108. Surah Al-Kawthar

الكوثرAbundance · 3 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 108:1

اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ Open ayah 108:1 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ہم نے تم کو کوثر عطا فرمائی ہے

سورة الکوثر کا شان نزول 1 ۔” انا اعطیناک الکوثر “ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان تھے جب آپ (علیہ السلام) کو اونگھ آئی۔ پھر آپ ﷺ نے مسکراتے ہوئے سر اٹھایا تو ہم نے کہا کس چیز نے آپ کہ ہنسایا اے اللہ کے رسول ؟ (ﷺ ) آپ نے فرمایا مجھ پر ابھی ایک سورت نازل ہوئی ہے۔ پھر آپ (علیہ السلام) نے پڑھا بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ” انا اعطینک الکوثر فصل لربک وانحر ان شانئک ھوالابتر “ پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کوثر کیا ہے ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔ اس میں خیر کثیر ہے وہ حوض ہے اس پر میری امت قیامت کے دن آئے گی۔ اس کے برتن ستاروں کی تعداد کے برابر ہیں۔ پس ان میں سے ایک شخص روک لیا جائے گا، میں کہوں گا اے میرے رب ! وہ مجھ سے ہے تو وہ فرمائیں گے آپ نہیں جانتے، اس نے آپ (علیہ السلام) کے بعد کیا نبی بات نکال لی تھی۔ سعید بن جبیر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کوثر خیر کثیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کو دی، ابوالبشر نے سعیدبن جبیر (رح) کو کہا بیشک لوگ گمان کرتے ہیں کہ یہ جنت میں ایک نہر ہے ؟ تو سعید (رح) نے کہا جو جنت میں نہ رہے یہ اس خیر میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کو عطاء کی ہے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں وہ قرآن ہے۔ عکرمہ (رح) فرماتے ہیں نبوت اور کتاب۔ اہل لغت فرماتے ہیں کوثر فوعل کے وزن پر کثرت سے ہے جیسے نوفل فوعل کے وزن پر نفل سے ہے اور عرب ہر اس چیز کا نام کوثر رکھتے ہیں جو تعداد میں زیادہ ہو یا مقدار میں اور مشہور یہ ہے کہ یہ جنت میں ایک نہر ہے جو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو دی ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اچانک میں ایک جاری نہر پر تھا اس کی سفیدی دودھ کی سفیدی کی طرح تھی اور شہد سے زیادہ میٹھی تھی اور اس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے تھے، میں نے اپنا ہاتھ مارا تو اس کی نمناک مٹی مہکتی کستوری تھی، میں نے جبرئیل (علیہ السلام) سے کہا یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کوثر جو آپ کو اللہ تعالیٰ دیں گے۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کوثر جنت میں نہر ہے اس کے کنارے سونے کے اور اس کے چلنے کی جگہ موتی اور یاقوت پر ہے اس کی مٹی کستوری سے زیادہ خوشبودار اور اولے سے زیادہ سفید ہے۔ عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرا حوض ایک مہینے کی مسافت ہے اس کا پنی دودھ سے زیادہ سفید اور اس کی خوشبو کستوری سے زیادہ پاکیزہ اور اس کے آبخورے آسمان کے ستاروں کی طرح جو اس سے پئے گا، کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ ثوبان ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں اپنے حوض کے پاس ہوں گا، اہل یمن کے لئے لوگوں کو ہٹائوں گا یعنی ان کو اپنی لاٹھی سے ماروں گا حتیٰ کہ وہ اس سے ہٹ جائیں گے اور بیشک اس میں جنت سے دو پرنالے ڈالے جائیں گے ، ان میں سے ایک چاندی کا اور دوسرا سونے کا، اس کی لمبائی بصری اور صنعاء کے درمیان ہے یا ایلہ اور مکہ کے درمیان یا میرے اس مقام سے عمان تک۔
Ayah 108:2

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ Open ayah 108:2 in the Quran reader

تو اپنے پروردگار کے لئے نماز پڑھا کرو اور قربانی کیا کرو

2 ۔” فصل لربک وانحر “ محمد بن کعب (رح) فرماتے ہیں کہ لوگ غیر اللہ کے لئے نماز پڑھتے تھے اور غیر اللہ کے لئے قربانی کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا وہ نماز پڑھیں اللہ کے لئے اور قربانی کریں اللہ کے لئے اور عکرمہ، عطاء اور قتادہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں ” فصل لربک “ نحر کے دن عید کی نماز اور اپنی قربانی کو ذبح کریں اور سعید بن جبیر اور مجاہد رحمہما اللہ فرماتے ہیں۔ پس آپ فرض نمازیں پڑھیں مزدلفہ میں اور منیٰ میں اونٹ کو نحر کریں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ” فصل لربک وانحر “ اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں پر سینہ پر رکھیں نماز میں۔
Ayah 108:3

اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠ Open ayah 108:3 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ تمہارا دشمن ہی بےاولاد رہے گا

3 ۔” ان شانئک “ آپ (علیہ السلام) کا دشمن اور بغض رکھنے والا۔ ” ھوالابتر “ جو بہت ہی کم پیچھے ذلیل ہو اس کی جڑ ختم ہوگی۔ یہ عاص بن وائل سہمی کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ اس نے نبی کریم ﷺ کو مسجد سے نکلتے دیکھا اور یہ داخل ہورہا تھا تو ان کی ملاقات باب بنی سہم پر ہوئی اور آپس میں باتیں کرنے لگے اور قریش کے معززین میں سے چند لوگ مسجد میں بیٹھے تھے۔ جب عاص اندر داخل ہوا تو ان لوگوں نے اس کو کہا کس سے تو بات کررہا تھا ؟ کہنے لگا اس ابتر سے یعنی نبی ﷺ سے اور نبی کریم ﷺ کا حضرت خدیجہ ؓ سے ایک بیٹا فوت ہوگیا تھا۔ یزید بن رومان فرماتے ہیں۔ عاص بن وائل کے سامنے جب رسول اللہ ﷺ کا ذکر ہوتا تو کہتا اس کو ہمارے لئے چھوڑ دو کیونکہ یہ ابتر شخص ہے اس کے پیچھے کوئی نام لینے والا نہیں ہیجب یہ فوت ہوگئے تو ان کا تذکرہ ختم ہوجائے گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل کی۔ عکرمہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے۔ یہ کعب بن اشرف اور قریش کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ جب کعب مکہ میں آیا تو اس کو قریش نے کہا ہم حاجیوں کو پانی پلانے والے اور بیت اللہ کی خدمت کرنیوالے ہیں اور تو اہل مدینہ کا سردار ہے۔ پس ہم بہتر ہیں یا یہ کمزور بےاولاد شخص ؟ تو اس نے کا بلکہ تم اس سے بہتر ہو، تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ” الم تر الذین اوتوا نصیبا من الکتاب یومنون بالجبت والطاغوت “ اور ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جس نے کہا کہ آپ (علیہ السلام) ابتر ہیں۔ ” ان شائنک ھوالابتر “ یعنی ہر خیر سے منقطع۔