Ayah 107:1(1) اے پیغمبر بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا ہے جو روز جزا کی تکذیب کرتا ہے۔
یعنی جزاوسزا کا منکر ہے اور سمجھتا ہے کہ انصاف نہیں ہوگا اور نہ نیکی اور بدی کا کسی دن بدلہ ملے گا اگرچہ عام مفسرین کے نزدیک یہ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے ، بعض نے کہا ہر عاقل اور سمجھ دار انسان کو ہے بعض حضرات نے دین کے معنی ملت کے کئے ہیں یعنی ملت اسلامیہ کی تکذیب کرتا ہے اور ملت اسلامیہ کو جھٹلاتا ہے۔
Ayah 107:2(2) سو یہ وہی شخص ہے جو یتیم کو بری طرح دھکے دیتا ہے - یعنی یتیم کے ساتھ احسان اور حسن سلوک تو کجا بدبخت اس کو تحقیر اور اہانت کے ساتھ دھکے دیتا ہے اور اسی پر بس نہیں۔
Ayah 107:3(3) اور نہ محتاج کو کھانادینے کی لوگوں کو ترغیب دیتا ہے ۔ یعنی یتیم کا اکرام تو کیا کرے گا کسی مسکین کو کھانا کھلانے کی لوگوں کو ترغیب تک نہیں دیتا یعنی مخلوق کا حق ادا کرنے کا اس کو بالکل خیال نہیں۔
Ayah 107:4(4) سو ایسے لوگوں کے لڑی خرابی ہے
Ayah 107:5(5) جو اپنی نماز سے غفلت اور بےاعتنائی برتتے ہیں - بغوی نے کہا نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ساھون کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اضاعۃ الوقت نماز کے وقت کو ضائع کرنا یا منافقین مراد ہیں کہ لوگوں میں ہوتے تو پڑھ لی نہیں تو چھوڑ دی یا وہ لوگ جو بےپروائی کرتے ہیں پڑھ لی یا نہ پڑھی یا یہ کہ دکھاوے کو پڑھتے ہیں اور اگر نماز فوت ہوجائے تو نادم نہیں ہوتے یا یہ کہ رکوع سجدہ صحیح طور پر نہیں کرتا اور تو چل میں آیا کی طرح پڑھتا ہے یا یہ کہ اخلاص اور خشوع سے خالی ہیں غرض یہ تمام صورتیں علی حسب مراتب ساھون میں داخل ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی قضا کرتے ہیں یاتنگ وقت میں پڑھتے ہیں جان کر۔
Ayah 107:6(6) جو ایسے ہیں کہ ریاکاری کرتے ہیں۔ یعنی عبادت میں خشوع و خضوع کا اظہار اللہ تعالیٰ کے نہیں بندوں کے دکھانے کو تاکہ وہ اس کے معتقد ہوجائیں اور سمجھیں کہ یہ بڑا نیک ہے اور لوگ اس کو اہل دین اور صلاح وتقوے والا جانیں۔ اگر قلب میں کفر ہو تو منافق ہے اور اگر قلب میں ایمان ہے اور پھر لوگوں کو دکھانے کو طویل عمل کرتا ہے تو ریاکار ہے جس کی نماز اس کے لئے وبال ہوگی۔
Ayah 107:7(7) اور روز مرہ کے برتنے کی چیز مانگے تک کو نہیں دیتے۔ یعنی روز مرہ جو چیزیں استعمال میں آتی ہیں ڈول، رسی، سوئی، تاگہ، لوٹا، پتیلی وغیرہ تک کسی کو عاریتہ نہیں دیتا یہ عام دستور ہے کہ ایک دوسرے سے عاریۃً روزمرہ کے استعمال کی چیزیں مانگ لیا کرتے ہیں اور اپنا کام نکال کرو واپس کردیتے ہیں مگر یہ کوئی چیز مانگے تک نہیں دیتا۔ بعض صحابہ ؓ نے نماز کی مناسبت سے زکوٰۃ مراد لی ہے۔ یعنی زکوٰۃ بالکل نہیں دیتے یعنی مخلوق کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں زکوٰۃجو بڑی چیز ہے وہ تک نہیں دیتا۔ زکوٰۃ تو کیا دے گا برتنے کی چیز تک مانگے نہیں دیتا۔ معلوم ہا کہ یہ شخص اسلام کی کوئی حقیقت نہیں سمجھتا۔
تم تفسیر سورة الماعون