Ayah 109:1’قُلْ‘ اعلان کے مفہوم میں: ’قُلْ‘ یہاں اعلان کر دینے کے معنی میں ہے۔ اس معنی میں یہ قرآن میں استعمال ہوا ہے۔ اس سورہ کا مضمون اعلان کا مقتضی تھا تاکہ جو مفسدین کفر اور اسلام کے درمیان سمجھوتے کے خبط میں مبتلا تھے وہ بھی اپنی سعئ نامراد سے مایوس ہو جائیں اور جو سادہ لوح اس طرح کی تجویزیں پیش کرنے والوں کو امن پسند اور صلح جُو گمان کر رہے تھے ان پر بھی اصل حقیقت واضح ہو جائے کہ یہ صلح و امن کی راہ نہیں بلکہ فساد کی مستقل پرورش کی راہ ہے۔
ائمۂ کفر سے خطاب: ’یٰٓاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ‘ کا خطاب ظاہر ہے کہ قریش کے ان ائمۂ کفر سے ہے جو آنحضرت ﷺ کی دعوت کے مخاطب اول تھے لیکن آپ کی برسوں کی جدوجہد کے بعد ان کے رویہ میں کوئی تبدیلی ہوئی تو یہ ہوئی کہ انھوں نے کفر اور اسلام دونوں کا ایک ملغوبہ تیار کرنے کا مطالبہ کیا۔ رسول اتمام حجت کا کامل ذریعہ ہوتا ہے۔ اگر اس کی محنت بھی ان کو متاثر نہ کر سکی تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ پھر کوئی بھی دوسری ایسی چیز نہیں رہ گئی تھی جو ان کی حالت میں کوئی تبدیلی پیدا کر سکے۔ چنانچہ ان لوگوں کے بارے میں آگے اس سورہ میں جس مایوسی کا اظہار فرمایا گیا ہے وہ بالکل صحیح ثابت ہوئی۔ ان میں سے کوئی بھی اسلام لانے والا نہیں بنا بلکہ ہر ایک اپنے غرور اور انانیت کا شکار ہوا۔
دو سوال اور ان کے جواب: یہاں اس خطاب سے متعلق دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ قرآن میں عام طور پر قریش کے لیڈروں کو اس طرح کے سخت خطاب سے کہیں مخاطب نہیں کیا گیا ہے، پھر اسی سورہ کی کیا خصوصیت ہے کہ اس میں ان کو ’یٰٓاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ‘ سے خطاب کیا گیا۔ دوسرا یہ کہ قریش بلکہ اہل عرب بالعموم خدا کے منکر نہیں بلکہ اس کے شریک ٹھہرانے والے تھے تو قرآن نے ان کو ’اے کافرو‘ کیوں کہا، ’اے میرے مشرکو‘ سے کیوں نہیں خطاب کیا؟
ان دونوں سوالوں کے جواب اگرچہ اس کتاب میں جگہ جگہ دیے جا چکے ہیں اور تمہید میں بھی اس کی طرف اشارہ ہو چکا ہے لیکن ہم یہاں پھر ان کو صاف کیے دیتے ہیں۔
جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے اس کا جواب یہ ہے کہ حضور نے یہ انداز خطاب اس وقت اختیار فرمایا ہے جب اچھی طرح اتمام حجت کر دینے کے بعد، قوم کے رویہ سے بالکل مایوس ہو کر، اللہ تعالیٰ کے اذن سے، آپ نے ہجرت کا فیصلہ فرما لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ رسول کو ہجرت کا حکم اسی وقت دیتا ہے جب قوم کے رویہ سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اس کے اندر ایمان قبول کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہی ہے اور اس کی مکابرت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ اگر اس کا مزید تعاقب کیا گیا تو اندیشہ ہے کہ خدانخواستہ وہ رسول کو قتل کر دے۔ اس مرحلے میں رسول کے لیے یہ بات بالکل معقول ہوتی ہے کہ وہ قوم اور قوم کے معبودوں سے اپنی کامل بیزاری کا اعلان کر کے ان سے الگ ہو جائے اور چونکہ رسول کی دعوت سے کفر اور اسلام دونوں کی اچھی طرح وضاحت ہو چکتی ہے اس وجہ سے جو بھی اس میں سے کسی ایک کو اختیار کرتا ہے، اس کے متعلق اس شبہ کی گنجائش نہیں رہتی کہ اس نے کفر یا اسلام میں سے کسی کو بے سمجھے بوجھے اختیار کیا ہے اس وجہ سے اگر اس دور میں رسول کفر پر اڑے رہنے والوں کو ’اے کافرو‘ سے خطاب کرتا ہے تو یہ خطاب بالکل برمحل، جائز اور معقول ہوتا ہے۔
اس سے ہمارے لیے یہ تعلیم نکلتی ہے کہ جو چیز کفر یا شرک ہے اس کو کفر یا شرک بتانا اور اس سے لوگوں کو بچانے کی کوشش کرنا تو ہر مسلمان کی ہر لمحہ ذمہ داری ہے لیکن کسی فرد یا گروہ کو کافر قرار دے کر اس سے اعلان براء ت کرنا یا اپنے جملہ روابط اس سے کاٹ لینا یا اس سے اعلان جنگ کر دینا بڑی احتیاط کا متقاضی ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کا مسئلہ بڑا ہی مشکل ہے جو اپنی ہر گمراہی کو اسلام بنائے ہوئے ہوں اور صحیح اسلام ان کے آگے پیش کرنے کا کوئی شرعی نظام موجود نہ ہو۔ اس طرح کے حالات میں صحیح راستہ یہی ہو سکتا ہے کہ آدمی غلطیوں اور گمراہیوں پر تنقید تو کرے اور لوگوں کے ان افعال میں شرکت سے اجتناب بھی کرے جو شرکت و بدعت کی نوعیت کے ہوں لیکن ان کو کافر قرار دے کر ان سے کلیۃً علیحدگی کااعلان اس وقت تک نہ کرے جب تک اس کے لیے مجبور نہ ہو جائے یا یہ باور کرنے کے لیے اس کے سامنے معقول وجوہ نہ آ جائیں کہ اس نے لوگوں پر حق واضح کر دیا اور یہ دوسری چیز نہایت مشکل ہے۔
دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ شرک حقیقت میں کفر ہی ہے۔ دین میں ایمان صرف وہی معتبر ہے جو کامل توحید کے ساتھ ہو یعنی آدمی خدا کی ذات، اس کی صفات اور اس کے حقوق میں کسی دوسرے کو کسی پہلو سے بھی شریک نہ ٹھہرائے۔ اللہ تعالیٰ کسی کے ایمان اور اس کی بندگی کا محتاج نہیں ہے کہ وہ ہر قسم کا ایمان اور ہر قسم کی بندگی قبول ہی کر لے اگرچہ اس میں شرک کی ملاوٹ بھی ہو۔ وہ اپنی بندگی اپنی شرائط پر چاہتا ہے، نہ کہ دوسروں کی شرائط پر، اس وجہ سے ہر وہ عمل خدا کے ہاں غیرمقبول ہے جو صرف اسی کے لیے نہ کیا گیا ہو بلکہ اس میں دوسروں کو بھی شریک کر دیا گیا ہو۔ قرآن کے فلسفہ کی رو سے اس شخص میں جو خدا کا منکر ہے اور اس شخص میں جو اس کو مانتا ہے لیکن خدائے واحد کی حیثیت سے نہیں بلکہ بہت سے دیوتاؤں میں سے ایک دیوتا یا سب سے بڑے دیوتا کی حیثیت سے مانتا ہے، کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ دونوں ہی خدا کے منکر یا دوسرے الفاظ میں کافر ہیں۔ اس لیے کہ شرک کے ساتھ خدا کو ماننا اس کی تمام اعلیٰ صفات کی نفی ہے اور صفات کی نفی کے ساتھ اس کو ماننا اس کے نہ ماننے کے ہم معنی ہے۔ قرآن نے یہاں ان مشرکوں کو کافر کہہ کر اسی حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ شرک درحقیقت کفر ہی ہے، کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ یہ کسی درجے میں بھی کفر کے مقابلے میں اہون یا قابل لحاظ ہے۔
Ayah 109:2سمجھوتے کی پیشکش کا جواب: کفر کے سرغنوں کو خطاب کر کے یہ ان کی اس پیش کش کا جواب ہے جو وہ باہمی سمجھوتے کے لیے کر رہے تھے۔ فرمایا کہ میں ان چیزوں کو نہیں پوجوں گا جن کو تم پوجتے ہو۔ گویا پہلے ہی فقرے میں ان کی توقع کا خاتمہ کر دیا۔
عام طور پر لوگوں نے ’لَآ اَعْبُدُ‘ کو حال کے مفہوم میں لیا ہے لیکن اس کو حال کے مفہوم میں لینا صاحب کشاف کے نزدیک عربیت کے خلاف ہے اور میرے نزدیک ان کی رائے صائب ہے۔ مضارع پر جب اس طرح ’لَا‘ آئے گا تو وہ مضارع کو لازماً مستقبل کے مفہوم میں کر دے گا۔ حال کے مفہوم کے لیے ’لَا‘ نہیں بلکہ ’مَا‘ کا استعمال موزوں ہے۔
علاوہ ازیں حال سے متعلق کسی نفی یا اثبات کا کوئی خاص فائدہ بھی نہیں۔ قریش میں سے ہر شخص کوعلم تھا کہ آنحضرت ﷺ ان بتوں میں سے کسی کو نہیں پوجتے۔ پھر ان کو یہ بتانے سے کیا فائدہ کہ میں ان کو نہیں پوجتا جن کو تم پوجتے ہو؟ سمجھوتے کی تجویزیں پیش کرنے سے ان کا اصلی مقصد تو یہی تھا کہ آنحضرت ﷺ اپنے اس رویے میں کچھ لچک پیدا کریں جس میں دوسرے معبودوں کے لیے سرے سے کوئی گنجائش ہی نہیں رہی ہے۔ ان کی اس توقع پر ضرب لگ سکتی تھی تو اسی صورت میں لگ سکتی تھی جب ان کو آئندہ کے لیے یہ یقین دلا دیا جائے کہ خدا کی توحید کے باب میں آپ کوئی لچک قبول کرنے والے نہیں ہیں۔
سورۂ قلم کی آیت ’وَدُّوْا لَوْ تُدْھِنُ فَیُدْھِنُوْنَ‘۱ (القلم ۶۸: ۹) (وہ چاہتے ہیں کہ تم کچھ نرم پڑو تو وہ بھی نرم پڑ جائیں گے) کے تحت ہم واضح کر چکے ہیں کہ قریش اپنے جبر و ظلم کے تمام حربے آزما کر ہجرت سے کچھ پہلے پہلے یہ اندازہ کر چکے تھے کہ اسلام کی روز افزوں ترقی کو روکنا ان کے امکان میں نہیں رہا۔ اب اگر کچھ امکان ہے تو صرف یہ ہے کہ دباؤ ڈال کر آنحضرت ﷺ کو اس بات پر مجبور کیا جائے کہ وہ ’’کچھ دو اور کچھ لو‘‘ کے اصول پر معاملہ کرنے کی طرف مائل ہوں یعنی جس طرح ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ایک مقام تسلیم کرتے ہیں اسی طرح آپ ہمارے بتوں کے لیے بھی عبادت میں ایک حق تسلیم کر لیں تو یہ جھگڑا ختم ہو جائے۔ ان کو توقع تھی کہ دباؤ ڈال کر وہ آنحضرت ﷺ سے اپنا موقف تسلیم کرا لیں گے چنانچہ انھوں نے اپنا پورا زور صرف کر دیا یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کو حالات سے مجبور ہو کر ہجرت کی راہ اختیار کرنی پڑی لیکن دین کی بنیاد چونکہ توحید ہی پر ہے اس وجہ سے ہجرت کے امتحان سے گزرنا گوارا کر لیا گیا لیکن اس معاملے میں کوئی لچک گوارا نہیں کی گئی بلکہ صاف صاف ’لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ‘ کا اعلان کر دیا گیا۔
_____
۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن۔ جلد ہفتم، صفحات: ۵۱۶-۵۱۷۔
Ayah 109:3ایک حقیقت نفس الامری کا اظہار: ساتھ ہی ان کو اس حقیقت نفس الامری سے بھی حضور نے آگاہ فرما دیا کہ تم جو یہ گمان کیے بیٹھے ہو کہ تم اس خدا کو پوجنے والے ہو یا بن جاؤ گے جس کو میں پوجتا ہوں تو تمہارا یہ گمان محض گمان ہے۔ میرے پروردگار کی بندگی کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ بندگی صرف اسی کا حق ہے، اس میں کوئی دوسرا اس کا ساجھی نہیں ہے۔ تم اگر اپنے دیویوں دیوتاؤں سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہو تو اس کے پرستار بھی نہیں بن سکتے۔ یہ تمہارا محض مغالطہ ہے کہ تم اپنے کوخدا کی عبادت کرنے والا سمجھتے ہو۔ خدا کی عبادت کے ساتھ کوئی اور عبادت جمع نہیں ہو سکتی۔ اس کی بندگی میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ تم اپنے تمام معبودوں کو باہر چھوڑ کر آؤ۔ اگر اس کی بندگی کے ساتھ تم نے ان کی بندگی بھی جمع کرنے کی کوشش کی تو اپنے معبودوں کے پرستار تو بے شک رہو گے لیکن خدا کی بندگی میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہو گا۔
مشرکین کے معبودوں کے لیے ’مَا تَعْبُدُوْنَ‘ کا استعمال بالکل ٹھیک ہے اس لیے کہ وہ فرضی اور وہمی چیزوں کی پوجا کرتے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے ’مَآ اَعْبُدُ‘ کا استعمال کچھ کھٹکتا ہے۔ یہ مجانست کے اسی اصول پر استعمال ہوا ہے جس کی مثالیں عربی زبان اور قرآن دونوں میں معروف ہیں۔ مثلاً ’دِنَّاھُمْ کَمَا دَانُوْا‘ یا ’جَزآؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُھَا‘ (الشوریٰ ۴۲: ۴۰) وغیرہ۔ اس اسلوب پر اس کے محل میں مفصل گفتگو ہو چکی ہے۔۱
_____
۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن۔ جلد ۷، صفحہ ۱۸۱۔
Ayah 109:4ماضی سے متعلق موقف کا اظہار: اوپر کا اعلان تو، جیسا کہ واضح ہوا، مستقبل سے متعلق ہے۔ اب یہ ماضی سے متعلق بھی آپ نے اپنا موقف واضح فرما دیا کہ ماضی میں بھی کبھی میں ان چیزوں کا پرستار نہیں رہا ہوں جن کی تم نے پرستش کی۔ صاحب کشاف نے اس آیت کی یہی تاویل کی ہے اور مجھے زبان اور نظام دونوں پہلوؤں سے یہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔
’وَلَآ اَنَا عَابِدٌ‘ کا جملہ اسمیہ ہے! اس وجہ سے اس کے حاضر، ماضی اور مستقبل میں سے کسی کے ساتھ مقید ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ یہ تینوں زمانوں کے ساتھ یکساں مربوط ہو سکتا ہے بشرطیکہ قرینہ ان میں سے کسی کو ترجیح نہ دے دے۔ یہاں ’مَّا عَبَدْتُّمْ‘ چونکہ ماضی ہے اس وجہ سے یہ واضح قرینہ ہے کہ ’وَلَآ اَنَا عَابِدٌ‘ کی نفی ماضی ہی سے متعلق ہے یعنی میں پہلے بھی کبھی ان چیزوں کا پوجنے والا نہیں رہا ہوں جن چیزوں کو تم نے پوجا۔
کلام کا فائدہ: اس کلام کا فائدہ یہ ہو گا کہ اس اعلان براء ت کی شدت میں اس سے بڑا اضافہ ہو جائے گا جو اوپر کی آیت میں کیا گیا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہو گا کہ جب میں تمہارے ان بتوں کو اپنی زندگی کے اس دور میں بھی کبھی خاطر میں نہیں لایا جب میں شرف نبوت سے مشرف اور نور وحی سے منور نہیں ہوا تھا تو اب جب کہ میں براہ راست اپنے رب سے ہدایت حاصل کر رہا ہوں تمہاری اس ضلالت میں کس طرح مبتلا ہو سکتا ہوں۔ مطلب یہ ہوا کہ کوئی دور بھی میری اور تمہاری زندگی میں اگر ایسا گزرا ہوتا جب میں تمہارے اس دین شرک میں شریک رہا ہوتا تو تم مجھ سے یہ توقع کر سکتے تھے کہ شاید میں سابق دین پھر اختیار کرنے پر آمادہ ہو جاؤں گا لیکن جب میرا دامن جاہلیت میں بھی شرک سے داغ دار نہ ہوا تو اب مجھ سے اس کی توقع تم کیسے کر رہے ہو!
Ayah 109:5آیت کا تعلق دور ماضی سے ہے: یہ آیت لفظاً تو آیت ۳ کا اعادہ ہے اس وجہ سے تکرار کا شبہ پیدا ہوتا ہے لیکن معناً یہ اس سے مختلف ہے۔ اس کا تعلق آیت ۴ کی طرح دور ماضی سے ہے جب کہ آیت ۳ کا تعلق، جیسا کہ واضح ہوا مستقبل سے ہے۔ یعنی قریش کے لیڈروں کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ تم اگر اس مغالطے میں مبتلا ہو کہ ماضی میں تم بھی اسی معبود کی پوجا کرتے رہے ہو جس کی میں پوجا کرتا رہا ہوں تو یہ محض تمہاری خام خیالی ہے۔ شرک کے ساتھ میرے معبود کی پرستش کا، جیسا کہ اوپر واضح ہوا، کوئی امکان ہی نہیں ہے اور تم شرک سے کبھی پاک نہیں ہوئے اس وجہ سے نہ میں کبھی تمہارا دینی بھائی بنا نہ تم میرے دینی بھائی بنے تو یہ توقع تم کس طرح کرتے ہو کہ اپنی اس گندگی میں لتھڑے ہوئے تم مجھے اپنا دینی بھائی بنانے میں کامیاب ہو جاؤ گے!
یہاں باوّل وہلہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مطلب آیت کا یہ ہے، جو ہم نے اختیار کیا ہے تو ’مَآ اَعْبُدُ‘ کی جگہ ’مَا عَبَدْتُّ‘ کیوں نہیں فرمایا؟ اس کا جواب صاحب کشاف نے یہ دیا ہے کہ ’مَا عَبَدْتُّ‘ اس لیے نہیں فرمایا کہ اس دور میں آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی بندگی نہیں کی اس وجہ سے آپ نے اس کا حوالہ نہیں دیا بلکہ صرف حال کا حوالہ دیا لیکن یہ جواب بالکل غلط ہے۔ حضرات انبیاء علیہم السلام بعثت سے پہلے بھی فطرت سلیم پر تھے اور توحید چونکہ دین فطرت ہے اس وجہ سے وہ کبھی فطرت کے خلاف شرک میں مبتلا نہیں ہوئے۔ ساتھ ہی وہ لازماً اپنے رب کی کسی نہ کسی شکل میں عبادت بھی کرتے رہے ہیں اگرچہ وہ طریقہ انھوں نے اپنے اجتہاد سے اختیار کیا ہو یا دین کی سابق روایات سے اخذ کیا ہو۔ ہمارے نبی کریم ﷺ بعثت سے پہلے بھی عبادت کرتے تھے۔ اگرچہ اس کا طریقہ واضح طور پر ہمارے سامنے نہیں ہے تاہم اتنی بات معلوم ہے کہ اس کی بنیاد حنیفیت پر تھی جس کی روایت حضرت ابراہیم و حضرت اسمٰعیل علیہما السلام کے زمانے سے کسی نہ کسی شکل میں چلی آ رہی تھی۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک ’مَا عَبَدْتُّ‘ نہ کہنے کی وہ وجہ صحیح نہیں ہے جو صاحب کشاف نے بیان کی ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ آپ کا تعلق صرف ماضی ہی تک محدود نہیں تھا بلکہ آپ نے جس طرح ماضی میں اپنے رب ہی کی عبادت کی اسی طرح آپ حاضر میں بھی اسی کی عبادت پر قائم تھے اس وجہ سے آپ نے ’مَآ اَعْبُدُ‘ فرمایا جس سے تسلسل اور استمرار کا اظہار ہو رہا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ تم اس خدا کے پوجنے والے ماضی میں بھی نہ بنے جس کی بندگی میں نے ماضی میں بھی کی اور اب بھی اس پر قائم و دائم ہوں۔
Ayah 109:6آشکارا اعلان براء ت: یعنی جب میرے دین اور تمہارے دین میں کوئی اشتراک ماضی میں نہ ہوا، نہ حاضر میں ہے تو آئندہ کس طرح توقع کرتے ہو کہ ہم کسی ایک نقطہ پر مجتمع ہو سکیں گے۔ اس وجہ سے سمجھوتے کی توقع بالکل لاحاصل ہے۔ میرے لیے میرا دین ہے اور تمہارے لیے تمہارا دین۔ میں اپنے طریقہ پر کام کرتا ہوں اور تم اپنے طریقہ پر کام کرو اور دیکھو کہ انجام کار میری بات سچی ثابت ہوتی ہے یا تمہاری۔ یہی بات سورۂ انعام میں یوں ارشاد ہوئی ہے:
’قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ‘ (الانعام ۶: ۱۳۵)
(کہہ دو، اے میری قوم کے لوگو، تم اپنی جگہ پر کام کرو، میں اپنی جگہ پر کام کرتا ہوں)
سورۂ ہود آیت ۹۳ اور سورۂ زمر آیت ۳۹ میں بھی دوسرے رسولوں سے یہی کلمات نقل ہوئے ہیں اور مقصود اس سے صرف اس بحث و جدال کے دروازے کو بند کرنا ہے جو مخالفین اس مقصد سے کر رہے تھے کہ نبی ﷺ ان کے موقف کو بھی تسلیم کرنے پر آمادہ ہوں۔ اس اعلان سے آپ نے ان کو آخری آگاہی دے دی کہ نہ آپ دین سے ذرہ برابر ہٹنے کے لیے تیار ہیں اور نہ ان کے دین کے لیے ہی کوئی مقام تسلیم کرنے پر آمادہ ہیں۔
حضرت ابراہیم کے اعلان کا اعادہ: عام طور پر لوگوں نے اس آیت کو رواداری کے مفہوم میں لیا ہے حالانکہ یہ کفار کے رویہ سے بیزاری بلکہ انجام کار کے اعتبار سے ان سے ابدی مفارقت اور اعلان جنگ کے مفہوم میں ہے۔ مختصر الفاظ میں یہ وہی اعلان ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے کیا تھا، جس کا حوالہ قرآن نے ان الفاظ میں دیا ہے:
قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْٓ اِبْرٰھِیْمَ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِھِمْ اِنَّا بُرَءٰٓ ؤُا مِنْکُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کَفَرْنَا بِکُمْ وَبَدَا بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰی تُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَحْدَہٗٓ.(الممتحنہ ۶۰: ۴)
’’تمہارے لیے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ یاد کرو جب کہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے اور ان چیزوں سے جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو بالکل بری ہیں، ہم نے تمہارے عقیدے کا انکار کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت اور نفرت آشکارا ہو گئی تا آنکہ تم اللہ وحدہٗ لاشریک لہ پر ایمان لاؤ۔‘‘
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے اصحاب کا یہ اسوۂ حسنہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کے سامنے رکھا ہی اس لیے گیا تھا کہ اسی طرح کا اعلان براء ت آپ اور آپ کے صحابہ اپنی قوم سے کریں۔ چنانچہ اسی کی پیروی میں یہ اعلان آنحضرت ﷺ نے فرمایا تو اس کے اندر رواداری کی گنجائش کس طرح پیدا ہو سکتی ہے۔ کلام کے سیاق و سباق اور نظم کی رعایت ملحوظ نہ رکھنے سے ایک بہت بڑا نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ لوگ بیزاری اور رواداری کے کلمہ میں امتیاز سے بھی قاصر رہ جاتے ہیں اور یہ آیت اس کی ایک نہایت عبرت انگیز مثال ہے۔