Al-Hijr 15:18

Al-Hijr · from ayah 18

15:18

اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ ۟اِلَّا مَنِ اسۡتَرَقَ السَّمۡعَ فَاَ تۡبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِيۡنٌ‏

ہاں اگر کوئی چوری سے سننا چاہے تو چمکتا ہوا انگارہ اس کے پیچھے لپکتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Except one who steals a hearing and is pursued by a clear burning flame.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:18

کوئی شیطان ان میں راہ نہیں پا سکتا، الا یہ کہ کچھ سن گن لے لے اور جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو ایک شعلہ روشن اُس کا پیچھا کرتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہاں اگر کوئی چوری سے سننا چاہے تو چمکتا ہوا انگارہ اس کے پیچھے لپکتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہاں مگر جو چوری چھپے سننے کی کوشش کرے اس کے پیچھے دہکتا ہوا (کھلا شعلہ) لگتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

البتہ جو کوئی چوری سے کچھ سننے کی کوشش کرے تو ایک روشن شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

مگر جو چوری چھپے سننے جائے تو اس کے پیچھے پڑتا ہے روشن شعلہ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

مگر جو کوئی بھی چوری چھپے سننے کے لئے آگھسا تو اس کے پیچھے ایک (جلتا) چمکتا شہاب ہو جاتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

مگر جو سنی ہوئی بات چرا لے تو ایک روشن شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہاں اگر شیطان چوری چھپے سننا چاہے تو ایک چمکتا ہوا شعلہ اس کے پیچھے لگ جاتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اگر کوئی سن گن لینے کے لیے چوری چھپے کان لگاتا ہے تو ایک دمکتا شہاب اس کا تعاقب کرتا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر یہ کوئی چوری چھپے کچھ سن ون لے، تو اس کا پیچھا کرتا ہے ایک شعلہ روشن،

— مولانا اسحاق مدنی

ہاں مگر کوئی بات چوری چھپے سن بھاگے تو اس کے پیچھے ایک روشن شعلہ ہولیتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ماسوائے اس کے کہ جو کوئی چوری چھپے سننا چاہے تو اس کا پیچھا کرتا ہے ایک انگارہ چمکتا ہوا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہاں ! اگر کوئی چوری سے سننا چاہے تو چمکتا ہوا انگارا اس کے پیچھے لپکتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

save him who may eavesdrop, and then a bright flame pursues him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

but the one who tries to eavesdrop is chased by a clearly visible flame.

— Muhammad Taqi Usmani

but the one who tries to eavesdrop is chased by a clearly visible flame.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Except him (devil) who steals the hearing, then he is pursued by a clear flaming fire.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Save him who stealeth the hearing, and them doth a clear flame pursue.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Except one who steals a hearing and is pursued by a clear burning flame.

— Saheeh International

except for those who stealthily try to listen to the heavens, but who are chased away by a bright flame.

— Muhammad Sarwar

But he who steals a hearing, so there follows him a visible flame.

— Muhammad Habib Shakir

Save him who stealeth the hearing, and him there followeth a flame gleaming.

— Abdul Majid Daryabadi

But any that gains a hearing by stealth, is pursued by a flaming fire, bright (to see).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–20

ستارے اور شیطان اس بلند آسمان کا جو ٹھہرے رہنے والے اور چلنے پھرنے والے ستاروں سے زینت دار ہے، پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ جو بھی اسے غور و فکر سے دیکھے وہ عجائبات قدرت اور نشانات عبرت اپنے لئے بہت سے پاسکتا ہے۔ بروج سے مراد یہاں پر ستارے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (تَبٰرَكَ الَّذِيْ جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا 61؀) 25۔ الفرقان :61) بعض کا قول ہے کہ مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں، عطیہ کہتے ہیں وہ جگہیں جہاں چوکی پہرے ہیں۔ اور جہاں سے سرکش شیطانوں پر مار پڑتی ہے کہ وہ بلند وبالا فرشتوں کی گفتگو نہ سن سکیں۔ جو آگے پڑھتا ہے، شعلہ اس کے جلانے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحِجْر 11 یعنی وہ شیاطین جو اپنے اولیاء کو غیب کی خبریں لا کردینے کی کوشش کرتے ہیں، جن کی مدد سے بہت سے کاہن، جوگی، عامل اور فقیر نما بہروپیے غیب دانی کا ڈھونگ رچایا کرتے ہیں، ان کے پاس حقیقت میں غیب دانی کے ذرائع بالکل نہیں ہیں۔ وہ کچھ سن گن لینے کی کوشش ضرور کرتے ہیں، کیونکہ ان کی ساخت انسانوں کی بہ نسبت فرشتوں کی ساخت سے کچھ قریب تر ہے، لیکن فی الواقع ان کے پلے کچھ پڑتا نہیں ہے۔ سورة الْحِجْر 12 ”شہاب مبین“ کے لغوی معنی ”شعلہ روشن“ کے ہیں۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں اس کے لیے ”شہاب ثاقب“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یعنی ”تاریکی کو چھیدنے والا شعلہ“۔ اس سے مراد ضروری نہیں کہ وہ ٹوٹنے والا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل شہاب ثاقب ان آیات میں سے ایک تو یہ ثابت ہوا کہ شیاطین کی رسائی آسمانوں تک نہیں ہو سکتی ابلیس لعین کا تخلیق آدم ؑ کے وقت آسمانوں میں ہونا اور آدم وحوا (علیہا السلام) کو دھوکہ میں مبتلا کرنا وغیرہ یہ سب آدم ؑ کے زمین پر نزول سے پہلے کے واقعات ہیں اس وقت تک جنات و شیاطین کا داخلہ آسمانوں میں ممنوع نہیں تھا نزول آدم ؑ اور اخراج شیطان کے بعد سے یہ داخلہ ممنوع ہوا سورة جن کی آیات میں جو یہ مذکور ہے وّاَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ للسَّمْعِ ۭ فَمَنْ يَّسْتَمِعِ الْاٰنَ يَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًا اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے شیاطین آسمانوں کی خبریں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 16–18

آگے کا مضمون۔ آیات 16 تا 25: آفاق وانفس کی نشانیوں کی طرف اشارہ : آگے ان نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو آفاق وانفس اور آسمان و زمین کے گوشہ گوشہ میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان باتوں کی تصدیق کرتی ہیں جن پیغمبر دعوت دے رے ہیں۔ مقصد ان نشانیوں کے ذکر سے یہ ہے کہ قدرت کے معجزاتے کے ہوتے کسی نئے معجزے کی ضرورت کہا باقی رہی، دیکھنے والی آنکھیں سوچنے والے دماغ ہوں تو ایک ایک پتہ معرفت کردگار کا دفتر ہے تفسیر آیات 16 تا 18:۔ وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَزَيَّنَّاهَا لِلنَّاظِرِينَ (16) وَحَفِظْنَاهَا مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ رَجِيمٍ (17)۔ اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 18–19

18۔ 1 اس کا مطلب یہ ہے کہ شیاطین آسمانوں پر باتیں سننے کے لئے جاتے ہیں، جن پر شہاب ثاقب ٹوٹ کر گرتے ہیں، جن سے کچھ تو مرجاتے ہیں اور کچھ بچ جاتے ہیں اور بعض سن آتے ہیں۔ حدیث میں اس کی تفسیر اس طرح آتی ہے۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں ' جب اللہ تعالیٰ آسمان پر کوئی فیصلہ فرماتا ہے، تو فرشتے اسے سن کر اپنے پر یا بازو پھڑ پھڑاتے ہیں گویا وہ کسی چٹان پر زنجیر کی آواز ہے۔ پھر جب فرشتوں کے دلوں سے اللہ کا خوف دور ہوجاتا ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں، تمہارے رب نے کیا کہا ؟ وہ کہتے ہیں، اس نے کہا حق اور اور وہ بلند اور بڑا ہے (اس کے بعد اللہ کا وہ فیصلہ اوپر سے نیچے تک یکے بعد دیگرے سنایا جاتا ہے) اس موقع پر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 17–18

8: یہ حقیقت قرآن کریم نے کئی جگہ بیان فرمائی ہے کہ شیطان آسمان کے اوپر جاکر عالم بالا کی خبریں حاصل کرنا چاہتے ہیں، تاکہ وہ خبریں کاہنوں اور نجومیوں تک پہنچائیں، اور وہ ان کے ذریعے لوگوں کو یہ باور کرائیں کہ انہیں غیب کی باتیں معلوم ہوجاتی ہیں، لیکن آسمان میں ان کا داخلہ شروع ہی سے بند ہے، البتہ آنحضرت ﷺ کی دنیا میں تشریف آوری سے پہلے یہ شیاطین آسمان کے قریب جاکر فرشتوں کی باتیں چوری چھپے سننے کی کوشش کرتے تھے اور وہاں سے کوئی بات کان میں پڑجاتی توا سکے ساتھ سینکڑوں جھوٹ ملاکر کاہنوں کو بتا دیتے تھے، اس طرح کبھی کوئی بات صحیح بھی نکل آتی تھی ؛ لیکن آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری کے بعد ان کو آسمان کے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 16–18

آیت نمبر 16 تا 18 اس پھیلی ہوئی کائنات کی یہ پہلی لائن ہے۔ اس عجیب و غریب کائنات کے نقش و نگار کی یہ پہلی تصویر ہے۔ اس کائنات میں نزول ملائکہ سے بھی زیادہ عجائبات ہمارے سامنے ہیں۔ خود ان کائنات کی تشکیل اور طبیعی لحاظ سے اس کی کارکردگی اللہ کی قدرت و صنعت کی ایک واضح مثال ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی دوسری دلیل کی سرے سے احتیاج ہی نہیں ہے۔ بروج کیا ہیں ، یہی ستارے اور سیارے عظیم سے عظیم تر۔ ان سیاروں اور ستاروں کے مدار اور مقامات بھی برج ہو سکتے ہیں۔ جو بھی مراد ہو لیکن دونوں حالات میں ان کی کار کردگی ایک معجز دلیل ہے اور اللہ کی قدرت اور حکمت پر شاہد عادل ہے ، کس قدر پیچیدہ ، موثر ہے اور دیکھنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 17–18

4 یعنی آسمانوں پر شیاطین کا کچھ عمل دخل نہیں چلتا۔ بلکہ بعثت محمدی ﷺ کے وقت سے تو ان کا گزر بھی وہاں نہیں ہوسکتا۔ اب انتہائی کوشش ان کی یہ ہوتی ہے کہ ایک شیطانی سلسلہ قائم کر کے آسمان کے قریب پہنچیں اور عالم ملکوت کے نزدیک ہو کر اخبار غیبیہ کی اطلاعات حاصل کریں، اس پر بھی فرشتوں کے پہرے بٹھا دیئے گئے ہیں کہ جب شیاطین ایسی کوشش کریں اوپر سے آتشباری کی جائے۔ نصوص قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تکوینی امور کے متعلق آسمانوں پر جب کسی فیصلہ کا اعلان ہوتا ہے اور خداوند قدوس اس سلسلہ میں فرشتوں کی طرف وحی بھیجتا ہے تو وہ اعلان ایک خاص کیفیت کے ساتھ اوپر سے نیچے کو درجہ بدرجہ پہنچتا ہے آخر سماء دنیا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 18 اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ جیسے ایک فرشتہ کچھ احکام لے کر آ رہا ہو اور کوئی جن اس سے کوئی سن گن لینے کی کوشش کرے۔ فرشتے نوری ہیں اور جن ناری مخلوق ہیں چناچہ نور اور نار کے درمیان زیادہ بعد نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہونا ممکن ہے۔ عزازیل ابلیس کا بھی ایک جن ہونے کے باوجود فرشتوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا۔ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِيْنٌ ایسی خلاف ورزی کی صورت میں اس جن پر میزائل پھینکا جاتا ہے۔ یہ میزائل اللہ تعالیٰ نے اسی مقصد کے لیے ستاروں میں نصب کر رکھے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

9 شہاب ثاقب کی حقیقت :۔ اس آیت کی تفسیر کے لیے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے : سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمام آسمان میں جب کسی حکم کا فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اس کا حکم بجا لانے کے لیے نہایت عاجزی سے اپنے پر پھڑپھڑاتے ہیں اور ایسی آواز پیدا ہوتی ہے جیسے کسی صاف پتھر پر زنجیر ماری جا رہی ہو۔ اس طرح اللہ تعالیٰ فرشتوں تک اپنا پیغام پہنچا دیتا ہے پھر جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوتی ہے تو دور والے فرشتے نزدیک والوں سے پوچھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کیا ارشاد فرمایا ؟ وہ کہتے ہیں جو فرمایا بجا ارشاد فرمایا۔ فرشتوں کی یہ باتیں چوری چھپے سے سننے والے (شیطان) سن لیتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

15۔ (اور اس کے اثر سے وہ شیطان ہلاک یا بدحواس ہوجاتا ہے) اہل سائنس کا یہ قول کہ فضا میں بڑے وزنی پتھر چکر کھایا کرتے ہیں، اور وہ ہوا سے رگڑ کھا کر روشن ہوجاتے ہیں، اور کہیں زمین پر ٹوٹ کر گرپڑتے ہیں، قرآن کی بتائی ہوئی حکمت کے ذرا بھی منافی نہیں، قرآن کو ان کی ترکیب، ساخت وغیرہ سے مطلق بحث نہیں، وہ تو اپنے موضوع کے اندر رہ کر صرف اتنا بیان کرتا ہے کہ ان سے کام شیطان کے بھگانے کا بھی لیا جاتا ہے :۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–25

آیت نمبر 16 تا 25 ترجمہ : اور بیشک ہم نے آسمان میں بڑے بڑے بارہ برج بنائے (1) حمل (2) ثور (3) جوزاء (4) سرطان (5) اسد (6) سنبلہ (7) میزان (8) عقرب (9) قوس (10) جدی (11) دلو (12) حوت، یہ سات سیاروں کی بارہ منزلیں ہیں مریخ کیلئے حمل اور عقرب ہیں اور زہرہ کیلئے ثور اور میزان ہیں اور عطارد کیلئے جو ازء اور سنبلہ ہیں اور قمر کیلئے سرطان ہے اور شمس کیلئے اسد ہے، اور مشتری کیلئے قوس اور حوت ہیں اور ہم نے آسمان کو دیکھنے والوں کیلئے تاروں سے سجایا اور آسمانوں کو ہم نے ستاروں کے ذریعہ ہر شیطان مردود سے محفوظ کیا، الایہ کہ کوئی چوری سے سن بھاگے تو اس کے تعاقب میں ایک روشن ستارہ ہوتا ہے، (جو) اس کو جلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الا من استرق السمع فاتبعہ شھاب مبین ہاں جو چوری سے سن پاتا ہے تو اس کے پیچھے روشن شعلۂ آتشیں آپڑتا ہے۔ شِھَاب آتشیں شعلہ جو ستاروں سے نکلتا۔ بغوی نے چوری سے سننے اور پیچھے سے شعلۂ آتشیں پڑنے کی یہ تفصیل بتائی ہے کہ شیاطین نیچے سے آسمان دنیا تک ایک کے اوپر ایک سوار ہو کر (گویا ( سیڑھیاں بنا لیتے ہیں اور چوری چھپے فرشتوں کی کچھ باتیں وہ سن لیتے ہیں۔ فرشتے (مطلع ہو کر) ان پر آتشیں شعلے مارتے ہیں ‘ کوئی انگارہ خطا نہیں جاتا۔ انگارہ پڑنے سے کوئی تو مرجاتا ہے ‘ کسی کا چہرہ ‘ یا پہلو ‘ یا ہاتھ ‘ یا کوئی اور حصہ حسب مشیّت الٰہی جل جاتا ہے۔ کوئی بدحواس اور پاگل ہوجاتا ہے اور بھوت بن جاتا ہے جو زمین پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 16–18

(16۔ 17۔ 18) اور ہم نے آسمان میں حفاظت کے لیے ایسے ستارے پیدا کیے جن سے خشکی اور تری کی تاریکیوں میں راستہ حاصل کیا جاتا ہے اور ان ستاروں سے آسمان کو آراستہ اور مزین کیا کہ دیکھنے والوں کو اچھا معلوم ہوتا ہے اور آسمان کو ان ستاروں کے ذریعے ہر شیطان مردو وملعون سے محفوظ فرمایا کہ جب یہ شیاطین اوپرفرشتوں کی باتیں سننے کے لیے پہنچتے ہیں تو ان ستاروں سے اس کی حفاظت فرمائی، ہاں کوئی چوری چھپے سن بھاگے تو اس کے پیچھے ایک گرم جلا دینے والا روشن شعلہ لپکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 17–18

وَحَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ : یعنی آسمان کو ہم نے ہر مردود شیطان سے محفوظ رکھنے کا زبردست انتظام کر رکھا ہے۔ اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِيْنٌ۔۔ : سرقہ چوری کو کہتے ہیں، باب افتعال سے معنی میں اضافہ ہوگیا، یعنی مگر جو نہایت کوشش سے، یا نہایت خفیہ رہ کر چوری کرے۔ ”السَّمْعَ“ مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، یعنی سنی ہوئی چیز چرا لے۔ ”شِهَابٌ“ ہر روشنی کرنے والی چیز جو آگ سے پیدا ہو، عموماً ستارہ جو شعلے کی طرح پیچھا کرتا نظر آتا ہے۔ ”شِهَابٌ مُّبِيْنٌ“ روشن شعلہ۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : (إِذَا قَضَی اللّٰہُ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 18 لیکن وہ جو چوری چھپے سن لے، یعنی کوئی تھوڑی سی چیز اچک لے، پس یہ استثناء منقطع ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ استثنا متصل ہے، یعنی سوائے اس کے جو چوری چھپے سن لے، یعنی ہم نے آسمان کو شیاطین سے محفوظ کردیا ہے کہ وہ وحی وغیرہ میں سے کسی چیز کو سنیں، بجز اس کے جو چوری چھپے سن لے کیونکہ ہم نے اسے اس سے محفوظ نہیں کیا کہ وحی کے سوا آسمان کی خبروں میں سے کوئی خبر سنی جائے، اور وہی وحی ! تو اس میں سے کوئی شے نہیں سنی کا سکتی ؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انھم عن السمع لمعزولون (شعراء) (نہیں (شیطان کو) تو اس کے سننے سے بھی محروم کردیا گیا ہے) ۔ اور جب شیاطین کسی ایسی شے کی طرف کان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 16–23

1:۔ امام ابن شیبہ، ابن ابی جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں ستارے۔ 2:۔ امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابوقتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں ستارے۔ 3:۔ امام ابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں بڑے ستارے۔ 4:۔ امام ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہے آسمانوں میں محلات اور جس میں چوکیدار رہتے ہیں۔ 5:۔ امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِلَّا : سوائے اس کے کہ ] [ مَنِ : جس نے ] [ اسْتَرَقَ : چپکے سے چرایا ] [السَّمْعَ : سننے کو ] [ فَاَتْبَعَهٗ : تو پیچھے لگتا ہے اس کے ] [ شِهَابٌ مُّبِيْنٌ: ایک روشن انگارہ ] ش ھ ب [شَھَبًا : (س۔ ک) سیاہی مائل سفید ہونا۔] [شَھْبًا : (ف) گرمی کا کسی کو جھلس دینا۔] [شِھَابٌ : ج شُھُبٌ۔ شعلہ۔ انگارہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 18]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 16–18

ستارے آسمان کے لیے زینت ہیں اور ان کے ذریعہ شیاطین کو مارا جاتا ہے اللہ جل شانہ نے ان آیات میں آیات تکوینیہ بیان فرمائی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی توحید پر دلالت کرتی ہیں۔ اول تو یہ فرمایا کہ ہم نے آسمان میں برج یعنی ستارے بنائے ہیں اور آسمان کو زینت والا پررونق بنا دیا، رات کو جب دیکھنے والے آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو ستاروں کی جگمگاہٹ سے نہایت عمدہ پررونق منظر نظر آتا ہے، سورة ملک میں فرمایا (وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآء الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَجَعَلْنَاھَا رُجُوْمًا لِّلشَّیَاطِیْنِ وَاَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَاب السَّعِیْرِ ) (اور ہم نے قریب والے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور ہم نے ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–25

بیان توحید قال اللہ تعالیٰ : ولقد جعلنا فی السماء بروجا .... الیٰ .... انہ حکیم علیم۔ (ربط) گزشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی نبوت پر جو مشرکین کے شبہات تھے ان کا رد فرمایا اب ان آیات میں اپنی الوہیت اور وحدانیت اور قدرت کے دلائل بیان فرماتے ہیں کچھ تو آسمانی چیزوں سے اور کچھ زمینی چیزوں سے ان میں سے پہلی دلیل یہ ہے کہ آسمان کے بارہ برج ہیں۔ یعنی آسمان کے بارہ ٹکڑے مثل خربوزہ کے پھانک کے مختلف شکل کے ستاروں سے پیدا ہوگئے ہیں۔ ہر برج میں جس جانور کے ہم شکل ستارے ہیں وہ برج اسی نام سے عرب میں مشہور ہوگیا۔ حمل، ثور، جوزاء، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو، حوت۔ یہ حق تعالیٰ کی قدرت کی عجیب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–20

10:۔ ” وَلَقَدْ جَعَلْنَا “ تا ” مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ “ توحید پر مفصل عقلی دلیل ہے ” اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ “ مستچنیٰ منقطع ہے اس دلیل سے دو دعوے ثابت کیے گئے۔ اول یہ کہ سب کچھ کرنے والا اور ساری کائنات میں متصرف و مختار اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ یہ ابتداء دلیل سے ” وَ نَحْنُ الْوَارِثُوْنَ “ تک میں مذکور ہے۔ فرمایا اوپر ہم نے آسمان پیدا کیا اور ملا اعلی کے رازوں کو شیاطین سے محفوط کردیا نیچے زمین پیدا کی، اس میں پہاڑ بنائے اور اس میں ہر چیز اندازے سے پیدا کی اور اس میں تمام انسانوں کے لیے بیشمار وسائل رزق مہیا کیے۔ ” وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ “ وہ معذور لوگ، غلام، اہل و عیال…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–21

(ربط آیات) کافر اور مشرک قرآن حکیم کی حقانیت پر شبہ کرتے تھے اور صاحب قرآن کو کہتے تھے کہ تو دیوانہ ہے ، اور اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو نازل کر تاکہ وہ تیری اور قرآن پاک کی صداقت کی گواہی اللہ نے مشرکین کے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو حق کے ساتھ اتارتا ہے اور جب اتارتا ہے تو پھر نافرمانوں کو مہلت نہیں ملتی بلکہ ان کا کام تمام کردیا جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کے حق میں گواہی دیتے ہوئے فرمایا کہ اس کو ہم نے ہی اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں لہذا حفاظت کے سامان ہم خود پیدا کریں گے ، اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِيْنٌ 18؀ اسْتَرَقَ السّمع : إذا تسمّع مستخفیا، قال تعالی: إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ [ الحجر/ 18] ، والسَّرَقُ والسَّرَقَةُ واحد، وهو الحریر . اور استرق السمع کے معنی چوری چھپے سننے کی کوشش کرنا ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ [ الحجر/ 18] ہاں اگر کوئی چوری سے سننا چاہئے ۔ السرق والسرقتہ سفید ریشم ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلك قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : الامن منصوب ہے استثناء منقطع ہونے کی وجہ سے اور جر بھی ہوسکتا ہے ممن استرق سے بدل کر ہو کر اور رفع بھی ہوسکتا ہے مبتدا ہو کر۔ والخبر فاتبعہ وجاز دخول الفائفیہ لتضمن المبتداء معنی الشرط۔ والارض منصوب ہے مددنا محذوف سے ومن لَسْتُمْ منصوب ہے جعلنا سے والمرادبمن العبیدو البھام فانھا مخلوقۃ لمنا فعنا اور مجرور بھی ہوسکتا ہے۔ ای لکم و لمن لستم۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 16–18

وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآئِ بُرُوْجًاوَّزَیَّنّٰھَا لِلنّٰظِرِیْنَ ۔ وَحَفِظْنٰھَا مِنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ ۔ اِلاَّ مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَہٗ شِہَابٌ مُّبِیْنٌ۔ (سورۃ الحجر : 16۔ 17۔ 18) (بیشک ہم نے آسمان میں برج بنائے ہیں اور ہم نے آراستہ کردیا ہے آسمان کو دیدہ بینا رکھنے والوں کے لیے۔ اور ہر شیطانِ مردود کی دراندازی سے ہم نے اس کو محفوظ کردیا ہے۔ ہاں، جو کوئی سن گن لینے کے لیے چوری چھپے کان لگاتا ہے تو ایک دمکتا شہاب اس کا تعاقب کرتا ہے۔ ) آسمانوں میں اللہ تعالیٰ کی پھیلی ہوئی نشانیاں اللہ تعالیٰ کے نبیوں ( علیہ السلام) کی دعوت کے مخالفین نے جس بات سے انبیاء ( علیہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–18

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید آسمان سے نازل کیا گیا ہے۔ اس لیے مناسب سمجھا کہ آسمان کے نظام کا مختصر ذکر کیا جائے۔ خالق کائنات کا ارشاد ہے کہ ہم نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے خوبصورت بنایا اور شیطان مردود سے انہیں محفوظ کردیا۔ اگر کوئی شیطان چوری چھپے سننا چاہے تو ایک روشن اور بھڑکتا ہوا شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔ پرانے زمانے کے اہل ہئیت یعنی فلکیات کا علم رکھنے والے لوگوں نے آسمان دنیا کے بارہ برج متعین کر رکھے ہیں مگر قرآن مجید کے بروج سے مراد وہ برج نہیں ہیں۔ بروج سے مراد کچھ اہل علم نے پہلے آسمان کے دروازے لیے ہیں۔ جن دروازوں کے ذریعے ملائکہ زمین پر اترتے اور پھر آسمان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

18: اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ (مگر جس نے چرایا بات کو) جو سنی ہوئی چیز ہے۔ من ؔ یہ استثناء کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ فَاَتْبَعَہٗ شِھَابٌ پس اس کا پیچھا کرتا ہے شہاب) وہ ستارہ پھر وہ لوٹ جاتا ہے۔ مُّبِیْنٌ (ظاہر) دیکھنے والوں کیلئے۔ ایک قول یہ ہے کہ شیاطین کو آسمان کی طرف سے نہ روکا جاتا تھا۔ جب عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو تین آسمانوں سے روک دئیے گئے۔ جب محمد ﷺ پیدا ہوئے تو تمام آسمانوں سے روک دیے گئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 18۔” الا من استرق السمع “ لیکن جو چوری سے سن لیتا ہے ” فاتبعہ شھاب مبین “ شہاب آتشیں شعلہ جو ستارے سے نکلتا ہے۔ شیطان پر شہاب ثاقب مارے جانے کے متعلق احادیث اس کی تفصیل یہ ہے کہ شیطان نیچے سے آسمان دنیا تک ایک کے اوپر دوسرا سوار ہوتا ہے اور آسمان دنیا تک پہنچ جاتا ہے اور چوری سے وہ فرشتوں کی بات سن لیتے ہیں ۔ فرشتے ان پر شہاب ثاقب مارتے ہیں تو ان کا یہ انگارہ ضائع نہیں جاتا ۔ انگارہ پڑنے سے کوئی مرجاتا ہے ، کسی کا چہرہ یا پہلو یا ہاتھ یا کوئی اور حصہ حسب مشیت الٰہی جل جاتا ہے ۔ کوئی بد حواس پاگل ہوجاتا ہے اور بھوت بن جاتا ہے جو زمین پر آ کر جنگلوں میں مسافروں کو سیدھے راستے سے بھٹکاتا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–18

16۔ 18۔ ان آیتوں میں اللہ پاک اپنی قدرت کا حال بیان فرماتا ہے کہ اس آسمان کو ہم نے کیسی حکمت اور ترکیب سے بنایا اس میں بڑے بڑے تاروں کے محل برجوں کی طرح بنائے ہیں اور چاند سورج ستاروں سے آسمان کو زینت دی ہے۔ آسمان میں بارہ برج ہیں ہر برج میں تیس تیس درجے جس میں آفتاب ہر روز سیر کرتا ہے ہر درجہ کو ایک ایک روز میں تمام کرتا ہے اور اس حساب سے تین سو ساٹھ دن میں یعنی ایک سال میں آسمان کا پورا دور ختم کرلیتا ہے جس کی وجہ سے جاڑا گرمی برسات کی فصلیں ہوتی ہیں اور ان فصلوں سے دنیا میں عجیب عجیب تغیر ہوتے رہتے ہیں اور طرح طرح کے نفع حاصل ہوتے ہیں جس دور کو سورج بیس دن میں پورا کرتا ہے چاند اس کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 16–20

آیت 16 اللہ تعالیٰ اپنے کامل اقتدار اور مخلوق پر اپنی رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ولقد جعلنا فی السمآء بروجاً ) ” اور ہم نے بنائے ہیں آسمان میں برج “ یعنی ہم نے ستاروں کو برجوں کی مانند بنایا اور انہیں بڑی علامتیں بنایا جن کے ذریعے سے بحر و بر کی تاریکیوں میں راستے تلاش کئے جاتے ہیں (وزینھا للنظرین) ” اور خوب صورت بنایا ہے اس کو دیکھنے والوں کے لئے “ اگر ستارے نہ ہوتے تو آسمان کا منظر اتنا خوبصورت اور اس کی ہئیت اتنی تعجب خیز نہ ہوتی اور یہ چیز دیکھنے والوں کو ان پر تدبر، ان کے معانی میں غور و فکر اور ان کے ذریعے سے ان کے پیدا کرنے والے پر استدلال کی دعوت دیتی ہے۔ (وحفظنھا من کل شیطن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 16–18

16۔ آسمان کے بروج سے مقصودو مراد ؟ " برج " کے معنی عربی زبان میں بڑے محل، قلعے اور مضبوط ومستحکم عمارت کے آتے ہیں۔ یہاں پر بروج سے مراد کے بارے میں بعض حضرات کا کہنا ہے کہ اس سے مراد بڑے کواکب اور سیارات ہیں۔ اور بعض نے کہا اس سے مراد وہ مختلف منازل ہیں جن میں سورج وچاند کے یہ عظیم الشان کرے گردش کرتے ہیں۔ سو ان میں سے جو بھی صورت ہو یہ قدرت کی عظیم الشان نشانیوں میں سے ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو یہ عظیم الشان نشان ہائے قدرت اپنی زبان حال سے پکار پکار کر انسان کو دعوت غور و فکر دے رہے ہیں کہ ذرا سوچو اور غور کرو کہ وہ کون ہے جس نے ایسی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے ان برجوں کو آسمان میں رکھ دیا ؟…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–18

ستاروں اور سیاروں کا مقصد تشریح : ان آیات میں کائناتی ردوبدل کی طرف اشارہ ملتا ہے سب سے پہلے تو ہم برج کی وضاحت کریں گے۔ اس کی جمع بروج ہے۔ لفظی مطلب ہے عمارت کی وہ سب سے اونچی جگہ جو نمایاں دکھائی دے یہاں مراد ستاروں کے گچھے ہیں جو آسمان میں چمکتے ہوئے انتہائی خوبصورت نظر آتے ہیں اور یا پھر فضاء بسیط میں وہ خطے ہیں جن میں سے ہر خطے کو مضبوط سرحدوں نے دوسرے خطے سے محفوظ اور جدا کر رکھا ہے۔ جیسا کہ ہماری زمین کو کئی تہوں میں چاروں طرف سے محفوظ کردیا گیا ہے۔ مختلف قسم کی گیسوں کے غلاف زمین کو باہر کی آفات سے محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ بیشمار شہاب ثاقب زمین کی طرف…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 16–25

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف حالانکہ قدرت باری اس قدر ہویدا ہے کہ آسمانوں میں چڑھے بغیر اس کی عظمت پہ دلالت کرتی نظر آتی ہے آخر ہم نے ہی تو آسمانوں میں بہت بڑے بڑے ستارے اور سیارے سجا دیئے اور خلا کو دیکھنے والوں کے لیے بہت خوبصورت بنا دیا جہاں ان میں اور بیشمار حکمتیں ہیں وہاں آسمانوں کی حفاظت کا کام بھی ان سے لیا اور پھر شیطان مردود کو ان کے باعث آسمانوں سے دور کردیا کہ ان میں کی ٹوٹ پھوٹ اور ان کی روشنی و گرمی اور مختلف اثرات فضا اور خلا کی ایک خاص حد سے آگے کسی کو بڑھنے نہیں دیتے حتی کہ شیاطین تک سوائے اس کے کسی شیطان نے خلا میں سے چوری چھپے کوئی بات فرشتوں سے سن لی تو اس کے پیچھے روشن شعلہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 17–18

ف 1 ۔ اور جس پردہ شہاب جا لگتا ہے وہ یا تو جل جاتا ہے یا زخمی ہوجاتا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں امام بخاری (رح) اور حجرت ابوہریرہ ؓ سے روایت لائے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ آسمان میں جب کوئی حکم صادر کرتا ہے تو اس کا کلام سُن کر فرشتے اظہار طاعت کے لئے اپنے بازو پھڑ پھڑانے لگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے کلام کی آواز ایسی ہوتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر کے پھسلنے یارگڑنے کی آواز۔ جب فرشتوں کو خوف جاتا رہتا ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ ” تمہارے رب نے کیا کہا ؟ وہ کہتے ہیں کہ اس نے جو فرمایا حق فرمایا اور وہ بلند اور بڑا ہے۔ اس وقت بات کے چرانے کے لئے شیاطین بھاگتے ہیں۔ اور یہ تھوڑے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:18) استرق ماضی واحد مذکر غائب۔ استراق (استفعال) سے سرق مادّہ۔ اس نے چرایا۔ اس نے چوری کی۔ استرق السمع اس نے چوری چھپے سن لیا۔ فاتبعہ ۔ ماضی واحد مذکر غائب ہٗ واحد مذکر غائب۔ اس ضمیر کا مرجع من موصولہ ہے وہ اس کے پیچھے لگا۔ اس کے پیچھے لگ جاتا ہے۔ وہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔ شھاب۔ الشھاب کے معنی بلند شعلہ کے ہیں۔ خواہ وہ چلتی ہوئی آگ کا شعلہ ہو یا فضا میں کسی عارضہ کی وجہ سے پیدا ہوجائے۔ شھاب مبین ایک روشن شعلہ۔ روشنی کرنے والا انگارہ۔ شیطان کا آسمان کی باتیں سن لینا اور اس کے تعاقب میں شہاب مبین کے لگ جانے سے کیا مراد ہے۔ اس کا جواب انسان کے موجودہ علم کی روشنی میں تسلی بخش طور پر دینا مشکل…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–25

لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 25 بروج (برج) اونچی اور بلند عمارت، قلعے۔ زینا ہم نے زینت دی، خوبصورت بنایا۔ نظرین دیکھنے والے۔ حفظنا ہم نے حفاظت کی رجیم مردود، نکالا گیا ۔ استرق (استراق) جس نے چوری سے کوئی چیز اڑا لی ہو ۔ السمع سننا اتبع پیچھے لگ گیا شھاب انگارا۔ آگ مدد پھیلا دیا۔ القینا ہم نے ڈال دیا۔ رواسی بوجھ۔ پہاڑ ۔ انبتنا ہم نے اگایا موزون اندازہ، مقدار۔ معایش زندگی گذارنے کا سامان۔ لستم تم نہیں ہو۔ خزائن خزانے ، ذخیرہ۔ قدر معلوم اندازے مقرر، متعین الریح (ریح) ہوائیں لواقع (لاقحۃ ) بوجھل بھرپور اسقینا ہم نے سیراب کردیا۔ پلایا ۔ خازنین خزانے والے نحی ہم زندگی دیتے ہیں نمیت ہم موت دیتے ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 16–18

اللہ کی قدرت کا بیان ان آیتوں میں اللہ پاک اپنی قدرت کا حال بیان فرماتا ہے کہ آسمان کو ہم نے کیسی حکمت اور ترکیب سے بنایا ہے۔ اس میں بڑے بڑے تاروں کے محل برجوں کی طرح کے بنائے ہیں اور چاند سورج اور ستاروں سے آسمان کو زینت دی ہے۔ آسمان میں یہ بارہ برج ہیں : (1) حمل (2) ثور (3) جوزہ (4) سرطان (5) اسد (6) سنبلہ (7) میزان (8) عقرب (9) قوس (10) جدی (11) دلو (12) حوت پھر ہر ایک برج میں تیس تیس درجے ہیں جس میں آفتاب ہر روز سیر کرتا ہے۔ ہر درجہ کو ایک ایک روز میں تمام کرتا ہے اور اس حساب سے تین سو ساٹھ دن یعنی ایک سال میں آسمان کا پورا دورہ ختم کرلیتا ہے۔ جس کی وجہ سے جاڑا، گرمی، برسات کی فصلیں تیار…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–21

[7] شہاب اس ستارے کو کہتے ہیں جو رات کے وقت ٹوٹتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ زمانہ حال کے مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ اس طرح کے ستارے جو خلا سے زمین کی طرف آتے ہیں ان کی تعداد کا اوسط دس کھرب روزانہ ہے جن میں سے دو کروڑ کے قریب ہر روز زمین کے بالائی خطے میں داخل ہوتے ہیں اور بمشکل ایک زمین کی سطح تک پہنچتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ شہابوں کی یہی بارش عالم بالا کی طرف شیاطین کی پرواز میں مانع ہوتی ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 18–21

اطلاع علی الغیب کے تمام دروازے مسدود ہیں : (ف 1) حضور ﷺ سے قبل شیاطین آسمان تک پہنچ جایا کرتے تھے اور کچھ کچھ غیوب سماوی سے معلوم کرلیتے تھے ، جب حضور ﷺ مبعوث ہوئے اور آپ کو خلعت نبوت عطا ہوا تو اس وقت اطلاع علی الغیب کے تمام ابواب ان پر مسدود ہوگئے ، اب جو خبیث روحوں نے آسمان کی جانب رجوع کیا تو بلند اور چمکتے ہوئے شعلوں نے ان کا خیر مقدم کیا اور ان کو بےنیل ومرام واپس ہونا پڑا ، قرآن چونکہ اطلاع علی الغیب کی آخری صورت ہے ، اور حضور کے بعد کوئی شخص علوم نبوت کا وارث نہیں ، اس لئے اللہ نے معلومات غیب کے تمام ذرائع علما بند کردئیے ہیں ، یہ حضور ﷺ کی افضیلت خاتمیت کی بہترین دلیل ہے ۔ حل لغات…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

18 ۔ لیکن اگر کوئی شیطان کچھ چوری چھپے سن بھاگے تو ایک روشن اور چمکتا ہوا انگارہ اس کا پیچھا کرتا ہے اور اس کے پیچھے لگ جاتا ہے یعنی فرشتوں کی کوئی بات چھپے چوری لے اڑا تو ایک روشن شعلہ اس کے پیچھے ہو لیتا ہے جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوجاتا ہے یا اس کا منہ جھلس جاتا ہے اور زمین میں سچ کے ساتھ جھوٹ نہیں پھیلا سکتا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں فرشتوں کی مشورت سننے کو شیطان جا لگتے ہیں آسمان کے قریب اوپر سے انگارے پڑتے ہیں جو کوئی سن بھاگا اگر دنیا میں ظاہر کیا ایک سچ میں سو جھوٹ ملا کر وہ ایک بات سچ دیکھی لوگ یقین لائے سو جھوٹ دیکھے تغافل کیا ۔ 12 خلاصہ ! یہ کہ شیطان نجومیوں اور کاہنوں کو خبریں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–25

ف 3۔ جاننا چاہئے کہ قرآن و حدیث میں یہ دعوی نہیں کہ بدون اس سبب کے شہاب نہیں پیدا ہوتا بلکہ دعوی یہ ہے کہ استراق کے وقت شہاب سے شیاطین کو رجم کیا جاتا ہے، پس ممکن ہے کہ شہاب کبھی محض طبعی طور پر ہوتا ہو، اور کبھی اس غرض کے لئے ہوتا ہو اور شہاب ثاقب دن کو بھی ہوتا ہے لیکن بوجہ ضوء شمس کے نظر نہیں آتا، پس یہ وسوسہ نہ رہا کہ شیاطین رات ہی کو استراق کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر کچھ اس میں سے کوئی سن گن لینا چاہئے تو شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے : 18۔ ” شہاب “ کے معنی شعلے کے ہیں ، باقی رہی اس معاملہ کی حقیقت تو یہ عالم الغیب کے معاملات میں سے ہے جسے ہم اپنے وسائل علم وادراک سے معلوم نہیں کرسکتے ، وہی الہی نے جس قدر تصریح کردی ہے اس پر یقین کرنا چاہئے اور مزید کاوش میں نہیں پڑنا چاہئے ، اگر سائنس یہ کہتی ہے کہ فضا میں بڑے بڑے وزنی پتھر چکر کھا رہے ہیں اور وہ ہوا سے رگڑ کھا کر روشن ہوجاتے ہیں اور کہیں زمین پر ٹوٹ کر گر بھی پڑتا ہیں تو قرآن کریم کی بتائی ہوئی حکمت کے ذرا بھی یہ منافی نہیں کیونکہ قرآن کریم کو انکی ترکیب ‘ ساخت وغیرہ سے مطلق بحث نہیں وہ تو اپنے موضوع کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The Meteor The first thing these verses prove is that the shaitans have no access to the heavens. That shaitan the accursed was in the heavens at the time of the creation of Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) and that he deceived 'Adam and Hawwa (Eve) (علیہما السلام) were events which took place before they appeared on the earth. Upto that time, the entry of the Jinns and shaitans in the heavens was not prohibited. It was after the coming down of Sayyidna 'Adam I and the expulsion of the shaitan that this entry was banned. From what has been said in Surah Al-Jinn: أَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

11. This is the answer to the false claim of the soothsayers, diviners, hermits, conjurers and the like who pretended to receive communications from the Heaven. The Quran says that in fact they do not possess any means of obtaining information about unseen things. Satans, however, try to eaves-drop because they are by nature more like angels than human beings, but in reality, they succeed in obtaining very little information about it. 12. In Arabic the word shihab-i-mubin literally means a fiery flame. In Surah (As-Saffaat, Ayat 10), the same thing has been called shihab-i-thaqib (flame that…

Read the full tafseer →