109. Surah Al-Kaafiroon

الكافرونThe Disbelievers · 6 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

یہاں سے قرآن کریم کے آخر تک زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ تقریباً ان سب سورتوں کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، جنت و دوزخ کے حالات اور اسلام کی تبلیغ کے لیے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایات اور تسلی دینا ہے۔ چونکہ یہ پچھلی سورتوں کے مقابلے میں مختصر سورتیں ہیں، اس لیے ان سب کے الگ الگ تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جس سورت میں ضرورت محسوس ہوگی، انشاء اللہ وہاں تعارف عرض کردیا جائے گا۔

Ayahs 109:1–6

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ Open ayah 109:1 in the Quran reader

تم کہہ دو کہ : اے حق کا انکار کرنے والو۔

لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 109:2 in the Quran reader

میں ان چیزوں کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو۔

وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُۚ Open ayah 109:3 in the Quran reader

اور تم اس کی عبادت نہیں کرتے جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔

وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْۙ Open ayah 109:4 in the Quran reader

اور نہ میں (آئندہ) اس کی عبادت کرنے والا ہوں جس کی عبادت تم کرتے ہو۔

وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُؕ Open ayah 109:5 in the Quran reader

اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔

لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَ لِیَ دِیْنِ۠ Open ayah 109:6 in the Quran reader

تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔ (1)

1: یہ سورت اس وقت نازل ہوئی تھی جب مکہ مکرمہ کے کچھ سرداروں نے جن میں ولیدبن مغیرہ، عاص بن وائل وغیرہ شامل تھے حضور اقدس ﷺ سے صلح کی یہ تجویز پیش کی کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کرلیا کریں تو دوسرے سال ہم آپ کے معبود کی عبادت کرلیں گے، کچھ اور لوگوں نے اسی قسم کی کچھ اور تجویز بھی پیش کیں جن کا خلاصہ یہی تھا کہ آنحضرت ﷺ کسی نہ کسی طرح ان کافروں کے طریقے پر عبادت کے لئے آمادہ ہوجائیں تو آپس میں صلح ہوسکتی ہے، اس سورت نے دو ٹوک الفاظ میں واضح فرمادیا کہ کفر اور ایمان کے درمیان اس قسم کی کوئی مصالحت قابل قبول نہیں ہے جس سے حق اور باطل کا امتیاز ختم ہوجائے اور دین برحق میں کفر کی ملاوٹ کردی جائے، ہاں اگر تم حق قبول نہیں کرتے تو تم اپنے دین پر عمل کرو جس کے نتائج تم خود بھگتو گے، اور میں اپنے دین پر عمل کروں گا اور اسکے نتائج کا میں ذمہ دار ہوں، اس سے معلوم ہوا کہ غیر مسلموں سے کوئی ایسی مصالحت جائز نہیں ہے جس میں ان کے دین کے شعائر کو اختیار کرنا پڑے، البتہ اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے امن کا معاہدہ ہوسکتا ہے، جیسا کہ قرآن کریم نے سورة انفال (6۔ 8) میں فرمایا ہے۔