Al-Hijr 15:17

Al-Hijr · from ayah 17

15:17

وَحَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ ۟ۙوَحَفِظۡنٰهَا مِنۡ كُلِّ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍۙ

اور ہر شیطان راندہٴ درگاہ سے اُسے محفوظ کر دیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We have protected it from every devil expelled [from the mercy of Allah]

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:17

اور ہر شیطان مردود سے ان کو محفوظ کر دیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہر شیطان راندہٴ درگاہ سے اُسے محفوظ کر دیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اسے ہر مردود شیطان سے محفوظ رکھا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اسے ہر مردود شیطان سے محفوظ رکھا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اسے ہم نے ہر شیطان مردود سے محفوظ رکھا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے اس (آسمانی کائنات کے نظام) کو ہر مردود شیطان (یعنی ہر سرکش قوت کے شرانگیز عمل) سے محفوظ کر دیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے اسے ہر مردود شیطان سے محفوظ کردیا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہر شیطان مردود سے اسے محفوظ کردیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہر شیطان مردود کی دراندازی سے اس کو محفوظ کیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم ہی نے ان کی حفاظت کا سامان کیا ہر شیطان مردود (کی دست درازی) سے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے اسے ہر شیطان مردود سے محفوظ کردیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے حفاظت کی ہے اس کی ہر شیطان مردود سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہر شیطان راندہ درگاہ سے اسے محفوظ کردیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and have protected them against every accursed satan

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and have protected them from every outcast devil,

— Muhammad Taqi Usmani

and have protected them from every outcast devil,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We have guarded it (near heaven) from every outcast Shaytan (devil).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We have guarded it from every outcast devil,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We have protected it from every devil expelled [from the mercy of Allah]

— Saheeh International

We have protected them from every condemned devil,

— Muhammad Sarwar

And We guard it against every accursed Shaitan,

— Muhammad Habib Shakir

And We have guarded it from every Satan damned.

— Abdul Majid Daryabadi

And (moreover) We have guarded them from every cursed devil:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–20

ستارے اور شیطان اس بلند آسمان کا جو ٹھہرے رہنے والے اور چلنے پھرنے والے ستاروں سے زینت دار ہے، پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ جو بھی اسے غور و فکر سے دیکھے وہ عجائبات قدرت اور نشانات عبرت اپنے لئے بہت سے پاسکتا ہے۔ بروج سے مراد یہاں پر ستارے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (تَبٰرَكَ الَّذِيْ جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا 61؀) 25۔ الفرقان :61) بعض کا قول ہے کہ مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں، عطیہ کہتے ہیں وہ جگہیں جہاں چوکی پہرے ہیں۔ اور جہاں سے سرکش شیطانوں پر مار پڑتی ہے کہ وہ بلند وبالا فرشتوں کی گفتگو نہ سن سکیں۔ جو آگے پڑھتا ہے، شعلہ اس کے جلانے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحِجْر 10 یعنی جس طرح زمین کی دوسری مخلوقات زمین کے خطّے میں مقید ہیں اسی طرح شیاطین جن بھی اسی خطے میں مقید ہیں، عالم بالا تک ان کی رسائی نہیں ہے۔ اس سے دراصل لوگوں کی اس عام غلط فہمی کو دور کرنا مقصود ہے جس میں پہلے بھی عوام الناس مبتلا تھے اور آج بھی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ شیطان اور اس کی ذریت کے لیے ساری کائنات کھلی پڑی ہے، جہاں تک وہ چاہیں پرواز کرسکتے ہیں۔ قرآن اس کے جواب میں بتاتا ہے کہ شیاطین ایک خاص حد سے آگے نہیں جاسکتے، انہیں غیر محدود پرواز کی طاقت ہرگز نہیں دی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر آسمان کو (ستاروں کے ذریعہ) ہر شیطان مردود سے محفوظ فرما دیا (کہ وہاں تک ان کی رسائی نہیں ہونے پاتی) ہاں مگر کوئی بات (فرشتوں کی) چوری چھپے سن بھاگے تو اس کے پیچھے ایک روشن شعلہ ہوتا ہے (اور اس کے اثر سے وہ شیطان ہلاک یا بدحواس ہوجاتا ہے)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 16–18

آگے کا مضمون۔ آیات 16 تا 25: آفاق وانفس کی نشانیوں کی طرف اشارہ : آگے ان نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو آفاق وانفس اور آسمان و زمین کے گوشہ گوشہ میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان باتوں کی تصدیق کرتی ہیں جن پیغمبر دعوت دے رے ہیں۔ مقصد ان نشانیوں کے ذکر سے یہ ہے کہ قدرت کے معجزاتے کے ہوتے کسی نئے معجزے کی ضرورت کہا باقی رہی، دیکھنے والی آنکھیں سوچنے والے دماغ ہوں تو ایک ایک پتہ معرفت کردگار کا دفتر ہے تفسیر آیات 16 تا 18:۔ وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَزَيَّنَّاهَا لِلنَّاظِرِينَ (16) وَحَفِظْنَاهَا مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ رَجِيمٍ (17)۔ اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

17۔ 1 رجیم مرجوم کے معنی میں ہے رَجْم کے معنی ہیں سنگسار کرنا یعنی پتھر مارنے کے ہیں۔ شیطان کو رجیم اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ سب آسمان کی طرف جانے کی کوشش کرتا ہے تو آسمان سے شہاب ثاقب اس پر ٹوٹ کر گرتے ہیں، پھر رجیم ملعون و مردود کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، کیونکہ جسے سنگسار کیا جاتا ہے اسے ہر طرف سے لعنت ملامت بھی کی جاتی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ ہم نے آسمانوں کی حفاظت فرمائی ہر شیطان رجیم سے۔ یعنی ان ستاروں کے ذریعے سے، کیونکہ یہ شیطان کو مار بھاگنے پر مجبور کردیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 17–18

8: یہ حقیقت قرآن کریم نے کئی جگہ بیان فرمائی ہے کہ شیطان آسمان کے اوپر جاکر عالم بالا کی خبریں حاصل کرنا چاہتے ہیں، تاکہ وہ خبریں کاہنوں اور نجومیوں تک پہنچائیں، اور وہ ان کے ذریعے لوگوں کو یہ باور کرائیں کہ انہیں غیب کی باتیں معلوم ہوجاتی ہیں، لیکن آسمان میں ان کا داخلہ شروع ہی سے بند ہے، البتہ آنحضرت ﷺ کی دنیا میں تشریف آوری سے پہلے یہ شیاطین آسمان کے قریب جاکر فرشتوں کی باتیں چوری چھپے سننے کی کوشش کرتے تھے اور وہاں سے کوئی بات کان میں پڑجاتی توا سکے ساتھ سینکڑوں جھوٹ ملاکر کاہنوں کو بتا دیتے تھے، اس طرح کبھی کوئی بات صحیح بھی نکل آتی تھی ؛ لیکن آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری کے بعد ان کو آسمان کے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 16–18

آیت نمبر 16 تا 18 اس پھیلی ہوئی کائنات کی یہ پہلی لائن ہے۔ اس عجیب و غریب کائنات کے نقش و نگار کی یہ پہلی تصویر ہے۔ اس کائنات میں نزول ملائکہ سے بھی زیادہ عجائبات ہمارے سامنے ہیں۔ خود ان کائنات کی تشکیل اور طبیعی لحاظ سے اس کی کارکردگی اللہ کی قدرت و صنعت کی ایک واضح مثال ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی دوسری دلیل کی سرے سے احتیاج ہی نہیں ہے۔ بروج کیا ہیں ، یہی ستارے اور سیارے عظیم سے عظیم تر۔ ان سیاروں اور ستاروں کے مدار اور مقامات بھی برج ہو سکتے ہیں۔ جو بھی مراد ہو لیکن دونوں حالات میں ان کی کار کردگی ایک معجز دلیل ہے اور اللہ کی قدرت اور حکمت پر شاہد عادل ہے ، کس قدر پیچیدہ ، موثر ہے اور دیکھنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 17–18

4 یعنی آسمانوں پر شیاطین کا کچھ عمل دخل نہیں چلتا۔ بلکہ بعثت محمدی ﷺ کے وقت سے تو ان کا گزر بھی وہاں نہیں ہوسکتا۔ اب انتہائی کوشش ان کی یہ ہوتی ہے کہ ایک شیطانی سلسلہ قائم کر کے آسمان کے قریب پہنچیں اور عالم ملکوت کے نزدیک ہو کر اخبار غیبیہ کی اطلاعات حاصل کریں، اس پر بھی فرشتوں کے پہرے بٹھا دیئے گئے ہیں کہ جب شیاطین ایسی کوشش کریں اوپر سے آتشباری کی جائے۔ نصوص قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تکوینی امور کے متعلق آسمانوں پر جب کسی فیصلہ کا اعلان ہوتا ہے اور خداوند قدوس اس سلسلہ میں فرشتوں کی طرف وحی بھیجتا ہے تو وہ اعلان ایک خاص کیفیت کے ساتھ اوپر سے نیچے کو درجہ بدرجہ پہنچتا ہے آخر سماء دنیا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 17 وَحَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ یہ گویا ہمارے ایمان بالغیب کا حصہ ہے کہ ان ستاروں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں میں حفاظتی انتظامات کر رکھے ہیں۔ اس کائنات کی تخلیق کے بارے میں انسان کی جدید تحقیق ماضی قریب میں ہوئی ہے ‘ لیکن ابھی بھی اس سلسلے میں انسانی علم بہت محدود ہے۔ وائرس اور بیکٹیریا کے بارے میں کچھ ہی عرصہ پہلے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ یہ بھی کوئی مخلوق ہے۔ اس وسیع و عریض کائنات میں یقیناً بہت سے ایسے حقائق ہوں گے جن کے بارے میں اب بھی انسان کچھ نہیں جانتا۔ بہرحال اب تک جتنی مخلوقات کے بارے میں ہمیں علم ہے ان میں صرف تین قسم کی مخلوقات ایسی ہیں جن میں خود شعوری self…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 16–17

8 آسمانوں کے برج :۔ اس آیت میں اگر کوئی شخص بروج کے لفظ سے وہ ہی بارہ برج مراد لیتا ہے جو قدیم اہل ہیئت نے فلک ہشتم پر بنا رکھے ہیں تو اس کی مرضی ہے ورنہ آیت کا سیاق اس کی تائید نہیں کرتا کیونکہ ان برجوں میں سے اکثر برجوں کی اشکال کا زینت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ بھلا سرطان (کیکڑا) عقرب (بچھو) ترازو اور ڈول وغیرہ کیا خوبصورتی پیدا کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر علماء نے یہاں بروج سے ستارے اور سیارے مراد لیے ہیں جو رات کے وقت آسمان کو زینت بخشتے ہیں۔ لغوی لحاظ سے ہم نمایاں طور پر ظاہر ہونے والی ہر چیز کو برج کہہ سکتے ہیں خواہ وہ کوئی عمارت ہو یا گنبد ہو یا قلعہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–25

آیت نمبر 16 تا 25 ترجمہ : اور بیشک ہم نے آسمان میں بڑے بڑے بارہ برج بنائے (1) حمل (2) ثور (3) جوزاء (4) سرطان (5) اسد (6) سنبلہ (7) میزان (8) عقرب (9) قوس (10) جدی (11) دلو (12) حوت، یہ سات سیاروں کی بارہ منزلیں ہیں مریخ کیلئے حمل اور عقرب ہیں اور زہرہ کیلئے ثور اور میزان ہیں اور عطارد کیلئے جو ازء اور سنبلہ ہیں اور قمر کیلئے سرطان ہے اور شمس کیلئے اسد ہے، اور مشتری کیلئے قوس اور حوت ہیں اور ہم نے آسمان کو دیکھنے والوں کیلئے تاروں سے سجایا اور آسمانوں کو ہم نے ستاروں کے ذریعہ ہر شیطان مردود سے محفوظ کیا، الایہ کہ کوئی چوری سے سن بھاگے تو اس کے تعاقب میں ایک روشن ستارہ ہوتا ہے، (جو) اس کو جلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وحفظنھا من کل شیطان رجیم اور ہر شیطان مردود سے آسمان کو محفوظ کردیا ہے۔ کوئی شیطان آسمان والوں کو بہکانے یا وہاں کے احوال معلوم کرنے یا وہاں کے انتظام میں دخل دینے کیلئے نہیں چڑھ سکتا۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کا قول لکھا ہے کہ پہلے آسمانوں تک پہنچنے سے شیطانوں کی روک ٹوک نہ تھی۔ وہ جا کر آسمانوں کی خبریں لاتے اور کاہنوں کے دلوں میں القاء کرتے تھے۔ جب حضرت عیسیٰ پیدا ہوئے تو تین بالائی آسمانوں پر جانے سے شیطانوں کو روک دیا گیا۔ لیکن رسول اللہ ﷺ کی میلاد مبارک ہوئی تو باقی چار آسمانوں تک جانے کی بھی ممانعت کردی گئی۔ اب جو کوئی شیطان چوری چھپے (اوپر جا کر) کوئی خبر سن پاتا تھا ‘ فوراً اس پر (ٹوٹنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 16–18

(16۔ 17۔ 18) اور ہم نے آسمان میں حفاظت کے لیے ایسے ستارے پیدا کیے جن سے خشکی اور تری کی تاریکیوں میں راستہ حاصل کیا جاتا ہے اور ان ستاروں سے آسمان کو آراستہ اور مزین کیا کہ دیکھنے والوں کو اچھا معلوم ہوتا ہے اور آسمان کو ان ستاروں کے ذریعے ہر شیطان مردو وملعون سے محفوظ فرمایا کہ جب یہ شیاطین اوپرفرشتوں کی باتیں سننے کے لیے پہنچتے ہیں تو ان ستاروں سے اس کی حفاظت فرمائی، ہاں کوئی چوری چھپے سن بھاگے تو اس کے پیچھے ایک گرم جلا دینے والا روشن شعلہ لپکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 17–18

وَحَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ : یعنی آسمان کو ہم نے ہر مردود شیطان سے محفوظ رکھنے کا زبردست انتظام کر رکھا ہے۔ اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِيْنٌ۔۔ : سرقہ چوری کو کہتے ہیں، باب افتعال سے معنی میں اضافہ ہوگیا، یعنی مگر جو نہایت کوشش سے، یا نہایت خفیہ رہ کر چوری کرے۔ ”السَّمْعَ“ مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، یعنی سنی ہوئی چیز چرا لے۔ ”شِهَابٌ“ ہر روشنی کرنے والی چیز جو آگ سے پیدا ہو، عموماً ستارہ جو شعلے کی طرح پیچھا کرتا نظر آتا ہے۔ ”شِهَابٌ مُّبِيْنٌ“ روشن شعلہ۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : (إِذَا قَضَی اللّٰہُ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 17 یہاں رجیم بمعنی مرجوم (راندہ ہوا) ہے۔ اور الرجم کا معنی الرمی بالحجارۃ (پتھر مارنا) ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ الرجم کا معنی لعنت کرنا اور بھگانا ہے اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ اور کسائی نے کہا ہے : قرآن کریم میں جہاں بھی لفظ رجیم آیا ہے وہ بمعنی الشتم (گالی دینا) ہے۔ اور کلبی (رح) نے یہ گمان کیا ہے کہ یہ تمام آسمان حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے تک شیاطین سے محفوظ نہ تھے، پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تو ان میں سے تین آسمانوں کو رسول اللہ ﷺ کی بعثت تک محفوظ کرلیا، اور پھر آپ ﷺ کی بعثت کے بعد تمام آسمانوں کو محفوظ کرلیا اور ان (شیاطین) سے شہابوں کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 16–23

1:۔ امام ابن شیبہ، ابن ابی جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں ستارے۔ 2:۔ امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابوقتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں ستارے۔ 3:۔ امام ابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں بڑے ستارے۔ 4:۔ امام ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہے آسمانوں میں محلات اور جس میں چوکیدار رہتے ہیں۔ 5:۔ امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَحَفِظْنٰهَا : اور ہم نے محفوظ کیا ان کو ] [مِنْ كُلِ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ : ہر دھتکارے ہوئے شیطان سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 16–18

ستارے آسمان کے لیے زینت ہیں اور ان کے ذریعہ شیاطین کو مارا جاتا ہے اللہ جل شانہ نے ان آیات میں آیات تکوینیہ بیان فرمائی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی توحید پر دلالت کرتی ہیں۔ اول تو یہ فرمایا کہ ہم نے آسمان میں برج یعنی ستارے بنائے ہیں اور آسمان کو زینت والا پررونق بنا دیا، رات کو جب دیکھنے والے آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو ستاروں کی جگمگاہٹ سے نہایت عمدہ پررونق منظر نظر آتا ہے، سورة ملک میں فرمایا (وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآء الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَجَعَلْنَاھَا رُجُوْمًا لِّلشَّیَاطِیْنِ وَاَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَاب السَّعِیْرِ ) (اور ہم نے قریب والے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور ہم نے ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–25

بیان توحید قال اللہ تعالیٰ : ولقد جعلنا فی السماء بروجا .... الیٰ .... انہ حکیم علیم۔ (ربط) گزشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی نبوت پر جو مشرکین کے شبہات تھے ان کا رد فرمایا اب ان آیات میں اپنی الوہیت اور وحدانیت اور قدرت کے دلائل بیان فرماتے ہیں کچھ تو آسمانی چیزوں سے اور کچھ زمینی چیزوں سے ان میں سے پہلی دلیل یہ ہے کہ آسمان کے بارہ برج ہیں۔ یعنی آسمان کے بارہ ٹکڑے مثل خربوزہ کے پھانک کے مختلف شکل کے ستاروں سے پیدا ہوگئے ہیں۔ ہر برج میں جس جانور کے ہم شکل ستارے ہیں وہ برج اسی نام سے عرب میں مشہور ہوگیا۔ حمل، ثور، جوزاء، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو، حوت۔ یہ حق تعالیٰ کی قدرت کی عجیب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–20

10:۔ ” وَلَقَدْ جَعَلْنَا “ تا ” مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ “ توحید پر مفصل عقلی دلیل ہے ” اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ “ مستچنیٰ منقطع ہے اس دلیل سے دو دعوے ثابت کیے گئے۔ اول یہ کہ سب کچھ کرنے والا اور ساری کائنات میں متصرف و مختار اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ یہ ابتداء دلیل سے ” وَ نَحْنُ الْوَارِثُوْنَ “ تک میں مذکور ہے۔ فرمایا اوپر ہم نے آسمان پیدا کیا اور ملا اعلی کے رازوں کو شیاطین سے محفوط کردیا نیچے زمین پیدا کی، اس میں پہاڑ بنائے اور اس میں ہر چیز اندازے سے پیدا کی اور اس میں تمام انسانوں کے لیے بیشمار وسائل رزق مہیا کیے۔ ” وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ “ وہ معذور لوگ، غلام، اہل و عیال…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–21

(ربط آیات) کافر اور مشرک قرآن حکیم کی حقانیت پر شبہ کرتے تھے اور صاحب قرآن کو کہتے تھے کہ تو دیوانہ ہے ، اور اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو نازل کر تاکہ وہ تیری اور قرآن پاک کی صداقت کی گواہی اللہ نے مشرکین کے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو حق کے ساتھ اتارتا ہے اور جب اتارتا ہے تو پھر نافرمانوں کو مہلت نہیں ملتی بلکہ ان کا کام تمام کردیا جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کے حق میں گواہی دیتے ہوئے فرمایا کہ اس کو ہم نے ہی اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں لہذا حفاظت کے سامان ہم خود پیدا کریں گے ، اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَحَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ 17۝ۙ حفظ الحِفْظ يقال تارة لهيئة النفس التي بها يثبت ما يؤدي إليه الفهم، وتارة لضبط الشیء في النفس، ويضادّه النسیان، وتارة لاستعمال تلک القوة، فيقال : حَفِظْتُ كذا حِفْظاً ، ثم يستعمل في كلّ تفقّد وتعهّد ورعاية، قال اللہ تعالی: وَإِنَّا لَهُ لَحافِظُونَ [يوسف/ 12] ( حظ ) الحفظ کا لفظ کبھی تو نفس کی اس ہیئت ( یعنی قوت حافظہ ) پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ جو چیز سمجھ میں آئے وہ محفوظ رہتی ہے اور کبھی دل میں یاد ررکھنے کو حفظ کہا جاتا ہے ۔ اس کی ضد نسیان ہے ، اور کبھی قوت حافظہ کے استعمال پر یہ لفظ بولا جاتا ہے مثلا کہا جاتا ہے ۔ حفظت کذا حفظا یعنی میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–17

اثبات توحید پر دلائل سماویہ : تفسیر : قرآن مجید کی عادت ہے کہ ایک مقصد کے بعد دوسرے مطلب کو بیان فرماتا ہے تاکہ سننے والے کے دل پر بار نہ معلوم ہو۔ اس جگہ جبکہ مسئلہ نبوت میں کلام کرچکا تو مسئلہ توحید کو شروع کرتا ہے جس پر اثبات نبوت موقوف ہے اور نیز توحید کے متعلق ایسا کلام کرنا گویا نبوت۔ نبی کو اس کے اثر سے مشاہدہ کرا دینا ہے کہ جس کے منہ سے ایسی بات الہامی اور روح کو تازہ کرنے والی نکلی وہ قطعی نبی ہے نہ کہ مجنوں ولقد جلعنا الخ توحید کے ثبوت میں دلائلِ سماویہ سے یہ اول دلیل ہے کہ ہم نے آسمان میں برج بنائے اور آسمان کو ستاروں سے مزین کیا اور شیاطین سے اس کو محفوظ رکھا کہ کوئی شیطان وہاں تک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 16–18

وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآئِ بُرُوْجًاوَّزَیَّنّٰھَا لِلنّٰظِرِیْنَ ۔ وَحَفِظْنٰھَا مِنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ ۔ اِلاَّ مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَہٗ شِہَابٌ مُّبِیْنٌ۔ (سورۃ الحجر : 16۔ 17۔ 18) (بیشک ہم نے آسمان میں برج بنائے ہیں اور ہم نے آراستہ کردیا ہے آسمان کو دیدہ بینا رکھنے والوں کے لیے۔ اور ہر شیطانِ مردود کی دراندازی سے ہم نے اس کو محفوظ کردیا ہے۔ ہاں، جو کوئی سن گن لینے کے لیے چوری چھپے کان لگاتا ہے تو ایک دمکتا شہاب اس کا تعاقب کرتا ہے۔ ) آسمانوں میں اللہ تعالیٰ کی پھیلی ہوئی نشانیاں اللہ تعالیٰ کے نبیوں ( علیہ السلام) کی دعوت کے مخالفین نے جس بات سے انبیاء ( علیہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–18

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید آسمان سے نازل کیا گیا ہے۔ اس لیے مناسب سمجھا کہ آسمان کے نظام کا مختصر ذکر کیا جائے۔ خالق کائنات کا ارشاد ہے کہ ہم نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے خوبصورت بنایا اور شیطان مردود سے انہیں محفوظ کردیا۔ اگر کوئی شیطان چوری چھپے سننا چاہے تو ایک روشن اور بھڑکتا ہوا شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔ پرانے زمانے کے اہل ہئیت یعنی فلکیات کا علم رکھنے والے لوگوں نے آسمان دنیا کے بارہ برج متعین کر رکھے ہیں مگر قرآن مجید کے بروج سے مراد وہ برج نہیں ہیں۔ بروج سے مراد کچھ اہل علم نے پہلے آسمان کے دروازے لیے ہیں۔ جن دروازوں کے ذریعے ملائکہ زمین پر اترتے اور پھر آسمان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

17: وَحَفِظْنٰہَا (اور ہم نے اسکی حفاظت کی) آسمان کی مِنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ (ہر شیطان مردود سے) ملعون نمبر 2۔ ستاروں سے جس کو سنگسار کیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

17۔” وحفظنا ھا من کل شیطان رجیم “ مرجوم کے معنی میں ہے۔ بعض نے کہا کہ ملعون کے معنی میں ہے۔ شیطان کو آسمانوں میں جانے سے کب بندش کردی گئی ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ پہلے آسمانوں تک پہنچنے سے شیطانوں کی روک ٹوک نہ تھی وہ جا کر آسمانوں کی خبریں لاتے اور کاہنوں کے دلوں میں القاء کرتے تھے ۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو تین بالائی آسمانوں پر جانے سے شیطانوں کو روک دیا گیا لیکن رسول اللہ ﷺ کی ولادت ہوئی تو باقی چار آسمانوں تک جانے کی بھی ممانعت کردی گئی ۔ اب کوئی شیطان چوری چھپے کوئی بات سن پاتا ہے فوراً اس پر انگارہ مارا جاتا تھا ان شیطانوں کی جب کامل بندش ہوگئی تو انہوں نے اس کی شکایت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–18

16۔ 18۔ ان آیتوں میں اللہ پاک اپنی قدرت کا حال بیان فرماتا ہے کہ اس آسمان کو ہم نے کیسی حکمت اور ترکیب سے بنایا اس میں بڑے بڑے تاروں کے محل برجوں کی طرح بنائے ہیں اور چاند سورج ستاروں سے آسمان کو زینت دی ہے۔ آسمان میں بارہ برج ہیں ہر برج میں تیس تیس درجے جس میں آفتاب ہر روز سیر کرتا ہے ہر درجہ کو ایک ایک روز میں تمام کرتا ہے اور اس حساب سے تین سو ساٹھ دن میں یعنی ایک سال میں آسمان کا پورا دور ختم کرلیتا ہے جس کی وجہ سے جاڑا گرمی برسات کی فصلیں ہوتی ہیں اور ان فصلوں سے دنیا میں عجیب عجیب تغیر ہوتے رہتے ہیں اور طرح طرح کے نفع حاصل ہوتے ہیں جس دور کو سورج بیس دن میں پورا کرتا ہے چاند اس کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 16–20

آیت 16 اللہ تعالیٰ اپنے کامل اقتدار اور مخلوق پر اپنی رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ولقد جعلنا فی السمآء بروجاً ) ” اور ہم نے بنائے ہیں آسمان میں برج “ یعنی ہم نے ستاروں کو برجوں کی مانند بنایا اور انہیں بڑی علامتیں بنایا جن کے ذریعے سے بحر و بر کی تاریکیوں میں راستے تلاش کئے جاتے ہیں (وزینھا للنظرین) ” اور خوب صورت بنایا ہے اس کو دیکھنے والوں کے لئے “ اگر ستارے نہ ہوتے تو آسمان کا منظر اتنا خوبصورت اور اس کی ہئیت اتنی تعجب خیز نہ ہوتی اور یہ چیز دیکھنے والوں کو ان پر تدبر، ان کے معانی میں غور و فکر اور ان کے ذریعے سے ان کے پیدا کرنے والے پر استدلال کی دعوت دیتی ہے۔ (وحفظنھا من کل شیطن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 16–18

16۔ آسمان کے بروج سے مقصودو مراد ؟ " برج " کے معنی عربی زبان میں بڑے محل، قلعے اور مضبوط ومستحکم عمارت کے آتے ہیں۔ یہاں پر بروج سے مراد کے بارے میں بعض حضرات کا کہنا ہے کہ اس سے مراد بڑے کواکب اور سیارات ہیں۔ اور بعض نے کہا اس سے مراد وہ مختلف منازل ہیں جن میں سورج وچاند کے یہ عظیم الشان کرے گردش کرتے ہیں۔ سو ان میں سے جو بھی صورت ہو یہ قدرت کی عظیم الشان نشانیوں میں سے ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو یہ عظیم الشان نشان ہائے قدرت اپنی زبان حال سے پکار پکار کر انسان کو دعوت غور و فکر دے رہے ہیں کہ ذرا سوچو اور غور کرو کہ وہ کون ہے جس نے ایسی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے ان برجوں کو آسمان میں رکھ دیا ؟…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–18

ستاروں اور سیاروں کا مقصد تشریح : ان آیات میں کائناتی ردوبدل کی طرف اشارہ ملتا ہے سب سے پہلے تو ہم برج کی وضاحت کریں گے۔ اس کی جمع بروج ہے۔ لفظی مطلب ہے عمارت کی وہ سب سے اونچی جگہ جو نمایاں دکھائی دے یہاں مراد ستاروں کے گچھے ہیں جو آسمان میں چمکتے ہوئے انتہائی خوبصورت نظر آتے ہیں اور یا پھر فضاء بسیط میں وہ خطے ہیں جن میں سے ہر خطے کو مضبوط سرحدوں نے دوسرے خطے سے محفوظ اور جدا کر رکھا ہے۔ جیسا کہ ہماری زمین کو کئی تہوں میں چاروں طرف سے محفوظ کردیا گیا ہے۔ مختلف قسم کی گیسوں کے غلاف زمین کو باہر کی آفات سے محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ بیشمار شہاب ثاقب زمین کی طرف…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 16–25

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف حالانکہ قدرت باری اس قدر ہویدا ہے کہ آسمانوں میں چڑھے بغیر اس کی عظمت پہ دلالت کرتی نظر آتی ہے آخر ہم نے ہی تو آسمانوں میں بہت بڑے بڑے ستارے اور سیارے سجا دیئے اور خلا کو دیکھنے والوں کے لیے بہت خوبصورت بنا دیا جہاں ان میں اور بیشمار حکمتیں ہیں وہاں آسمانوں کی حفاظت کا کام بھی ان سے لیا اور پھر شیطان مردود کو ان کے باعث آسمانوں سے دور کردیا کہ ان میں کی ٹوٹ پھوٹ اور ان کی روشنی و گرمی اور مختلف اثرات فضا اور خلا کی ایک خاص حد سے آگے کسی کو بڑھنے نہیں دیتے حتی کہ شیاطین تک سوائے اس کے کسی شیطان نے خلا میں سے چوری چھپے کوئی بات فرشتوں سے سن لی تو اس کے پیچھے روشن شعلہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 17–18

ف 1 ۔ اور جس پردہ شہاب جا لگتا ہے وہ یا تو جل جاتا ہے یا زخمی ہوجاتا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں امام بخاری (رح) اور حجرت ابوہریرہ ؓ سے روایت لائے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ آسمان میں جب کوئی حکم صادر کرتا ہے تو اس کا کلام سُن کر فرشتے اظہار طاعت کے لئے اپنے بازو پھڑ پھڑانے لگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے کلام کی آواز ایسی ہوتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر کے پھسلنے یارگڑنے کی آواز۔ جب فرشتوں کو خوف جاتا رہتا ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ ” تمہارے رب نے کیا کہا ؟ وہ کہتے ہیں کہ اس نے جو فرمایا حق فرمایا اور وہ بلند اور بڑا ہے۔ اس وقت بات کے چرانے کے لئے شیاطین بھاگتے ہیں۔ اور یہ تھوڑے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:17) رجیم۔ الرجام۔ بمعنی پتھر۔ اسی سے الرجم ہے جس کے معنی سنگسار کرنے کے ہیں جسے سنگسار کیا گیا ہو۔ اسے مرجوم کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے لتکونن من المرجومین (26:116) کہ تم ضرور سنگسار کئے جانے والوں میں سے ہوں گے۔ رجیم بروزن فعیل بمعنی مفعول یعنی مرجوم ہے ملعون۔ راندہ۔ مردود۔ قرآن مجید میں جہاں بھی آیا ہے شیطان کی صفت میں مستعمل ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–25

لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 25 بروج (برج) اونچی اور بلند عمارت، قلعے۔ زینا ہم نے زینت دی، خوبصورت بنایا۔ نظرین دیکھنے والے۔ حفظنا ہم نے حفاظت کی رجیم مردود، نکالا گیا ۔ استرق (استراق) جس نے چوری سے کوئی چیز اڑا لی ہو ۔ السمع سننا اتبع پیچھے لگ گیا شھاب انگارا۔ آگ مدد پھیلا دیا۔ القینا ہم نے ڈال دیا۔ رواسی بوجھ۔ پہاڑ ۔ انبتنا ہم نے اگایا موزون اندازہ، مقدار۔ معایش زندگی گذارنے کا سامان۔ لستم تم نہیں ہو۔ خزائن خزانے ، ذخیرہ۔ قدر معلوم اندازے مقرر، متعین الریح (ریح) ہوائیں لواقع (لاقحۃ ) بوجھل بھرپور اسقینا ہم نے سیراب کردیا۔ پلایا ۔ خازنین خزانے والے نحی ہم زندگی دیتے ہیں نمیت ہم موت دیتے ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 16–18

اللہ کی قدرت کا بیان ان آیتوں میں اللہ پاک اپنی قدرت کا حال بیان فرماتا ہے کہ آسمان کو ہم نے کیسی حکمت اور ترکیب سے بنایا ہے۔ اس میں بڑے بڑے تاروں کے محل برجوں کی طرح کے بنائے ہیں اور چاند سورج اور ستاروں سے آسمان کو زینت دی ہے۔ آسمان میں یہ بارہ برج ہیں : (1) حمل (2) ثور (3) جوزہ (4) سرطان (5) اسد (6) سنبلہ (7) میزان (8) عقرب (9) قوس (10) جدی (11) دلو (12) حوت پھر ہر ایک برج میں تیس تیس درجے ہیں جس میں آفتاب ہر روز سیر کرتا ہے۔ ہر درجہ کو ایک ایک روز میں تمام کرتا ہے اور اس حساب سے تین سو ساٹھ دن یعنی ایک سال میں آسمان کا پورا دورہ ختم کرلیتا ہے۔ جس کی وجہ سے جاڑا، گرمی، برسات کی فصلیں تیار…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 16–17

[6] برج عربی زبان میں قلعے، قصر اور مستحکم عمارت کو کہتے ہیں غالباً اس سے مراد عالم بالا کے وہ خطے ہیں جن میں سے ہر خطے کو نہایت مستحکم سرحدوں نے دوسرے خطے سے جدا کر رکھا ہے اگرچہ یہ سرحدیں غیر مرئی طور پر کھچی ہوئی ہیں لیکن ان کو پار کر کے کسی چیز کا ایک خطے سے دوسرے خطے میں چلا جانا نہایت مشکل ہے۔ اس مفہوم کے لحاظ سے بروج کو محفوظ خطوں میں لینا زیادہ صحیح ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–17

(ف 2) یعنی مکہ والوں کا تعصب اس قدر زیادہ ہے کہ اگر حقائق کو بین طریق پر دیکھیں پر دیکھیں کہ اس کے دروازے ان کے لئے وا ہیں ، اور وہ آسمان کی جانب پرواز کر رہیں ہیں ، جب بھی یہی کہیں گے ، ہماری آنکھوں پر عمل سحر کردیا گیا ہے ، ورنہ دراصل ہم آسمان کی جانب نہیں اڑ رہے ہیں ۔ یہ اس لئے فرمایا کہ مکہ والے کہتے تھے فرشتے نازل ہوں تو ہم جانیں تم اللہ کے رسول ہو ، قرآن کہتا ہے فرشتے تو فرشتے تم خود بھی اگر آسمان پر چڑھ جاؤ جب بھی نہ مانو ، محض نہ ماننے کے لئے ڈھکوسلے ہیں ورنہ طبیعتون میں وہ استعداد ہی باقی نہیں جس کی وجہ سے ہدایت حاصل ہوتی ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

17 ۔ اور ہم نے آسمان کو ہر شیطان مردود و ملعون سے محفوظ رکھا۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے بعد شیطانوں کا آسمانوں پر جانا بند ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہر راندے ہوئے شیطان سے اس کی حفاظت بھی فرمادی گئی ۔ 17۔ زیر نظر آیت میں بتایا گیا ہے کہ اگر اجرام سماوی کی حفاظت کا سامان نہ کردیا گیا ہوتا تو ایسی شیطانی قوتیں تھیں جو انکے اعمال میں خلل انداز ہوتی ، نیز یہ کہ جب کوئی ایسی قوت ٹوہ لگانا چاہتی ہے تو شعلے بھڑکتے ہیں اور انہیں قریب نہیں آنے دیتے ۔ اس آیت میں (آیت) ” شہاب مبین “۔ کا لفظ آیا ہے شہاب شعلہ کو کہتے ہیں لیکن چونکہ اس کا اطلاق اس ستارے پر بھی ہوتا ہے جو راتوں کو ٹوٹتا ہوا دکھائی دیتا ہے لیکن قرآن کریم میں کوئی ایسی تفصیل نہیں جس سے یہ بات متعین کی جاسکے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–17

Sequence Mentioned in the previous verses was the doggedness and hostility of deniers and disbelievers. In the present verse, and in those which follow immediately after, clear proofs of the Oneness, Knowledge and Power of Allah Ta’ ala have been given. Described alongside is what transpires before His creation between the heavens and the earth, a little deliberation in which on the part of a sensible person would make any denial impossible. Commentary The word: بُرُ‌وجًا ; is the plural of: بُرُج (burj) which is applied to big palaces and castles and to similar other structural entities.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

10. That is, these spheres are so fortified that they are beyond the reach of every Satan, for all Satans including those of jinns, have been confined to that sphere in which the Earth has been placed and they enjoy no more access to visit other spheres than the other dwellers of this sphere. This has been mentioned in order to remove a common misunderstanding. The common people believed, and still believe, that Satan and his descendants have a free access to every place in the universe. On the contrary, the Quran says that Satans cannot go beyond a certain limit and they have no unlimited…

Read the full tafseer →