108. Surah Al-Kawthar

الكوثرAbundance · 3 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

یہاں سے قرآن کریم کے آخر تک زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ تقریباً ان سب سورتوں کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، جنت و دوزخ کے حالات اور اسلام کی تبلیغ کے لیے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایات اور تسلی دینا ہے۔ چونکہ یہ پچھلی سورتوں کے مقابلے میں مختصر سورتیں ہیں، اس لیے ان سب کے الگ الگ تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جس سورت میں ضرورت محسوس ہوگی، انشاء اللہ وہاں تعارف عرض کردیا جائے گا۔

Ayahs 108:1–2

اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ Open ayah 108:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر) یقین جانو ہم نے تمہیں کوثر عطا کردی ہے۔ (1)

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ Open ayah 108:2 in the Quran reader

لہذا تم اپنے پروردگار (کی خوشنودی) کے لیے نماز پڑھو، اور قربانی کرو۔

1: ”کوثر“ کے لفظی معنی ہیں ”بہت زیادہ بھلائی“۔ اور کوثر جنت کی اس حوض کا نام بھی ہے جو حضور اقدس ﷺ کے تصرف میں دی جائے گی، اور آپ کی امت کے لوگ اس سے سیراب ہوں گے۔ حدیث میں ہے کہ اس حوض پر رکھے ہوئے برتن اتنے زیادہ ہوں گے جتنے آسمان کے ستارے۔ یہاں یہ لفظ اگر ”بہت زیادہ بھلائی“ کے معنی میں لیا جائے تو اس بھلائی میں حوض کوثر بھی داخل ہے۔
Ayah 108:3

اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠ Open ayah 108:3 in the Quran reader

یقین جانو تمہارا دشمن ہی وہ ہے جس کی جڑ کٹی ہوئی ہے۔ (2)

2: عرب کے لوگ ایسے شخص کو ابتر کہتے تھے جس کی نسل آگے نہ چلے، یعنی جس کی کوئی نرینہ اولاد نہ ہو۔ جب حضور اقدس ﷺ کے بیٹے کا انتقال ہوا تو آپ کے دشمنوں نے جن میں عاص بن وائل پیش پیش تھا، آپ کو یہ طعنہ دیا کہ معاذاللہ آپ ابتر ہیں اور آپ کی نسل نہیں چلے گی، اس کے جواب میں اس سورت میں فرمایا کہ آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے کوثر عطا فرمائی ہے، آپ کے مبارک ذکر اور آپ کے دین کو آگے چلانے والے تو بیشمار ہوں گے، ابتر تو آپ کا دشمن ہے جس کا مرنے کے بعد نام ونشان بھی نہیں رہے گا، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آنحضرت ﷺ کا تذکرہ اور آپ کی سیرت طیبہ تو الحمدللہ زندہ جاوید ہے، اور طعنے دینے والوں کو کوئی جانتا بھی نہیں، اور اگر کوئی ان کا ذکر کرتا بھی ہے تو برائی سے کرتا ہے۔