106. Surah Quraish

قريشQuraysh · 4 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 106:1

لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ Open ayah 106:1 in the Quran reader

چونکہ پر یش کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے رغبت والفت ڈال دی ہے۔

(1) چونکہ قریش کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے رغبت اور الفت ڈال دی ہے۔
Ayah 106:2

اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِۚ Open ayah 106:2 in the Quran reader

جو سردی اور گرمی کے سفر سے ان کو مانوس کرنے کے سلسلے میں ہے۔

(2) جو سردی اور گرمی کے سفر سے ان کو مانوس کرنے کے سلسلے میں ہے - ہم نے ترجمہ بطور حاصل مطلب کے کیا ہے ورنہ لفظی ترجمہ تو ظاہر ہے کہ یوں ہے اس واسطے کہ مانوس رکھا قریش کو مانوس رکھنا ان کو سفر سے جاڑے اور گرمی کے …لیکن حاصل مطلب یہ ہے کہ قریش کو مانوس کو رکھا ہے، یعنی گرمی اور سردی میں سفر کرنے کو مانوس کردیا ہے۔ لا یلاف کے لام میں علماء کے چند قول ہیں ایک یہ کہ لام متعلق ہے فجعلھم کعصف ماکول کے دوسرے یہ کہ لام متعلق ہے مابعد کی آیت کے۔ تیسرے یہ کہ نہ مابعد کی آیت کے متعلق ہے نہ ماقبل کے اسی سنا پر ترجموں میں تھوڑا تھوڑا فرق ہوگیا ہے ہم نے خلیل اور سیبویہ کی ترکیب کو اختیار کیا ہے مطلب یہ ہے کہ چونکہ قریش کو اس گرمی اور سردی کے سفر سے مانوس کردیا ہے اور وہ ان سفروں کے اور اس طریقہ زندگی کے خوگر ہوگئے۔ لہٰذا اس نعمت کا شکر بجا لانے کے لئے۔
Ayah 106:3

فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِۙ Open ayah 106:3 in the Quran reader

اس لئے ان کو چاہیے کہ اس خانہ کعبہ کے مالک کی عبادت کریں۔

(3) ان کو چاہیے کہ اس خانہ کعبہ کے مالک کی عبادت کریں۔ یعنی اسی نعمت کے شکریہ میں ان کو ان کا سفر سے مانوس کیا بلکہ سفر کرنے اور روزی کمانے کا طریقہ تعلیم کیا ۔ اس کے شکریہ میں اس گھر یعنی کعبے کے مالک کی عبادت اور اس کی بندگی بجا لائیں۔ رب ھذا البیت کی مزید تشریح ہے۔
Ayah 106:4

الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠ Open ayah 106:4 in the Quran reader

جس نے ان کو بھوک میں کھانے کو دیا اور خوف سے ان کو امن دیا۔

(4) جس نے ان کو بھوک میں کھانے کو دیا اور خوف سے ان کو امن دیا - یعنی اگر ہم یہ سفر کا طریقہ ان کو نہ سکھاتے اور ان کو سردی اور گرمی کے سفر سے مانوس نہ کرتے تو اس وادی غیر ذی زرع میں بھوکے مرجاتے اور اگر ہم مکہ والوں کا ادب و احترام لوگوں کے دل میں نہ ڈالتے تو ان کو امن نصیب نہ ہوتا روزی اور امن یہ دونوں بہت بڑی نعمتیں ہیں سورة نحل میں گزرا ہے۔ فاذا قھا اللہ لباس الجوع والخوف بھوک اور خوف دو ایسے خطرناک عذاب ہیں کہ اللہ کی پناہ ان دونوں سے قریش کو بچایا یہ اللہ کی بڑی نعمت ہے اس کا ذکر فرما کر ان کو حضرت حق نے اپنی عبادت کا حکم دیا اس سے بڑھ کر کسی پر کیا احسان ہوسکتا ہے کہ جلب منفعت کے سفر کا خوگر بنایا اور دفع مضرت کے لئے کعبہ کا نگہبان مقرر کیا۔ تم تفسیر سورة قریش