108. Surah Al-Kawthar

الكوثرAbundance · 3 ayahsمفردات القرآن

Ayah 108:1

اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ Open ayah 108:1 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ہم نے تم کو کوثر عطا فرمائی ہے

اِنَّآ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ۝ 1 ۭ عطا العَطْوُ : التّناول، والمعاطاة : المناولة، والإعطاء : الإنالة . قال تعالی: حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ [ التوبة/ 29] . واختصّ العطيّة والعطاء بالصّلة . قال : هذا عَطاؤُنا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسابٍ [ ص/ 39] ( ع ط و ) العطوا ( ن ) کے معنی ہیں لینا پکڑنا اور المعاد طاہ باہم لینا دینا الاعطاء ( افعال ) قرآن میں ہے : ۔ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ [ التوبة/ 29] یہاں تک کہ جزیہ دیں ۔ اور العطیۃ والعطاء خاص کر اس چیز کو کہتے ہیں جو محض تفضیلا دی جائے ۔ كَوْثَرَ وقوله : إِنَّا أَعْطَيْناكَ الْكَوْثَرَ [ الکوثر/ 1] قيل : هو نهر في الجنّة يتشعّب عنه الأنهار، وقیل : بل هو الخیر العظیم الذي أعطاه النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم، وقد يقال للرّجل السّخيّ : كَوْثَرٌ ، ويقال : تَكَوْثَرَ الشیءُ : كَثُرَ كَثْرَةً متناهية، قال الشاعر : وقد ثار نقع الموت حتی تکوثرا ۔ اور آیت : ۔ إِنَّا أَعْطَيْناكَ الْكَوْثَرَ [ الکوثر/ 1]( اے محمد ﷺ ) ہم نے تم کو کوثر عطا فرمائی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ کوثر جنت کی ایک نہر کا نام ہے اور بعض نے خیر کثیر مراد لی ہے جو کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت کو عطا کی اور سخی آدمی کو کوثر کہا جاتا ہے تکو ثر الشئی کے معنی کسی چیز کے بہت زیادہ ہونے کے ہیں ۔ شاعر نے کہا ہے ( 370 ) وقد ثار نقع الموت حتی تکوثرا موت کا غبار اٹھا ۔ یہاں تک کہ بہت زیادہ ہوگیا ۔ (1) الکوثر جنت کی ایک نہر اور حوض کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خصوصی طور پر عطا کی ہے۔ ( عن انس مرفوعا۔ مسلم) (2) حضرت ابن عمر ؓ کی مرفوع روایت سے ثابت ہے کہ جنت کے ایک حوض کا نام ہے۔ ( معالم التنزیل) (3) اس سے مراد قرآن ہے۔ ( حسن بصری) (4) اس سے مراد قرآن اور نبوت ہے۔ ( عکرمہ) (5) اس سے مراد عام خیر کثیر ہے۔ ( سعید بن جبیر از ابن عباس ؓ اہل لغت نے لکھا ہے کہ کوثر ۔ کثرۃ سے بنا ہے جیسے نوفل ۔ نفل سے جو چیز تعداد میں کثیر اور مرتبے میں باعظمت ہو اس کو اہل عرب کوثر کہتے ہیں۔ صاحب معجم القرآن نے حضرت ابن عباس ؓ کے قول کو ترجیح دی ہے۔ علامہ نیشاپوری (رح) اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ :۔ اس آیت میں گوناگوں مبالغہ ہے :۔ ابتداء ان سے کی گئی ہے جو تاکید پر دلالت کرتا ہے پھر ضمیر جمع استعمال کی گئی ہے ۔ جو تعظیم کا مفہوم دیتی ہے۔ نیز یہاں اعطاء کا استعمال ہوا ہے ایتاء کا نہیں اور اعطاء میں ملکیت پائی جاتی ہے ایتاء میں یہ مفہوم نہیں پایا جاتا۔ پھر یہاں ماضی کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے جو تحقیق پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی کام ہوگیا۔ ( ضیاء القرآن) علماء تفسیر نے الکوثر کی تفسیر میں متعدد اقوال ذکر کئے ہیں چند ایک یہ ہیں :۔ (1) کوثر سے مراد جنت کی وہ نہر ہے کہ جس سے جنت کی ساری نہریں نکلتی ہیں ۔ ( ابن عمر ؓ (2) کوثر اس حوض کا نام ہے جو میدان حشر میں ہوگا جس سے حضور ﷺ اپنی امت کے پیاسوں کو سیراب فرمائیں گے۔ (3) اس سے مراد نبوت ہے۔ (4) اس سے مراد قرآن شریف ہے۔ (5) اس سے مراد دین اسلام ہے۔ (6) اس سے مراد صحابہ کرام کی کثرت ہے۔ (7) اس سے مراد رفع ذکر ہے۔ (8) اس سے مراد مقام محمود ہے۔ (9) اس سے مراد خیر کثیر ہے۔ ( ابن عباس) (10) امام جعفر صادق کے نزدیک حضور ﷺ کے دل کا نور ہے ( اقتباس از ضیاء القرآن)
Ayah 108:2

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ Open ayah 108:2 in the Quran reader

تو اپنے پروردگار کے لئے نماز پڑھا کرو اور قربانی کیا کرو

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ۝ 2 ۭ صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق : تزكيته إيّاهم . وقال : أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ [ البقرة/ 157] ، ومن الملائكة هي الدّعاء والاستغفار، كما هي من النّاس «3» . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] والصَّلَاةُ التي هي العبادة المخصوصة، أصلها : الدّعاء، وسمّيت هذه العبادة بها کتسمية الشیء باسم بعض ما يتضمّنه، والصَّلَاةُ من العبادات التي لم تنفکّ شریعة منها، وإن اختلفت صورها بحسب شرع فشرع . ولذلک قال : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] ( ص ل ی ) الصلیٰ ( س) کے اصل معنی آگ جلانے ہے ہیں صلی بالنار اس نے آگ کی تکلیف برداشت کی یا وہ آگ میں جلا صلی بکذا اسے فلاں چیز سے پالا پڑا ۔ صلیت الشاۃ میں نے بکری کو آگ پر بھون لیا اور بھونی ہوئی بکری کو مصلیۃ کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] آج اس میں داخل ہوجاؤ ۔ الصلوۃ بہت سے اہل لغت کا خیال ہے کہ صلاۃ کے معنی دعا دینے ۔ تحسین وتبریک اور تعظیم کرنے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے صلیت علیہ میں نے اسے دعادی نشوونمادی اور بڑھایا اور حدیث میں ہے (2) کہ «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، جب کسی کو کھانے پر بلا یا جائے تو اسے چاہیے کہ قبول کرلے اگر روزہ دار ہے تو وہ انکے لئے دعاکرکے واپس چلا آئے اور قرآن میں ہے وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لئے موجب تسکین ہے ۔ اور انسانوں کی طرح فرشتوں کی طرف سے بھی صلاۃ کے معنی دعا اور استغفار ہی آتے ہیں چناچہ فرمایا : إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] بیشک خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں ۔ اور الصلوۃ جو کہ ایک عبادت مخصوصہ کا نام ہے اس کی اصل بھی دعاہی ہے اور نماز چونکہ دعا پر مشتمل ہوتی ہے اسلئے اسے صلوۃ کہاجاتا ہے ۔ اور یہ تسمیۃ الشئی باسم الجزء کے قبیل سے ہے یعنی کسی چیز کو اس کے ضمنی مفہوم کے نام سے موسوم کرنا اور صلاۃ ( نماز) ان عبادت سے ہے جن کا وجود شریعت میں ملتا ہے گو اس کی صورتیں مختلف رہی ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] بیشک نماز مومنوں مقرر اوقات میں ادا کرنا فرض ہے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ نحر النَّحْرُ : موضِع القِلَادةِ من الصَّدر . ونَحَرْتُهُ : أَصَبْتُ نَحْرَهُ ، ومنه : نَحْرُ البعیر، وقیل في حرف عبد اللہ : فَنَحَرُوهَا وما کادوا يفعلون [ البقرة/ 71] وانْتَحَرُوا علی كذا : تَقَاتَلُوا تشبيهاً بنَحْر البعیر، ونَحْرَة الشَّهر ونَحِيرُهُ : أوَّله، وقیل : آخر يوم من الشَّهر كأنه ينحر الذي قبله، وقوله : فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ [ الکوثر/ 2] هو حثٌّ علی مراعاة هذين الرُّكْنين، وهما الصلاة، ونَحْرُ الهَدْي، وأنه لا بدّ من تعاطيهما، فذلک واجب في كلّ دِين وفي كلّ مِلَّة، وقیل : أَمْرٌ بوَضْع الید علی النَّحْر وقیل : حثٌّ علی قتل النَّفس بقَمْع الشَّهوة . والنِّحْرِير : العالِمُ بالشیء والحاذِقُ به . ( ن ح ر ) النحر ۔ سینہ کا بالائی حصہ جہاں پر ہارپڑا رہتا ہے نحر تہ کسی کے سینہ پر مارنا اسی سے نحر البعیر ہے جس کے معنی اونٹ کے سینہ پر بر چھا مار کر اسے ذبح کرنے کے ہیں ۔ اور عبداللہ بن مسعود کی قراءت میں ہے : فَنَحَرُوهَا وما کادوا يفعلون [ البقرة/ 71] انہوں نے اس بیل کو ذبح کیا ۔ اور وہ ایسا کر نیوالے تھے نہیں پھر نحر البعیر کی تشبیہ سے انتحروا علٰی کذا کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز پر باہم لڑائی کرنے کے ہیں ۔ محر ۃ الشھرۃ ونحیرہ مہینہ کے پہلے دو دن اور تیسری رات کی مجموعی مدت ۔ اور بقول بعض مہینے کے آخری دن کو بھی نحیرۃ کہا جاتا ہے گویا وہ اپنے سے پہلے دنوں کو تضریر کر ڈالتا ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ [ الکوثر/ 2] اور اپنے پروردگار کے لئے نماز پڑھا کرو اور قربانی کیا کرو ۔ میں خاص کر ان ہر دوارکان یعنی نماز اور قربانی ادا کرنے کی توکید کی گئی ہے کیونکہ یہ دونوں عبادتیں ضروری ہیں اور ہر دین اور ہر دور میں واجب رہی ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہاں وانحر کے معنی سینہ پر ہاتھ باندھنے کے ہیں ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ ریاضت کے ذریعہ نفس کشی مراد ہے ۔ التحریر کسی چیز کا ماہر وحاذق
Ayah 108:3

اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠ Open ayah 108:3 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ تمہارا دشمن ہی بےاولاد رہے گا

اِنَّ شَانِئَكَ ہُوَالْاَبْتَرُ۝ 3 ۧ شنأ شَنِئْتُهُ : تقذّرته بغضا له . ومنه اشتقّ : أزد شَنُوءَةَ ، وقوله تعالی: لا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ [ المائدة/ 8] ، أي : بغضهم، وقرئ : شَنْأَنُ فمن خفّف أراد : بغیض قوم، ومن ثقّل جعله مصدرا، ومنه : إِنَّ شانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ [ الکوثر/ 3] . ( ش ن ء ) شنیئۃ (س ) کے معنی بغض کی وجہ سے کسی چیز سے نفرت کرنے کے ہیں ۔ اسی سے أزدشَنُوءَةَ مشتق ہے جو ایک قبیلہ کا نام ہے اور آیت کریمہ : لا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ [ المائدة/ 8] لوگوں کی دشمنی ۔ میں شنان کے معنی بغض اور دشمنی کے ہیں ایک قرات میں شنان بسکون نون ہے پس تخفیف ( یعنی سکون نون ) کی صورت میں اسم اور فتح نون کی صورت میں مصدر ہوگا اور اسی سے فرمایا : إِنَّ شانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ [ الکوثر/ 3] کچھ شک نہیں کہ تمہارا دشمن ہی بےاولاد رہے گا ۔ بتر البَتَر يقارب ما تقدّم، لکن يستعمل في قطع الذّنب، ثم أجري قطع العقب مجراه . فقیل : فلان أَبْتَر : إذا لم يكن له عقب يخلفه، ورجل أَبْتَر وأَبَاتِر : انقطع ذكره عن الخیر ورجل أَبَاتِر : يقطع رحمه، وقیل علی طریق التشبيه : خطبة بَتْرَاء لما لم يذكر فيها اسم اللہ تعالی. وذلک لقوله عليه السلام : «كلّ أمر لا يبدأ فيه بذکر اللہ فهو أبتر» . وقوله تعالی: إِنَّ شانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ [ الکوثر/ 3] أي : المقطوع الذکر، وذلک أنهم زعموا أنّ محمدا صلّى اللہ عليه وسلم ينقطع ذكره إذا انقطع عمره لفقدان نسله، فنبّه تعالیٰ أنّ الذي ينقطع ذكره هو الذي يشنؤه، فأمّا هو فکما وصفه اللہ تعالیٰ بقوله : وَرَفَعْنا لَكَ ذِكْرَكَ [ الشرح/ 4] وذلک لجعله أبا للمؤمنین، وتقييض من يراعيه ويراعي دينه الحق، وإلى هذا المعنی أشار أمير المؤمنین رضي اللہ عنه بقوله : «العلماء باقون ما بقي الدّهر، أعيانهم مفقودة، وآثارهم في القلوب موجودة» هذا في العلماء الذین هم تبّاع النبي عليه الصلاة والسلام، فكيف هو وقد رفع اللہ عزّ وجل ذكره، وجعله خاتم الأنبیاء عليه وعليهم أفضل الصلاة والسلام ؟ ! ( ب ت ر ) البتر ۔ یہ قریبا بتک کے ہم معنی ہے مگر خاص کر دم کے قطع کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ پھر مجازا قطع نسل کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہی ۔ اور ایتر اس شخص پر بولا جاتا ہے جس کی موت کے بعد اس کا خلف نہ ہو اور ابتریا اباتر وہ جس کا ذکر خیر باقی نہ رہے نیز رجل اباتئر ۔ قاطع رحم ۔ اور جس خطبہ کے شروع میں حمد ثنا نہ ہوا سے بھی مجازا خطبۃ بتراء کہا جاتا ہے چناچہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے ۔ کل امر لا یبدء فیہ بذکراللہ فھوا ابتر ہر وہ کام جس کے شروع میں اللہ کا نام نہ لیا جائے ہو ابتر ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ { إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ } ( سورة الکوثر 3) میں ابتر کے معنی یہ ہیں کہ تیرے مخالف کا ذکر خیر باقی نہیں رہے گا ۔ جب کفار نے طعنہ دیا کہ محمد کے ساتھ ہی اس کا نام ونشان منقطع ہوجائے گا ۔ کیونکہ اس کی نسل ( اولاد ) نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے متنبہ کیا کہ تمہارا بد اندیش ہی مقطوع النسل رہے گا آپ ﷺ کو تو اللہ تعالیٰ نے وَرَفَعْنا لَكَ ذِكْرَكَ [ الشرح/ 4] کا مقام بخشا ہے کیونکہ جملہ مومنین آپ کی اولاد ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو آپ کے اور آپ کے دین کے محافظ مقرر کردیا ہے ۔ چناچہ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت علی نے فرمایا ہے العلماء باقون مابقی الدھر ، اعیانھم مفقودۃ وآثارھم فی القلوب موجود ۃ ۔ علما ، تاقیامت باقی رہیں گے ان کے اجسام مفقود ہوتے جاتے ہیں ۔ مگر ان کے آثار لوگوں کے دلون پر ثبت رہتے ہیں ۔ جب علماء کو یہ فضیلت حاصل ہے جو آنحضرت ﷺ کے متبعین سے ہیں تو آنحضرت کی شان تو اس سے کہیں بلند سے اور کیوں نہ ہو جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رفع ذکر ، ، کا شرف بخشا ہے اور آپ کو خاتم الانبیاء قرار دیا ہے ﷺ افضل الصلاۃ والسلام