108. Surah Al-Kawthar
الكوثرAbundance · 3 ayahsتفسیر انوار البیان
اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ Open ayah 108:1 in the Quran reader
بیشک ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی
یہ سورة الکوثر کا ترجمہ ہے بعض حضرات نے اسے مدنی سورت بتایا ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ مکہ معظمہ میں نازل ہوئی اس میں تین آیات ہیں اور تعداد آیات کے اعتبار سے یہ قرآن حکیم کی سب سے چھوٹی سورت ہے۔ لفظ کوثر فوعل کے وزن پر ہے جس کا معنی خیر کثیر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہی منقول ہے اسی خیر کثیر میں سے نہر کوثر بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو عطا فرمائی۔ سورت کے سبب نزول کے بارے میں کئی روایات تفسیر کی کتابوں میں لکھی ہیں جنہیں انشاء اللہ تعالیٰ ہم آخری آیت کی تفسیر کے ذیل میں لکھیں گے۔
ارشاد فرمایا : ﴿ اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ001﴾ (ہم نے آپ کو خیر کثیر عطا فرمایا) ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت سے نوازا، سید الانبیاء والرسل بنایا، قرآن عطا فرمایا، بہت بڑی امت آپ کے تابع بنائی۔ آپ کا دین سارے عالم اور ساری اقوام میں پھیلایا اور آخرت میں آپ کو بہت بڑی خیر سے نوازا۔ مقام محمود بھی عطا فرمایا۔ نہر کوثر بھی خیر کثیر میں ایک حصہ ہے۔ خیر کثیر اسی پر منحصر نہیں۔ احادیث شریفہ میں نہر کوثر کی بھی بہت عظیم صفات بیان فرمائی گئی ہیں۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں (شب معراج) میں جنت میں چل پھر رہا تھا اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ ایک نہر ہے اس کے دونوں جانب موتیوں کے بنائے ہوئے ایسے قبے ہیں کہ موتیوں کو اندر سے تراش کر ایک ایک موتی کا ایک ایک قبہ بنا دیا گیا ہے۔ میں نے دریافت کیا اے جبرائیل یہ کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ کوثر ہے جو آپ کے رب نے آپ کو عطا فرمائی ہے۔ اس کے اندر کی مٹی بہت تیز خوشبودار مشک ہے۔ (رواہ البخاری)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے حوض کا طول اور عرض اتنا زیادہ ہے کہ اس کے ایک طرف سے دوسری طرف جانے کے لیے ایک ماہ کی مدت درکار ہے اور اس کے گوشے برابر ہیں۔ (یعنی طول و عرض دونوں برابر ہیں) اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہے اور اس کی خوشبو مشک سے زیادہ عمدہ ہے اور اس کے لوٹے اس قدر ہیں جتنے آسمان کے ستارے ہیں، جو اس میں سے پیے گا کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 487 از بخاری و مسلم)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرا حوض اس قدر عریض و طویل ہے کہ اس کی دو طرفوں کے درمیان اس فاصلہ سے بھی زیادہ فاصلہ ہے جو ایلہ سے عدن تک ہے۔ سچ جانو وہ برف سے زیادہ سفید اور اس شہد سے زیادہ میٹھا ہے جو دودھ میں ملا ہوا ہو، اور اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں اور میں (دوسری امتوں کو) اپنے حوض پر آنے سے ہٹاؤں گا، جیسے (دنیا میں) کوئی شخص دوسرے کے اونٹوں کو اپنے حوض سے ہٹاتا ہے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ ! کیا اس روز آپ ہم کو پہچانتے ہوں گے ؟ ارشاد فرمایا ہاں (ضرور پہچان لوں گا اس لیے کہ) تمہاری ایک علامت ہوگی جو کسی اور امت کی نہ ہوگی۔ اور وہ یہ کہ تم حوض پر میرے پاس اس حال میں آؤ گے کہ وضو کے ا ثر سے تمہارے چہرے روشن ہوں گے اور ہاتھ پاؤں سفید ہوں گے۔ (مشکوۃ المصابیح صفحہ 487 از مسلم)
دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ آسمان کے ستاروں کی تعداد میں حوض کے اندر سونے چاندی کے لوٹے نظر آ رہے ہوں گے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 487 از مسلم)
آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اس حوض میں دو پرنالے گر رہے ہوں گے جو جنت (کی نہر) سے اس کے پانی میں اضافہ کر رہے ہوں گے، ایک پرنالہ سونے کا دوسرا چاندی کا ہوگا۔ (مشکوٰۃ المصابیح) احادیث شریفہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نہر کوثر جنت میں ہے۔ میدان قیامت میں اس میں سے ایک شاخ لائی جائے گی جس میں اوپر سے پانی آتا رہے گا اور اہل ایمان اس میں سے پیتے رہیں گے۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ روایت فرماتے ہیں کہ آنحضرت سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرا حوض اتنا بڑا ہے جتنا عدن اور عمان کے درمیان فاصلہ ہے (حوض کی وسعت کئی طرح ارشاد فرمائی ہے کہیں ایک ماہ کی مسافت کا فاصلہ اس کی طرفوں کے درمیان فرمایا کہیں ایلہ اور عدن کے درمیان فاصلہ سے بھی اس کی وسعت کو تشبیہ دی کہیں کچھ اور فرمایا۔ ان مثالوں کا مقصد حوض کی وسعت کو سمجھانا ہے۔ ناپی ہوئی مسافت بتانا مراد نہیں ہے۔ اہل مجلس کے لحاظ سے وہ مسافت اور فاصلہ ذکر فرمایا ہے جسے وہ سمجھ سکتے تھے۔ حاصل سب روایات کا یہ ہے کہ اس حوض کی مسافت سینکڑوں میل ہے) ۔ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور مشک سے بہتر اس کی خوشبو ہے۔ اس کے پیالے آسمان کے ستاروں سے بھی زیادہ ہیں۔ جو اس میں سے ایک مرتبہ پی لے گا اس کے بعد کبھی بھی پیاسا نہ ہوگا۔ سب سے پہلے اس پر مہاجر فقراء آئیں گے۔ کسی نے (اہل مجلس میں سے) سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! ان کا حال بتا دیجئے۔ ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں (دنیا میں) جن کے سروں کے بال بکھرے ہوئے اور چہرے (بھوک اور محنت و تھکن کے باعث) بدلے ہوئے ہیں۔ ان کے لیے (بادشاہوں اور حاکموں) کے دروازے نہیں کھولے جاتے تھے اور عمدہ عورتیں ان کے نکاح میں نہیں دی جاتی تھیں، اور (ان کے معاملات کی خوبی کا یہ حال تھا کہ) ان کے ذمہ جو (کسی کا) حق ہوتا تھا سب چکا دیتے تھے اور ان کا حق جو (کسی پر) ہوتا تھا تو پورا نہ لیتے تھے (بلکہ تھوڑا بہت) چھوڑ دیتے تھے۔ (الترغیب والترہیب)
یعنی دنیا میں ان کی بدحالی اور بےمائیگی کا یہ حال تھا کہ بال سدھارنے اور کپڑے صاف رکھنے کا مقدور بھی نہ تھا اور ظاہر کے سنوارنے کا ان کو ایسا خاص دھیان بھی نہ تھا نہ بناؤ سنگار کے چونچلوں میں وقت گزارتے، اور آخرت سے غفلت برتتے۔ ان کو دنیا میں افکار و مصائب ایسے درپیش رہتے تھے کہ چہروں پر ان کا اثر ظاہر تھا، اہل دنیا ان کو ایسا حقیر سمجھتے تھے کہ مجلسوں اور تقریبوں اور شاہی درباروں میں ان کو دعوت دے کر بلانا تو کیا معنی ان کے لیے ایسے مواقع میں دروازے ہی نہ کھولے جاتے تھے اور وہ عورتیں جو ناز و نعمت میں پلی تھیں ان خاصان خدا کے نکاحوں میں نہیں دی جاتی تھیں۔ مگر آخرت میں ان کا یہ اعزاز ہوگا کہ حوض کوثر پر سب سے پہلے پہنچیں گے، دوسرے لوگ ان کے بعد اس مقدس حوض سے پی سکیں گے۔ (بشرطیکہ اہل ایمان ہوں اور اس میں سے پینے کے لائق ہوں) ۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) کے سامنے جب آنحضرت سید عالم ﷺ کا ارشاد نقل کیا گیا کہ حوض کوثر پر سب سے پہلے پہنچنے والے وہ لوگ ہوں کے جن کے سر کے بال بکھرے ہوئے اور کپرے میلے رہتے تھے اور جن سے عمدہ عورتوں کے نکاح نہ کیے جاتے تھے اور جن کے لیے دروازے نہیں کھولے جاتے تھے تو اس ارشاد نبوی ﷺ کو سن کر (گھبرا گئے) اور بےساختہ فرمایا کہ میں تو ایسا نہیں ہوں، میرے نکاح میں عبد الملک کی بیٹی فاطمہ (شہزادی) ہے اور میرے لیے دروازے کھولے جاتے ہیں لا محالہ اب تو ایسا کروں گا کہ اس وقت تک سر کو نہ دھو وں گا جب تک بال بکھر نہ جایا کریں گے اور اپنے بدن کو اس وقت تک نہ دھو وں گا جب تک میلا نہ ہوجایا کرے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح)
حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں حوض (کوثر) پر تمہارے پلانے کا انتظام کرنے کے لیے پہلے سے پہنچا ہوا ہوں گا۔ جو میرے پاس سے گزرے گا پی لے گا اور جو اس میں سے پی لے گا کبھی اسے پیاس نہیں لگے گی پھر فرمایا بہت سے لوگ میرے پاس سے گزریں گے جنہیں میں پہچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے، پھر میرے اور ان کے درمیان آڑ لگا دی جائے گی۔ میں کہوں گا کہ یہ میرے آدمی ہیں جواب میں کہا جائے گا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئی چیزیں نکال لی تھیں اس پر میں کہوں گا دور ہوں، دور ہوں، جنہوں نے میرے بعد دین کو بدل دیا۔ (مشکوٰۃ المصابیح)
دین میں پچر لگانے والوں کا اس وقت کیسا برا حال ہوگا جبکہ قیامت کے دن پیاس سے بیتاب اور عاجز و بےکس ہوں گے اور حوض کوثر کے قریب پہنچ کر دھتکار دیئے جائیں گے، اور رحمۃ للعالمین ﷺ ان کی ایجادات کا حال سن کر ” دور دور “ فرما کر پھٹکار دیں گے۔
قرآن و حدیث میں جو کچھ وارد ہوا ہے اسی پر چلنے میں بھلائی ہے کامیابی ہے لوگوں نے سینکڑوں بدعتیں نکال رکھی ہیں اور دین میں ادل بدل کر رکھا ہے جن سے ان کی دنیا بھی چلتی ہے اور نفس کو مزہ بھی آتا ہے اور مختلف علاقوں میں مختلف بدعتیں رواج پا گئی ہیں۔ ایسے لوگوں کو سمجھایا جاتا ہے تو الٹا سمجھانے والے ہی کو برا کہتے ہیں۔ ہم سیدھی اور موٹی سی ایک بات کہے دیتے ہیں کہ جو کوئی کام کرنا ہو آنحضرت ﷺ نے جیسے فرمایا اسی طرح کریں اور جس طرح آپ نے کیا اسی طرح عمل کریں اور اپنے پاس سے کوئی عمل تجویز نہ کریں۔
دنیا دار پیر فقیر یا علم کے جھوٹے دعویدار اگر کہیں کہ فلاں کام میں ثواب ہے اور اچھا ہے تو ان سے ثبوت مانگو اور پوچھو کہ بتاؤ آنحضرت ﷺ نے کیا ہے یا نہیں ؟ اور حدیث شریف کی کس کتاب میں لکھا ہے، آنحضرت ﷺ کو ایسا کرنا پسند تھا ؟
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ Open ayah 108:2 in the Quran reader
سو آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجئے
﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ002﴾ (سو آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجئے) جب آپ کے رب نے آپ کو خیر کثیر عطا فرما دی تو عبادت کی طرف زیادہ توجہ کیجئے، نمازیں پڑھتے رہا کریں، فرائض بھی اور نوافل بھی اور جانوروں کی قربانی کرتے رہیں ان کے ذبح کے وقت اپنے رب کا نام لیں۔
پہلی آیت میں رسول اللہ ﷺ کو کوثر یعنی دنیا و آخرت میں خیر کثیر عطاء فرمانے کی خوش خبری دی اب اس آیت میں اس کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا اور دو کاموں میں مشغول ہونے کی خاص تلقین فرمائی۔ ایک نماز، دوسری قربانی، نماز بدنی اور جسمانی عبادتوں میں سب سے بڑی عبادت ہے اور قربانی مالی عبادتوں میں سے ہے اور اس بنا پر خاص امتیاز اور اہمیت رکھتی ہے کہ اللہ کے نام پر قربانی کرنا بت پرستی کے خلاف ایک جہاد ہے مشرکین بتوں کے نام سے قربانی کرتے تھے اللہ تعالیٰ شانہ نے اپنے نبی ﷺ اور آپ کے توسط سے آپ کی امت کو حکم دیا کہ اللہ کے نام سے قربانی کیا کریں۔
لفظ نحر عربی زبان میں اونٹوں کو ذبح کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا، اہل عرب کے نزدیک اونٹ بڑا قیمتی مال سمجھا جاتا تھا اس آیت میں اونٹ ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔ گائے اور بکری کی قربانی بھی مشروع ہے جو احادیث شریفہ سے ثابت ہے۔ ایام حج میں منیٰ میں اور پورے عالم میں ذی الحجہ کی 10، 11، 12 تاریخوں میں اللہ کی رضا کے لیے قربانیاں کی جاتی ہیں۔ چونکہ لفظ لربک بھی ساتھ ہی لایا گیا ہے اس لیے مطلق ذبح کرنا مراد نہیں ہے قربانی وہی ہے جس سے اللہ کی رضا مقصود ہو۔
بعض لوگوں نے وانحر کا ترجمہ کیا ہے کہ نماز میں سینے پر ہاتھ رکھنے چاہئیں اور اسے حضرت علی ؓ کی طرف منسوب کیا ہے یہ صحیح نہیں۔ (ذكرہ ابن کثیر فی تفسیرہ صفحہ 558، ج 4)
اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠ Open ayah 108:3 in the Quran reader
بلاشبہ آپ کا دشمن ہی بےنام و نشان ہے۔
﴿اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ (رح) 003﴾ (بےشک آپ سے بغض رکھنے والا ہی ابتر ہے) ۔
تفسیر کی کتابوں میں لکھا ہے کہ عاص بن وائل (جو کہ معظمہ میں رسول اللہ ﷺ کا ایک دشمن تھا) جب رسول اللہ ﷺ کا تذکرہ کرتا تھا تو کہتا تھا کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑو ان کی آل و اولاد تو ہے نہیں موت کے بعد ان کا ذکر و فکر ختم ہوجائے گا اس پر سورة الکوثر نازل ہوئی اس میں بتادیا کہ آپ کا ذکر اللہ تعالیٰ بہت بڑھائے گا، جو شخص آپ سے دشمنی کرنے والا ہے وہی بےنام و نشان رہ جائے گا۔
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کعب بن اشرف (جو مدینہ منورہ کے رہنے والے یہودیوں میں ایک مالدار شخص تھا) ایک مرتبہ مکہ معظمہ پہنچا اس سے قریش مکہ نے کہا کہ تو سردار آدمی ہے تو اس نو عمر لڑکے کو دیکھ، بڑھ چڑھ کر باتیں کرتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ وہ ہم سے بہتر ہے ہم لوگ حجاج کی خدمت کرتے ہیں انہیں پانی پلاتے ہیں کعبہ شریف کے متولی ہیں (کیا ہم اس سے بہتر نہیں ہیں ؟ ) اس پر کعب بن اشرف نے کہا کہ تم لوگ اس سے بہتر ہو، اس پر آیت کریمہ ﴿اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ (رح) 003﴾ نازل ہوئی۔ (رواہ البز ارقال ابن کثیر ہو اسناد صحیح)
اور حضرت ابن عباس ؓ سے یوں مروی ہے کہ یہ سورت ابو لہب کے بارے میں نازل ہوئی، جب رسول اللہ ﷺ کے ایک صاحبزادہ کی وفات ہوگئی تو ابو لہب مشرکین کے پاس گیا اور کہا کہ ان کی نسل ختم ہوگئی۔ اب ان کا ذکر و فکر کچھ نہیں ہوگا۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی، آپ کے دشمنوں نے یہ خیال کیا کہ آل اولاد ہی سے انسان کا ذکر اور چرچا باقی رہتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی نرینہ اولاد میں سے کوئی باقی نہیں لہٰذا ان کا ذکر تھوڑے ہی سے دن ہے یہ ان لوگوں کی جہالت اور حماقت ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کا ذکر خوب بلند کیا، آسمانوں میں بھی بلایا، فرشتوں میں متعارف کرایا، پوری دنیا میں آپ پر ایمان لانے والے پیدا فرمائے۔ سلام بھیجنا مشروع فرمایا، آپ پر کتاب نازل فرمائی، کروڑوں افراد کو پورے عالم میں آپ کی امت اجابت میں شامل فرمایا، ہر وقت لاکھوں کی تعداد میں آپ پر امت کا صلاۃ وسلام پہنچتا ہے اور دشمنان اسلام بھی آپ کا ذکر خیر کرتے ہیں۔
حضور سرور عالم ﷺ کی نسل (جو سیدہ فاطمہ ؓ سے ہے) لاکھوں کی تعداد میں گزر چکی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں اب بھی موجود ہے اور آپ پر ایمان لانے والے کروڑوں گزر چکے ہیں اور کروڑوں موجود ہیں، جن لوگوں نے آپ سے دشمنی رکھی اور یوں کہا کہ ان کا ذکر فکر کچھ نہ رہے گا خود یہ دشمن بےنام و نشان ہوگئے آج ان کا نام لیوا کوئی نہیں ہے۔ دنیا سے خود بھی گئے نسل بھی ختم ہوگئی۔ فلعنہ اللہ علی من عادی انبیاء اللہ تعالیٰ ۔
لفظ شانیٔ صیغہ اسم فاعل ہے اس کا مصدر شنئان ہے سورة مائدہ میں فرمایا ہے ﴿وَ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا ﴾ اور لفظ ابتر اسم تفضیل کا صیغہ ہے اس کا مادہ بتر ہے جو کاٹنے کے معنی میں آتا ہے یہاں مبتور کے معنی میں ہے جس کا ذکر منقطع ہوگیا ہو آگے پیچھے کوئی نہ رہا ہو ایسے شخص کو ابتر کہتے ہیں اردو والے اس کو بدتر کے معنی میں لیتے ہیں یہ ان کی وضع ہے عربی میں ابتر کا یہ معنی نہیں ہے۔
سقانا اللہ من حوض نبیہ المجتبیٰ ورسولہ المصطفٰی ﷺ دائما ابدا