110. Surah An-Nasr
النصرDivine Support · 3 ayahsتفسیر القرطبی
اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ Open ayah 110:1 in the Quran reader
جب اللہ کی مدد آپہنچی اور فتح (حاصل ہوگئی)
اذا جاء نصر اللہ والفتح۔
جب اللہ کی مدد آپہنچے اور فتح (نصیب ہوجائے)
نصر کا معنی مدد ہے یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے : قد نصر الغیث الارض، بارش نے نباتات کے اگانے میں زمین کی مدد کی جبکہ وہ قحط کا شکار تھی شاعر نے کہا :
اذا انسلخ الشھر الحرام فودعی۔۔۔ بلاد تمیم وانصری ارض عامر
جب شہر حرام گزر جائے تو تمیم کے علاقوں کو الوداع کہہ دے اور عامر کے علاقہ کی مدد کر۔
اس میں تہدید کا معنی ہے، یہ آیت بھی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے لنا اعمالنا ولکم اعما لکم (القصص) اگر تم اپنے دین پر راضی ہو تو ہم اپنے دین سے راضی ہیں۔ یہ قتال کے حکم سے قبل کا حکم ہے اسے آیت سیف سے منسوخ کردیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ پوری آیت منسوخ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں سے کوئی چیز بھی منسوخ نہیں کیونکہ یہ خبر ہے اور لم دینکم کا معنی ہے تمہارے لیے دین کی جزا اور میرے لیے میرے دین کی جزا ہے۔ ان کے دین کو دین کا نام دیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے اسی کا اعتقاد رکھا تھا اور اس سے اپنی وابستگی کی تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمہارے لیے تمہاری جزا اور میرے لیے میرا جزا ہے کیونکہ دین کا معنی جزا ہے۔ نافع نے ولی دین میں یاء کو فتحہ دی ہے اور بزی نے ابن کثیر سے اسی طرح روایت کی ہے جبکہ ان سے اختلاف مروی ہے۔ ہشام نے ابن عامر سے اور احفص نے عاسم سے اسی طرح نقل کیا ہے دین میں دونوں حالتوں میں نصر بن عاصم، سلام اور یعقوب نے یاء کو ثابت رکھتا ہے انہوں نے کہا : یہ بھی ایک اسم ہے جس طرح دینکم میں کاف ہے اور قمت میں تاء ہے جبکہ باقی قراء نے یاء کے بغیر پڑھا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے : فھو یھدین (الشعرائ) فاتقوا اللہ واطیعون (آل عمران) اس کی مثل دوسری آیات ہیں ان میں کسرہ پر اکتفا کیا گیا ہے اور مصحف کے خط کی اتباع کی گئی ہے کیونکہ اس میں یہ یاء کے بغیر واقع ہے۔
وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 110:2 in the Quran reader
اور تم نے دیکھ لیا کہ لوگ غول کے غول خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں
ورایئت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا۔
اور آپ دیکھ لیں لوگوں کو کہ وہ داخل ہورہے ہیں اللہ کے دین میں فوج در فوج۔
میں اس کے ساتھ صبح و شام ٹال مٹول سے کام لیتا ہوں یہاں تک کہ مجھ سے اکتا جاتا ہے وہ مجبور ہو کر نصف قرض لینے پر راضی ہوجاتا ہے۔
وہ کہتا ہے : جب وہ دن کے پہلے پہر میرے پاس آتا ہے تو اس کے ساتھ پچھلے پہر کا وعدہ کرتا ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد عشی ہے وہ سورج کے زوال سے لیکر اس کے غروب ہونے کا وقت ہے ؛ یہ حضرت حسن بصری اور قتادہ کا نقطہ نظر ہے ؛ اس معنی میں شاعر کا قول ہے :
تروح بنایا عمرو قد قصر العصر۔۔۔ وفی الروحۃ الاولی الغنیمۃ والاجر۔
اے عمرو ہمیں لے چلو وقت تھوڑا رہ گیا ہے پہلی روانگی میں غنیمت اور اجر ہے۔
قتادہ سے یہ بھی مروی ہے ؛ عصر سے مراد دن کی ساعتوں میں سے آخری ساعت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے عصر کی نماز کی قسم اٹھائی یہی درمیان نماز ہے کیونکہ یہ نمازوں میں سے افضل نماز ہے۔ یہ مقاتل کا قول ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : اذن للعصر یعنی نماز عصر کے لیے آزان دی گئی۔ صلیت للعصر عصر کی نماز پڑھی گئی۔ حدیث صحیح میں ہے السلاۃ الوسطی سے مراد عصر کی نماز ہے۔ سورة بقرہ میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : نبی کریم کے زمانہ کی قسم اٹھائی کیونکہ اس میں نبوت کی تجدید ہوئی اس وجہ سے یہ زمانہ فضیلت رکھتا ہے اس کی قسم اٹھائی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے زمانہ کے رب کی قسم ہے۔
اگر کوئی عصر کے لفظ کو قسم میں ذکر کرے تو کتنا وقت مراد ہوگا ؟
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ١ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ Open ayah 110:3 in the Quran reader
تو اپنے پروردگار کی تسبیح بیان کرو اور اس سے مغفرت مانگو بیشک وہ معاف کرنے والا ہے
فسبح بحمد ربک واستغفرہ انہ کان توابا۔
تو (اس وقت) اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے اس کی پاکی بیان کیجیے اور (اپنی امت کے لیے) اس سے مغفرت طلب کیجیے، بیشک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔
نحاس نے اس قول کو پسند کیا ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومنھم من یلمزک فی الصدقات۔ (التوبہ) ان میں سے کچھ وہ ہیں جو صدقات کے بارے میں آپ پر طعن کرتے ہیں۔ مقاتل نے اس کلام کے مخالف گفتگو کی ہے کہ ھمزۃ اسے کہتے ہیں جو عدم موجود گی میں غیبت کرتا ہے اور لمزۃ اسے کہتے ہیں جو سامنے عیب جوئی کرتا ہے۔ قتادہ اور مجاہد نے کہا : ھمزہ اسے کہتے ہیں جو لوگوں کے اخلاف کے بارے میں طعن کرتا ہے۔ اور لمزۃ اسے کہتے ہیں جو ان کے نسب میں طعن کرتا ہے۔
ابن زید نے کہا : ھامزا سے کہتے ہیں جو ہاتھ سے لوگوں کو اذیت دیتا ہے اور انہیں مارتا ہے۔ اور لمزۃ اسے کہتے ہیں جو زبان سے انہیں اذیت دیتا ہے اور انہیں عیب لگاتا ہے۔ سفیان ثوری نے کہا : جو زبان سے اذیت دیتا ہے اسے ھمزۃ کہتے ہیں اور جو آنکھ سے اذیت دیتا ہے اسے لمزۃ کہتے ہیں۔ ابن کیسان نے کہا : ھمزۃ اسے کہتے ہیں جو اپنے ہم مجلس افراد کو برے الفاظ کے ساتھ اذیت دیتا ہے اور لمزۃ اسے کہتے ہیں جو اپنی نظریں اپنے ساتھی پر گاڑھ دیتا ہے اور اپنے سر، اپنی آنکھوں اور اپنے آبروؤں سے اشارہ کرتا ہے۔ ایک دفعہ کہا : دونوں برابر ہیں۔ وہ چغل خور اور انسان پر طعن کرنے والا ہے جب وہ غائب ہوجائے۔ زیاد اعاجم نے کہا :
تدلی بودی اذا لا قیتنی کذبا۔۔۔ وان اغیب فانت الھامز اللمزہ
جب تو مجھ سے ملاقات کرتا ہے تو جھوٹ کے عالم میں میری محبت کا وسیلہ پکڑتا ہے اور اگر میں غائب ہوں تو تو چغل خور اور طعن کرنے والا ہے۔
ایک اور شاعر نے کہا :
اذا لقیتک عن سخط تکاشرنی۔۔۔ وان تغیبت کنت الھامزہ اللمزۃ۔
جب میں تجھے ملتا ہوں تو تو ناراضگی کی وجہ سے دانت نکالتا ہے اور جب میں غائب ہوتا ہوں تو تو چغل خور اور طعن کرنے والا ہوتا ہے۔
الشحط کا معنی بعد ہے اور ھمزۃ ایسا اسم ہے جو مبالغہ کے لیے وضع کیا گیا ہے جس طرح کہا جاتا ہے : سخرۃ، ضحکۃ جو مذاق کرتا ہے اور لوگوں کو ہنساتا ہے۔ ابو جعفر محمد بن علی اور اعراج نے ھمزۃ اور لمزۃ میم کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے، اگر یہ دونوں سے قرات ثابت ہو تو یہ اسم مفعول کے معنی میں ہوگا۔ یہ وہ آدمی ہوتا ہے جو لوگوں کے سامنے آتا ہے تو لوگ اس کے ساتھ مذاق کرتے ہیں، اس پر ہنستے ہیں اور وہ انہیں غیبت پر برانگیختہ کرتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت ابو وائل، نخعی اور اعمش نے اسے ویل للھمزۃ اللمزۃ پڑھا ہے۔ ھمز کا اصل معنی توڑنا، کسی شی کو سختی سے کاٹنا ہے۔ اس معنی میں ھمز الحرف ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : ھمزۃ راسہ میں نے اس کے سر کو توڑ دیا۔ ھمزت الجوز بکفی میں نے ہتھیلی سے اخروٹ توڑا، ایک بدو نے کہا : اتھمز الفارۃ ؟ کیا بلی ٹکڑے ٹکڑے کرتی ہے۔ تو اس نے کہا : اسے بلی ٹکڑے ٹکڑے کرتی ہے۔ْ صحاح میں جو جملہ مذکورہ ہے وہ یہ ہے ایک بدو سے کہا گیا : اتھمز الفارۃ ؟ تو اس نے کہا : اسے بلی ٹکڑے ٹکڑے کرتی ہے۔ پہلا قول ثعلبی کا ہے یہ اس امر پر دال ہے کہ بلی کو ھمزۃ کہتے ہیں۔ عجاج نے کہا :
برکعۃ کا معنی ہے چار اعضا پر کھڑا ہونا برکعہ فتبرکع میں نے اسے گرایا تو وہ اپنی سرین کے بل گرگیا ۔ یہ صحاح میں کہا : آیت کریمہ اخنس بن شریق کے حق میں نازل ہوئی جو ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے۔ وہ لوگوں کی غیبت کرتا تھا اور ان کی عیب جوئی کرتا تھا وہ موجود ہوتے یا غائب ہوتے۔ اب جریج نے کہا : یہ آیت ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی وہ نبی کریم کی عدم موجودگی میں آپ کی غیبت کرتا اور سامنے بدگوئی کیا کرتا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ آیت ابی بن خلف کے حق میں نازل ہوئی۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ جمیل بن عامر ثقفی کے حق میں نازل ہوئی۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ بغیر تخصیص کے عموم کے لیے ہے ؛ یہ اکثر علماء کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : یہ کسی کے ساتھ بھی خاص نہیں بلکہ یہ ہر کسی کے لیے ہے جس کی یہ صفت ہے۔ فراء نے کہا : یہ جائز ہے کہ عام ذکر کیا جائے اور خاص کا قصد کیا جائے ایک کا قصد کیا جب کوئی یہ کہے : لا ازورک ابدا تو تو کہتا ہے : من لم یزرنی فلست بزائرہ یعنی وہ صرف قائل کا ارادہ کرتا ہے یعنی من عموم پر دلالت کرتا ہے ہر کوئی مراد ہونا چاہیے مگر وہ صرف اس فرد کا ارادہ کرتا ہے جس نے یہ بات کہی تھی۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان کا یہی معنی ہے۔ یہاں دلوں کو خاص کر ذکر کیا گیا ہے کیونکہ دکھ جب دل تک جا پہنچتا ہے تو وہ مریض مرجاتا ہے یعنی وہ میت کی حالت والوں میں سے ہے جبکہ وہ مرتے نہیں، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لا یموت فیھا ولا یحی (طہ) اس میں نہ وہ مرے گا اور نہ زندہ ہوگا۔ یعنی وہ زندہ ہیں مگر مردوں کے حکم میں ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تطلع علی الافئدۃ۔ کا معنی ہے وہ آگ جانتی ہے کہ عذاب کی جس مقدار کے وہ مستحق ہیں یہ جملہ بولا جاتا ہے : الطع فلان علی کذا یعنی فلاں اس پر مطلع ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : تدعوا من ادبر وتولی۔ (المعارج) وہ اسے کھینچ لیتی ہے جو پیٹھ پھیرتا ہے اور روگردانی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اذا راتھم من مکان بعید سمعوا لھا تغیظا و زفیرا۔ (الفرقان) جب وہ آگ انہیں دور سے دیکھے گی تو وہ سنیں گے اس کا جوش مارنا اور چنگھاڑنا۔
اس آگ کی ان چیزوں سے صفت بیان کی گئی ہے تو یہ کوئی بعید نہیں کہ اس کی علم سے صفت بیان کی جائے۔