109. Surah Al-Kaafiroon

الكافرونThe Disbelievers · 6 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

سورة کا عمود، سابق سورة سے تعلق اور مدعا کی ترتب اس سورة میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے قریش کے ائمہ کفر سے برأت کا اعلان ہے پچھلی سورتوں میں بھی تمام تر بحث قریش کے لیڈروں ہی سے رہی ہے لیکن خطاب ان سے قومی اور انسانی بنیاد پر ہوا ہے، کہیں بھی ’ یایھا الکفرون ‘ کے الفاظ سے ان کو خطاب نہیں کیا گیا ہے۔ لیکن اس سورة میں ان کو صاف صاف ’ اے کافردا ‘ کے الفاظ سے مخاطب کر کے ان سے بالکل حتمی طور پر قطع تعلق اور برأت کا اعلان کردیا گیا ہے۔ یہ اعلان برأت رسولوں کی اس سنت کے مطابق ہوا ہے جس کی وضاحت پچھلی سورتوں میں ہوچکی ہے کہ اللہ کے رسول اپنی قوم کو پہلے دین کی بنیادی باتوں…… توحید اور قیامت…… کی دعوت دیتے ہیں۔ اس دعوت میں وہ قوم کو ’ اپنی قوم ‘ ہی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہیں اور اس پر اس وقت تک پوری استقامت سے جمے رہتے ہیں جب تک قوم کے اعیان و اکابر اپنے رویہ سے ان کو مایوس نہیں کردیتے۔ جب وہ مایوس کردیتے ہیں اور بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ یہ ہٹ دھرم اپنی ضد سے باز آنے والے نہیں ہیں۔ تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول کو ہجرت کا حکم ہوتا ہے اور وہ قوم سے اعلان برأت کر کے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہجرت کرجاتا ہے۔ رسول کی ہجرت قوم کے لئے گویا آخری تنبیہ ہوتی ہے۔ اس کے بعد اگر اس کے رویہ میں کوئی اچھی تبدیلی نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ ایک محدود مہلت دینے کے بعد قوم کے تمام مکذبین کو تباہ کردیتا ہے، خواہ یہ تباہی رسول کی زندگی ہی میں واقع ہو یا اس کے بعد اور خواہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ کوئی قہر آسمانی نازل کرے یا رسول کے ساتھیوں کی تلوار اس کے لئے بےنیام ہو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) و حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک تمام رسولوں کی جو تاریخ قرآن میں بیان ہوئی ہے اس میں یہ مشترک حقیقت موجود ہے اور ہم اس کے تمام پہلوئوں کی وضاحت برابر کرتے آ رہے ہیں۔ یہاں ’ یایھا الکفرون ‘ سے خطاب، ظاہر ہے کہ، انہی ائمہ کفر سے ہے جو اس دور میں رسول اللہ کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔ ان کی مسلسل مخالفت نے یہ حقیقت واضح کردی تھی کہ یہ چیز کسی شبہ پر مبنی نہیں ہے بلکہ یہ موروثی قیادت کا پندار ہے جس نے ان کو بالکل اندھا بہرا دشمن بنا دیا ہے اور اب خدا کے تازیانہ عذاب کے سوا کوئی اور چیز ان پر کارگر نہیں ہو سکتی۔ مخاطب کی اس ذہنیت کی بنا پر اس سورة میں جو باتیں فرمائی گئی ہیں وہ بالکل دو ٹوک الفاظ میں فرمائی گئی ہیں اور ہر بات بالکل مبنی برحقیقت ہے۔ جن لوگوں نے اس خطاب کو مذمت یا غضب پر محمول کیا ہے ان کی رائے صحیح نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی جماعت کا کفر اس وقت تک واضح ہوتا ہی نہیں جب تک اہل حق اس پر اتمام حجت نہ کردیں۔ اتمام حجت کے بعد ہی اس کا کفر واضح ہوتا ہے اور اس کے بعد ہی یہ بات جائز ہوتی ہے کہ اہل حق اس سے علیحدگی کا اعلان کردیں بلکہ ضرورت داعی ہو تو اس سے جہاد کریں۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے ہجرت اور جہاد کے لئے اقام اتمام حجت کے بعد ہی کیا ہے اور یہی حق و عدل کا تقاضا ہے۔ اس سورة نے قریش کے لیڈروں کے ساتھ دین کے معاملے میں کسی سمجھوتے کے تمام امکانات کا قطعی سدباب کردیا ہے اس وجہ سے یہ صرف ہجرت ہی کی سورة نہیں بلکہ یہ معنا اعلان جنگ کی سورة بھی ہے۔ سورة یونس میں وضاحت سے یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ قریش کے لیڈروں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے یہ تجویز رکھی تھی کہ اگر ہم سے اپنے دین کو منوانا ہے تو اس کی واحد شکل یہ ہے کہ یا تو اس قرآن کے علاوہ کوئی اور قرآن لائو یا اس میں ایسی مناسب ترمیم کرو کہ یہ ہمارے لئے قابل قبول ہو سکے : ائت بقرآن غیر ھذا او بلدلہ ‘(یونس۔ ١٠ : ١٥) (اس قرآن کے علاوہ کوئی اور قرآن لائو یا اس میں ترمیم کرو) ۔ اس آیت کی تفسیر کے تحت ہم واضح کرچکے ہیں کہ قرآن کے اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو سب سے زیادہ اصرار قرآن کی دعوت توحید کی ترمیم پر تھا، وہ اس کو اپنے آباء کے عقیدے کے بھی خلاف سمجھتے تھے اور یہ اندیشہ بھی رکھتے تھے کہ اگر اللہ کے سوا انہوں نے تمام معبودوں کو ہی باطل ٹھہرا دیا، جیسا کہ قرآن مطالبہ کر رہا ہے، تو اس سے ان کی سیاسی ہستی ہی سرے سے ختم ہوجائے گی۔ ان کے اس مطالبہ کا جواب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے یہ دیا گیا کہ قل ما یکون لی ان ابدہ من تلقآی نفسی (یونس۔ ١٠ : ١٥) (ان سے کہہ دو کہ مجھے کیا حق ہے کہ میں بطور خود اس میں کوئی ترمیم کروں) ۔ اگرچہ یہ جواب قریش کے لئے مایوس کن تھا لیکن فیصلہ کن نہیں تھا۔ لیکن اس سورة میں اس کا ایسا حتمی اور فیصلہ کن جواب دیا گیا ہے کہ ہمیشہ کے لئے اس بحث کا دروازہ ہی بند کردیا گیا۔ جس کے معنی دوسرے لفظوں میں یہ ہوئے کہ اس معاملے میں اب کسی سمجھوتے کی گنجائش نہیں ہے، اگر قریش اپنی ضد پر قائم رہے تو بالآخر اس کا فیصلہ تلوار سے ہوگا۔ ترتیب میں اس سورة کا سورة کوثر کے بعد جگہ پانا بھی اپنے اندر بڑی معنویت رکھتا ہے۔ سورة کوثر میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ یہ فتح مکہ کی بشارت ہے جس کے معنی یہ ہوئے کہ ہجرت اور اعلان جہاد کی سورة سے پہلے ہی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فتح و نصرت کی بشارت دے دی گئی تاکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ (رض) پر یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ اگرچہ آگے ہجرت اور جنگ کے کٹھن مرحلے آنے والے ہیں لیکن انجام ان کا نہایت شاندار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ اپنے رسول کو فتح سے نوازے گا اور وہ دنیا و آخرت دونوں کے کوثر سے شاد کام ہوں گے۔ اسی طرح کی بشارت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہجرت کی اس دعا میں دی گئی ہے جو سورة بنی اسرائیل میں مذکور ہے : وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ (بنی اسرائیل۔ ١٧ : ٨٠) (اور دعا کرو کہ اے میرے رب، مجھے داخل کر عزت کا داخل کرنا اور نکال عزت کا نکالنا) اس دعا پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے دعا کے پیرائے میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بشارت دے دی ہے کہ اگرچہ آپ کے مکہ سے نکلنے کا وقت اب قریب آ رہا ہے لیکن اس نکلنے سے پہلے ہی اللہ نے دارالہجرت میں آپ کے شاندار داخلہ کا انتظام کرلیا ہے۔ مختصر الفاظ میں اس سورة میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے قریش کے لیڈروں کے سامنے یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان دین کے بنیادی مسئلہ…… معبود…… کے باب میں کوئی قدر مشترک نہ حاضر میں ہے، نہ ماضی میں رہی ہے اور نہ مستقبل میں اب اس کے پائے جانے کا امکان ہے اس وجہ سے ہمارے مابین کسی مفاہمت کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اب تم اپنے دین پر چلو، ہم اپنے دین پر چلیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ صادر ہوجائے۔

Ayah 109:1

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ Open ayah 109:1 in the Quran reader

کہہ دو ، اے کافرو !

’قُلْ‘ اعلان کے مفہوم میں: ’قُلْ‘ یہاں اعلان کر دینے کے معنی میں ہے۔ اس معنی میں یہ قرآن میں استعمال ہوا ہے۔ اس سورہ کا مضمون اعلان کا مقتضی تھا تاکہ جو مفسدین کفر اور اسلام کے درمیان سمجھوتے کے خبط میں مبتلا تھے وہ بھی اپنی سعئ نامراد سے مایوس ہو جائیں اور جو سادہ لوح اس طرح کی تجویزیں پیش کرنے والوں کو امن پسند اور صلح جُو گمان کر رہے تھے ان پر بھی اصل حقیقت واضح ہو جائے کہ یہ صلح و امن کی راہ نہیں بلکہ فساد کی مستقل پرورش کی راہ ہے۔ ائمۂ کفر سے خطاب: ’یٰٓاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ‘ کا خطاب ظاہر ہے کہ قریش کے ان ائمۂ کفر سے ہے جو آنحضرت ﷺ کی دعوت کے مخاطب اول تھے لیکن آپ کی برسوں کی جدوجہد کے بعد ان کے رویہ میں کوئی تبدیلی ہوئی تو یہ ہوئی کہ انھوں نے کفر اور اسلام دونوں کا ایک ملغوبہ تیار کرنے کا مطالبہ کیا۔ رسول اتمام حجت کا کامل ذریعہ ہوتا ہے۔ اگر اس کی محنت بھی ان کو متاثر نہ کر سکی تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ پھر کوئی بھی دوسری ایسی چیز نہیں رہ گئی تھی جو ان کی حالت میں کوئی تبدیلی پیدا کر سکے۔ چنانچہ ان لوگوں کے بارے میں آگے اس سورہ میں جس مایوسی کا اظہار فرمایا گیا ہے وہ بالکل صحیح ثابت ہوئی۔ ان میں سے کوئی بھی اسلام لانے والا نہیں بنا بلکہ ہر ایک اپنے غرور اور انانیت کا شکار ہوا۔ دو سوال اور ان کے جواب: یہاں اس خطاب سے متعلق دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ قرآن میں عام طور پر قریش کے لیڈروں کو اس طرح کے سخت خطاب سے کہیں مخاطب نہیں کیا گیا ہے، پھر اسی سورہ کی کیا خصوصیت ہے کہ اس میں ان کو ’یٰٓاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ‘ سے خطاب کیا گیا۔ دوسرا یہ کہ قریش بلکہ اہل عرب بالعموم خدا کے منکر نہیں بلکہ اس کے شریک ٹھہرانے والے تھے تو قرآن نے ان کو ’اے کافرو‘ کیوں کہا، ’اے میرے مشرکو‘ سے کیوں نہیں خطاب کیا؟ ان دونوں سوالوں کے جواب اگرچہ اس کتاب میں جگہ جگہ دیے جا چکے ہیں اور تمہید میں بھی اس کی طرف اشارہ ہو چکا ہے لیکن ہم یہاں پھر ان کو صاف کیے دیتے ہیں۔ جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے اس کا جواب یہ ہے کہ حضور نے یہ انداز خطاب اس وقت اختیار فرمایا ہے جب اچھی طرح اتمام حجت کر دینے کے بعد، قوم کے رویہ سے بالکل مایوس ہو کر، اللہ تعالیٰ کے اذن سے، آپ نے ہجرت کا فیصلہ فرما لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ رسول کو ہجرت کا حکم اسی وقت دیتا ہے جب قوم کے رویہ سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اس کے اندر ایمان قبول کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہی ہے اور اس کی مکابرت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ اگر اس کا مزید تعاقب کیا گیا تو اندیشہ ہے کہ خدانخواستہ وہ رسول کو قتل کر دے۔ اس مرحلے میں رسول کے لیے یہ بات بالکل معقول ہوتی ہے کہ وہ قوم اور قوم کے معبودوں سے اپنی کامل بیزاری کا اعلان کر کے ان سے الگ ہو جائے اور چونکہ رسول کی دعوت سے کفر اور اسلام دونوں کی اچھی طرح وضاحت ہو چکتی ہے اس وجہ سے جو بھی اس میں سے کسی ایک کو اختیار کرتا ہے، اس کے متعلق اس شبہ کی گنجائش نہیں رہتی کہ اس نے کفر یا اسلام میں سے کسی کو بے سمجھے بوجھے اختیار کیا ہے اس وجہ سے اگر اس دور میں رسول کفر پر اڑے رہنے والوں کو ’اے کافرو‘ سے خطاب کرتا ہے تو یہ خطاب بالکل برمحل، جائز اور معقول ہوتا ہے۔ اس سے ہمارے لیے یہ تعلیم نکلتی ہے کہ جو چیز کفر یا شرک ہے اس کو کفر یا شرک بتانا اور اس سے لوگوں کو بچانے کی کوشش کرنا تو ہر مسلمان کی ہر لمحہ ذمہ داری ہے لیکن کسی فرد یا گروہ کو کافر قرار دے کر اس سے اعلان براء ت کرنا یا اپنے جملہ روابط اس سے کاٹ لینا یا اس سے اعلان جنگ کر دینا بڑی احتیاط کا متقاضی ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کا مسئلہ بڑا ہی مشکل ہے جو اپنی ہر گمراہی کو اسلام بنائے ہوئے ہوں اور صحیح اسلام ان کے آگے پیش کرنے کا کوئی شرعی نظام موجود نہ ہو۔ اس طرح کے حالات میں صحیح راستہ یہی ہو سکتا ہے کہ آدمی غلطیوں اور گمراہیوں پر تنقید تو کرے اور لوگوں کے ان افعال میں شرکت سے اجتناب بھی کرے جو شرکت و بدعت کی نوعیت کے ہوں لیکن ان کو کافر قرار دے کر ان سے کلیۃً علیحدگی کااعلان اس وقت تک نہ کرے جب تک اس کے لیے مجبور نہ ہو جائے یا یہ باور کرنے کے لیے اس کے سامنے معقول وجوہ نہ آ جائیں کہ اس نے لوگوں پر حق واضح کر دیا اور یہ دوسری چیز نہایت مشکل ہے۔ دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ شرک حقیقت میں کفر ہی ہے۔ دین میں ایمان صرف وہی معتبر ہے جو کامل توحید کے ساتھ ہو یعنی آدمی خدا کی ذات، اس کی صفات اور اس کے حقوق میں کسی دوسرے کو کسی پہلو سے بھی شریک نہ ٹھہرائے۔ اللہ تعالیٰ کسی کے ایمان اور اس کی بندگی کا محتاج نہیں ہے کہ وہ ہر قسم کا ایمان اور ہر قسم کی بندگی قبول ہی کر لے اگرچہ اس میں شرک کی ملاوٹ بھی ہو۔ وہ اپنی بندگی اپنی شرائط پر چاہتا ہے، نہ کہ دوسروں کی شرائط پر، اس وجہ سے ہر وہ عمل خدا کے ہاں غیرمقبول ہے جو صرف اسی کے لیے نہ کیا گیا ہو بلکہ اس میں دوسروں کو بھی شریک کر دیا گیا ہو۔ قرآن کے فلسفہ کی رو سے اس شخص میں جو خدا کا منکر ہے اور اس شخص میں جو اس کو مانتا ہے لیکن خدائے واحد کی حیثیت سے نہیں بلکہ بہت سے دیوتاؤں میں سے ایک دیوتا یا سب سے بڑے دیوتا کی حیثیت سے مانتا ہے، کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ دونوں ہی خدا کے منکر یا دوسرے الفاظ میں کافر ہیں۔ اس لیے کہ شرک کے ساتھ خدا کو ماننا اس کی تمام اعلیٰ صفات کی نفی ہے اور صفات کی نفی کے ساتھ اس کو ماننا اس کے نہ ماننے کے ہم معنی ہے۔ قرآن نے یہاں ان مشرکوں کو کافر کہہ کر اسی حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ شرک درحقیقت کفر ہی ہے، کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ یہ کسی درجے میں بھی کفر کے مقابلے میں اہون یا قابل لحاظ ہے۔
Ayah 109:2

لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 109:2 in the Quran reader

نہ میں پوجوں گا جن چیزوں کو تم پوجتے ہو

سمجھوتے کی پیشکش کا جواب: کفر کے سرغنوں کو خطاب کر کے یہ ان کی اس پیش کش کا جواب ہے جو وہ باہمی سمجھوتے کے لیے کر رہے تھے۔ فرمایا کہ میں ان چیزوں کو نہیں پوجوں گا جن کو تم پوجتے ہو۔ گویا پہلے ہی فقرے میں ان کی توقع کا خاتمہ کر دیا۔ عام طور پر لوگوں نے ’لَآ اَعْبُدُ‘ کو حال کے مفہوم میں لیا ہے لیکن اس کو حال کے مفہوم میں لینا صاحب کشاف کے نزدیک عربیت کے خلاف ہے اور میرے نزدیک ان کی رائے صائب ہے۔ مضارع پر جب اس طرح ’لَا‘ آئے گا تو وہ مضارع کو لازماً مستقبل کے مفہوم میں کر دے گا۔ حال کے مفہوم کے لیے ’لَا‘ نہیں بلکہ ’مَا‘ کا استعمال موزوں ہے۔ علاوہ ازیں حال سے متعلق کسی نفی یا اثبات کا کوئی خاص فائدہ بھی نہیں۔ قریش میں سے ہر شخص کوعلم تھا کہ آنحضرت ﷺ ان بتوں میں سے کسی کو نہیں پوجتے۔ پھر ان کو یہ بتانے سے کیا فائدہ کہ میں ان کو نہیں پوجتا جن کو تم پوجتے ہو؟ سمجھوتے کی تجویزیں پیش کرنے سے ان کا اصلی مقصد تو یہی تھا کہ آنحضرت ﷺ اپنے اس رویے میں کچھ لچک پیدا کریں جس میں دوسرے معبودوں کے لیے سرے سے کوئی گنجائش ہی نہیں رہی ہے۔ ان کی اس توقع پر ضرب لگ سکتی تھی تو اسی صورت میں لگ سکتی تھی جب ان کو آئندہ کے لیے یہ یقین دلا دیا جائے کہ خدا کی توحید کے باب میں آپ کوئی لچک قبول کرنے والے نہیں ہیں۔ سورۂ قلم کی آیت ’وَدُّوْا لَوْ تُدْھِنُ فَیُدْھِنُوْنَ‘؂۱ (القلم ۶۸: ۹) (وہ چاہتے ہیں کہ تم کچھ نرم پڑو تو وہ بھی نرم پڑ جائیں گے) کے تحت ہم واضح کر چکے ہیں کہ قریش اپنے جبر و ظلم کے تمام حربے آزما کر ہجرت سے کچھ پہلے پہلے یہ اندازہ کر چکے تھے کہ اسلام کی روز افزوں ترقی کو روکنا ان کے امکان میں نہیں رہا۔ اب اگر کچھ امکان ہے تو صرف یہ ہے کہ دباؤ ڈال کر آنحضرت ﷺ کو اس بات پر مجبور کیا جائے کہ وہ ’’کچھ دو اور کچھ لو‘‘ کے اصول پر معاملہ کرنے کی طرف مائل ہوں یعنی جس طرح ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ایک مقام تسلیم کرتے ہیں اسی طرح آپ ہمارے بتوں کے لیے بھی عبادت میں ایک حق تسلیم کر لیں تو یہ جھگڑا ختم ہو جائے۔ ان کو توقع تھی کہ دباؤ ڈال کر وہ آنحضرت ﷺ سے اپنا موقف تسلیم کرا لیں گے چنانچہ انھوں نے اپنا پورا زور صرف کر دیا یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کو حالات سے مجبور ہو کر ہجرت کی راہ اختیار کرنی پڑی لیکن دین کی بنیاد چونکہ توحید ہی پر ہے اس وجہ سے ہجرت کے امتحان سے گزرنا گوارا کر لیا گیا لیکن اس معاملے میں کوئی لچک گوارا نہیں کی گئی بلکہ صاف صاف ’لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ‘ کا اعلان کر دیا گیا۔ _____ ؂۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن۔ جلد ہفتم، صفحات: ۵۱۶-۵۱۷۔
Ayah 109:3

وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُۚ Open ayah 109:3 in the Quran reader

اور نہ تم پوجنے کے جسے میں پوجتا ہو ں

ایک حقیقت نفس الامری کا اظہار: ساتھ ہی ان کو اس حقیقت نفس الامری سے بھی حضور نے آگاہ فرما دیا کہ تم جو یہ گمان کیے بیٹھے ہو کہ تم اس خدا کو پوجنے والے ہو یا بن جاؤ گے جس کو میں پوجتا ہوں تو تمہارا یہ گمان محض گمان ہے۔ میرے پروردگار کی بندگی کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ بندگی صرف اسی کا حق ہے، اس میں کوئی دوسرا اس کا ساجھی نہیں ہے۔ تم اگر اپنے دیویوں دیوتاؤں سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہو تو اس کے پرستار بھی نہیں بن سکتے۔ یہ تمہارا محض مغالطہ ہے کہ تم اپنے کوخدا کی عبادت کرنے والا سمجھتے ہو۔ خدا کی عبادت کے ساتھ کوئی اور عبادت جمع نہیں ہو سکتی۔ اس کی بندگی میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ تم اپنے تمام معبودوں کو باہر چھوڑ کر آؤ۔ اگر اس کی بندگی کے ساتھ تم نے ان کی بندگی بھی جمع کرنے کی کوشش کی تو اپنے معبودوں کے پرستار تو بے شک رہو گے لیکن خدا کی بندگی میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ مشرکین کے معبودوں کے لیے ’مَا تَعْبُدُوْنَ‘ کا استعمال بالکل ٹھیک ہے اس لیے کہ وہ فرضی اور وہمی چیزوں کی پوجا کرتے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے ’مَآ اَعْبُدُ‘ کا استعمال کچھ کھٹکتا ہے۔ یہ مجانست کے اسی اصول پر استعمال ہوا ہے جس کی مثالیں عربی زبان اور قرآن دونوں میں معروف ہیں۔ مثلاً ’دِنَّاھُمْ کَمَا دَانُوْا‘ یا ’جَزآؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُھَا‘ (الشوریٰ ۴۲: ۴۰) وغیرہ۔ اس اسلوب پر اس کے محل میں مفصل گفتگو ہو چکی ہے۔؂۱ _____ ؂۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن۔ جلد ۷، صفحہ ۱۸۱۔
Ayah 109:4

وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْۙ Open ayah 109:4 in the Quran reader

اور نہ میں پوجنے والا ہوا جن کو تم نے پوجا

ماضی سے متعلق موقف کا اظہار: اوپر کا اعلان تو، جیسا کہ واضح ہوا، مستقبل سے متعلق ہے۔ اب یہ ماضی سے متعلق بھی آپ نے اپنا موقف واضح فرما دیا کہ ماضی میں بھی کبھی میں ان چیزوں کا پرستار نہیں رہا ہوں جن کی تم نے پرستش کی۔ صاحب کشاف نے اس آیت کی یہی تاویل کی ہے اور مجھے زبان اور نظام دونوں پہلوؤں سے یہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ ’وَلَآ اَنَا عَابِدٌ‘ کا جملہ اسمیہ ہے! اس وجہ سے اس کے حاضر، ماضی اور مستقبل میں سے کسی کے ساتھ مقید ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ یہ تینوں زمانوں کے ساتھ یکساں مربوط ہو سکتا ہے بشرطیکہ قرینہ ان میں سے کسی کو ترجیح نہ دے دے۔ یہاں ’مَّا عَبَدْتُّمْ‘ چونکہ ماضی ہے اس وجہ سے یہ واضح قرینہ ہے کہ ’وَلَآ اَنَا عَابِدٌ‘ کی نفی ماضی ہی سے متعلق ہے یعنی میں پہلے بھی کبھی ان چیزوں کا پوجنے والا نہیں رہا ہوں جن چیزوں کو تم نے پوجا۔ کلام کا فائدہ: اس کلام کا فائدہ یہ ہو گا کہ اس اعلان براء ت کی شدت میں اس سے بڑا اضافہ ہو جائے گا جو اوپر کی آیت میں کیا گیا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہو گا کہ جب میں تمہارے ان بتوں کو اپنی زندگی کے اس دور میں بھی کبھی خاطر میں نہیں لایا جب میں شرف نبوت سے مشرف اور نور وحی سے منور نہیں ہوا تھا تو اب جب کہ میں براہ راست اپنے رب سے ہدایت حاصل کر رہا ہوں تمہاری اس ضلالت میں کس طرح مبتلا ہو سکتا ہوں۔ مطلب یہ ہوا کہ کوئی دور بھی میری اور تمہاری زندگی میں اگر ایسا گزرا ہوتا جب میں تمہارے اس دین شرک میں شریک رہا ہوتا تو تم مجھ سے یہ توقع کر سکتے تھے کہ شاید میں سابق دین پھر اختیار کرنے پر آمادہ ہو جاؤں گا لیکن جب میرا دامن جاہلیت میں بھی شرک سے داغ دار نہ ہوا تو اب مجھ سے اس کی توقع تم کیسے کر رہے ہو!
Ayah 109:5

وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُؕ Open ayah 109:5 in the Quran reader

اور نہ تم پوجنے والے ہوئے جسے میں پوجتا آ رہا ہوں

آیت کا تعلق دور ماضی سے ہے: یہ آیت لفظاً تو آیت ۳ کا اعادہ ہے اس وجہ سے تکرار کا شبہ پیدا ہوتا ہے لیکن معناً یہ اس سے مختلف ہے۔ اس کا تعلق آیت ۴ کی طرح دور ماضی سے ہے جب کہ آیت ۳ کا تعلق، جیسا کہ واضح ہوا مستقبل سے ہے۔ یعنی قریش کے لیڈروں کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ تم اگر اس مغالطے میں مبتلا ہو کہ ماضی میں تم بھی اسی معبود کی پوجا کرتے رہے ہو جس کی میں پوجا کرتا رہا ہوں تو یہ محض تمہاری خام خیالی ہے۔ شرک کے ساتھ میرے معبود کی پرستش کا، جیسا کہ اوپر واضح ہوا، کوئی امکان ہی نہیں ہے اور تم شرک سے کبھی پاک نہیں ہوئے اس وجہ سے نہ میں کبھی تمہارا دینی بھائی بنا نہ تم میرے دینی بھائی بنے تو یہ توقع تم کس طرح کرتے ہو کہ اپنی اس گندگی میں لتھڑے ہوئے تم مجھے اپنا دینی بھائی بنانے میں کامیاب ہو جاؤ گے! یہاں باوّل وہلہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مطلب آیت کا یہ ہے، جو ہم نے اختیار کیا ہے تو ’مَآ اَعْبُدُ‘ کی جگہ ’مَا عَبَدْتُّ‘ کیوں نہیں فرمایا؟ اس کا جواب صاحب کشاف نے یہ دیا ہے کہ ’مَا عَبَدْتُّ‘ اس لیے نہیں فرمایا کہ اس دور میں آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی بندگی نہیں کی اس وجہ سے آپ نے اس کا حوالہ نہیں دیا بلکہ صرف حال کا حوالہ دیا لیکن یہ جواب بالکل غلط ہے۔ حضرات انبیاء علیہم السلام بعثت سے پہلے بھی فطرت سلیم پر تھے اور توحید چونکہ دین فطرت ہے اس وجہ سے وہ کبھی فطرت کے خلاف شرک میں مبتلا نہیں ہوئے۔ ساتھ ہی وہ لازماً اپنے رب کی کسی نہ کسی شکل میں عبادت بھی کرتے رہے ہیں اگرچہ وہ طریقہ انھوں نے اپنے اجتہاد سے اختیار کیا ہو یا دین کی سابق روایات سے اخذ کیا ہو۔ ہمارے نبی کریم ﷺ بعثت سے پہلے بھی عبادت کرتے تھے۔ اگرچہ اس کا طریقہ واضح طور پر ہمارے سامنے نہیں ہے تاہم اتنی بات معلوم ہے کہ اس کی بنیاد حنیفیت پر تھی جس کی روایت حضرت ابراہیم و حضرت اسمٰعیل علیہما السلام کے زمانے سے کسی نہ کسی شکل میں چلی آ رہی تھی۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک ’مَا عَبَدْتُّ‘ نہ کہنے کی وہ وجہ صحیح نہیں ہے جو صاحب کشاف نے بیان کی ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ آپ کا تعلق صرف ماضی ہی تک محدود نہیں تھا بلکہ آپ نے جس طرح ماضی میں اپنے رب ہی کی عبادت کی اسی طرح آپ حاضر میں بھی اسی کی عبادت پر قائم تھے اس وجہ سے آپ نے ’مَآ اَعْبُدُ‘ فرمایا جس سے تسلسل اور استمرار کا اظہار ہو رہا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ تم اس خدا کے پوجنے والے ماضی میں بھی نہ بنے جس کی بندگی میں نے ماضی میں بھی کی اور اب بھی اس پر قائم و دائم ہوں۔
Ayah 109:6

لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَ لِیَ دِیْنِ۠ Open ayah 109:6 in the Quran reader

تمہیں تمہارا دین اور مجھے میرا دین !

آشکارا اعلان براء ت: یعنی جب میرے دین اور تمہارے دین میں کوئی اشتراک ماضی میں نہ ہوا، نہ حاضر میں ہے تو آئندہ کس طرح توقع کرتے ہو کہ ہم کسی ایک نقطہ پر مجتمع ہو سکیں گے۔ اس وجہ سے سمجھوتے کی توقع بالکل لاحاصل ہے۔ میرے لیے میرا دین ہے اور تمہارے لیے تمہارا دین۔ میں اپنے طریقہ پر کام کرتا ہوں اور تم اپنے طریقہ پر کام کرو اور دیکھو کہ انجام کار میری بات سچی ثابت ہوتی ہے یا تمہاری۔ یہی بات سورۂ انعام میں یوں ارشاد ہوئی ہے: ’قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ‘ (الانعام ۶: ۱۳۵) (کہہ دو، اے میری قوم کے لوگو، تم اپنی جگہ پر کام کرو، میں اپنی جگہ پر کام کرتا ہوں) سورۂ ہود آیت ۹۳ اور سورۂ زمر آیت ۳۹ میں بھی دوسرے رسولوں سے یہی کلمات نقل ہوئے ہیں اور مقصود اس سے صرف اس بحث و جدال کے دروازے کو بند کرنا ہے جو مخالفین اس مقصد سے کر رہے تھے کہ نبی ﷺ ان کے موقف کو بھی تسلیم کرنے پر آمادہ ہوں۔ اس اعلان سے آپ نے ان کو آخری آگاہی دے دی کہ نہ آپ دین سے ذرہ برابر ہٹنے کے لیے تیار ہیں اور نہ ان کے دین کے لیے ہی کوئی مقام تسلیم کرنے پر آمادہ ہیں۔ حضرت ابراہیم کے اعلان کا اعادہ: عام طور پر لوگوں نے اس آیت کو رواداری کے مفہوم میں لیا ہے حالانکہ یہ کفار کے رویہ سے بیزاری بلکہ انجام کار کے اعتبار سے ان سے ابدی مفارقت اور اعلان جنگ کے مفہوم میں ہے۔ مختصر الفاظ میں یہ وہی اعلان ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے کیا تھا، جس کا حوالہ قرآن نے ان الفاظ میں دیا ہے: قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْٓ اِبْرٰھِیْمَ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِھِمْ اِنَّا بُرَءٰٓ ؤُا مِنْکُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کَفَرْنَا بِکُمْ وَبَدَا بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰی تُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَحْدَہٗٓ.(الممتحنہ ۶۰: ۴) ’’تمہارے لیے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ یاد کرو جب کہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے اور ان چیزوں سے جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو بالکل بری ہیں، ہم نے تمہارے عقیدے کا انکار کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت اور نفرت آشکارا ہو گئی تا آنکہ تم اللہ وحدہٗ لاشریک لہ پر ایمان لاؤ۔‘‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے اصحاب کا یہ اسوۂ حسنہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کے سامنے رکھا ہی اس لیے گیا تھا کہ اسی طرح کا اعلان براء ت آپ اور آپ کے صحابہ اپنی قوم سے کریں۔ چنانچہ اسی کی پیروی میں یہ اعلان آنحضرت ﷺ نے فرمایا تو اس کے اندر رواداری کی گنجائش کس طرح پیدا ہو سکتی ہے۔ کلام کے سیاق و سباق اور نظم کی رعایت ملحوظ نہ رکھنے سے ایک بہت بڑا نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ لوگ بیزاری اور رواداری کے کلمہ میں امتیاز سے بھی قاصر رہ جاتے ہیں اور یہ آیت اس کی ایک نہایت عبرت انگیز مثال ہے۔