Explained with ayahs 15–20
ستارے اور شیطان
اس بلند آسمان کا جو ٹھہرے رہنے والے اور چلنے پھرنے والے ستاروں سے زینت دار ہے، پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ جو بھی اسے غور و فکر سے دیکھے وہ عجائبات قدرت اور نشانات عبرت اپنے لئے بہت سے پاسکتا ہے۔ بروج سے مراد یہاں پر ستارے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (تَبٰرَكَ الَّذِيْ جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا 61) 25۔ الفرقان :61) بعض کا قول ہے کہ مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں، عطیہ کہتے ہیں وہ جگہیں جہاں چوکی پہرے ہیں۔ اور جہاں سے سرکش شیطانوں پر مار پڑتی ہے کہ وہ بلند وبالا فرشتوں کی گفتگو نہ سن سکیں۔ جو آگے پڑھتا ہے، شعلہ اس کے جلانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
سورة الْحِجْر 13
اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کے ایک اور اہم نشان کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ نباتات اور ہر نوع میں تناسل کی اس قدر زبردست طاقت ہے کہ اگر اس کے صرف ایک پودے ہی کی نسل کو زمین میں بڑھنے کا موقع مل جاتا تو چند سال کے اندر روئے زمین پر بس وہی وہ نظر آتی، کسی دوسری قسم کی نباتات کے لیے کوئی جگہ نہ رہتی۔ مگر یہ ایک حکیم اور قادر مطلق کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس کے مطابق بےحد و حساب اقسام کی نباتات اس زمین پر اگ رہی ہیں اور ہر نوع کی پیداوار اپنی ایک مخصوص حد پر پہنچ کر رک جاتی ہے۔ اسی منظر کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ ہر نوع کی جسامت، پھیلاؤ، اٹھان اور نشوونما کی ایک حد مقرر ہے جس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے زمین کو پھیلایا اور اس (زمین) میں بھاری بھاری پہاڑ ڈال دیئے اور اس میں ہر قسم کی (ضرورت کی پیداوار) ایک معین مقدار سے اگائی اور ہم نے تمہارے واسطے اس (زمین) میں معاش کے سامان بنائے (جس میں ضروریات زندگی کی تمام چیزیں داخل ہیں جو کھانے پینے پہننے اور رہنے سہنے سے متعلق ہیں) اور (یہ سامان معاش اور ضروریات زندگی صرف تم کو ہی نہیں دیا بلکہ) ان کو بھی دیا جن کو تم روزی نہیں دیتے (یعنی وہ تمام مخلوقات جو ظاہر میں بھی تمہارے ہاتھ سے خوردو نوش اور زندگی گذارنے کا سامان نہیں پاتے ظاہر اس لئے کہا کہ گھر کے پالتو جانور بکری، گائے، بیل، گھوڑا، گدھا وغیرہ بھی اگرچہ حقیقت کے اعتبار سے…
Read the full tafseer →زمین کی نشانیوں کی طرف اشارہ : وَالأرْضَ مَدَدْنَاهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْزُونٍ۔
آسمان کی نشانیوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد یہ زمین کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی کہ جس طرح آسمان خدا کی نشانیوں سے معمور ہے اسی طرح زمین بھی اس کی نشانیاں سے معمور ہے۔ آسمان اوپر شامیانے کی طرح، چکمتے ہوئے اور یہ خدائے قادر وقیوم ہی کی قدرت و حکمت ہے کہ اس کے اندر اس نے پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے ہیں جو اس کے توازن کو برقرار رکھے ہوئے ہیں ورنہ، جیسا کہ دوسرے مقام میں فرمایا ہے، یہ ساری مخلوق سمیت ایک جانب کو لڑک پڑتی۔ وَأَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
18۔ 1 اس کا مطلب یہ ہے کہ شیاطین آسمانوں پر باتیں سننے کے لئے جاتے ہیں، جن پر شہاب ثاقب ٹوٹ کر گرتے ہیں، جن سے کچھ تو مرجاتے ہیں اور کچھ بچ جاتے ہیں اور بعض سن آتے ہیں۔ حدیث میں اس کی تفسیر اس طرح آتی ہے۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں ' جب اللہ تعالیٰ آسمان پر کوئی فیصلہ فرماتا ہے، تو فرشتے اسے سن کر اپنے پر یا بازو پھڑ پھڑاتے ہیں گویا وہ کسی چٹان پر زنجیر کی آواز ہے۔ پھر جب فرشتوں کے دلوں سے اللہ کا خوف دور ہوجاتا ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں، تمہارے رب نے کیا کہا ؟ وہ کہتے ہیں، اس نے کہا حق اور اور وہ بلند اور بڑا ہے (اس کے بعد اللہ کا وہ فیصلہ اوپر سے نیچے تک یکے بعد دیگرے سنایا جاتا ہے) اس موقع پر…
Read the full tafseer →9: قرآن کریم نے کئی جگہ بیان فرمایا ہے کہ شروع میں جب زمین کو سمندر پر بچھایا گیا تو وہ ڈولتی تھی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پیدا فرمائے ؛ تاکہ وہ زمین کو جما کر رکھیں، دیکھئے سورة نحل آیت نمبر : 15
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
آیت نمبر 19 تا 20
اس کائنات کی فضاؤں میں ایک قسم کی وسعت اور عظمت پائی جاتی ہے۔ آسمانوں میں بڑے بڑے قلعوں کا ذکر ہے۔ لفظ بروج کے تلفظ میں بھی ایک قسم کا زمزمہ اور عظمت ہے۔ “ شہاب ” کو لفظ مبین سے بیان کیا گیا۔ اس میں ایک عظمت کی طرف اشارہ ہے۔
زمین میں پہاڑوں کو رواسی کہا گیا اور ان پہاڑوں کے بھاری بھرکم ہونے کا اظہار لفظ الفینا سے کیا گیا۔ پھر نباتات کو موزون کی صفت سے موصوف کیا گیا۔ موزون لفظی اور معنوی دونوں اعتبار سے بھاری بھرکم ہے۔ اگرچہ یہاں مفہوم یہ ہے کہ اپنی پیچیدہ ساخت کے اعتبار سے وہ محکم اور متوازن ہے۔ پھر عظمت کی اس فضا میں معیشت کے بجائے معایش کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور اسے نکرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
5 یعنی نوکر چاکر حیوانات وغیرہ جن سے کام اور خدمت ہم لیتے ہیں اور روزی ان کی خدا کے ذمہ ہے۔
Read the full tafseer →آیت 19 وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَاَلْقَيْنَا فِيْهَا رَوَاسِيَ
زمین کے یہ لنگر پہاڑ ہیں جن کے بارے میں قرآن بار بار کہتا ہے کہ یہ زمین کی حرکت کو متوازن رکھنے Isostsasy کا ایک ذریعہ ہیں۔
وَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُوْنٍ
کائنات کے اس خدائی نظام میں ہرچیز کی مقدار اور تعداد اس حد تک ہی رکھی گئی ہے جس حد تک اس کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی چیز اس مقررہ حد سے بڑھے گی تو وہ اس نظام میں خلل کا باعث بنے گی۔ مثلاً بعض مچھلیوں کے انڈوں کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے۔ یہ تمام انڈے اگر مچھلیاں بن جائیں تو چند ہی سالوں میں ایک مچھلی کی اولاد اس زمین کے حجم سے بھی کئی گنا زیادہ بڑھ جائے۔ بہر حال…
Read the full tafseer →0 1 ہر چیز کی پیدائش اور افزائش اللہ کے مقررہ اندازے کے مطابق ہی ہوسکتی ہے :۔ موجودہ تحقیقات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ نباتات کی ہر نوع میں تناسل کی اس قدر زبردست طاقت ہے کہ اگر صرف ایک ہی پودے کو زمین میں بڑھنے اور پھلنے پھولنے کا موقع دیا جائے تو چند ہی سالوں میں اسی جنس کے پودے تمام روئے زمین پر پھیل جائیں اور کسی دوسری قسم کے پودے کے لیے کوئی جگہ باقی نہ رہے اور یہ حکیم وعلیم اور قادر مطلق کا سوچا سمجھا اندازہ ہی ہے جس کے مطابق بیشمار قسم کی نباتات اس زمین پر اگ رہی ہے اور ہر نوع کی پیداوار اپنی ایک مخصوص حد تک پہنچ کر رک جاتی ہے مزید یہ کہ ہر نوع کی پیداوار کو اس علاقہ کی ضرورت اور وہاں کے…
Read the full tafseer →16۔ زمین کا بنانا، پھیلانا اس پر پہاڑوں کا قائم کرنا، زمین سے ہر نباتات ایک مقدار معین کے مطابق اگانا، یہ سب کام اسی خدائے واحد، قادر و حکیم کے ہیں، نہ یہ چیزیں خود بخود ہوگئی ہیں، نہ انہیں کسی دیوی دیوتا نے کیا ہے۔ (آیت) ” والقینا فیھا رواسی “۔ یہ پہاڑ اس لیے قائم کردیئے گئے ہیں کہ زمین ڈانواں ڈول نہ ہونے پائے جیسا کہ ایک دوسری جگہ ہے رواسی ان تمید بکم، گویا پہاڑ حکمت تکوینی میں زمین کا لنگر بٹھائے رہنے کیلئے اس کا توازن درست رکھنے کے لئے ہیں، قرآن صرف اسی قدر کہتا ہے اس کے آگے زمین کی گردش سالانہ اس کی حرکت محوری وغیرہ دوسرے مسائل سے قرآن مجید کو نفیا واثباتا کوئی تعلق نہیں۔ (آیت) ” انبتنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
آیت نمبر 16 تا 25
ترجمہ : اور بیشک ہم نے آسمان میں بڑے بڑے بارہ برج بنائے (1) حمل (2) ثور (3) جوزاء (4) سرطان (5) اسد (6) سنبلہ (7) میزان (8) عقرب (9) قوس (10) جدی (11) دلو (12) حوت، یہ سات سیاروں کی بارہ منزلیں ہیں مریخ کیلئے حمل اور عقرب ہیں اور زہرہ کیلئے ثور اور میزان ہیں اور عطارد کیلئے جو ازء اور سنبلہ ہیں اور قمر کیلئے سرطان ہے اور شمس کیلئے اسد ہے، اور مشتری کیلئے قوس اور حوت ہیں اور ہم نے آسمان کو دیکھنے والوں کیلئے تاروں سے سجایا اور آسمانوں کو ہم نے ستاروں کے ذریعہ ہر شیطان مردود سے محفوظ کیا، الایہ کہ کوئی چوری سے سن بھاگے تو اس کے تعاقب میں ایک روشن ستارہ ہوتا ہے، (جو) اس کو جلا…
Read the full tafseer →والارض مددنھا اور ہم نے (پانی پر) زمین کو بچھایا۔
والقینا فیھا رواسی اور زمین میں ہم نے جمے ہوئے پہاڑ قائم کر دئیے۔ پہلے زمین لرزتی تھی ‘ اللہ نے اس میں پہاڑوں کی میخیں قائم کردیں۔
وانبتنا فیھا من کل شیء موزون اور ہم نے زمین میں یا پہاڑوں میں یا دونوں میں ہر مناسب چیز پیدا کی۔
مَّوْزُوْن سے مراد یا تو یہ ہے کہ حسب تقاضائے حکمت مقرر مقدار میں پیدا کی۔ یا مَّوْزُوْن سے مراد ہے : مناسب جو نازیبا نہ ہو ‘ جیسے کلامٌ موزونٌ کہا جاتا ہے۔ یامَّوْزُوْن سے مراد یہ ہے کہ ہم نے ایسی چیزیں پیدا کیں جو دوسری نعمتوں میں اپنا خصوصی وزن (اور مرتبہ) رکھتی ہیں۔ یا قابل وزن معدنیات مراد ہیں جیسے سونا ‘ چاندی ‘…
Read the full tafseer →(19) اور ہم نے زمین کو پانی پر پھیلایا اور اس زمین پر بھاری بھاری پہاڑ ڈال دیے جو اس کے لیے میخیں ہوگئے اور ہم نے ان پہاڑوں یا زمین میں بنائی ہوئی چیزیں اور ہر قسم کے پھل ایک مقررہ مقدار سے اگائے یا یہ مطلب ہے کہ تمام چیزیں پیدا کیں جن کا وزن کیا جاتا ہے جیسا کہ سونا، چاندی، لوہا، پیتل وغیرہ۔
Read the full tafseer →وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا : اب زمین اور اس پر پیدا کردہ اشیاء کو توحید کی دلیل کے لیے بیان کیا جا رہا ہے۔ ”مَدَدْنٰهَا“ ”مَدَّ یَمُدُّ“ (ن) کا معنی ہے کھینچنا، پھیلانا۔ جب ہم زمین کی وسعت اور پھیلاؤ کو دیکھتے ہیں تو وہ اتنی ہے کہ اس پر چلنے پھرنے، رہنے، کاشت کرنے، مکان یا سڑکیں بنانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی، مگر آنکھوں کو اس کی انتہا نظر نہیں آتی، خواہ کتنا سفر کرلیں۔ یہ پھیلاؤ اور مدّ دلیل ہے کہ زمین کو اللہ تعالیٰ نے گول بنایا ہے، ورنہ اگر یہ مربع یا کسی اور شکل کی ہوتی تو یہ پھیلاؤ کسی جگہ جا کر ختم ہوجاتا، اب تو گول زمین کی تصویریں بھی آچکی ہیں اور تجربے سے بھی یہ حقیقت ثابت ہوچکی ہے، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
آیت نمبر 19 تا 20
قولہ تعالیٰ : والارض مددنھا یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ہے، اور ان میں سے جو اس کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا : ہم نے زمین کو پانی کی سطح پر پھیلا دیا : جیسا کہ فرمایا : والارض بعد ذلک دحھا۔ (النازعات) (اور زمین کو بعد ازاں بچھا دیا) ۔ یعنی ہم نے اسے بچھا دیا۔ اور فرمایا : والارض فرشنھا فنعم المھدون۔ (الذاریات) (اور زمین کا ہم نے فرش بجھا دیا پس ہم کتنے اچھے (فرش) بچھانے والے ہیں) اور یہ اس کا رد ہو رہا ہے جس کا گمان یہ ہے کہ یہ (زمین) گیند کی مثل ہے۔ اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ والقینا فیھا رواسی اور ہم نے اس میں ثابت اور محکم پہاڑ گاڑ دئیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–23
1:۔ امام ابن شیبہ، ابن ابی جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں ستارے۔
2:۔ امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابوقتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں ستارے۔
3:۔ امام ابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں بڑے ستارے۔
4:۔ امام ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہے آسمانوں میں محلات اور جس میں چوکیدار رہتے ہیں۔
5:۔ امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ”…
Read the full tafseer →[وَالْاَرْضَ : اور (ہم نے پیدا کیا) زمین کو ] [ مَدَدْنٰهَا : ہم نے (ہی) پھیلایا اس کو ] [وَاَلْقَيْنَا : اور ہم نے ڈالا ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ رَوَاسِيَ : پہاڑوں کو ] [ وَانۢبَتْنَا : اور ہم نے اگایا ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ مِنْ كُلِ شَيْءٍ مَّوْزُوْنٍ : ہر ایک موزوں چیز میں سے ]
ترکیب : (آیت۔ 19) مَدَدْنَا کا مفعول ھَا کی ضمیر ہے اس لئے اَلْاَرْضَ کو اس کا مفعول مقدم ماننے کی گنجائش نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اَلْاَرْضَ سے پہلے ایک فعل محذوف مانا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →زمین کا پھیلاؤ اور اس کے پہاڑ اور درخت معرفت الٰہی کی نشانیاں ہیں
آسمان کے بروج اور آسمان کی زینت اور شیاطین سے ان کی حفاظت کا ذکر فرمانے کے بعد زمین کے پھیلانے کا اور اس میں بھاری بھاری پہاڑ ڈال دینے کا تذکرہ فرمایا، زمین بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی مخلوق ہے زمین پر لوگ بستے ہیں اور آسمان کی طرف بار بار دیکھتے ہیں دونوں اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ پر دلالت کرتے ہیں اور سورة لقمان میں فرمایا (وَاَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَبِکُمْ ) (اور اللہ نے زمین میں بھاری بھاری پہاڑ ڈال دئیے تاکہ وہ تمہیں لے کر حرکت نہ کرنے لگے۔ )
تفسیر روح المعانی ص 29 ج 14 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
بیان توحید
قال اللہ تعالیٰ : ولقد جعلنا فی السماء بروجا .... الیٰ .... انہ حکیم علیم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی نبوت پر جو مشرکین کے شبہات تھے ان کا رد فرمایا اب ان آیات میں اپنی الوہیت اور وحدانیت اور قدرت کے دلائل بیان فرماتے ہیں کچھ تو آسمانی چیزوں سے اور کچھ زمینی چیزوں سے ان میں سے پہلی دلیل یہ ہے کہ آسمان کے بارہ برج ہیں۔ یعنی آسمان کے بارہ ٹکڑے مثل خربوزہ کے پھانک کے مختلف شکل کے ستاروں سے پیدا ہوگئے ہیں۔ ہر برج میں جس جانور کے ہم شکل ستارے ہیں وہ برج اسی نام سے عرب میں مشہور ہوگیا۔ حمل، ثور، جوزاء، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو، حوت۔ یہ حق تعالیٰ کی قدرت کی عجیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
10:۔ ” وَلَقَدْ جَعَلْنَا “ تا ” مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ “ توحید پر مفصل عقلی دلیل ہے ” اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ “ مستچنیٰ منقطع ہے اس دلیل سے دو دعوے ثابت کیے گئے۔ اول یہ کہ سب کچھ کرنے والا اور ساری کائنات میں متصرف و مختار اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ یہ ابتداء دلیل سے ” وَ نَحْنُ الْوَارِثُوْنَ “ تک میں مذکور ہے۔ فرمایا اوپر ہم نے آسمان پیدا کیا اور ملا اعلی کے رازوں کو شیاطین سے محفوط کردیا نیچے زمین پیدا کی، اس میں پہاڑ بنائے اور اس میں ہر چیز اندازے سے پیدا کی اور اس میں تمام انسانوں کے لیے بیشمار وسائل رزق مہیا کیے۔ ” وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ “ وہ معذور لوگ، غلام، اہل و عیال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
(ربط آیات)
کافر اور مشرک قرآن حکیم کی حقانیت پر شبہ کرتے تھے اور صاحب قرآن کو کہتے تھے کہ تو دیوانہ ہے ، اور اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو نازل کر تاکہ وہ تیری اور قرآن پاک کی صداقت کی گواہی اللہ نے مشرکین کے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو حق کے ساتھ اتارتا ہے اور جب اتارتا ہے تو پھر نافرمانوں کو مہلت نہیں ملتی بلکہ ان کا کام تمام کردیا جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کے حق میں گواہی دیتے ہوئے فرمایا کہ اس کو ہم نے ہی اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں لہذا حفاظت کے سامان ہم خود پیدا کریں گے ،
اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَاَلْقَيْنَا فِيْهَا رَوَاسِيَ وَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُوْنٍ 19
أرض
الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه .
( ا رض ) الارض
( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔
مد
أصل المَدّ : الجرّ ، ومنه : المُدّة للوقت الممتدّ ، ومِدَّةُ الجرحِ ، ومَدَّ النّهرُ ، ومَدَّهُ نهرٌ آخر، ومَدَدْتُ عيني…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
عالم سفلی کے حالات سے دوسری دلیل : والارض مددنھا یہ عالم سفلی کے حالات سے دوسری دلیل ہے۔ اول زمین کو پھیلانا باوجود کروی ہونے کے اس کی ایسا سطح رکھنا کہ جس پر مخلوق بس سکے ‘ اسی کی کاری گری ہے۔ دوم القینا فیھا رواسی مفردر اسی اور اس کی جمع راسیات اس کی جمع یعنی جمع الجمع رواسی ہے۔ رواسی ٹھہرنے اور جمنے والی چیزیں جس سے مراد پہاڑ ہیں۔ یہ مضمون بہت جگہ قرآن میں ہے منجملہ ان کے وفی الارض رواسی ان تمیدلکم اور ان پہاڑوں کو اوتاد یعنی زمین کی میخیں بھی فرماتا ہے۔ خواہ یوں کہو کہ زمین پیدا کرنے کے بعد جو بارشیں ہوئیں تو بلند قطعات میں ادھر ادھر سے مٹی گر کر اونچے نیچے مختلف صورتوں کے ٹیلے جو رہ گئے…
Read the full tafseer →وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰھَا وَاَلْقَیْنَا فِیْہَا رَوَاسِیَ وَاَمنْبَتْنَا فِیْھَا مِنْ کُلِّ شَیْ ئٍ مَّوْزُوْن۔
(سورۃ الحجر : 19)
(اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور اس میں محکم پہاڑ گاڑ دیے اور اس میں ہر قسم کی چیزیں تناسب کے ساتھ اگائیں۔ )
زمین پر اللہ تعالیٰ کی چند نشانیاں
عالمِ بالا میں اپنی قدرت کے کمالات کا ذکر کرنے کے بعد اب انسان کو زمین کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے کہ آسمان کی وسعتیں تمہاری رسائی سے باہر ہیں لیکن زمین کو تم بہت حد تک دیکھ سکتے ہو۔ ذرا اس کی وسعتوں کا اندازہ کرو اور پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت کو دیکھو کہ کیا اس کے ساتھ کسی اور شریک کی گنجائش ہے ؟ زمین اس کی کائنات کا ایک چھوٹا سا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
فہم القرآن
ربط کلام : آسمان کے ذکر کے بعد زمین کا تذکرہ اور ظاہری جسامت کے حوالے سے سب سے بڑی مخلوق پہاڑوں کا بیان۔
سورۃ الانبیاء کی آیت 30 میں زمین و آسمان کی ابتدائی ہیئت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ کیا اللہ کے منکر اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اس نے زمین و آسمان کو کس طرح ایک دوسرے سے الگ کیا۔ حالانکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ سورة السجدۃ کی آیت 9 تا 13 میں قدرے تفصیل بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو دو دن میں بنایا۔ اس کے بعد اس پر پہاڑ نصب کیے پھر دو دن میں آسمانوں کی تکمیل کی اور ہر آسمان کے متعلقات کو انہیں اپنے اپنے مقام پر ٹھہرنے کا حکم صادر فرمایا۔ بعد ازاں آسمان…
Read the full tafseer →زمین بچھا کر اس میں پہاڑ گاڑ دیئے :
19: وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰھَا ( اور ہم نے زمین کو بچھایا) کعبہ کے نیچے سے اس کو پھیلایا۔ جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ پانی پر اس کو کھینچ کر دراز کردیا۔ وَاَلْقَیْنَا فِیْھَا رَوَاسِیَ ( اور ہم نے اس میں پہاڑ ڈال دیے) یعنی زمین میں۔ قائم رہنے والے پہاڑ وَاَنْچبَتْنَا فِیْھَا مِنْ کُلِّ شَیْئٍ مَّوْزُوْنٍ (اور اس میں پیدا کی ہر چیز مناسب) میزان حکمت سے وزن کر کے اور ایسی مقدار سے اندازہ کیا جو اس کا تقاضا تھا جس میں زیادتی و کمی نہ پائی جاتی تھی۔ نمبر 2۔ موزون کا مطلب یہ ہے کہ ہر چیز کا وزن اور مقدار مقرر ہے جو منفعت و نعمت کے سلسلہ میں طے شدہ ہے۔ نمبر 3۔ جنکا…
Read the full tafseer →19۔” والارض مددنا ھا “ پانی پر ہم نے اس کو بچھادیا ۔ کہا جاتا ہے کہ کوئی اس طرح پانچ سو سال اس کے مثل چلتا رہے تو اتنی مقدار کعبہ کے نیچے ہم نے زمین کو پھیلایا ” والقینا فیھا رواسی “ بڑے بڑے پہاڑ اس میں گاڑھ دیئے ، زمین پہاڑوں کے بغیر لرز رہی تھی تو اس میں پہاڑ بطور میخوں کے گاڑھ دیئے۔” وانبتنا فیھا “ اس زمین میں ” من کل شی موزون “ معلوم مقدار میں ۔ بعض نے کہا کہ موزون سے مراد پہاڑوں میں معدنیات ہیں جیسے سونا ، چاندی ، لوہا ، تانبا ، ہڑتال ، سرمہ وغیرہ ۔ ان تمام اشیاء کا وزن کیا جائے گا ۔ ابن زید کا قول ہے یہ وہ چیزیں ہیں جن کا وزن کیا جائیگا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
19۔ 20۔ آسمان چاند سورج تاروں کے پیدا کرنے کا حال بیان کر کے زمین کے پیدا کرنے کا ذکر کیا کہ ہم نے زمین کو مشرق سے مغرب تک اور جنوب سے شمال تک پانی پر بچھا دیا ہے اور اس پر جا بجا پہاڑوں کے بوجھ رکھ دئیے ہیں اور خوب اچھی طرح مضبوط کردیا ہے جس طرح کیلیں ٹھونک کر تخت وغیرہ مضبوط بنائے جاتے ہیں اور زمین میں سے طرح طرح کی اشیاء پھل میوے ترکاریاں غلے روٹی ان اسی طرح پہاڑوں میں سے چاندی سونے لوہے وغیرہ کی کانیں غرض ہر چیز نہایت موزو نیت سے پیدا کی اور اس میں تمہاری روزی رکھی ہے تم بھی کھاتے پیتے ہو اور اپنے بال بچوں کو بھی کھلاتے پلاتے ہو اپنے جانوروں کو بھی چراتے ہو اور جس مخلوق کو تم جانتے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
آیت 16
اللہ تعالیٰ اپنے کامل اقتدار اور مخلوق پر اپنی رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ولقد جعلنا فی السمآء بروجاً ) ” اور ہم نے بنائے ہیں آسمان میں برج “ یعنی ہم نے ستاروں کو برجوں کی مانند بنایا اور انہیں بڑی علامتیں بنایا جن کے ذریعے سے بحر و بر کی تاریکیوں میں راستے تلاش کئے جاتے ہیں (وزینھا للنظرین) ” اور خوب صورت بنایا ہے اس کو دیکھنے والوں کے لئے “ اگر ستارے نہ ہوتے تو آسمان کا منظر اتنا خوبصورت اور اس کی ہئیت اتنی تعجب خیز نہ ہوتی اور یہ چیز دیکھنے والوں کو ان پر تدبر، ان کے معانی میں غور و فکر اور ان کے ذریعے سے ان کے پیدا کرنے والے پر استدلال کی دعوت دیتی ہے۔
(وحفظنھا من کل شیطن…
Read the full tafseer →18۔ بچھونہء ارضی میں سامان غور و فکر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ زمین کے اس عظیم الشان کرے کو بھی ہم ہی نے بچھایا و پھیلایا ہے اس پر حکمت طریقے سے، تاکہ یہ ہماری مخلوق اور خاص کر ہمارے بندوں کی بودباش کے لیے موزوں ہوسکے جو کہ اس کائنات کے مخدوم ومطاع ہیں۔ سو زمین کے اس عظیم الشان کرے کو اس قدر پر حکمت نظام کے تحت بچھا اور پھیلا دینا کس قدر عظیم الشان کارنامہ ہے اس وحدہ لاشریک کا ؟ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پھر بھی اس کی اطاعت اور اس کی عبادت و بندگی سے منہ موڑنا کس قدر ظلم اور کتنی بڑی ناانصافی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہ زمین اور اس کے اندر پائی جانے والی طرح طرح کی مخلوق میں سے کوئی بھی چیز انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
خزانوں کا مالک صرف اللہ ہے
تشریح : یہ آیات اللہ کی شان اس کی حکمت، کاریگری، طاقت، عظمت اور اس کے رازق و خالق اعظم ہونے کی بہت زبردست دلیلیں پیش کرتی ہیں۔ سبحان اللہ۔ اللہ اکبر۔ اس خالق (پیدا کرنے والا) اور المُتّکبرّ (بڑائی اور بزرگی والا) رحمن و رحیم کی جس قدر بندگی کریں کم ہے۔ کیونکہ اسی نے ہمیں پیدا کیا۔ رہنے کے لیے انتہائی پر آسائش زمین، کھانے کے لیے بہترین نباتات، حیوانات، پینے کے لیے بہترین پانی کے ذرائع، سانس لینے کے لیے صاف ستھری ٹھنڈی میٹھی ہوائیں، غرض کیا کچھ بیان کریں کہ اس نے اپنے بندوں کو کیسے کیسے خزانے، برکتیں اور نعمتیں عطا کر رکھی ہیں۔ کتنا شکر ادا کریں تو اس کا حق ادا نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
حالانکہ قدرت باری اس قدر ہویدا ہے کہ آسمانوں میں چڑھے بغیر اس کی عظمت پہ دلالت کرتی نظر آتی ہے آخر ہم نے ہی تو آسمانوں میں بہت بڑے بڑے ستارے اور سیارے سجا دیئے اور خلا کو دیکھنے والوں کے لیے بہت خوبصورت بنا دیا جہاں ان میں اور بیشمار حکمتیں ہیں وہاں آسمانوں کی حفاظت کا کام بھی ان سے لیا اور پھر شیطان مردود کو ان کے باعث آسمانوں سے دور کردیا کہ ان میں کی ٹوٹ پھوٹ اور ان کی روشنی و گرمی اور مختلف اثرات فضا اور خلا کی ایک خاص حد سے آگے کسی کو بڑھنے نہیں دیتے حتی کہ شیاطین تک سوائے اس کے کسی شیطان نے خلا میں سے چوری چھپے کوئی بات فرشتوں سے سن لی تو اس کے پیچھے روشن شعلہ…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ دلائل سماوی کے بعد اب قدرت کے ان دلائل کا بیان ہے جو زمین پر ہیں۔ (رازی) ۔ یعنی ہر چیز اتنی اگائی اور پیدا کی جتنی اسکی ضرورت تھی نہ کسی چیز کو بلا ضرورت پیدا کیا اور نہ ایک خاص حد سے بڑھنے دیا۔ یا ” فیھا میں ” ھا “ کی ضمیر جبال کے لئے ہے یعنی پہاڑوں کے اندر ہر چیز یعنی معدنیات پورے اندازے سے پیدا کیں۔ (شوکانی) ۔
Read the full tafseer →(15:19) مددنھا۔ مددنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے پھیلایا۔ ہم نے پھیلا دیا۔
ھا ضمیر کا مرجع الارض ہے۔ المد کے اصل معنی (لمبائی میں) کھینچنے کے ہیں اور بڑھانے کے ہیں۔ اسی سے عرصہ دراز کو مدّۃ کہتے ہیں۔ اور قرآن مجید میں ہے الم تر الی ربک کیف مد الظل (25:45) تو نے نہیں دیکھا کہ تیرا رب سائے کو کس طرح دراز کر کے پھیلا دیتا ہے۔
القینا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے ڈالا۔ القاء (افعال) سے۔
فیھا۔ ای فی الارض ۔ اس میں یعنی زمین میں۔
رواسی۔ راسیۃ کی جمع۔ بوجھ۔ پہاڑ۔ رسو مادہ۔ رسا الشیٔ (باب نصر) کے معنی کسی چیز کے کسی جگہ پر ٹھہرنے اور استوار ہونے کے ہیں۔ ارسی (افعال) معنی ٹھہرانے اور استوار کردینے کے ہیں۔ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 25
بروج (برج) اونچی اور بلند عمارت، قلعے۔ زینا ہم نے زینت دی، خوبصورت بنایا۔ نظرین دیکھنے والے۔ حفظنا ہم نے حفاظت کی رجیم مردود، نکالا گیا ۔ استرق (استراق) جس نے چوری سے کوئی چیز اڑا لی ہو ۔ السمع سننا اتبع پیچھے لگ گیا شھاب انگارا۔ آگ مدد پھیلا دیا۔ القینا ہم نے ڈال دیا۔ رواسی بوجھ۔ پہاڑ ۔ انبتنا ہم نے اگایا موزون اندازہ، مقدار۔ معایش زندگی گذارنے کا سامان۔ لستم تم نہیں ہو۔ خزائن خزانے ، ذخیرہ۔ قدر معلوم اندازے مقرر، متعین الریح (ریح) ہوائیں لواقع (لاقحۃ ) بوجھل بھرپور اسقینا ہم نے سیراب کردیا۔ پلایا ۔ خازنین خزانے والے نحی ہم زندگی دیتے ہیں نمیت ہم موت دیتے ہیں ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
آسمان و زمین کا حال
اس آیت میں زمین کے پیدا کرنے کا ذکر فرمایا کہ ہم نے زمین کو مشرق سے مغرب تک اور جنوب سے شمال تک پانی پر بچھا دیا ہے اور اس پر جابجا پہاڑوں کے بوجھ رکھ دیئے ہیں اور خوب اچھی طرح مضبوط کردیا ہے جس طرح کیلیں ٹھونک کر تخت وغیرہ مضبوط بنائے جاتے ہیں۔ اور زمین میں سے طرح طرح کی اشیاء پھل، میوے، ترکاریاں، غلے، روئی وغیرہ۔ اسی طرح پہاڑوں میں سے چاندی، سونے، لوہے وغیرہ کی کانیں۔ غرض ہر چیز نہایت موزونیت سے پیدا کی اور اس میں تمہاری روزی رکھی ہے، تم بھی کھاتے پیتے ہو، اور اپنے بال بچوں کو بھی کھلاتے پلاتے ہو، اپنے جانوروں کو بھی چراتے ہو اور جس مخلوق کو تم جانتے بھی نہیں کہ کہاں ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
[7] شہاب اس ستارے کو کہتے ہیں جو رات کے وقت ٹوٹتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ زمانہ حال کے مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ اس طرح کے ستارے جو خلا سے زمین کی طرف آتے ہیں ان کی تعداد کا اوسط دس کھرب روزانہ ہے جن میں سے دو کروڑ کے قریب ہر روز زمین کے بالائی خطے میں داخل ہوتے ہیں اور بمشکل ایک زمین کی سطح تک پہنچتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ شہابوں کی یہی بارش عالم بالا کی طرف شیاطین کی پرواز میں مانع ہوتی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
اطلاع علی الغیب کے تمام دروازے مسدود ہیں :
(ف 1)
حضور ﷺ سے قبل شیاطین آسمان تک پہنچ جایا کرتے تھے اور کچھ کچھ غیوب سماوی سے معلوم کرلیتے تھے ، جب حضور ﷺ مبعوث ہوئے اور آپ کو خلعت نبوت عطا ہوا تو اس وقت اطلاع علی الغیب کے تمام ابواب ان پر مسدود ہوگئے ، اب جو خبیث روحوں نے آسمان کی جانب رجوع کیا تو بلند اور چمکتے ہوئے شعلوں نے ان کا خیر مقدم کیا اور ان کو بےنیل ومرام واپس ہونا پڑا ، قرآن چونکہ اطلاع علی الغیب کی آخری صورت ہے ، اور حضور کے بعد کوئی شخص علوم نبوت کا وارث نہیں ، اس لئے اللہ نے معلومات غیب کے تمام ذرائع علما بند کردئیے ہیں ، یہ حضور ﷺ کی افضیلت خاتمیت کی بہترین دلیل ہے ۔
حل لغات…
Read the full tafseer →19 ۔ اور ہم نے زمین کو پھیلایا اور اس میں بھاری بھاری پہاڑ رکھ دیئے اور ہم نے زمین میں ہر چیز ایک معین مقدر سے اگائی ۔ یعنی زمین میں ہر قسم کی نباتات کو ایک معین مقدار کے ساتھ اگایا اور ایک خاص تناسب اور حسن کے ساتھ اگایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
ف 3۔ جاننا چاہئے کہ قرآن و حدیث میں یہ دعوی نہیں کہ بدون اس سبب کے شہاب نہیں پیدا ہوتا بلکہ دعوی یہ ہے کہ استراق کے وقت شہاب سے شیاطین کو رجم کیا جاتا ہے، پس ممکن ہے کہ شہاب کبھی محض طبعی طور پر ہوتا ہو، اور کبھی اس غرض کے لئے ہوتا ہو اور شہاب ثاقب دن کو بھی ہوتا ہے لیکن بوجہ ضوء شمس کے نظر نہیں آتا، پس یہ وسوسہ نہ رہا کہ شیاطین رات ہی کو استراق کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →زمین کو پھیلا دیا ‘ پہاڑوں کو اس میں گاڑ دیا اور سب چیزیں اس نے اس میں اگا دیں :
19۔ زمین کو دیکھو کہ وہ گیند کی طرح گول ہے لیکن حکمت الہی نے اس کی کردیت کا نشیب و فراز اس طرح پھیلا دیا کہ کوئی آنکھ اونچ نیچ محسوس نہیں کرتی اور اس کا ہر گوشہ اپنی جگہ ایک بچھے ہوئے فرش کی طرح مسطح ہے اگر سطحیت کی یہ حالت پیدا نہ ہوتی تو وہ تمام ارضی خصوصیات بھی ظہور میں نہ آتیں جنہوں نے زمین کو زندگی ومعیشت کیلئے خوشگوار بنا دیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم جا بجا اس کی سطح کے پھیلاؤ پر زور دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ نے اسے فرش کی طرح بچھایا ہے زیر نظر آیت میں بھی اس طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔
فرمایا زمین کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
Commentary
Divine Wisdom: Balanced Provision for Human Needs
One sense of the expression: مِن كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُونٍ (everything in balance - 19) is what has been taken in the present translation of the text, that is, it was in His infinite wisdom that He caused everything that grows to grow in a determined measure, not less than that which would have made life difficult, and not too much which would have also brought difficulties of a different nature. If grains like wheat and rice and the best of fruits around were to grow in such excess that stockpiles of them remain behind even after…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
13. The growth of every kind of plant in a limited extent is another sign of the wisdom and power of Allah. For the generative power of every vegetable plant is so great that if free growth had been allowed to even one kind of plant, it would have covered the whole surface of the earth. But it is by the design of the All-Wise and All-Powerful Creator that every kind of vegetable is produced in a balanced measure. There is another aspect of the vegetable life. Each and every kind of it is allowed to grow only to a fixed size, height, and thickness, which is a proof of the fact that the Creator…
Read the full tafseer →