108. Surah Al-Kawthar

الكوثرAbundance · 3 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 108:1

اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ Open ayah 108:1 in the Quran reader

اے نبی بیشک ہم نے آپ کو کوثر یعنی خیرکثیر عطا فرمائی ہے۔

(1) اے پیغمبر ہم نے آپ کو کوثر یعنی خیر کثیر عطا فرمائی ہے۔
Ayah 108:2

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ Open ayah 108:2 in the Quran reader

سو آپ اپنے پروردگار کے آگے نماز پڑھیئے اور قربانی کیجئے۔

(2) لہٰذا آپ اپنے پروردگار کی جناب میں نماز ادا کیجئے اور قربانی کیا کیجئے۔ یعنی اتنے بڑے انعام سے آپ کو نوازنا اور ایسی خیر کثیر عطا کرنا جس کی کوئی انتہا نہیں ہے اس کا تقاضا ہے کہ آپ نماز پڑھیے اللہ کے لئے اور اسی کے نام پر قربانی کیجئے کیونکہ آپ کا دشمن غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور غیر اللہ کے لئے جانور قربان کرتے ہیں آپ صرف اللہ تعالیٰ کے لئے اس نماز اور قربانی کی بھی مختلف تفسیریں منقول ہیں۔ کسی نے کہا عید الضحیٰ کی نماز اور قربانی کا حکم ہے کسی نے کہا نمازگ پڑھو جمع ہوکر اور منیٰ میں قربانی کرو کسی نے کہا نماز میں سیدھے ہاتھ کو الٹے ہاتھ پر رکھو۔ نحر سے مراد شاید اونٹ کی قربانی کی طرف اشارہ ہو بعض حضرات نے فرمایا یہاں نحر کے معنی عید کی نماز میں رفع یدین کے ہیں۔ واللہ اعلم
Ayah 108:3

اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠ Open ayah 108:3 in the Quran reader

یقینا جو آپ کا دشمن ہے وہی بےنام ونشان ہے۔

(3) یقینا جو آپ کا دشمن ہے وہی دم بریدہ اور بےنام ونشان ہے - کوثر کی تفسیر میں مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں کیونکہ لفظ خیر کثیر کثرت معنی پر دلالت کرتا ہے مثلاً قرآن عظیم نبوت کتاب حکمت آپ کے متبعین کی کثرت جنت میں حوض کوثر یا نہر کوثر حکمت کو خیر کثیر کہنا یہ قرآن کی تفسیر کے ساتھ ہے۔ ومن یوت الحکمۃ نقد اوتی خیراً کثیراً کتا ب و حکمت کے ساتھ علم شفاعت حوض الموردد، مقام محمود، ادیان باطلہ پر آپ کے دین کا غالب ہونا، فتوحات کی کثرت، دشمنوں کے مقابلے میں نصرت اور مدد بہرحال جیسا ہم کہہ چکے ہیں کہ کوثر کی تفسیر بہت طرح کی گئی ہے اور ہر قسم کی خیر کو شامل ہے مشہور یہی ہے کہ اس سے مراد وہ حوض کوثر ہے جس کا ذکر صحیح حدیث میں آتا ہے اور خود آنحضرت ﷺ سے کوثر کی تفسیر میں وھوحوض ترد علیہ امتی یوم القیمۃ وارد ہے۔ یہ حوض شاید میدان حشر میں ہوگا اور نہر جنت میں ہوگی اس نہر کا پانی پرنالوں سے حوض میں پڑرہا ہوگا اس لئے جن روایتوں میں نہر کا لفظ ہے وہ بھی صحیح ہے۔ حضرت قاضی عیاض (رح) نے فرمایا حوض کے بارے میں جو احادیث وارد ہیں وہ صحیح ہیں اور حوض پر ایمان لانا اور اس کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب (رح) نے اپنی بعض تصنیفات میں فرمایا ہے کہ جو قرآن دنیا میں ہمارے پاس موجود ہے عالم مثال میں اس کو حوض کوثر کی شکل عنایت ہوگی۔ (واللہ اعلم) آگے اس عظیم الشان احسان کے مقابلے میں شکر بجا لانے کا حکم ہے۔ (3) بے شک آپ کا دشمن ہے بےنام ونشان یعنی آپ کو جو لوگ ابتر کہتے ہیں ان کے کہنے کال اثر قبول نہ کیجئے آپکو اللہ تعالیٰ نے خیر کثیر سے نوازا ہے آپ کا نام ہمیشہ باقی رہنے والا ہے آپ کی روحانی اولاد آج بھی دنیا میں بیشمار موجود ہے اور جسمانی اولاد یعنی خاتون محشر کی اولادبھی کثرت موجود ہے لہٰذا آپ کا نام آپکی تعلیم اور آپ کی تہذیب دنیا میں رہنے والی ہے۔ دنیا میں آپ کا ذکر جمیل اور آخرت میں اجرجزیل باقی رہنے والا ہے البتہ آپ کا دشمن دم بریدہ اور بےنام ونشان ہے چناچہ آج دنیا میں نہ کہیں ان کا ذکر ہے نہ ان کا نام ونشان ہے خواہ ان کی اولاد رہی ہو یا نہ رہی ہو لیکن ان کا کوئی نام لینے والا اور ان کا ذکر خیر کہیں نہیں ہے اور ان کو بھلائی کے ساتھ یاد کرنے والا کوئی نہیں۔