Al-Hijr 15:20

Al-Hijr · from ayah 20

15:20

وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ وَمَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ ۟وَجَعَلۡنَا لَـكُمۡ فِيۡهَا مَعَايِشَ وَمَنۡ لَّسۡتُمۡ لَهٗ بِرٰزِقِيۡنَ

اور ہم ہی نے تمہارے لیے اور ان لوگوں کے لیے جن کو تم روزی نہیں دیتے اس میں معاش کے سامان پیدا کئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We have made for you therein means of living and [for] those for whom you are not providers.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:20

اور اس میں معیشت کے اسباب فراہم کیے، تمہارے لیے بھی اور اُن بہت سی مخلوقات کے لیے بھی جن کے رازق تم نہیں ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم ہی نے تمہارے لیے اور ان لوگوں کے لیے جن کو تم روزی نہیں دیتے اس میں معاش کے سامان پیدا کئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اسی میں ہم نے تمہاری روزیاں بنا دی ہیں اور جنہیں تم روزی دینے والے نہیں ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اس میں تمہارے لیے بھی روزی کے سامان پیدا کیے ہیں اور ان (مخلوقات) کے لیے بھی جنہیں تم رزق نہیں دیتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تمہارے لیے اس میں روزیاں کردیں اور وہ کردیے جنہیں تم رزق نہیں دیتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے اس میں تمہارے لئے اسبابِ معیشت پیدا کئے اور ان (انسانوں، جانوروں اور پرندوں) کے لئے بھی جنہیں تم رزق مہیا نہیں کرتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے تمہارے لیے اس میں روزیاں بنائی ہیں اور ان کے لیے بھی جنھیں تم ہرگز روزی دینے والے نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اسی زمین میں ہم نے تمہارے لئے بھی سامان معیشت بنادیا اور ان کے لئے بھی جن کے رازق تم نہیں ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے اس میں تمارہی معیشت کے سامان بھی رکھے اور ان کی معیشت کے بھی جن کو تم روزی نہیں دیتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم ہی نے رکھ دئیے اس میں طرح طرح کے سامان زیست، تمہارے لئے بھی اور ان سب کے لئے بھی جن کے روزی رساں (ظاہری طور پر بھی) تم نہیں ہو،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے اس میں معاش کے سامان تمہارے لئے بھی بنائے اور ان کے لئے (بھی) جنہیں تم روزی نہیں دیتے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے بنائے ہیں تمہارے لیے اس میں ذرائع معاش اور (ان کے لیے بھی) جنہیں تم رزق نہیں دیتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم ہی نے تمہارے لیے، اور ان مخلوقات کے لیے جن کو تم روزی نہیں دیتے، اس میں معاش کے سامان پیدا کردیے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And We have provided sustenance for you on it and also for those of whom you are not the providers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and created in it sources of sustenance for you and those (creatures) for whom you are not the sustainers.

— Muhammad Taqi Usmani

and created in it sources of sustenance for you and those (creatures) for whom you are not the sustainers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And in it We have provided means of living, for you and for those whom you provide not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And we have given unto you livelihoods therein, and unto those for whom ye provide not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We have made for you therein means of living and [for] those for whom you are not providers.

— Saheeh International

to provide you and those for whose sustenance you are not responsible, with the necessities of life.

— Muhammad Sarwar

And We have made in it means of subsistence for you and for him for whom you are not the suppliers.

— Muhammad Habib Shakir

And We have appointed thereon for you livelihoods and also for those of whom ye are not the providers.

— Abdul Majid Daryabadi

And We have provided therein means of subsistence,- for you and for those for whose sustenance ye are not responsible.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:20

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–20

ستارے اور شیطان اس بلند آسمان کا جو ٹھہرے رہنے والے اور چلنے پھرنے والے ستاروں سے زینت دار ہے، پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ جو بھی اسے غور و فکر سے دیکھے وہ عجائبات قدرت اور نشانات عبرت اپنے لئے بہت سے پاسکتا ہے۔ بروج سے مراد یہاں پر ستارے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (تَبٰرَكَ الَّذِيْ جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا 61؀) 25۔ الفرقان :61) بعض کا قول ہے کہ مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں، عطیہ کہتے ہیں وہ جگہیں جہاں چوکی پہرے ہیں۔ اور جہاں سے سرکش شیطانوں پر مار پڑتی ہے کہ وہ بلند وبالا فرشتوں کی گفتگو نہ سن سکیں۔ جو آگے پڑھتا ہے، شعلہ اس کے جلانے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 19–20

سورة الْحِجْر 13 اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کے ایک اور اہم نشان کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ نباتات اور ہر نوع میں تناسل کی اس قدر زبردست طاقت ہے کہ اگر اس کے صرف ایک پودے ہی کی نسل کو زمین میں بڑھنے کا موقع مل جاتا تو چند سال کے اندر روئے زمین پر بس وہی وہ نظر آتی، کسی دوسری قسم کی نباتات کے لیے کوئی جگہ نہ رہتی۔ مگر یہ ایک حکیم اور قادر مطلق کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس کے مطابق بےحد و حساب اقسام کی نباتات اس زمین پر اگ رہی ہیں اور ہر نوع کی پیداوار اپنی ایک مخصوص حد پر پہنچ کر رک جاتی ہے۔ اسی منظر کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ ہر نوع کی جسامت، پھیلاؤ، اٹھان اور نشوونما کی ایک حد مقرر ہے جس سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–21

خلاصہ تفسیر اور ہم نے زمین کو پھیلایا اور اس (زمین) میں بھاری بھاری پہاڑ ڈال دیئے اور اس میں ہر قسم کی (ضرورت کی پیداوار) ایک معین مقدار سے اگائی اور ہم نے تمہارے واسطے اس (زمین) میں معاش کے سامان بنائے (جس میں ضروریات زندگی کی تمام چیزیں داخل ہیں جو کھانے پینے پہننے اور رہنے سہنے سے متعلق ہیں) اور (یہ سامان معاش اور ضروریات زندگی صرف تم کو ہی نہیں دیا بلکہ) ان کو بھی دیا جن کو تم روزی نہیں دیتے (یعنی وہ تمام مخلوقات جو ظاہر میں بھی تمہارے ہاتھ سے خوردو نوش اور زندگی گذارنے کا سامان نہیں پاتے ظاہر اس لئے کہا کہ گھر کے پالتو جانور بکری، گائے، بیل، گھوڑا، گدھا وغیرہ بھی اگرچہ حقیقت کے اعتبار سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

نظام ربوبیت کی طرف اشارہ : وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ وَمَنْ لَسْتُمْ لَهُ بِرَازِقِينَ۔ اس میں زبان کے معروف قاعدے کے مطابق ایک جگہ حرفِ جر کو محذوف کردیا گیا ہے۔ ومن لستم۔ در اصل ولمن لستم ہے۔ آسمان و زمین کی نشانیوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد یہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نظام ربوبیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اس زمین میں اس نے انسان کے لیے بھی ضرورت کی وہ ساری چیزیں پیدا کی ہیں جن کا وہ اپنی زندگی کے بقا اور اس کی رفاہیت کے لیے محتاج ہے اور ان چیزوں کے لیے بھی زندگی کا سامان کیا ہے جن کے رزق کی کوئی ذمہ داری انسان پر نہیں ہے اگرچہ وہ انسان کے کام آنے والی ہیں اور انسان مختلف پہلوؤں سے ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

20۔ 1 معایش معیشۃ کی جمع ہے یعنی زمین میں تمہاری معیشت اور گزران کے لئے بیشمار اسباب و وسائل پیدا کردیئے۔ 20۔ 2 اس سے مراد نوکر چاکر، غلام اور جانور ہیں۔ یعنی جانوروں کو تمہارے تابع کردیا، جن پر تم سواری بھی کرتے ہو، سامان بھی لاد کرلے جاتے ہو اور انھیں ذبح کر کے کھا بھی لیتے ہو۔ غلام لونڈیاں ہیں، جن سے تم خدمت گزاری کا کام لیتے ہو۔ یہ اگرچہ سب تمہارے ماتحت ہیں اور تم ان کے چارے اور خوراک وغیرہ کا انتظام بھی کرتے ہو لیکن حقیقت میں ان کا رازق اللہ تعالیٰ ہے، تم نہیں ہو۔ تم یہ نہ سمجھنا کہ تم ان کے رازق ہو، اگر تم انھیں کھانا نہیں دو گے تو بھوکے مرجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

10: اگرچہ ہر چیز کو رزق تو حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے ؛ لیکن بعض پالتو جانور ایسے ہیں جنہیں انسان ظاہری طور پر چارہ فراہم کرتا ہے، ان کے علاوہ اکثر مخلوقات ایسی ہیں جنہیں رزق مہیا کرنے میں ظاہری طور پر بھی انسان کا کوئی دخل نہیں ہے، اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ہم نے انسانوں کے لئے بھی رزق کے سامان پیدا کئے ہیں اور ان مخلو قات کے لئے بھی جنہیں انسان ظاہری طور پر کوئی غذا فراہم نہیں کرتا۔ عربی گرامر کی رو سے اس آیت کا ترجمہ ایک اور طرح بھی ممکن ہے اور وہ مخلوقات بھی پیدا کی ہیں جن کو تم رزق نہیں دیتے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے فائدے کے لئے وہ مخلوقات بھی پیدا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 19–20

آیت نمبر 19 تا 20 اس کائنات کی فضاؤں میں ایک قسم کی وسعت اور عظمت پائی جاتی ہے۔ آسمانوں میں بڑے بڑے قلعوں کا ذکر ہے۔ لفظ بروج کے تلفظ میں بھی ایک قسم کا زمزمہ اور عظمت ہے۔ “ شہاب ” کو لفظ مبین سے بیان کیا گیا۔ اس میں ایک عظمت کی طرف اشارہ ہے۔ زمین میں پہاڑوں کو رواسی کہا گیا اور ان پہاڑوں کے بھاری بھرکم ہونے کا اظہار لفظ الفینا سے کیا گیا۔ پھر نباتات کو موزون کی صفت سے موصوف کیا گیا۔ موزون لفظی اور معنوی دونوں اعتبار سے بھاری بھرکم ہے۔ اگرچہ یہاں مفہوم یہ ہے کہ اپنی پیچیدہ ساخت کے اعتبار سے وہ محکم اور متوازن ہے۔ پھر عظمت کی اس فضا میں معیشت کے بجائے معایش کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور اسے نکرہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 19–20

5 یعنی نوکر چاکر حیوانات وغیرہ جن سے کام اور خدمت ہم لیتے ہیں اور روزی ان کی خدا کے ذمہ ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 20 وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيْهَا مَعَايِشَ وَمَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِيْنَ کچھ مخلوق تو ایسی ہے جس کی روزی اور کھانے پینے کا انتظام بظاہر انسانوں کی ذمہ داری ہے جیسے پالتو جانور مگر بہت سی مخلوقات ایسی ہیں جن کے رزق کی ذمہ داری انسانوں پر نہیں ہے مگر اللہ ان سب کو ان کے حصے کا رزق بہم پہنچا رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

1 1 ایسی مخلوق بھی انسانوں کی تعداد سے زیادہ ہے اور اس میں ہر قسم کے چرند، پرند، درندے اور تمام حشرات الارض وغیرہ شامل ہیں۔ ان سب کی روزی بھی اسی طرح زمین کے ساتھ ہی وابستہ ہے جیسے تمہاری وابستہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

17۔ یعنی زمین کے ذریعہ سے انسان کے علاوہ ان مخلوقات کو بھی سامان زیست بہم پہنچا دیا گیا، جو ظاہر میں بھی انسان کے واسطہ سے پرورش نہیں پاتیں۔ یہ سب قانون الوہیت کی ہمہ گیری کا بیان ہورہا ہے۔ (آیت) ” معایش “۔ کے تحت میں ماکولات، مشروبات، ملبوسات، سب آگئے ،

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–25

آیت نمبر 16 تا 25 ترجمہ : اور بیشک ہم نے آسمان میں بڑے بڑے بارہ برج بنائے (1) حمل (2) ثور (3) جوزاء (4) سرطان (5) اسد (6) سنبلہ (7) میزان (8) عقرب (9) قوس (10) جدی (11) دلو (12) حوت، یہ سات سیاروں کی بارہ منزلیں ہیں مریخ کیلئے حمل اور عقرب ہیں اور زہرہ کیلئے ثور اور میزان ہیں اور عطارد کیلئے جو ازء اور سنبلہ ہیں اور قمر کیلئے سرطان ہے اور شمس کیلئے اسد ہے، اور مشتری کیلئے قوس اور حوت ہیں اور ہم نے آسمان کو دیکھنے والوں کیلئے تاروں سے سجایا اور آسمانوں کو ہم نے ستاروں کے ذریعہ ہر شیطان مردود سے محفوظ کیا، الایہ کہ کوئی چوری سے سن بھاگے تو اس کے تعاقب میں ایک روشن ستارہ ہوتا ہے، (جو) اس کو جلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وجعلنا لک فیھا معایش اور زمین میں یا پہاڑوں میں ہم نے تمہارے لئے اسباب زندگانی پیدا کئے ‘ کھانے پینے کی چیزیں ‘ لباس کی چیزیں ‘ دوائیں۔ معائش ‘ معیشت کی جمع ہے ‘ دنیوی زندگی کے اسباب۔ ومن لستم لہ برزقین اور ان (چوپایوں) کو بھی ہم نے پیدا کیا جن کو تم رزق دینے والے نہیں (ہم ہی رزق دیتے ہیں) ۔ اس جگہ لفظ مَنْ (جو عربی زبان میں صرف عقل والی مخلوق کیلئے وضع کیا گیا ہے جیسے انسان ‘ فرشتہ ‘ جن) بمعنی ماکے ہے (کیونکہ اس جگہ چوپائے مراد ہیں اور چوپائے عقل والے نہیں قرار دئیے جاتے) اسی طرح آیت فَمِنْھُمْ مَنْ یَّمْشِی عَلٰی بَطْنِہٖ میں مَنْ سے مراد جانور ہیں۔ اس آیت میں بھی مَنْ بمعنی مَا کے ہے۔ بعض…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(20) اور ہم نے تمہارے لیے زمین سے نباتات اور پھل اور اسی طرح تمام وہ چیزیں جو تم کھاتے پیتے اور پہنتے ہو پیدا کیں اور ان پرندوں اور وحشی جانوروں کو بھی اور پیٹ میں بچہ کو بھی روزی دی جن کو تم روزی نہیں دیتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيْهَا مَعَايِشَ وَمَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِيْنَ۔۔ : ”مَعَايِشَ“ ”مَعِیْشَۃٌ“ کی جمع ہے، ”عَاشَ یَعِیْشُ عَیْشًا وَ مَعَاشًا وَمَعِیْشَۃً“ کا معنی زندہ رہنا ہے، جیسے ”مَاتَ یَمُوْتُ مَوْتًا“ کا معنی مرنا ہے۔ پھر یہ لفظ زندگی کی ضرورتوں کے لیے استعمال ہونے لگا، یعنی تمہاری زندگی گزارنے کے لیے کھانے پینے، رہنے، علاج، راحت، سواری، الغرض ہر ضرورت کی چیز تمہارے لیے بھی پیدا کی اور ان کے لیے بھی جنھیں تم روزی دینے والے نہیں۔ اس سے دو قسم کی چیزیں مراد ہیں، ایک تو وہ جن کا تم سے تعلق ہی نہیں، سمندر کی گہرائیوں میں پہاڑوں کی بلندیوں میں، صحراؤں کی وسعتوں میں، زمین کی تہوں میں،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 19–20

آیت نمبر 19 تا 20 قولہ تعالیٰ : والارض مددنھا یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ہے، اور ان میں سے جو اس کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا : ہم نے زمین کو پانی کی سطح پر پھیلا دیا : جیسا کہ فرمایا : والارض بعد ذلک دحھا۔ (النازعات) (اور زمین کو بعد ازاں بچھا دیا) ۔ یعنی ہم نے اسے بچھا دیا۔ اور فرمایا : والارض فرشنھا فنعم المھدون۔ (الذاریات) (اور زمین کا ہم نے فرش بجھا دیا پس ہم کتنے اچھے (فرش) بچھانے والے ہیں) اور یہ اس کا رد ہو رہا ہے جس کا گمان یہ ہے کہ یہ (زمین) گیند کی مثل ہے۔ اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ والقینا فیھا رواسی اور ہم نے اس میں ثابت اور محکم پہاڑ گاڑ دئیے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 16–23

1:۔ امام ابن شیبہ، ابن ابی جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں ستارے۔ 2:۔ امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابوقتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں ستارے۔ 3:۔ امام ابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں بڑے ستارے۔ 4:۔ امام ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہے آسمانوں میں محلات اور جس میں چوکیدار رہتے ہیں۔ 5:۔ امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَجَعَلْنَا : اور ہم نے بنایا ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [فِيْهَا : اس میں ] [ مَعَايِشَ : زندگی کے سامان ] [ وَمَنْ : اور اس کے لئے ] [ لَّسْتم : تم لوگ نہیں ہو ] [ لَهٗ : جس کو ] [ بِرٰزِقِيْنَ : رزق دینے والے ] (آیت۔ 20) ۔ وَمَنْ دراصل لِمَنْ ہے اور وجعلنا سے متعلق ہے۔ ترجمہ اسی لحاظ سے ہوگا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ نے زمین میں انسانوں کی زندگی کے سامان پیدا فرمائے پھر فرمایا (وَ جَعَلْنَا لَکُمْ فِیْھَا مَعَایِشَ ) (اور ہم نے زمین میں تمہارے لیے زندگی کے سامان پیدا کردئیے) یعنی کھانے پینے اور پہننے کی چیزیں پیدا کردیں یہ چیزیں تمہاری بقاء اور معیشت اور زندگی کا سبب ہیں (وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَہٗ بِرٰزِقِیْنَ ) (اور ہم نے تمہارے لیے وہ چیزیں پیدا کیں جنہیں تم رزق دینے والے نہیں ہو) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ معایش پر معطوف ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمہارے لیے معیشت کی چیزیں پیدا فرمائیں جنہیں تم استعمال کرتے ہو اور جن سے تم خدمت لیتے ہو ان کو بھی پیدا فرمایا یعنی اہل و عیال اور باندی غلام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–25

بیان توحید قال اللہ تعالیٰ : ولقد جعلنا فی السماء بروجا .... الیٰ .... انہ حکیم علیم۔ (ربط) گزشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی نبوت پر جو مشرکین کے شبہات تھے ان کا رد فرمایا اب ان آیات میں اپنی الوہیت اور وحدانیت اور قدرت کے دلائل بیان فرماتے ہیں کچھ تو آسمانی چیزوں سے اور کچھ زمینی چیزوں سے ان میں سے پہلی دلیل یہ ہے کہ آسمان کے بارہ برج ہیں۔ یعنی آسمان کے بارہ ٹکڑے مثل خربوزہ کے پھانک کے مختلف شکل کے ستاروں سے پیدا ہوگئے ہیں۔ ہر برج میں جس جانور کے ہم شکل ستارے ہیں وہ برج اسی نام سے عرب میں مشہور ہوگیا۔ حمل، ثور، جوزاء، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو، حوت۔ یہ حق تعالیٰ کی قدرت کی عجیب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–20

10:۔ ” وَلَقَدْ جَعَلْنَا “ تا ” مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ “ توحید پر مفصل عقلی دلیل ہے ” اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ “ مستچنیٰ منقطع ہے اس دلیل سے دو دعوے ثابت کیے گئے۔ اول یہ کہ سب کچھ کرنے والا اور ساری کائنات میں متصرف و مختار اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ یہ ابتداء دلیل سے ” وَ نَحْنُ الْوَارِثُوْنَ “ تک میں مذکور ہے۔ فرمایا اوپر ہم نے آسمان پیدا کیا اور ملا اعلی کے رازوں کو شیاطین سے محفوط کردیا نیچے زمین پیدا کی، اس میں پہاڑ بنائے اور اس میں ہر چیز اندازے سے پیدا کی اور اس میں تمام انسانوں کے لیے بیشمار وسائل رزق مہیا کیے۔ ” وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ “ وہ معذور لوگ، غلام، اہل و عیال…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–21

(ربط آیات) کافر اور مشرک قرآن حکیم کی حقانیت پر شبہ کرتے تھے اور صاحب قرآن کو کہتے تھے کہ تو دیوانہ ہے ، اور اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو نازل کر تاکہ وہ تیری اور قرآن پاک کی صداقت کی گواہی اللہ نے مشرکین کے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو حق کے ساتھ اتارتا ہے اور جب اتارتا ہے تو پھر نافرمانوں کو مہلت نہیں ملتی بلکہ ان کا کام تمام کردیا جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کے حق میں گواہی دیتے ہوئے فرمایا کہ اس کو ہم نے ہی اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں لہذا حفاظت کے سامان ہم خود پیدا کریں گے ، اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيْهَا مَعَايِشَ وَمَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِيْنَ 20؀ عيش العَيْشُ : الحیاة المختصّة بالحیوان، وهو أخصّ من الحیاة، لأنّ الحیاة تقال في الحیوان، وفي الباري تعالی، وفي الملک، ويشتقّ منه المَعِيشَةُ لما يُتَعَيَّشُ منه . قال تعالی: نَحْنُ قَسَمْنا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَياةِ الدُّنْيا[ الزخرف/ 32] ، مَعِيشَةً ضَنْكاً [ طه/ 124] ، لَكُمْ فِيها مَعايِشَ [ الأعراف/ 10] ، وَجَعَلْنا لَكُمْ فِيها مَعايِشَ [ الحجر/ 20] . وقال في أهل الجنّة : فَهُوَ فِي عِيشَةٍ راضِيَةٍ [ القارعة/ 7] ، وقال عليه السلام : «لا عَيْشَ إلّا عَيْشُ الآخرة ( ع ی ش ) العیش خاص کر اس زندگی کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 19–21

عالم سفلی کے حالات سے دوسری دلیل : والارض مددنھا یہ عالم سفلی کے حالات سے دوسری دلیل ہے۔ اول زمین کو پھیلانا باوجود کروی ہونے کے اس کی ایسا سطح رکھنا کہ جس پر مخلوق بس سکے ‘ اسی کی کاری گری ہے۔ دوم القینا فیھا رواسی مفردر اسی اور اس کی جمع راسیات اس کی جمع یعنی جمع الجمع رواسی ہے۔ رواسی ٹھہرنے اور جمنے والی چیزیں جس سے مراد پہاڑ ہیں۔ یہ مضمون بہت جگہ قرآن میں ہے منجملہ ان کے وفی الارض رواسی ان تمیدلکم اور ان پہاڑوں کو اوتاد یعنی زمین کی میخیں بھی فرماتا ہے۔ خواہ یوں کہو کہ زمین پیدا کرنے کے بعد جو بارشیں ہوئیں تو بلند قطعات میں ادھر ادھر سے مٹی گر کر اونچے نیچے مختلف صورتوں کے ٹیلے جو رہ گئے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیْھَا مَعَایِشَ وَمَنْ لَّسْتُمْ لَہٗ بِرٰزِقِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 20) (اور ہم نے اس میں تمہاری معیشت کے سامان بھی رکھے اور ان کی معیشت کے بھی جن کے تم روزی دینے والے نہیں ہو۔ ) وسائلِ رزق کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے معیشت کھانے پینے کی چیزوں اور وسائلِ معاش کو کہتے ہیں۔ اس زمین پر ہم نے تمہارے لیے وسائلِ رزق پیدا کئے اور ان کے لیے بھی پیدا کئے ہیں جنھیں تم رزق نہیں دیتے۔ انسان عموماً اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتا ہے کہ میں جو کچھ کرتا ہوں اور جو میری ضروریات ہیں میں انھیں خود فراہم کرتا ہوں۔ میں جو کچھ کماتا ہوں اس سے میں اپنی مختلف اشیائے ضرورت خریدتا ہوں۔ اس طرح سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 19–21

فہم القرآن ربط کلام : آسمان کے ذکر کے بعد زمین کا تذکرہ اور ظاہری جسامت کے حوالے سے سب سے بڑی مخلوق پہاڑوں کا بیان۔ سورۃ الانبیاء کی آیت 30 میں زمین و آسمان کی ابتدائی ہیئت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ کیا اللہ کے منکر اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اس نے زمین و آسمان کو کس طرح ایک دوسرے سے الگ کیا۔ حالانکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ سورة السجدۃ کی آیت 9 تا 13 میں قدرے تفصیل بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو دو دن میں بنایا۔ اس کے بعد اس پر پہاڑ نصب کیے پھر دو دن میں آسمانوں کی تکمیل کی اور ہر آسمان کے متعلقات کو انہیں اپنے اپنے مقام پر ٹھہرنے کا حکم صادر فرمایا۔ بعد ازاں آسمان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

انسانی رزق زمین میں رکھے : 20: وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیْھَا (اور بنادیے اس میں) یعنی زمین میں مَعَایِشَ (اسباب زندگی) جمع معیشۃ کھانے پینے کی چیزیں۔ یہ یائے صریحہ کے ساتھ ہے بخلاف خبائث وغیرہ کے۔ اس میں صراحۃً یاء پڑھنا غلطی ہے۔ وَمَنْ لَّسْتُمْ لَہٗ بِرٰزِقِیْنَ (اور ان کو بھی پیدا کیا جن کو تم رزق دینے والے نہیں ہو) منؔ یہ معایش پر عطف ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے یا لکم کے محل کی وجہ سے گویا عبارت اس طرح تھی وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیْھَا مَعَایِشَ وَ جَعَلْنَا لَکُمْ مَّنْ لَّسْتُمْ لَہٗ بِرٰزِقِیْنَ اور زمین میں ہم نے پیدا کیا تمہارے لئے اسباب معیشت اور پیدا کیا ان جانوروں کو جن کو تم رزق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

20۔” وجعلنا لکم فیھا معایش “ یہ جمع ہے معیشہ کی ۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد کھانے پینے اور پہننے کی اشیاء ہیں ۔ بعض نے کہا کہ اس سے وہ اشیاء مراد ہیں جن سے آدمی کی زندگانی وابستہ ہوتی ہے۔” ومن لستم لہ برازقین “ ہم نے تمہارے لیے اسی میں روزگانی پیدا کردی ہے خواہ وہ چوپایوں کے متعلق ہو یا جانوروں کے متعلق ۔ یعنی ہم نے تمہارے لیے اس میں رزق بنایا جو تمہارے لیے کافی ہو ۔ اس آیت میں ( من) ما کے معنی میں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔” فمنھم من یمشی علی بطنہ “ ان دونوں مقامات میں ما کے معنی میں ہے۔” ممالیک “ سے مراداب ( جانور) ہیں اور بعض نے کہا کہ نصب میں واقع ہے۔ اس صورت میں اس کا عطف ” لکم ‘…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 19–20

19۔ 20۔ آسمان چاند سورج تاروں کے پیدا کرنے کا حال بیان کر کے زمین کے پیدا کرنے کا ذکر کیا کہ ہم نے زمین کو مشرق سے مغرب تک اور جنوب سے شمال تک پانی پر بچھا دیا ہے اور اس پر جا بجا پہاڑوں کے بوجھ رکھ دئیے ہیں اور خوب اچھی طرح مضبوط کردیا ہے جس طرح کیلیں ٹھونک کر تخت وغیرہ مضبوط بنائے جاتے ہیں اور زمین میں سے طرح طرح کی اشیاء پھل میوے ترکاریاں غلے روٹی ان اسی طرح پہاڑوں میں سے چاندی سونے لوہے وغیرہ کی کانیں غرض ہر چیز نہایت موزو نیت سے پیدا کی اور اس میں تمہاری روزی رکھی ہے تم بھی کھاتے پیتے ہو اور اپنے بال بچوں کو بھی کھلاتے پلاتے ہو اپنے جانوروں کو بھی چراتے ہو اور جس مخلوق کو تم جانتے بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 16–20

آیت 16 اللہ تعالیٰ اپنے کامل اقتدار اور مخلوق پر اپنی رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ولقد جعلنا فی السمآء بروجاً ) ” اور ہم نے بنائے ہیں آسمان میں برج “ یعنی ہم نے ستاروں کو برجوں کی مانند بنایا اور انہیں بڑی علامتیں بنایا جن کے ذریعے سے بحر و بر کی تاریکیوں میں راستے تلاش کئے جاتے ہیں (وزینھا للنظرین) ” اور خوب صورت بنایا ہے اس کو دیکھنے والوں کے لئے “ اگر ستارے نہ ہوتے تو آسمان کا منظر اتنا خوبصورت اور اس کی ہئیت اتنی تعجب خیز نہ ہوتی اور یہ چیز دیکھنے والوں کو ان پر تدبر، ان کے معانی میں غور و فکر اور ان کے ذریعے سے ان کے پیدا کرنے والے پر استدلال کی دعوت دیتی ہے۔ (وحفظنھا من کل شیطن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

20۔ سامانہائے زیست کے بارے میں دعوت غورفکر : سو آسمان و زمین کی نشانیوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد اس ارشاد سے انسان کے سامان زندگی اور اللہ پاک کے حکمتوں بھرے نظام ربوبیت کی طرف توجہ کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا " اور ہم ہی نے رکھ دیئے زمین میں طرح طرح کے وہ سامان ہائے زیست " کھانے کے، پینے کے، پہننے اوڑھنے، رہنے سہنے اور علاج معالجہ وغیرہ وغیرہ کے طرح طرح کے وہ سامان جن سے تم لوگ دن رات فائدہ اٹھاتے اور طرح طرح سے مستفید ہوتے ہو۔ اور دن رات کے پورے دورانیے میں اور لگاتار مستفید ہوتے ہو۔ سو ذرا سوچو تو سہی کہ کس قدر قادر مطلق اور کیسا مہربان اور وہاب و کریم ہے تمہارا وہ رب جس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–22

خزانوں کا مالک صرف اللہ ہے تشریح : یہ آیات اللہ کی شان اس کی حکمت، کاریگری، طاقت، عظمت اور اس کے رازق و خالق اعظم ہونے کی بہت زبردست دلیلیں پیش کرتی ہیں۔ سبحان اللہ۔ اللہ اکبر۔ اس خالق (پیدا کرنے والا) اور المُتّکبرّ (بڑائی اور بزرگی والا) رحمن و رحیم کی جس قدر بندگی کریں کم ہے۔ کیونکہ اسی نے ہمیں پیدا کیا۔ رہنے کے لیے انتہائی پر آسائش زمین، کھانے کے لیے بہترین نباتات، حیوانات، پینے کے لیے بہترین پانی کے ذرائع، سانس لینے کے لیے صاف ستھری ٹھنڈی میٹھی ہوائیں، غرض کیا کچھ بیان کریں کہ اس نے اپنے بندوں کو کیسے کیسے خزانے، برکتیں اور نعمتیں عطا کر رکھی ہیں۔ کتنا شکر ادا کریں تو اس کا حق ادا نہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 16–25

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف حالانکہ قدرت باری اس قدر ہویدا ہے کہ آسمانوں میں چڑھے بغیر اس کی عظمت پہ دلالت کرتی نظر آتی ہے آخر ہم نے ہی تو آسمانوں میں بہت بڑے بڑے ستارے اور سیارے سجا دیئے اور خلا کو دیکھنے والوں کے لیے بہت خوبصورت بنا دیا جہاں ان میں اور بیشمار حکمتیں ہیں وہاں آسمانوں کی حفاظت کا کام بھی ان سے لیا اور پھر شیطان مردود کو ان کے باعث آسمانوں سے دور کردیا کہ ان میں کی ٹوٹ پھوٹ اور ان کی روشنی و گرمی اور مختلف اثرات فضا اور خلا کی ایک خاص حد سے آگے کسی کو بڑھنے نہیں دیتے حتی کہ شیاطین تک سوائے اس کے کسی شیطان نے خلا میں سے چوری چھپے کوئی بات فرشتوں سے سن لی تو اس کے پیچھے روشن شعلہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ روزی دیتا ہے اور جو تمہاری خدمت کرتے ہیں۔ اس سے مراد مربوط ہیں نوکرچاکر اور جانور وغیرہ جن کا رازق درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ (شوکانی) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:20) معایش۔ معیشۃ کی جمع۔ سامان زندگانی۔ وسائل معاش۔ کھانے پینے کی چیزیں۔ ومن لستم لہ برازقین۔ ای ولمن لستم لہ برازقین۔ یعنی اور ان کے لئے بھی ہم نے سامانِ زینت مہیا کیا ہے جنہیں تم روزی دینے والے نہیں۔ مثلاً جنگلی جانور۔ درندے ۔ کیڑے۔ مکوڑے یا سمندر میں بسنے والے جانور وغیرہ۔ یعنی ایسی مخلوق جو انسان کے ہاتھوں روزی حاصل نہیں کرتی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–25

لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 25 بروج (برج) اونچی اور بلند عمارت، قلعے۔ زینا ہم نے زینت دی، خوبصورت بنایا۔ نظرین دیکھنے والے۔ حفظنا ہم نے حفاظت کی رجیم مردود، نکالا گیا ۔ استرق (استراق) جس نے چوری سے کوئی چیز اڑا لی ہو ۔ السمع سننا اتبع پیچھے لگ گیا شھاب انگارا۔ آگ مدد پھیلا دیا۔ القینا ہم نے ڈال دیا۔ رواسی بوجھ۔ پہاڑ ۔ انبتنا ہم نے اگایا موزون اندازہ، مقدار۔ معایش زندگی گذارنے کا سامان۔ لستم تم نہیں ہو۔ خزائن خزانے ، ذخیرہ۔ قدر معلوم اندازے مقرر، متعین الریح (ریح) ہوائیں لواقع (لاقحۃ ) بوجھل بھرپور اسقینا ہم نے سیراب کردیا۔ پلایا ۔ خازنین خزانے والے نحی ہم زندگی دیتے ہیں نمیت ہم موت دیتے ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–20

آسمان و زمین کا حال اس آیت میں زمین کے پیدا کرنے کا ذکر فرمایا کہ ہم نے زمین کو مشرق سے مغرب تک اور جنوب سے شمال تک پانی پر بچھا دیا ہے اور اس پر جابجا پہاڑوں کے بوجھ رکھ دیئے ہیں اور خوب اچھی طرح مضبوط کردیا ہے جس طرح کیلیں ٹھونک کر تخت وغیرہ مضبوط بنائے جاتے ہیں۔ اور زمین میں سے طرح طرح کی اشیاء پھل، میوے، ترکاریاں، غلے، روئی وغیرہ۔ اسی طرح پہاڑوں میں سے چاندی، سونے، لوہے وغیرہ کی کانیں۔ غرض ہر چیز نہایت موزونیت سے پیدا کی اور اس میں تمہاری روزی رکھی ہے، تم بھی کھاتے پیتے ہو، اور اپنے بال بچوں کو بھی کھلاتے پلاتے ہو، اپنے جانوروں کو بھی چراتے ہو اور جس مخلوق کو تم جانتے بھی نہیں کہ کہاں ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–21

[7] شہاب اس ستارے کو کہتے ہیں جو رات کے وقت ٹوٹتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ زمانہ حال کے مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ اس طرح کے ستارے جو خلا سے زمین کی طرف آتے ہیں ان کی تعداد کا اوسط دس کھرب روزانہ ہے جن میں سے دو کروڑ کے قریب ہر روز زمین کے بالائی خطے میں داخل ہوتے ہیں اور بمشکل ایک زمین کی سطح تک پہنچتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ شہابوں کی یہی بارش عالم بالا کی طرف شیاطین کی پرواز میں مانع ہوتی ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 18–21

اطلاع علی الغیب کے تمام دروازے مسدود ہیں : (ف 1) حضور ﷺ سے قبل شیاطین آسمان تک پہنچ جایا کرتے تھے اور کچھ کچھ غیوب سماوی سے معلوم کرلیتے تھے ، جب حضور ﷺ مبعوث ہوئے اور آپ کو خلعت نبوت عطا ہوا تو اس وقت اطلاع علی الغیب کے تمام ابواب ان پر مسدود ہوگئے ، اب جو خبیث روحوں نے آسمان کی جانب رجوع کیا تو بلند اور چمکتے ہوئے شعلوں نے ان کا خیر مقدم کیا اور ان کو بےنیل ومرام واپس ہونا پڑا ، قرآن چونکہ اطلاع علی الغیب کی آخری صورت ہے ، اور حضور کے بعد کوئی شخص علوم نبوت کا وارث نہیں ، اس لئے اللہ نے معلومات غیب کے تمام ذرائع علما بند کردئیے ہیں ، یہ حضور ﷺ کی افضیلت خاتمیت کی بہترین دلیل ہے ۔ حل لغات…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

20 ۔ اور ہم نے زمین میں تمہاری معیشت اور تمہاری روزی کے اسباب و سامان پیدا کئے اور ان چیزوں کی روزی کے بھی سامان پیدا کئے جن کو تم روزی نہیں دیتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جانوروں کی روزیاں۔ 12 خلاصہ۔ یہ ہے کہ آیت کے مفسرین نے دو معنی کئے ہیں ایک یہ کہ تمہاری روزی کے اسباب پیدا کئے اور وہ چیزیں پیدا کیں جن کو تم روزی نہیں دیتے اور دوسرے معنی یہ کہ تمہارے لئے بھی اسباب معیشت زمین میں بنائے اور ان کے لئے بھی سامان معیشت بنایا جن کو تم روزی نہیں دیتے پہلے معنی ترجمہ میں اور دوسرے معنی تیسیر میں اختیار کئے ہیں دوسرے معنی زیادہ مشہور ہیں ۔ من لستم کی شرح میں یعنی دیگر حیوانات بلکہ تمام…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–25

ف 3۔ جاننا چاہئے کہ قرآن و حدیث میں یہ دعوی نہیں کہ بدون اس سبب کے شہاب نہیں پیدا ہوتا بلکہ دعوی یہ ہے کہ استراق کے وقت شہاب سے شیاطین کو رجم کیا جاتا ہے، پس ممکن ہے کہ شہاب کبھی محض طبعی طور پر ہوتا ہو، اور کبھی اس غرض کے لئے ہوتا ہو اور شہاب ثاقب دن کو بھی ہوتا ہے لیکن بوجہ ضوء شمس کے نظر نہیں آتا، پس یہ وسوسہ نہ رہا کہ شیاطین رات ہی کو استراق کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تمہارے لئے معیشت کا انتظام اور ہر اس مخلوق کیلئے بھی جس کو تم روزی نہیں دے سکتے : 20۔ زیر نظر آیت نظام ربوبیت سے متعلق ہے اس کا مطالعہ بھی اس روشنی میں کرو اور دیکھو کتنے مختصر اور کیسے سیدھے سادے لفظوں میں کتنی بڑی حقیقت بیان کردی گئی ہے ؟ فرمایا (آیت) ” جعلنا لکم فیھا معایش “۔ ہم نے زمین میں تمہارے لئے زندگی ومعیشت کے سارے سروسامان مہیا کردیئے لیکن کس طرح مہیا کئے ؟ اس طرح کہ اگرچہ ہرچیز کے ہمارے پاس ذخیرے ہیں لیکن ان کی بخشش ایک مقررہ اندازے ہی کے ساتھ ہوتی ہے ، ایسا نہیں ہوتا کہ بغیر کسی اندازہ اور نظام کے تمام چیزیں بکھیر دی ہوں اور یہ جو ایک مقررہ اندازہ کا نظام ہے یعنی ” تقدیر اشیاء “…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–21

Commentary Divine Wisdom: Balanced Provision for Human Needs One sense of the expression: مِن كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُونٍ (everything in balance - 19) is what has been taken in the present translation of the text, that is, it was in His infinite wisdom that He caused everything that grows to grow in a determined measure, not less than that which would have made life difficult, and not too much which would have also brought difficulties of a different nature. If grains like wheat and rice and the best of fruits around were to grow in such excess that stockpiles of them remain behind even after…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–20

13. The growth of every kind of plant in a limited extent is another sign of the wisdom and power of Allah. For the generative power of every vegetable plant is so great that if free growth had been allowed to even one kind of plant, it would have covered the whole surface of the earth. But it is by the design of the All-Wise and All-Powerful Creator that every kind of vegetable is produced in a balanced measure. There is another aspect of the vegetable life. Each and every kind of it is allowed to grow only to a fixed size, height, and thickness, which is a proof of the fact that the Creator…

Read the full tafseer →