108. Surah Al-Kawthar
الكوثرAbundance · 3 ayahsتفسیر ابن عباس
اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ Open ayah 108:1 in the Quran reader
(اے محمد ﷺ ہم نے تم کو کوثر عطا فرمائی ہے
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ Open ayah 108:2 in the Quran reader
تو اپنے پروردگار کے لئے نماز پڑھا کرو اور قربانی کیا کرو
اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠ Open ayah 108:3 in the Quran reader
کچھ شک نہیں کہ تمہارا دشمن ہی بےاولاد رہے گا
(1۔ 3) اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو خیر کثیر عطا کی ہے اور قرآن بھی اسی میں سے ہے یا یہ کہ حوض کوثر عطا کی ہے تو اس شکریہ میں نماز پڑھیے اور اپنے سینہ کو قبلہ کی طرف کیجیے یا یہ کہ نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھیے یا یہ کہ رکوع اور سجود کامل طور پر کیجیے تاکہ آپ کا سینہ مبارک ظاہر ہوجائے یا یہ کہ عید الضحیٰ کی نماز پڑھیے اور قربانی ذبح کیجیے۔ آپ کا دشمن یعنی عاص بن وائل ہمہ قسم کی بھلائی اہل و عیال اور مال و دولت سے بےنام و نشان ہے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کا کوئی ذکر کرنے والا نہیں اور آپ کے کمالات ذکر ہو کر رہیں گے۔
ہوا یہ کہ جب حضور کے صاحبزادے حضرت عبداللہ کا انتقال ہوا تو اس وقت ان لوگوں نے آپ کو یہ طعنہ دیا تھا کہ آپ بےنام و نشان ہیں۔
شان نزول : ان شانئک ھو الابتر
بزاز نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ کعب بن اشرف مکہ آیا تو قریش نے اس سے کہا کہ تو ان لوگوں کا سردار ہے کیا اسے بےدین کو نہیں دیکھتا جو اپنی قوم سے علاحدہ ہوگیا اور یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہم سے بہتر ہے حالاں کہ ہم حج والے سقایہ اور سدانہ والے ہیں تو کعب نے کہا تم ان سے بہتر ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
ابن ابی شیبہ نے مصنف میں اور ابن منذر نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے پاس وحی بھیجی تو قریش نے کہا کہ محمد ﷺ ہم سے کٹ گئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
اور ابن ابی حاتم نے سدی سے روایت کیا ہے کہ قریش کہا کرتے تھے کہ جب کسی کے لڑکے مرجائیں و وہ بےنام و نشان ہوجاتا ہے چناچہ جب حضور ﷺ کے صاحبزادے کا انتقال ہوگیا تو عاص بن وائل نے کہا محمد بےنام و نشان ہوگئے۔ اور بیہقی نے دلائل میں محمد بن علی سے اسی طرح روایت کیا ہے اور آپ کے صاحبزادے کا نام قاسم بیان کیا ہے۔
اور مجاہد سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت عاص بن وائل کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ کہ اس نے کہا تھا کہ میں محمد پر عیب لگانے والا ہوں۔
اور طبرانی نے سند ضعیف کے ساتھ ابو ایوب سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا تو مشرکین ایک دوسرے کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ اس بےدین کا سلسلہ نسب کٹ گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
ابن جریر نے سعید بن جبیر سے فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ یہ حدیبیہ کے دن نازل ہوئی جبریل امین آپ کے پاس آئے اور حکم دیا کہ قربانی کرو اور نماز پڑھو چناچہ آپ نے عید کا خطبہ دیا اور دو رکعت نماز پڑھی اور پھر اونٹ کو ذبح کیا۔ امام سیوطی کہتے ہیں کہ یہ روایت بہت ہی غریب ہے۔
سمرہ بن عطیہ سے روایت کیا گیا ہے کہ عقبہ بن ابی معیط کہا کرتا تھا کہ حضور کا کوئی لڑکا باقی نہیں رہے گا اور وہ ان کی نسل کٹی ہوئی ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ابن منذر نے ابن جریج سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم انتقال فرما گئے تو قریش کہنے لگے کہ حضور کا سلسلہ نسل ختم ہوگیا تو اس چیز سے آپ کو افسوس ہوا اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی کے لیے یہ آیت نازل فرمائی۔ انا اعطینک الکوثر۔