اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ ۟۠اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ
کچھ شک نہیں کہ تمہارا دشمن ہی بےاولاد رہے گا
— Fateh Muhammad Jalandhari
Indeed, your enemy is the one cut off.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 33 of juzع
اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ ۟۠اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ
کچھ شک نہیں کہ تمہارا دشمن ہی بےاولاد رہے گا
— Fateh Muhammad Jalandhari
Indeed, your enemy is the one cut off.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 33 of juzع
Read the whole surah · Surah Al-Kawthar
تمہارا دشمن ہی جڑ کٹا ہے
کچھ شک نہیں کہ تمہارا دشمن ہی بےاولاد رہے گا
یقیناً تیرا دشمن ہی ﻻوارث اور بے نام ونشان ہے
یقین جانو تمہارا دشمن ہی وہ ہے جس کی جڑ کٹی ہوئی ہے۔
بیشک جو تمہارا دشمن ہے وہی ہر خیر سے محروم ہے
بیشک آپ کا دشمن ہی بے نسل اور بے نام و نشاں ہوگا،
یقینا تیرا دشمن ہی لاولد ہے۔
بلاشبہ آپ کا دشمن ہی جڑ کٹا ہے
تمہارا دشمن ہی منقطع ہونے والا ہے۔
بلاشبہ آپ کا دشمن ہی کٹا ہوا ہے (ہر خیر سے)
یقیناً بےنام ونشان (ہوکر) تو آپ کا دشمن ہی رہے گا۔
یقینا آپ ﷺ کا دشمن ہی جڑ کٹا ہوگا۔
بیشک تمہارا دشمن ہی جڑکٹا ہے
Verily your enemy alone has been cut off from the roots.
Surely it is your enemy whose traces are cut off.
Surely it is your enemy whose traces are cut off.
For he who hates you, he will be cut off.
Lo! it is thy insulter (and not thou) who is without posterity.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Indeed, your enemy is the one cut off.
Whoever hates you will himself remain childless.
Surely your enemy is the one who shall be without posterity,
Verily it is thy traducer who shall be tail-less.
For he who hateth thee, he will be cut off (from Future Hope).
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–3
شہد سے زیادہ میٹھی اور دودھ سے زیادہ سفید نہر : مسند احمد میں ہے کہ رسول مقبول ﷺ پر غنودگی سی طاری ہوگئی اور دفعتہ سر اٹھا کر مسکرائے پھر یا تو خود آپ نے فرمایا یا لوگوں کے اس سوال پر کہ حضور ﷺ کیسے مسکرائے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھ پر اس وقت ایک سورت اتری پھر آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر اس پوری سورت کی تلاوت کی اور فرمایا جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی زیادہ جانتے ہیں فرمایا وہ ایک جنت کی نہر ہے جس پر بہت بھلائی ہے جو میرے رب نے مجھے عطا فرمائی ہے جس پر میری امت قیامت والے دن آئیگی اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی گنتی کے برابر ہیں بعض لوگ اس سے ہٹائے…
Read the full tafseer →سورة الکوثر 3 اصل میں لفظ شانِئَكَ استعمال ہوا ہے۔ شانی شن سے ہے جس کے معنی ایسے بغض اور ایسی عداوت کے ہیں جس کی بنا پر کوئی شخص کسی دوسرے کے ساتھ بدسلوکی کرنے لگے۔ قرآن مجید میں دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا۔ " اور اے مسلمانو ! کسی گروہ کی عداوت تمہیں اس زیادتی پر آمادہ نہ کرنے پائے کہ تم انصاف نہ کرو " (المائدہ 8) پس شانِئَكَ سے مراد ہر وہ شخص ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دشمنی اور عداوت میں ایسا اندھا ہوگیا ہو کہ آپ کو عیب لگاتا ہو، آپ کے خلاف بدگوئی کرتا ہو، آپ کی توہین کرتا ہو، اور آپ پر طرح طرح کی باتیں چھانٹ کر اپنے دل کا بخار نکالتا…
Read the full tafseer →ان شانئک ھوالابتر لفظ شانی کے معنے بغض رکھنے والے عیب لگانے والے کے ہیں یہ آیت ان کفار کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ جو رسول اللہ ﷺ کو ابتر مقطوع النسل ہونے کا طعنہ دیتے تھے۔ اکثر روایات میں عاص بن وائل، بعض میں عقبہ، بعض میں کعب بن اشرف اس کے مصداق ہیں۔ حق تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو کوثر بیعنی خیر کثیر عطا کی جس میں اولاد کثیر بھی داخل ہے آپ کے لئے اولاد کی کثرت اس لحاظ سے ہے کہ نسبی اولاد بھی آپ کی ماشاء اللہ کچھ کم نہیں اور پیغمبر چونکہ پوری امت کا باپ ہوتا ہے اور پوری امت اس کی اولاد روحانی اور آپ کی امت پچھلے تمام انبیاء کی امتوں سے تعداد میں زیادہ ہوگی ایک طرف تو ان دشمنوں کی بات کو اس طرح خاک…
Read the full tafseer →قریش کے طعنوں کا جواب: یہ قریش کے لیڈروں کی ان طعن آمیز پیشین گوئیوں کا جواب ہے جو آنحضرت ﷺ کے مستقبل سے متعلق وہ کرتے رہتے تھے۔ آپ کو کوثر دنیا اور کوثر آخرت کی بشارت دینے اور اس کی ذمہ داریاں بتانے کے بعد فرمایا کہ تمہارے دشمن کہتے ہیں کہ تمہارا کوئی مستقبل نہیں ہے، تمہاری جڑ عنقریب کٹ جائے گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ تم کو دنیا اور آخرت دونوں کی نہایت شان دار فیروز مندیاں حاصل ہونے والی ہیں البتہ تمہارے ان دشمنوں کی جڑ کٹ کے رہے گی۔ ’شَانِئٌ‘ کے معنی مخالف اور عدو کے ہیں اور ’ابترٌ‘ اس کو کہتے ہیں جس کے اخلاف میں کوئی اس کا نام لیوا نہ رہے۔ آنحضرت ﷺ کی دعوت کی راہ میں قریش نے اپنے جبر و ظلم کے…
Read the full tafseer →3۔ 1 ابتر ایسے شخص کو کہتے ہیں جو مقطوع النسل یا مقطوع الذکر ہو، یعنی اس کی ذات پر ہی اس کی نسل کا خاتمہ ہوجائے یا کوئی اس کا نام لیوا نہ رہے۔ جب نبی ﷺ کی اولاد نرینہ زندہ نہ رہی تو بعض کفار نے نبی ﷺ کو ابتر کہا، جس پر اللہ نے آپ ﷺ کو تسلی دی کہ ابتر تو نہیں، تیرے دشمن ہی ہونگے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی نسل کو باقی رکھا گو اس کا سلسلہ لڑکی کی طرف سے ہی ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ کی امت بھی آپ ﷺ کی اولاد معنوی ہی ہے، جس کی کثرت پر آپ ﷺ قیامت والے دن فخر کریں گے، علاوہ ازیں آپ ﷺ کا ذکر پوری دنیا میں نہایت عزت و احترام سے لیا جاتا ہے، جبکہ آپ ﷺ سے بغض وعناد رکھنے والے صرف صفحات تاریخ پر ہی موجود رہ…
Read the full tafseer →2: عرب کے لوگ ایسے شخص کو ابتر کہتے تھے جس کی نسل آگے نہ چلے، یعنی جس کی کوئی نرینہ اولاد نہ ہو۔ جب حضور اقدس ﷺ کے بیٹے کا انتقال ہوا تو آپ کے دشمنوں نے جن میں عاص بن وائل پیش پیش تھا، آپ کو یہ طعنہ دیا کہ معاذاللہ آپ ابتر ہیں اور آپ کی نسل نہیں چلے گی، اس کے جواب میں اس سورت میں فرمایا کہ آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے کوثر عطا فرمائی ہے، آپ کے مبارک ذکر اور آپ کے دین کو آگے چلانے والے تو بیشمار ہوں گے، ابتر تو آپ کا دشمن ہے جس کا مرنے کے بعد نام ونشان بھی نہیں رہے گا، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آنحضرت ﷺ کا تذکرہ اور آپ کی سیرت طیبہ تو الحمدللہ زندہ جاوید ہے، اور طعنے دینے والوں کو کوئی جانتا بھی نہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
روایات میں آتا ہے کہ قریش کے اوباش رسول اللہ ﷺ کا ہر وقت پیچھا کرتے تھے۔ آپ کی دعوت کے خلاف سازشوں میں لگے رہتے تھے اور آپ کے ساتھ طنزومزاح کرتے رہتے تھے۔ اس طرح وہ بزعم خود عوام الناس کو آپ کی دعوت حق سننے سے باز رکھتے تھے جو آپ لے کر آئے تھے ۔ ان اوباشوں کے سرخیل عاص ابن وائل ، عقبہ ابن ابو معیط ، ابولہب ، ابوجہل وغیرہ تھے۔ یہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ ” ابتر “ ہیں ، یعنی ان کی نرینہ اولاد نہیں ہے۔ ان میں بعض نے یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ اسے چھوڑ دو ، اس کی کوئی اولاد نہیں ہے ، جب یہ مرجائے گا تو یہ تحریک خود بخودختم ہوگی۔ عرب معاشرے میں چونکہ نرینہ اولاد کی بہت بڑی اہمیت تھی ، اس لئے ان کے ہاں…
Read the full tafseer →9 بعض کفار حضور ﷺ کی شان میں کہتے تھے۔ کہ اس شخص کے کوئی بیٹا نہیں۔ بس زندگی تک اس کا نام ہے پیچھے کون نام لے گا۔ ایسے شخص کو ان کے محاورات میں " ابتر " کہتے تھے۔ " ابتر " اصل میں دم کٹے جانور کو کہتے ہیں۔ جس کے پیچھے کوئی نام لینے والا نہ رہے، گویا اس کی دم کٹ گئی۔ قرآن نے بتلایا کہ جس شخص کو اللہ خیر کثیر عنایت فرمائے اور ابدالآباد تک نام روشن کرے اسے " ابتر " کہنا پرلے درجہ کی حماقت ہے۔ حقیقت میں " ابتر " وہ ہے جو ایسی مقدس و مقبول ہستی سے بغض وعناد اور عداوت رکھے اور اپنے پیچھے کوئی ذکر خیر اور اثر نیک نہ چھوڑے۔ آج ساڑھے تیرہ سو برس کے بعد ماشاء اللہ حضور ﷺ کی روحانی اولاد سے دنیا پٹی پڑی…
Read the full tafseer →آیت 3{ اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَالْاَبْـتَرُ۔ } ”یقینا آپ ﷺ کا دشمن ہی جڑ کٹا ہوگا۔“ شَانِِیٔ بغض و عداوت رکھنے والے دشمن کو کہتے ہیں۔ اَبْـتَر : بتر سے ہے ‘ یعنی کسی چیز کو کاٹ دینا ‘ منقطع کردینا۔ اہل عرب دُم کٹے جانور کو ابتر کہتے ہیں۔ عرفِ عام میں اس سے ایسا آدمی مراد لیا جاتا ہے جس کی نرینہ اولاد نہ ہو اور جس کی نسل آگے چلنے کا کوئی امکان نہ ہو۔ یہ لفظ مشرکین مکہ نے معاذ اللہ حضور ﷺ کے لیے استعمال کیا تھا ‘ جس کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رض کے بطن سے حضور ﷺ کی یہ اولادپیدا ہوئی : قاسم ‘ پھر زینب ‘ پھر عبداللہ ‘ پھر اُم کلثوم ‘ پھر فاطمہ ‘ پھر رقیہ۔ رض اجمعین۔ پہلے قاسم…
Read the full tafseer →3 کفار مکہ کے اخلاف :۔ شانئ۔ شَنأ۔ شناء سے مصدر شَنَاٰنُ اور اسم فاعل شانیئ ہے اور اس سے مراد ایسا دشمن ہے جو بدخواہ بھی ہو اور کینہ پرور بھی۔ یعنی عداوت بھی رکھتا ہو اور بغض بھی اور یہ دشمنی کا تیسرا اور انتہائی درجہ ہے قریش مکہ آپ ﷺ کے ایسے ہی دشمن تھے۔ بالخصوص ان کے سردار اور معتبر لوگ۔ جب آپ ﷺ کا دوسرا بیٹا (جسے طیب بھی کہتے ہیں اور طاہر بھی) بھی فوت ہوگیا تو یہ سب لوگ بہت خوش ہوئے اور تالیاں بجانے لگے اور ایک دوسرے کو مبارک کے طور پر کہنے لگے۔ بتر محمد اور بتر کا لفظ کسی جانور کے دم کاٹنے سے مخصوص ہے اور معنوی لحاظ سے مقطوع یا لاولد کو کہتے ہیں یا جس کا ذکر خیر کرنے والا کوئی باقی نہ…
Read the full tafseer →3۔ چناچہ یہ پیشگوئی حرف بحرف پوری ہو کر رہی، ابوجہل اور ابولہب اور عتبہ کا ” ذکر خیر “۔ آج دنیا کے پردہ میں کہیں بھی ہے ؟ اور آپ ﷺ کا ذکر خیر ہے کہ سینوں کے اندر اور زبانوں کے اوپر ہر طرح جاری وساری ہی ہے۔ (آیت) ” الابتر “۔ ابترا اسے کہتے ہیں جس کا ذکر خیر کرنے والا، نام لینے والا کوئی نہ رہ جائے، اے المقطوع الذکر (راغب) قیل رجل ابتر اے انقطع ذکرہ عن الخیر (راغب)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترجمہ، شروع کرتا ہوں ال لہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے محمد ﷺ ! ہم نے آپ ﷺ کو نہر کوثر عطا کی، (کوثر) جنت میں ایک نہر یا حوض ہے، جس پر آپ ﷺ کی امت وار ہوگی، یا کوثر خیر کثیر کو کہتے ہیں، جو کہ نبوت، قرآن اور شفاعت اور ان جیسی چیزیں ہیں، پس آپ ﷺ اپنے رب کے لئے عید الاضحی کی نماز پڑھئے اور اپنی قربانی کیجیے یقیناً آپ ﷺ کا دشمن ہی دم بریدہ (لاوارث) ہے (یعنی ہر خیر سے منقطع ہے یا مقنطع النسل ہے) ، یہ آیت) عاص بن وائل کے بارے میں نازل ہوئی، جس نے آپ ﷺ کو آپ ﷺ کے صاحبزادے قاسم ؓ کے انتقال کے وقت ابتر (یعنی مقنطع النسل) کہا تھا۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : الکوثر…
Read the full tafseer →ان شانئک ھو الابتر . یعنی تمہارا دشمن ہی ابتر ہے۔ اسی کے پیچھے کوئی نہیں رہے گا۔ مراد یہ ہے کہ اس کے بعد اس کا اچھا نام نہیں رہے گا بلکہ اللہ ‘ ملائکہ اور تمام آدمیوں کی لعنت اس پر پڑتی رہے گی۔ ایک شبہ کیا جاسکتا تھا کہ عاص بن وائل کی نسل تو اس کے بعد بھی باقی رہی ‘ اس کے دونوں بیٹے عمرو اور ہشام مسلمان ہوئے اور اس کے بعد رہے ‘ پھر وہ منقطع النسل کس طرح ہوا ؟ لیکن ہماری تفسیر سے یہ شبہ دفع ہوگیا کیونکہ عاص کے دونوں بیٹے جب مسلمان ہوگئے تو ان کا رشتہ اپنے باپ سے کٹ گیا ‘ یہاں تک کہ اس کے وارث بھی نہیں ہوئے وہ تو رسول اللہ ﷺ کی اولاد میں سے ہوگئے اور حضور ﷺ کی بیویاں ان کی مائیں ہوگئیں۔ ھُوَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(1۔ 3) اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو خیر کثیر عطا کی ہے اور قرآن بھی اسی میں سے ہے یا یہ کہ حوض کوثر عطا کی ہے تو اس شکریہ میں نماز پڑھیے اور اپنے سینہ کو قبلہ کی طرف کیجیے یا یہ کہ نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھیے یا یہ کہ رکوع اور سجود کامل طور پر کیجیے تاکہ آپ کا سینہ مبارک ظاہر ہوجائے یا یہ کہ عید الضحیٰ کی نماز پڑھیے اور قربانی ذبح کیجیے۔ آپ کا دشمن یعنی عاص بن وائل ہمہ قسم کی بھلائی اہل و عیال اور مال و دولت سے بےنام و نشان ہے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کا کوئی ذکر کرنے والا نہیں اور آپ کے کمالات ذکر ہو کر رہیں گے۔ ہوا یہ کہ جب حضور کے صاحبزادے حضرت عبداللہ کا انتقال ہوا تو اس وقت ان…
Read the full tafseer →(1) ان شانئک ھوالابتر :”شانی“”شنئۃ شنئا“ (س ، ف) (بروزن فلس)”وشنئاناً“ (نون کے فتحہ اور سکون کے ساتھ) سے اسم فاعل ہے، اس کا معنی ”’ شمنی رکھنے اولا“ ہے۔ ”الابتر“ جس کی اولاد نہ ہو۔ اصل میں یہ ”بترہ“ سے مشتق ہے، جس کا معنی ہے ”قطعہ“ اس نے اسے کاٹ دیا۔ ”حمار ابتر“ وہ گدھا جس کی دم کٹی ہوئی ہو۔ دم کٹے سانپ کو بھی ”ابتر“ کہتے ہیں۔ (2)”ھو“ ضمیر لانے کے علاوہ ”الابتر“ پر الف لام لانے سے کلام میں مزید حصر پیدا ہوگیا ، یعنی دشمن ہی لاولد ہے، آپ نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے دشمن کہتے تھے کہ محمد (ﷺ) اکیلے ہیں، ان کی اولاد نہیں ، مرگئے تو کوئی نام لینے والا نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، آپ کے نام لینے والے…
Read the full tafseer →یقینا آپ کا جو دشمن ہے وہی بےنام و نشان ہوگا۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ایک دن یا ایک رات باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر موجود ہیں، پوچھا : تمہیں اس وقت کس چیز نے گھروں سے نکالا ؟ دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بھوک نے۔ فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ مجھے بھی اس چیز نے گھر سے نکالا ہے جس نے تمہیں نکالا ہے دونوں اٹھو، دونوں آپ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے رسول اللہ ایک انصاری کے گھر آئے تو وہ گھر پر نہیں تھا جب اس کی بیوی نے رسول اللہ کو دیکھا تو اس نے خوش آمدید کہا۔ رسول اللہ نے اس سے پوچھا : فلاں کہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة انا اعطیناک الکوثر مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر اور عائشہ ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا۔ 3۔ ابن ابی شیبہ نے عمرو بن یمون (رح) سے روایت کیا کہ جب عمر ؓ کو نیزہ مارا گیا اور لوگ مضطرب اور بکھر گئے تو عبدالرحمن بن عوف ؓ آگے بڑھے اور انہوں نے قرآن میں سب سے چھوٹی سورتیں پڑھیں اور نماز مکمل کی۔ یعنی آیت انا اعطینک الکوثر اور آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح۔ 4۔ بیہقی نے اپنی سنن میں ابن شبرمہ (رح) سے روایت کیا کہ قرآن میں تین آیات سے کم کوئی سورة نہیں ہے۔ 5۔ طستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ…
Read the full tafseer →[ان شَانئَكَ : بیشک آپ ﷺ سے بغض رکھنے والا ][ هُوَ الْاَبْتَرُ : ہی بالکل بےنام و نشان ہے۔] ب ت ر [بَتْرًا : (ن) کاٹنا۔ اللہ کا کسی کو بےاولاد کرنا۔ کسی کی نسل کو کاٹنا۔] [بَتَرًا : (س) کٹ جانا۔ بےاولاد ہونا۔ نسل کٹا ہونا۔] [ اَبْتَرُ اَفْعَلُ کا وزن ہے بےاولاد۔ نسل کٹا۔ جس کی موت کے بعد اس کا خلف یعنی نام لیوا کوئی نہ ہو، نہ اولاد ہو اور نہ رشتہ دار یا احباب میں کوئی نام لیوا ہو زیر مطالعہ آیت۔ 3 ۔ (ایسا لگتا ہے کہ یہ لفظ افعل الوان وعیوب اور افعل تفضیل، دونوں کے مفاہیم کا جامع ہے۔ بےاولاد یا نسل کٹا ہونا، الوان وعیوب کا مفہوم ہے اور کوئی خلف نہ ہونا (افعل و تفضیل کا مفہوم ہے)] نوٹ 2: جب…
Read the full tafseer →﴿اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ (رح) 003﴾ (بےشک آپ سے بغض رکھنے والا ہی ابتر ہے) ۔ تفسیر کی کتابوں میں لکھا ہے کہ عاص بن وائل (جو کہ معظمہ میں رسول اللہ ﷺ کا ایک دشمن تھا) جب رسول اللہ ﷺ کا تذکرہ کرتا تھا تو کہتا تھا کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑو ان کی آل و اولاد تو ہے نہیں موت کے بعد ان کا ذکر و فکر ختم ہوجائے گا اس پر سورة الکوثر نازل ہوئی اس میں بتادیا کہ آپ کا ذکر اللہ تعالیٰ بہت بڑھائے گا، جو شخص آپ سے دشمنی کرنے والا ہے وہی بےنام و نشان رہ جائے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کعب بن اشرف (جو مدینہ منورہ کے رہنے والے یہودیوں میں ایک مالدار شخص تھا) ایک مرتبہ مکہ معظمہ پہنچا اس سے قریش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
انعام رب ذوالجلال بعطاء کوثر وہلاکت و بربادی دشمن رسول مقبول ﷺ : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” انا اعطینک الکوثر ...... الی ........ شانئک ھو الابتر “۔ (ربط) سورة ماعون میں حکمت اعتقادیہ عملیہ کے جملہ اقسام کا ذکر فرمایا گیا تھا اور اس کے ساتھ انسانی زندگی کے جو اعمال واخلاق باعث عیب ہیں ان کی مذمت بھی کردی گئی تھی تو اب اس سورت میں خیر کثیر کا ذکر ہے، جس کے باعث انسانی حیات عظمت وبلندی کے مقام تک پہنچتی ہے اور اس خیر کثیر کی شاخیں اور نہریں اس طرح پھیل جاتی ہیں کہ قیامت تک نسل انسانی ان کے ذریعہ ہر قسم کی سیرابی اور شادابی حاصل کرتی رہے اور اس پر پھل وپھول لگے رہیں، یہی وہ فرمان مبارک ہے جو (آیت)…
Read the full tafseer →4:۔ ” ان شانئک “ ایک دفعہ ایک مشرک رسول اللہ ﷺ سے باتیں کر رہا تھا جب آپ سے جدا ہوا تو دوسرے مشرکوں نے پوچھا کس سے باتیں کر رہا تھا ؟ بولا، اس ابتر کے ساتھ، اس کا اشارہ رسول اللہ ﷺ کی طرف تھا۔ کیونکہ آپ کی نرینہ اولاد زندہ نہیں تھی۔ اس پر یہ آیت نزل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ مقطوع النسل نہیں ہیں۔ بلکہ یہ کفار اس صفت سے موصوف ہیں اور آپ کی روحانی اور جسمانی اولاد قیامت تک دنیا میں موجود رہے گی نیز آپ یہ مسئلہ بیان کریں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کے دشمنوں کو تباہ کردے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الکوثر ہے۔ یہ مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی تین آیتیں ہیں اور یہ بارہ الفاظ اور بیالیس حروف پر مشتمل ہے۔ زمانہ نزول کے متعلق مفسرین میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ یہ مکی سورة ہے یا مدنی مسند احمد 1 ؎ اور حدیث 2 ؎ کی دوسری کتابوں میں مذکور ہے کہ ایک موقع پر مدنی زندگی میں حضور ﷺ اور صحابہ کی جماعت موجود تھی۔ تھوڑی دیر کے لئے آپ پر غنودگی کی حالت طاری ہوئی۔ جب وہ حالت رفع ہوئی تو آپ مسکرائے لوگوں نے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ابھی ایک سورة نازل فرمائی ہے۔ چناچہ آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم اور پھر سورة انا اعطینک الکوثر پڑھ کر سنا دی۔ اسی…
Read the full tafseer →اِنَّ شَانِئَكَ ہُوَالْاَبْتَرُ 3 ۧ شنأ شَنِئْتُهُ : تقذّرته بغضا له . ومنه اشتقّ : أزد شَنُوءَةَ ، وقوله تعالی: لا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ [ المائدة/ 8] ، أي : بغضهم، وقرئ : شَنْأَنُ فمن خفّف أراد : بغیض قوم، ومن ثقّل جعله مصدرا، ومنه : إِنَّ شانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ [ الکوثر/ 3] . ( ش ن ء ) شنیئۃ (س ) کے معنی بغض کی وجہ سے کسی چیز سے نفرت کرنے کے ہیں ۔ اسی سے أزدشَنُوءَةَ مشتق ہے جو ایک قبیلہ کا نام ہے اور آیت کریمہ : لا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ [ المائدة/ 8] لوگوں کی دشمنی ۔ میں شنان کے معنی بغض اور دشمنی کے ہیں ایک قرات میں شنان بسکون نون ہے پس تخفیف ( یعنی سکون نون ) کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب ¦ انامبتدء اعطیناک 1 ؎ خبروالکاف مفعول اول لاعطینا الکوثر مفعول ثان۔ والکوثر علے وزن فوعل من الکثرۃ وصف بہ للمبالغۃ فی الکثرۃ مثل النوفل من النفل والجوھر من الجھر والعرب تسمی کل شیء کثیر فی القدرا والعددوالبرکات کو ثرا۔ فصل الفاء لترتیب مابعدھا علی ماقبلھا اوللتفریع صل امر لربک متعلق بصل۔ وانحر عطف علی صل ان اسمھا شانئک اسم الفاعل من الشنان لامن الشین فان اسم الفاعل منہ شائن لاشان والشانئی لمبغض العدو ھو فصل اوتاکید الابتر خبران وقیل ھو مبتدء والابترخبرہ والجملۃ خبر ان الابترا فعل من البتر بمعنی القطع من الاصل۔ یقال بترتہ ابترۃ بتراولابترمن الرجال من لاعقب لہ من النسل وذکر الخیر ومن…
Read the full tafseer →اِنَّ شَانِئَـکَ ھُوَالْاَبْتَرُ ۔ (الکوثر : 3) (یقینا آپ کا دشمن ہی جڑ کٹا ہے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اور مخالفین کو تنبیہ شَانِیٔ، شن سے ہے جس کے معنی ایسے بغض اور ایسی عداوت کے ہیں جس کی بنا پر کوئی شخص کسی دوسرے کے ساتھ بدسلوکی کرنے لگے جس کے دل میں کسی کیخلاف بغض و عداوت ہو اس کو شَانِیٔکہتے ہیں۔ قرآن کریم نے اس کو دشمن کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ اس سے مراد آنحضرت ﷺ کے وہ اندھے مخالفین ہیں جنھوں نے ہر ممکن طریقے سے آپ کو ختم اور آپ کی دعوت کو ناکام کرنے کی کوشش کی۔ اور اس بات سے ہمیشہ محظوظ ہوتے رہے کہ چونکہ آپ کی نرینہ اولاد زندہ نہیں رہی، اس لیے آپ کی وفات کے ساتھ ہی آپ کا نام مٹ جائے گا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن ربط سورت : الماعون میں اس شخص کی مذمت کی گئی ہے جو نماز سے لاپرواہی کرتا ہے اور ضرورت مند کو استعمال کے لیے معمولی چیز بھی نہیں دیتا الکوثر میں نبی ﷺ کو خوشخبری دے کر ہر شخص بالخصوص بخیل آدمی کو بتلایا گیا ہے کہ دنیا اور آخرت کی خیر کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ الکوثر کا شان نزول بیان کرتے ہوئے مفسرین نے لکھا ہے کہ مکہ میں نبی ﷺ کے دوسرے بیٹے عبداللہ جن کو طاہر اور طیب بھی کہا جاتا ہے فوت ہوگئے اس کی موت پر ابولہب اور اس کے ساتھیوں نے انتہائی کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہرزہ سرائی کی اور کہا ” بَتِرَ مُحَمَّدٌ ھٰذِہِ الَّلیْلَۃَ “ کہ آج رات محمد دم کٹا ہوگیا ہے لہٰذا تھوڑے دنوں کی…
Read the full tafseer →مخالف ہر شہر سے منقطع : 3 : اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ (بالیقین آپ کا دشمن ہی بےنام و نشان ہے) آپ کی قوم کے وہ لوگ جو آپ کی مخالفت کی وجہ سے آپ سے بغض رکھتے ہیں۔ وہی بےنام و نشان ہونے والے ہیں۔ وہ ہر خیر سے منقطع کردیئے جائیں گے نہ کہ آپ۔ کیونکہ قیامت تک پیدا ہونے والے مومن تمام آپ کی اولاد اور آپ کے پیچھے چلنے والے ہیں۔ اور تمہارا ذکر آخر زمانہ تک منبروں پر بلند ہوگا۔ اور ہر عالم و ذاکر آپ کا تذکرہ کرے گا۔ اور آخرت میں اتنا ملے گا جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ آپ جیسے کو ابتر نہیں کہا جاسکتا۔ ابتر وہ شخص ہے جو آپ کا دشمن ہے وہ دنیا و آخرت میں بھلا دیا جانے والا ہے۔ ایک قول یہ ہے : کہ یہ…
Read the full tafseer →3 ۔” ان شانئک “ آپ (علیہ السلام) کا دشمن اور بغض رکھنے والا۔ ” ھوالابتر “ جو بہت ہی کم پیچھے ذلیل ہو اس کی جڑ ختم ہوگی۔ یہ عاص بن وائل سہمی کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ اس نے نبی کریم ﷺ کو مسجد سے نکلتے دیکھا اور یہ داخل ہورہا تھا تو ان کی ملاقات باب بنی سہم پر ہوئی اور آپس میں باتیں کرنے لگے اور قریش کے معززین میں سے چند لوگ مسجد میں بیٹھے تھے۔ جب عاص اندر داخل ہوا تو ان لوگوں نے اس کو کہا کس سے تو بات کررہا تھا ؟ کہنے لگا اس ابتر سے یعنی نبی ﷺ سے اور نبی کریم ﷺ کا حضرت خدیجہ ؓ سے ایک بیٹا فوت ہوگیا تھا۔ یزید بن رومان فرماتے ہیں۔ عاص بن وائل کے سامنے جب رسول اللہ ﷺ کا ذکر ہوتا تو کہتا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ 3۔ معتبر سند سے مسند 2 ؎ بزار میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کعب بن اشرف یہودی جب مکہ میں ایٓا تو قریش نے اس سے آنحضرت ﷺ کا تذکرہ کیا اس نے قریش کی خوشامد کے خیال سے جواب دیا کہ تمہارا دین قدیمی اور حق ہے اور آنحضرت کی شان میں یہ بھی کہا کہ ان کا کوئی بیٹا تو ہے نہیں۔ ان کی زندگی تک کا شور و غل ہے اور پھر ان کا کوئی نام بھی نہ لے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی کہ اے رسول اللہ کے جو تمہارا دشمن ہے وہی ابتر ہے۔ ابتر اس کو کہتے ہیں جس کی موت کے بعد کوئی لڑکا اس کا نہ رہے۔ کوثر ایک تو اس نہر کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو عطا فرمائی ہے یہ نہر…
Read the full tafseer →(اِنَّ شَانِئَكَ ) آپ سے بغض رکھنے والا، آپ کی مذمت اور تنقیص کرنے والا (هُوَ الْاَبْتَرُ ) یعنی وہ ہر بھلائی سے محروم ہے اس کا عمل منقطع ہے ور اس کا ذکر منقطع ہے۔ رہے رسول تو حقیقت میں وہی کامل ہیں آپ کمال کے اس بلندترین مرتبے پر پہنچے ہوئے ہیں جہاں تک پہنچنا مخلوق میں سے کسی کے لیے ممکن نہیں مثلا، رفعت ذکر، کثر الانصار اور کثرت متبعین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
وانحر کی تفسیر قول باری ہے (فصل لربک وانحر، پس تم اپنے رب ہی کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو) حسن کا قول ہے کہ یوم النحر کی نماز اور قربانی مراد ہے۔ عطاء اور مجاہد کا قول ہے کہ ” صبح کی نماز مزدلفہ میں پڑھو اور منیٰ میں جاکر قربانی کرو۔ “ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ تاویل دو باتوں کو متضمن ہے ایک تو بقر عید کی نماز کا ایجاب اور دوسری قربانی کا وجوب۔ ہم نے گزشتہ صفحات میں اس پر بحث کی ہے۔ حماد بن سلمہ نے عاصم الجعدری سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت علی ؓ سے آیت کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ نماز میں بائیں بازو پر دایاں ہاتھ رکھ کر اپنے سینے پر باندھنا (وانحر) سے مراد ہے۔ ابوالجوزاء…
Read the full tafseer →3 ۔ اعطائے کوثر کے نتیجہ و انجام کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور اعطاء کوثر کے نتیجہ و انجام کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یقینا آپ کا دشمن ہی کٹا ہوا ہے ہر خیر سے، نہ کہ آپ اے ہمارے رسول۔ جیسا کہ ان بدبختوں کا کہنا ہے۔ واضح رہے کہ ھو الابتر کی تعبیر حصر کی تعبیر ہے، یعنی دم بریدہ اور " مقطوع النسل " آپ ﷺ کے وہ دشمن ہیں جو کہ آپ ﷺ کے بارے میں اس طرح کہہ رہے ہیں وہی ایسے ہیں کہ نہ آپ ﷺ کا نام اور کام اور آپ کا فیض و انعام تو ہمیشہ باقی اور سدا جاری رہے گا۔ چناچہ آج مشرق و مغرب میں ہر طرف ہر جگہ اور ہر وقت آپ کے نام نامی اور اسم گرامی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
پیارے نبی ﷺ کے لیے اللہ کا انعام تشریح : یہ چھوٹی سی سورت بہت بڑے مقاصد کو بیان کر رہی ہے۔ مثلاً کوثر کی خوشخبری نبی اکرم ﷺ کیلئے۔ یوں تو کوثر کا مطلب ہے خیر کثیر۔ یعنی وہ تمام درجات جو آپ ﷺ کو دئیے گئے۔ حسن کردار ' حسن سیرت ' حسن معاملہ اور سب سے بڑھ کر رتبہ کے لحاظ سے آپ ﷺ محسن انسانیت ' حامل قرآن اور تکمیل دین کے لحاظ سے آخری نبی کا بلند ترین درجہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو دیا گیا ہے۔ مگر یہاں اس سورت میں کوثر سے مراد وہ نہر ہے جو جنت میں موجود ہے۔ اس کا ثبوت ہمیں احادیث سے ملتا ہے۔ جیسا کہ حضور پاک ﷺ نے فرمایا '' ایک دن میں جنت میں جا رہا تھا تو میں نے وہاں ایک نہر دیکھی ' جس کے کناروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة الکوثر۔ آیات 1 تا 3۔ اسرار ومعارف۔ ہم نے آپ کو خیر کثیر عطا فرمایا اگرچہ آخرت اور جنت میں ایک حوض کا نام بھی کوثر ہے مگر یہاں خیر کثیر بھی مراد ہے کل خیر صرف آپ کے پاس ہے اور آپ کا دامن چھوڑ کر کہیں بھی خیر کا تصور نہیں لہذا آپ اللہ کی عبادت و اطاعت کیجئے اور اس کی راہ میں قربانی کہ عرب میں اونٹ بہت پیارا تھا اور اس کی قربانی کو نحر کہتے ہیں۔ مفہوم یہ ہے کہ پوری زندگی کا نظام عبادت میں ڈھل جائے اور مال زور کی محبت اسکی راہ میں رکاوٹ نہ بنے بیشک آپ کے دشمنوں کانشان مٹ جائے گا مگر آپ کا نام نامی قیامت تک گونجتا رہے گا مشرکین نے طعنہ دیا تھا کہ آپ کی اولاد نرینہ نہیں آپ کا نام ختم ہوجائے گا…
Read the full tafseer →ف 12 یعنی اسکا کوئی پیرو اور نام لیوا دینا میں نہ رہے گا۔ اس کے برعکس آپ کے کروڑوں اربوں پیر و دنیا کو آباد کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ آپ کا نام بھی بلند کرتے رہیں گے۔ روایات میں ہے کہ آنحضرت کی کوئی نرینہ اولاد چونکہ زندہ نہ رہی تھی اس لئے بعض مشرکین کہا کرتے تھے کہ اس شخص کا کوئی وارث اور نام لویا نہیں رہا۔ انہی کی تردید میں اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی۔
Read the full tafseer →(108:3) ان شانئک ہو الابتر : ان حرف تحقیق، مشبہ بالفعل۔ شانئک مضاف مضاف الیہ مل کر ان کا اسم ۔ ھو تاکید کے لئے ہے ۔ الابتر۔ خبر ان کی۔ یا ھو ضمیر فصل ہے اور الابتر ان کی خبر ہے۔ خبر پر ال اور مبتداء خبر کے درمیان ضمیر فصل کا لانا حصر پر دلالت کرتا ہے ۔ یعنی تمہارا دشمن ہی ابتر ہے تم ابتر نہیں ہو۔ یا ھومبتداء ہے اور الابتر اس کی خبر۔ شانی : شنا (باب فتح) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ۔ بمعنی بغض رکھنے والا۔ نفرت کرنے والا۔ بدخواہ، دشمنی رکھنے والا شانی کی جمع شناء اور مؤنث شانئۃ ہے۔ الابتر : دم کٹا۔ جس کی اولاد نہ ہو۔ جس کا ذکر باقی نہ رہے۔ بتر (باب نصر) مصدر سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بتر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
لغات القرآن۔ اعطینا ۔ ہم نے عطا یا۔ الکوثر۔ خیر کثیر۔ حوض کوثر۔ صل۔ نماز پڑھ۔ انحر۔ قربانی کر۔ شان۔ دشمن۔ الابتر۔ دم کٹا۔ نامراد۔ تشریح : قریشی سردار اور مشرکین مکہ نبی کریم ﷺ کی دشمنی میں اس قدر بےرحم، بد لحاظ اور پتھر دل ہوچکے تھے کہ جب نبی کریم ﷺ کے صاجزادے حضرت قاسم اور ان کے بعد دوسرے بیٹے حضرت عبد اللہ کا انتقال ہوا تو آپ کو اس غم کے موقع پر تسلی اور دلاسہ دینے کے بجائے انہوں نے اس پر کھلم کھلا خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اب ان کے ہاں صرف چار بیتیاں رہ گئی ہیں لیکن وہ اولاد نرینہ جن سے کسی شخص کی نسل چلا کرتی ہے اب باقی نہیں ہے لہٰذا کسی غم اور فکر کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک ایسا شخص جو سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(ف 1) شان نزول : جب نبی ﷺ کے فرزند حضرت قاسم کا وصال ہواتوکفار نے آپ کو مقطوع النسل کہا اور کہا کہ ان کی نسل نہیں رہی ان کے بعد اب ان کا ذکر بھی نہ رہے گا، یہ سب چرچا ختم ہوجائے گا اس پر یہ سورت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کفا کی تکذیب کی اور ان کابلیغ رد فرمایا، اور فرمایا کہ اے محبوب ہم نے تمہیں بیشمار خوبیاں عطا فرمائیں اور فضائل کثیر عنایت کرکے تمام خلق پر افضل کیا، حسن ظاہر بھی دیاحسن باطن بھی نسب عالی بھی نبوت بھی، کتاب بھی حکمت بھی علم بھی شفاعت بھی، حوض کوثر بھی، مقام محمود بھی ، کثرت امت بھی اعدائے دین پر غلبہ بھی ، کثرت فتوح بھی، اور بیشمار نعمتیں اور فضیلتیں جن کی انتہا نہیں۔…
Read the full tafseer →[2] اصل میں لفظ '' ابتر '' استعمال ہوا ہے جس کے معنی دم کٹے جانور کے ہیں مگر محاورے میں ابتر اس شخص کو کہتے ہیں جس کے کوئی اولاد نرینہ نہ ہو۔ کفار آپ ﷺ کو ابترو مقطوع النسل کا طعنہ دیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اس شخص کے کوئی بیٹا نہیں، بس زندگی تک اس کا نام ہے پھر اس کا کوئی نام لیوا نہ رہے گا۔ اس پر فرمایا گیا کہ بےنام و نشان آپ ﷺ نہیں آپ ﷺ کے دشمن ہوں گے۔ قرآن کی یہ پیشین گوئی حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی اور آپ ﷺ کے دشمن ایسے بےنام و نشان ہوئے کہ ان کی اولاد اگر دنیا میں باقی رہی بھی تو ان میں سے آج کوئی نہیں جانتا کہ وہ ابو جہل یا ابو لہب یا عاص بن وائل وغیرہ اعدائے اسلام کی اولاد میں سے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة الکوثر عین اس وقت جب حضور ﷺ کو ناکامی اور نامرادی کے طعنے دئے جارہے تھے اور اپنی کامرانیوں پر مسرت واجتہاج کا اظہار کیا جارہا تھا ۔ عین اس وقت جب کہ مکہ کی سرزمین بھی آپ ﷺ کے عقیدت مندوں کے لئے باوجود وسعت کے تنگ ہورہی تھی اور کفار کے دام دایلنے یہ تھے ۔ کہ اس شمع ہدایت وعرفان کو یک قلم بجھا دیا جائے ۔ یہ بشارت نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو خیر کثیر کے انعامات سے نوازا ہے ۔ آپ ﷺ کے رتبہ ودرجہ میں اضافہ ہوگا آپ ﷺ کے اعوان وانصار بڑھیں گے اور آپ ﷺ کے فتوحات مادی وروحانی کا دائرہ وسیع ہوگا ۔ اس لئے آپ ﷺ گھبرائیں نہیں اور برابر صبروسکون کے ساتھ اپنے رب کی عیادت کریں اور اس کے لئے…
Read the full tafseer →(3) یقینا جو آپ کا دشمن ہے وہی دم بریدہ اور بےنام ونشان ہے - کوثر کی تفسیر میں مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں کیونکہ لفظ خیر کثیر کثرت معنی پر دلالت کرتا ہے مثلاً قرآن عظیم نبوت کتاب حکمت آپ کے متبعین کی کثرت جنت میں حوض کوثر یا نہر کوثر حکمت کو خیر کثیر کہنا یہ قرآن کی تفسیر کے ساتھ ہے۔ ومن یوت الحکمۃ نقد اوتی خیراً کثیراً کتا ب و حکمت کے ساتھ علم شفاعت حوض الموردد، مقام محمود، ادیان باطلہ پر آپ کے دین کا غالب ہونا، فتوحات کی کثرت، دشمنوں کے مقابلے میں نصرت اور مدد بہرحال جیسا ہم کہہ چکے ہیں کہ کوثر کی تفسیر بہت طرح کی گئی ہے اور ہر قسم کی خیر کو شامل ہے مشہور یہی ہے کہ اس سے مراد وہ حوض کوثر ہے…
Read the full tafseer →ف 3۔ خواہ ظاہری نسل اس دشمن کی چلے یا نہ چلے لیکن دنیا میں اس کا ذکر خیر باقی نہیں رہے گا، بخلاف آپ کے کہ قیامت تک آپ کی امت اور آپ کا دین اور آپ کی یاد، نیک نامی، محبت و اعتقاد کے ساتھ باقی رہے گی کہ سب عموم مفہوم کوثر میں داخل ہیں، اگر پسری اولاد کی نسل نہ ہو نہ سہی جو نسل سے مقصود ہے وہ آپ کو حاصل ہے یہاں تک کہ دنیا سے گزر کر آخرت میں بھی، اور دشمن اس سے محروم ہے۔
Read the full tafseer →اور یقین جان کر تیرا مخالف ہی ” اوتر “ ثابت ہوگا 3 ؎ (الابتر) ابتر دُم کٹا۔ جس کے ہاں نرینہ اولاد نہ ہو۔ جس کا ذکر باقی نہ رہے۔ بتر سے صفت مشبہ کا صیغہ ( شانئک ( تیرا دشمن شانی شناء سے جس کے معنی دشمن رکھنے کے ہیں۔ اس فاعل کا صیغہ واحد مذکر مضاف ہے۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر مضاف الیہ۔ کفار سمجھتے تھے کہ چونکہ نبی اعظم و آخر ﷺ کی کوئی اولاد نرینہ موجود نہیں تھی اس لیے آپ ﷺ کی زندگی کے ختم ہوتے ہی آپ ﷺ کا ذکر بھی منقطع ہوجائے گا اور اس کے بعد آپ ﷺ کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں رہے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ تیرے بعد تیرا ذکر باقی نہ رہے گا وہ اچھی طرح سن لیں کہ اللہ…
Read the full tafseer →The Enemy of the Prophet ﷺ is Cut Off Verse [ 108:3] إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ (Surely, it is your enemy whose traces are cut off.) The word shani' as used in the original is derived from sha'n and means 'one who hates, traducer, insulter'. This verse was revealed in connection with the unbelievers who used to taunt the Messenger of Allah ﷺ and referred to him as 'abtar'. Most narratives identify the traducer as ` As Ibn Wa'il, others identify him as 'Uqbah and yet others identify him as Ka'b Ibn Ashraf. Allah granted the Messenger of Allah ﷺ the Kauthar, that is, abundant goodness…
Read the full tafseer →3 The word shani' as used, in the original is derived from sha 'n, which means the hatred and spite because of which a person may start ill-treating another. At another place in the Qur'an it has been said: "(And O Muslims,) the enmity of any people should not so provoke you as to turn you away from justice." (AI-Ma'idah: 8) . Thus, shani aka implies every such person who blinded by his enmity of the Holy Prophet (upon whom be peace) should bring false accusations against him, slander and defame him and vent his personal spite against him by taunting and scoffing at him in every possible…
Read the full tafseer →