Al-Hijr 15:21

Al-Hijr · from ayah 21

15:21

وَاِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآىِٕنُهٗ ؗ— وَمَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ ۟وَاِنۡ مِّنۡ شَىۡءٍ اِلَّا عِنۡدَنَا خَزَآئِنُهٗ وَمَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ‏

اور ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں اور ہم ان کو بمقدار مناسب اُتارتے رہتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And there is not a thing but that with Us are its depositories, and We do not send it down except according to a known measure.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:21

کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں، اور جس چیز کو بھی ہم نازل کرتے ہیں ایک مقرر مقدار میں نازل کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں اور ہم ان کو بمقدار مناسب اُتارتے رہتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جتنی بھی چیزیں ہیں ان سب کے خزانے ہمارے پاس ہیں، اور ہم ہر چیز کو اس کے مقرره انداز سے اتارتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور کوئی (ضرورت کی) چیز ایسی نہیں ہے جس کے ہمارے پاس خزانے موجود نہ ہوں، مگر ہم اس کو ایک معین مقدار میں اتارتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کوئی چیز نہیں جس کے ہمارے پاس خزانے نہ ہوں اور ہم اسے نہیں اتارتے مگر ایک معلوم انداز سے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (کائنات) کی کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے مگر یہ کہ ہمارے پاس اس کے خزانے ہیں اور ہم اسے صرف معیّن مقدار کے مطابق ہی اتارتے رہتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کوئی بھی چیز نہیں مگر ہمارے پاس اس کے کئی خزانے ہیں اور ہم اسے نہیں اتارتے مگر ایک معلوم اندازے سے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کوئی بھی ایسی چیز نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں۔ اور اسے ہم ایک جانی پہچانی مقدار کے مطابق ہی نازل کرتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور کوئی شے ایسی نہیں ہے جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں لیکن ہم اس کو ایک معین اندازے کے ساتھ ہی اتارتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کوئی چیز ایسی نہیں جس کے ہمارے پاس (خزانوں کے) خزانے نہ ہوں اور جس چیز کو بھی ہم اتارتے ہیں ایک مقرر مقدار ہی میں اتارتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو چیز بھی ہے ہمارے پاس اس کے (خزانے کے) خزانے ہیں اور ہم اسے ایک مقدار معین ہی سے اتارتے رہتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نہیں ہے کوئی شے مگر ہمارے پاس ہیں اس کے خزانے ہم نہیں نازل کرتے اس میں سے مگر ایک طے شدہ اندازے کے مطابق

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں اور ہم ان کو مناسب مقدار میں اتارتے رہتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

There is nothing except that its treasuries are with Us and We do not send it down except in a known measure.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We have treasures of every thing, but We send it down only in a determined quantity.

— Muhammad Taqi Usmani

We have treasures of every thing, but We send it down only in a determined quantity.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And there is not a thing, but the supplies for it are with Us, and We do not send it down but in a known measure.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And there is not a thing but with Us are the stores thereof. And we send it not down save in appointed measure.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And there is not a thing but that with Us are its depositories, and We do not send it down except according to a known measure.

— Saheeh International

With Us is the source of everything and We do not send it down except in a known quantity.

— Muhammad Sarwar

And there is not a thing but with Us are the treasures of it, and We do not send it down but in a known measure.

— Muhammad Habib Shakir

And there is not of aught but with Us are the treasures thereof, and We send it not down save in a measure known

— Abdul Majid Daryabadi

And there is not a thing but its (sources and) treasures (inexhaustible) are with Us; but We only send down thereof in due and ascertainable measures.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 21–25

اللہ تعالیٰ کے خزانے تمام چیزوں کا تنہا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ ہر کام اس پر آسان ہے۔ ہر قسم کی چیزوں کے خزانے اس کے پاس موجود ہیں۔ جتنا، جب اور جہاں چاہتا ہے، نازل فرماتا ہے۔ اپنی حکمتوں کا عالم وہی ہے۔ بندوں کی مصلحتوں سے بھی واقف ہے۔ یہ محض اس کی مہربانی ہے ورنہ کون ہے جو اس پر جبر کرسکے۔ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں ہر سال بارش برابر ہی برستی ہے۔ ہاں تقسم اللہ کے ہاتھ ہے، پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ حکم بن عینیہ سے بھی یہی قول مروی ہے، کہتے ہیں کہ بارش کے ساتھ اس قدر فرشتے اترتے ہیں، جن کی گنتی کل انسانوں اور جنات سے زیادہ ہوتی ہے، ایک ایک قطرے کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ کہاں برسا اور اس سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 21–22

سورة الْحِجْر 14 یہاں اس حقیقت پر متنبہ فرمایا کہ یہ معاملہ صرف نباتات ہی کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ تمام موجودات کے معاملہ میں عام ہے۔ ہوا، پانی، روشنی، گرمی، سردی، جمادات، نباتات، حیوانات، غرض ہر چیز، ہر نوع، ہر جنس، اور ہر قوت و طاقت کے لیے ایک حد مقرر ہے جس پر وہ ٹھیری ہوئی ہے اور ایک مقدار ہے جس سے نہ وہ گھٹتی ہے نہ بڑھتی ہے۔ اسی تقدیر اور کمال درجہ کی حکیمانہ تقدیر ہی کا یہ کرشمہ ہے کہ زمین سے لے کر آسمانوں تک پورے نظام کائنات میں یہ توازن، یہ اعتدال، اور یہ تناسب نظر آرہا ہے۔ اگر یہ کائنات کا ایک اتفاقی حادثہ ہوتی، یا بہت سے خداؤں کی کاریگری و کارفرمائی کا نتیجہ ہوتی تو کس طرح ممکن تھا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–21

خلاصہ تفسیر اور ہم نے زمین کو پھیلایا اور اس (زمین) میں بھاری بھاری پہاڑ ڈال دیئے اور اس میں ہر قسم کی (ضرورت کی پیداوار) ایک معین مقدار سے اگائی اور ہم نے تمہارے واسطے اس (زمین) میں معاش کے سامان بنائے (جس میں ضروریات زندگی کی تمام چیزیں داخل ہیں جو کھانے پینے پہننے اور رہنے سہنے سے متعلق ہیں) اور (یہ سامان معاش اور ضروریات زندگی صرف تم کو ہی نہیں دیا بلکہ) ان کو بھی دیا جن کو تم روزی نہیں دیتے (یعنی وہ تمام مخلوقات جو ظاہر میں بھی تمہارے ہاتھ سے خوردو نوش اور زندگی گذارنے کا سامان نہیں پاتے ظاہر اس لئے کہا کہ گھر کے پالتو جانور بکری، گائے، بیل، گھوڑا، گدھا وغیرہ بھی اگرچہ حقیقت کے اعتبار سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

توازن و تناسب کی طرف اشارہ : وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلا بِقَدَرٍ مَعْلُومٍ۔ یہ جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، اس توازن و تناسب کی طرف اشارہ ہے جو خالق کائنات کے تمام کاموں میں موجود ہے اور جس کے اوپر ہی اس دنیا کے قیام و بقا کا انحصار ہے۔ خدا کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔ اس کے پاس ہر چیز کے خزانے موجود ہیں لیکن اس دنیا کا بقا مقتضی ہے کہ ہر چیز ایک تناسب کے ساتھ ظہور میں آئے اس وجہ سے وہ ہر چیز اتنی ہی مقدار میں بھیجتا ہے جتنی مقدار میں اس کا بھیجنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر کوئی چیز ذرا اپنی حد مطلوب سے زیادہ ہوجاتی ہے اور یہ زیادتی بھی جب ہوتی ہے خدا ہی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

21۔ 1 بعض نے خزائن سے مراد بارش لی ہے کیونکہ بارش ہی پیداوار کا ذریعہ ہے لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے اس سے مراد تمام کائنات کے خزانے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ حسب مشیت و ارادہ عدم سے وجود میں لاتا رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 21–24

11: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو قومیں تم سے پہلے گذر چکی ہیں ان کے حالات سے بھی ہم واقف ہیں، اور جو قومیں آگے آنے والی ہیں، ان کے حالات سے بھی اور یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ تم میں سے جو لوگ نیک کاموں میں دوروں سے آگے بڑھ گئے ہیں ان کو بھی ہم جانتے ہیں اور جو پیچھے رہ گئے ہیں۔ ان کو بھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 21 لہٰذا مخلوقات میں سے کوئی نوع بھی کسی چیز کی مالک نہیں ہے ، تمام خزانے اللہ کی حاکمیت میں ہیں ، اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہیں۔ اللہ اپنی مخلوق کے لئے جو خزانے چاہتا ہے ، ایک معلوم اور متعین مقدار کے مطابق اتارتا ہے ، کوئی چیز بھی آگ پر نازل نہیں ہوتی اور نہ کوئی چیز اتفاقاً وقوع پذیر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جن چیزوں کو ایک معلوم مقدار کے مطابق بھیجتا ہے ، ان میں سے ہوائیں اور بارشیں بھی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی جو چیز جتنی مقدار میں چاہے پیدا کر دے، نہ کچھ تعب ہوتا ہے نہ تکان، ادھر ارادہ کیا ادھر وہ چیز موجود ہوئی۔ گویا تمام چیزوں کا خزانہ اس کی لامحدود قدرت ہوئی جس سے ہر چیز حکمت کے موافق ایک معین نظام کے ماتحت ٹھہرے ہوئے اندازہ پر بلا کم وکاست نکلی چلی آتی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 21 وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَاۗىِٕنُهٗ کوئی شے ایسی نہیں ہے جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں۔ ہمارے خزانے اور وسائل لامحدود ہیں ‘ لیکن : وَمَا نُنَزِّلُهٗٓ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ ان لامتناہی اور لا محدود خزانوں سے صرف ضرورت کے مطابق اشیاء دنیا میں بھیجی جاتی ہیں۔ جیسے ہمارے ہاں بڑے بڑے گوداموں سے ضرورت کے مطابق چیزوں کی ترسیل کی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 1 ضروریات زندگی کی مناسب مقدار میں فراہمی :۔ اللہ کے پاس ہر چیز کے خزانے موجود ہیں لہذا وہ چاہتا تو تمام انسانوں کو وافر رزق اور مال و دولت عطا کرسکتا تھا۔ مگر اس کی حکمت کا تقاضا ایسا نہیں کیونکہ ایک تو رزق کی فراوانی عموماً اللہ کو بھول جانے اور گمراہ ہوجانے کا سبب بن جاتی ہے۔ الاماشاء اللہ اور دوسرے اگر تمام لوگ ہی مالدار ہوتے اور محتاج کوئی بھی نہ ہوتا تو دنیا کا موجودہ نظام چل ہی نہیں سکتا تھا۔ یہ اسی صورت میں چل سکتا ہے کہ ایک کو دوسرے کی احتیاج ہو۔ امیر کو غریب کی احتیاج ہو اور غریب کو امیر کی۔ پھر اس میں انسان کی آزمائش بھی ہے لہذا رزق کی کمی بیشی کا تمام تر معاملہ اللہ نے اپنے ہاتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

18۔ (حسب حکمت ومصلحت) اللہ کے ہاں کمی کس چیز کی ہوسکتی ہے ؟ ہر چیز کا ظہور اپنی کیفیت وکمیت کے لحاظ سے بس قانون حکمت کے ماتحت ہی ہوتا رہتا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” ان من شیء الا عندنا خزآئنہ “۔ سے اشارہ مخلوق کی طرف سے ترک التفات کا ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–25

آیت نمبر 16 تا 25 ترجمہ : اور بیشک ہم نے آسمان میں بڑے بڑے بارہ برج بنائے (1) حمل (2) ثور (3) جوزاء (4) سرطان (5) اسد (6) سنبلہ (7) میزان (8) عقرب (9) قوس (10) جدی (11) دلو (12) حوت، یہ سات سیاروں کی بارہ منزلیں ہیں مریخ کیلئے حمل اور عقرب ہیں اور زہرہ کیلئے ثور اور میزان ہیں اور عطارد کیلئے جو ازء اور سنبلہ ہیں اور قمر کیلئے سرطان ہے اور شمس کیلئے اسد ہے، اور مشتری کیلئے قوس اور حوت ہیں اور ہم نے آسمان کو دیکھنے والوں کیلئے تاروں سے سجایا اور آسمانوں کو ہم نے ستاروں کے ذریعہ ہر شیطان مردود سے محفوظ کیا، الایہ کہ کوئی چوری سے سن بھاگے تو اس کے تعاقب میں ایک روشن ستارہ ہوتا ہے، (جو) اس کو جلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان من شیء الا عندنا اور جتنی چیزیں ہیں ہمارے پاس ‘ سب کے خزانے (بھرے پڑے ہیں) ۔ یعنی ہماری قدرت ایسی ہمہ گیر ہے کہ جتنی مخلوق ہم نے پیدا کی ہے اور جو جو چیز بنائی ہے ‘ اس سے کتنے ہی گنا زائد ہم پیدا کرسکتے ہیں۔ خزانے موجود ہونے سے مراد ہے : قدرت کے اتھاہ ہونے کا بیان۔ یا اللہ نے اپنے مقدورات کو خزانوں سے تشبیہ دی جو جمع شدہ اور موجود ہوتے ہیں ‘ ان میں سے ہر وقت جو چاہو نکال سکتے ہو۔ اللہ کے مقدورات بھی ایسے ہی ہیں۔ اللہ جب چاہے اور جتنا حصہ چاہے ‘ اپنے مقدورات میں سے عالم ظہور میں لاسکتا ہے اور پیدا کرسکتا ہے اور آیت ذیل میں جو اتارنے کا لفظ استعمال کیا ہے ‘ اس سے مراد پیدا کردینا اور عالم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(21) اور جتنی بھی چیزیں نباتات ہوں خواہ پھل ہوں یا بارش سب کی کنجیاں (اور خزانے بھرے ہوئے) ہمارے قبضہ میں ہیں تمہارے قبضہ میں کچھ نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا۔۔ : یعنی کوئی بھی چیز، قیمتی سے قیمتی ہو یا معمولی سے معمولی، ہمارے پاس اس کے کئی خزانے ہیں، مگر ہم اس کو معلوم اندازے کے مطابق ہی ظاہر کرتے ہیں، مثلاً جلانے اور روشنی کے لیے لکڑی استعمال ہوتی تھی، جب آبادی زیادہ ہوئی تو کوئلہ نکل آیا، مزید بڑھی تو پٹرولیم عطا ہوا، اس سے بھی بڑھی تو گیس نکل آئی، بجلی کے او ون ایجاد ہوگئے۔ توانائی اور سواری کے لیے جانور استعمال ہوتے تھے، پھر پہیہ ایجاد ہوا، پھر کوئلہ استعمال ہونے لگا، پھر پٹرولیم، گیس، بجلی اور ایٹم، الغرض ! ایجادات بھی ضرورت کے مطابق اپنے اپنے وقت پر ہوئیں۔ اس سے ان ملحد لوگوں، خصوصاً حکمرانوں کی بات کا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 21 قولہ تعالیٰ : وان من شیئ الا عندنا خزآینہ یعنی، مخلوق کے رزقوں اور ان کے منافع میں سے کوئی شے نہیں ہے مگر ہمارے پاس اس کے خزانے بھرے پڑے ہیں ؛ مراد آسمان سے نازل کی جانے والی بارش ہے، کیونکہ اسی کے ساتھ ہر شے اگتی ہے۔ حسن نے کہا ہے : بارش ہر شے کا خزانہ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ خزائن سے مراد مفاتیح (چابیاں) ہیں، یعنی رزق کی چابیاں آسمان میں ہیں ؛ یہ کلبی (رح) نے کہا ہے۔ مفہوم دونوں کا ایک ہے۔ وما ننزلہ الا بقدر معلوم یعنی البتہ ہم اسے نازل نہیں کرتے مگر اپنی مشیت کے مطابق اور اتنی مقدار میں جتنی مخلوق کو اس کی حاجت اور ضرورت ہوتی ہے ؛ جیسا کہ فرمایا : ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 16–23

1:۔ امام ابن شیبہ، ابن ابی جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں ستارے۔ 2:۔ امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابوقتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں ستارے۔ 3:۔ امام ابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں بڑے ستارے۔ 4:۔ امام ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہے آسمانوں میں محلات اور جس میں چوکیدار رہتے ہیں۔ 5:۔ امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَ ان : اور نہیں ہے ] [ مِّنْ شَيْءٍ : کوئی بھی چیز ] [ اِلَّا : مگر ] [ عِنْدَنَا : ہمارے پاس ] [ خَزَاۗىِٕنُهٗ : اس کے خزانے ہیں ] [وَمَا نُنَزِّلُهٗٓ: اور ہم نہیں اتارتے اس کو (کسی چیز کو)] [ اِلَّا : مگر ] [ بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ : ایک معلوم اندازے کے ساتھ ] (آیت۔ 21) ننزلہ کی ضمیر مفعولی خزاگن کے لئے نہیں ہے بلکہ من شیء کے لئے ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ کے پاس ہر چیز کے خزانے ہیں پھر فرمایا (وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآءِنُہٗ ) (اور کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں) (وَ مَا نُنَزِّلُہٗٓ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ ) (اور ہم اس کو صرف بقدر معلوم ہی نازل کرتے ہیں) اس میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت بہت بڑی ہے جو کچھ پیدا ہوتا ہے اس کی مشیت سے پیدا ہوتا رہتا ہے اس کی حکمت کے مطابق ہے، اس کی قدرت غیر متناہی ہے مخلوق کو رزق دینے اور کھلانے پلانے کے لیے اسے میزانیہ بنانے کی ضرورت نہیں اس کے قبضہ قدرت میں بےانتہا خزانے ہیں جب چاہے جتنا چاہے صرف ایک کلمہ کن سے پیدا فرما سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–25

بیان توحید قال اللہ تعالیٰ : ولقد جعلنا فی السماء بروجا .... الیٰ .... انہ حکیم علیم۔ (ربط) گزشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی نبوت پر جو مشرکین کے شبہات تھے ان کا رد فرمایا اب ان آیات میں اپنی الوہیت اور وحدانیت اور قدرت کے دلائل بیان فرماتے ہیں کچھ تو آسمانی چیزوں سے اور کچھ زمینی چیزوں سے ان میں سے پہلی دلیل یہ ہے کہ آسمان کے بارہ برج ہیں۔ یعنی آسمان کے بارہ ٹکڑے مثل خربوزہ کے پھانک کے مختلف شکل کے ستاروں سے پیدا ہوگئے ہیں۔ ہر برج میں جس جانور کے ہم شکل ستارے ہیں وہ برج اسی نام سے عرب میں مشہور ہوگیا۔ حمل، ثور، جوزاء، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو، حوت۔ یہ حق تعالیٰ کی قدرت کی عجیب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 21–23

11:۔ حرف نفی اور حرف استثناء مفید حسر ہے۔ یعنی ہر چیز کے خزانے اور ذخیرے ہمارے ہی علم میں اور ہمارے ہی اختیار و تصرف میں ہیں، بارش، رزق، تندرستی، دولت، اولاد، آرام و راحت غرضیکہ ہر چیز ہمارے تصرف میں ہے اور ان خزانوں میں سے ہم اپنی حکمت بالغہ کے مطابق جتنا چاہتے اور جس پر چاہتے ہیں نازل کرتے ہیں اس میں کسی اور کا کوئی دخل نہیں۔ ” وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ الخ “ ہم ہوائیں بھیجتے ہیں جو اپنے جوف میں پانی سے لبریز بادل اٹھائے ہوتی ہیں ان سے بارش برسا کر ہم تمہیں، تمہارے چوپایوں اور تمہاری زمینوں کو سیراب کرتے ہیں۔ و ارسلنا الریح حوامل بالسحاب لانھا تتحمل السحاب فی جو فھا (مدارک ج 2 ص 209) ۔ ” وَ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–21

(ربط آیات) کافر اور مشرک قرآن حکیم کی حقانیت پر شبہ کرتے تھے اور صاحب قرآن کو کہتے تھے کہ تو دیوانہ ہے ، اور اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو نازل کر تاکہ وہ تیری اور قرآن پاک کی صداقت کی گواہی اللہ نے مشرکین کے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو حق کے ساتھ اتارتا ہے اور جب اتارتا ہے تو پھر نافرمانوں کو مہلت نہیں ملتی بلکہ ان کا کام تمام کردیا جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کے حق میں گواہی دیتے ہوئے فرمایا کہ اس کو ہم نے ہی اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں لہذا حفاظت کے سامان ہم خود پیدا کریں گے ، اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَاۗىِٕنُهٗ ۡ وَمَا نُنَزِّلُهٗٓ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ 21؀ خزن الخَزْنُ : حفظ الشیء في الخِزَانَة، ثمّ يعبّر به عن کلّ حفظ کحفظ السّرّ ونحوه، وقوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنا خَزائِنُهُ [ الحجر/ 21] ( خ زن ) الخزن کے معنی کسی چیز کو خزانے میں محفوظ کردینے کے ہیں ۔ پھر ہر چیز کی حفاظت کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے جیسے بھیدہ وغیرہ کی حفاظت کرنا اور آیت :۔ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنا خَزائِنُهُ [ الحجر/ 21] اور ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں قدر تَقْدِيرُ اللہ علی وجهين : أحدهما بالحکم منه أن يكون کذا أو لا يكون کذا، إمّا علی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 19–21

عالم سفلی کے حالات سے دوسری دلیل : والارض مددنھا یہ عالم سفلی کے حالات سے دوسری دلیل ہے۔ اول زمین کو پھیلانا باوجود کروی ہونے کے اس کی ایسا سطح رکھنا کہ جس پر مخلوق بس سکے ‘ اسی کی کاری گری ہے۔ دوم القینا فیھا رواسی مفردر اسی اور اس کی جمع راسیات اس کی جمع یعنی جمع الجمع رواسی ہے۔ رواسی ٹھہرنے اور جمنے والی چیزیں جس سے مراد پہاڑ ہیں۔ یہ مضمون بہت جگہ قرآن میں ہے منجملہ ان کے وفی الارض رواسی ان تمیدلکم اور ان پہاڑوں کو اوتاد یعنی زمین کی میخیں بھی فرماتا ہے۔ خواہ یوں کہو کہ زمین پیدا کرنے کے بعد جو بارشیں ہوئیں تو بلند قطعات میں ادھر ادھر سے مٹی گر کر اونچے نیچے مختلف صورتوں کے ٹیلے جو رہ گئے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِنْ مِّنْ شَیْ ئٍ اِلاَّ عِنْدَنَا خَزَآئِنُہٗ ز وَمَا نُنَزِّلُہٗ ٓ اِلاَّ بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ ۔ (سورۃ الحجر : 21) (اور کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں، لیکن ہم اس کو ایک معین اندازے کے ساتھ ہی اتارتے ہیں۔ ) توازن و تناسب کی طرف اشارہ ہم چونکہ تمام مخلوقات کے رازق ہیں اس لیے رزق کے حوالے سے جن جن نعمتوں کی ضرورت ہے ان کے خزانے ہمارے پاس ہیں۔ کسی مخلوق کو کبھی اس کا گمان نہیں ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس اس کے رزق میں کمی آجائے گی۔ اور حقیقت یہ ہے کہ کوئی آبی مخلوق ہو یا جنگلوں کی مخلوق، کیڑے مکوڑے ہوں یا فضائی جانور، کبھی کسی کو یہ شکایت پیدا نہیں ہوئی کہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 19–21

فہم القرآن ربط کلام : آسمان کے ذکر کے بعد زمین کا تذکرہ اور ظاہری جسامت کے حوالے سے سب سے بڑی مخلوق پہاڑوں کا بیان۔ سورۃ الانبیاء کی آیت 30 میں زمین و آسمان کی ابتدائی ہیئت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ کیا اللہ کے منکر اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اس نے زمین و آسمان کو کس طرح ایک دوسرے سے الگ کیا۔ حالانکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ سورة السجدۃ کی آیت 9 تا 13 میں قدرے تفصیل بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو دو دن میں بنایا۔ اس کے بعد اس پر پہاڑ نصب کیے پھر دو دن میں آسمانوں کی تکمیل کی اور ہر آسمان کے متعلقات کو انہیں اپنے اپنے مقام پر ٹھہرنے کا حکم صادر فرمایا۔ بعد ازاں آسمان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ہمارے پاس ہر چیز کا خزانہ ہے : 21: وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُہٗ وَمَا نُنَزِّلُہٗ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ (کوئی چیز ایسی نہیں جس کے ہمارے پاس خزانے نہ ہوں اور ہم اس کو ایک معلوم مقدار کے مطابق اتارتے ہیں) خزائن کا ذکر بطورتمثیل ہے۔ مطلب یہ ہے جو چیز بندوں کے فائدہ کی ہے اس کو ہم تکوین و ایجاد کی قدرت رکھتے ہیں۔ اور اس کا انعام کرسکتے۔ ہم ایک معلوم مقدار کے مطابق اس کو عطا کرتے ہیں خزائنکو بطور مثال کے بیان کرنے کا مقصد ہر مقدور پر اقتدار الٰہی کا ثابت کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

21۔” وان من شیء “ یہاں ما کے معنی میں ہے۔” الا عندنا خزائنہ “ ان خزانوں کی چابیاں بعض نے کہا کہ اس سے مراد بارش ہے۔” وما ننزلہ لہ الا بقدرمعلوم “ ہر زمین پر ایک مقدار معلوم ہے۔ بعض نے کہا کہ آسمان سے کوئی قطرہ بارش کا نہیں اترتا کہ اس کے ساتھ فرشتہ بھی نازل ہوتا ہے جو اس کو جہاں سے چاہے کھینچ کے لاتا ہے اور فرشتہ اس بوند کو اسی جگہ تک ضرور پہنچاتا ہے جہاں پہنچانے کا حکم ہوتا ہے۔ جعفر بن محمد اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے روایت نقل کرتے ہیں کہ فرمایا کہ عرش میں جو کچھ ہے اس کی مثال تمام مخلوق کی ہے جو خشکی اور تری میں پیدا کی ہے اس کی تاویل اس آیت سے ثابت ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 21–23

21۔ 23۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ جتنی چیزیں دنیا میں ہیں خواہ کسی قسم کی ہوں ان سب کا خزانہ اللہ کے پاس ہے۔ جب جتنی ضرورت ہوتی ہے اس میں سے ضرورت کے موافق دنیا میں اتاری جاتی ہیں۔ اکثر مفسرین خزائن کے معنے مینہ کا خزانہ بیان کرتے ہیں اور بقدر معلوم کی تفسیر میں یہ کہتے ہیں کہ ایک جگہ کم بارش ہوتی ہے اور دوسری جگہ زیادہ ایک جگہ بالکل بارش نہیں ہوتی اور دوسری جگہ خوب ہوتی ہے اور بارش کے ایک ایک قطرے کے ساتھ فرشتے مقرر ہوتے ہیں جو اس قطرے کو وہیں گرنے دیتے ہیں جہاں حکم ہوتا ہے اور یہ بات یاد رکھتے ہیں کہ اس قطرے سے کیا کیا پیداوار ہوئی۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہوا کو حکم دیتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 21 یعنی ہر قسم کا رزق اور ہر قسم کی تقدیر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے قبضہ اختیار میں نہیں، رزق کے خزانے اسی کے ہاتھ میں ہیں وہ اپنی حکمت اور بےکراں رحمت کے مطابق جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے محروم کردیتا ہے (وما نزلہ) ” اور نہیں اتارتے ہم اس کو “ یعنی ہر مقررہ چیز، جیسے بارش وغیرہ (الا بقدر معلوم) ” مگر معین اندازے پر “ یعنی اس کی جو مقدار اللہ تعالیٰ نے مقرر کردی ہے، اس سے زیادہ ہوتی ہے نہ اس سے کم ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

22۔ اللہ تعالیٰ کے پاس ہر چیز کے خزانوں کے خزانے، سبحانہ وتعالیٰ : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ کوئی چیز ایسی نہیں جس کے ہمارے پاس خزانوں کے خزانے نہ ہوں، جو کہ نتیجہ وثمرہ ہے ہماری لامحدود وقدرت و عنایت کا۔ اور یہ خزانے کبھی ختم ہونے والے نہیں۔ اور حدیث شریف کے مطابق اس کے خزانے تو اس کے اقوال وارشادات ہیں۔ جو چاہا ہوگیا۔ جو فرمایا وجود میں آگیا۔ (جامع البیان وغیرہ) سو ہمارے خزانوں میں کسی نقص وکمی کا کوئی سوال نہیں لیکن ہم ان میں سے اتارتے اتنا ہی ہیں جتنا کہ اس دنیا کی بقاء کا تقاضا ہوتا ہے۔ سو اللہ پاک کی اس کائنات میں ہر چیز کا تناسب اور اس کی ایک خاص حد ہوتی ہے جس کے مطابق ہر چیز کو اتارا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–22

خزانوں کا مالک صرف اللہ ہے تشریح : یہ آیات اللہ کی شان اس کی حکمت، کاریگری، طاقت، عظمت اور اس کے رازق و خالق اعظم ہونے کی بہت زبردست دلیلیں پیش کرتی ہیں۔ سبحان اللہ۔ اللہ اکبر۔ اس خالق (پیدا کرنے والا) اور المُتّکبرّ (بڑائی اور بزرگی والا) رحمن و رحیم کی جس قدر بندگی کریں کم ہے۔ کیونکہ اسی نے ہمیں پیدا کیا۔ رہنے کے لیے انتہائی پر آسائش زمین، کھانے کے لیے بہترین نباتات، حیوانات، پینے کے لیے بہترین پانی کے ذرائع، سانس لینے کے لیے صاف ستھری ٹھنڈی میٹھی ہوائیں، غرض کیا کچھ بیان کریں کہ اس نے اپنے بندوں کو کیسے کیسے خزانے، برکتیں اور نعمتیں عطا کر رکھی ہیں۔ کتنا شکر ادا کریں تو اس کا حق ادا نہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 16–25

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف حالانکہ قدرت باری اس قدر ہویدا ہے کہ آسمانوں میں چڑھے بغیر اس کی عظمت پہ دلالت کرتی نظر آتی ہے آخر ہم نے ہی تو آسمانوں میں بہت بڑے بڑے ستارے اور سیارے سجا دیئے اور خلا کو دیکھنے والوں کے لیے بہت خوبصورت بنا دیا جہاں ان میں اور بیشمار حکمتیں ہیں وہاں آسمانوں کی حفاظت کا کام بھی ان سے لیا اور پھر شیطان مردود کو ان کے باعث آسمانوں سے دور کردیا کہ ان میں کی ٹوٹ پھوٹ اور ان کی روشنی و گرمی اور مختلف اثرات فضا اور خلا کی ایک خاص حد سے آگے کسی کو بڑھنے نہیں دیتے حتی کہ شیاطین تک سوائے اس کے کسی شیطان نے خلا میں سے چوری چھپے کوئی بات فرشتوں سے سن لی تو اس کے پیچھے روشن شعلہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 ۔ یعنی ہمارے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہے لیکن ہم بندوں کو ضرورت کے پیش نظر اسے ایک خاص مقدار میں آسمان سے اتارتے یا زمین سے پیدا کرتے ہیں۔ ہر چیز کے خزانے اللہ تعالیٰ کے پاس ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ اکثر مفسرین (رح) کا خیال ہے کہ یہاں خزائن سے مراد بارش ہے کیونکہ دنیا میں تمام تر رزق و معیشت کا مدار اسی پر ہے مگر اولیٰ یہ ہے کہ اسے عموم پر رکھا جائے۔ (شوکانی) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:12) ان۔ نافیہ ہے۔ خزائنہ میں ہُ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع شیء ہے۔ ان من شیء الا عندنا خزائنہ۔ نہیں کوئی چیز مگر ہمارے پاس اس کے خزانے (بھرے پڑے) ہیں۔ ما ننزلہ الا بقدر معلوم۔ ہم اس چیز کو نہیں اتارتے مگر ایک معلوم اندازے کے مطابق ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–25

لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 25 بروج (برج) اونچی اور بلند عمارت، قلعے۔ زینا ہم نے زینت دی، خوبصورت بنایا۔ نظرین دیکھنے والے۔ حفظنا ہم نے حفاظت کی رجیم مردود، نکالا گیا ۔ استرق (استراق) جس نے چوری سے کوئی چیز اڑا لی ہو ۔ السمع سننا اتبع پیچھے لگ گیا شھاب انگارا۔ آگ مدد پھیلا دیا۔ القینا ہم نے ڈال دیا۔ رواسی بوجھ۔ پہاڑ ۔ انبتنا ہم نے اگایا موزون اندازہ، مقدار۔ معایش زندگی گذارنے کا سامان۔ لستم تم نہیں ہو۔ خزائن خزانے ، ذخیرہ۔ قدر معلوم اندازے مقرر، متعین الریح (ریح) ہوائیں لواقع (لاقحۃ ) بوجھل بھرپور اسقینا ہم نے سیراب کردیا۔ پلایا ۔ خازنین خزانے والے نحی ہم زندگی دیتے ہیں نمیت ہم موت دیتے ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 21–23

پانی کے خزانے اللہ کے پاس ہے، بارش کی ہر بوند کے ساتھ ایک فرشتہ ہے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ جتنی چیزیں دنیا میں ہیں ان سب کا خزانہ اللہ کے پاس ہے۔ جب جتنی ضرورت ہوتی ہے اس میں سے ضرورت کے موافق دنیا میں اتاری جاتی ہیں۔ خزائن کے معنی : بارش کا خزانہ ہے اور بقدر معلوم کی تفسیر میں ہے کہ ایک جگہ کم بارش ہوگئی ہے اور دوسری جگہ زیادہ، ایک جگہ بالکل بارش نہیں ہوتی اور دوسری جگہ خوب ہوتی ہے۔ اور بارش کے ایک ایک قطرے کے ساتھ فرشتے مقرر ہوتے ہیں جو اس قطرے کو وہیں گرنے دیتے ہیں جہاں حکم ہوتا ہے۔ اور یہ بات یاد رکھتے ہیں کہ اس قطرے سے کیا کیا پیداوار ہوئی۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ ہوا کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–21

[7] شہاب اس ستارے کو کہتے ہیں جو رات کے وقت ٹوٹتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ زمانہ حال کے مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ اس طرح کے ستارے جو خلا سے زمین کی طرف آتے ہیں ان کی تعداد کا اوسط دس کھرب روزانہ ہے جن میں سے دو کروڑ کے قریب ہر روز زمین کے بالائی خطے میں داخل ہوتے ہیں اور بمشکل ایک زمین کی سطح تک پہنچتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ شہابوں کی یہی بارش عالم بالا کی طرف شیاطین کی پرواز میں مانع ہوتی ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 18–21

اطلاع علی الغیب کے تمام دروازے مسدود ہیں : (ف 1) حضور ﷺ سے قبل شیاطین آسمان تک پہنچ جایا کرتے تھے اور کچھ کچھ غیوب سماوی سے معلوم کرلیتے تھے ، جب حضور ﷺ مبعوث ہوئے اور آپ کو خلعت نبوت عطا ہوا تو اس وقت اطلاع علی الغیب کے تمام ابواب ان پر مسدود ہوگئے ، اب جو خبیث روحوں نے آسمان کی جانب رجوع کیا تو بلند اور چمکتے ہوئے شعلوں نے ان کا خیر مقدم کیا اور ان کو بےنیل ومرام واپس ہونا پڑا ، قرآن چونکہ اطلاع علی الغیب کی آخری صورت ہے ، اور حضور کے بعد کوئی شخص علوم نبوت کا وارث نہیں ، اس لئے اللہ نے معلومات غیب کے تمام ذرائع علما بند کردئیے ہیں ، یہ حضور ﷺ کی افضیلت خاتمیت کی بہترین دلیل ہے ۔ حل لغات…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

21 ۔ اور کوئی چیز نہیں مگر یہ کہ اس کے خزانے کے خزانے ہمارے پاس بھرے ہوئے ہیں اور ہم ان خزانوں کو نہیں اتارتے مگر ایک معین اور مقرر مقدار کے ساتھ یعنی ہونے کو سب کچھ ہمارے پاس موجود ہے مگر زمین پر اپنی حکمت و مصلحت کے مطابق ایک مقررہ مقدار سے نازل فرماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–25

ف 3۔ جاننا چاہئے کہ قرآن و حدیث میں یہ دعوی نہیں کہ بدون اس سبب کے شہاب نہیں پیدا ہوتا بلکہ دعوی یہ ہے کہ استراق کے وقت شہاب سے شیاطین کو رجم کیا جاتا ہے، پس ممکن ہے کہ شہاب کبھی محض طبعی طور پر ہوتا ہو، اور کبھی اس غرض کے لئے ہوتا ہو اور شہاب ثاقب دن کو بھی ہوتا ہے لیکن بوجہ ضوء شمس کے نظر نہیں آتا، پس یہ وسوسہ نہ رہا کہ شیاطین رات ہی کو استراق کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تفسیر : کوئی چیز ایسی نہیں جس کے ذخیرے ہمارے پاس موجود نہ ہوں ۔ 21۔ فرمایا دیکھو ہمارے ہاں کمی کسی چیز کی نہیں اور نہ ہو سکتی ہے ؟ ہرچیز کا ظہور اپنی کیفیت وکمیت کے لحاظ سے اس کے قانون قدرت و حکمت کے ماتحت ہی ہوتا رہتا ہے فرمایا کہ تم اس عالمگیر نظام پرورش پر ہی غور کرو جو اپنے ہر گوشہ وعمل میں پروردگار کی گود اور بخشش حیات کا سرچشمہ ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ تمام کارخانہ صرف اسی لئے بنا ہے کہ زندگی بخشے اور زندگی کی ہر استعداد کی رکھوالی کرے ، سورج اس لئے ہے کہ روشنی کیلئے چراغ کا اور گرمی کیلئے تنور کا کام دے اور اپنی کرنوں کے ذریعے ڈول بھر بھر کر سمندر سے پانی کھچتاگا رہے ، ہوائیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–21

Commentary Divine Wisdom: Balanced Provision for Human Needs One sense of the expression: مِن كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُونٍ (everything in balance - 19) is what has been taken in the present translation of the text, that is, it was in His infinite wisdom that He caused everything that grows to grow in a determined measure, not less than that which would have made life difficult, and not too much which would have also brought difficulties of a different nature. If grains like wheat and rice and the best of fruits around were to grow in such excess that stockpiles of them remain behind even after…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–22

14. This is to bring home the fact that it is not vegetable life alone that has a fixed limit to its growth, etc. The same is true of everything that exists, whether it be air, water, light, heat, cold, mineral, vegetable, animal or power or energy, in short, each and every thing exists in the prescribed quantity, number, etc. which neither decreases nor increases. It is this determined course in each and every thing which has produced appropriate balance and proportion in the entire system of the universe to such a perfection that one is led to the inevitable conclusion that the whole thing…

Read the full tafseer →