109. Surah Al-Kaafiroon

الكافرونThe Disbelievers · 6 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 109:1–5

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ Open ayah 109:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ان منکران اسلام سے کہہ دو کہ اے کافرو !

لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 109:2 in the Quran reader

جن (بتوں) کو تم پوجتے ہو ان کو میں نہیں پوجتا

وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُۚ Open ayah 109:3 in the Quran reader

اور جس (خدا) کی میں عبادت کرتا ہوں اس کی تم عبادت نہیں کرتے

وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْۙ Open ayah 109:4 in the Quran reader

اور (میں کہتا ہوں) کہ جن کی تم پرستش کرتے ہو انکی پرستش کرنے والا نہیں ہوں

وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُؕ Open ayah 109:5 in the Quran reader

اور نہ تم اسکی بندگی کرنے والے (معلوم ہوتے) ہو جس کی میں بندگی کرتا ہوں

قل یا ایھا الکافرون۔ تا۔ ولا انتم عبدون ما اعبد۔ علماء نے کہا : جو آدمی اپنے دل کا علاج کرنا چاہتا ہے اور ظلم و قہر کی زنجیروں سے آزاد ہو کر اپنے رب کی طاعت کی طرف متوجہ ہونا چاہتا ہے تو اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ لذات کو ختم کرنے والی، جماعتوں کو جدا کرنے والی، بیٹوں اور بیٹیوں کو یتیم کرنے والی کا ذکر کثرت سے کرے جو لوگ موت وحیات کی کشمکش میں ہیں ان کی ملاقات پر مواظبت اختیار کرے اور مسلمانوں کی قبروں کی زیارت میں ہمیشگی اختیار کرے۔ یہ تین امور ہیں جس آدمی کا دل سخت ہو، گناہ اس کی اپنی گرفت میں لے چکا ہو تو اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ اپنی مرضی کے خلاف اس سے مدد لے اور شیطان اور اس کے دوستوں کے فتنوں کے خلاف ان سے مدد لے اگر موت کا ذکر کثرت سے کرنے سے اس نے فائدہ اٹھا لیا اور اس کے دل کی سختی چھٹ گئی تو یہی اس کا مقصود ہے اگر اس پر دل کا میل بڑھ گیا اور گناہ کے اسباب مستحکم ہوگئے تو موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا لوگوں کے پاس جانا اور مسلمانوں کی قبروں کی زیارت کرنا ان گناہوں کو دور کرنے میں وہاں تک پہنچ سکتا ہے جہاں تک پہلی صورت نہ پہنچ پائی تھی۔ کیونکہ کو ت کا ذکر دل کے لیے ایک خبر ہے جس کی طرف اس کا ٹھکانہ ہے اور یہ اسے خبردار کرنے کے قائم مقام ہے۔ جو آدمی موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہے اس کے پاس جانا اور مسلمانوں میں سے جو کوئی مرچکا ہے اس کی قبر کی زیارت کرنا یہ آنکھوں سے مشاہدہ ہے اس وجہ سے دوسری صورت پہلی سے زیادہ موثر ہے رسول اللہ کا ارشاد ہے : لیس الخبر کالمعاینۃ خبر آنکھوں دیکھی چیز جیسی نہیں ہوتی۔ اسے حضرت ابن عباس نے روایت کیا ہے۔ جو لوگ موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہوتے ہیں ان کے حال سے عبرت حاصل کرنا ہر وقت ممکن نہیں ہوتا جو آدمی اپنے دل کا علاج کرنا چاہتا ہے اس کا علاج بعض اوقات ایک لمحے میں نہیں ہوپاتا، جہاں تک زیارت قبول کا تعلق ہے تو اس کا وجود یعنی اثر بہت تیز ہوتا ہے اور ان سے نفع حاصل کرنا زیادہ مناسب اور موزوں ہوتا ہے۔ جو آدمی قبروں کی زیارت کا ارادہ کرتا ہے اس کے لیے مناسب یہ ہے وہ اس کے آداب اپنائے، آتے وقت اس کا دل حاضر ہو اس کے پیش نظر صرف قبر کی زیارت نہ ہو کیونکہ یہ تو صرف اس کی ایسی حالت ہے جس میں حیوان بھی اس کے ساتھ شریک ہیں ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں، بلکہ اس کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کی رضا اور اپنے فاسد دل کی اصلاح ہونی چاہیے۔ یا میت کو نفع پہنچانے کا ارادہ ہونا چاہیے جو زیارت کرنے والا اس کے پاس قرآن پڑھے گا، دعا کرے گا، قبروں کے اوپر چلنے اور ان پر بیٹھنے سے اجتناب کرے جب قبرستان میں داخل ہو تو وہ انہیں سلام کرے جب وہ اپنے میت کی قبر تک پہنچے جسے وہ پہچانتا ہے تو اسے بھی سلام کرے اور اس کے چہرے کی جانب سے آئے کیونکہ وہ اس کی زیارت میں اس طرح ہے جس طرح وہ زندہ حالت میں اس سے مخاطب تھا اگر زندہ حالت میں اس سے خطاب کرتا تو آداب یہی ہوتے کہ اس کے چہرے کے بالمقابل ہوتا یہاں بھی اسی ہے پھر جو مٹی کے نیچے جا چکا ہے اپنے گھر والوں اور احباب سے الگ ہوچکا ہے اس سے عبرت حاصل کرنے کے بعد کہ اس میت نے چھوٹے بڑے لشکروں کی قیادت کی ہوگی، ساتھیوں اور قبائل سے مقابلہ کیا ہوگا اموال اور ذخائر کو جمع کیا ہوگا تو اسے موت ایسے وقت میں آپہنچی کہ اسے گمان تک نہ تھا ایسی ہولناکی میں موت آئی جس کا اسے کوئی انتظار نہ تھا تو زیارت کرنے والے کو اس بھائی کی حالت میں غور کرنا چاہیے جو گزر چکا ہے اور ان ساتھیوں میں شامل ہوچکا ہے جنہوں نے امیدوں کو پایا اور اموال کو جمع کیا کہ ان کی آرزوئیں کیسے ختم ہوگئیں، ان کے اموال نے انہیں کوئی نفع نہ دیا، مٹی نے ان کے چہروں کے محاسن کو مٹا دیا اور قبروں میں ان کے اجزا بکھر گئے، ان کے بعد ان کی بیویاں بیوہ ہوگئیِ ان کی اولادیں یتیم ہوگئیں، دوسروں نے ان کے عمدہ اموال کو تقسیم کرلیا تاکہ اسے ان کا مقاصد میں گھومنا پھرنا، حصول مطالب میں ان کا حرص، اسباب کے حصول میں ان کا دھوکہ اور جوانی اور صحت کی طرف ان کا میلان سب کو یاد کرسکے اور یہ بھی جان سکے کہ اس کا لہو و لعب کی طرف میلان ان کے میلان اور غفلت کی طرح ہے جس کے سامنے خوفناک موت اور تیز ہلاکت ہے یقینا وہ اس طرف جارہا ہے جس طرف وہ گئے تھے اسے اپنے دل میں اس آدمی کے ذکر کو یاد کرنا چاہیے جو اپنی اغراض میں متردد تھا کہ اس کے پاؤں کیسے ٹوٹ گئے، وہ اپنے دوستوں کو دیکھ کر لذت حاصل کرتا تھا جبکہ اب اس کی آنکھیں بہہ چکی ہیں، وہ اپنی قوت گویائی کی بلاغت سے حملہ کیا کرتا تھا جبکہ کیڑے اس کی زبان کو کھا گئے ہیں، وہ لوگوں کی موت پر ہنسا کرتا تھا جب کہ مٹی نے اس کے دانتوں کو بوسیدہ کردیا ہے، وہ یقین کرلے کہ اس کا حال اس کے حال جیسا ہوگا اور اس کا انجام اس کے انجام جیسا ہوگا۔ اس یاد اور عبرت کی وجہ سے اس سے تمام دنیوی غیرتیں زائل ہوجائیں گی اور اور وہ اخروی اعمال پر متوجہ ہوگا۔ وہ دنیا میں زہد اختیار کرے گا اپنے رب کی اطاعت کی طرف متوجہ ہوگا اس کا دل نرم ہوجائے گا اور اعضاء میں خشوع واقع ہوجائے گا۔ فراء نے کہا : کلا سے مراد یہ ہے معاملہ اس طرح نہیں جس باہم فخر اور کثرت پر تم ہو تم عنقریب اس کا انجام جان لوگے۔ یہاں وعید پر وعید ہے ؛ یہ مجاہد کا قول ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ یہاں کلام میں جو تکرار ہے وہ تاکید اور تغلیظ کے طریقہ پر ہو ؛ یہ فراء کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : قبر میں جو تم پر عذاب آئے گا اس کو تم جان لو گے پھر آخرت میں تم پر جو عذاب آئے گا اس کو تم جان لو گے۔ پہلی کلام قبر کے عذاب کے بارے میں ہے اور دوسری کلام آخرت کے بارے میں ہے۔ تو یہ تکرار دو حالتوں کے بارے میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلا سوف تعلمون۔ یہ آنکھ سے دیکھنے کے بارے میں ہے کہ جس کی طرف تمہیں دعوت دی گئی ہے وہ حق ہے، ثم کلا سوف تعلمون۔ یہ دوبارہ اٹھائے جانے کے وقت ہوگا کہ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا وہ سچ ہے۔ زر بن حبیش نے حضرت علی سے روایت نقل کی ہے کہ ہم عذاب قبر میں شک کرتے تھے یہاں تک کہ یہ سورت نازل ہوئی۔ تو اللہ تعالیٰ کے فرمان : کلا سوف تعلمون، سے مراد ہے تم قبروں میں دیکھ لو گے، ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلا سوف تعلمون، سے مراد ہے جب موت تم پر واقع ہوگی اور فرشتے تمہاری روحیں نکالنے کے لیے تمہارے پاس آئیں گے۔ ثم کلا سوف تعلمون۔ جب تم قبروں میں داخل ہوگے اور تمہارے پاس منکر و نکیر آئیں گے، سوال کی ہولناکی تمہیں اپنی گرفت میں لے لے گی اور جو اب تم سے ختم ہوجائے گا۔ میں کہتا ہوں : یہ سورت عذاب قبر کے بارے میں قول کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے ہم نے اپنی کتاب التذکرہ میں ذکر کیا ہے کہ اس پر ایمان واجب ہے اس کی تصدیق لازم ہے جیسے نبی صادق و امین نے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ قبر میں مکلف بندے کی طرف زندگی لوٹا کر زندہ کردیتا ہے، عقل کی جس صفت پر اس نے زندگی بسر کی تھی اتنا عقل اسے عطا فرماتا ہے تاکہ جو اس سے سوال کیا جارہا ہے اسکی اسے سمجھ ہو، اس کا وہ جواب دے سکے، اس کے رب کی جانب سے جو اسے چیز مل رہی ہے اس کا ادراک کرسکے اور قبر میں اس کے لیے جو کرامت اور ذلت مقدر کی گئی ہے اس کو جان سکے ؛ یہ اہل سنت کا مذہب ہے جس پر اہل اسلام کی جماعت قائم ہے ہم نے التذکرہ میں اس پر مفصل بحث کی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلا سوف تعلمون یہ دوبارہ اٹھانے کا وقت ہوگا کہ تم جان لو گے کہ جو تمہیں کہا جاتا تھا کہ تم کو اٹھایا جائے گا۔ ثم کلا سوف تعلمون یہ قیامت میں ہوگا کہ تم جان لو گے کہ تمہیں جو کچھ کہا جاتا تھا کہ تمہیں عذاب دیا جائے گا۔ یہ سورت قیامت کے احوال یعنی دوبارہ اٹھانا، میدان محشر میں جمع کرنا، سوال کرنا، پیشی ہونا وغیرہ دوسرے اموال اور نزاع سب کو شامل ہے، جس طرح ہم نے کتاب التذکرہ میں مردوں کے احوال اور آخرت کے امور پر گفتگو کی ہے۔ ضحاک نے کہا : کلا سوف تعلمون کا مصداق کفار ہیں ثم کلا سوف تعلمون کا مصداق مومن ہیں، اس طرح وہ اسے پڑھا کرتے تھے پہلی آیت تاء کے ساتھ اور دوسری آیت یاء کے ساتھ۔ یہ ایک اور وعید ہے۔ یہ کلام اس بنا پر ہے کہ قسم محذوف ہے یعنی تم آخرت میں ضرور دیکھو گے۔ یہ خطاب ان کفار کو ہے جن کیلیے جہنم لازم ہوچکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حکم عام ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وان منکم الا واردھا۔ (مریم) یہ کفار کے لیے گھر ہے اور مومن کے لیے گزرگاہ ہے۔ صحیح میں ہے : ان میں سے پہلا بجلی کی سی تیزی سے پھر ہوا کی سی تیزی سے پھر پرندے کی سی تیزی سے گزرے گا۔ سورة مریم میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ کسائی اور ابن عامر نے اسے لترون پڑھا ہے یہ اریتہ الشی سے مشتق ہے یعنی تمہیں اس کی طرف اٹھایا جائے گا اور تمہیں وہ دکھائی جائے گی تاء کے فتحہ کے ساتھ یہ عام قراء کی قرات ہے۔ یعنی تم دور ہونے کے باوجود اپنی آنکھوں سے جہنم کو دیکھو گے پھر تم اپنی آنکھ سے مشاہدہ کرو گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ہمیشہ جہنم میں رہنے کی خبر ہے یعنی یہ دائمی اور متصل روایت ہے اس بنا پر خطاب کفار کے لیے ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لو تعلمون علم الیقین۔ کا معنی ہے تم دنیا میں آج اس امر کو علم یقین سے جان لیتے جو آگے ہونے والا ہے جس کی تمہارے سامنے صفت بیان کی گئی ہے کہ تم ضرور اپنے دل کی آنکھوں سے اسے دیکھو گے، کیونکہ علم یقین تجھے جہنم کو تیرے دل کی آنکھوں سے دکھائے گا وہ یہ ہے تیرے لیے قیامت کے مراحل اور اس کی قطع مسافت تیرے لیے عیاں ہوگی۔ پھر معاینہ کے وقت سر کی آنکھوں سے دیکھے گا تو تو اسے یقینا دیکھ لے گا وہ تیری آنکھ سے غائب نہیں ہوگی پھر سوال اور پیشی کے وقت تم سے نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ایک دن یا ایک رات باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر موجود ہیں، پوچھا : تمہیں اس وقت کس چیز نے گھروں سے نکالا ؟ دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بھوک نے۔ فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ مجھے بھی اس چیز نے گھر سے نکالا ہے جس نے تمہیں نکالا ہے دونوں اٹھو، دونوں آپ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے رسول اللہ ایک انصاری کے گھر آئے تو وہ گھر پر نہیں تھا جب اس کی بیوی نے رسول اللہ کو دیکھا تو اس نے خوش آمدید کہا۔ رسول اللہ نے اس سے پوچھا : فلاں کہاں ہے ؟ اس نے عرض کیا : وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گیا ہوا ہے، اسی اثنا میں وہ انصاری بھی پہنچ جاتا ہے اس نے رسول اللہ اور آپ کے دونوں صحابہ کو دیکھا پھر گویا ہوا : الحمدللہ آج مجھ سے بڑھ کر کوئی عزت والے مہمانوں والا نہیں۔ وہ گیا تو کھجور کا ایک خوشہ ان کے پاس لے آیا۔ عرض کی : اسے کھاؤ اور چھری لی رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : دودھ دینے والے جانور کو ذبح نہ کرنا۔ اس انصاری نے جانور ذبح کیا تو انہوں نے اس بکری اور اس خوشے سے کھانا کھایا اور پانی پیا۔ جب یہ حضرات خوب سیر ہوگئے تو رسول اللہ نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ْ تم سے اس دن کی نعمت کے بارے میں پوچھا جائے گا، تمہیں تمہارے گھروں سے بھوک نے نکالا پھر تم نہ لوٹے یہاں تک کہ تمہیں اس نعمت نے آلیا۔ اسے امام ترمذی نے نقل کیا ہے اس میں یہ الفاظ بھی مروی ہیں : ھذا والذی نفسی بیدہ من النعیم الذی تسالون عنہ یوم القیامۃ ظل بارد و رطب طیب وماء بارد۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے بارے میں قیامت کے روز تم سے پوچھا جائے گا۔ ٹھنڈا سایہ، عمدہ تر کھجوریں اور ٹھنڈا پانی اور اس انصاری کی کنیت ذکر کی اور کہا : ابو ہیثم بن تیہان اور اس واقعہ کا ذکر کیا۔ میں کہتا ہوں : اس انصاری کا نام مالک بن تیہان تھا اس کی کنیت ابو ہیثم تھی اس واقعہ کے بارے میں حضرت عبداللہ بن رواحہ اشعار کہتے ہیں اور ابو ہیثم بن تیہان کی مدح کرتے ہیں : فلم ار کالاسلام عزا لامۃ۔۔۔ ولا مثل اضیاف الا راشی معشرا میں نے کسی قوم کے لیے اسلام جیسی کوئی عزت نہیں دیکھی اور نہ میں نے اراشی کے مہمانوں جیسی کوئی جماعت دیکھی ہے۔ نبی و صدیق و فاروق امۃ۔۔۔ و خیر بنی حواء فرعا و عنصرا نبی، صدیق اور امت کا فاروق، بنی حواء میں سے عنصر کے اعتبار سے سب سے بہتر۔ فوافوا لمیقات و قدر قضیۃ۔۔۔ و کان قضاء اللہ قدرا مقدرا انہوں نے وعدہ و پیمان کا حق ادا کیا۔ اللہ کا فیصلہ ہو کر رہنے والا ہے۔ الی رجل نجد یباری بجودہ۔۔۔ شموس الضحی جو دا و مجدا و مفخرا نجد کے ایک معزز آدمی کی طرف جو اپنی سخاوت، بزرگی اور فخر میں چاشت کے سورجوں کا مقابلہ کرتا ہے۔ و فارس خلق اللہ فی کل غارۃ۔۔۔ اذا لبس القوم الحدید المسمرا یہ غزوہ میں اللہ کی مخلوق کا شاہسوار ہے جب قوم گندمگوں نیزے زیب تن کرلیں۔ ففدی و حیا ثم ادنی قراھم۔۔۔ فلم یقرھم الا سمینا متمرا
Ayah 109:6

لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَ لِیَ دِیْنِ۠ Open ayah 109:6 in the Quran reader

تم اپنے دین پر میں اپنے دین پر

لکم دینکم ولی دین۔ تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔ اس میں تہدید کا معنی ہے، یہ آیت بھی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے لنا اعمالنا ولکم اعما لکم (القصص) اگر تم اپنے دین پر راضی ہو تو ہم اپنے دین سے راضی ہیں۔ یہ قتال کے حکم سے قبل کا حکم ہے اسے آیت سیف سے منسوخ کردیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ پوری آیت منسوخ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں سے کوئی چیز بھی منسوخ نہیں کیونکہ یہ خبر ہے اور لم دینکم کا معنی ہے تمہارے لیے دین کی جزا اور میرے لیے میرے دین کی جزا ہے۔ ان کے دین کو دین کا نام دیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے اسی کا اعتقاد رکھا تھا اور اس سے اپنی وابستگی کی تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمہارے لیے تمہاری جزا اور میرے لیے میرا جزا ہے کیونکہ دین کا معنی جزا ہے۔ نافع نے ولی دین میں یاء کو فتحہ دی ہے اور بزی نے ابن کثیر سے اسی طرح روایت کی ہے جبکہ ان سے اختلاف مروی ہے۔ ہشام نے ابن عامر سے اور احفص نے عاسم سے اسی طرح نقل کیا ہے دین میں دونوں حالتوں میں نصر بن عاصم، سلام اور یعقوب نے یاء کو ثابت رکھتا ہے انہوں نے کہا : یہ بھی ایک اسم ہے جس طرح دینکم میں کاف ہے اور قمت میں تاء ہے جبکہ باقی قراء نے یاء کے بغیر پڑھا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے : فھو یھدین (الشعرائ) فاتقوا اللہ واطیعون (آل عمران) اس کی مثل دوسری آیات ہیں ان میں کسرہ پر اکتفا کیا گیا ہے اور مصحف کے خط کی اتباع کی گئی ہے کیونکہ اس میں یہ یاء کے بغیر واقع ہے۔