107. Surah Al-Maa'un

الماعونAlmsgiving · 7 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 107:1

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُكَذِّبُ بِالدِّیْنِؕ Open ayah 107:1 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جو (روز) جزا کو جھٹلاتا ہے

اس میں چھ مسائل ہیں : شان نزول : مسئلہ نمبر 1: اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يُكَذِّبُ بِالدِّيْنِ ۔ یہاں دین سے مراد آخرت میں جزا اور حساب ہے، سورة فاتحہ میں یہ بات پہلے گزر چکی ہے۔ ارئیت میں دوسرے ہمزہ کو ثابت رکھا گیا ہے کیونکہ ارئیت، ریت نہیں پڑھا جاتا، لیکن ہمزہ استفہام نے دوسرے ہمزہ کو الف سے بدل کر تسہیل پیدا کی ہے۔ زجاج نے ذکر کیا ہے : اس کلام میں حذف ہے معنی ہے بتاؤ تو جو آدمی روز جزا کو جھٹلاتا ہے کیا وہ درست ہے یا غلطی پر ہے ؟ یہ آیت کس کے حق میں نازل ہوئی اس میں اختلاف ہے۔ ابو صالح نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ یہ سورت عاص بن وائل سہمی کے حق میں نازل ہوئی، یہ کلبی اور مقاتل نے کہا۔ ضحاک نے ان سے یہی روایت نقل کی ہے کہ یہ سورت دو منافقوں کے حق میں نازل ہوئی۔ سدی نے کہا : یہ ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ ابو جہل کے حق میں نازل ہوئی۔ ضحاک نے کہا : یہ عمرو بن عائذ کے حق میں نازل ہوئی۔ ابن جریج نے کہا : یہ حضرت ابو سفیان کے حق میں نازل ہوئی۔ وہ ہر ہفتہ اونٹ ذبح کیا کرتا تھا ایک یتیم نے اس سے کوئی چیز طلب کی تو ابو سفیان نے اسے اپنے ڈنڈے سے مارا تو اللہ تعالیٰ نے اس سورت کو نازل فرمایا۔
Ayah 107:2

فَذٰلِكَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 107:2 in the Quran reader

یہ وہی (بدبخت) ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے

يَدُعُّ کا معنی دھکے دیتا ہے۔ جس طرح ارشاد فرمایا : یدعون الی نار جھنم دعا۔ (الطور) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ معنی ہے وہ یتیم کو حق دینے کی بجائے اسے دھکے دیتا ہے۔ قتادہ نے کہا : اس کا معنی ہے وہ اس پر ظلم و زیادتی کرتا ہے معنی قریب قریب ہے۔ سورة النساء میں پہلے یہ بات گزر چکی ہے کہ وہ عورتوں اور چھوٹے بچوں کو وارثت میں سے کچھ بھی نہیں دیا کرتے تھے وہ کہتے تھے : مال اس کے لیے ج ائز ہے جو نیزے چلاتا ہے اور تلوار سے وار کرتا ہے نبی کریم سے مروی ہے : من ضم یتیما من المسلمین حتی یستغنی فقد وجب لہ الجنۃ۔ جس نے کسی یتیم کو اپنے ساتھ ملایا یہاں تک کہ وہ غنی ہوگ گیا تو اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ یہ معنی کئی مواقع پر گزر چکا ہے۔
Ayah 107:3

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 107:3 in the Quran reader

اور فقیر کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو ترغیب نہیں دیتا

بخل کی وجہ سے مسکین کو نہ دینا قابل مذمت ہے : مسئلہ نمبر 2: وَلَا يَحُضُّ عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ ۔ وہ بخل اور جزا کو جھٹلانے کی وجہ سے مسکین کو کھانا کھلانے کا حکم نہیں دیتا یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے : ولا یحض علی طعام المسکین۔ (الحاقہ) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ یہ مذمت عام نہیں کہ یہ اسے بھی شامل ہو جس نے عاجز ہوتے ہوئے اسے ترک کیا ہو بلکہ وہ تو بخل کرتے ہیں اور اپنے بارے میں عذر خواہی کرتے ہیں اور کہتے ہیں : انطعم من لو یشاء اللہ اطعمہ۔ (یس) کیا ہم اسے کھلائیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو انہیں کھلاتا۔ ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور مذمت بھی انہیں کی طرف متوجہ ہوئی۔ کلام کا معنی یہ بنے گا اگر قادر ہوں تو ایسا نہیں کرتے اگر تنگ دست ہوں تو برانگیختہ نہیں کرتے۔
Ayahs 107:4–5

فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 107:4 in the Quran reader

تو ایسے نمازیوں کی خرابی ہے

الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ Open ayah 107:5 in the Quran reader

جو نماز کی طرف سے غافل رہتے ہیں

کن نمازیوں کی ہلاکت ہے ؟ مسئلہ نمبر 3: فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ ۔ الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ ۔ ان کے لیے عذاب ہے۔ پہلے بھی کئی مواقع پر یہ بحث گزر چکی ہے۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے : نہ اس سے مراد وہ نمازی ہے اگر وہ نماز پڑھے تو وہ ثواب کی امید نہ رکھے اگر اسے چھوڑ دے تو اس پر عقاب کا خوف نہ ہو۔ ان سے ہی بھی مروی ہے : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو نمازوں کو ان کے اوقات سے موخر کرتے ہیں۔ مغیرہ نے ابراہیم سے یہ قول نقل کیا ہے : وہ وقت ضائع کرنے کے ساتھ لاپرواہی کرتے ہیں۔ ابو العالیہ سے مروی ہے : وہ نمازوں کو ان کے اوقات میں نہیں پڑھتے اور ان کے رکوع و سجود کو مکمل نہیں کرتے۔ میں کہتا ہوں : اس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان فخلف من بعدھم خلف اضاعوا الصلوۃ (مریم) ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو نماز کو ضائع کریں گے۔ جیسے اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے۔ ابراہیم سے مروی ہے : اس سے مراد وہ ہے جو سجدہ کرتا ہے تو اپنے سر کو اس طرح کھڑا کرلیتا ہے متوجہ ہوتے ہوئے۔ قطرب نے کہا : وہ نہ قرات کرتا ہے اور نہ ہی اللہ کا ذکر کرتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی قرات میں ساھون کی جگہ لاھون کا لفظ ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص نے کہا کہ نبی کریم نے اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا : سستی کرتے ہوئے جو نماز میں اس کے وقت سے تاخیر کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے اس سے مراد منافق ہیں جو مخفی حالت میں نماز ترک کرتے ہیں اور علانیہ اس کو پڑھتے ہیں جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی کرتے ہوئے کھڑے ہوتے ہیں الذین ھم یرائون۔ اس چیز پر دال ہے کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں ہے ؛ یہ ابن وہب نے امام مالک سے روایت نقل کی ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : اگر کلام ہوتی فی صلاتھم ساھون تو یہ مومنین کے حق میں ہوتی۔ عطا نے کہا : الحمد للہ، اس نے عن صلاتھم فرمایا ہے فی صلاتھم نہیں فرمایا۔ زمخشری نے کہا : اگر تو پوچھے عن صلاتھم اور فی صلاتھم میں کیا فرق ہے ؟ تو میں کہوں گا : عن کا معنی ہے وہ نماز سے غفلت کرتے ہیں وہ اسے ترک کرتے ہیں اس کی طرف بہت کم توجہ کرتے ہیں۔ یہ منافقوں کا اور مسلمانوں میں شاطر فاسقوں کا طرز عمل ہے اور فی کا معنی ہے کہ سہو نماز میں انہیں لاحق ہوجاتا ہے خواہ شیطان کی جانب سے وسوسہ ہو یا ذہن کسی طرف متوجہ ہوجائے یہ ایسی صورت ہے کوئی مسلمان اس سے خالی نہیں ہوتا۔ رسول اللہ کو بھی نماز میں سہو واقع ہوا کسی اور کی کیا حیثیت ہے۔ اسی وجہ سے فقہا نے اپنی کتابوں میں سجدہ سہو کے ابواب شامل کیے ہیں۔ ابن عربی نے کہا : سہو سے سلامت رہنا محال ہے۔ رسول اللہ اور صحابہ اپنی نماز میں بھولے وہ آدمی جو اپنی نماز میں نہیں بھولتا تو وہ ایسا آدمی ہے جو اس میں تدبر نہیں کرتا، اس کی قرات کو نہیں سمجھتا اس کا مقصود صرف اس کی تعداد میں ہوا کرتا ہے یہ ایسا آدمی ہے جو چھلکا تو کھا لیتا ہے اور مغز پھینک دیتا ہے۔ نبی کریم نماز میں اس لیے بھولتے تھے کیونکہ آپ نماز سے بڑی ذات میں غور و فکر کر رہے ہوتے تھے یہ کسی طرح بھی نہیں ہوسکتا کہ آپ نماز میں اس لیئے بھولتے ہوں کہ آپ شیطان کے وساوس کی طرف متوجہ ہوتے ہوں جب شیطان نمازی کو یہ کہے : فلاں بات یاد کرو، فلاں بات یاد کرو جن کو وہ پہلے یاد نہیں کرتا یہاں تک کہ آدمی بھٹک جاتا ہے کہ اس نے کتنی رکعت نماز پڑھی۔
Ayah 107:6

الَّذِیْنَ هُمْ یُرَآءُوْنَۙ Open ayah 107:6 in the Quran reader

جو ریاکاری کرتے ہیں

ریا اور اس کی حقیقت : مسئلہ نمبر 4: الَّذِيْنَ هُمْ يُرَاۗءُوْنَ : وہ لوگوں کو دکھاتا ہے کہ وہ طاعت کے طور پر نماز پڑھتا ہے جبکہ وہ تقیہ کے طور پر نماز پڑھ رہا تھا جس طرح فاسق کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ وہ عبادت کی غرض سے نماز پڑھ رہا تھا حالانکہ وہ اس لیے نماز پڑھ رہا تھا تاکہ اسے یہ کہا جائے کہ وہ نماز پڑھتا ہے۔ ریا کی حقیقت یہ ہے دنیا میں جو کچھ ہے اسے عبادت کے ذریعے طلب کرنا۔ اس کی اصل یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں مقام و مرتبہ کی طلب کرنا۔ اس کا ابتدائی مرحلہ اچھی شہرت ہے اس کے ذریعہ جاہ و ثنا چاہتا ہے۔ چھوٹے اور کھردرے کپڑوں کے ذریعہ ریا تاکہ اس کے ذریعے وہ دنیا میں زہد حاصل کرے۔ زبان سے ریا کہ دنیا داروں پر ناراضگی کا اظہار کرے اور جو وہ خیر وطاعت کو چھوڑتا ہے اس پر تاسف کا اظہار کرے اور وعظ کرے۔ نماز اور صدقہ کو ظاہر کرنا یا اچھے انداز میں نماز پڑھنا تاکہ لوگ دیکھیں۔ اس کی بحث بڑی طویل ہے یہ چیز اس پر دلیل ہے : ابن عربی نے یہی کہا ہے۔ میں کہتا ہوں : سورة النساء، ہود اور کہف کے آخر میں ریا، اس کے احکام اور اس کی حقیقت کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ جو کافی و شافی ہے۔ الحمدللہ فرائض میں اظہار ریا نہیں بلکہ نوافل کا اظہار ریا ہے : مسئلہ نمبر 5: اگر عمل فرض ہو تو اسے اعلانیہ کرنے کے ساتھ بندہ ریا کرنے والا نہیں ہوتا کیونکہ فرائض کے حقوق میں سے ہے کہ وہ ان کا اعلان کرے اور ان کی تشہیر کرے کیونکہ رسول اللہ کا ارشاد ہے : ولا غمۃ فی فرائض اللہ۔ اللہ تعالیٰ کے فرائض میں کوئی اخفا نہیں، کیونکہ یہ اسلام کی علامات اور دین کے شعائر ہیں۔ اس کا تارک مزمت اور ناراضگی کا مستحق بنتا ہے ،۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان اعمال کے اظہار کے ساتھ تہمت کو دور کیا جائے۔ اگر وہ اعمال نفلی ہیں تو پھر ان کا حق یہ ہے کہ ان میں اخفا کیا جائے کیونکہ ان کے ترک کی وجہ سے نہ ملامت کی جاتی ہے اور نہ ہی مذمت کی جاتی ہے اگر وہ ان کو اس لیے ظاہر کرتا ہے تاکہ اس کی اقتدا کی جائے تو یہ اچھا ہوگا۔ ریا اس وقت ہوگا جب عمل ظاہر کرنے سے مقصد یہ ہو کہ آنکھیں دیکھیں اور صالحیت کے حوالے سے اس کی تعریف کی جائے۔ بعض علما سے مروی ہے کہ اس نے ایک آدمی کو سجدہ شکر کرتے ہوئے دیکھا تو اس نے سجدہ لمبا کیا تو اس نے کہا : اگر تیرے گھر میں یہ عمل ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا۔ اس نے یہ بات اس لیے کی تھی کیونکہ اس میں ریا اور شہرت کی علامت تھی۔ سورة البقرہ میں یہ معنی گزر چکا ہے اور کئی مواقع پر بھی یہ بحث گزر چکی ہے۔ الحمدللہ۔
Ayah 107:7

وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۠ Open ayah 107:7 in the Quran reader

اور برتنے کی چیزیں عاریۃً نہیں دیتے

مسئلہ نمبر 6: وَيَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ ۔ ماعون میں دس اقوال ہیں۔ اموال کی زکوۃ : (1) اس سے مراد ان کے اموال کی زکوۃ ہے ؛ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے یہی روایت نقل کی ہے حضرت علی شیر خدا سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ امام مالک نے بھی یہی کہا ہے : اس سے مراد منافق ہے جو زکوۃ ادا نہیں کرتا۔ ابوبکر بن عبدالعزیز نے امام مالک سے روایت نقل کی ہے کہا : منافق جب نماز پڑھتا ہے تو ریاکاری کرتے ہوئے نماز پڑھتا ہے اگر نماز اس سے فوت ہوجاتی ہے تو اس پر کسی شرمندگی کا اظہار نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر جو زکوۃ فرض کی ہے وہ اسے روک لیتا ہے، زید بن اسلم نے کہا : اگر نماز بھی ان کے لیے مخفی ہوتی جس طرح زکوۃ ان کے لیے مخفی ہے تو وہ اسے نہ پڑھے۔ مال : (2) ماعون سے مراد مال ہے ؛ یہ قریش کی لغت ہے ؛ یہ ابن شہاب اور سعید بن مسیب کا نطقہ نظر ہے۔ تمام منافع : (3) یہ ایسا اسم ہے جو گھر کے تمام منافع کو جامع ہے جس طرح کلہاڑا، ہنڈیا، آگ اور اس جیسی چیزیں، یہ حضرت ابن مسعود کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے اعمش نے کہا : باجود منہ بماعونہ وہ اپنے گھر کے سامان کے ساتھ زیادہ سخاوت کرنے والا ہے۔ جاہلیت میں مراد منفعت اور اسلام میں طاعت اور زکوۃ : (4) زجاج، ابو عبید اور مبرد نے کہا : دور جاہلیت میں ماعون اسے کہتے جس میں کوئی منفعت ہوتی جیسے کلہاڑا، ہنڈیا، دول، پیالہ خواہ اس میں تھوڑی منفعت ہوتی یا زیادہ منعت ہوتی۔ انہوں نے اس بارے میں اعمش کے اشعار پڑھے۔ علماء نے کہا : اسلام میں ماعون سے مراد طاعت اور زکوۃ ہے اور ایک چرواہے کے اشعار پڑھے : اخلیفۃ الرحمن انا معشر۔۔۔ حنفاء نسجد بکرۃ و اصیلا عرب نری للہ من اموالنا۔۔۔ حق الزکاۃ منزلا تنزیلا قوم علی الاسلام لما یمنعوا۔۔۔ ما عونھم و یضیعوا التھلیلا اے رحمن کے خلیفہ ! ہم ایسے لوگ ہیں جنہوں نے باطل کو چھوڑ کر حق کو اپنا لیا ہے، ہم صبح و شام سجدہ کرتے ہیں، ہم عرب ہیں، ہم اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے اموال میں زکوۃ کا حق لازمی سمجھتے ہیں ،۔ ہم مسلمان ہیں، جب وہ زکوۃ و طاعات سے رکتے ہیں اور لا الہ اللہ کو ضائع کرتے ہیں۔ ان اشعار سے ماعون سے مراد زکوۃ ہے۔ ادھار چیز : (5) ماعون سے مراد ادھار چیز ہے ؛ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے۔ ہر نیکی : (6) ہر نیکی مراد ہے جو لوگ باہم ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔ یہ محمد بن کعب اور کلبی کا قول ہے۔ پانی اور گھاس : (7) اس سے مراد پانی اور گھاس ہے۔ پانی : (8) صرف پانی مراد ہے۔ فراء نے کہا : میں نے ایک بدو کو کہتے ہوئے سنا وہ ماعون سے مراد پانی لے رہا تھا۔ اس بارے میں نے یہ مصرع سنایا : ۔۔۔ یمج صبیرہ الماعون صبا۔۔۔ اس کا بادل موسلا دھار پانی برسا رہا تھا۔ حق کو روکنا : (9) اس نے حق روکا ؛ یہ حضرت عبداللہ بن عمر کا قول ہے۔ منافع میں سے تھوڑی سی چیز : (10) اموال کے منافع میں سے تھوڑی سی چیز۔ یہ معن سے ماخوذ ہے جس کا معنی قلیل ہے ؛ یہ طبری اور حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ قطرب نے کہا : ماعون کا اصل معنی قلت ہے معن سے مراد تھوڑی چیز ہے عرب کہتے ہیں : مالہ سعنۃ ولا معنۃ، نہ اس کے پاس زیادہ نہ کم۔ اللہ تعالیٰ نے زکوۃ، صدقہ اور اس جیسی چیزوں کو ماعون قرار دیا کیونکہ یہ کثیر میں سے تھوڑی چیز ہوتی ہے لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ماعون کی اصل معونۃ ہے، الف، ھاء کے عوض میں ہے، یہ جوہری نے بیان کی ہے۔ ابن عربی نے کہا : ماعون یہ اعان، یعین سے مفعول کا وزن ہے۔ عون سے مراد ایسی امداد ہے جو قوت، آلات اور امر کے اسباب میسرہ کے ساتھ ہو۔ طاعت وانقیاد : (11) اس سے مراد طاعت وانقیاد ہے۔ اخفش نے فصیح اعرابی سے یہ قول نقل کیا ہے ؛ اگر ہم اترے تو میں تیری اونٹنی کے ساتھ ایسا معاملہ کروں گا تو وہ اونٹنی تجھے اختیار عطا کرے گی۔ راجز نے کہا : متی تمادنھن فی البرین۔۔۔ یضضعن او یعطین بالماعون جب تو انہیں ان حلقوں سے پکڑے گا جو ان کے ناک میں ہیں تو وہ عاجزی کریں گے یا تیری اطاعت کریں گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے جس کا روکنا حلال نہیں ہوتا جس طرح پانی، نمک اور آگ، کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہ نے کہا : میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ کون سی چیز ہے جس کا روکنا حلال نہیں ؟ فرمایا : پانی، آگ اور نمک۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ تو پانی ہوا، یہ آگ اور نمک کی کیا وجہ ہے ؟ فرمایا : اے عائشہ جس نے آگ دی گویا اس نے وہ تمام کھانا صدقہ کیا جو اس آگ کے ساتھ پکایا گیا، جس نے نمک دیا گیا گویا اس نے وہ تمام کھانا صدقہ کیا جس کے ساتھ اس کھانے کو لذیذ بنایا گیا، جہاں پانی پایا جاتا ہے وہاں اس نے ایک دفعہ پانی پلایا گویا اس نے ساٹھ غلام آزاد کیے اور جس نے وہاں پانی پلایا جہاں پانی نہیں ملتا تو گویا اس نے ایک نفس کو زندہ کیا اور جس نے ایک نفس کو زندگی دی (اس کو مرنے سے بچایا) تو گویا اس نے تمام انسانوں کو بچایا۔ یہ روایت ثعلبی نے اپنی تفسیر میں ذکر کی ہے اور ابن ماجہ نے اسے سنن میں روایت کیا ہے۔ اس کی سند میں ضعف ہے۔ یہ بارہواں قول ہے۔ ماوردی نے کہا : یہ احتمال موجود ہے کہ اس سے مراد ایسی معرفت ہے جس کا کرنا آسان ہو جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ذی شان بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ عکرمہ جو حضرت ابن عباس کے غلام تھے سے کہا گیا : جس نے اپنے سامان میں سے کوئی چیز دینے سے انکار کیا اس کے لیے ہلاکت ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : نہیں بلکہ جس نے تین چیزوں کو جمع کیا اس کے لیے ہلاکت ہے۔ نماز کو ترک کرنا۔ ریا کاری کرنا اور ضرورت کی چیزوں میں بخل کرنا۔ میں کہتا ہوں : منافقین کے بارے میں اس آیت کا ہونا زیادہ مناسب اور موزوں ہے کیونکہ انہوں نے تینوں اوصاف کو جمع کیا، نماز ترک کرنا، ریا کاری کرنا اور مال میں بخل کرنا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : واذا قاموا الی الصلوۃ قاموا کسالی یرائون الناس ولا یذکرون اللہ الا قلیلا۔ (النساء) جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی سے کھڑے ہوتے ہیں وہ لوگوں کے لیے دکھلاوا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتے مگر تھوڑا سا ذکر کرتے ہیں۔ ولا ینفقون الا وھم کرھون۔ (توبہ) وہ مال خرچ نہیں کرتے مگر ناپسند کرتے ہوئے۔ یہ ان کے احوال ہیں اور یہ بہت ہی بعید ہے کہ کسی سچے مسلمان سے یہ افعال صادر ہوں۔ اگر ان میں سے کچھ پایا جائے تو اسے کچھ توبیخ (شرمندگی) بھی لاحق ہوگی۔ یہ ماعون کو روکنے کی بنا پر ہوگی جب وہ متعین ہوجائے جس طرح نماز جب مومن اس کو ترک کرے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ یہ روکنا مروت میں قبیح روکنا ہوگا جبکہ ضرورت نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔