Explained with ayahs 15–20
ستارے اور شیطان
اس بلند آسمان کا جو ٹھہرے رہنے والے اور چلنے پھرنے والے ستاروں سے زینت دار ہے، پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ جو بھی اسے غور و فکر سے دیکھے وہ عجائبات قدرت اور نشانات عبرت اپنے لئے بہت سے پاسکتا ہے۔ بروج سے مراد یہاں پر ستارے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (تَبٰرَكَ الَّذِيْ جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا 61) 25۔ الفرقان :61) بعض کا قول ہے کہ مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں، عطیہ کہتے ہیں وہ جگہیں جہاں چوکی پہرے ہیں۔ اور جہاں سے سرکش شیطانوں پر مار پڑتی ہے کہ وہ بلند وبالا فرشتوں کی گفتگو نہ سن سکیں۔ جو آگے پڑھتا ہے، شعلہ اس کے جلانے…
Read the full tafseer →سورة الْحِجْر 8
بُرج عربی زبان میں قلعے، قصر اور مستحکم عمارت کو کہتے ہیں۔ قدیم علم ہیئت میں ”برج“ کا لفظ اصطلاحا ان بارہ منزلوں کے لیے استعمال ہوتا تھا جن پر سورج کے مدار کو تقسیم کیا گیا تھا۔ اس وجہ سے بعض مفسرین نے یہ سمجھا کہ قرآن کا اشارہ انہی بروج کی طرف ہے۔ بعض دوسرے مفسرین نے اس سے مراد سیارے لیے ہیں۔ لیکن بعد کے مضمون پر غور کرنے سے خیال ہوتا ہے کہ شاید اس سے مراد عالم بالا کے وہ خطے ہیں جن میں سے ہر خطے کو نہایت مستحکم سرحدوں نے دوسرے خطے سے جدا کر رکھا ہے۔ اگرچہ یہ سرحدیں فضائے بسیط میں غیر مرئی طور پر کھچی ہوئی ہیں، لیکن ان کو پار کر کے کسی چیز کا ایک خطے سے دوسرے خطے میں چلا جانا…
Read the full tafseer →پچھلی آیات میں منکرین کی ہٹ دھرمی اور عناد کا ذکر تھا ان آیات میں جو آگے آ رہی ہیں اللہ جل شانہ کے وجود، توحید، علم، قدرت کے واضح دلائل، آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی مخلوقات کے حالات ومشاہدات سے بیان کئے گئے ہیں جن میں ذرا بھی غور کیا جائے تو کسی عاقل کو انکار کی مجال نہیں رہتی ارشاد فرمایا۔
اور بیشک ہم نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے پیدا کئے اور دیکھنے والوں کیلئے آسمان کو (ستاروں سے) آراستہ کیا۔
معارف و مسائل
بُرُوْجًا برج کی جمع ہے جو بڑے محل اور قلعہ وغیرہ کے لئے بولا جاتا ہے ائمہ تفسیر مجاہد، قتادہ، ابو صالح وغیرہ نے اس جگہ بروج کی تفسیر بڑے ستاروں سے کی ہے اور اس آیت میں جو ان بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
آگے کا مضمون۔ آیات 16 تا 25: آفاق وانفس کی نشانیوں کی طرف اشارہ : آگے ان نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو آفاق وانفس اور آسمان و زمین کے گوشہ گوشہ میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان باتوں کی تصدیق کرتی ہیں جن پیغمبر دعوت دے رے ہیں۔ مقصد ان نشانیوں کے ذکر سے یہ ہے کہ قدرت کے معجزاتے کے ہوتے کسی نئے معجزے کی ضرورت کہا باقی رہی، دیکھنے والی آنکھیں سوچنے والے دماغ ہوں تو ایک ایک پتہ معرفت کردگار کا دفتر ہے
تفسیر آیات 16 تا 18:۔ وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَزَيَّنَّاهَا لِلنَّاظِرِينَ (16) وَحَفِظْنَاهَا مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ رَجِيمٍ (17)۔ اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ…
Read the full tafseer →16۔ 1 بروج برج کی جمع ہے جس کے معنی ظہور کے ہیں۔ اسی سے تبرج ہے جو عورت کے اظہار زینت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ یہاں آسمان کے ستاروں کو بُرُوْج، ُ کہا گیا ہے کیونکہ وہ بلند اور ظاہر ہوتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں بُرُوْج سے مراد شمس و قمر اور دیگر سیاروں کی منزلیں ہیں، جو ان کے لئے مقرر ہیں اور یہ 12 ہیں۔ حمل، ثور، جوزاء، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو، حوت۔ عرب ان سیاروں کی منزلوں اور ان کے ذریعے سے موسم کا حال معلوم کرتے تھے۔ اس میں کوئی قباحت نہیں البتہ ان سے تغیر پذیر ہونے والے واقعات و حوادث جاننے کا دعوی کرنا، جیسے آج کل بھی جاہلوں میں اس کا خاصا چرچہ۔ اور لوگوں کی قسمتوں کو…
Read the full tafseer →6: برج اصل میں قلعے کو کہتے ہیں، لیکن اکثر مفسرین نے کہا ہے یہاں بروج سے مراد ستارے ہیں
7: یعنی آسمان ستاروں سے سجا ہوا نظر آتا ہے یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ قرآن کریم نے آسمان کا لفظ مختلف مقامات پر مختلف معنی میں استعمال فرمایا ہے کہیں اس سے مراد ان سات آسمانوں میں سے کوئی آسمان ہوتا ہے جن کے بارے میں قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اوپر تلے پیدا فرمایا ہے اور کہیں اس سے اوپر کی سمت مراد ہوتی ہے چنانچہ آگے آیت نمبر 21 میں جہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ آسمان سے پانی ہم نے اتارا ہے وہاں آسمان سے ہی معنی مراد ہیں۔ بظاہر اس آیت میں بھی یہی معنی مراد ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
آیت نمبر 16 تا 18
اس پھیلی ہوئی کائنات کی یہ پہلی لائن ہے۔ اس عجیب و غریب کائنات کے نقش و نگار کی یہ پہلی تصویر ہے۔ اس کائنات میں نزول ملائکہ سے بھی زیادہ عجائبات ہمارے سامنے ہیں۔ خود ان کائنات کی تشکیل اور طبیعی لحاظ سے اس کی کارکردگی اللہ کی قدرت و صنعت کی ایک واضح مثال ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی دوسری دلیل کی سرے سے احتیاج ہی نہیں ہے۔
بروج کیا ہیں ، یہی ستارے اور سیارے عظیم سے عظیم تر۔ ان سیاروں اور ستاروں کے مدار اور مقامات بھی برج ہو سکتے ہیں۔ جو بھی مراد ہو لیکن دونوں حالات میں ان کی کار کردگی ایک معجز دلیل ہے اور اللہ کی قدرت اور حکمت پر شاہد عادل ہے ، کس قدر پیچیدہ ، موثر ہے اور دیکھنے…
Read the full tafseer →2 " برجوں " سے یہاں بڑے بڑے سیارات مراد ہیں بعض نے منازل شمس و قمر کا ارادہ کیا ہے، بعض کہتے ہیں کہ برج وہ آسمانی قلعے ہیں جن میں فرشتوں کی جماعتیں پہرہ دیتی ہیں۔
3 یعنی آسمان کو ستاروں سے زینت دی۔ رات کے وقت جب بادل اور گردوغبار نہ ہو، بیشمار ستاروں کے قمقموں سے آسمان دیکھنے والوں کی نظر میں کس قدر خوبصورت اور پر عظمت معلوم ہوتا ہے اور غور و فکر کرنے والوں کے لیے اس میں کتنے نشان حق تعالیٰ کی صنعت کاملہ، حکمت عظیمہ اور وحدانیت مطلقہ کے پائے جاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان سے فرشتے اتارنے یا ان کو آسمان پر چڑھانے کی ضرورت نہیں۔ اگر ماننا چاہیں تو آسمان و زمین میں قدرت کے نشان کیا تھوڑے ہیں…
Read the full tafseer →آیت 16 وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّزَيَّنّٰهَا للنّٰظِرِيْنَ
ان برجوں کی اصل حقیقت کا ہمیں علم نہیں ہے اس لحاظ سے یہ آیت بھی آیات متشابہات میں سے ہے۔ البتہ رات کے وقت آسمان پر ستاروں کی بہار وہ دلکش منظر پیش کرتی ہے جس سے ہر دیکھنے والے کی آنکھ محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
8 آسمانوں کے برج :۔ اس آیت میں اگر کوئی شخص بروج کے لفظ سے وہ ہی بارہ برج مراد لیتا ہے جو قدیم اہل ہیئت نے فلک ہشتم پر بنا رکھے ہیں تو اس کی مرضی ہے ورنہ آیت کا سیاق اس کی تائید نہیں کرتا کیونکہ ان برجوں میں سے اکثر برجوں کی اشکال کا زینت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ بھلا سرطان (کیکڑا) عقرب (بچھو) ترازو اور ڈول وغیرہ کیا خوبصورتی پیدا کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر علماء نے یہاں بروج سے ستارے اور سیارے مراد لیے ہیں جو رات کے وقت آسمان کو زینت بخشتے ہیں۔ لغوی لحاظ سے ہم نمایاں طور پر ظاہر ہونے والی ہر چیز کو برج کہہ سکتے ہیں خواہ وہ کوئی عمارت ہو یا گنبد ہو یا قلعہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →13۔ (کہ ان ستاروں کے باعث آسمان دیکھنے والوں کو خوشنما نظر آتا ہے) آیت میں اس کی تعلیم بھی مل گئی کہ یہ بڑے بڑے روشن اور چمک دار ستارے نہ کوئی دیوی دیوتا ہیں نہ خود آفریدہ ہیں۔ بلکہ تمام تر اللہ ہی کی مخلوق ہیں اور ان کے وجود سے مقصود تو آسمان کو ناظرین کی نظر میں خوشنما بنانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
آیت نمبر 16 تا 25
ترجمہ : اور بیشک ہم نے آسمان میں بڑے بڑے بارہ برج بنائے (1) حمل (2) ثور (3) جوزاء (4) سرطان (5) اسد (6) سنبلہ (7) میزان (8) عقرب (9) قوس (10) جدی (11) دلو (12) حوت، یہ سات سیاروں کی بارہ منزلیں ہیں مریخ کیلئے حمل اور عقرب ہیں اور زہرہ کیلئے ثور اور میزان ہیں اور عطارد کیلئے جو ازء اور سنبلہ ہیں اور قمر کیلئے سرطان ہے اور شمس کیلئے اسد ہے، اور مشتری کیلئے قوس اور حوت ہیں اور ہم نے آسمان کو دیکھنے والوں کیلئے تاروں سے سجایا اور آسمانوں کو ہم نے ستاروں کے ذریعہ ہر شیطان مردود سے محفوظ کیا، الایہ کہ کوئی چوری سے سن بھاگے تو اس کے تعاقب میں ایک روشن ستارہ ہوتا ہے، (جو) اس کو جلا…
Read the full tafseer →ولقد جعلنا فی السمآء بروجا اور یہ حقیقت ہے کہ ہم نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے بنائے ہیں۔
بُرج بڑا ستارہ۔ تَبَرُّج سے یہ لفظ ماخوذ ہے ‘ تَبَرُّجکا معنی ہے : ظاہر ہونا۔ تَبَرَّجَتِ الْمَرْءَ ۃُ عورت نمودار ہوگئی۔ عطیہ نے کہا : بُرُوْج آسمان کے اندر بڑے بڑے محلات ہیں۔ اس آیت میں بُرُوْج سے مراد وہ معنی نہیں ہے جو اہل ہیئت کی اصطلاح میں آتا ہے۔ اہل ہیئت کے اصطلاحی معنی کا وجود مندرجہ ذیل امور پر موقوف ہے۔ تمام آسمان باہم جڑے ہوئے اور ایک دوسرے پر حاوی ہوں کہ نویں آسمان کے گھومنے سے سب اسی طرف گھومنے پر مجبور ہوں جس طرف نویں آسمان کی حرکت ہو ‘ پھر نویں آسمان کی حرکت کیلئے ایک منطقہ اور دو قطب ہوں ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
(16۔ 17۔ 18) اور ہم نے آسمان میں حفاظت کے لیے ایسے ستارے پیدا کیے جن سے خشکی اور تری کی تاریکیوں میں راستہ حاصل کیا جاتا ہے اور ان ستاروں سے آسمان کو آراستہ اور مزین کیا کہ دیکھنے والوں کو اچھا معلوم ہوتا ہے اور آسمان کو ان ستاروں کے ذریعے ہر شیطان مردو وملعون سے محفوظ فرمایا کہ جب یہ شیاطین اوپرفرشتوں کی باتیں سننے کے لیے پہنچتے ہیں تو ان ستاروں سے اس کی حفاظت فرمائی، ہاں کوئی چوری چھپے سن بھاگے تو اس کے پیچھے ایک گرم جلا دینے والا روشن شعلہ لپکتا ہے۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّزَيَّنّٰهَا للنّٰظِرِيْنَ : ”بُرُوْجًا“ ”بُرْجٌ“ کی جمع ہے، جو اصل میں بڑے بلند و بالا اور مزین قلعہ یا محل کو کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ) [ النساء : 78 ] ”تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمہیں پالے گی، خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہو۔“ اس کا اصل معنی نمایاں اور ظاہر ہونا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات ؓ سے فرمایا : (وَلَا تَبَرَّجْنَ تَــبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى) [ الأحزاب : 33 ] ”اور پہلی جاہلیت کے زینت لگا کر نمایاں ہونے کی طرح زینت لگا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 16
جب اللہ تعالیٰ نے کافروں کے کفر اور ان کے بتوں کے عجز کا ذکر کیا تو پھر ساتھ ہی اپنی قدرت کا ملہ کا تذکرہ کیا تاکہ اس سے اس کی وحدانیت پر استدلال کیا جائے۔ البروج سے مراد محالات (القصور) اور منازل ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : یعنی ہم نے آسمان میں سورج اور چاند کے بروج یعنی ان کی منازل بنائیں۔ اور ان بروج کے نام یہ ہیں : المحل، الثور، الجوذاء السرطان، الاسد، السنبلۃ، المیزان، العقرب، القوس، الجدی، الدلو اور الحوت۔ اور عرب علوم کی وجہ سے ستاروں کے واقع ہونے کی جگہوں اور ان کے دروازوں کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور ان سے راستوں، اوقات، شادانی (خوشحالی) اور خشک سالی پر استدلال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–23
1:۔ امام ابن شیبہ، ابن ابی جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں ستارے۔
2:۔ امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابوقتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں ستارے۔
3:۔ امام ابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں بڑے ستارے۔
4:۔ امام ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہے آسمانوں میں محلات اور جس میں چوکیدار رہتے ہیں۔
5:۔ امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ”…
Read the full tafseer →[وَلَقَدْ جَعَلْنَا : اور بیشک ہم نے بنائی ہیں ] [ فِي السَّمَاۗءِ : آسمان میں ] [بُرُوْجًا : (سیاروں کی) منزلیں ] [ وَّزَيَّنّٰهَا : اور ہم نے مزین کیا ان کو ] [ لِلنّٰظِرِيْنَ : دیکھنے والوں کے لئے ]
نوٹ۔ 1: بعض کا قول ہے کہ بروجا سے مراد سورج اور چاند کی منزلیں ہیں۔ عطیہ (رح) کہتے ہیں کہ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں چوکی پہرے ہیں۔ جہاں سے سرکش شیطانوں کو مار پڑتی ہے کہ وہ بلند و بالا فرشتوں کی گفتگو نہ سن سکیں۔ فرشتوں کی باتوں کو چوری چوری سننے کے لئے جنات اوپر کو چڑھتے ہیں اور وہ ایک کے اوپر ایک ہوتے ہیں، جو آگے بڑھتا ہے شعلہ اس کو جلانے کے لئے لپکتا ہے۔ سننے والے کا کام شعلہ کبھی تو اس سے پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
ستارے آسمان کے لیے زینت ہیں اور ان کے ذریعہ شیاطین کو مارا جاتا ہے
اللہ جل شانہ نے ان آیات میں آیات تکوینیہ بیان فرمائی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی توحید پر دلالت کرتی ہیں۔ اول تو یہ فرمایا کہ ہم نے آسمان میں برج یعنی ستارے بنائے ہیں اور آسمان کو زینت والا پررونق بنا دیا، رات کو جب دیکھنے والے آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو ستاروں کی جگمگاہٹ سے نہایت عمدہ پررونق منظر نظر آتا ہے، سورة ملک میں فرمایا (وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآء الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَجَعَلْنَاھَا رُجُوْمًا لِّلشَّیَاطِیْنِ وَاَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَاب السَّعِیْرِ ) (اور ہم نے قریب والے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور ہم نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
بیان توحید
قال اللہ تعالیٰ : ولقد جعلنا فی السماء بروجا .... الیٰ .... انہ حکیم علیم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی نبوت پر جو مشرکین کے شبہات تھے ان کا رد فرمایا اب ان آیات میں اپنی الوہیت اور وحدانیت اور قدرت کے دلائل بیان فرماتے ہیں کچھ تو آسمانی چیزوں سے اور کچھ زمینی چیزوں سے ان میں سے پہلی دلیل یہ ہے کہ آسمان کے بارہ برج ہیں۔ یعنی آسمان کے بارہ ٹکڑے مثل خربوزہ کے پھانک کے مختلف شکل کے ستاروں سے پیدا ہوگئے ہیں۔ ہر برج میں جس جانور کے ہم شکل ستارے ہیں وہ برج اسی نام سے عرب میں مشہور ہوگیا۔ حمل، ثور، جوزاء، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو، حوت۔ یہ حق تعالیٰ کی قدرت کی عجیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
10:۔ ” وَلَقَدْ جَعَلْنَا “ تا ” مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ “ توحید پر مفصل عقلی دلیل ہے ” اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ “ مستچنیٰ منقطع ہے اس دلیل سے دو دعوے ثابت کیے گئے۔ اول یہ کہ سب کچھ کرنے والا اور ساری کائنات میں متصرف و مختار اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ یہ ابتداء دلیل سے ” وَ نَحْنُ الْوَارِثُوْنَ “ تک میں مذکور ہے۔ فرمایا اوپر ہم نے آسمان پیدا کیا اور ملا اعلی کے رازوں کو شیاطین سے محفوط کردیا نیچے زمین پیدا کی، اس میں پہاڑ بنائے اور اس میں ہر چیز اندازے سے پیدا کی اور اس میں تمام انسانوں کے لیے بیشمار وسائل رزق مہیا کیے۔ ” وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ “ وہ معذور لوگ، غلام، اہل و عیال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
(ربط آیات)
کافر اور مشرک قرآن حکیم کی حقانیت پر شبہ کرتے تھے اور صاحب قرآن کو کہتے تھے کہ تو دیوانہ ہے ، اور اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو نازل کر تاکہ وہ تیری اور قرآن پاک کی صداقت کی گواہی اللہ نے مشرکین کے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو حق کے ساتھ اتارتا ہے اور جب اتارتا ہے تو پھر نافرمانوں کو مہلت نہیں ملتی بلکہ ان کا کام تمام کردیا جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کے حق میں گواہی دیتے ہوئے فرمایا کہ اس کو ہم نے ہی اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں لہذا حفاظت کے سامان ہم خود پیدا کریں گے ،
اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّزَيَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِيْنَ 16ۙ
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
برج
البُرُوج : القصور، الواحد : بُرْج، وبه سمّي بروج السماء لمنازلها المختصة بها، قال تعالی:
وَالسَّماءِ ذاتِ الْبُرُوجِ [ البروج/ 1] ، وقال تعالی: تَبارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّماءِ بُرُوجاً [ الفرقان/ 61] ، وقوله تعالی: وَلَوْ كُنْتُمْ فِي بُرُوجٍ مُشَيَّدَةٍ [ النساء/ 78] يصح أن يراد بها بروج في الأرض، وأن يراد بها بروج النجم، ويكون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
اثبات توحید پر دلائل سماویہ :
تفسیر : قرآن مجید کی عادت ہے کہ ایک مقصد کے بعد دوسرے مطلب کو بیان فرماتا ہے تاکہ سننے والے کے دل پر بار نہ معلوم ہو۔ اس جگہ جبکہ مسئلہ نبوت میں کلام کرچکا تو مسئلہ توحید کو شروع کرتا ہے جس پر اثبات نبوت موقوف ہے اور نیز توحید کے متعلق ایسا کلام کرنا گویا نبوت۔ نبی کو اس کے اثر سے مشاہدہ کرا دینا ہے کہ جس کے منہ سے ایسی بات الہامی اور روح کو تازہ کرنے والی نکلی وہ قطعی نبی ہے نہ کہ مجنوں ولقد جلعنا الخ توحید کے ثبوت میں دلائلِ سماویہ سے یہ اول دلیل ہے کہ ہم نے آسمان میں برج بنائے اور آسمان کو ستاروں سے مزین کیا اور شیاطین سے اس کو محفوظ رکھا کہ کوئی شیطان وہاں تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآئِ بُرُوْجًاوَّزَیَّنّٰھَا لِلنّٰظِرِیْنَ ۔ وَحَفِظْنٰھَا مِنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ ۔ اِلاَّ مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَہٗ شِہَابٌ مُّبِیْنٌ۔ (سورۃ الحجر : 16۔ 17۔ 18)
(بیشک ہم نے آسمان میں برج بنائے ہیں اور ہم نے آراستہ کردیا ہے آسمان کو دیدہ بینا رکھنے والوں کے لیے۔ اور ہر شیطانِ مردود کی دراندازی سے ہم نے اس کو محفوظ کردیا ہے۔ ہاں، جو کوئی سن گن لینے کے لیے چوری چھپے کان لگاتا ہے تو ایک دمکتا شہاب اس کا تعاقب کرتا ہے۔ )
آسمانوں میں اللہ تعالیٰ کی پھیلی ہوئی نشانیاں
اللہ تعالیٰ کے نبیوں ( علیہ السلام) کی دعوت کے مخالفین نے جس بات سے انبیاء ( علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید آسمان سے نازل کیا گیا ہے۔ اس لیے مناسب سمجھا کہ آسمان کے نظام کا مختصر ذکر کیا جائے۔
خالق کائنات کا ارشاد ہے کہ ہم نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے خوبصورت بنایا اور شیطان مردود سے انہیں محفوظ کردیا۔ اگر کوئی شیطان چوری چھپے سننا چاہے تو ایک روشن اور بھڑکتا ہوا شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔ پرانے زمانے کے اہل ہئیت یعنی فلکیات کا علم رکھنے والے لوگوں نے آسمان دنیا کے بارہ برج متعین کر رکھے ہیں مگر قرآن مجید کے بروج سے مراد وہ برج نہیں ہیں۔ بروج سے مراد کچھ اہل علم نے پہلے آسمان کے دروازے لیے ہیں۔ جن دروازوں کے ذریعے ملائکہ زمین پر اترتے اور پھر آسمان…
Read the full tafseer →آسمانی برج بنا کر شیاطین سے حفاظت کردی :
16: وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآ ئِ (واقعۃً ہم نے آسمان میں بنائے) اس میں پیدا کئے بُرُوْجًا (برج) ستارے نمبر 2۔ ایسے محلات جن میں پہریدار ہیں نمبر 3۔ ستاروں کی منازل وَّ زَیَّنّٰھَا (اور اس کو زینت دی) آسمان کو لِلنّٰظِرِیْنَ (دیکھنے والوں کیلئے )
Read the full tafseer →16۔” ولقد جعلنا فی السماء بروجا ً “ بروج سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں ۔ یہ ظہور سے مآخوذ ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے ” تبرجت المراء “ عورت نمودار ہوگی ۔ بروج سے منازل ہیں جہاں پر سورج چاند ستارے گردش کرتے ہیں ۔ یہ بارہ برج ہیں۔ حمل ، ثور ، جوزا ، سرطان ، اسد ، سنبلہ ، میزان ، عقرب ، قوس ، جدی ، دلو ، حوت ۔ ابن عطیہ کا قول ہے کہ بروج آسمان کے اندر بڑے بڑے محلات ہیں ۔ ” وزیناھا “ آسمان کو سورج ، چاند ، ستاروں کے ساتھ مزین کیا ۔ ” للناظرین “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
16۔ 18۔ ان آیتوں میں اللہ پاک اپنی قدرت کا حال بیان فرماتا ہے کہ اس آسمان کو ہم نے کیسی حکمت اور ترکیب سے بنایا اس میں بڑے بڑے تاروں کے محل برجوں کی طرح بنائے ہیں اور چاند سورج ستاروں سے آسمان کو زینت دی ہے۔ آسمان میں بارہ برج ہیں ہر برج میں تیس تیس درجے جس میں آفتاب ہر روز سیر کرتا ہے ہر درجہ کو ایک ایک روز میں تمام کرتا ہے اور اس حساب سے تین سو ساٹھ دن میں یعنی ایک سال میں آسمان کا پورا دور ختم کرلیتا ہے جس کی وجہ سے جاڑا گرمی برسات کی فصلیں ہوتی ہیں اور ان فصلوں سے دنیا میں عجیب عجیب تغیر ہوتے رہتے ہیں اور طرح طرح کے نفع حاصل ہوتے ہیں جس دور کو سورج بیس دن میں پورا کرتا ہے چاند اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
آیت 16
اللہ تعالیٰ اپنے کامل اقتدار اور مخلوق پر اپنی رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ولقد جعلنا فی السمآء بروجاً ) ” اور ہم نے بنائے ہیں آسمان میں برج “ یعنی ہم نے ستاروں کو برجوں کی مانند بنایا اور انہیں بڑی علامتیں بنایا جن کے ذریعے سے بحر و بر کی تاریکیوں میں راستے تلاش کئے جاتے ہیں (وزینھا للنظرین) ” اور خوب صورت بنایا ہے اس کو دیکھنے والوں کے لئے “ اگر ستارے نہ ہوتے تو آسمان کا منظر اتنا خوبصورت اور اس کی ہئیت اتنی تعجب خیز نہ ہوتی اور یہ چیز دیکھنے والوں کو ان پر تدبر، ان کے معانی میں غور و فکر اور ان کے ذریعے سے ان کے پیدا کرنے والے پر استدلال کی دعوت دیتی ہے۔
(وحفظنھا من کل شیطن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
16۔ آسمان کے بروج سے مقصودو مراد ؟
" برج " کے معنی عربی زبان میں بڑے محل، قلعے اور مضبوط ومستحکم عمارت کے آتے ہیں۔ یہاں پر بروج سے مراد کے بارے میں بعض حضرات کا کہنا ہے کہ اس سے مراد بڑے کواکب اور سیارات ہیں۔ اور بعض نے کہا اس سے مراد وہ مختلف منازل ہیں جن میں سورج وچاند کے یہ عظیم الشان کرے گردش کرتے ہیں۔ سو ان میں سے جو بھی صورت ہو یہ قدرت کی عظیم الشان نشانیوں میں سے ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو یہ عظیم الشان نشان ہائے قدرت اپنی زبان حال سے پکار پکار کر انسان کو دعوت غور و فکر دے رہے ہیں کہ ذرا سوچو اور غور کرو کہ وہ کون ہے جس نے ایسی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے ان برجوں کو آسمان میں رکھ دیا ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
ستاروں اور سیاروں کا مقصد
تشریح : ان آیات میں کائناتی ردوبدل کی طرف اشارہ ملتا ہے سب سے پہلے تو ہم برج کی وضاحت کریں گے۔ اس کی جمع بروج ہے۔ لفظی مطلب ہے عمارت کی وہ سب سے اونچی جگہ جو نمایاں دکھائی دے یہاں مراد ستاروں کے گچھے ہیں جو آسمان میں چمکتے ہوئے انتہائی خوبصورت نظر آتے ہیں اور یا پھر فضاء بسیط میں وہ خطے ہیں جن میں سے ہر خطے کو مضبوط سرحدوں نے دوسرے خطے سے محفوظ اور جدا کر رکھا ہے۔ جیسا کہ ہماری زمین کو کئی تہوں میں چاروں طرف سے محفوظ کردیا گیا ہے۔ مختلف قسم کی گیسوں کے غلاف زمین کو باہر کی آفات سے محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔
جیسا کہ مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ بیشمار شہاب ثاقب زمین کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
حالانکہ قدرت باری اس قدر ہویدا ہے کہ آسمانوں میں چڑھے بغیر اس کی عظمت پہ دلالت کرتی نظر آتی ہے آخر ہم نے ہی تو آسمانوں میں بہت بڑے بڑے ستارے اور سیارے سجا دیئے اور خلا کو دیکھنے والوں کے لیے بہت خوبصورت بنا دیا جہاں ان میں اور بیشمار حکمتیں ہیں وہاں آسمانوں کی حفاظت کا کام بھی ان سے لیا اور پھر شیطان مردود کو ان کے باعث آسمانوں سے دور کردیا کہ ان میں کی ٹوٹ پھوٹ اور ان کی روشنی و گرمی اور مختلف اثرات فضا اور خلا کی ایک خاص حد سے آگے کسی کو بڑھنے نہیں دیتے حتی کہ شیاطین تک سوائے اس کے کسی شیطان نے خلا میں سے چوری چھپے کوئی بات فرشتوں سے سن لی تو اس کے پیچھے روشن شعلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
ف 12 ۔ رسالت کے بعد اب توحید کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ (رازی) ۔ ” برج “ عربی زبان میں قلعہ یا منزل کو کہتے ہیں۔ کہاں برجوں سے مراد وہ منزلیں ہیں جن سے سورج اپنی گردش کے دوران میں گزرتا ہے اور وہ تعداد میں بارہ ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ برج وہ آسمانی قلعے ہیں جن میں فرشتے پہرا دیتے ہیں۔ (شوکانی) ۔
Read the full tafseer →(15:16) بروجا۔ برج کی جمع ہے برج کا لغوی معنی ہے ظاہر ہونا۔ اس سے عورت کے بنائو سنگار کر کے نمائش دکھا وے کو تبرج کہتے ہیں چناچہ قرآن مجید میں ہے ولا تبرجن تبرج الجاہلیۃ الاولی۔ (33:33) اور جاہلیت قدیم کے مطابق اپنے کو دکھاتی مت پھرو۔ اسی لغوی کے معنی کی مناسبت سے اس کا اطلاق ان چیزوں پر ہونے لگا جو دور سے نمایاں ہوتی ہیں مثلاً قلعہ۔ محل۔ شاہراہ وغیرہ۔ اسی وجہ سے وہ بڑے بڑے ستارے جو دور سے نمایاں ہوتے ہیں۔ اہل عرب بُرج کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ روح المعانی میں ہے ۔ المراد بالبروج الکواکب العظام بروج سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں بعض نے ان سے مراد وہ بارہ برج لئے ہیں جو مدار آفتاب کو بارہ حصوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 25
بروج (برج) اونچی اور بلند عمارت، قلعے۔ زینا ہم نے زینت دی، خوبصورت بنایا۔ نظرین دیکھنے والے۔ حفظنا ہم نے حفاظت کی رجیم مردود، نکالا گیا ۔ استرق (استراق) جس نے چوری سے کوئی چیز اڑا لی ہو ۔ السمع سننا اتبع پیچھے لگ گیا شھاب انگارا۔ آگ مدد پھیلا دیا۔ القینا ہم نے ڈال دیا۔ رواسی بوجھ۔ پہاڑ ۔ انبتنا ہم نے اگایا موزون اندازہ، مقدار۔ معایش زندگی گذارنے کا سامان۔ لستم تم نہیں ہو۔ خزائن خزانے ، ذخیرہ۔ قدر معلوم اندازے مقرر، متعین الریح (ریح) ہوائیں لواقع (لاقحۃ ) بوجھل بھرپور اسقینا ہم نے سیراب کردیا۔ پلایا ۔ خازنین خزانے والے نحی ہم زندگی دیتے ہیں نمیت ہم موت دیتے ہیں ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
اللہ کی قدرت کا بیان
ان آیتوں میں اللہ پاک اپنی قدرت کا حال بیان فرماتا ہے کہ آسمان کو ہم نے کیسی حکمت اور ترکیب سے بنایا ہے۔ اس میں بڑے بڑے تاروں کے محل برجوں کی طرح کے بنائے ہیں اور چاند سورج اور ستاروں سے آسمان کو زینت دی ہے۔ آسمان میں یہ بارہ برج ہیں : (1) حمل (2) ثور (3) جوزہ (4) سرطان (5) اسد (6) سنبلہ (7) میزان (8) عقرب (9) قوس (10) جدی (11) دلو (12) حوت پھر ہر ایک برج میں تیس تیس درجے ہیں جس میں آفتاب ہر روز سیر کرتا ہے۔ ہر درجہ کو ایک ایک روز میں تمام کرتا ہے اور اس حساب سے تین سو ساٹھ دن یعنی ایک سال میں آسمان کا پورا دورہ ختم کرلیتا ہے۔ جس کی وجہ سے جاڑا، گرمی، برسات کی فصلیں تیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
[6] برج عربی زبان میں قلعے، قصر اور مستحکم عمارت کو کہتے ہیں غالباً اس سے مراد عالم بالا کے وہ خطے ہیں جن میں سے ہر خطے کو نہایت مستحکم سرحدوں نے دوسرے خطے سے جدا کر رکھا ہے اگرچہ یہ سرحدیں غیر مرئی طور پر کھچی ہوئی ہیں لیکن ان کو پار کر کے کسی چیز کا ایک خطے سے دوسرے خطے میں چلا جانا نہایت مشکل ہے۔ اس مفہوم کے لحاظ سے بروج کو محفوظ خطوں میں لینا زیادہ صحیح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
(ف 2) یعنی مکہ والوں کا تعصب اس قدر زیادہ ہے کہ اگر حقائق کو بین طریق پر دیکھیں پر دیکھیں کہ اس کے دروازے ان کے لئے وا ہیں ، اور وہ آسمان کی جانب پرواز کر رہیں ہیں ، جب بھی یہی کہیں گے ، ہماری آنکھوں پر عمل سحر کردیا گیا ہے ، ورنہ دراصل ہم آسمان کی جانب نہیں اڑ رہے ہیں ۔
یہ اس لئے فرمایا کہ مکہ والے کہتے تھے فرشتے نازل ہوں تو ہم جانیں تم اللہ کے رسول ہو ، قرآن کہتا ہے فرشتے تو فرشتے تم خود بھی اگر آسمان پر چڑھ جاؤ جب بھی نہ مانو ، محض نہ ماننے کے لئے ڈھکوسلے ہیں ورنہ طبیعتون میں وہ استعداد ہی باقی نہیں جس کی وجہ سے ہدایت حاصل ہوتی ہے ۔
Read the full tafseer →16 ۔ اور بلا شبہ ہم نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے بنائے اور ہم نے آسمان کو دیکھنے والوں کے لئے آراستہ کیا اور خوش نما بنایا ۔ ہم نے مجاہد کے قول کے مطابق ترجمہ کیا ہے انہی ستاروں کی ہیبت سے پیدا شدہ شکل کو برج کہتے ہیں ۔ بعض نے برج کا ترجمہ محل کے ساتھ کیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حق تعالیٰ بندوں سے وہ خطاب کرتا ہے جو یہ سمجھیں ان کے عرف میں آسمان مشر ق سے مغرب تک اور مغرب سے مشرق تک بارا پھانک ہے جیسے خربوزہ دہی بارہ برج ہیں اور سورج برس دن سب طے کرتا ہے موسم گرمی سردی کا اس سے بدلتا ہے اور گرمی سے مینہ آتا ہے اور مینہ سے دنیا بستی ہے اور رونق آسمان کی ستارے میں ۔ 12
برجوں کی تعداد…
Read the full tafseer →ف 1۔ بروج کی تفسیر کواکب کے ساتھ مجاہد اور قتادہ سے اور کو اب عظام کے ساتھ ابو صالح سے در منثور میں منقول ہے، مجازا و تشبیہا ان کو بروج کہہ دیا گیا۔
Read the full tafseer →آسمانوں میں ہم نے برج بنائے اور ستاروں سے انکو مزین کردیا :
16۔ بروج کیا ہیں ؟ برج کی جمع ہے اور اس سے مراد ستارے ہیں اور قرآن کریم نے خود اس کی وضاحت دوسری جگہ کردی ہے ۔ چناچہ فرمایا ہے کہ (آیت) ” انا زینا السمآء الدنیا بزینۃ الکواکب ۔ وحفظا من کل شیطان مارد “۔ (الصفت : 37 : 7) اور ایک جگہ انہی کو اکب کو مصابیح کہا ہے جیسا ارشاد فرمایا ہے کہ (آیت) ” ولقدزینا السمآالدنیا بمصابیح وجعلنھا رجوما للشیاطین “۔ (الملک 67 : 5) مختصر یہ کہ ” بروج ” سے مراد ستاروں ہی سے ہے لیکن دور اول کے بعد ” برج “ کا لفظ ستاروں کے ان بارہ فرضی اشکال کیلئے مستعمل ہوگیا جو قدماء نے دورہ شمسی کیا نضباط کیلئے قرار دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
Sequence
Mentioned in the previous verses was the doggedness and hostility of deniers and disbelievers. In the present verse, and in those which follow immediately after, clear proofs of the Oneness, Knowledge and Power of Allah Ta’ ala have been given. Described alongside is what transpires before His creation between the heavens and the earth, a little deliberation in which on the part of a sensible person would make any denial impossible.
Commentary
The word: بُرُوجًا ; is the plural of: بُرُج (burj) which is applied to big palaces and castles and to similar other structural entities.…
Read the full tafseer →8. In the preceding(Ayats 14-15) it was stated that the disbelievers had become so hardened against the Quran that they would not have believed in it even if they had ascended the Heaven and seen with their own eyes the signs mentioned in it. Now in (Ayats 16-22), some of the signs are being cited in order to convince there of its truth.
Buruj (mansions of stars) are signs of Allah. For it is not possible to pass through one sphere of the Heaven into another, as each sphere of the space has been fortified by invisible boundaries. In this connection, it may be noted that literally the Arabic…
Read the full tafseer →