تمام مخلوقات کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
21۔ 23۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ جتنی چیزیں دنیا میں ہیں خواہ کسی قسم کی ہوں ان سب کا خزانہ اللہ کے پاس ہے۔ جب جتنی ضرورت ہوتی ہے اس میں سے ضرورت کے موافق دنیا میں اتاری جاتی ہیں۔ اکثر مفسرین خزائن کے معنے مینہ کا خزانہ بیان کرتے ہیں اور بقدر معلوم کی تفسیر میں یہ کہتے ہیں کہ ایک جگہ کم بارش ہوتی ہے اور دوسری جگہ زیادہ ایک جگہ بالکل بارش نہیں ہوتی اور دوسری جگہ خوب ہوتی ہے اور بارش کے ایک ایک قطرے کے ساتھ فرشتے مقرر ہوتے ہیں جو اس قطرے کو وہیں گرنے دیتے ہیں جہاں حکم ہوتا ہے اور یہ بات یاد رکھتے ہیں کہ اس قطرے سے کیا کیا پیداوار ہوئی۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہوا کو حکم دیتا ہے…
Read the full tafseer →آیت 23
یہ اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے جو تمام خلائق کو عدم سے وجود میں لاتا ہے حالانکہ وہ اس سے قبل کچھ بھی نہ تھے اور ان کی مدت مقررہ پوری ہونے کے بعد ان کو موت دیتا ہے۔ (ونحن الورثون) ” اور ہم ہی ہیں پیچھے رہنے والے “ اللہ کا یہ ارشاد اس آیت کریمہ کی مانند (انا نحن نرث الارض ومن علیھا والینا یرجعون) (مریم :30/19) ” ہم ہی زمین کے وارث ہوں گے اور سب ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے۔ “ اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے لئے مشکل اور محال نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ پہلے لوگوں کو بھی جانتا ہے اور اسے آنے والے لوگوں کا بھی علم ہے، زمین ان میں جو کمی واقع کر رہی ہے اور ان کے اجزاء کو بکھیر رہی ہے، سب اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
24۔ پانی کی عظیم الشان نعمت میں سامان غور و فکر : سو مخلوق کے لئے پانی کو اتارنا اور محفوظ رکھنا بھی اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت وحکمت کا نتیجہ وثمرہ ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے آسمان سے پانی اتارا اور ہم نے تمہاری سیرابی کا سامان کیا ورنہ تمہارے بس میں نہیں کہ تم اس کو سٹور کرسکو، سو ہم نے نہایت پر حکمت طریقے سے تمہاری طرح طرح کی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے ایسا کیا ورنہ تم ایسا نہیں کہ اس کو اپنے طور پر سٹور کرسکو، یہاں تک کہ مادی ترقی کے اس محیرالعقول دور میں بھی کوئی ایک حکومت تو کیا سب ترقی یافتہ اور متمدن حکومتیں ملکر کر بھی قدرت کے قائم کردہ اس عظیم الشان نظام کا کوئی متبادل پیش نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
موت وحیات کا مالک اور مرنے کے بعد زندہ کرنیوالا
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ کی بہترین تخلیقات، انتظامات اور قادرمطلق ہونے کا بیان مثالوں سے واضح کیا گیا ہے اسی طرح ان آیات میں اللہ کے حکیم (حکمت و دانائی والا) اور علیم (جاننے والا) ہونے کا اعلان کیا گیا ہے یہ بہت بڑے راز ہیں جن پر انسان نہ تو قابو پاسکتا ہے اور نہ ہی ان کا کوئی علاج ان کے پاس موجود ہے۔ جیسا کہ موت وحیات انسان کے بس میں نہیں۔ انسان نے انسانی جسم کی بناوٹ کے تمام اجزا معلوم کرلیے ہیں، جوڑ کر بنانے کا دعویٰ بھی کرلیا ہے مگر روح کیونکہ اللہ کا حکم ہے اس لیے انسان اپنے بنائے ہوئے انسان میں جان نہیں ڈال سکتا۔ انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
حالانکہ قدرت باری اس قدر ہویدا ہے کہ آسمانوں میں چڑھے بغیر اس کی عظمت پہ دلالت کرتی نظر آتی ہے آخر ہم نے ہی تو آسمانوں میں بہت بڑے بڑے ستارے اور سیارے سجا دیئے اور خلا کو دیکھنے والوں کے لیے بہت خوبصورت بنا دیا جہاں ان میں اور بیشمار حکمتیں ہیں وہاں آسمانوں کی حفاظت کا کام بھی ان سے لیا اور پھر شیطان مردود کو ان کے باعث آسمانوں سے دور کردیا کہ ان میں کی ٹوٹ پھوٹ اور ان کی روشنی و گرمی اور مختلف اثرات فضا اور خلا کی ایک خاص حد سے آگے کسی کو بڑھنے نہیں دیتے حتی کہ شیاطین تک سوائے اس کے کسی شیطان نے خلا میں سے چوری چھپے کوئی بات فرشتوں سے سن لی تو اس کے پیچھے روشن شعلہ…
Read the full tafseer →ف 6 ۔ یعنی سب فنا ہوجائیں گے۔ مال و متاع جو کچھ بچ رہے گا وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔ (موضح) ۔
Read the full tafseer →(15:23) نحی۔ مضارع جمع متکلم ہم زندہ کرتے ہیں ( باب افعال) احیاء سے۔
نمیت۔ مضارع جمع متکلم اماتۃ (افعال) سے مصدر۔ موت مادّہ۔ ہم مارتے ہیں ہم موت دیتے ہیں۔
وارثون ۔ ورث یرث ورث فھو وارث۔ وارث ہونا یعنی کسی کے مرنے کے بعد اس کی چیز کا مالک ہونا۔ اللہ تعالیٰ کے لئے یہ لفظ مجازا بولاجاتا ہے کیونکہ وہ تو ہر شے کا حقیقی مالک ہے۔ اس نے اہل دنیا کو جو ملکیت دے رکھی ہے وہ مجازی ہے ایک وقت آئے گا کہ جب یہ مجازی ملکیت بھی ختم ہوجائے گی اور تمام وراثت مالک حقیقی کے پاس لوٹ جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 25
بروج (برج) اونچی اور بلند عمارت، قلعے۔ زینا ہم نے زینت دی، خوبصورت بنایا۔ نظرین دیکھنے والے۔ حفظنا ہم نے حفاظت کی رجیم مردود، نکالا گیا ۔ استرق (استراق) جس نے چوری سے کوئی چیز اڑا لی ہو ۔ السمع سننا اتبع پیچھے لگ گیا شھاب انگارا۔ آگ مدد پھیلا دیا۔ القینا ہم نے ڈال دیا۔ رواسی بوجھ۔ پہاڑ ۔ انبتنا ہم نے اگایا موزون اندازہ، مقدار۔ معایش زندگی گذارنے کا سامان۔ لستم تم نہیں ہو۔ خزائن خزانے ، ذخیرہ۔ قدر معلوم اندازے مقرر، متعین الریح (ریح) ہوائیں لواقع (لاقحۃ ) بوجھل بھرپور اسقینا ہم نے سیراب کردیا۔ پلایا ۔ خازنین خزانے والے نحی ہم زندگی دیتے ہیں نمیت ہم موت دیتے ہیں ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
پانی کے خزانے اللہ کے پاس ہے، بارش کی ہر بوند کے ساتھ ایک فرشتہ ہے
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ جتنی چیزیں دنیا میں ہیں ان سب کا خزانہ اللہ کے پاس ہے۔ جب جتنی ضرورت ہوتی ہے اس میں سے ضرورت کے موافق دنیا میں اتاری جاتی ہیں۔ خزائن کے معنی : بارش کا خزانہ ہے اور بقدر معلوم کی تفسیر میں ہے کہ ایک جگہ کم بارش ہوگئی ہے اور دوسری جگہ زیادہ، ایک جگہ بالکل بارش نہیں ہوتی اور دوسری جگہ خوب ہوتی ہے۔ اور بارش کے ایک ایک قطرے کے ساتھ فرشتے مقرر ہوتے ہیں جو اس قطرے کو وہیں گرنے دیتے ہیں جہاں حکم ہوتا ہے۔ اور یہ بات یاد رکھتے ہیں کہ اس قطرے سے کیا کیا پیداوار ہوئی۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ ہوا کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
[9] یعنی جب تمام انسان فنا ہوجائیں گے تو صرف ہماری ذات بابرکات رہ جائے گی اور ان کا تمام مال و متاع ہمارے قبضے میں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
(ف 1) ان آیات میں تذکیر بآیات اللہ کے اصول کے موافق اللہ نے مظاہر مدبرت کی جانب توجہ دلائی ہے اور کہا ہے کہ تم ان فطرت کے کرشموں پر غور کرو ، تمہیں یقین آجائے گا کہ اللہ نے ان چیزوں کو بےفائدہ پیدا نہیں کیا بلکہ ان تمام چیزوں کے پیدا کرنے کا ایک مقصد ہے ،
اس سلسلہ میں ایک عجیب چیز یہ بتائی ہے کہ ہوائیں جو پائی برساتی ہیں تو وہ پانی یہیں سے لیتی ہیں ۔ اور حاملہ عورت کی طرح وقت پر قطرات بارش کی ولادت ہوتی ہے ۔
یہ حقیقت اس وقت ظاہر فرمائی ہے جب عرب بارش کی متعلق صرف اس قدر جانتے تھے کہ آسمان پر دریا بہتے ہیں اور وہی سے پانی آتا ہے اور ہوائیں اسی پانی سے بوجھل ہو کر برستی ہیں ، علاوہ ازیں تشبیہ…
Read the full tafseer →23 ۔ اور یقینا ہم ہی زندگی دیتے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں اور ہم ہی سب کے وارث اور سب کے بعد باقی رہنے والے ہیں ۔ یعنی جو سب کے بعد باقی رہے وہی سب کا وارث ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
ف 3۔ جاننا چاہئے کہ قرآن و حدیث میں یہ دعوی نہیں کہ بدون اس سبب کے شہاب نہیں پیدا ہوتا بلکہ دعوی یہ ہے کہ استراق کے وقت شہاب سے شیاطین کو رجم کیا جاتا ہے، پس ممکن ہے کہ شہاب کبھی محض طبعی طور پر ہوتا ہو، اور کبھی اس غرض کے لئے ہوتا ہو اور شہاب ثاقب دن کو بھی ہوتا ہے لیکن بوجہ ضوء شمس کے نظر نہیں آتا، پس یہ وسوسہ نہ رہا کہ شیاطین رات ہی کو استراق کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →تفسیر :
موت دینے والے اور جلانے والے بھی تو ہم ہی ہیں اور سب کا کیا ہمارے سامنے ہے :
23۔ موت وحیات سب اسی ذات رب العالمین کے قبضہ قدرت میں ہے فرمایا کہ ہم ہی ہیں کہ جلاتے ہیں اور موت طاری کرتے ہیں اور اس کا علم رکھتے ہیں کہ کون پہلے آنے والوں میں ہوئے اور کون پیچھے آنے والوں ہیں ؟ یعنی جس طرح ہم نے تمام چیزوں کی تقدیر کردی ہے یعنی مقررہ اندازہ ٹھہرا دیا ہے اسی طرح موت وحیات کا بھی ایک خاص اندازہ ٹھہرا دیا ہے اور قوموں کے تقدم وتاخیر کیلئے بھی مقررہ اندازہ ہے ہر ہستی جو پیدا ہوتی ہے اپنے مقررہ اندازہ کے مطابق پیدا ہوتی ہے اور ہر ہستی جو مرتی ہے مقررہ اندازہ کے مطابق مرتی ہے ، تقدیر اشیاء و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
Water Supply: The Unique Divine Arrangement
In verse 22, from: وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ (And We send forth winds ...) to: مَا أَنتُمْ لَهُ بِخَازِنِينَ (and you are not able to store it), a hint has been given to this wise arrangement through which a formidable system has been established to provide water for all human beings, animals, cattle, birds and beasts who live on this earth as and when they need it. Under this arrangement, everyone gets water everywhere, under all conditions, as needed, for drinking or bathing or washing or for irrigating farms and trees. This is water at no cost.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
15. It is to impress this: Your worldly life and all you possess are transitory and temporary, and Allah alone is Eternal. Your end shall come sooner or later, and you shall leave everything behind in this world, which will again become a part of Our treasure.
Read the full tafseer →