Explained with ayahs 28–33
ابلیس لعین کا انکار
اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ حضرت آدم ؑ کی پیدائش سے پہلے ان کی پیدائش کا ذکر اس نے فرشتوں میں کیا اور پیدائش کے بعد سجدہ کرایا۔ اس حکم کو سب نے تو مان لیا لیکن ابلیس لعین نے انکار کردیا اور کفر و حسد انکار وتکبر فخر و غرور کیا۔ صاف کہا کہ میں آگ کا بنایا ہوا یہ خاک کا بنایا ہوا۔ میں اس سے بہتر ہوں اس کے سامنے کیوں جھکوں ؟ تو نے اسے مجھ پر بزرگی دی لیکن میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ ابن جریر نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے۔ کہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ان سے فرمایا کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں، تم اسے سجدہ کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
سورة الْحِجْر 20
تقابل کے لیے سورة بقرہ رکوع 4، سورة ٔ نساء، رکوع 18، اور سورة اعراف، رکوع 2، پیش نظر رہے۔ نیز ہمارے ان حواشی پر بھی ایک نگاہ ڈال لی جائے جو ان مقامات پر لکھے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
حکم سجدہ فرشتوں کو ہوا تھا ابلیس اس میں تبعا شامل قرار دیا گیا
سورة اعراف میں ابلیس کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا ہے مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سجدہ کا حکم فرشتوں کے ساتھ ابلیس کو بھی دیا گیا تھا اسی لئے اس سورت کی جو آیات ابھی آپ نے پڑھی ہیں جن سے بظاہر اس حکم کا فرشتوں کے لئے مخصوص ہونا معلوم ہوتا ہے اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اصالۃً یہ حکم فرشتوں کو دیا گیا مگر ابلیس بھی چونکہ فرشتوں کے اندر موجود تھا اس لئے تبعا وہ بھی اس حکم میں شامل تھا کیونکہ آدم ؑ کی تعظیم و تکریم کے لئے جب اللہ تعالیٰ کی بزرگ ترین مخلوق فرشتوں کو حکم دیا گیا تو دوسری مخلوق کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
تفسیر آیات 30 تا 31 فَسَجَدَ الْمَلائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ۔إِلا۔ إِبْلِيسَ أَبَى أَنْ يَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ۔ تمام فرشتوں اور ان کے حکم میں داخل تمام مخلوقات نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل میں آدم کو سجدہ کیا لیکن ابلیس نے جو جنات میں سے تھا، اس حکم کی تعمیل سے انکار کیا اور اس انکار کی وجہ، جیسا کہ آگے تفصیل آرہی ہے، اس نے صرف یہ بتائی کہ وہ آگے سے پیدا ہونے کے سبب سے ایک برتر مخلوق ہے تو ایک بشر کو کس طرح سجدہ کرسکتا ہے جو مٹی سے پیدا ہوا اور اس سے فروتر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
29۔ 1 سجدے کا یہ حکم بطور تعظیم کے تھا، عبادت کے طور پر نہیں، اور یہ چونکہ اللہ کا حکم تھا، اس لئے اس کے وجوب میں کوئی شک نہیں۔ تاہم شریعت محمدیہ میں بطور تعظیم بھی کسی کے لئے سجدہ کرنا جائز نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–38
14: شیطان نے مہلت تو روز حشر تک کے لئے مانگی تھی ؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے بجائے ایک اور معین وقت تک کے لئے اسے مہلت دی، اکثر مفسرین کے مطابق وہ پہلے صور کے پھونکنے تک ہے جس کے بعد ساری مخلوقات کو موت آئے گی، اس وقت شیطان کو بھی موت آجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
آیت نمبر 30 تا 31
فرشتوں نے تو یہ سجدہ اس لیے کیا کہ ان کی فطرت ہی عبادت الٰہی اور تعمیل حکم ہے۔ بغیر چون و چرا کے اور ابلیس نے انکار اس لیے کیا کہ وہ ملائکہ میں سے نہ تھا۔ ملائکہ نوری مخلوق ہیں اور شیطان ناری۔ فرشتے ایسے ہیں کہ ان کو اللہ کی طرف سے جو حکم بھی ملے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے ، انہیں جو حکم ملے وہ کر گزرتے ہیں اور ابلیس نے یہ حکم ملتے ہی انکار کیا اور استکبار کیا۔ اس لیے یقیناً وہ فرشتوں میں سے نہ تھا۔ یہاں استثناء متصل نہیں ہے ، یہ اس طرح ہے جس طرح کہتے ہیں کہ فلاں کی اولاد تو سب آگئے مگر احمد نہیں آیا۔ جبکہ احمد فلاں کے بیٹوں میں سے نہیں ہوتا۔ صرف یہ کہ وہ ان کے ساتھ ہی رہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
4 یعنی جنت سے یا آسمان سے یا اس مقام عالی سے نکل جہاں اب تک پہنچا ہوا تھا۔
5 یعنی مردود و مطرود ہے یا " رجیم " سے اشارہ اسی طرف ہے جو پہلے گزرا کہ شہاب سے شیاطین کا رجم کیا جاتا ہے۔ گویا اس لفظ میں اس کے شبہ کا جواب دیا گیا کہ تیرا سجود سے انکار کرنا شرف عنصری کی بناء پر نہیں۔ فضل و شرف تو اسی کے لیے ہے جسے خدا تعالیٰ سرفراز فرمائے۔ ہاں تیرے اباء و استکبار کا منشاء وہ شقاوت و بدبختی ہے جو تیری سوء استعداد کی وجہ سے مقدر ہوچکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
آیت 30 فَسَجَدَ الْمَلٰۗىِٕكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَ
کُلُّہُمْ اَجْمَعُوْنَ میں بہت تاکید پائی جاتی ہے کہ سب کے سب نے اکٹھے ہو کر سجدہ کیا ‘ اور ان میں سے کوئی بھی مستثنیٰ نہ رہا۔ جبرائیل ‘ میکائیل ‘ اسرافیل ‘ عزرائیل سمیت سب جھک گئے ‘ کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ فرشتوں کے ساتھ ذکر آنے کی وجہ سے گمان ہوتا ہے کہ جیسے ابلیس بھی فرشتہ تھا ‘ مگر وہ فرشتہ نہیں تھا ‘ جیسا کہ سورة الکہف کی آیت 50 میں ”کَانَ مِنَ الْجِنِّ“ فرما کر واضح کردیا گیا کہ وہ جنات میں سے تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–37
9 1 فرشتوں کو آدم کو سجدہ کرنے کا حکم :۔ جب انسان کا پتلا تیار ہوگیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میں کھنکھناتی مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے لگا ہوں۔ جب میں اس کی نوک پلک درست کرکے اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں تو تم اسی وقت اس کے سامنے سجدہ میں گرپڑنا روح پھونکنے سے مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا ہلکا سا پر تو انسان میں پیدا ہوجائے اور انسان کو جو دوسری تمام جانداروں سے زیادہ عقل وتمیز، قوت ارادہ و اختیار، مختلف اشیاء کے خواص معلوم کرنے کا علم نیز غور و فکر کے ذریعہ استنباط یا تنائج حاصل کرنے کا علم دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ اسی نفخہ کا نتیجہ ہے اور اسی بنا پر انسان زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
27۔ یہ ابلیس جو بعد کو شیطان کے لقب سے مشہور ہوگیا، فرشتہ نوری نہیں، جن ناری تھا، جیسا کہ سورة کہف میں نص موجود ہے۔ (آیت) ” وکان من الجن “۔ باقی عام قصہ آدم (علیہ السلام) وابلیس پر مفصل حاشیے سورة بقرہ رکوع 4 میں گزر چکے :۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
آیت نمبر 26 تا 44
ترجمہ : بیشک ہم نے انسان (یعنی) آدم کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا یعنی ایسی خشک مٹی جب اس کو نجایا جائے تو اس کی آواز سنی جائے اور اس سے پہلے (یعنی) تخلیق آدم سے پہلے ہم نے جنات (یعنی) ابو الجن کو کہ وہ ابلیس ہے شعلے سے کہ جس میں دھواں نہ ہو اور وہ مسامات (یعنی بدن کے مسامات) میں نفوذ کر جائے پیدا کیا اور اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں انسان کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناے والی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں تو جب میں اس کو مکمل کر چکوں اور اس میں اپنی روح ڈال چکوں اور وہ زندہ ہوجائے اور روح کی نسبت اللہ کی طرف آدم کیلئے کرامت کے طور پر…
Read the full tafseer →الا ابلیس ابی ان یکون مع السجدین مگر ابلیس نے سجدہ کرنے والوں میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔ بصیرت نہ ہونے کی وجہ سے ابلیس معیت کو نہ سمجھ سکا اور نہ اس نے اس امر کا لحاظ کیا کہ حکیم کا حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔
ابلیس چونکہ ملائکہ میں سے نہ تھا ‘ جنات میں سے تھا ‘ اللہ نے فرمایا ہے : کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّہٖ اسلئے بعض علماء نے کہا کہ استثناء منقطع ہے (متصل نہیں ہے۔ استثناء متصل میں مابعد الاّکا ما قبل الاّمیں داخل ہونا ضروری ہوتا ہے) اور الاّ بمعنی لٰکن کے ہے (اسی کے موافق آیت کا ترجمہ ہم نے کیا ہے) بعض علماء کے نزدیک استثناء متصل ہی ہے کیونکہ ابلیس ملائکہ کی اس صنف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
(30۔ 31) چناچہ سب فرشتوں نے آدم ؑ کو سجدہ کیا مگر ابلیس نے اس بات کو پسند نہ کیا یعنی وہ آدم ؑ کو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
فَاِذَا سَوَّيْتُهٗ۔۔ : یعنی جب میں اسے برابر کرلوں، مکمل بنا لوں۔ ”مِنْ رُّوْحِيْ“ اور اس میں اپنی روح سے پھونک دوں۔ یہاں ”رُّوْحِيْ“ میں ”رُوْحٌ“ کی ”یاء“ کی طرف اضافت، اضافت تشریفی کہلاتی ہے، یعنی اس کا عزو شرف بڑھانے کے لیے اسے اپنی روح قرار دیا، یہاں ”میری روح“ سے مراد اللہ تعالیٰ کی مخلوق روح ہے، کیونکہ اس کی ذات کی مثل تو کوئی چیز نہیں، وہ ”ۚلَمْ يَلِدْ ڏ وَلَمْ يُوْلَدْ“ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کی ذاتی روح تو کسی صورت مراد نہیں ہوسکتی، صرف آدم ہی نہیں دوسری جگہ ہر انسان کی روح کو اللہ نے اپنی روح قرار دیا ہے، فرمایا : (ثُمَّ سَوّٰىهُ وَنَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ) [ دیکھیے السجدۃ : 7…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
آیت نمبر 30 تا 31
قولہ تعالیٰ : سجد الملئکۃ کلھم اجمعون۔ الا ابلیس اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اس میں کوئی شک نہیں کہ ابلیس کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا ؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ما منعک الا تسجد اذا مرتک (الاعراف :12) (کس چیز نے روکا تجھے اس سے کہ تو سجدہ کرے جب میں نے حکم دیا تجھے) بیشک اسے اس سے تکبر کرنے اور اپنے آپ کو بڑا سمجھنے نے روکا تھا ؛ جیسا کہ اس کا بیان سورة البقرہ میں گزر چکا ہے، پھر کہا گیا ہے : وہ ملائکہ میں سے تھا۔ اور یہ استثنا اپنی جنس سے ہی ہے۔ اور ایک قوم نے کہا ہے : وہ ملائکہ میں سے نہ تھا ؛ لہٰذا یہ استثنا منقطع ہے۔ یہ مکمل بحث سورة البقرہ میں گزر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–35
1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کہ جان جنوں کی مسخ شدہ صورت ہے جیسے بندر اور خنزیر انسانوں کی مسخ شدہ صورت ہے۔
2:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولجآن خلقنہ من قبل “ اور وہ ابلیس ہے جو آدم (علیہ السلام) سے پہلے پیدا کیا گیا۔
3:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابلیس فرشتوں کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے جن کو جن کہا جاتا ہے وہ فرشتوں میں سے ایسی آگ سے پیدا کئے گئے تھے جس میں دھواں نہیں ہے اور وہ جنات جن کا قرآن میں ذکر کیا گیا وہ آگ کے شعلہ سے پیدا کئے گئے تھے۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا…
Read the full tafseer →[اِلَّآ : سوائے ] [اِبْلِيْسَ : ابلیس کے ] [اَبٰٓى: اس نے انکار کیا ] [ان : کہ ] [يَكُوْنَ : وہ ہو ] [مَعَ السّٰجِدِيْنَ : سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
ابلیس کا سجدہ کرنے سے انکاری ہونا
انسان اور جن کی تخلیق کا تذکرہ فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تخلیق آدم سے پہلے ہی فرشتوں سے فرما دیا تھا کہ میں ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں جو بجتی ہوئی کالی سڑی ہوئی مٹی سے بنایا جائے گا جب وہ بن جائے اور میں اس میں روح پھونک دوں تو تم اس کے لیے سجدہ ریز ہوجانا یعنی اسے تعظیمی سجدہ کرنا چناچہ فرشتوں نے حکم مانا فرمانبرداری کا مظاہرہ کیا اور سب نے بیک وقت مجتمع ہو کر آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کردیا یہ سجدہ تعظیمی تھا سجدہ عبادت نہیں تھا عبادت تو غیر اللہ کے لیے کبھی بھی جائز نہیں تھی البتہ سجدہ تعظیمی بعض شرائع سابقہ میں جائز تھا شریعت محمدیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
ذکر پیدائش انس و جن و قصہ پیدائش آدم (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ : ولقد خلقنا الانسان من صلصال .... الیٰ .... لکل باب منھم جزء مقسوم۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں حق جل شانہ نے حیوانات کی پیدائش سے اپنی قدرت اور خالقیت کا ذکر فرمایا اب یہاں جن و انس سے اسی مقصود پر استدلال فرماتے ہیں اور جان سے مراد یہاں جنوں کا باپ ہے جس طرح اوپر کی آیتوں میں انسان سے تمام انسانوں کے باپ مراد ہیں دونوں میں فرق یہ ہے کہ آدمیوں کا باپ، ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ترابی غالب تھا اور جنوں کا باپ ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ناری کا غلبہ تھا۔ ابلیس اسی قسم میں سے تھا اللہ تعالیٰ نے ان دو مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
14:۔ تمام فرشتوں نے آدم کو سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا اس لیے آدم کے ساتھ اس کی دشمنی ظاہر ہے۔ ” اِلَّا اِبْلِیْسَ “ مستثنیٰ منقطع ہے کیونکہ ابلیس فرشتہ نہیں تھا بلکہ جن تھا جیسا کہ سورة کہف رکوع 7 میں ہے ” کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ “ اس پر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اگر ابلیس فرشتہ نہیں تھا تو سجدہ نہ کرنے سے نافرمان کیوں ٹھہرا کیونکہ سجدہ کا حکم تو فرشتوں کو دیا گیا تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ ابلیس چونکہ فرشتوں میں رہتا تھا اور زہد و عبادت کی وجہ سے مرتبہ میں فرشتوں سے بھی بلند تھا اس لیے تغلیباً اسے بھی فرشتوں میں شمار کیا گیا اس طرح فرشتوں کے ساتھ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کے دلائل بیان ہوئے ، پہلے بیرونی دلائل کا ذکر ہوا جن میں آسمانوں کی تخلیق ، اس میں ستاروں اور سیاروں کو چلانا ، پھر زمین کو پھیلانا اور اس میں طرح طرح کی چیزیں پیدا کرنا ، پھر زمین وآسمان کے درمیان فضاؤں میں ہواؤں کو چلانا ، بادلوں کو اٹھانا ، باران رحمت کا نزول ، انسانوں ، جانوروں اور نباتات کے لیے پانی کی بہم رسانی اور اس کے نتیجے میں خوراک کا مہیا کرنا وغیرہ بیرونی دلائل تھے ، اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے قیامت کا ذکر بھی فرمایا (آیت) ” ان ربک ھو یحشرھم “۔ تیرا پروردگار ان سب کو اس دن اکٹھا کریگا وہ انسان کو دوبارہ زندہ کرنے پر…
Read the full tafseer →اِلَّآ اِبْلِيْسَ ۭ اَبٰٓى اَنْ يَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِيْنَ 31
أبى
الإباء : شدة الامتناع، فکل إباء امتناع ولیس کل امتناع إباءا .
قوله تعالی: وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ [ التوبة/ 32] ، وقال : وَتَأْبى قُلُوبُهُمْ [ التوبة/ 8] ، وقوله تعالی: أَبى وَاسْتَكْبَرَ [ البقرة/ 34] ، وقوله تعالی: إِلَّا إِبْلِيسَ أَبى [ طه/ 116]
( اب ی )
الاباء ۔ کے معنی شدت امتناع یعنی سختی کے ساتھ انکارکرنا ہیں ۔ یہ لفظ الامتناع سے خاص ہے لہذا ہر اباء کو امتناع کہہ سکتے ہیں مگر ہر امتناع کو اباء نہیں کہہ سکتے قرآن میں ہے ۔ { وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ } [ التوبة : 32] اور خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–44
جان کی تعریف و تفسیر، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جان سب جنون کے باپ کا نام ہے اور یہی قول اکثر مفسرین کا ہے اور یہی ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے گو بعض نے جان سے مراد ابلیس لیا ہے جان کے معنی لغت میں ساتر یعنی چھپنے (چھپانے) والے کے ہیں کہتے ہیں جن الشیٔ اذاسترہ چونکہ آدم ( علیہ السلام) کے خلاف اس کا غالب مادہ آگ کا لطیف شعلہ ہے اس لیے یہ قوم محسوس نہیں ہوتی ہر ایک کو دکھلائی نہیں دیتی اور اس لیے اس قوم کو جن اور اس کے باپ کو جان کہتے ہیں۔
خدائے تعالیٰ لطیف وخبیر نے اول ملائکہ کو بنایا، ان کے بعد جن کی قوم کو جن کا مادہ ملائکہ سے ذرا قریب تر تھا، پھر انسان کو جس کا مادہ کثیف ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ دیگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–38
فَسَجَدَالْمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّھُمْ اَجْمَعُوْنَ ۔ اِلاَّ ٓاِبْلِیْسَ ط اَبٰٓی اَنْ یَّکُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ ۔ قَالَ یٰٓاِبْلِیْسَ مَالَکَ اَلاَّ تَکُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ ۔ قَالَ لَمْ اَکُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ۔ قَالَ فَاخْرُجْ مِنْھَا فَاِنَّکَ رَجِیْمٌ۔ وَّاِنَّ عَلَیْکَ اللَّعْنَۃَ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ ۔ قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْ ٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ۔ قَالَ فَاِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ ۔ اِلٰی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ ۔ (سورۃ الحجر : 30 تا 38)
(تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔ سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کردیا کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
فہم القرآن
ربط کلام : تخلیق آدم کے بارے میں مختصر اشارہ کرنے کے بعد اس کے اعزاز کا تذکرہ۔
قرآن مجید کا یہ بھی اسلوب ہے کہ وہ کسی واقعہ کو کہانی اور زیب داستان کے لیے بیان نہیں کرتا۔ بلکہ ہر بات کو موقع محل کے مطابق اور مؤثر نصیحت کے طور پر بیان کرتا ہے۔ اثر آفرینی کے لیے کسی بات کا دوبارہ ذکر کرنا مقصود ہو تو اس کا انداز اور الفاظ پہلے بیان سے مختلف ہوتے ہیں۔ تاکہ پڑھنے والے کو نئے انداز کے ساتھ اس کی راہنمائی کے لیے نئی دلیل پیش کی جائے۔ اسی اصول کے پیش نظر حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کا یوں بیان فرمایا ہے کہ اے انسان ! جب تیرے رب نے ملائکہ کو حکم دیا کہ یقیناً میں بدبودار اور کھنکھناتی…
Read the full tafseer →انکارِ ابلیس :
31: اِلَّآ اِبْلِیْسَ (مگر ابلیس) استثناء کا ظاہر تو دلالت کرتا ہے کہ وہ ملائکہ میں سے تھا۔ کیونکہ مستثنیٰ مستثنیٰ منہ کی جنس سے ہوتا ہے۔ حضرت حسن رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء منقطع ہے۔ وہ ملائکہ میں سے نہ تھا۔
جواب : غیرمامور ترک امر سے ملعون نہیں ہوسکتا۔ صاحب کشاف نے کہا وہ فرشتوں کے مابین مامور بالسجود تھا۔ ملائکہ کا لفظ اس پر تغلیباً بول دیا۔ پھر تغلیب کے بعد استثناء کردیا۔ جس طرح کہتے ہیں : رأیتھم الا ھندا۔
اَبٰٓی اَنْ یَّکُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ (اس نے سجدہ کرنے والوں میں شامل ہونے سے انکار کردیا) حرف جر ان ؔ کے ساتھ محذوف ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے مالک فی الا تکون مع…
Read the full tafseer →تفسیر 31۔” الا ابلیس ابی ان یکون مع السجدین “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
28۔ 33۔ اللہ پاک نے انسان کی پیدائش کا ذکر کرنے کے بعد جو جو باتیں اس کے پیدا کرنے کے وقت پیش آئی تھیں ان کا ذکر فرمایا کہ بھلے فرشتوں کو جمع کر کے اللہ تعالیٰ نے یہ بات کہی کہ میرا ارادہ ہے کہ مٹی سے انسان کو پیدا کروں اور جب آدم کا پتلہ بنالوں اور اس کے بدن میں روح پھونک دوں تو تم سب کے سب اسے سجدہ کرنا اس حکم کو سن کر فرشتوں نے جو جواب دیا اس کا قصہ سورت بقرہ میں مفصل گزر چکا ہے غرض کہ کل فرشتوں نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا مگر ابلیس جو جنات کی قوم میں سے تھا اور خدا کی عبادت کثرت کے ساتھ کرنے سے فرشتوں کے زمرہ میں داخل کرلیا گیا تھا اس نے آدم کے پتلے کو تعظیمی سجدہ کرنے سے انکار کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–44
آیت 26
اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے باپ حضرت آدم پر اپنی نعمت اور اپنے احسان کا ذکر کرت ا ہے، حضرت آدم کا اپنے دشمن ابلیس کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کو بھی بیان کرتا ہے اور اس ضمن میں ہمیں ابلیس کے شر اور فتنہ سے ڈراتا ہے، چناچہ فرمایا : (ولقد خلقنا الانسان) ” ہم نے انسان کو پیدا کیا۔ “ یعنی آدم کو پیدا کیا (من صلصال من حما مسنون) ” کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے “ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہوجاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔
(الحما المسنون) اس گارے کو کہتے ہیں، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں۔ (والجآن) ” اور جنوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–32
27۔ اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ وذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ایک برابر اور خوب جانتے ہیں آگے بڑھنے والوں کو بھی اور پیچھے رہنے والوں کو بھی وجود وموت کے اعتبار سے۔ نیز نماز کی صف اول میں اور صف جہاد میں آگے بڑھنے اور پیچھے رہ جانے والوں کو وغیرہ وغیرہ، مختلف اقوال ہیں اور یہ سب ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ ان میں کوئی تعارض نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا علم ان سب ہی مفاہیم ومطالب کو شامل اور عام ہے۔ الفاظ کا عموم بھی ان سب کو شامل ہے اور یہی بات دراصل یہاں بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر لحاظ سے کامل اور اس کی سب ہی مخلوق کو شامل ہے۔ کوئی بھی چیز اس کے علم کے باہر نہیں ہوتی (ابن جریر، ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
انسان کی پیدائش اور ابلیس کی نافرمانی
تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا قصہ اور شیطان کا ملعون ہونا سورة بقرہ رکوع 4، سورة نساء رکوع 18 اور سورة اعراف رکوع 2 میں بڑی وضاحت سے بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں سورة الحجر میں کیونکہ ان آیات سے پہلے تمام کائنات اور ہر چیز کے ناپ تول کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے یہاں انسان کی پیدائش، جسم، نفس، روح اور زندگی کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب بھی اللہ نے بڑے حساب کتاب اور ناپ تول سے بنائے ہیں۔ یہاں وہ تمام راز کھول کر بیان کردیے گئے ہیں جو انسانی سائنسی تحقیقات سے بہت بلند ہیں۔ پچھلی آیات سے جو کچھ معلوم ہوا وہ تو تمام تخلیقات کے بارے میں تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
خود انسان کو بھی تو ہم نے ہی پیدا کیا سڑے ہوئے مٹی گارے سے جو خشک ہوچکا تھا ۔
(جنات کو پہلے پیدا کیا گیا)
قبل ازیں ہم جنات کو آگ کی لو سے پیدا کرچکے تھے یعنی آگ کی وہ تپش جو ایک گرم ہوا کی صورت میں تھی کہ آگ کا نظر آنا اجزائے کثیفہ کی ملاوٹ سے ہوتا ہے ورنہ وہ بہت لطیف ہوتی ہے تو گویا جنات کا وجود اسی سے پیدا ہوا جو نظر نہیں آتا ، اور جنات پہلے سے زمین پر آباد کئے گئے تھے ،۔
پھر وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب آپ کے رب نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میں کھنکتے اور سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر تخلیق کر رہا ہوں جب وہ بن چکے اور میں اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب کے سب اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
ف 3 ۔ سورة اعراف میں ہے کہ ابلیس نے کہا :” میں اس سے بہتر ہوں کہ تو نے مجھے آگ سے اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔ “ (دیکھئے اعراف آیت 21) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
(15:31) ابی۔ اس نے سختی سے انکار کیا۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ الاباء کے معنی شدت امتناع یعنی سختی کے ساتھ انکار کرنے کے ہیں۔ ہر اباء امتناع اباء نہیں ہے۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے۔ ویأبی اللہ الا ان یتم نورہ۔ (9:32) اور خدا تعالیٰ اپنے نور کو پورا کئے بغیر رہنے کا نہیں۔ یا ابی واسکتبر (2:34) اس نے سختی سے انکار کیا اور تکبر کیا۔ (باب ضرب فتح) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 44
صلصال وہ مٹی جو سوکھ کر سخت ہوجائے اور بجنے لگے ۔ مسنون گوندھی گئی۔ السموم لو۔ نفخت میں نے پھونک دیا۔ پھونک ماردی، حما سڑی ہوئی مٹی، کیچڑ۔ جان جن۔ سویت میں نے برابر کردیا۔ ٹھیک کرلیا۔ روحی میری روح ، قعوا گرپڑو۔ ابی انکار کیا۔ ان یکون یہ کہ وہ ہو۔ مالک تجھے کیا ہوا۔ لم اکن میں نہیں ہوں بشر انسان۔ اخرج نکل جا۔ لعنت لنت، اللہ کی رحمت سے دوری۔ انظرنی تو مجھے مہلت دیدے۔ یبعثون (اٹھائے جائیں گے) ۔ اغویت (اغوائ) تو نے سیدھی راہ سے ہٹا دیا ۔ سلطن قوت، زور الغوین بہکنے والے۔ موعد وعدہ کی جگہ۔ سبعۃ ابواب سات دروازے۔ جزاء حصہ۔ مقسوم تقسیم کیا گیا۔
تشریح : آیت نمبر 26 تا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
ملائکہ کو سجدہ کا حکم
ارشاد ہوتا ہے کہ اس وقت کا تصور کرو جب ہم نے ملائکہ کو خبر دی کہ ہم ایک بشر کو مٹی سے خمیر دے کر پیدا کرنے والے ہیں، پس جب میں اسے بناچکوں اور روح بھی اس میں ڈال دوں تو تم سب کے سب تعظیم کے لئے اس کے آگے جھک جانا۔ فرشتوں نے تو ایسا ہی کیا یعنی سب نے مل کر سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہیں کیا اور سجدہ کرنے سے انکار کیا اور مادہ خاکی پر لحاظ کر کے آدم (علیہ السلام) کو حقیر سمجھا۔ یہاں سے یہ بات معلوم ہوئی کہ غرور کی ابتداء اسی لعین سے ہوئی اس سے پہلے نہیں تھی۔ پس جو غرور کرتا ہے وہ شیطان کا تابع ہے خواہ کسی بات کا غرور ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے جو تو نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–38
[14] انسان کے اندر جو روح پھونکی گئی ہے وہ دراصل صفات الٰہی کا ایک عکس یا پرتو ہے اور اس پرتو کی وجہ سے انسان زمین پر اللہ کا خلیفہ قرار پایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
(ف 1) حضرت آدم کے قصے کو قرآن حکیم نے متعدد مقامات پر بیان کیا ہے ، غرض یہ ہے کہ انسان اپنے شرف ومجد سے آگاہ ہو ، اسے معلوم ہو ، کہ اللہ نے اس کا درجہ کتنا بلند بنایا ہے آدم (علیہ السلام) کے سامنے فرشتے جھکتے ہیں ، اس لئے چاہئے کہ اس کا سر ہمیشہ اونچا رہے ، وہ اس جبین پر وقار کو جو مسجود ملائک رہ چکی ہے ، بجز رب العالمین کے اور کسی کے آگے نہ جھکائے ،
اللہ نے فرشتوں کو اسی لئے جھکایا ، اور سجدہ کا حکم دیا ، تاکہ ابتداء ہی سے آدم کے دل میں خود شناسی کا مادہ پیدا ہو ، اور وہ اپنے مرتبت سے واقف ہو ، اسے معلوم ہو کہ میں فرشتوں کو اپنے سامنے جھکا سکتا ہوں ، اور اللہ نے مجھے تمام مخلوقات میں اشرف…
Read the full tafseer →31 ۔ مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کیا اور سر تابی کی کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ شامل ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
ف 1۔ یعنی سجدہ نہ کیا۔
Read the full tafseer →ابلیس نے سجدہ نہ کیا اور اس طرح وہ نافرمانی کا مستحق قرار پایا :
31۔ یہ بدنصیب تو پہلے ہی تھا کیونکہ مجسمہ برائی تھا اور خیر کے مقابلہ کی چیز تھا اس لئے (آیت) ” حماء مسنون “۔ ہی کو دیکھ کر رہ گیا لیکن (آیت) ” نفخت فیہ من روحی “ کے راز کو نہ سمجھ سکا اور اس کی ساری اصلیت اس ایک جملہ سے واضح ہوگئی اور زبان سے کچھ کہنے سے پہلے ہی اس نے عملی انکار کردیا اور عملی انکار وہ چیز ہے جس کی تردید بھی ممکن نہیں اور عذر بھی پیش نہیں کیا جاسکتا کیونکہ معذرت کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی اس بات سے عملی انکار کرنے والوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ ان کا انکار کتنا سخت انکار ہے لیکن ہمارے علماء نے ہم کو اس کی پوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
The Command to Prostrate was Given to Angels - Iblis was to Follow Suit
Addressing Iblis in Surah Al-A` raf, it was said: مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ (What stopped you from prostrating when I ordered you? - 7:12). This shows that the command to prostrate was given, along with the angels, to Iblis as well. However, the verses you have gone through a little earlier apparently give the sense that the command was particular to the an-gels. This could mean that the command was originally given to the angels but, as Iblis too was present among the angels, therefore, he too was…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
20. Please compare this passage (Ayats 30-43) with (Surah Al-Baqarah, Ayats 30-39); (Surah An-Nisa, Ayats 117-120); and (Surah Al-Aaraf, Ayats 11-25) and also refer to E.Ns appended to these Ayats.
Read the full tafseer →