Ayah 108:1لفظ ’کوثر‘ کی تحقیق: ’کَوْثَرٌ‘ مبالغہ ہے ’کُثْرٌ‘ کا۔ ’کُثْرٌ‘ کے معنی دولت و ثروت کے ہیں۔ اس وجہ سے ’کَوْثَرٌ‘ کے معنی ہوں گے بڑی کثرت اور بڑی برکت و ثروت والا۔ یہ تسمیہ کے لیے بھی مستعمل ہے اور بطریق صفت بھی اس کا استعمال عام ہے۔
ازروئے عربیت یہاں ’کوثر‘ کی تین تاویلیں ممکن ہیں:
۱۔ یہ اسمیت کی طرف متنقل ہو کر کسی خاص چیز کے لیے مخصوص ہو گیا ہو جس کا نام اللہ تعالیٰ نے ’کَوْثَر‘ رکھا ہو۔
۲۔ اس کو کسی ایسے موصوف محذوف کی صفت مانیے جس کے ساتھ اس کو خصوصیت ہو۔ مثلاً کہتے ہیں ’مرد عَلٰی جرد‘ یعنی ’رجال مرد عَلٰی خیر جرد‘ (نوخیز جوان اصیل گھوڑوں پر) قرآن مجید میں ہے: ’وَالذّٰرِیٰتِ‘ (الذاریات ۵۱: ۱) یعنی ’والریاح الذّٰریٰت‘ (غبار اڑانے والی ہواؤں کی قسم)۔ ......... لیکن یہ اسی صورت میں جائز ہے جب صفت اس موصوف کے لیے اس طرح مخصوص ہو کہ یا تو صفت کا ذکر کرتے ہی موصوف ذہن میں آ جائے یا کوئی واضح قرینہ اس کی طرف اشارہ کر دے۔
۳۔ تیسری شکل یہ ہے کہ اس کو اسمائے صفت کی طرح اس کے عموم ہی پر باقی رکھیے۔ اس صورت میں اس سے ہر وہ چیز مراد لی جا سکے گی جس میں خیرکثیر ہو۔ البتہ قرائن کے اشارہ سے بعض افراد صفت پر اس کی دلالت زیادہ واضح ہو گی۔
’کوثر‘ کے باب میں سلف کے اقوال: لفظ کی لغوی تحقیق کے بعد اب یہ دیکھیے کہ سلف نے اس کے کیا معنی لیے ہیں۔
ابن جریر نے ’کوثر‘ کی تاویل میں تین قول نقل کیے ہیں:
۱۔ ’کوثر‘ جنت میں ایک نہر ہے۔ یہ حضرت عائشہ، حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر، حضرت انس، مجاہد اور ابوالعالیہ سے مروی ہے۔
۲۔ ’کوثر‘ سے مراد خیرکثیر ہے۔ یہ حضرت ابن عباس، حضرت سعید بن جبیر، عکرمہ، قتادہ، اور مجاہد سے مروی ہے۔
۳۔ ’کوثر‘ جنت میں ایک حوض ہے۔ یہ عطاء سے مروی ہے۔
ان میں سے پہلے اور تیسرے قول میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ حوض اسی نہر جاری کا ہو جس کا ذکر پہلے قول میں ہے۔ اس کے بعد صرف دو قول رہ جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے خاص چیز مراد لی جائے، مثلاً ’حوض محشر‘ یا ’نہر جنت‘۔ دوسرا یہ کہ اس کو عام رکھا جائے تاکہ ہر وہ چیز مراد لی جا سکے جس میں خیرکثیر ہو۔
استاذ امام مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے حسن تدبر سے ان دونوں قولوں میں نہایت خوبی سے تطبیق پیدا کر کے دونوں کو ایک کر دیا ہے۔ انھوں نے سورہ کے موقع و محل اور اس کی اندرونی شہادتوں سے ’کوثر‘ سے مراد خانۂ کعبہ کو لیا ہے جو گوناگوں پہلوؤں سے خیرکثر کا خزانہ بھی ہے۔ اور اس دنیا میں اس نہر کوثر کا مجاز بھی ہے جو نبی کریم ﷺ کو جنت میں ملنے والی ہے۔ انھوں نے جن قرائن اور شہادتوں کی روشنی میں یہ بات فرمائی ہے اس کی وضاحت اپنی تفسیر سورۂ کوثر میں فرمائی ہے۔ وہ کوثر کے باب میں اقوال سلف کے درمیان تطبیق دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’پچھلی فصلوں میں معلوم ہو چکا ہے کہ سلف نے ’کوثر آخرت‘ کے بارے میں اختلاف نہیں کیا ہے بلکہ لفظ کی عمومیت اور صیغۂ ماضی کی رعایت سے وہ چیزیں بھی اس کے دائرہ میں داخل کر دی ہیں جو داخل ہو سکتی تھیں تاکہ لفظ عام، وسیع اور اپنی دلالت میں اسم بامسمّٰی (کوثر) ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے مفسرین نے اس میں جستجو اور کاوش جائز سمجھی۔۱ اگر اس کے متعلق کچھ کہنا بدعت و ضلالت ہوتا تو وہ خاموش رہتے اور سلف بھی اس میں کسی قسم کا اختلاف نہ کرتے۔ اس وجہ سے میں اگر کسی ایسی تاویل کا سراغ لگاؤں جو ’زمین کے کوثر‘ (خانۂ کعبہ) اور ’آسمان کے کوثر‘ کو ایک کر دے تو جس طرح میں سلف کو اس کی تاویل میں ایک دوسرے کے خلاف نہیں پاتا اسی طرح اپنے کو بھی ان کے خلاف نہ سمجھوں گا البتہ یہ فرق ہو گا کہ انھوں نے اس کو عام قرار دے کر اس سے حوض یا نہر جنت سمجھی اور ان کے ماسوا ہر وہ چیز جس میں خیر کثیر ہو، مثلاً قرآن، حکمت، اسلام، نبوت جن کو حوض یا نہر سے کوئی مناسبت نہیں ہے، مگر میں اس سے وہ چیز مراد لوں گا جس کو حوض یا نہر سے نہایت واضح مشابہت ہے، جس کی کیفیات آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائی ہیں اور جس کی حقیقت و روحانیت شب معراج میں آپ کے سامنے بے نقاب ہوئی۔‘‘
اس تمہید کے بعد مولانا علیہ الرحمۃ ان اشارات کی تفصیل کرتے ہیں جن سے ان کے قیاس کی تائید ہوتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
۱۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے نفوس کے اندر خدا کی طرف ایک فطری شوق و رغبت موجود ہے نفس انسانی اس چیز سے محروم رہ کر تسلی نہیں پا سکتا۔ انسان کی یہی فطرت مذاہب و ادیان کے وجود کا باعث ہوئی ہے۔ .............. اب سونچو کہ اس فطری اشتیاق اور چاہ کی موزوں تعبیر پیاس کے سوا کس چیز سے ہو سکتی ہے؟ زبور میں یہی تعبیر باربار استعمال ہوئی ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو اس کو پیش نظر رکھ کر ان عاشقان الٰہی کے حال پرغور کرو جو حج کے ایام میں سراپا شوق و آرزو بن کر بیت اللہ کے اردگرد جمع ہوتے ہیں۔ کیا ان کی مثال ان خشک لب پیاسوں کی نہیں ہے جو شدید تشنگی سے مضطر ہو کر کسی حوض کے پاس جمع ہو گئے ہوں؟ اگر یہ مشابہت واضح ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ خانۂ کعبہ ان کے لیے اس دنیا میں اس حوض کوثر کی مثال ہے جس پر میدان حشر میں وہ یکجا ہوں گے۔
۲۔ آنحضرت ﷺ نے ہماری مسجدوں کو نہر سے تشبیہ دی ہے۔ صحیح بخاری میں ہے:
ارء یتم لو ان نھرًا بباب احدکم یغتسل فیہ کل یوم خمسا (الحدیث)
’’بھلا بتاؤ اگر تم میں سے کسی کے دروازہ پر ایک نہر ہو جس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ نہاتا ہو تو کیا اس کے اوپر کچھ میل کچیل باقی رہے گا۔‘‘
یہ تمثیل بھی اصلاً پانی ہی کی ہے۔ پانی جس طرح سیرابی کا ذریعہ ہے اسی طرح طہارت کا بھی ذریعہ ہے اور یہ معلوم ہے کہ ہماری تمام نمازوں کا سرچشمہ بیت اللہ ہے۔ اس اعتبار سے ہماری تمام مسجدیں گویا اس سرچشمہ کی نہریں ہیں جن سے ہم سیرابی اور پاکی حاصل کرتے ہیں۔
۳۔ خانہ کعبہ کے اجتماع سے جس طرح دوسری امتوں کے مقابل میں امت مسلمہ کی کثرت کا اظہار ہوتا ہے اسی طرح حوض کوثر پر اس کے اجتماع سے بھی، جیسا کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے، اس کی کثرت کا اظہار ہو گا۔ اس کثرت کے ظاہر کرنے کی بہترین شکل یہی تھی کہ کسی ایک مخصوص مقام پر اس کا اجتماع ہو۔ اس اجتماع سے دوسری امتیں اندازہ کرتی ہیں کہ زائرین بیت اللہ کا یہ متلاطم سمندر اس بحر بیکراں کا صرف ایک قطرہ ہے جو پورے کرۂ ارض پر پھیلا ہوا ہے۔ پس جس طرح حوض کوثر پر اس کے اجتماع سے دوسرے انبیاء علیہم السلام کی امتوں پر اس کی کثرت واضح ہو گی اسی طرح موسم حج میں خانہ کعبہ کے پاس اس کا اجتماع اظہار کثرت کا ایک جلوہ ہے۔ غور کرو، لفظ ’کوثر‘ ان دونوں کی مطابقت کس خوبی سے واضح کر رہا ہے۔
۴۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ آپ اپنی امت کو حوض کوثر پر وضو کے آثار سے پہچانیں گے۔ یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ جو لوگ خلوص قلب کے ساتھ اس گھر کی زیارت کریں گے وہی لوگ آخرت میں اس حوض پر آئیں گے جو اس گھر کی حقیقت ہے۔
۵۔ فتح مکہ کو اللہ تعالیٰ نے امت کی کثرت کا سبب بنایا چنانچہ حج اکبر کے بعد لوگ گروہ در گروہ اسلام میں داخل ہوئے۔
۶۔ مسجد حرام کو اللہ تعالیٰ نے مبارک (سرچشمۂ خیر و برکت) کہا ہے:
اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّھُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَ.(آل عمران ۳: ۹۶)
’’بلاشبہ خدا کا پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کے لیے تعمیر ہوا وہی ہے جو مکہ میں ہے، سرچشمۂ خیر و برکت اور لوگوں کے لیے نشان ہدایت۔‘‘
ہم نے اختصار کے خیال سے صرف چند اہم اشارات یہاں نقل کیے ہیں۔ جن لوگوں کو تفصیل مطلوب ہو وہ مولانا علیہ الرحمۃ کی تفسیر سورۂ کوثر کی مراجعت کریں۔
مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے آگے چل کر اپنی تفسیر میں یہ بھی واضح فرمایا ہے کہ نہر کوثر درحقیقت کعبہ اور اس کے ماحول کی روحانی حقیقت ہے۔ ایک ضروری اقتباس اس سلسلے کا بھی ملاحظہ فرمائیے:
’’معراج میں جو نہر کوثر آنحضرت ﷺ کو مشاہدہ کرائی گئی اس کی صفات پر جو شخص بھی غور کرے گا اس پر یہ حقیقت منکشف ہو جائے گی کہ نہر کوثر درحقیقت کعبہ اور اس کے ماحول کی روحانی حقیقت ہے۔ اس کے متعلق مختلف طریقوں سے جو روایات منقول ہیں ان کی قدرمشترک یہ ہے کہ ’کوثر‘ ایک نہر ہے، اس کے کناروں پر مجوف موتیوں کے محل ہیں۔ اس کی زمین یاقوت و مرجان اور زبرجد کی ہے۔ اس میں ظروف ہیں جو آسمان کے ستاروں کے مانند ہیں، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ شیریں اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے۔ اس کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر چڑیاں اترتی ہیں جن کی گردنیں قربانی کے جانوروں کی طرح ہیں۔‘‘
آگے مولانا علیہ الرحمۃ ان مشاہدات پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہوئے زمین کے حوض کوثر اور آسمان کے حوض کوثر کی مشابہت یوں واضح فرماتے ہیں:
’’اب ایک لمحہ توقف کر کے کعبہ اوراس کے ماحول کے مشاہدات پر غور کرو۔ جب تمام اکناف عالم سے عشاق الٰہی کے قافلے، عشق و محبت الٰہی کی پیاس بجھانے کے لیے اس چشمۂ خیر و برکت کے پاس اکٹھے ہوتے ہیں کیا ان کے احساس روحانی میں اس مقدس وادی کے سنگ ریزے یاقوت و زمرد سے زیادہ خوش جمال، اس کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبودار اور اس کے ارد گرد حجاج کے خیمے مجوف موتیوں کے قبّوں سے زیادہ حسین و خوبصورت نہیں ہوتے! پھر حجاج اور ان کے ساتھ قربانی کے اونٹوں کی قطاروں پر بھی نظر ڈالو۔ کیا یہ ایک چشمہ کے کنارے لمبی گردن والی چڑیوں کا جھنڈ نہیں ہے!!‘‘
اس تفصیل سے واضح ہے کہ جنت کے حوض کوثر اور خانہ کعبہ میں نسبت حقیقت اور مجاز کی ہے۔ یہی خانۂ کعبہ جنت میں حوض کوثر کی صورت میں ان لوگوں کو ملے گا جو اس پر پہنچنے کے شوق میں بیت اللہ کے حج کرتے رہے۔ سورہ کے زمانۂ نزول تک چونکہ حالات پردے میں تھے اس وجہ سے بات اشاروں میں فرمائی گئی ہے لیکن مقصد یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کو یہ بشارت دی جائے کہ اگرچہ آپ کے اعداء آپ کو اس گھر سے نکالنے کے درپے ہیں لیکن ہم نے یہ آپ کو بخش دیا اور یہ اس دنیا میں بھی آپ کے لیے خیر کثیر کا ضامن ہے اور آخرت کی نہر کوثر کا بھی ضامن ہے۔
_____
۱ یہ اشارہ امام رازی وغیرہ کے اقوال کی طرف ہے جن کا حوالہ مولانا فراہی نے اپنی تفسیر میں دیا ہے۔
Ayah 108:2اس ذمہ داری کا بیان جس کے ساتھ یہ عطیہ مشروط ہے: یہ اس ذمہ داری کا بیان ہے جس کے ساتھ یہ عطیہ مشروط ہے۔ ہر حق کے ساتھ ذمہ داری کا ہونا لازمی اور اس کے ادا کرنے ہی پر اس حق کے قیام و بقاء کا انحصار ہوتا ہے۔ کوئی حق بھی ذمہ داری کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ اوپر ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ قریش کو اللہ تعالیٰ نے اس گھر کی تولیت نہایت اہم ذمہ داریوں کے ساتھ سونپی تھی جس میں سے اہتمام نماز اور انفاق (جس کی ایک معروف شکل بیت اللہ کے تعلق سے قربانی بھی ہے) کو خاص اہمیت حاصل تھی لیکن انھوں نے نماز اور قربانی دونوں ضائع کر دیں۔ نماز کے ضائع کرنے کی جو شکل ہوئی اس کی تفصیل اوپر گزر چکی۔ قربانی انھوں نے یوں ضائع کی کہ شرک میں مبتلا ہو جانے کے سبب سے ان کی قربانی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں رہ گئی بلکہ اس میں ان کے شرکاء و اصنام بھی شریک ہو گئے۔ یہاں جب اس عطیۂ گرامی کے نبی ﷺ کو بخشے جانے کا اعلان فرمایا تو ساتھ ہی اس گھر سے متعلق ان دو بڑی ذمہ داریوں کی یاددہانی بھی فرما دی جو اس کے مدعی متولیوں نے ضائع کر دی تھیں اور جن کے ضائع کرنے کے جرم ہی میں وہ اس منصب سے معزول کیے جانے کے مستحق قرار پائے۔
قربانی کے لیے یہاں ’نَحْرٌ‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو اونٹ کی قربانی کے لیے معروف ہے لیکن یہ اپنے عام استعمال میں دوسرے بہائم کی قربانی کے لیے بھی آتا ہے۔ یہاں خاص طور پر اس لفظ کے استعمال سے مقصود ابراہیمی قربانی کی طرف اشارہ کرنا ہے اس لیے کہ اونٹ کی قربانی ملت ابراہیم میں ایک محبوب قربانی تھی جس کو یہود نے اپنی بدعتوں کے تحت حرام قرار دے رکھا تھا۔ بعض لوگوں نے ’نَحْرٌ‘ کے معنی نماز میں سینہ پر ہاتھ باندھنے کے لیے ہیں، لیکن لفظ کے معنی اختیار کرنے میں موقع و محل کا لحاظ نہایت ضروری ہے۔ یہاں یہ معنی لینے کا کوئی محل نہیں ہے۔ نماز اور قربانی کے حکم کے لیے موزوں موقع اس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ لفظ ’کوثر‘ جیسا کہ وضاحت ہو چکی ہے، یہاں اپنے مجازی مفہوم یعنی خانۂ کعبہ کے لیے استعمال ہوا ہے۔
نماز کے ساتھ قرآن میں بالعموم انفاق یا زکوٰۃ کا حکم آیا ہے لیکن یہاں قربانی کا ذکر آیا ہے، اس کی وجہ ظاہر ہے کہ بیت اللہ جس طرح نماز کا مرکز ہے اسی طرح قربانی کا بھی مرکز ہے اور اس قربانی کا ایک خاص پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے غرباء و مساکین اور ضیوف الٰہی کی خدمت ہوتی ہے یعنی دوسرے روحانی مقاصد کے ساتھ ساتھ قربانی سے وہ مقصد بھی پورا ہوتا ہے جو انفاق کا ہے۔
Ayah 108:3قریش کے طعنوں کا جواب: یہ قریش کے لیڈروں کی ان طعن آمیز پیشین گوئیوں کا جواب ہے جو آنحضرت ﷺ کے مستقبل سے متعلق وہ کرتے رہتے تھے۔ آپ کو کوثر دنیا اور کوثر آخرت کی بشارت دینے اور اس کی ذمہ داریاں بتانے کے بعد فرمایا کہ تمہارے دشمن کہتے ہیں کہ تمہارا کوئی مستقبل نہیں ہے، تمہاری جڑ عنقریب کٹ جائے گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ تم کو دنیا اور آخرت دونوں کی نہایت شان دار فیروز مندیاں حاصل ہونے والی ہیں البتہ تمہارے ان دشمنوں کی جڑ کٹ کے رہے گی۔ ’شَانِئٌ‘ کے معنی مخالف اور عدو کے ہیں اور ’ابترٌ‘ اس کو کہتے ہیں جس کے اخلاف میں کوئی اس کا نام لیوا نہ رہے۔
آنحضرت ﷺ کی دعوت کی راہ میں قریش نے اپنے جبر و ظلم کے زور سے مکہ میں تو کچھ رکاوٹیں پیدا کر رکھی تھیں لیکن اطراف بالخصوص مدینہ میں بالتدریج دعوت کو فروغ حاصل ہو رہا تھا۔ اس سے قدرتی طور پر انھوں نے یہ محسوس کرنا شروع کر دیا کہ ان کے عوام اس صورت حال سے متاثر ہوں گے اور وہ ان وعیدوں کو سچ باور کرنے لگیں گے جو قرآن قریش کے لیڈروں بالخصوص حرم کے پروہتوں کو سنا رہا تھا۔ انھیں اندیشہ ہوا کہ اگر عوام کا اعتماد ان کی قیادت پر متزلزل ہو گیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ بھی ہو گا کہ ان کا حسن ظن آنحضرت ﷺ کے ساتھ بڑھے گا اور وہ آپ کو مستقبل کے متوقع لیڈر کی حیثیت سے دیکھنے لگیں گے جس سے دعوت کی کامیابی کے امکانات بہت بڑھ جائیں گے۔ اس خطرے کے سدباب کے لیے انھوں نے آنحضرت ﷺ کے مستقبل سے متعلق مایوسی پیدا کرنے والی پیشین گوئیاں پھیلانی شروع کر دیں تاکہ لوگوں کے اندر یہ خیال زور نہ پکڑنے پائے کہ آپ کا اثر روز افزوں ترقی پذیر ہے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے مختلف قسم کی باتیں بنائیں، ازانجملہ دعوت کی طرف انصار کے میلان کو دیکھ کر انھوں یہ بات بھی پھیلانی شروع کی کہ یہ شخص اپنے نئے دین کے سبب سے اپنی قوم اور اپنے مرکز دینی (بیت اللہ) سے کٹ چکا ہے اور اب اگر اس نے ہم سے کٹ کر اجنبیوں کے اندر یعنی انصار کے اندر پناہ لی تو اس کی مثال ایک شاخ بریدہ کی ہو گی جو درخت سے جدا ہو چکی ہے اور جس کا سوکھ جانا لازمی ہے۔ ہجرت سے متصل زمانہ میں یہ قیاس لوگ کرنے لگے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے اگر اپنی قوم اور سرزمین مکہ کو چھوڑا تو آپ انصار کے پاس جائیں گے اس لیے کہ وہی اس پوزیشن میں تھے کہ آپ کی حمایت و نصرت کر سکیں۔ چنانچہ اسی بنیاد پر قریش نے انصار کے بعض قبائل کو، جو آنحضرت ﷺ سے بیعت کرنے آئے تھے، یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر آپ لوگ ان کے ہاتھ پر بیعت کر رہے ہیں تو یہ سوچ کر بیعت کیجیے کہ یہ بیعت اسود و احمر سے جنگ کے لیے کر رہے ہیں۔ لیکن ان دھمکیوں کا انصار پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ آنحضرت ﷺ کے ساتھ ان کی عقیدت اور اسلام کے ساتھ ان کی محبت برابر بڑھتی گئی۔ یہ رنگ دیکھ کر اگرچہ قریش کو اپنے پروپیگنڈے میں کامیابی کی کوئی توقع باقی نہیں رہی لیکن وہ اس کے سوا اور کر بھی کیا سکتے تھے۔ وہ ہجرت سے پہلے بھی اپنے ہی عوام کو یہی باور کراتے رہے کہ انصار کی حمایت آنحضرت ﷺ کے لیے مبارک ثابت نہیں ہو گی اور ہجرت کے بعد بھی یہی باور کراتے رہے کہ اب ایک اجنبی ماحول میں العیاذ باللہ داعی اور دعوت دونوں کا خاتمہ ہو جائے گا، لیکن پیشین گوئی سچی قرآن کی ثابت ہوئی کہ آنحضرت ﷺ کے اعداء کی جڑ کٹ کے رہی اور حضرت سرور عالم ﷺ اس دنیا کے کوثر سے بھی فیض یاب ہوئے اور جنت کے کوثر پر بھی آپ سب سے پہلے پہنچیں گے اور اپنی امت کی کثرت کا مشاہدہ فرمائیں گے۔