107. Surah Al-Maa'un

الماعونAlmsgiving · 7 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

یہاں سے قرآن کریم کے آخر تک زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ تقریباً ان سب سورتوں کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، جنت و دوزخ کے حالات اور اسلام کی تبلیغ کے لیے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایات اور تسلی دینا ہے۔ چونکہ یہ پچھلی سورتوں کے مقابلے میں مختصر سورتیں ہیں، اس لیے ان سب کے الگ الگ تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جس سورت میں ضرورت محسوس ہوگی، انشاء اللہ وہاں تعارف عرض کردیا جائے گا۔

Ayahs 107:1–2

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُكَذِّبُ بِالدِّیْنِؕ Open ayah 107:1 in the Quran reader

کیا تم نے اسے دیکھا جو جزاء و سزا کو جھٹلاتا ہے ؟

فَذٰلِكَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 107:2 in the Quran reader

وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ (1)

1: کئی کافروں کے بارے میں روایت ہے کہ ان کے پاس کوئی یتیم خستہ حالت میں کچھ مانگنے کو آیا تو انہوں نے اسے دھکا دے کر نکال دیا، یہ عمل ہر ایک کے لئے انتہائی سنگدلی اور بڑا گناہ ہے، لیکن کافروں کا ذکر فرما کر اشارہ یہ کیا گیا ہے کہ یہ کام اصل میں کافروں ہی کا ہے، کسی مسلمان سے اس کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
Ayah 107:3

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 107:3 in the Quran reader

اور مسکین کو کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتا۔ (2)

2: یعنی خود تو کسی غریب کی مدد کیا کرتا، دوسروں کو بھی ترغیب نہیں دیتا۔
Ayahs 107:4–5

فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 107:4 in the Quran reader

پھر بڑی خرابی ہے ان نماز پڑھنے والوں کی

الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ Open ayah 107:5 in the Quran reader

جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں۔ (3)

3: نماز سے غفلت برتنے میں یہ بھی داخل ہے کہ نماز پڑھے ہی نہیں اور یہ بھی کہ اس کو صحیح طریقہ سے نہ پڑھے۔
Ayah 107:6

الَّذِیْنَ هُمْ یُرَآءُوْنَۙ Open ayah 107:6 in the Quran reader

جو دکھاوا کرتے ہیں۔ (4)

4: یعنی اگر پڑھتے بھی ہیں تو اللہ کی رضا کے بجائے لوگوں کو دکھاوا کرنے کے لئے پڑھتے ہیں۔ اصل میں یہ کام منافقوں کا تھا۔ اگرچہ مکہ مکرمہ میں جہاں یہ سورت نازل ہوئی، منافق موجود نہ ہوں، لیکن چونکہ قرآن کریم عام احکام بیان فرماتا ہے، اور آئندہ ایسے منافق پیدا ہونے والے تھے، اس لیے ان گناہوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
Ayah 107:7

وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۠ Open ayah 107:7 in the Quran reader

اور دوسروں کو معمولی چیز دینے سے بھی انکار کرتے ہیں۔ (5)

5: ”معمولی چیز“ قرآن کریم کے لفظ ”ماعون“ کا ترجمہ کیا گیا ہے، اسی لفظ کے نام پر سورت کا نام ماعون ہے۔ اصل میں ”ماعون“ ان برتنے کی معمولی چیزوں کو کہتے ہیں جو عام طور سے پڑوسی ایک دوسرے سے مانگ لیا کرتے ہیں، جیسے برتن وغیرہ۔ پھر ہر قسم کی معمولی چیز کو بھی ماعون کہہ دیتے ہیں۔ حضرت علی ؓ اور کئی صحابہ سے منقول ہے کہ انہوں نے اس کی تفسیر زکوٰۃ سے کی ہے، کیونکہ وہ بھی انسان کی دولت کا معمولی (چالیسواں) حصہ ہوتا ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس کی تفسیر یہی فرمائی ہے کہ کوئی پڑوسی دوسرے سے کوئی برتنے کی چیز مانگے تو انسان اسے منع کرے۔