Ayah 109:1(1) اے پیغمبر ان کافروں سے فرمادیجئے اے کفر کرنے والو۔
Ayah 109:2(2) تم جن معبودوں کی پرستش کرتے ہو میں ان کی پرستش نہیں کرتا۔
Ayah 109:3(3) اور نہ تم اس معبود کی پرستش کرتے ہو جس معبود کی میں پرستش کررہا ہوں۔
Ayah 109:4(4) اور آئندہ بھی میں تمہارے معبودوں کی پرستش کرنے والا نہیں ہوں
Ayah 109:5(5) اور نہ تم ہی میرے معبود کی پوجا کرنے والے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ نہ فی الحال اس قسم کی شرکت ہوسکتی ہے نہ آئندہ اس قسم کی شرکت کا امکان ہے کیونکہ میں موحد ہوکر شرک نہیں کرسکتا اور نہ تم جب تک شرک کرتے رہو گے موحد نہیں بن سکتے یعنی میں نہ فی الحال اور نہ آئندہ شرک کا مرتکب ہوسکتا ہوں اور نہ تم جب تک غیر اللہ کی پرستش کرتے رہو گے موحد قرار دیئے جاسکتے ہو۔
مطلب یہ ہوا لا اعبدالباطل والا تعبدون الحق الفاظ کی ترکیب کے اعتبار سے کئی طرح معنی کئے گئے ہیں۔
بعض حضرات نے یوں مطلب بیان کیا ہے میرے تمہارے درمیان معبود ہیں اشتراک ہے نہ طریق عبادت میں تم بتوں کو پوجتے ہو وہ میرے معبود نہیں میں اس معبود برحق کو پوجتا ہوں جس کی صفات میں کوئی شریک نہیں وہ خدا تمہارا معبود نہیں اور تم جس طرح عبادت کرتے ہو اور جس بےہودگی کا اظہار اپنی عبادت میں کرتے ہو میں اس طرح کی عبادت کرنے والا نہیں ہوں تو اس طرح میرا تمہارا اشتراک نہیں ہوسکتا۔
ہم نے آسان اور سہل طریقے سے مطلب بیان کردیا ہے جس کا ماخذ تفسیر مدارک اور خازن ہے اس سورت میں جو لطائف اور خوبیاں ہیں ان پر علماء نے بہت کچھ بحث کی ہے زیادہ تفصیل مطلوب ہو تو تفسیر کبیر یا ابن قیم کی بدائع الفوائد ملاحظہ کی جائے اس عدم اشترک کی وجہ سے آخر میں ارشاد ہے۔
Ayah 109:6(6) تمہارے لئے تمہاری راہ ہے اور میرے لئے میری راہ - یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ تم کو تمہارے عمل کا بدلہ ملے گا اور مجھ کو میرے عمل کا بدلہ ملے گا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تم نے ضد باندھی اب سمجھانا کیا فائدہ ۔
خلاصہ : یہ کہ ایسی ضد میں سمجھانا کیا سود مند ہوگا جب تک اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ کرے۔ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے ہم بیزار ہیں تمہاری بدبختی تمہارے لئے ہے اور ہماری نیک روش اور صراط مستقیم کی پیروی ہمارے لئے ہے۔
تم تفسیر سورة الکفرون