108. Surah Al-Kawthar

الكوثرAbundance · 3 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 108:1

اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ Open ayah 108:1 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ہم نے تم کو کوثر عطا فرمائی ہے

بیشک ہم نے آپ کو (جو کچھ عطا کیا) بےحد و حساب عطا کیا۔ اس میں دو مسئلے ہیں : کوثر سے کیا مراد ہے ؟ مسئلہ نمبر 1: انا اعطینک الکوثر۔ یہ حضرت ابن عباس اور حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : قبائل پر فخر کرنا، ضحاک نے کہا ؛ معاش اور تجارت پر فخر نے تمہیں غافل کردیا۔ یہ جملہ کہا جاتا ہے ؛ لھیت عن کذا، الھی لھیا ولھیانا۔ جب تو اسے بھول جائے، اسے ترک کدے اور اس سے اعراض کرے۔ الھاہ اسے غافل کردے۔ لھاہ بہ تلھیۃ اسے مشغول کردیا۔ تکاثر کا معنی کثرت میں مقابلہ کرنا۔ مقاتل، قتادہ اور دوسرے علماء نے کہا ؛ یہ یہودیوں کے حق میں بات نازل ہوئی ،۔ جب انہوں نے کہا ؛ ہم بنی فلاں سے زیادہ ہیں۔ بنی فلاں، بنی فلاں سے زیادہ نہیں انہیں اس چیز نے غافل کردیا یہاں تک کہ وہ گمراہی میں مرگئے۔ ابن زید نے کہا : یہ انصار کے ایک خاندان کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضرت ابن عباس، مقاتل اور کلبی نے کہا : یہ قریش کے دو قبیلوں کے بارے میں نازلہوئی جو بنو عبد مناف اور بنو سہم تھے۔ انہوں نے دور اسلام میں سرداروں اور اشراف کے اعتبار سے باہم گنتی کی اور فخر و مباہات کیا۔ ہر ایک خاندان نے کہا : ہم سے ایک زیادہ سردار رکھتا ہے، غلبہ رکھتا ہے، تعداد زیادہ رکھتا ہے اور پناہ دینے والا زیادہ رکھتا ہے تو بنو عبد مناف، بنو سہم پر غالب آگئے پھر انہوں نے مردوں کا شمار کیا تو بنو سہم ان پر غالب رہے۔ تو یہ آیات نازل ہوئیں کہ تم نے زندوں کے ساتھ باہم کثرت کا مقابلہ کیا تو تم راضی نہ ہوئے یہاں تک کہ تم مردوں کے ساتھ فخر کرنے تک جا پہنچے۔ مسئلہ نمبر 2: لکل اناس مقبر بفنائھم۔۔۔ فھم ینقصون والقبور تزید تمام انسانوں کے لیے ان کے اپنے اپنے میدانوں میں قبرستان ہیں لوگ کم ہورہے ہیں اور قبریں زیادہ ہورہی ہیں۔ ابو سعید مقبری کے لیے دونوں طرح کا لفظ استعمال کیا گیا ہے مقبری اور مقبری، وہ قبرستان میں رہا کرتے تھے۔ قبرت المیت اقبرہ، اقبرہ قبرا، یعنی میں نے اسے دفن کیا۔ اقبرتہ یعنی میں نے اسے دفن کرنے کا حکم دیا۔ اس بارے میں گفتگو سورة عبس میں گزر چکی ہے۔ زیارت قبور کی شرعی حیثیت اور اس کے فوائد : قرآن حکیم میں مقابر ذکر صرف اس سورت میں ہوا ہے قبروں کی زیارت سخت دل والے کے لیے زبردست دوا ہے کیونکہ یہ عمل موت اور آخرت کی یاد دلا تا ہے یہ چیز انسان کی امیدیں کم رکھنے، دنیا میں زہد اختیار کرنے اور اس میں رغبت کی کمی پر بر انگیختہ کرتا ہے۔ نبی کریم کا فرمان ہے : کنت نھیتکم عن زیارۃ القبور فزوروا القبور فانھا تذھد فی الدنیا وتذکر الاخرۃ۔ میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا کرتا تھا اب قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ چیز دنیا میں زہد پیدا کرتی ہے اور موت کی یاد دلاتی ہے ؛ اسے حضرت ابن مسعود نے روایت کیا ابن ماجہ نے اسے نفقل کیا ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ کی حدیث ہے : یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے۔ ترمذی میں حضرت بریدہ سے مروی ہے کہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے، اس میں حضرت ابوہریرہ سے روایت مروی ہے کہ رسول اللہ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں میں لعنت کی ہے، کہا : اس باب میں حضرت ابن عباس اور حضرت حسان بن ثابت سے روایت مروی ہے۔ ابو عیسیٰ ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ بعض علماء کی رائے ہے کہ عورتوں پر لعنت والا حکم اس سے قبل کا ہے جس میں رسول اللہ نے قبروں کی زیارت کی رخصت دی۔ جب حضور نے رخت دی تو اس رخصت میں مرد اور عورتیں شامل ہوگئیں۔ بعض علماء نے کہا : عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت اس لیے مکرو ہے کیونکہ وہ کم صبر والی اور زیادہ جزع فزع کرنے والی ہوتی ہیں۔ علماء نے کہا : جو آدمی اپنے دل کا علاج کرنا چاہتا ہے اور ظلم و قہر کی زنجیروں سے آزاد ہو کر اپنے رب کی طاعت کی طرف متوجہ ہونا چاہتا ہے تو اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ لذات کو ختم کرنے والی، جماعتوں کو جدا کرنے والی، بیٹوں اور بیٹیوں کو یتیم کرنے والی کا ذکر کثرت سے کرے جو لوگ موت وحیات کی کشمکش میں ہیں ان کی ملاقات پر مواظبت اختیار کرے اور مسلمانوں کی قبروں کی زیارت میں ہمیشگی اختیار کرے۔ یہ تین امور ہیں جس آدمی کا دل سخت ہو، گناہ اس کی اپنی گرفت میں لے چکا ہو تو اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ اپنی مرضی کے خلاف اس سے مدد لے اور شیطان اور اس کے دوستوں کے فتنوں کے خلاف ان سے مدد لے اگر موت کا ذکر کثرت سے کرنے سے اس نے فائدہ اٹھا لیا اور اس کے دل کی سختی چھٹ گئی تو یہی اس کا مقصود ہے اگر اس پر دل کا میل بڑھ گیا اور گناہ کے اسباب مستحکم ہوگئے تو موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا لوگوں کے پاس جانا اور مسلمانوں کی قبروں کی زیارت کرنا ان گناہوں کو دور کرنے میں وہاں تک پہنچ سکتا ہے جہاں تک پہلی صورت نہ پہنچ پائی تھی۔ کیونکہ کو ت کا ذکر دل کے لیے ایک خبر ہے جس کی طرف اس کا ٹھکانہ ہے اور یہ اسے خبردار کرنے کے قائم مقام ہے۔ جو آدمی موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہے اس کے پاس جانا اور مسلمانوں میں سے جو کوئی مرچکا ہے اس کی قبر کی زیارت کرنا یہ آنکھوں سے مشاہدہ ہے اس وجہ سے دوسری صورت پہلی سے زیادہ موثر ہے رسول اللہ کا ارشاد ہے : لیس الخبر کالمعاینۃ خبر آنکھوں دیکھی چیز جیسی نہیں ہوتی۔ اسے حضرت ابن عباس نے روایت کیا ہے۔ جو لوگ موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہوتے ہیں ان کے حال سے عبرت حاصل کرنا ہر وقت ممکن نہیں ہوتا جو آدمی اپنے دل کا علاج کرنا چاہتا ہے اس کا علاج بعض اوقات ایک لمحے میں نہیں ہوپاتا، جہاں تک زیارت قبول کا تعلق ہے تو اس کا وجود یعنی اثر بہت تیز ہوتا ہے اور ان سے نفع حاصل کرنا زیادہ مناسب اور موزوں ہوتا ہے۔ جو آدمی قبروں کی زیارت کا ارادہ کرتا ہے اس کے لیے مناسب یہ ہے وہ اس کے آداب اپنائے، آتے وقت اس کا دل حاضر ہو اس کے پیش نظر صرف قبر کی زیارت نہ ہو کیونکہ یہ تو صرف اس کی ایسی حالت ہے جس میں حیوان بھی اس کے ساتھ شریک ہیں ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں، بلکہ اس کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کی رضا اور اپنے فاسد دل کی اصلاح ہونی چاہیے۔ یا میت کو نفع پہنچانے کا ارادہ ہونا چاہیے جو زیارت کرنے والا اس کے پاس قرآن پڑھے گا، دعا کرے گا، قبروں کے اوپر چلنے اور ان پر بیٹھنے سے اجتناب کرے جب قبرستان میں داخل ہو تو وہ انہیں سلام کرے جب وہ اپنے میت کی قبر تک پہنچے جسے وہ پہچانتا ہے تو اسے بھی سلام کرے اور اس کے چہرے کی جانب سے آئے کیونکہ وہ اس کی زیارت میں اس طرح ہے جس طرح وہ زندہ حالت میں اس سے مخاطب تھا اگر زندہ حالت میں اس سے خطاب کرتا تو آداب یہی ہوتے کہ اس کے چہرے کے بالمقابل ہوتا یہاں بھی اسی ہے پھر جو مٹی کے نیچے جا چکا ہے اپنے گھر والوں اور احباب سے الگ ہوچکا ہے اس سے عبرت حاصل کرنے کے بعد کہ اس میت نے چھوٹے بڑے لشکروں کی قیادت کی ہوگی، ساتھیوں اور قبائل سے مقابلہ کیا ہوگا اموال اور ذخائر کو جمع کیا ہوگا تو اسے موت ایسے وقت میں آپہنچی کہ اسے گمان تک نہ تھا ایسی ہولناکی میں موت آئی جس کا اسے کوئی انتظار نہ تھا تو زیارت کرنے والے کو اس بھائی کی حالت میں غور کرنا چاہیے جو گزر چکا ہے اور ان ساتھیوں میں شامل ہوچکا ہے جنہوں نے امیدوں کو پایا اور اموال کو جمع کیا کہ ان کی آرزوئیں کیسے ختم ہوگئیں، ان کے اموال نے انہیں کوئی نفع نہ دیا، مٹی نے ان کے چہروں کے محاسن کو مٹا دیا اور قبروں میں ان کے اجزا بکھر گئے، ان کے بعد ان کی بیویاں بیوہ ہوگئیِ ان کی اولادیں یتیم ہوگئیں، دوسروں نے ان کے عمدہ اموال کو تقسیم کرلیا تاکہ اسے ان کا مقاصد میں گھومنا پھرنا، حصول مطالب میں ان کا حرص، اسباب کے حصول میں ان کا دھوکہ اور جوانی اور صحت کی طرف ان کا میلان سب کو یاد کرسکے اور یہ بھی جان سکے کہ اس کا لہو و لعب کی طرف میلان ان کے میلان اور غفلت کی طرح ہے جس کے سامنے خوفناک موت اور تیز ہلاکت ہے یقینا وہ اس طرف جارہا ہے جس طرف وہ گئے تھے اسے اپنے دل میں اس آدمی کے ذکر کو یاد کرنا چاہیے جو اپنی اغراض میں متردد تھا کہ اس کے پاؤں کیسے ٹوٹ گئے، وہ اپنے دوستوں کو دیکھ کر لذت حاصل کرتا تھا جبکہ اب اس کی آنکھیں بہہ چکی ہیں، وہ اپنی قوت گویائی کی بلاغت سے حملہ کیا کرتا تھا جبکہ کیڑے اس کی زبان کو کھا گئے ہیں، وہ لوگوں کی موت پر ہنسا کرتا تھا جب کہ مٹی نے اس کے دانتوں کو بوسیدہ کردیا ہے، وہ یقین کرلے کہ اس کا حال اس کے حال جیسا ہوگا اور اس کا انجام اس کے انجام جیسا ہوگا۔ اس یاد اور عبرت کی وجہ سے اس سے تمام دنیوی غیرتیں زائل ہوجائیں گی اور اور وہ اخروی اعمال پر متوجہ ہوگا۔ وہ دنیا میں زہد اختیار کرے گا اپنے رب کی اطاعت کی طرف متوجہ ہوگا اس کا دل نرم ہوجائے گا اور اعضاء میں خشوع واقع ہوجائے گا۔
Ayah 108:2

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ Open ayah 108:2 in the Quran reader

تو اپنے پروردگار کے لئے نماز پڑھا کرو اور قربانی کیا کرو

پس آپ نماز پڑھا کریں اپنے رب کے لیے اور قربانی دیں (اسی کی خاطر) اذا لقیتک عن سخط تکاشرنی۔۔۔ وان تغیبت کنت الھامزہ اللمزۃ۔ جب میں تجھے ملتا ہوں تو تو ناراضگی کی وجہ سے دانت نکالتا ہے اور جب میں غائب ہوتا ہوں تو تو چغل خور اور طعن کرنے والا ہوتا ہے۔ الشحط کا معنی بعد ہے اور ھمزۃ ایسا اسم ہے جو مبالغہ کے لیے وضع کیا گیا ہے جس طرح کہا جاتا ہے : سخرۃ، ضحکۃ جو مذاق کرتا ہے اور لوگوں کو ہنساتا ہے۔ ابو جعفر محمد بن علی اور اعراج نے ھمزۃ اور لمزۃ میم کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے، اگر یہ دونوں سے قرات ثابت ہو تو یہ اسم مفعول کے معنی میں ہوگا۔ یہ وہ آدمی ہوتا ہے جو لوگوں کے سامنے آتا ہے تو لوگ اس کے ساتھ مذاق کرتے ہیں، اس پر ہنستے ہیں اور وہ انہیں غیبت پر برانگیختہ کرتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت ابو وائل، نخعی اور اعمش نے اسے ویل للھمزۃ اللمزۃ پڑھا ہے۔ ھمز کا اصل معنی توڑنا، کسی شی کو سختی سے کاٹنا ہے۔ اس معنی میں ھمز الحرف ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : ھمزۃ راسہ میں نے اس کے سر کو توڑ دیا۔ ھمزت الجوز بکفی میں نے ہتھیلی سے اخروٹ توڑا، ایک بدو نے کہا : اتھمز الفارۃ ؟ کیا بلی ٹکڑے ٹکڑے کرتی ہے۔ تو اس نے کہا : اسے بلی ٹکڑے ٹکڑے کرتی ہے۔ْ صحاح میں جو جملہ مذکورہ ہے وہ یہ ہے ایک بدو سے کہا گیا : اتھمز الفارۃ ؟ تو اس نے کہا : اسے بلی ٹکڑے ٹکڑے کرتی ہے۔ پہلا قول ثعلبی کا ہے یہ اس امر پر دال ہے کہ بلی کو ھمزۃ کہتے ہیں۔ عجاج نے کہا : ومن ھمزنا راسہ تھشما جس کے سر کو ہم توڑیں تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ھمز اور لمز کا اصل معنی دھکیلنا اور مارنا ہے : لمزہ یلمزہ لمزا جب وہ اسے مارے اور دھکے دے اس طرح ھمزہ ہے جب وہ اسے دھکے دے اور اسے مارے۔ راجز نے کہا : ومن ھمزناہ عزہ تبرکعا۔۔۔ علی استہ زوبعۃ او زوبعا جس کی عزت کو ہم پھاڑ دیں تو وہ اپنی سرین کے بل بگولہ کی صورت میں یا حقیر ہو کر جا گرتا ہے۔ برکعۃ کا معنی ہے چار اعضا پر کھڑا ہونا برکعہ فتبرکع میں نے اسے گرایا تو وہ اپنی سرین کے بل گرگیا ۔ یہ صحاح میں کہا : آیت کریمہ اخنس بن شریق کے حق میں نازل ہوئی جو ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے۔ وہ لوگوں کی غیبت کرتا تھا اور ان کی عیب جوئی کرتا تھا وہ موجود ہوتے یا غائب ہوتے۔ اب جریج نے کہا : یہ آیت ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی وہ نبی کریم کی عدم موجودگی میں آپ کی غیبت کرتا اور سامنے بدگوئی کیا کرتا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ آیت ابی بن خلف کے حق میں نازل ہوئی۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ جمیل بن عامر ثقفی کے حق میں نازل ہوئی۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ بغیر تخصیص کے عموم کے لیے ہے ؛ یہ اکثر علماء کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : یہ کسی کے ساتھ بھی خاص نہیں بلکہ یہ ہر کسی کے لیے ہے جس کی یہ صفت ہے۔ فراء نے کہا : یہ جائز ہے کہ عام ذکر کیا جائے اور خاص کا قصد کیا جائے ایک کا قصد کیا جب کوئی یہ کہے : لا ازورک ابدا تو تو کہتا ہے : من لم یزرنی فلست بزائرہ یعنی وہ صرف قائل کا ارادہ کرتا ہے یعنی من عموم پر دلالت کرتا ہے ہر کوئی مراد ہونا چاہیے مگر وہ صرف اس فرد کا ارادہ کرتا ہے جس نے یہ بات کہی تھی۔ اس نے حادثات زمانہ کے لیے تیار کر کے رکھا۔ جس طرح کرم اور اکرم ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اس کی مقدار کو شمار کیا ؛ یہ سدی کا قول ہے۔ ضحاک نے کہا : اس نے اپنے وارث کے لیے اپنا مال تیار کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس نے عدد اور کثرت پر فخر کیا۔ مقصود طاعت میں مال خرچ کرنے سے روکنے پر مذمت کرنا ہے، جس طرح فرمایا : مناع للخیر (ق) اور فرمایا و جمع فاوعی (المعارج) عام قرات جمع ہے۔ ابن عامر، حمزہ اور کسائی نے اسے میم کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ابو عبید نے وعددہ کی وجہ سے اسے ہی اختیار کیا ہے۔ حضرت حسن بصیر، نصر بن عاصم اور ابو العالیہ نے جمع اور عددہ پڑھا ہے۔ اور تضعیف کا اظہار کیا یعنی اس میں ادغام نہیں کیا، کیونکہ اس کی اصول عدہ ہے، یہ بعید ہے کیونکہ مصحف میں دو دالوں کے ساتھ واقع ہے شعر میں بھی اس کی مثل واقع ہے جب انہوں نے ہم جنس حروف میں اظہار کیا تو اس میں تخفیف کا کہا : مھلا امامۃ قد جریت من خلقی۔۔۔ انی اجود لا اقوام وان ضئنوا۔ اے امامہ ! ٹھہر جا تو نے میرے اخلاق کا تجربہ کرلیا ہے میں لوگوں کے لیے سخاوت کرتا ہوں اگر وہ بخل کریں۔ محل استدلال ضئنوا ہے۔ یہاں شاعر نے ارادہ کیا انہوں نے بخل کیا تو ہم جنس حروف کو الگ الگ ذکر کیا لیکن شعر ضرورت کی جگہ ہے۔ مہدوی نے کہا : جس نے وعددہ میں تخفیف کی ہے تو یہ المال پر معطوف ہوگا پھر ترجمہ ہوگا و جمع عددہ اس نے سامان کو جمع کیا ہم جنس کو ظاہر کرنے کی صورت میں یہ عددہ کلمہ فعل نہیں ہوگا کیونکہ صرف شعر میں استعمال ہوگا۔ وہ یہ گمان کرتا ہے اس کا مال اسے زندہ رکھے گا وہ مرے گا نہیں، یہ سدی نے کہا : عکرمہ نے کہا : معنی ہے مال اس کی عمر میں اضافہ کردے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو وقت گزر چکا ہے اسے زندہ کردے گا۔ یہ ماضی کا صیغہ ہے جو مستقبل کے معنی میں ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : ھلک واللہ فلان و دخل النار۔ اللہ کی قسم ! فلاں ہلاک ہوگیا اور آگ میں داخل ہوگیا۔ کلا کا لفظ اس لیے ذکر کیا گیا کہ کافر نے جو وہم کیا اس کا رد کرنا مقصود ہے یعنی وہ ہمیشہ نہیں رہے گا اور اس کا مال باقی نہیں رہے گا۔ کلا کے بارے میں گفتگو مکمل گزر چکی ہے۔ عمر بن عبداللہ جو غفرہ کے غلام تھے نے کہا : جب تو اللہ تعالیٰ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنے کلا تو وہ یہ ارشاد فرماتا ہے تو نے جھوٹ بولا۔ لینبذن، یعنی انہیں پھینک دیا جائے گا۔ حضرت حسن بصری، محمد بن کعب، نصر بن عاصم، مجاہد، حمید اور ابن محصین نے پڑھا۔ لینبذن یعنی تثنیہ کا صیغہ پڑھا تو اس سے مراد وہ اور اس کا مال ہے۔ حضرت حسن بصری سے یہ بھی مروی ہے : لینبذنہ یعنی اس کا مال پھینکا جائے گا۔ ان سے نون کے ساتھ جمع کا صیغہ بھی منقول ہے۔ لننبذنہ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بارے میں خبر دیتا ہے کہ وہ مال دار کو پھینکے گا۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : لینبذن یعنی ھمزہ، لمزہ، مال اور اس کے جمع کرنے والے سب کو جہنم میں پھینکا جائے گا۔ حطمہ سے مراد اللہ تعالیٰ کی آگ ہے۔ اسے یہ نام دیا گیا ہے کیونکہ جو چیز بھی اس میں پھینکی جاتی ہے وہ توڑ دیتی ہے اور ریزہ ریزہ کردیتی ہے۔ راجز نے کہا :
Ayah 108:3

اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠ Open ayah 108:3 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ تمہارا دشمن ہی بےاولاد رہے گا

یقینا آپ کا جو دشمن ہے وہی بےنام و نشان ہوگا۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ایک دن یا ایک رات باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر موجود ہیں، پوچھا : تمہیں اس وقت کس چیز نے گھروں سے نکالا ؟ دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بھوک نے۔ فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ مجھے بھی اس چیز نے گھر سے نکالا ہے جس نے تمہیں نکالا ہے دونوں اٹھو، دونوں آپ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے رسول اللہ ایک انصاری کے گھر آئے تو وہ گھر پر نہیں تھا جب اس کی بیوی نے رسول اللہ کو دیکھا تو اس نے خوش آمدید کہا۔ رسول اللہ نے اس سے پوچھا : فلاں کہاں ہے ؟ اس نے عرض کیا : وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گیا ہوا ہے، اسی اثنا میں وہ انصاری بھی پہنچ جاتا ہے اس نے رسول اللہ اور آپ کے دونوں صحابہ کو دیکھا پھر گویا ہوا : الحمدللہ آج مجھ سے بڑھ کر کوئی عزت والے مہمانوں والا نہیں۔ وہ گیا تو کھجور کا ایک خوشہ ان کے پاس لے آیا۔ عرض کی : اسے کھاؤ اور چھری لی رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : دودھ دینے والے جانور کو ذبح نہ کرنا۔ اس انصاری نے جانور ذبح کیا تو انہوں نے اس بکری اور اس خوشے سے کھانا کھایا اور پانی پیا۔ جب یہ حضرات خوب سیر ہوگئے تو رسول اللہ نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ْ تم سے اس دن کی نعمت کے بارے میں پوچھا جائے گا، تمہیں تمہارے گھروں سے بھوک نے نکالا پھر تم نہ لوٹے یہاں تک کہ تمہیں اس نعمت نے آلیا۔ اسے امام ترمذی نے نقل کیا ہے اس میں یہ الفاظ بھی مروی ہیں : ھذا والذی نفسی بیدہ من النعیم الذی تسالون عنہ یوم القیامۃ ظل بارد و رطب طیب وماء بارد۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے بارے میں قیامت کے روز تم سے پوچھا جائے گا۔ ٹھنڈا سایہ، عمدہ تر کھجوریں اور ٹھنڈا پانی اور اس انصاری کی کنیت ذکر کی اور کہا : ابو ہیثم بن تیہان اور اس واقعہ کا ذکر کیا۔ میں کہتا ہوں : اس انصاری کا نام مالک بن تیہان تھا اس کی کنیت ابو ہیثم تھی اس واقعہ کے بارے میں حضرت عبداللہ بن رواحہ اشعار کہتے ہیں اور ابو ہیثم بن تیہان کی مدح کرتے ہیں : ما بین صنبور الی الازاء صنبور اور ازاء کے درمیان صنبور اس نڑ کو کہتے ہیں جو برتن میں ہو خواہ وہ برتن لوہے کا ہو یا سکے کا ہو اس سے پانی پیا جاتا ہے، ان سب اقوال کو جوہری نے بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔