Explained with ayahs 21–25
اللہ تعالیٰ کے خزانے
تمام چیزوں کا تنہا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ ہر کام اس پر آسان ہے۔ ہر قسم کی چیزوں کے خزانے اس کے پاس موجود ہیں۔ جتنا، جب اور جہاں چاہتا ہے، نازل فرماتا ہے۔ اپنی حکمتوں کا عالم وہی ہے۔ بندوں کی مصلحتوں سے بھی واقف ہے۔ یہ محض اس کی مہربانی ہے ورنہ کون ہے جو اس پر جبر کرسکے۔ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں ہر سال بارش برابر ہی برستی ہے۔ ہاں تقسم اللہ کے ہاتھ ہے، پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ حکم بن عینیہ سے بھی یہی قول مروی ہے، کہتے ہیں کہ بارش کے ساتھ اس قدر فرشتے اترتے ہیں، جن کی گنتی کل انسانوں اور جنات سے زیادہ ہوتی ہے، ایک ایک قطرے کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ کہاں برسا اور اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
سورة الْحِجْر 14
یہاں اس حقیقت پر متنبہ فرمایا کہ یہ معاملہ صرف نباتات ہی کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ تمام موجودات کے معاملہ میں عام ہے۔ ہوا، پانی، روشنی، گرمی، سردی، جمادات، نباتات، حیوانات، غرض ہر چیز، ہر نوع، ہر جنس، اور ہر قوت و طاقت کے لیے ایک حد مقرر ہے جس پر وہ ٹھیری ہوئی ہے اور ایک مقدار ہے جس سے نہ وہ گھٹتی ہے نہ بڑھتی ہے۔ اسی تقدیر اور کمال درجہ کی حکیمانہ تقدیر ہی کا یہ کرشمہ ہے کہ زمین سے لے کر آسمانوں تک پورے نظام کائنات میں یہ توازن، یہ اعتدال، اور یہ تناسب نظر آرہا ہے۔ اگر یہ کائنات کا ایک اتفاقی حادثہ ہوتی، یا بہت سے خداؤں کی کاریگری و کارفرمائی کا نتیجہ ہوتی تو کس طرح ممکن تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
تمام مخلوق کے لئے آب رسانی اور آب پاشی کا عجیب و غریب نظام الہی
(آیت) وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ سے وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ تک قدرت الہیہ کے اس حکیمانہ نظام کی طرف اشارہ ہے جس کے ذریعہ روئے زمین پر بسنے والے تمام انسان اور جانور، چرندوں، پرندوں، درندوں کے لئے ضرورت کے مطابق پینے، نہانے، دھونے اور کھیتوں درختوں کو سیراب کرنے کے لئے پانی بلا کسی قیمت کے مل جاتا ہے اور جو کچھ کسی کنواں بنانے یا پائپ لگانے پر خرچ کرنا پڑتا ہے وہ اپنی سہولتیں حاصل کرنے کی قیمت ہے پانی کے ایک قطرہ کی قیمت بھی کوئی ادا نہیں کرسکتا نہ کسی سے مانگی جاتی ہے۔
اس آیت میں پہلے تو اس کا ذکر کیا گیا کہ کس طرح قدرت…
Read the full tafseer →نظام ربوبیت کی مزید وضاحت : وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ فَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَسْقَيْنَاكُمُوهُ وَمَا أَنْتُمْ لَهُ بِخَازِنِينَ۔ " لقح " کے معنی باردار اور حاملہ کرنے کے ہیں۔ اسی سے لاقحہ اور اور کی جمع لواقح ہے۔ " ریاح " موسیٰ ہواؤں کو کہتے ہیں جو بادلوں کو باردار کرتے اور بارش کا سبب بنتی ہیں۔
اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنی جس ربوبیت کی طرف اشارہ فرمایا۔ یہ اسی کی مزید وضاحت ہے کہ پانی جو تمہاری اور تمام جانداروں کی زندگی کا ذریعہ اور تمام اسباب معیشت کو وجود میں لانے کا واسطہ ہے۔ یہ خدا ہی کے حکم اور اس کی مہربانی سے تمہیں حاصل ہوتا ہے۔ وہی ہے جو موسمی ہوائیں چلاتا ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
22۔ 1 ہواؤں کو بوجھل، اس لئے کہا گیا کہ یہ ان بادلوں کو اٹھاتی ہیں جن میں پانی ہوتا ہے۔ جس طرح حاملہ اونٹنی کو کہا جاتا ہے جو پیٹ میں بچہ اٹھائے ہوتی ہے۔
22۔ 2 یعنی یہ پانی جو ہم اتارتے ہیں، اسے تم ذخیرہ رکھنے پر بھی قادر نہیں ہو۔ یہ ہماری ہی قدرت و رحمت ہے کہ ہم اس پانی کو چشموں، کنوؤں اور نہروں کے ذریعے سے محفوظ رکھتے ہیں، ورنہ اگر ہم چاہیں تو پانی کی سطح اتنی نیچی کردیں کہ چشموں اور کنوؤں سے پانی لینا تمہارے لئے ممکن نہ رہے، جس طرح بعض علاقوں میں اللہ تعالیٰ بعض دفعہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھاتا ہے الَّھُمَّ اَحفظْنَا مِنْہُ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
11: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو قومیں تم سے پہلے گذر چکی ہیں ان کے حالات سے بھی ہم واقف ہیں، اور جو قومیں آگے آنے والی ہیں، ان کے حالات سے بھی اور یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ تم میں سے جو لوگ نیک کاموں میں دوروں سے آگے بڑھ گئے ہیں ان کو بھی ہم جانتے ہیں اور جو پیچھے رہ گئے ہیں۔ ان کو بھی۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 22
ہواؤں کے دوش پر کیا بار ہوتا ہے ؟ پانی جس طرح اللہ ناقہ کو حاملہ کرتا ہے اور پھر بادل جو حامل ماء ہوتے ہیں آسمانوں سے برس پڑتے ہیں اور یوں ہم تمہیں پانی پلاتے ہیں۔ کیا بارش کے یہ خزانے تمہاری تحویل میں ہیں ؟ کہ جب ضرورت ہو برسالو ، بلکہ یہ خزانے اللہ کی تحویل میں ہیں اور اللہ ایک معلوم مقدار کے مطابق برساتا ہے۔
یہ ہوائیں فضائی عوام کے مطابق چلتی ہیں اور ان فضائی ضوابط کے مطابق ان میں پانی ہوتا ہے اور برستا ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ ان فضاؤں کو کس نے پیدا کیا اور ہواؤں اور بارشوں کے یہ عوامل اور ضوابط کس نے بنائے ؟ یہ یقیناً خالق کائنات کا کام ہے لہٰذا یہ تمام عوامل و اسباب اللہ کے…
Read the full tafseer →7 یعنی برساتی ہوائیں بھاری بھاری بادلوں کو پانی سے بھر کر لاتی ہیں، ان سے پانی برستا ہے جو نہروں چشموں اور کنوؤں میں جمع ہو کر تمہارے کام آتا ہے۔ خدا چاہتا تو اسے پینے کے قابل نہ چھوڑتا، لیکن اس نے اپنی مہربانی سے کس قدر شیریں اور لطیف پانی تمہارے بارہ مہینہ پینے کے لیے زمین کے مسام میں جمع کردیا۔
8 یعنی نہ اوپر بارش کے خزانہ پر تمہارا قبضہ ہے، نہ نیچے چشمے اور کنوئیں تمہارے اختیار میں ہیں۔ خدا جب چاہے بارش برسائے، نہ تم روک سکتے ہو نہ اپنے حسب خواہش لاسکتے ہو اور اگر کنوؤں اور چشموں کا پانی خشک کردے یا زیادہ نیچے اتاردے کہ تمہاری دسترس سے باہر ہوجائے تو کیسے قابو حاصل کرسکتے ہو۔
Read the full tafseer →آیت 22 وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ
لَوَاقِحَ کا مفہوم پہلے تو یہی سمجھا جاتا تھا کہ یہ ہوائیں بادلوں کو اٹھا کر لاتی ہیں اور بارش کا سبب بنتی ہیں لیکن اب جدید سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ polen grains بھی ہواؤں کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں جن سے پھولوں کی فرٹیلائزیشن ہوتی ہے جس کے نتیجے میں فصلیں اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔ یوں یہ سارا نباتاتی نظام بھی ہواؤں کی وجہ سے چل رہا ہے۔
فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ
پانی مبدا حیات ہے۔ زمین پر ہر طرح کی زندگی کے وجود کا منبع اور سرچشمہ بھی پانی ہے اور پھر پانی پر ہی زندگی کی بقا کا انحصار بھی ہے۔ پانی کی اس اہمیت کے پیش نظر…
Read the full tafseer →13 زندگی کے لئے پانی کی اہمیت :۔ پانی کا ذخیرہ یا تو زمین کے نیچے ہوتا ہے۔ وہ بھی اللہ کے قبضہ ئقدرت میں ہے۔ وہ چاہے تو پانی کی سطح کو بہت نیچے لے جائے اور انسان پانی حاصل ہی نہ کرسکے۔ یا بارش کی صورت میں نازل ہوتا ہے۔ وہ بھی خالصتاً اللہ کے قبضہ ئقدرت میں ہے۔ وہ چاہے تو کسی مقام پر سالہا سال بارش ہی نہ ہو یا پھر پہاڑوں پر سردیوں میں برفباری ہوتی ہے جو گرمیوں میں پگھل کر دریاؤں کی صورت میں رواں ہوتی ہے۔ لیکن کئی دفعہ دریاؤں میں پانی کی انتہائی کمی واقع ہوجاتی ہے حالانکہ پانی اللہ کی اتنی بڑی نعمت ہے جس کے بغیر نہ انسان زندہ رہ سکتا ہے نہ دوسرے جاندار اور نہ ہی نباتات اگ سکتی ہیں۔ یعنی پانی نہ…
Read the full tafseer →19۔ یعنی تم ایسے تو بنائے نہیں گئے ہو کہ پانی کے ذخیروں کو محفوظ کرکے ہمیشہ کے لیے بارش سے مستغنی ہوجاؤ۔ نہ تمہیں یہ قدرت کہ جب اور جہاں چاہو آسمان سے پانی برسالو، نہ یہ اختیار کہ اگر کنوؤں اور چشموں کا پانی خشک کردیاجائے، تو تم اپنے زور بازو سے نکال لو، (آیت) ” ارسلنا، انزلنا، انبتنا “۔ سب میں اشارہ یہ ہے کہ یہ ہوا، بارش وغیرہ کے جتنے بھی کاروبار ہیں، سب ہماری اور محض ہماری ذات سے قائم ہیں، کسی دیوی دیوتا کے دخل کا کوئی شائبہ بھی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
آیت نمبر 16 تا 25
ترجمہ : اور بیشک ہم نے آسمان میں بڑے بڑے بارہ برج بنائے (1) حمل (2) ثور (3) جوزاء (4) سرطان (5) اسد (6) سنبلہ (7) میزان (8) عقرب (9) قوس (10) جدی (11) دلو (12) حوت، یہ سات سیاروں کی بارہ منزلیں ہیں مریخ کیلئے حمل اور عقرب ہیں اور زہرہ کیلئے ثور اور میزان ہیں اور عطارد کیلئے جو ازء اور سنبلہ ہیں اور قمر کیلئے سرطان ہے اور شمس کیلئے اسد ہے، اور مشتری کیلئے قوس اور حوت ہیں اور ہم نے آسمان کو دیکھنے والوں کیلئے تاروں سے سجایا اور آسمانوں کو ہم نے ستاروں کے ذریعہ ہر شیطان مردود سے محفوظ کیا، الایہ کہ کوئی چوری سے سن بھاگے تو اس کے تعاقب میں ایک روشن ستارہ ہوتا ہے، (جو) اس کو جلا…
Read the full tafseer →وارسلنا الریح اور ہم ہواؤں کو بھیجتے ہیں جو بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں۔ لواقح ‘ لاقحۃ کی جمع ہے۔
لاقحہ : حاملہ۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ملاقح کی بیع کی ممانعت فرمائی ہے ‘ یعنی جو بچہ اونٹنی کے پیٹ کے اندر ہو ‘ تنہا اس کی بیع بغیر اس کی ماں کے جائز نہیں۔ یا لواقح ‘ لقوح کی جمع ہے ‘ لقوح دودھ دینے والی اونٹنی۔ بہرحال اس جگہ وہ ہوائیں مراد ہیں جو برسنے والے بادل کو اپنے اوپر اٹھائے ہوتی ہیں۔ بیضاوی نے لکھا ہے : ابر باراں کو اٹھانے والی ہواؤں کو جس طرح لواقح کہتے ہیں ‘ اسی طرح عقیم (ناقابل تولید) اس ہوا کو کہتے ہیں جو برسنے والے بادل کی حامل نہ ہو۔
حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا :…
Read the full tafseer →(22) اور ہم حسب حکمت بارش کو ایک مقررہ مقدار سے برساتے رہتے ہیں اور ہم ہی ہواؤں کو بھجتے ہیں جو درخت اور بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں، پھر اس زمین پر پانی بہا کر تمہارے پینے کے لیے انتظام کرتے ہیں اور تم بارش نہیں برساسکتے۔
Read the full tafseer →وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ۔۔ : ”لَوَاقِحَ“ ”لَاقِحٌ“ کی جمع بھی ہوسکتی ہے، یہ لفظ مذکر ہونے کے باوجود مؤنث ہے، جیسے ”حَاءِضٌ“ اور ”حَامِلٌ“ ، ”لِقَاحٌ“ نر جانور کے مخصوص پانی کو کہتے ہیں۔ ”لَاقِحٌ“ وہ اونٹنی جس نے ”لِقَاحٌ“ کو قبول کرلیا ہو، یعنی حاملہ ہوچکی ہو اور اپنے پیٹ میں جنین اٹھائے پھرتی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ہواؤں کو حمل اٹھانے والی اس لیے قرار دیا کہ وہ اپنے اندر حاملہ اونٹنیوں کی طرح ایسے آبی بخارات اور بادلوں کا بوجھ اٹھا کر چلتی ہیں جو بارش برسانے کا ذریعہ بنتے ہیں اور یہ ”لَاقِحٌ“ بمعنی ”مُلْقِحٌ“ (باب افعال سے اسم فاعل، یعنی وہ نر جو حاملہ کرتا ہے) کی جمع بھی ہوسکتی ہے،…
Read the full tafseer →آیت نمبر 22
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : وارسلنا الریح عام قراءت الریاح جمع کے ساتھ ہے۔ اور حمزہ نے اسے واحد پڑھا ہے ؛ کیونکہ ریح کا معنی جمع بھی ہے اگرچہ اس کا لفظ واحد ہے، جیسے کہا جاتا ہے : جاءت الریح من کل جانب (ہر طرف سے ہوا آئی) ۔ اسی طرح کہا جاتا ہے : أرض سبا سب (وہ زمین جو دور تک ہموار ہو) اور ثوب اخلاق (پرانے کپڑے) اسی طرح عرب ہر شے میں وسعت کردیتے ہیں۔ اور ہی قرأت عامہ کی وجہ تو وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی صفت لواقح ذکر کی ہے اور یہ جمع ہے۔ اور لواقح کا معنی حوامل (اٹھانے والیاں) ہے ؛ کیونکہ ہوا پانی، مٹی، بادل، خیر اور دیگر منافع اٹھائے ہوئے ہوتی ہے (اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–23
1:۔ امام ابن شیبہ، ابن ابی جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں ستارے۔
2:۔ امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابوقتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں ستارے۔
3:۔ امام ابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں بڑے ستارے۔
4:۔ امام ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہے آسمانوں میں محلات اور جس میں چوکیدار رہتے ہیں۔
5:۔ امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ”…
Read the full tafseer →[وَاَرْسَلْنَا : اور ہم نے بھیجا ] [ الرِّيٰحَ : ہوائوں کو ] [لَوَاقِحَ : باردار کرنے والی ہوتے ہوئے (بادلوں کو)] [ فَانزَلْنَا : پھر ہم نے اتارا ] [ مِنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [ مَاۗءً : کچھ پانی ] [فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ : پھر ہم نے پلایا تم لوگوں کو وہ (پانی)] [ وَمَآ انتم : اور تم لوگ نہیں ہو ] [ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ : اس کے دوخانے ہیں خزانچی ]
خ ز ن
[خَزْنًا : (ن) کسی چیز کا ذخیرہ کرنا۔ جمع کرنا۔] [خَزِیْنَۃٌ: ج خَزَاگنُ ۔ ذخیرہ کرنے کی جگہ۔ خزانہ زیر مطالعہ آیت۔ 21 ۔] [خَازِنٌ: ج خَزَنَۃٌ۔ خزانہ کا محاظ اور ذمہ دار۔ داروغہ۔ خزانچی زیر مطالعہ آیت۔ 22 ۔ وَقَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ…
Read the full tafseer →ہوائیں بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں
پھر فرمایا (وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ ) (اور ہم نے ہواؤں کو بھیج دیا جو بادل کو پانی سے بھرنے والی ہیں) (فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ) (پھر ہم نے آسمانوں سے پانی اتارا) (فَاَسْقَیْنٰکُمُوْہُ ) (پھر ہم نے وہ پانی تمہیں پلا دیا) اس میں بارش برسانے کا انعام بتایا ہے، ہوائیں چلتی ہیں پانی سے بھرے ہوئے بادلوں کو لے آتی ہیں پھر جہاں اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوتی ہے وہاں بادل پانی برسا دیتا ہے اس سے انسان مویشی باغ اور کھیت سیراب ہوتے ہیں (وَ مَآ اَنْتُمْ لَہٗ بِخٰزِنِیْنَ ) (اور تم اس پانی کو جمع کرنے والے نہیں ہو) تمہیں کوئی قدرت نہیں کہ پانی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
بیان توحید
قال اللہ تعالیٰ : ولقد جعلنا فی السماء بروجا .... الیٰ .... انہ حکیم علیم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی نبوت پر جو مشرکین کے شبہات تھے ان کا رد فرمایا اب ان آیات میں اپنی الوہیت اور وحدانیت اور قدرت کے دلائل بیان فرماتے ہیں کچھ تو آسمانی چیزوں سے اور کچھ زمینی چیزوں سے ان میں سے پہلی دلیل یہ ہے کہ آسمان کے بارہ برج ہیں۔ یعنی آسمان کے بارہ ٹکڑے مثل خربوزہ کے پھانک کے مختلف شکل کے ستاروں سے پیدا ہوگئے ہیں۔ ہر برج میں جس جانور کے ہم شکل ستارے ہیں وہ برج اسی نام سے عرب میں مشہور ہوگیا۔ حمل، ثور، جوزاء، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو، حوت۔ یہ حق تعالیٰ کی قدرت کی عجیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
11:۔ حرف نفی اور حرف استثناء مفید حسر ہے۔ یعنی ہر چیز کے خزانے اور ذخیرے ہمارے ہی علم میں اور ہمارے ہی اختیار و تصرف میں ہیں، بارش، رزق، تندرستی، دولت، اولاد، آرام و راحت غرضیکہ ہر چیز ہمارے تصرف میں ہے اور ان خزانوں میں سے ہم اپنی حکمت بالغہ کے مطابق جتنا چاہتے اور جس پر چاہتے ہیں نازل کرتے ہیں اس میں کسی اور کا کوئی دخل نہیں۔ ” وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ الخ “ ہم ہوائیں بھیجتے ہیں جو اپنے جوف میں پانی سے لبریز بادل اٹھائے ہوتی ہیں ان سے بارش برسا کر ہم تمہیں، تمہارے چوپایوں اور تمہاری زمینوں کو سیراب کرتے ہیں۔ و ارسلنا الریح حوامل بالسحاب لانھا تتحمل السحاب فی جو فھا (مدارک ج 2 ص 209) ۔ ” وَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
(ربط آیات)
سورة کے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر کیا ، اور اس کی حفاظت کا قانون بتلایا ، پھر منکرین قرآن کی مذمت بیان فرمائی پھر اللہ نے اپنی وحدانیت اور قیامت کے دلائل ذکر کیے ، پہلے علوی دلائل بیان کیے یعنی آسمانی برج اور ان کی حفاظت کا ذکر کیا ، پھر سفلی دلائل میں زمین کا پھیلانا ، اس میں پہاڑوں کو پیدا کرنا اور ہر چیز کو موزوں طریقے سے رکھنا بیان ہوا ، اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ ہر چیز کے خزانے اسی کے پاس ہیں ، پانی صحت ، علم اور مادی زندگی کے تمام لوازمات اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں وہ ہر چیز کو معلوم مقدار کے مطابق نازل فرماتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ ۚ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ 22
لقح
يقال : لَقِحَتِ الناقة تَلْقَحُ لَقْحاً ولَقَاحاً «2» ، وکذلک الشجرة، وأَلْقَحَ الفحل الناقة، والریح السّحاب . قال تعالی: وَأَرْسَلْنَا الرِّياحَ لَواقِحَ [ الحجر/ 22] أي : ذوات لقاح، وأَلْقَحَ فلان النّخل، ولَقَّحَهَا، واسْتَلْقَحْتُ النّخلة، وحرب لَاقِحٌ: تشبيها بالناقة اللاقح، وقیل : اللّقْحَةُ :
الناقة التي لها لبن، وجمعها : لِقَاحٌ ولُقَّحٌ ، والْمَلَاقِيحُ : النّوق التي في بطنها أولادها، ويقال ذلک أيضا للأولاد، و «نهي عن بيع الملاقیح والمضامین» «3» .…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
وارسلنا الریاح لواقح تیسری دلیل ہے کہ باوجودیکہ اپنی بقاء میں کوئی کیسی ہی کوشش کرے مگر ہم مارتے ہیں اور ہم ہی پیدا کرتے ہیں۔ اس میں کسی کو بھی دخل نہیں اور اگلے جو ہوچکے ہیں اور آیندہ جو ہوں گے وہ سب ہم کو معلوم ہے اور پھر ہم سب کو جمع کرلیں گے۔ یہ بھی ہمارا ہی کام ہے کیونکہ ہم حکیم اور علیم ہیں اس میں دارآخرت کا بھی کس عمدگی سے اثبات ہے۔
Read the full tafseer →وَاَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَسْقَیْنٰـکُمُوْہُ ج وَمَآ اَنْتُمْ لَہٗ بِخٰزِنِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 22)
(پس ہم بھیجتے ہیں ہَوائوں کو باردار بنا کر، پھر ہم آسمان سے پانی اتارتے ہیں، پھر ہم تمہیں اس سے سیراب کرتے ہیں، یہ تمہارے بس میں نہ تھا کہ تم اس کے ذخیرے جمع کرکے رکھتے۔ )
ربوبیت کا مزید تذکرہ
اوپر چند آیات سے زمین پر اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بعض نشانیوں کو اس طرح بیان فرمایا جارہا ہے جس میں جابجا اس کی ربوبیت کی طرف اشارے بھی ہیں۔ اس آیت میں بھی اسی کی مزید وضاحت فرمائی گئی ہے۔ لیکن اس وضاحت کو عرض کرنے سے پہلے ایک لفظ کو واضح کرنا ضروری ہے تاکہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
فہم القرآن
ربط کلام : انسان کا رزق اور ہر چیز کی ضروریات اللہ تعالیٰ ہی پوری کرتا ہے۔ رزق کے اسباب میں پانی اور ہوا کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ اس لیے پانی اور ہواکا ذکر ضروری سمجھا۔
انسان اور حیوانات کا رزق، نباتات کی ضروریات اللہ تعالیٰ ہی پوری کرتا ہے۔ اس کے پاس کائنات کا نظام چلانے کے لیے ہر چیز کے لامحدود خزانے موجود ہیں۔ جہاں تک رزق کا معاملہ ہے اس میں زمین کا کردار بنیادی اور مرکزی ہے۔ کیونکہ انسان کی تخلیق میں بنیادی میٹریل مٹی ہے اور اس کی خوراک کا انتظام بھی مٹی یعنی زمین سے ہی کیا گیا ہے۔ اس میں بنیادی عوامل ہوا اور پانی ہیں ان کے ساتھ سورج کی حرارت اور چاند کی روشنی بھی معاون ہے۔ مگر…
Read the full tafseer →رس بھری ہوائوں سے بارش اتاری :
22: وَاَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ (اور ہم ہوائوں کو بھیجتے ہیں جو پانی سے بھری ہوتی ہیں) لواقح جمع لاقحۃ یعنی ہم نے ہوائیں بھیجیں جو بادل اٹھانے والی ہیں کیونکہ وہ ہوائیں بادلوں کو اپنے پیٹ و جوف میں رکھتی ہیں گویا کہ وہ بادلوں کو حاملہ کرنے والیاں ہیں یہ لقحت الناقۃ اونٹی حاملہ ہوئی۔ لاقحہ کی ضد عقیم ہے۔
قراءت : حمزہ نے الرِّیْحَ پڑھا ہے۔
فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآ ئِ مَآ ئً فَاَسْقَیْنٰـکُمُوْہُ (پھر ہم نے بادل سے پانی اتارا اور اس سے تم کو سیراب کیا) پس اس کو تمہارے لئے سیرابی بنایا۔ وَمَآ اَنْتُمْ لَہٗ بِخَازِنِیْنَ (تم اس کو جمع کرنے والے نہیں ہو)…
Read the full tafseer →22۔” وارسلنا الریاح لواقع “ اس سے مراد حاملہ ہیں کیونکہ ہوائیں بادلوں میں پانی کو بھر دیتی ہیں ۔ یہ ” لا قحۃ “ کی جمع ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ” ناقۃ لاقحۃ “ اس اونٹنی کے لیے بولا جاتا ہے جو حاملہ ہو۔ ابن مسعود ؓ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ ہوائوں کو بھیجتا ہے ہوا پانی کو اٹھا کر لاتی ہے بادل پانی کو لے کر ہوا کی وجہ سے چلتا ہے، پھر وہ بارش برساتا ہے۔ ابو عبیدہ کا قول ہے لواقح کا معنی ہے ملا قح اور اس کا مفرد ” ملقحۃ “ آتا ہے ۔ بمعنی حاملہ کرنے والی ہوائیں یعنی وہ ہوائیں جو پھلوں کے تخم درختوں میں ڈالتی ہیں اور ان کو حاملہ کرتی ہیں۔
ہوائیں بھی اپنا اپنا کام سر انجام دیتی ہیں
عبید بن عمیر کا قول ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
21۔ 23۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ جتنی چیزیں دنیا میں ہیں خواہ کسی قسم کی ہوں ان سب کا خزانہ اللہ کے پاس ہے۔ جب جتنی ضرورت ہوتی ہے اس میں سے ضرورت کے موافق دنیا میں اتاری جاتی ہیں۔ اکثر مفسرین خزائن کے معنے مینہ کا خزانہ بیان کرتے ہیں اور بقدر معلوم کی تفسیر میں یہ کہتے ہیں کہ ایک جگہ کم بارش ہوتی ہے اور دوسری جگہ زیادہ ایک جگہ بالکل بارش نہیں ہوتی اور دوسری جگہ خوب ہوتی ہے اور بارش کے ایک ایک قطرے کے ساتھ فرشتے مقرر ہوتے ہیں جو اس قطرے کو وہیں گرنے دیتے ہیں جہاں حکم ہوتا ہے اور یہ بات یاد رکھتے ہیں کہ اس قطرے سے کیا کیا پیداوار ہوئی۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہوا کو حکم دیتا ہے…
Read the full tafseer →آیت 22
ہم نے ہواؤں، یعنی رحمت کی ہواؤں کو مسخر کیا ہے جو بادلوں کو بار آور کرتی ہیں جیسے نر مادہ کو بار آور کرتا ہے۔ ان بادلوں سے، اللہ تعالیٰ کے حکم سے پانی نازل ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ بندوں کو، ان کے مویشیوں اور زمینوں کو سیربا کرتا ہے اور باقی پانی زمین میں ذخیرہ ہوجاتا ہے، وہ ان کی حاجات و ضروریات میں کام آتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت کا تقاضا ہے۔ (وما انتم لہ بخزنین) ” اور تم تو اس کا خزانہ نہیں رکھتے۔ “ یعنی تمہیں یہ قدرت حاصل نہیں کہ تم پانی کو جمع کر کے اس پانی کا ذخیرہ کرسکو، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو تمہارے لئے اس کے خزانے جمع کرتا ہے پھر چشموں کی صورت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
24۔ پانی کی عظیم الشان نعمت میں سامان غور و فکر : سو مخلوق کے لئے پانی کو اتارنا اور محفوظ رکھنا بھی اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت وحکمت کا نتیجہ وثمرہ ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے آسمان سے پانی اتارا اور ہم نے تمہاری سیرابی کا سامان کیا ورنہ تمہارے بس میں نہیں کہ تم اس کو سٹور کرسکو، سو ہم نے نہایت پر حکمت طریقے سے تمہاری طرح طرح کی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے ایسا کیا ورنہ تم ایسا نہیں کہ اس کو اپنے طور پر سٹور کرسکو، یہاں تک کہ مادی ترقی کے اس محیرالعقول دور میں بھی کوئی ایک حکومت تو کیا سب ترقی یافتہ اور متمدن حکومتیں ملکر کر بھی قدرت کے قائم کردہ اس عظیم الشان نظام کا کوئی متبادل پیش نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
خزانوں کا مالک صرف اللہ ہے
تشریح : یہ آیات اللہ کی شان اس کی حکمت، کاریگری، طاقت، عظمت اور اس کے رازق و خالق اعظم ہونے کی بہت زبردست دلیلیں پیش کرتی ہیں۔ سبحان اللہ۔ اللہ اکبر۔ اس خالق (پیدا کرنے والا) اور المُتّکبرّ (بڑائی اور بزرگی والا) رحمن و رحیم کی جس قدر بندگی کریں کم ہے۔ کیونکہ اسی نے ہمیں پیدا کیا۔ رہنے کے لیے انتہائی پر آسائش زمین، کھانے کے لیے بہترین نباتات، حیوانات، پینے کے لیے بہترین پانی کے ذرائع، سانس لینے کے لیے صاف ستھری ٹھنڈی میٹھی ہوائیں، غرض کیا کچھ بیان کریں کہ اس نے اپنے بندوں کو کیسے کیسے خزانے، برکتیں اور نعمتیں عطا کر رکھی ہیں۔ کتنا شکر ادا کریں تو اس کا حق ادا نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
حالانکہ قدرت باری اس قدر ہویدا ہے کہ آسمانوں میں چڑھے بغیر اس کی عظمت پہ دلالت کرتی نظر آتی ہے آخر ہم نے ہی تو آسمانوں میں بہت بڑے بڑے ستارے اور سیارے سجا دیئے اور خلا کو دیکھنے والوں کے لیے بہت خوبصورت بنا دیا جہاں ان میں اور بیشمار حکمتیں ہیں وہاں آسمانوں کی حفاظت کا کام بھی ان سے لیا اور پھر شیطان مردود کو ان کے باعث آسمانوں سے دور کردیا کہ ان میں کی ٹوٹ پھوٹ اور ان کی روشنی و گرمی اور مختلف اثرات فضا اور خلا کی ایک خاص حد سے آگے کسی کو بڑھنے نہیں دیتے حتی کہ شیاطین تک سوائے اس کے کسی شیطان نے خلا میں سے چوری چھپے کوئی بات فرشتوں سے سن لی تو اس کے پیچھے روشن شعلہ…
Read the full tafseer →ف 5 ۔ یعنی نہ اوپر آسمان میں بارش کا خزانہ تمہارے قبضہ میں ہے اور نہ نیچے زمین میں کنوئوں، چشموں، تالابوں کے خزانہ پر تمہارا کوئی اختیار رہے۔ اللہ تعالیٰ ہی پانی کو جس مقدار میں چاہتا ہے رکھتا ہے۔ وہ جب چاہے بارش برسائے تم اسے روک نہیں سکتے یا جب چاہے روک لے تم اسے پانی مرضی سے برسا نہیں سکتے۔ اسی طرح اگر وہ چاہے تو چشموں اور کنوئوں میں تمامجمع شدہ پانی زمین میں جذب ہوجائے اور تمہیں ایک قطرہ بھی پینے کو نہ ملے۔ (از وحیدی وغیرہ) ۔
Read the full tafseer →(15:22) لواقع۔ جمع ہے اس کی واحد لاقح ہے۔ لقح اور لقاح لازم ہیں جیسے لقحت الناقۃ (باب سمع) اونٹنی حاملہ ہوگئی۔ یا لقحت الشجرۃ درخت بارآور ہوگیا۔ اس لئے لواقح کا مطلب ہوا۔ بار دار۔ وہ ہوائیں جو پانی سے بھرے ہوئے بادل کو اٹھائے ہوئے ہوں۔
لواقح کا واحد صرف لاقح ہے اور یہ جمع خلاف قیاس ہے اس کا مؤنث استعمال نہیں ہے۔ صرف لغات القرآن حصہ پنجم عبد الدائم الجلالی میں اس کی مؤنث لاقحۃ دی ہے مظہری میں بھی ہے اور لقوح کی جمع بھی بتایا گیا ہے۔
فاستینکموہ۔ اسقینا اسقاء (افعال) سے ماضی جمع متکلم۔
کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر ہُ ضمیر مفعول ثانی واحد مذکر غائب جس کا مرجع ماء ہے۔ ہم نے وہ تم کو پلایا۔ ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 25
بروج (برج) اونچی اور بلند عمارت، قلعے۔ زینا ہم نے زینت دی، خوبصورت بنایا۔ نظرین دیکھنے والے۔ حفظنا ہم نے حفاظت کی رجیم مردود، نکالا گیا ۔ استرق (استراق) جس نے چوری سے کوئی چیز اڑا لی ہو ۔ السمع سننا اتبع پیچھے لگ گیا شھاب انگارا۔ آگ مدد پھیلا دیا۔ القینا ہم نے ڈال دیا۔ رواسی بوجھ۔ پہاڑ ۔ انبتنا ہم نے اگایا موزون اندازہ، مقدار۔ معایش زندگی گذارنے کا سامان۔ لستم تم نہیں ہو۔ خزائن خزانے ، ذخیرہ۔ قدر معلوم اندازے مقرر، متعین الریح (ریح) ہوائیں لواقع (لاقحۃ ) بوجھل بھرپور اسقینا ہم نے سیراب کردیا۔ پلایا ۔ خازنین خزانے والے نحی ہم زندگی دیتے ہیں نمیت ہم موت دیتے ہیں ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
پانی کے خزانے اللہ کے پاس ہے، بارش کی ہر بوند کے ساتھ ایک فرشتہ ہے
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ جتنی چیزیں دنیا میں ہیں ان سب کا خزانہ اللہ کے پاس ہے۔ جب جتنی ضرورت ہوتی ہے اس میں سے ضرورت کے موافق دنیا میں اتاری جاتی ہیں۔ خزائن کے معنی : بارش کا خزانہ ہے اور بقدر معلوم کی تفسیر میں ہے کہ ایک جگہ کم بارش ہوگئی ہے اور دوسری جگہ زیادہ، ایک جگہ بالکل بارش نہیں ہوتی اور دوسری جگہ خوب ہوتی ہے۔ اور بارش کے ایک ایک قطرے کے ساتھ فرشتے مقرر ہوتے ہیں جو اس قطرے کو وہیں گرنے دیتے ہیں جہاں حکم ہوتا ہے۔ اور یہ بات یاد رکھتے ہیں کہ اس قطرے سے کیا کیا پیداوار ہوئی۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ ہوا کو…
Read the full tafseer →[8] اصل میں لفظ لواحقہ استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں حمل آور۔ پس الریاح لواقحہ کے معنی ہوئے حاملہ کردینے والی ہوائیں۔ آج سے تقریباً دو سو سال پہلے اس حقیقت کا انکشاف ہوا کہ تمام پھول والے پودوں میں جن کی انواع ڈھائی لاکھ کے قریب ہیں کچھ نر ہوتے ہیں اور کچھ مادہ۔ نر میں زرد رنگ کے ذرات ہوتے ہیں جو پولن (Pollen) کہلاتے ہیں۔ اگر یہ ذرات مادہ تک نہ پہنچیں تو بیج اور پھل نہیں لگتے۔ قدرت ان ذرات کو مادہ تک پہنچانے کے لئے کئی طریقے استعمال کرتی ہے۔ عموماً ہواؤں سے کام لیا جاتا ہے جو پولن کو اڑا کر مادہ پھولوں پر ڈال دیتی ہیں۔ کیونکہ پولن کی تقسیم کا سب سے بڑا ذریعہ ہوائیں ہیں، اس لئے قرآن نے انہی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
(ف 1) ان آیات میں تذکیر بآیات اللہ کے اصول کے موافق اللہ نے مظاہر مدبرت کی جانب توجہ دلائی ہے اور کہا ہے کہ تم ان فطرت کے کرشموں پر غور کرو ، تمہیں یقین آجائے گا کہ اللہ نے ان چیزوں کو بےفائدہ پیدا نہیں کیا بلکہ ان تمام چیزوں کے پیدا کرنے کا ایک مقصد ہے ،
اس سلسلہ میں ایک عجیب چیز یہ بتائی ہے کہ ہوائیں جو پائی برساتی ہیں تو وہ پانی یہیں سے لیتی ہیں ۔ اور حاملہ عورت کی طرح وقت پر قطرات بارش کی ولادت ہوتی ہے ۔
یہ حقیقت اس وقت ظاہر فرمائی ہے جب عرب بارش کی متعلق صرف اس قدر جانتے تھے کہ آسمان پر دریا بہتے ہیں اور وہی سے پانی آتا ہے اور ہوائیں اسی پانی سے بوجھل ہو کر برستی ہیں ، علاوہ ازیں تشبیہ…
Read the full tafseer →22 ۔ اور ہم ہی ان برساتی ہوائوں کو بھیجتے ہیں جو بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں پھر ہم ہی آسمان سے پانی اتاترے ہیں پھر اس پانی سے تم کو سیراب کرتے ہیں اور وہ پانی تم کو پلاتے ہیں اور تم اس پانی کو جمع کر کے نہیں رکھ سکتے۔۔۔۔ اور تم اتنا پانی ذخیرہ بنا کر کہیں نہیں رکھ سکتے تھے ۔ یعنی برساتی ہوائیں جو بادلوں کو اٹھا لاتی ہیں اور انکے اثر سے بادلوں میں پانی بھر جاتا ہے ان کو چلاتے ہیں ۔ پانی آسمان کی جانب سے برساتے ہیں وہی پانی تم کو پلاتے ہیں اور تم میں یہ طاقت کہاں کہ تم اتنا پانی جمع کر کے کھ سکتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اگلے برس کے واسطے دنیا کے غبار اور بھاپ اوپر جمع رہتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
ف 3۔ جاننا چاہئے کہ قرآن و حدیث میں یہ دعوی نہیں کہ بدون اس سبب کے شہاب نہیں پیدا ہوتا بلکہ دعوی یہ ہے کہ استراق کے وقت شہاب سے شیاطین کو رجم کیا جاتا ہے، پس ممکن ہے کہ شہاب کبھی محض طبعی طور پر ہوتا ہو، اور کبھی اس غرض کے لئے ہوتا ہو اور شہاب ثاقب دن کو بھی ہوتا ہے لیکن بوجہ ضوء شمس کے نظر نہیں آتا، پس یہ وسوسہ نہ رہا کہ شیاطین رات ہی کو استراق کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →ہم نے بار دار ہوائیں چلائیں اور آسمان سے پانی برسایا جو تمہارے پینے کے کام آیا ۔
22۔ زیر نظر آیت میں بارش کی مثال دے کر مزید وضاحت فرما دی ، فرمایا بارش زمین کی شادابی اور روئیدگی کا ذریعہ ہے اگر یہ نہ ہو تو زمین کی روئیدگی بھی نہ ہو لیکن دیکھو کسی طرح یہ معاملہ ظہور میں آتا ہے اور کس طرح مقررہ اندازوں اور پیمانوں کا ایک پورا نظام کام کر رہا ہے ؟ پہلے سمندر سے بھاپ اٹھتی ہے اور وہ پانی کے ذروں سے بار دار ہو کر یعنی ان کو اپنے اندر لے کر بلندی کی طرف چڑھتی ہے پھر بلندی میں ابر کی چادریں بنتی ہیں اور چادریں فضا میں پھیل جاتی ہیں ۔ پھر وہی چادریں بارش کے قطرے بن کر گرنے لگتی ہیں اور زمین کے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
Water Supply: The Unique Divine Arrangement
In verse 22, from: وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ (And We send forth winds ...) to: مَا أَنتُمْ لَهُ بِخَازِنِينَ (and you are not able to store it), a hint has been given to this wise arrangement through which a formidable system has been established to provide water for all human beings, animals, cattle, birds and beasts who live on this earth as and when they need it. Under this arrangement, everyone gets water everywhere, under all conditions, as needed, for drinking or bathing or washing or for irrigating farms and trees. This is water at no cost.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
14. This is to bring home the fact that it is not vegetable life alone that has a fixed limit to its growth, etc. The same is true of everything that exists, whether it be air, water, light, heat, cold, mineral, vegetable, animal or power or energy, in short, each and every thing exists in the prescribed quantity, number, etc. which neither decreases nor increases. It is this determined course in each and every thing which has produced appropriate balance and proportion in the entire system of the universe to such a perfection that one is led to the inevitable conclusion that the whole thing…
Read the full tafseer →