Ayah 109:1آیات 1-6
1” قل یایھا الکافرون “ سورة کے آخر تک قریش کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی ہے ان میں سے حارث بن قیس سہمی ، عاص بن وائل، ولید بن مغیرہ، اسود بن عبدیغوث، اسود بن عبدالمطلب بن اسد، امیہ بن خلف ہیں۔ انہوں نے کہا اے محمد ! ( ﷺ ) آپ آئیں۔ ہمارے دین کی اتباع کریں اور ہم آپ کے دین کی اتباع کریں یا ہم اپنے معاملہ میں آپ کو شریک کرلیں گے۔ آپ ہمارے معبودوں کی ایک سال عبادت کریں اور ہم آپ کے معبود کی ایک سال عبادت کریں۔ پس اگر وہ بہتر ہوا جو آپ لائے ہیں تو ہم آپ کے ساتھ اس میں شریک ہوچکے ہوں گے اور ہم نے اپنا حصہ اس سے لے لیا ہوگا اور اگر وہ بہتر ہوا جو آپ لائے ہیں تو ہم آپ کے ساتھ اس میں شریک ہوچکے ہوں گے اور ہم نے اپنا حصہ اس سے لے لیا ہوگا اور اگر وہ بہتر ہوا جو ہمارے پاس ہے تو آپ ہمارے ساتھ ہمارے امر میں شریک ہوچکے ہوں گے اور آپ اپنا حصہ اس سے لے چکے ہوں گے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ کی پناہ اس سے کہ میں اس کے ساتھ اس کے غیر کو شریک کروں انہوں نے کہا پس آپ ہمارے بعض معبودوں کو استلام کریں، ہم آپ کی تصدیق کریں گے اور آپ کے معبود کی عیادت کریں گے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا حتیٰ کہ میں دیکھ لوگں کہ میرے رب کے پاس سے میرے پاس کیا آتا ہے۔
تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” قل یایھا الکافرون “ سورة کے آخر تک۔ تو رسول اللہ ﷺ مسجد حرام کی طرف صبح کو گئے تو اس میں قریش کے سرداروں کی ایک جماعت تھی تو آپ (علیہ السلام) ان کے سروں پر کھڑے ہوگئے۔ پھر ان پر اس سورت کو پڑھا حتیٰ کہ سورت سے فارغ ہوگئے تو اس وقت وہ لوگ آپ (علیہ السلام) سے مایوس ہوگئے اور آپ (علیہ السلام) اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو تکلیف دی۔
Ayah 109:22 ۔” اور آیت کا معنی ” لا اعبدماتعبدون “ فی الحال۔
Ayah 109:33 ۔” ولا انتم عابدون مااعبد “ فی الحال۔
Ayah 109:44 ۔” ولا انا عابد ماعبدتم “ مستقبل میں۔
Ayah 109:55 ۔” ولا انتم عابدون مااعبد “ مستقبل میں اور یہ خطاب ان لوگوں کو ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات طے ہوچکی ہے کہ وہ ایمان نہ لائیں گے۔ ” مااعبد “ یعنی من اعبد۔ لیکن اسکو ماتعبدون کے مقابلہ میں ذکر کیا ہے اور تکرار کی وجہ اکثر اہل معانی فرماتے ہیں یہ ہے کہ قرآن عرب کی زبان میں نازل ہوا ہے اور ان کے خطاب کے مجاز پر اور ان کے طریقوں میں سے تاکید اور افہام کے ارادہ کے لئے تکرار کرنا ہے۔ جیسا کہ ان کا طریقہ ہے تخفیف اور اختصار کے ارادہ سے اختصار کرنا اور قتیبی (رح) فرماتے ہیں کلام کا تکرار وقت کے تکرار کی وجہ سے کیونکہ انہوں نے کہا تھا اگر آپ کو یہ بات خوش کرے کہ ہم ایک سال آپ کے دین میں داخل ہوجائیں، پھر آپ ایک سال ہمارے دین میں داخل ہوجائیں تو یہ سورة نازل ہوئی۔
Ayah 109:66 ۔” لکم دینکم “ شرک۔”…ولی دین “ اسلام۔ ابن کثیر ، نافع اور حفص نے ” ولی “ یاء کے زبر کے ساتھ اور دیگر حضرات نے اس کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔