110. Surah An-Nasr

النصرDivine Support · 3 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

یہاں سے قرآن کریم کے آخر تک زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ تقریباً ان سب سورتوں کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، جنت و دوزخ کے حالات اور اسلام کی تبلیغ کے لیے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایات اور تسلی دینا ہے۔ چونکہ یہ پچھلی سورتوں کے مقابلے میں مختصر سورتیں ہیں، اس لیے ان سب کے الگ الگ تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جس سورت میں ضرورت محسوس ہوگی، انشاء اللہ وہاں تعارف عرض کردیا جائے گا۔

Ayahs 110:1–2

اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ Open ayah 110:1 in the Quran reader

جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے۔ (1)

وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 110:2 in the Quran reader

اور تم لوگوں کو دیکھ لو کہ وہ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہورہے ہیں۔

1: اس سے مراد مکہ مکرمہ کی فتح ہے، یعنی جب مکہ مکرمہ آپ کے ہاتھوں فتح ہوجائے۔ زیادہ تر مفسرین کے مطابق یہ سورت فتح مکہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی تھی، اور اس میں ایک طرف تو یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ مکہ مکرمہ فتح ہوجائے گا اور اس کے بعد عرب کے لوگ جوق در جوق دین اسلام میں داخل ہوں گے، چنانچہ واقعہ بھی یہی ہوا، اور دوسری طرف چونکہ اسلام کے پھیل جانے سے حضور اقدس ﷺ کے دنیا میں تشریف لانے کا مقصد حاصل ہوجائے گا، اس لیے آپ کو دنیا سے رخصت ہونے کی تیاری کے لیے حمد، تسبیح اور استغفار کا حکم دیا گیا ہے۔ جب یہ سورت نازل ہوئی تو اس میں دی ہوئی خوشخبری کی وجہ سے بہت سے صحابہ خوش ہوئے، لیکن حضور اقدس ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ اسے سن کر رونے لگے، اور وجہ یہ بیان کی کہ اس سورت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کا وقت قریب آ رہا ہے۔
Ayah 110:3

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ١ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ Open ayah 110:3 in the Quran reader

تو اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو، اور اس سے مغفرت مانگو۔ (2) یقین جانو وہ بہت معاف کرنے والا ہے۔

2: اگرچہ آنحضرت ﷺ ہر طرح کے گناہوں سے بالکل پاک اور معصوم تھے اور اگر آپ کی شان کے لحاظ سے کوئی بھول چوک ہوئی بھی تو سورة فتح میں اللہ تعالیٰ نے اس کو بھی معاف کرنے کا اعلان فرما دیا تھا، اس کے باوجود آپ ﷺ کو استغفار کی تلقین امت کو یہ بتانے کے لئے کی جارہی ہے کہ جب آنحضرت ﷺ سے استغفار کرنے کے لئے کہا جارہا ہے تو دوسرے مسلمانوں کو تو اور زیادہ اہتمام کے ساتھ استغفار کرنا چاہیے۔